Categories
شاعری

کُمہار

گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں

کُمہار
اپنے چاک پر
خُوب صورت گُل دان
مٹی کے پیالے
منقش صراحیاں
اور بہت سے برتن بناتا ہے
لوگ
انھیں استعمال کرنے کا سلیقہ بُھول چکے ہیں
گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں
وہ
مٹی سے ایک چُھری بناتا ہے
لوگ اُسے
خود پر حملہ آور ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں
اور مسخرہ سمجھ کر
اس کی جانب سکے پھینکتے ہیں
وہ گیلی آنکھوں سے
مٹی کی چُھری کو دیکھتا ہے
پھر اعتماد سے
اپنے گلے پر چلا دیتا ہے
لوگ حیرت سے
کُمہار کو مٹی میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں
۔
(سندھی سے تخلیق و ترجمہ)

By مصطفیٰ ارباب

مصطفیٰ ارباب 1967 میں سندھ کے ضلع سانگھڑ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ وہ میرپور خاص میں مقیم ہیں۔ انہوں نے اپنا ادبی کیریئر 1984 میں ایک افسانہ نگار کے طور پر شروع کیا۔ ان کی شاعری کا مجموعہ "خواب اور آدمی" 1999 میں شائع ہوا۔ سندھی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھنے کے ساتھ ساتھ وہ سندھی اور اردو ادب کے مترجم بھی ہیں۔ ان کے ادبی کام برصغیر پاک و ہند کے مؤقر ادبی مجلات میں چھپ چکے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *