[blockquote style=”3″]

تصنیف حیدر شاعر ہیں اور شاعر بھی وہ جو غزل میں تجربات اور جدت طرازی سے خوف زدہ نہیں۔ دوردرشن اور ریختہ سے وابستہ رہے ہیں اور آج کل انٹرنیٹ پر اردو ادب کی سہل اور مفت دستیابی کے لیے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ چلا رہے ہیں۔ ان کی آپ بیتی "دس برسوں کی دلی” ان کے دلی میں گزرے دس برس پر محیط ہے جس کی بعض اقساط ادبی دنیا پر بھی شائع ہو چکی ہیں۔ اس آپ بیتی کو اب مکمل صورت میں لالٹین پر قسط وار شائع کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

دس برسوں کی دلی کی گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

قسط نمبر 1

دہلی اپنی کچھ باتوں کی وجہ سے مجھے پسند ہے، اور کچھ باتوں کی وجہ سے ناپسند۔ مثال کے طور پر یہاں کی لڑکیوں کا فیشن کے بل پر دندناتے پھرنامجھے اچھا لگتا ہے، مگر شام کے بلب جلتے ہی ان کے لیے بھیڑیوں کی ننگی آنکھیں نکال کر باہر رکھ دینا اس شہر کی بری عادتوں میں سے ہے
یہ ان دنوں کی بات ہے، جب میں نے دہلی میں دوردرشن اردو کے کچھ معمولی سے کام کرکے یہ سمجھنا شروع کر دیا تھا کہ اب تو ہم بھی میڈیا کے لیے کام کرتے ہیں، ہماری بھی عزت چوک چوراہوں پر ہے، آٹو رکشہ والے کو آنکھیں دکھائی جاسکتی ہیں، معمول کی ناانصافیوں کو غصے کی نگاہوں سے دیکھتے ہوئے ان پر اپنے جرنسلٹ ہونے کی دھونس جمائی جاسکتی ہے اور بہت سے ایسے کام کیے جاسکتے ہیں جو کم از کم خودتشفی کے زمرے میں آتے ہوں۔ شاید اب اس بات کو بھی سات آٹھ سال سے زائد کا عرصہ گزرگیا اور میں نے درمیان میں بہت کچھ دیکھا، میں نے سمجھا کہ زندگی اتنی پرکشش نہیں ہوپائی ہے، جتنی ہوسکتی تھی۔ جتنی کہ میں بناسکتا تھا۔ میرے اندر صلاحیتوں، فکر اور مثبت اقدامات کی کمی نہیں تھی۔ میں چاہتا تو ان بے سروپا واقعات پر دھیان نہیں دیتا جو میرے لیے زندگی کا سب سے بڑا درد سر بن کر آئے اور جنہیں میری ایک دوست میرے جی کا جنجال یا بے کار کا روگ کہا کرتی ہے۔ مگر غور کرتا ہوں تو ایک سرمئی رنگ کا دھبہ آنکھوں کے سامنے تیرنے لگتا ہے، جیسے کیچڑ کی پکڑ سے ہاتھ چھڑا کر بھاگے ہوئے مٹ میلے پانی پر کسی نے آواز کی ایک ناؤ رکھ دی اور میں اس میں سفر کرنے لگتا ہوں۔ دہلی اپنی کچھ باتوں کی وجہ سے مجھے پسند ہے، اور کچھ باتوں کی وجہ سے ناپسند۔ مثال کے طور پر یہاں کی لڑکیوں کا فیشن کے بل پر دندناتے پھرنامجھے اچھا لگتا ہے، مگر شام کے بلب جلتے ہی ان کے لیے بھیڑیوں کی ننگی آنکھیں نکال کر باہر رکھ دینا اس شہر کی بری عادتوں میں سے ہے، اب وہ دن دور نہیں، جب یہ حادثات ہماری معمول کی زندگی کا حصہ ہوں گے، اب تو کھلے عام دن میں لڑکیاں چھیڑی اور ستائی جارہی ہیں، کہیں شام کے دھندلکے میں کچی سڑک پر گلی کی رستی ہوئی دیوار کے سائے میں ان پر چاقو کے وار کیے جارہے ہیں، مگر اس سب کے باوجود لڑکیوں کی تھرکتی ہوئی خواہشوں نے ہتھیار نہیں ڈالے ہیں، ان کی آواز دبائی نہیں جاسکی ہے۔ آواز کے ساتھ تو معاملہ یہی ہے کہ اسے جتنا دبائیے وہ اور بارہ گز بڑھ جاتی ہے۔

خیر، گزشتہ دنوں کی بات ہے اور ایک شخص کا ذکر ہے، جس کو لکھنے کے لیے ادھر ادھر سے لفظ ادھار لینے پڑرہے ہیں، تمہید تو ہاتھ لگ گئی ہے، مگر اصلی بات ابھی بھی چھپکلی کی لجلجی جلد کی طرح ادھر ادھر سے پھسلی جاتی ہے۔

