Categories
شاعری

تیرے جوبن کے موسم میں

سرمد صہبائی: تیرے جوبن کے موسم میں
دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں
پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں
تیرے جوبن کے موسم میں
او مٹیالی
تیرے جسم کی سوندھی خوشبو
روئیں روئیں میں سانولی رُت بیدار کرے
دل کی اور سے گہری گھور گھٹائیں امڈیں
اور میرے یہ پیاسے ہونٹ
تیرے سینے کے پیالوں میں
تیرتے انگوروں کے رس کے لمس میں بھیگیں
تیری ہری بھری سانسوں کی مُشک نچوڑیں
او مٹیالی
تیرے جوبن کے موسم میں
دل کے اندر غیبی سورج کے گل رنگ عجائب جاگیں
پنج پوروں پر پانچ حسوں کے پھول کھلیں
اور تو ہولے ہولے اپنے
پیار بھرے ہونٹوں سے میرا
شہد کشید کرے

By سرمد صہبائی

سرمد صہبائی پاکستان کے معروف شاعر، ڈرامہ نگار اور ہدایت کار ہیں۔ آپ کی نظم اپنے جدید محاورے اور تازہ فضا کے باعث جانی جاتی ہے۔ انہوں نے اپنا پہلا ٹیلی ڈرامہ 1968 میں پاکستان ٹیلی وژن میں ملازمت اختیار کرنے کے بعد لکھا۔ آپ کی شاعری کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ فلم "ماہ میر" کے لیے لکھا گیا آپ کا سکرپٹ ناقدین اور ناظرین سے داد وصول کر چکا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *