Laaltain

صالح شاہ کا امام باڑا

میں نہ جانے کیوں اب بھی تبدیل نہیں ہو پایا، اور ہر نویں محرم کو میرا دل صالح شاہ کا امام باڑا بن جاتا ہے۔

دو بدن (مصطفیٰ ارباب)

مجھ میں ادھوری لذت سو رہی ہے میں اِس کی نیند کو طُول دینا چاہتا ہوں لیکن ایسا مُمکن نہیں اپنے طے شُدہ اوقات میں یہ بیدار ہو جاتی ہے اپنی تکمیل کی جُست جُو میں اُس بدن کے حُصول میں لگ جاتی ہے جس میں ادھوری لذت کا بقیہ حصہ سویا ہوا ہے دو […]

گالی

مصطفیٰ ارباب: میں
کبھی نہیں جان سکا
گالی
جذبے کی کون سی سطح ہے

مجھے نہیں معلوم

مصطفیٰ ارباب: ہمارے حق میں
زندگی کوئی کوشش نہیں کرتی
زندگی کا صدر مقام
نظم سے باہر ہوتا ہے

کُمہار

گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں

ریت کے دیس میں

مصطفیٰ ارباب: ہم ایک جگہ سے معدوم ہوکر
دوسری جگہ تجسیم پاتے ہیں
انسانی ٹِیلے
ہمیشہ متحرک رہتے ہیں

کوئلا

مصطفیٰ ارباب: وہ
ہماری روشنی چرا کر لے جاتے ہیں
ہمارے پاس صرف دھواں
کوئلے سے رستے تیزابی پانی کا ایک ڈیم رہ جاتا ہے
اس ڈیم میں چھلانگ لگا کر
ہمیں
مرجانے کی سہولت مہیا کی گئی ہے