شام دروازہ بند کر دیتی ہے

سرمد بٹ:
مکھیاں اس سیارے سے اڑ کیوں نہیں جاتیں
اکتا کر
یا بدہضمی کے ڈر سے
یا کم از کم میرے گھر سے
حسرت میں ملفوف ایام

صفیہ حیات: وہ
خالی بٹوے کو دیکھتی
سڑکوں پہ بھاگتی
تھکاوٹ کو غصہ سے
روٹھی نظم کو حسرت سے دیکھتی ہے
عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!
انٹیروگیشن …!!!

ثروت زہرا: تم نے سورج سے کیوں روشنی چوری کی
تم پر دن لوٹنے کی دفعہ لگتی ہے
تم کو اب وقت کی ہتھکڑی لگتی ہے
کور چشم ولدیت

صفیہ حیات: میں عورت ہوں
مگر تم سے ولدیت چھین لوں گی
مجھے ایک گناہ کی اجازت دو

سدرہ سحر عمران: میں مٹی کے صابن سے جھاگ بنا کر
آسمان سے رات صاف کرنا چاہتی ہوں
وہ سازش ڈھونڈ رہے تھے

سلمان حیدر: کسی خفیہ راستے کی تلاش میں
انہوں نے سرکنڈوں کی بنی دیواروں پر
لپی ہوئی مٹی کھرچ ڈالی
نفرت بھیانک خواب کی طرح ہماری نیندوں میں آتی ہے

عذرا عباس: آنکھ کھولنے اور بند ہونے کے دورانیے میں
جو دیکھا تو صرف نفرت کو پنپتے ہوئے
نفرت جو ایک بھیانک خواب کی طرح روزہماری نیندوں میں آتی ہے
یاد ایک جھولنا ہے

عمران ازفر: تمام رات آسماں تھپکتا ہے
ہر ایک تارے کی کمر
دمِ سحر غلافِ شب لپیٹ لے
جو دن جا چکا ہے اور دوپہر کا وقت ہے
سوم رس

رضوان علی: میں ایک ایسا درخت ہوں
جس کی جڑیں زمین سے باہر نکل آئی ہیں
محبت کی نظمیں (حصہ اول)

تصنیف حیدر: رات
اس کی نظمیں سنتے گزری
جیسے سیاہ آنئوں پر نیلی روشنیوں
کا رقص ہو
آ چنو رل یار

افتخار بخاری: آؤ اب ہم پتھر ڈھونڈیں
اپنے پیٹ پہ باندھنے کو
بہتی آنکھوں کا خواب

سلمیٰ جیلانی: انصاف کی تلاش میں
بہتی آنکھوں نے
اندھے رستے پر پڑی
بند گھڑی کی سوئی میں
مجھے پرو دیا ہے
ڈھلتی دوپہر کی چُپ میں

حسین عابد: خدا اوپر رہتا ہے
دوپائے، چرند پرند نیچے
آنا جانا لگا رہتا ہے
جو شیطانچے بند صندوق میں ہیں

ستیہ پال آنند: فقط ایک رستہ اُسے سُوجھتا ہے
کہ خود اپنی گردن بُریدہ کرے۔۔۔۔۔