وہ مجھ سے ہمیشہ تیس روپے زیادہ لیتا ہے اور دیگر نظمیں

شام ڈھلنے تک میرا دروازہ گلی کا سب گندہ پانی اپنی طرف کھینچتا رہتا ہے
چرواہے کا خواب اور دیگر نظمیں (سعیدالدین)

ایک دن محبت
آدمی کو مکمل کرے گی
آدمی کی تکمیل
شاعری کی آخری لائن ہو گی
سمندر پہ کی گئی محبت (ساحر شفیق)

میں نے پہلی بار اُسے ریت میں دھنسے ہوئے تباہ شُدہ جہاز کے عرشے پر دیکھا تھا جب وہ ہنستے ہوئے تصویر بنوا رہی تھی اس کی آنکھیں بادلوں میں گھرے ہوئے سورج جیسی تھیں یقینا بچپن میں اُسے نیند میں چلنے کی عادت رہی ہوگی سمندر___ جو رشتے میں ہم دونوں کا کچھ نہیں […]
پورے نو مہینے کا اجالا؛ سات مختصر نظمیں

ایچ-بی-بلوچ: میں چھوٹی عمر کا
نو مولود ستارہ ہوں
میرا راستہ کیسا اور کتنا ہوگا؟
ہوائیں حاملہ ہیں

ثروت زہرا: ہمیں اب خوف ہے کہ
اس نئی دنیا کی زچگی سے
ہمارے شہر کا کیا کچھ لٹے گا؟
بلڈ کینسر

رضی حیدر: میں اک جوالا مُکھی کا قصہ ہوں
میں انفجارِ عظیم کی طاقتوں میں ذرَہ ہوں
نئے گوتم کا اُپدیش

نصیر احمد ناصر: دکھ ڈائری میں نہیں لکھا جا سکتا
نہ کسی نظم میں ڈھالا جا سکتا ہے
سراب میں جل پری

حسین عابد: سمندر یہ زہر نہیں دھو سکتا
جو میری آنکھوں، رگوں
روئیں روئیں میں ٹھاٹھیں مارتا ہے
لال پلکا

نصیر احمد ناصر: کھول کر دیکھوں
لکھا ہے کیا خطِ تقدیر میں
کتنے یگوں کی قید ہے
کتنی رہائی ہے
منی پلانٹ

ثروت زہرا: پرائے اجنبی آنگن میں
ڈالر اور درہم کے لیے
سینچا گیا ہوں
امید

سوئپنل تیواری: مجھے یہ پتا تھا
کہ دیوار گھر کی
ندی کی طرح
بہ نہ پائے گی
کجلا چکے جذبوں سے آخری مصافحہ

محمد حمید شاہد: تمہاری انا زدگی نے
مجھے گھسیٹ کر
ڈوبتی امید کے اس چوبی زینے پر لاکھڑا کیا ہے
ان چکھے گناہ کی مٹھاس

محمد حمید شاہد: میں لذت کی شیرینی میں لتھڑے ہونٹ
اپنی ہوس کی بے صبری زبان سے چاٹ رہا ہوں
وہ خوشبو بدن تھی

کئے جا رہا ہوں انہیں جمع ہر دم
کہ اک روز ان سے دوبارہ میں تخلیق اس کو کروں گا
جو خوشبو بدن تھی
تم مجھے پڑھ سکتے ہو

مجھے پڑھ سکتے ہو
جو لکیریں میں کاغذ پر نہیں کھینچ سکتا
میرے جسم پر ابھر آتی ہیں