Categories
شاعری

مٹھی بھر جہنم

سدرہ سحر عمران: تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی
مٹھی بھر جہنم
ہماری آنکھیں آگ سنبھال سکتی تھیں
لیکن
خدا نے دریا کے نام
جتنے بھی خط لکھے
ہماری آنکھوں تک نہیں پہنچے

تم نے آگ کو غیرت سمجھا
اور لکڑیوں کی جگہ
لڑکیاں جلا دیں

تم نے مذہب کو گولی سمجھا
اور
ہمارے جنازوں پہ دو حرف بھیج کر
اسلحہ کی دکانیں کھول لی

تم نے جنازے کو تہوار سمجھا
اور شہر شہر جاکر منایا
ہمارے پہاڑ تمہیں دیکھ کر ہنستے ہیں
ہنس ہنس کر ان کے پیٹوں میں بل پڑ چکے
بلوں کو دیکھ کر
تمہاری پگڑیاں یاد آتی ہیں

ہمیں ننگی گالیاں یاد کرنے دو
کہ مرنے والوں کے لئے دعائیں ختم ہوچکیں

Image: R. M. Naeem

By سدرہ سحر عمران

سدرہ سحر عمران اردو میں ماسٹرز ڈگری یافتہ ہیں۔ وہ معاصر اردو نثری نظم کے حلقوں میں ایک نمایاں نام ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *