بھٹو کا پتلا

ڈی اصغر: جب بھٹو کے قصّے کچھ کم ہو جاتے ہیں تو پھر اس کی شیر دل بیٹی کی بات ہوتی ہے۔ جو سب کی بی بی تھی۔ پھر ایک اور نعرہ گونجتا ہے، ” چاروں صوبوں کی زنجیر، بے نظیر بے نظیر۔” پھر بی بی صاحب کی مداح سرائیاں ہوتی ہیں۔
معراج محمد خان

استعفیٰ دینے کے کچھ عرصے بعد بھٹو صاحب کے حکم پر معراج کو پولیس نے تشدد کا نشانہ بنایا اور گرفتار کر لیا۔ بھٹو دور کے باقی ماندہ سالوں میں معراج ایک جیل سے دوسری جیل کے چکر کاٹتا رہا اور مختلف کمیونسٹ جماعتوں کا رکن رہا۔
الوداع الوداع۔۔۔ پیپلز پارٹی الوداع
پاکستان پیپلز پارٹی کی مختصرتاریخ یہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے 30 نومبر1967ءکو اپنے قریبی دوستوں کے ساتھ لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔
پیپلز پارٹی بدعنوانوں کا ٹولہ ہے
ذوالفقار علی بھٹو پر اُن کے مخالفین بہت سےالزامات لگاتے ہیں مگراُن کے ایک کٹر نظریاتی مخالف جماعت اسلامی کے سابق نائب امیر پروفیسر غفور احمد مرحوم سے کئی برس پہلے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا بھٹو صاحب مالی خوردبرد میں ملوث تھے تو پروفیسر غفور نے جواب دیا تھا کہ بھٹو پر ہر الزام لگایا جاسکتا ہے لیکن بھٹو پر مالی بدعنوانی اور لوٹ مار کا الزام کوئی نہیں لگاسکا۔
بلاول، زرداری اور پیپلز پارٹی کا مستقبل
پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاستدان کا اس قدر میڈیا ٹرائل نہیں ہوا جس قدر آصفٖ علی زرداری کا ہوا ہے۔
گندا ہے پر دھندہ ہے
کال کس نے کی؟ زرداری صاحب نے یا کپتان نے؟ جس نے بھی کی، سیاست میں میل ملاقات اور روابط کی گنجائش بہر حال باقی رہتی ہے، پس منظر البتہ بیان کیے دیتے ہیں، رحمان ملک اور پرویز خٹک کے آپسی تعلقات دیرینہ ہیں، سینیٹ انتخابات کے ہنگام میں دونوں رہنماوں کا ٹیلی فونک رابطہ ہوا، ملک صاحب کی تجویز تھی کہ پی پی خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی حمایت کر سکتی ہے اگر بدلے میں پی ٹی آئی، چیئرمین سینیٹ کے لیے ہماری حمایت کرے۔
ہمیں پیپلز پارٹی کی ضرورت کیوں ہے؟
محترمہ بینظیر بھٹو کی شہادت پیپلزپارٹی کے شہیدوں کی فہرست میں محض ایک نام کا اضافہ نہیں ہے بلکہ ذولفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل ہی کی طرح تاریخ میں ایک ایسی یاددہانی کا اضافہ ہے جو ہمیں شدت پسندی اور آمریت کے خلاف جنگ کے لیے جذبہ اور دانش دونوں فراہم کر نے کی اہلیت رکھتی ہے۔