نولکھی کوٹھی – تیسری قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر بگھی سے اترا توجوانوں کا پورا دستہ اس کی پشت پر کھڑا ہو گیا۔ آگے بڑھا تو ایک پر اسرار رعب اس کے ساتھ تھا۔ بوسکی کاکرتہ، اون کی چادراور کاندھے پر ولایتی رائفل،اس سے بڑھ کر ریشمی لاچا جس کے کنارے دُور تک زمین پر گھسٹتے آتے تھے۔
نولکھی کوٹھی — دوسری قسط

علی اکبر ناطق: کوئلوں پر ہاتھ تاپتے ہوئے رفیق نے حقے کا کش لیا اور بولا، سردارغلام حیدر ایک بات تو طے ہے کہ حملہ سودھا سنگھ کے آدمیوں ہی نے کیا ہے اور چھپ چھپا کر نہیں، کھلے عام کیا ہے۔
پستان۔ گیارہویں قسط

تصنیف حیدر: آنکھ کھلی تو کال کوٹھری کے باہر ایک سپاہی سلاخوں پر ڈنڈا بجا کر اسے جگا رہا تھا۔ پتہ نہیں کیسے مگر صدر نے اسے ڈھونڈ نکالا تھا۔
سرخ شامیانہ — چوتھی قسط

حسین عابد: جتنی دعائیں اور کراہیں اس دھرتی سے اٹھتی ہیں اگر انہیں کاغذوں پر لکھ کر آسمان پر چپکا دیا جائے تو آسمان بھر جائے، چھاؤں ہو جائے اس دھرتی پر”، شاہد تلخی سے بولا
نولکھی کوٹھی — پہلی قسط

علی اکبر ناطق: شیر حیدر کے زیادہ حریف سکھوں میں تھے لیکن وہ بھی کُھل کر سامنے نہیں آ سکتے تھے، سوائے سودھا سنگھ کے۔
سرخ شامیانہ — قسط نمبر 3

حسین عابد: کالج غیر معینہ مدت کے لئے بند کر دیا گیا، مبینہ ملزم فرار ہوچکے تھے، ہاسٹلوں کی تلاشیاں لینے کے بعد انہیں گھروں کو کوچ کرنے کا حکم جاری ہوا۔
پستان ۔ دسویں قسط

تصنیف حیدر: کمرے کی لائٹ آن تھی، بارش کے شور کی گرج ہولے ہولے مدھم پڑرہی تھی، وہ کمفرٹر میں گھس گئی اور ابھرتے ہوئے سورج کی گرد میں نہ جانے کب اس کے بھاری اور گہرے سرخ پپوٹوں کا آفتاب غروب ہوگیا۔
سرخ شامیانہ۔ قسط نمبر2

حسین عابد: اگلی صبح راشد نے سامان باندھا اور دوبارہ لاہور کا رخ کیا۔عرفان اور شاہد اسے لاری اڈے پر الوداع کرنے کے بعد کالج آگئے۔ لڑکے لڑکیاں سفید گاؤن پہنے، گردنوں میں سٹیتھو سکوپ لٹکائے،کتابیں سنبھالے ادھر سے ادھر آ جا رہے تھے۔
سرخ شامیانہ-پہلی قسط

حسین عابد: میں جو تُند ندی کی طرح تھا، ایک بدبودار جوہڑ بنتا جا رہا ہوں، جامد اور یکساں۔ اب مجھ پر صرف کائی کی تہیں جم سکتی ہیں۔ اس نے استہزائی کرب سے سوچا۔
میر واہ کی راتیں — آخری قسط

رفاقت حیات: وہ جانتا تھا کہ اس وقت قصبے سے باہر جانے کے لیے سواری نہیں ملے گی۔ اس نے چلتے ہوئے گلی عبور کی، سڑک پر پہنچا۔ پہلوان دستی کے چائے خانے کے قریب سے گزرااور ٹھنڈے سانس بھرتا ہواآہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا وہ قصبے کی حدود سے باہر نکل گیا۔
میرواہ کی راتیں — نویں قسط

رفاقت حیات: بلی کے پنجوں کی رگڑ، اس کے جسم کے وزن اور اس کی لجلجاہٹ نے اسے لذت بھرے طلسمی دریا سے نکال کر باہر اچھال دیا۔
میرواہ کی راتیں – آٹھویں قسط

رفاقت حیات: چھپر کی چھت سے اچانک ایک غراتی اور چیختی ہوئی بلی نذیر کی پشت پر آ گری۔ اسے محسوس ہوا کہ کوئی چڑیل آ کر اس کی پیٹھ سے چمٹ گئی ہے۔
پستان — ساتویں قسط

تصنیف حیدر: دھوپ زخموں اور چھالوں پر مرہم لگانے لگی۔آخری منظر جو میں نے دیکھا وہ سلائڈنگ میں اڑتی ہوئی ایک بھنبھیری تھی۔ہرے رنگ کی، پھرپھر کرتی، تیز اور آزاد، بالکل کچ اور صدر کی طرح۔
میر واہ کی راتیں – ساتویں قسط

رفاقت حیات: چاچا غفور سے تعلقات میں کشیدگی ختم کرنے کے لیے اس نے دکان پر وقت گزارنے کا فیصلہ کیا تاکہ اگر آج رات کسی نے اس کا خالی بستر دیکھ لیا تو وہ اس پر مچنے والے ممکنہ فساد کو دبانے میں کامیاب ہو سکے گا۔
میرواہ کی راتیں – چھٹی قسط

رفاقت حیات: دفعتاً اس کی نگاہ ڈرائیور کے سامنے لگے آئینوں پر جا کر ٹھہر گئی اور اس کی مسرت کی کوئی حد نہ رہی۔ سامنے لگے ہوئے ہر آئینے میں اسے اس کی جھلک نظر آ رہی تھی۔ نذیر کی آنکھیں ان آئینوں کے درمیان بھٹکنے لگیں۔
