Categories
شاعری

شہر کا ماتم

علی اکبر ناطق:
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا
شہر کا ماتم
اس بار چلیں گی سرد ہوائیں نیل بھری
سانسوں کا ملبہ بار کرے گا سینوں پر
اور دل کے پیادے رک جائیں گے زینوں پر
سنسان گھروں میں رقص کریں گی دوپہریں
ویران چھتوں پر رات اکھاڑا ڈالے گی
زہر در و دیوار کے ڈھانچے کھا جائے گا
شہر کا ماتم کرنے والا کون بچے گا
خون کے آنسو رونے والا کون رہے گا

Image: Katrina Jurjans

By علی اکبر ناطق

علی اکبر ناطق ایک نامور شاعر، افسانہ و ناول نگار اور لکھاری ہیں۔ اس وقت وہ اوکاڑہ، پنجاب کی ایک نجی یونیورسٹی میں پڑھا رہے ہیں۔ ان کی کتابیں "یاقوت کے ورق"، "بے یقین بستیوں میں" اور "نولکھی کوٹھی" نقادوں اور قارئین سے پذیرائی حاصل کر چکی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *