زلف کے نرغے میں خواب،
خواب نیرنگِ سراب،
اس کی جبیں پر کھدی، اس کی جوانی کی شام
بوسۂ لب ،خامشی،خواب تذبذب کا جام
صبح کی درخشندگی میں آدمی سارے نبود
خواب کے اندھیر میں مژدۂ راہِ ثبات
باغِ عدن سے تہی، خواب نویدِ بہشت
خواب اک ایسی کنشت،
جس میں خداؤں کو موت ہے اور بشر کی حیات
