Laaltain

بازگشت

ساتوں سُر آخری بار اکٹھے ہوئے، شور نے ان پر واضح کر دیا تھا کہ اب صرف اسی کو کہا، سنا اور گایا جائے گا،سو انھوں نے دنیا چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔

ہوا سے گلے ملا جا سکتا ہے

وہیل چیئر کے پہیے چرچرائے اوراس مردہ آواز کا ساتھ نیم مردہ کھانسی نے بڑی بے دلی سے دیاـ اس کرسی کو تیل دیئے کتنی مدتیں بیت گئی ہیں؟

دردِ مشترک

چور جھپاک سے کھڑکی کے اندر کودا اور پل بھر دم لینے کو ٹھٹک گیا۔سکہ بند چور چور گھر کی متاع میں سے کچھ لینے سے پہلے تھوڑا دم ضرور لیتے ہیں۔
کہتے ہیں گھر کے بھاگ دروازے سے پہچانے جاتے ہیں۔

مائے نی میں کنوں آکھاں

(Trans­la­tion of ‘Mis­ery: To Whom shall I tell my Grief’) (انطون چیخوف) شام کا جھٹپٹا پھیل رہا تھا۔ برف کے چھوٹے چھوٹے گالے سڑک کنارے لگے کھمبوں کے گرد چکر کھا کھا کر نیچے گر رہے تھے اور گھروں کی چھتوں، گھوڑوں کی پیٹھوں، لوگوں کے شانوں، ٹوپیوں اور پگڑیوں پر برف کی سفید تہہ […]