سزائے تماشائے شہرِ طلسم

رفاقت حیات: کچھ دیر کے لیے، نجانے کتنی دیر کے لیے اس کے حواس کا تعلق اپنے گردوپیش کی آزاروں بھری دنیا سے کٹ گیااور اس کا وجود کچھ وقت کے لیے ہی سہی اسے پہنچنے والی اذیت اور ہزیمت فراموش کرنے میں کامیاب ہوا، جس کی وجہ سے اس کا آئندہ کا عالم ِخیال و احساس پوری طرح تہہ و بالا ہونے والا تھا۔
کراچی ہوں

نیناں عادل: میں اپنی چاک دامانی کا قصہ خون سے اپنے لکھوں اور کھارے پانی میں
بہا دوں
بہا دوں
ایم کیو ایم کا مینڈیٹ تسلیم کریں

کراچی کے لوگوں نے ایم کیو ایم کو بھاری اکثریت دے کر کامیاب کروایا ہے اور تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے دو جماعتی اتحاد کو مسترد کردیاہے
نندی پور سے کراچی تک بدعنوانی کا راج
نندی پور منصوبے کا آغاز پیپلز پارٹی نے2008ء میں کیا، جو کچھ بدعنوانی کر سکتے تھے وہ کی اور چلے گئے، نواز شریف کی حکومت نے ڈھائی سال میں اس کی لاگت کو 22 ارب روپے سے81 ارب روپے پر پہنچا دیا لیکن اس منصوبے سےبجلی کا ایک یونٹ عوام کو نصیب نہیں ہوا۔
قوم کے منہ پر طمانچہ
جشن آزادی کےموقع پر اس دفعہ کراچی کے عوام میں کافی جوش و خروش دیکھنے میں آیا ۔
ریڈیو پاکستان کراچی کی خستہ حال عمارت
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پرریڈیو پاکستان کراچی کی قدیم عمارت واقع ہے جسے اب تاریخی ورثہ قرا دے دیاگیا ہے، یہ وہ عمارت ہے جہاں سے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی تقریر نشر ہوئی۔
اقتصادی راہداری اور تربت روڑ
“تربت روڑ“ کہلانے والی سڑک اکیسویں صدی سے پہلے تربت کو آواران اورپھر ان دونوں اضلاع کو کراچی سے ملانے کا اہم ذریعہ تھی۔
کیا بلدیہ ٹاؤن واقعہ اہم ہے؟
ایم کیو ایم کی تاریخ اور کراچی میں اسکی سیاست سے جتنا بھی اختلاف کیا جائے، دو باتیں بالکل واضح ہیں؛ ایم کیو ایم کا عوامی مینڈیٹ اور سندھ کی سیاست میں انکا اہم کردار اور یہ دونوں ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے لیے درد سر رہی ہیں۔