Laaltain

استعاروں کے مقتل میں

جمیل الرحمٰن:نظم کی سانس اکھڑ رہی ہے
زمین بگڑ رہی ہے
لفظ چلّا رہے ہیں
کیا تمہیں یہ علم نہیں
“خدا یہ نظم دوبارہ نہیں لکھے گا

علی زریون کے نام ایک خط

جمیل الرحمان: پیارے علی زریون
یہاں تخت
درختوں کی لکڑی سے نہیں
معصوموں اور کمزوروں کی ہڈیوں اور گوشت سے بنتے ہیں

ایک خالی کمرے میں معرکہ

جمیل الرحمان: کمرے میں موجود خالی کرسی
اور اس کے سامنے پڑی بیضوی میز
اُن آواز وں کے بین سُن رہی ہیں
جو دروازے کے کواڑوں سے لٹک رہی ہیں

واپس دو

جمیل الرحمان: میں تم سے آج اپنا آپ واپس مانگتا ہوں
مجھے تم خوں بہا مت دو

میں جانتا ہوں جہنم کہاں ہے

جمیل الرحمان:میں سارے ایندھن کا شور
خود میں انڈیل لینا چاہتا ہوں
افق پر لہو میں تیرتا دھندلکا
میرے کسی ہم نفس کو پکارتا ہے

ایک ہذیانی لمحے کا عکس

جمیل الرحمان: سورج مکھی
تیرے شہر میں دن راستہ بھول گیا
تیرے مکینوں کی لاشیں خاک پر اوندھے منہ پڑی رہیں
اور تیرے سورج کو بیڑیاں پہنا دی گئیں
کیا تیرے شہر میں کوئی ایسی شام تو دفن نہیں
جس کے کتبے کا حاشیہ لکھنے والے بد ہیئت ہاتھ
ستاروں کے لہو سے لتھڑے ہوئے تھے؟؟؟؟

صبح و شام کے درمیان

جمیل الرحمان: سورج دیوتا نے
شہزادے کا رتھ الٹ دیا
شہزادے کا کچھ پتہ نہین چلا
لیکن
شہزادی کی لاش کے ٹکڑے
راہگیرون کو گھاٹی میں ملے

چیف جسٹس کا مطالبہ

جمیل الرحمان: اگر تم میری عدالت سے مطمئن نہیں
تو اپنے جملے کی کوکھ اُدھیڑو
اور اُس میں پلتے سچ کی گردن کاٹ کر
کٹہرے میں رکھ دو

دو کیشیئرز

جمیل الرحمان: جسم کے الاؤ میں
خواب کے بہاؤ میں
اک پرانی حسرت کے
گھاٹ پر اُترنے تک
نظم اُس نے کہنی تھی