دونوں جہان دے کے وہ سمجھے یہ خوش رہالیکن ادائے خاص ہے اک دیکھنے کی چیز کہتا ہے ذرا جھینپ کر اک صوفیانہ بات “یاں آ پڑی یہ شرم کہ تکرار کیا کریں!