Categories
شاعری

درخت

سید کاشف رضا: میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے
درخت
لفظ
روز اُگ آتے ہیں
جنہیں میں اپنے سینے سے کھرچ کھرچ کر
کاغذ پر جمع کر دیتا ہوں
تاکہ انہیں قطع کیا جا سکے

جو بھی میرے لفظ کاٹتا ہے
اس کے ہاتھوں پر
میرے لہو کی بوند سرکنے لگتی ہے
اسے میرے خون سے پہچان لیا جاتا ہے

میں ان لفظوں سے
کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے میں ایک عورت کی کوکھ میں قائم کر سکتا
اور میرے لہو کی بوند
اس کے رخساروں میں نمایاں ہو سکتا

جو درخت کاٹ دیے جاتے ہیں
ان میں سے کسی کے تنے سے
خون ابلنے لگتا ہے

میرے سینے پر جتنے بال اُگے
کوئی عورت ان کی جڑیں سونگھ کر
میری محبت کی گواہی دے سکتی تھی

میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے

By سیّد کاشف رضا

سید کاشف رضا ایک شاعر، لکھاری اور مترجم ہیں اور ان کی پانچ کتب شائع ہو چکی ہیں۔ وہ کراچی میں ایک ٹی‌وی جرنلسٹ کے طور پر کام کرتے ہیں۔ ان کا ایک ناول آئندہ برس آنے والا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *