Categories
نقطۂ نظر

صنعتِ “المشہور” کا یومِ پاکستان

یُوں تو سیانے کہتے پائے گئے ہیں، “بُدھ اور کام سُدھ۔” لیکن آج یہ ہوائی کسی محض اور محض دشمن کی اُڑائی ہوئی ہی لگ رہی تھی۔ ان کا موبائل فون تو سگنلز کے علاقے میں بغیر کسی آپریشن کے بے سُدھ پڑا تھا۔
عاجز صاحب آج صبح کو نیند سے بیدار ہوئے تو فوراً اپنے جیون ساتھی، (یعنی موبائل فون) کو اٹھایا۔ اس کو آنکھیں مَلتے مَلتے دیکھا تو سِگنلز والی جگہ پر موبائل فون کا سیٹ “سَرچِنگ، سَرچِنگ” کی استمراری حرکت میں مصروف تھا۔ موبائل فون کی اسکرین پر عام طور موجود باقی نَگ سارے پُورے تھے۔ یہ باقی دنوں کی طرح تاریخ اور ہفتے کا دن آج بھی دکھا رہا تھا۔ جن کے مطابق آج ایک بار پھر 23 مارچ تھا اور بُدھ کا دن تھا۔ یُوں تو سیانے کہتے پائے گئے ہیں، “بُدھ اور کام سُدھ۔” لیکن آج یہ ہوائی کسی محض اور محض دشمن کی اُڑائی ہوئی ہی لگ رہی تھی۔ ان کا موبائل فون تو سگنلز کے علاقے میں بغیر کسی آپریشن کے بے سُدھ پڑا تھا۔ ویسے تو اُن کی عُمریا اب موبائل کمپنیوں کے گھنٹہ پیکیجوں کےچَھنکتے جُھنجھنوں کی موسیقیات کے دائرے سے پار ہو چکی تھی، پر آج اس وقت کہیں دوسرے شہر میں ضروری کال کرنا پڑ گئی تھی۔ کہنے کو تو ابھی صبح کے کوئی پانچ، ساڑھے پانچ کے آس پاس ہی کا وقت ہوا تھا لیکن عاجز صاحب کے چہرہ پر بہ آسانی بارہ بجنے کا گھنٹہ ٹن ٹن کرتے سُنا دیکھا جا سکتا تھا۔ کچھ بھلکڑ واقع ہوئے ہیں حالانکہ “وسیع تر ملکی مفاد” والے تو کچھ دن سے ڈھول پیٹ رہے تھے کہ پھر نا کہنا خبر نہ ہوئی کہ سگنلز اور سڑکیں نہیں ملیں گی۔

 

تو پھر کیا ہوا؟ ہونا کیا تھا اور وہ بھلے عام قسم کی خاک اور پانی سے بنے آدمی کر بھی کیا سکتے تھے۔ کچھ دیر دانتوں کو پِیسا، مُنھ میں ہلکی پُھلکی کسی نوزائیدہ صلوٰت کا ورد کیا۔ نہیں، نہیں اونچا نہیں بولے، بھئی دیواروں کے بھی تو کان ہوتے ہیں۔ بصورتِ دیگر سپریم کورٹ بھی بُلا بُلا تھک جائے گی، شاہراہِ دستور پر محترمہ آمنہ مسعود جنجوعہ اور کئی معدنیات سے لبالب علاقے کے غیب شُدگان کے وارثان و وابستگان جلتے بُنتے پھریں گے، لیکن غیب کے صیغہ میں پھنس جانے والے حاضر کے صیغہ میں نا آ پائیں گے۔ عاجز صاحب شریف قسم کے آدمی ہیں اور بھئی سچ ہی تو ہےکہ شریف آدمی بہت ساری گھریلو، گلی، پاس والی مسجد، ساتھ والے مدرسے اور ملکی و قومی ایجنسیوں کے سامنے چُپ ہی کر سکتا ہے۔ شریکِ حیات بچوں سمیت اسکولوں سے چھٹیوں کی وجہ سے اپنے میکے تشریف لے جا چکی تھیں، مطلب یہ کہ آج گھر سے ناشتہ ملنے کی کوئی آس نا تھی۔ تو پھر مجبوراً ہو لئے پاس والی مارکیٹ کی جانب کہ کچھ قل ھو اللہ کا ورد کرتی آنتوں کو تَر کر سکیں۔

 

غرض یہ کہ اسلام آباد کی مارگلہ ٹاؤن کا یہ شوارمے والا ثقافتی اور کاروباری طور پر پیوست روایتِ دیکھا دیکھی کے عین مطابق اور وہ بھی پلک جھپکنے میں اب اسی علاقے کا ایک نیا “المشہور” بن کر سامنے آ چکا تھا۔
مارکیٹ میں کافی دنوں بعد آج داخل ہو رہے تھے تو کچھ خاص چہل پہل نا تھی۔ زیادہ تر کھوکھے بند تھے۔ جونہی ایک بند کھوکھے پر نظر پڑی تو اوپر جَلی حروف میں لکھا تھا “مارگلہ ٹاؤن کا المشہور شوارما”۔ عاجز صاحب نے کہا یہ کون ہے اور یہ کب کا “المشہور” ہوگیا! لیکن سمجھدار اور گھومنے پھرنے والے انسان تھے جلد ہی یاد میں آ گیا کہ لاہور میں بھی تو ہر ہوٹل اور کھوکھا کوئی نا کوئی “المشہور” یا “واحد اصلی” ہی تو ہوتا ہے۔ عاجز صاحب کو اچھی طرح یاد آگیا کہ کیسے گرمیوں میں ایک بار جی ٹی روڈ پر سفر کے دوران ان کا گزر گوجرانوالہ سے پہلے راہوالی کے مقام پر ہوا۔ یہاں سڑک کے دونوں طرف کھڑے قلفیاں سجائے ریڑھیوں ٹھیلوں والے سارے کے سارے “المشہور” تھے اور سارے کے سارے بابے اللہ رَکّھے کے متعلقین تھے، اور مزے کی بات کہ ہر ایک نے اپنا اپنا بابا اللہ رکھا بٹھایا بھی ہوا تھا یا اس کی مولانا طاہر اشرفی کے حجم برابر تصویر ضرور لگائی تھی۔ یہی حال تھوڑا آگے جا کر حافظ آباد کے اصلی، خاندانی اور المشہور ٹوٹی ہڈیوں کو جوڑنے والے بابے تاجے کے وابستگان کی مختلف جگہوں پر موجود آوٹ لیٹس کا تھا۔ راولپنڈی کی کمرشل مارکیٹ کی بغل میں ماموں برگر نام کے اصلی اور المشہور برگر کے عین اسی علاقہ میں کئی دعوٰے دار بازار میں ارزاں نرخوں پر بھی جا بہ جا موجود تھے۔ کراچی میں بھی تو ایسے ہی ہوتا ہے، وہاں کون سا رینجرز والوں نے ان “المشہوروں” کو قابلِ نوّے دن کی گردن زدنی جانا! تو پھر کیوں وفاقی دارلخلافہ اسلام آباد اس چلنے والی اور بِکنے والی گردانِ بازاری سے باز رہ سکے۔ غرض یہ کہ اسلام آباد کی مارگلہ ٹاؤن کا یہ شوارمے والا ثقافتی اور کاروباری طور پر پیوست روایتِ دیکھا دیکھی کے عین مطابق اور وہ بھی پلک جھپکنے میں اب اسی علاقے کا ایک نیا “المشہور” بن کر سامنے آ چکا تھا۔

 

انہی سوچوں کے جھرمٹ میں عاجز صاحب تھوڑا سا آگے جا کر اسی مارکیٹ میں کھلے ایک چھوٹے سے ہوٹل پہنچ گئے۔ کچھ چائے بَن کا آرڈر ڈالا۔ ہوٹل میں ٹی وی پر براہِ راست چلنے والی تقریب میں بڑا ہیبت ناک اسلحہ اور پسِ منظر میں اس پر اتنا ہی لرزہ خیز تبصرہ رواں تھا۔ یومِ پاکستان، یومِ پاکستان، فوجی پریڈ، دشمن، میلی آنکھ اور اسلحہ کی نمائش وغیرہ کے لفظ گھن گرج کے ساتھ برس رہے تھے۔

 

عاجز صاحب نے سوچنا شروع کیا اور سوچتے ہی گئے کہ بھئی یہ یومِ پاکستان بھی تو “صنعتِ المشہوریات” ہی کی ایک قسم ہے۔ اصلًا تو یہ “یومِ جمہوریہ” تھا
عاجز صاحب نے سوچنا شروع کیا اور سوچتے ہی گئے کہ بھئی یہ یومِ پاکستان بھی تو “صنعتِ المشہوریات” ہی کی ایک مصنوع ہے۔ اصلًا تو یہ “یومِ جمہوریہ” تھا؛ وہ دن جب ملکِ من کے پہلے آئین جس کو 23 مارچ سنہ 1956 کو رُو بہ عمل لایا گیا، جس دن وطنِ عزیز کا تاجِ برطانیہ سے باقاعدہ الگ تھلگ تشخص بنا، یعنی “ڈومینین” کا درجہ ختم ہوا۔ سات وزرائے اعظم کی تبدیلی لیکن اسی عرصہ میں ایک ہی مستقل کمانڈر اِنچیف نے جونہی پہلی بار “عزیز ہم وطنو” کی تان چھیڑ ڈالی تو لفظِ “جمہوریہ” بدعت ٹھہرا۔ کسی دفتری بابو کے اندر کا تخلیقی فنکار و جادوگر جاگا۔ بیک جنبشِ قلم “جمہوریہ” کا شبد، لفظِ “پاکستان” کے نیچے لا کر دبا دیا گیا۔

 

اب بازار میں صرف یومِ پاکستان ہی “المشہور” ہے اور مسلسل ہی المشہور ہے، اور اچھا بِکتا بھی ہے۔ حالانکہ بیچ میں سلطانئِ جمہور کے “ثانیہ بھر زمانے” آتے رہے ہیں لیکن یہ نقشِ المشہور نا مٹ سکا۔اسی طرح کہتے ہیں کہ کئی اور بھی ملکی، قومی اور مِلّی سطح پر اسی نوع کی “المشہور” اختراعات ہوئیں۔ لیکن کچھ المشہوریات کی بابت پھر سہی!

 

اب عاجز صاحب کے ذہن میں کئی سوالوں کے نئے نقش ابھر رہے تھے کہ پاکستان میں ہر یومِ قومی پر اسلحے اور ٹینکوں ہی کی نمائش کیوں ہوتی ہے: بھلے وہ کوئی المشہور “یومِ دفاع” ہو یا کوئی المشہور “یومِ پاکستان”؟ پھر ان کے اندر سے ہی آواز آئی کہ مٹا دے ان نقشوں کو اگر کچھ مرتبہ چاہئے! عاجز صاحب نے چور آنکھوں سے اپنے آس پاس دیکھا، جلدی جلدی چائے کی سُرکیاں ختم شد کیں۔ سب سوالوں کے نقش، سڑکوں پر کسی کے تصرف کے نوحے اور موبائل سگنلز کے غم ذہن کی سلیٹ سے پونچھ کر جانبِ گھر کُوچ کر گئے۔
Categories
نقطۂ نظر

عُروجِ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے سہما آدمِ خاکی

میاں انار سلطان جمعہ کی نماز ادا کر کے جمائیاں لیتے اپنے دفتر واپس لوٹے۔ تھوڑے بیزار سے دکھائی دیتے تھے۔ سوچوں میں تھے کہ “یہ چار کب بجیں گے، اور دفتر سے چلتا بنوں۔” انتظار کی گھڑیاں تو محبوب کی زُلف کی طرح کبھی سر ہوتی ہی نہیں۔ ہر منٹ، مَن دو مَن سے بھی بھاری ہوتا جا رہا تھا۔ تو پھر اور کیا کرتے، کھول لیا فیس بُک۔ جاتے ہی اپنے سب چاہنے والوں اور کرم فرماؤں کو “جمعتہ المبارک” کا پیغام سٹیٹس اپڈیٹ میں ہدیہ کیا۔ اُس کے بعد اپنی نیوز فیڈ اچھے انداز بھالی تو شاعرِ مشرق کی ایک مشہور غزل کا مقطع تصویری مِیم میں ڈھلا نظر سے گزرا۔

 

عُروجِ آدمِ خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارہ مَہِ کامل نہ بن جائے

 

“بس اب آدم سے انجم نہیں سہمتے، بلکہ اب تو آدمی مشینوں سے سہم رہا ہے۔ دیکھو، اپنے ہاتھ کی بِلی انسان کو خود میاؤں میاؤں کرنے لگی ہے، شکستیں دینے لگی ہے۔ سارے انسانی عظمت کے خواب پارہ پارہ کرنے لگی ہے۔”
میاں انار تو رُک ہی گئے اس شعر پہ اور اپنا سَر بے اختیار دُھننے لگے۔ اکیلے میں بیٹھے ہی واہ، واہ کی لذت بیانی کرنے لگے۔ “بس جی، کیا بات ہے حکیمِ مشرق کے کلام کی، جان نکال کے مُٹھی میں کر لیتے ہیں۔” وہ اسی دوران جناب عاجز علمی کو اپنے کمرے میں آتے ہی پا کر بولے۔ اپنی نوزائیدہ سرمستی اور کیف میں انہوں نے جناب عاجز علمی کے سلام کو ہوا ہی کی نظر کر دیا۔ اس پر جناب عاجز علمی چُپ ہی رہے اور بالکل اسی بندے کی طرح ہاتھ ملتے رہ گئے جو کسی مصروفِ کار آدمی کو صاحب سلامت کرتا ہے۔ جوابِ ندارد پر اردگرد دیکھتا ہے کہ کوئی اور تو اس شرمندگی کے لمحے کا چشم دید گواہ نہیں۔

 

جناب عاجز علمی نے کہا کہ “بھئی کہاں اٹکے ہو، کیا عروجِ آدمِ خاکی کے ترانوں میں پھنسے ہو۔ آدمِ خاکی تو خود تھر تھر کانپ رہا ہے۔ سُپر کمپیوٹر جانے کیا سے کیا کرنے چلے ہیں۔” میاں انار سلطان جو کچھ لمحے پہلے تک عُروجِ آدمِ خاکی کی طاری کردہ سرشاری کے عالم سے باہر آنے کی بابت مشکل کا شکار تھے، اچانک چونکے اور کہا ” عاجز علمی صاحب آپ کے ‘عِلمُو یار’ نے کسی کا کچھ نہیں چھوڑنا۔ بس آپ نے ہتھیلی میں کھٹاس پکڑی ہوتی ہے کہ جونہی کوئی سرمستی میں ہو اور آپ اسے نام نہاد ہوش کی دنیا میں لا گرائیں۔ ایسی کیا بات ہو گئی کہ میرا نشہ توڑ ڈالا؟”

 

ہم تو انسان کو اشرف المخلوقات سمجھتے رہے ہیں۔ لیکن ہمیں فکر ہونے لگا ہے کہ آدمی تو خود اپنی بنائی چیزوں سے ہارنا شروع ہوگیا ہے، کیا ہوگا؟ ہائے یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بے لگام ہوتا گھوڑا
عاجز علمی بولے کہ “جنوبی کوریا میں پچھلے ہفتے ایک عجب نوع کا رَن پڑا ہے۔ آدمی ہار گیا، مشین جیت گئی!” میاں انار جو اب پورے کا پورا تن بدن تجسس و حیرت ہوئے پڑے تھے بولے،” عاجز علمی صاحب، کچھ تفصیل بتائیے گا۔ پلّے نہیں پڑ رہا کیا کہنا چاہ رہے ہیں آپ!” عاجز علمی خود بھی کافی حیرت کے مارے نُچڑے ہوئی شکل میں بدلے ہوئے تھے، گویا ہوئے، “بس اب آدم سے انجم نہیں سہمتے، بلکہ اب تو آدمی مشینوں سے سہم رہا ہے۔ دیکھو، اپنے ہاتھ کی بِلی انسان کو خود میاؤں میاؤں کرنے لگی ہے، شکستیں دینے لگی ہے۔ سارے انسانی عظمت کے خواب پارہ پارہ کرنے لگی ہے۔” عاجز علمی صاحب چھوٹے چھوٹے جملوں میں اپنے اندر کے کرب کو اور اپنے آدرشوں کی بنیادوں کے ہِلنے کو الفاظ دینے کی کوشش کرتے جا رہے تھے، میاں انار سلطان آنکھیں شیشے کی گولیاں کیے سنتے جا رہے تھے۔

 

عاجز علمی نے بات جاری رکھی، “ہم تو انسان کو اشرف المخلوقات سمجھتے رہے ہیں۔ اپنے تئیں بہت مطمئن رہے ہیں کہ انسان ہی کائنات کا مرکز ہے۔ سب چیزیں اسی کی خدمت کے لئے بنی ہیں اور اس کے ہاتھوں تسخیر ہونے کا انتظار کر رہی ہیں۔ لیکن ہمیں فکر ہونے لگا ہے کہ آدمی تو خود اپنی بنائی چیزوں سے ہارنا شروع ہوگیا ہے، کیا ہوگا؟ ہائے یہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا بے لگام ہوتا گھوڑا!”

 

میاں انار سلطان جن کا انٹرنیٹ سے ربط و تعلق جو پہلے دفتری امور کے سلسلے میں ایک ٹائپ رائٹر کا تھا، اب گزشتہ چند برسوں سے اس سے اتنی ہی نئی رشتے داری قائم ہو پائی تھی کہ انہوں نے اس پر سوشل میڈیا کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ سوشل میڈیا میں سے بھی خاص طور پر فیس بُک پر جہاں ان کی مصروفیت تصویروں پہ لائک کرنے، ہلکی پھلکی رومن اردو میں “ماشاللہ” لکھنے تک تھی۔ یا پھر جاوید چودھری، اوریا مقبول جان صاحبان وغیرہ کے کالموں کے ٹکڑے پڑھنےاور جناب جنرل راحیل شریف صاحب کا شکریہ ادا کرنے کی حد تک تھی۔ زیادہ ہوا تو رنگ برنگے سازشی نظریات سے اپنے ایقانات کی شکست و ریخت کے خلاف دفاعی سرنگیں کھود لیتے تھے۔ میاں انار سلطان کے لئے جناب عاجز علمی کی باتیں آج کچھ نیا سا رنگ اور خیال کا آہنگ لئے تھیں۔ چُھٹی میں ابھی وقت بھی تھا اس لئے وقت کی گزاری اور تجسس کی آبیاری کی دنیائیں باہم بڑے اچھے جوڑے کے طور نباہ کر رہی تھیں۔ اب اگر عاجز علمی رکنا بھی چاہتے تو میاں انار سلطان انہیں بات بیچ چھوڑ کے جانے نا دیتے اور عاجز علمی تو تھے ہی پنشن پہ، ان کے پاس وقت ہی وقت تھا۔

 

الفا-گو’ مشین سے ہار کے بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ آج آدم تسخیر ہونے لگا۔ اور اپنے ہی ہاتھ کی تخلیق سے تسخیر ہونے لگا۔ وہ سہم جانے لگا ہے۔ کیا اب بھی وہی دنیا کا مرکز ہے؟
عاجز علمی، میاں انار کی پر تجسس نظروں سے توانائی پا کر مزید کہنے لگے ” آرٹیفیشل انٹیلیجنس یعنی کمپیوٹروں کا انسانوں کے سے انداز میں یا اسی نوع کے قریب تر انداز میں سوچنے کے عمل کے لطف و اکرام کی تخیلاتی کہانی کوئی لگ بھگ ستر سال پہلے شروع ہوئی۔ بیچ میں آ کر اس سے وابستہ امیدیں کچھ سرد پڑیں لیکن سنہ 1997 میں شطرنج کے عظیم کھلاڑی، گیری کیسپروف، کی آئی بی ایم کے ڈیزائن کردہ سُپر کمپیوٹر ‘ڈِیپ بلیو’ کے ہاتھوں شکست نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس سے وابستہ امکانات کو پھر سے نئی زندگی لوٹا دی۔ مختلف ٹیکنالوجی کمپنیوں نے نئے جوش و جذبے سے اپنے اپنے آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے منصوبہ جات پر کام شروع کر دیا۔ فیس بُک والے بھی اس پہ مصروفِ کار ہیں لیکن گُوگل نے جب سے برطانوی کمپنی ‘ڈِیپ مائینڈ’ کو اپنی کاروباری تحویل میں لیا ہے یہ اس بابت کافی پیش رفت کر چُکے ہیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی اس مارچ کے مہنے میں جنوبی کوریا کے شہر سیئول میں جاری ہے۔ اسی رواں انسان بمقابلہ ٹیکنالوجی مقابلے ہی میں ایک ہزاروں برس پرانے بورڈ پہ کھیلے جانے والے چینی کھیل ‘گو’ کے موجودہ عہد کے جنوبی کوریا کے چیمپئن کھلاڑی، لِی سیڈول کو ہار کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ہار، جیت کھیل کا حصہ ہوتی ہے لیکن زیادہ ہِلا دینے والی بات یہ ہے کہ پانچ کھیلوں میں سے مسلسل تیسرے مقابلے میں ہارنے پر وہ چمپئین کھلاڑی جو دنیا میں ‘گو’ کھیل کے سلسلے میں پچھلے دہائی کے زیادہ تر برسوں میں عالمی نمبر ون رہا، بہت پریشان دکھائی دیا۔ میچ کی اختتامی پریس کانفرنس میں لِی سیڈول نے کہا کہ دورانِ میچ اسے کسے لمحے کھیل پہ کنٹرول کا احساس نہیں ہوا۔ ایک بہترین اور ذہین ترین انسان آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی پروردہ مشین گوگل کمپنی کی ‘الفا-گو’ مشین سے ہار کے بہت ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ آج آدم تسخیر ہونے لگا۔ اور اپنے ہی ہاتھ کی تخلیق سے تسخیر ہونے لگا۔ وہ سہم جانے لگا ہے۔ کیا اب بھی وہی دنیا کا مرکز ہے؟ بشر مرکزیت کے تصورِ کائنات کا کیا مستقبل ہو گا؟”

 

عاجز علمی صاحب کا ذہن سوالوں کی بوچھاڑ سے چھلنی ہوا جا رہا تھا۔ وہ گُم سُم سے ہوگئے۔ البتہ پاس بیٹھ چار بجے کے انتظار کرنے کو بھول جانے والے میاں انار سلطان کی نظر اپنی کلائی گھڑی پر پڑی، بولے ” اوہ ہو، چار بج گئے، چھٹی کا ٹائم ہوگیا، آؤ عاجز علمی صاحب اب دفتر سے چلتے ہیں۔ عصر کا وقت ہونے والا ہے میری نماز میں دیر نا ہو جائے۔” میاں انار سلطان کا تجسس نماز کے وقت کی آمد سے ہرن ہو گیا، البتہ عاجز علمی بھاری سَر کے ساتھ بوجھل قدموں ہی چل پڑے۔