ان دنوں میٹرو میں سفر کرنے سے مجھے ڈر لگتا تھا، ہر وہ چیز جسے میں نے پہلی بار نہیں کیا ہے، میں اسے کرنے سے ڈرتا ہوں، سوائے شاعری کے، تجربے کے ہر نئے رنگ سے مجھے ڈر لگتا ہے۔
میں نے اس لڑکی کوغور سے دیکھا، دو بار، میں بس اسٹینڈ پر تھا،ان دنوں میٹرو میں سفر کرنے سے مجھے ڈر لگتا تھا، ہر وہ چیز جسے میں نے پہلی بار نہیں کیا ہے، میں اسے کرنے سے ڈرتا ہوں، سوائے شاعری کے، تجربے کے ہر نئے رنگ سے مجھے ڈر لگتا ہے۔ کسی ریستوراں میں کھانے کا آرڈر دینا ہو یا کسی سیاسی مسئلے پر سڑک پر اپنے دوستوں کے سامنے اظہار خیال کرنا ہو۔ میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میری عزت نفس کا قتل نہ ہوجائے، کہیں کسی بات پر، کسی یونہی سی، بے وجہ سی بات پر میری بے عزتی نہ ہوجائے۔ میں کچھ کہوں، سامنے والا نہ سمجھے۔ کیا پتہ ایسا کیوں ہے کہ کوئی بات دوبارہ کہنے سے مجھے وحشت ہوتی ہے، اسی لیے میں زیادہ تر ایسے موقعوں پر کسی کو ساتھ رکھتا ہوں۔ شاید یہی میری شخصیت کی وہ ننگی سچائی ہے جس کی وجہ سے میں نے اکثر اپنے دوستوں کی لن ترانیاں بھی خاموشی سے سن لی ہیں۔ لیکن ایسا صرف دکانوں، ریستوراں اور بس کنڈکٹر کے ساتھ ہی کیوں ہوتا ہے، کیوں میں کسی انٹرویو میں ہچکچاتا نہیں، کیوں میں کسی بند کمرے میں ہونے والی بحث کا حصہ بننے سے ڈرتا نہیں، کیا ان کتابوں نے مجھے بولنے کے آداب کے ساتھ نہ بولنے کی مشق بھی کرائی ہے؟ کیا میں سمجھتا ہوں کہ بس کہہ دینے سے،کسی کو میری بات سمجھ میں نہ آپانے سے میری بے عزتی ہوجائے گی اور باقی سارے لوگ اپنا کام کاج چھوڑ کر مجھے ایک اچانک رونما ہونے والا لطیفہ سمجھ کر لوٹ پوٹ ہونے لگیں گے؟

یہ میری شخصیت کا عجیب ڈر ہے، جس کا ادراک مجھے ہے، میں لکھنے میں جتنا بے باک اور سفاک ہوجاتا ہوں، کیوں جینے میں اتنا نہیں ہوسکا؟ کیوں میں ان لوگوں سے بات کرنے میں ہچکچاتا ہوں جنہوں نے سماج میں عزت اور بے عزتی کے اصول نہیں بنائے ہیں؟ جو دن میں ہزار بار ذلیل ہوتے ہیں، اور ہر دفعہ اس ذلت کی کینچلی کو اتار کر ایک نئی مسکراہٹ کی جلد کے ساتھ پھر زندہ ہوجاتے ہیں؟
یہ میری شخصیت کا عجیب ڈر ہے، جس کا ادراک مجھے ہے، میں لکھنے میں جتنا بے باک اور سفاک ہوجاتا ہوں، کیوں جینے میں اتنا نہیں ہوسکا؟ کیوں میں ان لوگوں سے بات کرنے میں ہچکچاتا ہوں جنہوں نے سماج میں عزت اور بے عزتی کے اصول نہیں بنائے ہیں؟ جو دن میں ہزار بار ذلیل ہوتے ہیں، اور ہر دفعہ اس ذلت کی کینچلی کو اتار کر ایک نئی مسکراہٹ کی جلد کے ساتھ پھر زندہ ہوجاتے ہیں؟ ویسے بھی میٹرو ابھی پوری طرح دہلی میں اپنے پر نہیں پھیلا پائی تھی، میں بھی زیادہ تر ادھر سے ادھر اپنے دوست گورو کے یہاں یا پھر ایک اسٹوڈیو جایا کرتا تھا۔ یہ اسٹوڈیو لکشمی نگر کے ایک چھوٹے سے فلیٹ میں بنایا گیا تھا، یہاں دو تین دوستوں نے مل کر اسے غالباً تیار کیا تھا، صرف آڈیو ریکارڈنگ کی جاتی تھی، سو کبھی بھجن کیرتن، کبھی سائیں بابا کے لیے مختلف لوگوں کی لکھی ہوئی مناجاتیں اور کبھی ٹوٹے پھوٹے حال اردو میں بننے والے پروگراموں کے بد ہنگم وائس اوور یہاں ریکارڈ کیے جاتے تھے۔ وہاں میرا ایک دوست سچن کام کیا کرتا تھا، سچن سے میری ملاقات دوردرشن کے لیے کیے جانے والے پروگرامز کے درمیان ہوئی تھی، اس نے مجھے اس دوران کچھ بھوجپوری گانوں کو ہندی میں لکھنے کا کام دلوایا تھا، میں نے ہزار کوشش کی مگر یہ کام مجھ سے نہیں ہوا، اس نے پھر مجھ سے دوچار پروگرامز کے ٹائٹل سونگ لکھوائے، لیکن وہ بھی کلائنٹس کو پسند نہیں آئے، چنانچہ میں نے تھک ہار کر اس سے کہہ دیا کہ بھئی گانا وانا تو شاید میں لکھ لوں، مگر بغیر کسی میٹر یا تھیم کے میں یہ ٹائٹل ٹریک اور بھجن وغیرہ نہیں لکھ سکتا۔ پھر اسے علم تھا کہ میری ہندی بھی اچھی نہیں ہے، سو اس نے اس کام کو ٹال دیا۔ انہی دنوں وہاں سچن کی ایک دوست، جو اپنے کسی کام سے آیا کرتی تھی، مجھ سے ٹکراگئی۔ ہوا یوں کہ اسے اپنے کسی پروگرام کے لیے اردو میں ٹائٹل لکھوانے تھے، لکھوانے کیا تھے، ٹائپ کروانے تھے۔ میں ٹائپ بھی جانتا تھا، اس لیے اسی اسٹوڈیو کے کمپیوٹر پر میں نے اس کے لیے یہ کام کردیا، اس نے مجھے دو ہزار روپے نقد دیئے اور میرا شکریہ ادا کرکے فائل لے گئی۔ کئی دنوں بعد بس اسٹینڈ پر اسی لڑکی کو میں نے دیکھا، وہی لڑکی تھی۔ لمبا قد، اونچی گردن، گول چہرہ، سینے کا ابھار بہت زیادہ نہ تھا، مگر شکرقندی جیسے پستانوں کو ایک ٹائٹ ٹی شرٹ سے لپٹائے وہ بس کا انتظار کررہی تھی۔ بلیو کلر کے ٹی شرٹ اور اسی رنگ کی جینزمیں اس کی پتلی بانہیں اور گورے پنجے کچھ اکڑے ہوئے سے نظر آرہے تھے، صاف پتہ چل رہا تھا کہ وہ اس وقت بوریت محسوس کررہی ہے۔ میں اسے دیکھتے ہی پہچان گیا تھا، مگر میں نے انجان بننے کی کوشش کی۔ اس لڑکی نے مجھے دیکھا اور پھر کچھ شش و پنج کی کیفیت میں میرے پاس آکر کہنے لگی:

"آپ سچن کے اسٹوڈیو میں تھے نا”

میں نے اسے بتایا کہ میں وہاں کام کرتا ہوں، باقاعدہ نہیں، مگر کبھی کبھار جو کام بھی آجائے ، مل جائے یا پھر چل جائے، وہ میں کرکے دے دیتا ہوں، میں اپنی ہئیت اور اس کے وجود کی بے وقت کی سانٹھ گانٹھ پر تھوڑا خوش اور تھوڑا بوکھلایا ہوا تھا۔ میرا کالا چہرہ، دھوپ کی حدت میں سیاہ ہورہا تھا، لمبوترے چہرے پر بے ترشے ہوئے بال، گھنگھرے پر سے کچھ کھڑے اور باقی بے دھیانی کے ساتھ لٹکے ہوئے، بڑے بڑے دانت آگے کی جانب ہلہ بولتے ہوئے اور ان پر سیاہ مسوڑھوں کی نمائش، چہرے کو اور بدنما بنارہی تھی۔ شاید اس دن میں نے براؤن کلر کی شرٹ پہنی ہوئی تھی، وزن مجھ میں زیادہ تھا نہیں، اس لیے شرٹ اکثر مجھ پرپھیلی ہوئی، بے ہنگم اور بے ڈول سی معلوم ہوتی اور اس وقت جینز کا باقاعدہ تصور میرے لیے ممکن نہیں تھا، میں ایک کیجول سی پینٹ پہنے ہوئے تھا۔ اب اس بے وقت اور بے قاعدہ ملاقات پر آگے کی کوئی بات مجھے سجھائی نہیں دی، چنانچہ میں خاموش رہا۔ لیکن اس لڑکی کی طراری تھی، خودغرضی یا کوئی اور بات، اس نے مجھ سے کہا:

"آپ بہت کام کے بندے ہو، نمبر کیا ہے آپ کا؟”

میں نے اسے اپنا نمبر دیا اور اعتماد کی آخری کمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس کا نمبر مانگے بغیر سامنے آنے والی بس میں چڑھ گیا۔ جب میں بس کی طرف بڑھ رہا تھا تو کنکھیوں سے میں نے ضرور دیکھا تھا کہ اس نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھانے کی کوشش کی تھی، پھر اچانک میری بوکھلاہٹ کو سمجھتے ہوئے ہاتھ پیچھے کرلیا تھا۔
(جاری ہے)

One Response

Leave a Reply

%d bloggers like this: