Laaltain

لعوقِ عشق و عرقِ آگہی

حسین عابد: تجسس کی ہوا لگتے ہی ایسا عارضہ لاحق ہوا
کوچہ بہ کوچہ مانگتا ہوں وہم کی خیرات
رہ چلتوں کی جیبوں سے ڑا لیتا ہوں سکے بے یقینی کے
جھپٹ کر چیل کی منقار سے شک کا نوالہ چھین لیتا ہوں

کسی دن مِلیں گے

نصیر احمد ناصر: مِلیں گے کسی دن مِلیں گے
فراغت ہوئی تو
خدا سے بھی، تجھ سے بھی
دونوں جہانوں سے باہر مِلیں گے
کسی دن عروضی زمانوں سے باہر مِلیں گے

مرتد جولاہے کی سزا

حاشر ارشاد: پھر اک دن وہ تاگہ ٹوٹا
پنا پھسلا، ہاتھ سے لڑھکا
میں نے پہلا گنجل دیکھا

مٹی میں دبا دل

حسین عابد:
آنسو میں گُٹھلی نہیں ہوتی
لیکن وہ بہت دیر تک دبا رہے
تو پیڑ بن جاتا ہے
جس پہ دو آنکھیں آتی ہیں

آدمی بھول جاتا ہے

ابرار احمد: بھول جاتا ہے آدمی، وہ وقت
جب اس کا دل دکھایا گیا
یا جب اسے دعاؤں اور محبتوں سے
شرابور کر دیا گیا

تم کہتے ہو

عارفہ شہزاد: مستور محبتوں کے راز اگلتے اگلتے
تم زبان سے ٹپکتی رال پونچھنا بھول گئے ہو

مہمان پرندوں کو الوداع

نصیر احمد ناصر:اگلے برس
جب تم اڑانوں کے صحیفے لے کے آؤ گے
تو جھیلوں کے کنارے
ہم تمہارے منتطر ہوں گے

رات زندگی سے قدیم ہے

نصیر احمد ناصر: اور پھر ایک دن ہم
اتر جائیں گے
اُن دریاؤں کے پار
جہاں راستے ہیں نہ مسافر
دھوپ ہے نہ شام
بس ایک خواب جیسی دھند ہے
اور پہاڑ جیسی رات

لیک

سوئپنل تیواری:ہمیں ہنسنا تھا ان سب منزلوں پر
مگر ہم پونچھ تھامے چل رہے ہیں

ماڈل اور آرٹسٹ

وجیہہ وارثی: آؤ تم اور میں اپنی اپنی تنہائیوں کا مجسمہ بنائیں
تہذیب و تمدن کے ساتھ
اور اگر محبت مل جائے کسی کونے میں
تو اسے بارآور کریں
مقدس رشتے کے ساتھ
مکن ہے شہ کارپیدا ہو

آسمان زیور ہے

عمران ازفر: چھے سمتوں میں
سب سمتوں کا رس بھرا ہے
گاڑھا اور کسیلا مادہ
شب کی گرمی سے جو پک کر
آنکھ کے رستے اب گرتا ہے

اندھیرے میں اُگی مشروم

نصیر احمد ناصر:
وہ عجب سا خواب تھا، اس خواب میں آنکھیں بہت تھیں
جو اندھیرے میں ڈراتی تھیں ہمہ دم
میرے ہونے، کچھ نہ ہونے
اور سونے کا تماشا دیکھتی تھیں

وصل گزیدہ

جمیل الرحمٰن: داستان
ایک وحشی کی طرح
عنوان کو برہنہ کرنے میں مصروف ہے
اور انجانی لذّتیں قطار باندھے
مسہری پر ٹپکتے جرثوموں کی
کلبلاہٹ پر ہنس رہی ہیں

اشتہار سے باہر

علی محمد فرشی: رشتوں کی سلاخوں میں
پروئی عورتوں اور
گائے کے عمدہ گلابی گو شت کا بھاؤ
ابھی تک ایک جیسا ہے