Categories
شاعری

قصباتی لڑکوں کا گیت

ابرار احمد: ہم تیری صبحوں کی اوس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے، ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

قصباتی لڑکوں کا گیت

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہم تیری صبحوں کی اوس میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ
دنوں کی اس بستی کو دیکھتے ہیں
ہم تیرے خوش الحان پرندے، ہر جانب
تیری منڈیریں کھوجتے ہیں

 

ہم نکلے تھے تیرے ماتھے کے لیے
بوسہ ڈھونڈنے

 

ہم آئیں گے، بوجھل قدموں کے ساتھ
تیرے تاریک حجروں میں پھرنے کے لیے
تیرے سینے پر
اپنی اکتاہٹوں کے پھول بچھانے
سر پھری ہوا کے ساتھ
تیرے خالی چوباروں میں پھرنے کے لیے
تیرے صحنوں سے اٹھتے دھویں کو اپنی آنکھوں میں بھرنے
تیرے اجلے بچوں کی میلی آستینوں سے، اپنے آنسو پونچھنے
تیری کائی زدہ دیواروں سے لپٹ جانے کو
ہم آئیں گے
نیند اور بچپن کی خوشبو میں سوئی
تیری راتوں کی چھت پر
اجلی چارپایاں بچھانے
موتیے کے پھولوں سے پرے
اپنی چیختی تنہایاں اٹھانے
ہم لوٹیں گے تیری جانب
اور دیکھیں گے تیری بوڑھی اینٹوں کو
عمروں کے رتجگے سے دکھتی آنکھوں کے ساتھ
اونچے نیچے مکانوں میں گھیرے
گزشتہ کے گڑھے میں
ایک بار پھر گرنے کے لیے
لمبی تان کر سونے کے لیے
ہم آئیں گے
تیرے مضافات میں
مٹی ہونے کے لیے!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

By ابرار احمد

ابرار احمد 1980ء سے شعر کہہ رہے ہیں۔ ان کی شاعری کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک نظموں کا مجموعہ "آخری دن سے پہلے" (1997)، اور دوسرا غزلوں کا مجموعہ "غفلت کے برابر" (2007)۔ ان کی شاعری میں وجودی کرب، زندگی کی لایعنیت، فریب کی پردہ کشائی اور نقل مکانی کے موضوعات کو چھیڑتی ہے۔

One reply on “قصباتی لڑکوں کا گیت”

خوبصورت نظم۔ میری پسندیدہ نظموں میں سے ایک ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *