Categories
شاعری

غربت

وجیہہ وارثی: وہ سمجھا سکتی ہے
ہر بات بغیر چیخے
مگروہ چیختی ہے
ڈپریشن کی مریضہ ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

غربت

[/vc_column_text][vc_column_text]

وہ سمجھا سکتی ہے
ہر بات بغیر چیخے
مگروہ چیختی ہے
ڈپریشن کی مریضہ ہے

 

وہ ماں بننے کی خواہش رکھتی ہے
دل میں
اس کی کوکھ میں کینسر پھیل رہا ہے
اس کا شوہر اسے چھوڑ گیا ہے
معمولی بات پر
سالن میں نمک کیوں نہیں
نمک ہوتا تو ڈالتی

 

وہ رو سکتی ہے
پھوٹ پھوٹ کے
مگر نہیں روتی
کیونکہ اس کی آنکھ میں موتیا ہے
اسے موتیا سے عشق ہے
وہ اندھی ہوجائے گی
مگر آپریشن نہیں کرائے گی
کیونکہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں
وہ مرجائے گی
کسی کو بتائے بغیر
سسک سسک کے
کیونکہ وہ خوددار ہے
وہ کون ہے
وہ میری ماں ہے
میں کون ہوں
غربت

Image: Billie Evans
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By وجیہ وارثی

وجیہ وارثی ایک تھئیٹر ایکٹیوسٹ ہیں۔ وہ 1988ء سے مختلف تھئیٹر گروپس کے ساتھ اسٹیج پر فن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ وہ بانگ، سیوک اور ناؤ تھئیٹر ورکشاپ کا انعقاد کر چکے ہیں۔ وہ ٹی‌وی ڈرامہ نگار اور شاعر بھی ہیں۔

One reply on “غربت”

پُرنم کرگئی ہے

تجھے وجیہہ کی اک نظم

غربت ہے جس کا نام

(افضال آزاد)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *