سپاہی تنویر حسین کی ڈائری (ذکی نقوی)

میں نے اسلحہ پھینک کر ایک کمبل، یہ ڈائری اور پُنّوں کی بَیری ٹوپی اپنے پاس رکھ لی ہے۔
سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار (آخری قسط)

پہل پاکستان نے کی۔ اسرائیل کے انیس سو سڑسٹھ کے مصر پر حملے کی طرز پر ابتدائی برتری لینے کے لئے پاکستان نے تین دسمبر انیس سو اکہتر کو آپریشن چنگیز خان لانچ کیا جس کا ہدف بھارتی ایئر بیس تھے۔
سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار (قسط اول)

امریکی ساخت کی بکتر بند گاڑیاں ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئیں اور ہزاروں طلباء کو ہلاک کر دیا — سیاسی لیڈروں، شاعروں، ناول نگاروں اور بنگال کے کئی بہترین دماغوں کو گرفتار کر کے گولی مار دی گئی
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 9 دسمبر 1971- بُری خبریں

آج کپتان صاحب اپنے دفتر میں ہی رہے۔اُنہوں نے کوت والے کو باہر بھیج دیا۔میں بھی شام تک اُن کے ساتھ رہا۔لکھنے کاکافی سارا کام اُنہوں نے مُجھ سے کروایا۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 8 دسمبر 1971- پُنّوں کی سُپاری
فجر کی نماز کے بعد لنگر کمانڈر سے ملا۔اُس نے بتایا کہ ابھی جے کیوُ صاحب اور کیپٹن صاحب کی بات ہوئی ہے، آج تمام نفری کو ناشتہ ملے گا لیکن دوپہر کے کھانے کا مسئلہ درپیش ہے۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 7 دسمبر 1971- سچ یا جھوٹ
آج سارا دن ہم لوگ سٹینڈ ٹُو رہے لیکن کسی موو کا حکم ملا نہ کوئی ناگوار واقعہ ہوا۔ پُنّوں میرے پاس رہا۔بے چارہ گزشتہ چند روز کے واقعات سے بہت گھبرایا ہوا تھا، مُجھ سے اپنے خوف کا اظہار کرکے رونے لگا۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 6 دسمبر 1971- چھاپہ اور تعاقب
آج فجر کی نماز کیلئے جاگا۔ابھی نماز کیلئے ہاتھ باندھے ہی تھے کہ کیمپ ایک زوردار دھماکے سے گونج اُٹھا اور پھر فائرنگ شروع ہو گئی۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 5 دسمبر 1971- ماں کا خط
میں ابھی سویا ہی ہوا تھا کہ جی ۔تھری کے فائر کی آواز نے جگا دیا۔باہر نکل کے دیکھا تو میں گھبرا کے رہ گیا۔کیپٹن صاحب نے کل گرفتار ہونے والے سات بنگالیوں میں سے تین کو شُوٹ کرنے کا حُکم دےدیا تھا۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 4 دسمبر 1971- گرفتاریاں
صبح دیر سے جاگا۔ ورکنگ لگی تھی لیکن کیپٹن دُرّانی صاحب نے بُلوا لیا۔اُنہوں نے کہا کہ میں اُن کے ساتھ رنر ڈیوٹی کروں۔وہ مُجھ پر بہت مہربان ہیں اورشائد میری پڑھائی کی وجہ سے مجھ پر خاص نظر رکھتے ہیں۔
سپاہی تنویر حُسین کی ڈائری — 3 دسمبر 1971- اعلانِ جنگ
آج دن کا آغاز ہی شدید ہنگامے سے ہوا۔فارمیشنوں کو باقاعدہ جنگ کے آرڈر مل گئے ۔صبح کی فالنی کے بعد الفا،چارلی،ڈیلٹا اور ہیڈکوارٹر کمپنی کو ہندوستانی بارڈر کی طرف موو کر جانے کا حکم ملا۔۔۔۔