Categories
فکشن

ہوا سے گلے ملا جا سکتا ہے

وہیل چیئر کے پہیے چرچرائے اوراس مردہ آواز کا ساتھ نیم مردہ کھانسی نے بڑی بے دلی سے دیاـ اس کرسی کو تیل دیئے کتنی مدتیں بیت گئی ہیں؟بوڑھے نے یاداشت کے قبرستان سےاس چھوٹی سی قبر کو ڈھونڈنے کے لئے چندھیائی آ نکھیں مزید چندھیا لیں اور یاد کی سب قبریں اور دھندلا گئی مگر اسے کچھ یاد نہ آسکاـ تھک کر اس نے یہ کوشش ترک کر دی۔” ہوں۔۔۔ کرسی کو تیل کب دیا تھا؟” بوڑھے نے خود پر طنز کیا۔” تم گزران سے ماورا وقت کی قید میں ہو،نہ جی رہے ہو اور نہ مر چکنے کی زحمت کرتے ہو۔”(حواس اور شعور کے درمیان خلیج بڑھ چکی تھی، کوئی ایک نقطہ کسی بھی کائنات کا مرکز نہیں رہا تھا ۔ توجہ کبھی کبھار ٹپکتی اور ذرا دیر کو یاداشت کی سطح پر موجیں ابھر تی تھیں۔ کب کون سی چیز کہاں کس طرح سامنے آجائے کوئی ضابطہ کوئی کلیہ نہیں ہے ۔لیکن ہوا کو وقت، زمانے یا مقام کی کسی رسمی قید کی ضرورت نہیں وہ آپ سے کسی بھی وقت کہیں بھی آپ کے آس پاس اپنے دامن کے سبھی شاپر، بدبو، خوشبو، تنکے، پتے، مٹی اور پانی کے قطرے گرا کر مصافحہ، معانقہ کئے بغیر کہیں بھی جا سکتی ہے۔)
اچا نک اس کا دھیان تیز(مگر شناسا) ہوا سے ہلتے کسی کھڑکی کے کواڑ کی جانب لپکا اور بوڑھے نے چونک کر دھندلائی ہوئی آوازوں سے بھرے کان اس آواز پر لگانے کی کوشش کی ، مگر دوسری بار ہواکھڑکی سے دامن بچا کے گزری(ہوا اپنے گزرنے کے سبھی نشان مٹا دیتی ہے)۔ وہ کچھ مایوس سا ہو گیا، کہ ہوا نے اپنی شناسائی کا بھی پاس نہیں کیا اور پلٹ کر نہیں دیکھا ۔ (ہوا تو پرانی ساتھی ہے۔ پتنگ کے ایک ہیولے سے لے کر سیٹی کے حلق سے نکلتی ہوئی کلکاریوں تک کئی لمحوں میں دونوں کی مشترکہ سرمایہ کاری تھی ،لیکن اب کھانسنا ہی دونوں کی واحد مشترکہ دلچسپی رہ گئی ہے۔)
میں فالتو ہی تھا یا ہو گیا ہوں(لیکن ہوا ابھی کارآمد ہے بلکہ بہت مصروف بھی )واقعہ جو بھی ہو مگر اتنی بے عتنائی؟ زندگی اور اس سے جڑا سب کچھ تو کب کا ہوا ہو چکا(ہوا کو پکڑنے تھامنے کی بے کار، بے سود مگر ضروری کوششوں کی طرح زندہ رہنے کی بلاوجہ ضرورت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے) لیکن موت کہ ذ مے میری کچھ ذمہ داری ابھی باقی ہے۔کہیں سنا تھا کہ موت کے ذمے ایک ہی کام ہے؛نئی زندگی کو راستہ بنا کے دینا(اور ہوا موت کو انگلی پکڑ کر چلاتی ہے، وہاں پہنچاتی ہے جہاں زندگی کا کوئی سراادھورا ہواور کسی کی موت کہانی کو دلچسپ بنا سکتی ہو)۔ جنگلوں میں جب گھاس سوکھ جاتی ہے تو موت اسے چنگاری دکھا دیتی ہے تا کہ نئے سبزے کو سبز ہونے میں دشواری نہ ہو۔ کیا میں سوکھی گھاس سے بھی گیا گزرا ہوں؟ آنسووں کا ٹھوس گولہ اس کے حلق میں ذرا دیر کو رکا اور آنکھوں سے مائع ہو کہ بہہ نکلا۔ بوڑھے نے لرزتے ہاتھوں سے ان پر بند باندھنے کی ناکام کوشش کی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
تاک میں بیٹھی ہوا موقع پاتے ہی پلٹی ۔ اب کی بار ہوا نے باغیچے سے سوکھے پتے اٹھائے اور انھیں برآمدے کے فرش دروازے اور کھڑکیوں پر بجا تے ہوئے گزری۔ اسے بوڑھے سے آنکھ مچولی کھیل کر بہت لطف آتا تھا اور وہ اسے اس کے بچپن سے جانتی تھی۔ جب وہ بچہ تھا تو ہوا کی اس حرکت پر باوّلا ہو کر پتوں کا پیچھا کیا کرتا تھا۔(بوڑھے اور ہوا نے یہ واقعہ بڑی تفصیل اور خوبصورتی کے ساتھ یاد کیا)۔ “رفتہ ہر گزران کا ہست بن کے رہتا ہے۔” کھانسی اسے پھردوڑتے قد موں سے وہیل چئیر پر گھسیٹ لائی۔(ہوا کی یاداشت ابھی اچھی ہے اور اسے اچھی طرح یاد ہے کہ کہاں کہاں کس کس کونے سے کیا کیا برآمد کیا جا سکتا ہے، کس کو کب کھانسنے اور کب ہنسنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔)
ہوا سے ملاقات کی ایک اور کوشش کے لئےاب کی بار اس نے ہوا کا تماشہ دیکھنے کو پورے زور سے پہیے گھمائے۔ کھلی فضا جہاں ہوا کرتب دکھاتی ہے۔ طرح طرح کی آوازیں، منظر اور ارتعاش پیدا کرتی ہے اور یہ سب وہ بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ وہیل چیئر کے پہیوں نے، جنہیں کب سے تیل نہیں دیا گیا تھا پر شور احتجاج کیا مگر وہ برآمدے والا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ ہوا اسے یوں اپنے سامنے دیکھ کر ذرا ٹھٹکی اور پھر پورے گھر میں خوشی سے بھاگتی پھری۔ اسے یہ بھی ہوش نہ رہا کہ بوڑھا اب وہ بچہ نہیں رہا ہے جو اس کے اڑائے پتوں کا پیچھا کرتا تھا اور نہ ہی مکان کی جوانی باقی رہی ہے۔
گھر کی ہر کھڑکی، دروازے نے ہوا کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش میں اپنی چولیں ہلا لیں۔ چھت نے بھی ایک دو بارغرا کر اسے یاد دلایا کہ وہ اس طوفان کو اچھی نظر سے نہی دیکھ رہی۔ باغیچے کے ہر درخت نے دوہرا ہو ہو کر ہوا کو پکڑنا چا ہا مگر بچپن کے دوست آج ایک دوسرے کو دیکھ کر اتنے خوش تھے کہ دونوں نے کسی کی نہیں سنی اور آخر پرانا مکان دھڑ دھڑاتا ہوا بوڑھے پر آگرااور ہوا صدمے سے ساکت ہو گئی( گرد کو بیٹھنے میں کافی وقت لگا)۔
Categories
فکشن

فساد

مینار کے اوپر لگا لاوڈ سپیکرکھانسا، اور اپنے گلے کو صاف کرتے ہوئے ایک چپچپا سیال اور گاڑھا بلغمی تھوک پھینک کر خاموش ہو گیا۔ نو مولود تھوک محلے کے سب گھروں کی چھتوں ،صحنوں، دروازوں اور کھڑکیوں پر چپک گیا۔ تھوک کے چھینٹوں کی نمی سے جاگنے والوں نے جسم کے وہ تمام حصے جن پر کپڑا نہیں تھا تین تین بار دھوئے اور کپڑے جھاڑتے ہوئےگلی سے گزرے۔ تھوک نالی میں بہتا ہوا جم گیا اور گٹر میں سے ابل کر بہنے لگا۔ تھوک بھرا پانی گلی میں پھیل گیا، گزرنے والوں نے اپنے پائنچے مزید اوپر کئے۔ تھوک کے چھینٹوں سے آلودہ پانی نے سر ذرا اوپر کیا اور پھر ڈر کر نیچے بچھی مٹی میں گھل کر کیچڑ ہو گیا۔ کیچڑ نے کچھ جوتوں میں گھسے پیر گدلائے اور راستے سے ذرا ہٹ کر نشیب میں اکٹھا ہونے لگا۔ ایک اینٹ، پھر دوسری، پھر تیسری اور پھر بہت سی اینٹیں رکھ کر اور ان اینٹوں پر کیچڑ میں لتھڑے جوتوں والے پاوں رکھ کر کیچڑ کچلا گیا۔ دھوپ نکلنے تک ساری گلی اینٹوں سے پر تھی اور گاڑیوں کے ٹائروں کے گزرنے کا راستہ بند ہو چکا تھا۔ ایک گاڑی کے ٹائرنے سپیکر کے اگلے ہوئے تھوک سے آلودہ پانی کے کیچڑ کو کچلتی اینٹوں کے بیچ سے گزرنے کی کوشش کی اور پھَٹ کر لنگڑاتے لنگڑاتے لڑکھڑانے لگا۔ ٹائر کی نائیلون سے سپیکر کی اگلی تھوک کے چھینٹے چپک گئے تھے ۔ ٹائر اس اذیت میں اپنی ایکسل سے اتر کر سڑک کے بیچ آ کر جلنے لگا اوراس پر چپکے تھوک کے چند چھینٹے دھواں بن کر کچھ تو ناکوں میں گھسے اور مزید کھانسی بن کر داڑھیوں ، مونچھوں ،باچھوں اور ہونٹوں پر نعرے بن کر چپک گئے اور کچھ ہوا میں تحلیل ہو گئے۔داڑھیوں، مونچھوں، باچھوں اور ہونٹوں سے چپکے تھوک کے چھینٹے پسینے کے ساتھ رینگتا ہاتھوں کی پوروں سے ٹپکنے لگا ، آستینیں چڑھیں اور شٹر گرنے لگا۔ ہاتھوں نے تھوک ملی کیچڑ میں لتھڑی ہوئی اینٹیں اٹھائیں اور شیشوں پر اچھالیں تو تب تک وہ دھواں بن کر اڑ جانے والے تھوک زدہ نعروں کے پسینے کو جذب کر چکی تھیں۔ شیشوں نے زندگی بچانے کے لئے نیچے کیچڑ میں چھلانگیں لگائیں اور ان کی لاشیں کیچڑ میں غوطہ کھا کر پھول گئیں اورسطح پر آ گئیں۔ کرچیاں سپیکر کے اگلے ہوئے تھوک سے آلودہ پانی کی کیچڑ میں لتھڑ گئی تھیں ۔ کرچیوں کی لاشوں نے پیروں کو پہلے زخمی کیا ، تھوک کی چھینٹوں سے انہیں آلودہ کیا اور خون رس کر کیچڑ میں ملنے لگا۔ اس زہر آلود خون کو چندے کی طرح اکٹھا کر کے بینر لکھے گئے، پوسٹر چھاپے گئے اور گولیوں والے ہتھیار خریدے گئے۔ بینروں کی سیاہی میں تھوک کے چھینٹوں کی آمیزش تھی۔ انہوں نے ہوا میں رسیوں سے جھول کر خود کشی کر لی، اور ان کے ڈھانچے گلی میں بہت دن تک جھولتے رہے۔ پوسٹر دیوار سے چپکائے گئے ، پریشانی سے پوسڑوں کے چہروں پر سلوٹیں پڑ گئیں اور وہ بد رنگ ہونے لگے۔ ہتھیاروں نے اپنی اپنی نالیوں سے گولیاں اگلیں، خوف پرندوں کی طرح پیڑوں کی شاخون سے شور مچاتا اڑا تو کچھ آنکھوں نے شام اور پھر رات گئے تک ان کی براہ راست تصویریں نشر ہوتی دیکھیں ۔ کچھ زبانوں نے ان کی خبریں دیں اور تبصرے کئے۔ گولیوں کے ڈر سے ہوا بھاگ اٹھی ۔ ہوا جب بینروں میں کئے چھیدوں سے گزری تو سورج گلی میں پھیلے کیچڑ کو خشک کر چکا تھا اور اس کے بخارات ہوا میں شامل تھے۔ کھڑکیوں کے چوکھٹے سپیکر کی اگلی تھوک کی کیچڑ کے بخارات اٹھائے ہواوں سے ڈر کر جھولنے لگے۔ کھڑکیوں کے چوکھٹوں سے ٹکراتی ہوا لاوڈ سپیکر کے پاس سے گزرتی ہوئی سارے محلے سائرن بجانے لگی۔ سائرن نے ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کے گولوں سے گلی میں پھیلی اینٹوں پر سے گزرتے جوتوں جن پر اب کیچڑ خشک ہو چکی تھی کو منتشر کیا اور راستہ صاف کرکے بندوقیں اور بوٹ بن کر گشت کرنے لگا ۔گشت کرفیو بن کررات بھر محلے میں اندھیر اکئے خاموشی سے دبکا رہا اور نفرت چیونیٹیاں بن کر رینگتی ہوئی ہر پکے صحن میں بل بنانے لگی۔ سبھی مکانوں کی پیشانیوں پر غصہ دراڑیں بن کر ابھر آیا۔ سوکھتے کیچڑ پر پلنے والی سرگوشیوں کی مکھیاں اب باسی خبروں پر بھنھنا نے لگیں تھیں جن کے پروں کے ساتھ سپیکر کی اُگلی تھوک کا زہر بھی تھا۔ سرگوشیوں کے کف بہے اور وہ بھونکتے ہوئے رات بھر ساری گلی میں پھرتے رہے، دکانوں کے تھڑوں کے نیچے چھچھڑے ڈھونڈتے رہے اور تھک گئے، تھکن نیند بن کر اعصاب پر اترنے کو تھی کہ۔۔۔۔
(م۔ ش)