ہندوستانی الاصل اساطیر اور علامات

قبل اس کےکہ ہم اردو ادب کی اساطیری بنیادوں اور علامتی لفظیات پر گفتگو کریں مناسب یہ معلوم ہوتا ہےکہ ہم اسطور اور علامت کے مفہوم کو سمجھ لیں ۔ بالعموم اسطور سے ایسی کہانی مراد لی جاتی ہے جو سائنٹیفک مفہوم میں صد فی صد صداقت پر مبنی نہیں ہو تی ہے ۔ اس […]
راجا ہریش چندر

اس وقت آسمان سے امرت کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور روہتاس زندہ ہو اٹھا۔ ہریش چندر اور شِویا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ انہوں نے سب دیوتاوں کو پرنام کیا اور روہتاس کو چھاتی سے لگا کر پیار کرنے لگے۔
سچا رشتہ

یہ کس کس جنم میں میرے ماں باپ تھے۔ میں تو اپنے عمل کی سزا اور جزا کے لیے کبھی دیوتا ہوں کبھی انسان، کبھی چوپایہ، کبھی پرندہ۔ طرح طرح کے جسموں میں نہ جانے کتنے یگوں سے بھٹک رہا ہوں۔
راجا شوی اور کبوتر

مجھے اور میرے بچوں کو بھوکا رکھ کر دھرم نبھانا بے معنی ہے۔پرندوں کو مارکر کھانا میرا بھی دھرم ہے۔سچا دھرم وہی ہے جو دوسروں کے دھرم میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
دروپدی کا سوئمبر

شرط یہ تھی، کہ جو شخص پانی میں مچھلی کا عکس دیکھتے ہوئے مچھلی کی بائیں آنکھ میں تیر مارے گا، دروپدی کی شادی اسی سے ہوگی۔
بَکاسُر

سب نے مل کر راکشس سے سمجھوتا کر لیا ہے کہ ہر روز کھانے سے بھری ہوئی ایک گاڑی، دو بیل اور ایک آدمی راکشس کے کھانے کے لیے بھیجے جائیں گے۔
لاکھ کا گھر

پانڈووں کے آنے کے بعد موقع دیکھ کر محل میں آگ لگادی جائے گی۔ لاکھ کا محل پل بھر میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اور پانڈو بھی اس کے ساتھ ہی بھسم ہوجائیں گے۔
لَو اور کُش

۔ لَو اور کُش تھے تو لڑکے سے، لیکن اول تو رام چندر جی کے بیٹے تھے، دوسرے تیر اندازی کے گُر انہوں نے رشی بالمیک سے سیکھے تھے۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں فوج کے پاوں اکھڑ گئے۔
راجا دشرتھ اور کیکئی

کیکئی نے مانگ پیش کی کہ رام چندر جی کے بجائے اس کے اپنے بیٹے بھرت کو راج پاٹ دیا جائے اور رام چندر جی کو چودہ برس کا بن باس دے کر ایودھیا سے باہر بھیج دیا جائے۔
شو جی کا بیاہ

جب آہوتی دینے کا وقت آیا تو سب دیوتاوں کے نام کی آہوتی دی گئی، لیکن شو جی کا نام کسی نے نہیں لیا۔ یہ دیکھ کر بھوانی کو اتنی تکلیف ہوئی کہ وہ سب کے سامنے یگیہ کی آگ میں کود پڑی اور پیشتر اس کے کہ کوئی اسے بچائے، وہ جل کر راکھ ہوگئی۔
گنیش

پاروتی کو سب سے پہلے ہاتھی دکھائی دیا۔ چنانچہ اسی کا سر کاٹ کر گنیش جی کے لگادیا گیا۔
ستیہ وان ساوتری

“تمہارے پتی کی موت تو قسمت میں لکھی تھی۔ اس کو تو کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ البتہ تم ایک مراد اور مانگ سکتی ہو، اس کے بعد واپس لوٹ جاؤ۔”
نل دمینتی

نل اور دمینتی ایک دوسرے کی تعریف سن کر دل ہی دل میں ایک دوسرے کو چاہنے لگے۔ حسن اتفاق سے ایک بار نل کے ہاتھ ایک ایسا ہنس لگا، جس نے جا کر دمینتی کو بتایا کہ نل کے دل میں اس کے لیے کتنی عزت ہے۔
شکنتلا

کئی دنوں کی مسافت کے بعد تھکی ہاری شکنتلا جب دربار میں پہنچی تو راجا اسے پہچان نہ سکا۔ شکنتلا انتہائی دُکھ اور بے سرو سامانی کی حالت میں دربار سے نکل آئی۔
اُروَشی

رشی نے غضب ناک ہو کر بد دعا دی کہ اُروشی تمام آسمانی مسرتوں سے محروم ہو کر انسان کی صحبت میں رہے۔