Laaltain

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے (فرح دیبا اکرم)

میری تنہائی اُداسی میں ہچکیاں بھرتی ہے جب اس کا دم گھٹنے لگے تو کھڑکی پہ پردہ ڈال کر مدھم روشنی کو اندھیرے کی چاندنی سے ڈراتی ہے ایک آخری کام رہ گیا ہے تیری امانت، تیرے سپرد کرنی ہے اپنے جنوں کے بےمعنی اضطراب کو تمھارے دروازے کے ڈور میٹ پہ رکھ کر زمانے […]

کون بتائے گا

ثاقب ندیم: آنسو پینے والی کو
بستر کی سلوٹیں گنتے گنتے
روزانہ شام ہو جاتی ہے