Laaltain

زرد صحافت سے پاکستانی صحافت تک

ہر ٹی وی چینل پر چند سٹیج اداکاروں کو بٹھا کر ان سے وہی کام لیا جا رہاہے جو ایک زمانے میں پیلی قمیض پہنے yel­low kid سے لیا جاتا تھا۔

ہمیں خود سے خطرہ ہے

ہمیں ملک پرستی کے بجائے ملک سازی پر دھیان چاہیےکیونکہ سخت گیر قسم کی ملک پرستی ایک خراب چیز ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مذہب پرستی بہت سی بربادیاں لایا کرتی ہے

زرد صحافت اور سنسنی خیزی

ہر چینل ایک کارپوریٹ ادارہ ہے جو پیسہ کمانا چاہتا ہے، یہ پیسہ، اشتہارات کی بدولت کمایا جاتا ہے۔ اشتہار چلانے والی کمپنیاں یہ نہیں دیکھتیں کہ کیا ‘دِکھ’ رہا ہے، وہ تو بس یہ پوچھتی ہیں کتنا ‘دِکھ’ رہا ہے۔