Categories
فکشن

بازگشت

سُر آخری بار اکٹھے ہوئے، شور نے ان پر واضح کر دیا تھا کہ اب صرف اسی کو کہا، سنا اور گایا جائے گا،سو انھوں نے دنیا چھوڑ دینے کا فیصلہ کرلیا۔ وہ ساتوں ایک اتھاہ ویرانے میں چپ بیٹھے تھے،سُروں نے کچھ دیر خاموشی کو سنا اور دُنیا کا چکر لگانے اُٹھ کھڑے ہوئے۔
وہ ہمیشگی جتنی پرانی ویران اور اُداس غاروں میں سے گزرے تو غاریں چونک کر جاگیں اور ہر پتھر نے ناچنے کی کوشش میں اپنی جگہ چھوڑ دی۔
وہ ہمیشگی جتنی پرانی ویران اور اُداس غاروں میں سے گزرے تو غاریں چونک کر جاگیں اور ہر پتھر نے ناچنے کی کوشش میں اپنی جگہ چھوڑ دی۔سُر کھیتوں سے گزرے اور فصلوں نے ان کی تال کی اُکساہٹ پر ایک دوسرے کو روند ڈالا۔صحراؤں سے گزرے تو ہوا کی آمادگی سے کشتہ ، خانہ بدوش ریت نے خود کو نغموں کی شکل میں جامد کر لیا ۔ جنگلوں سے گزرےتو صدیوں سے ایک جگہ ایستادہ درختوں نے جڑوں کی مٹی چھوڑی اور اتنا خوبصورت ناچے کہ سُر انھیں دیکھنے کو ایک بار پھر پلٹے۔ کون جانتا تھا کہ اتنے متین درخت ایسا حسین رقص کر سکتے ہیں، کون جانتا ہے؟وہ بستیوں سے گزرے تو ان کی تحریک پر اندھے مکانوں نے ایک دوسرے سے سر ٹکرا ٹکرا کر خود کو تباہ کر لیا۔ عمارتوں کی جڑیں نہیں ہوتیں سو جب اُنھوں نے ناچنے کو قدم اٹھائے تو دھڑدھڑاتی ہوئی زمین پر آ رہیں۔ سُروں نےاُن کے بے سُرے ہونے کو اچھی نظر سے نہ دیکھا مگر عماتوں کے ملبے سے اُٹھنے والی گرد نے یہ کسر پوری کر دی۔ گرد کے بگولے اٹھے اور بڑی ترنگ میں ناچتے ہوئے بادلوں سے جا ملے۔ پھرمٹی اور پانی مل کر چھناچھن برسے اور ہر شے کیچڑ کر دی۔ سُروں نےبادلوں کے ساتھ آخری بار قطرہ قطرہ ہو کر برسنے کا مزہ لیا،جھرنا جھرنا ، ندی ندی ہو کر دریا بنے، دریادریا ہوتے ہوئے سمندروں میں گرنے لگے اورسمندر ان کے ساتھ جھومتا اور گاتا ہوا بلند ہونے لگا۔
ایک فقط شور سے بہرہ ہو چکا انسان نہ جان سکا کہ آخر اس تباہی کا سبب کیا ہے اور اپنے بے تال قدموں سے لڑکھڑاتا، ڈولتا ، ہر شے سے ٹکراتا پھرا۔ سُروں نےپیچھے مُڑ کر دیکھے بغیر دنیا چھوڑ دی۔
Categories
فکشن

ہوا سے گلے ملا جا سکتا ہے

وہیل چیئر کے پہیے چرچرائے اوراس مردہ آواز کا ساتھ نیم مردہ کھانسی نے بڑی بے دلی سے دیاـ اس کرسی کو تیل دیئے کتنی مدتیں بیت گئی ہیں؟بوڑھے نے یاداشت کے قبرستان سےاس چھوٹی سی قبر کو ڈھونڈنے کے لئے چندھیائی آ نکھیں مزید چندھیا لیں اور یاد کی سب قبریں اور دھندلا گئی مگر اسے کچھ یاد نہ آسکاـ تھک کر اس نے یہ کوشش ترک کر دی۔” ہوں۔۔۔ کرسی کو تیل کب دیا تھا؟” بوڑھے نے خود پر طنز کیا۔” تم گزران سے ماورا وقت کی قید میں ہو،نہ جی رہے ہو اور نہ مر چکنے کی زحمت کرتے ہو۔”(حواس اور شعور کے درمیان خلیج بڑھ چکی تھی، کوئی ایک نقطہ کسی بھی کائنات کا مرکز نہیں رہا تھا ۔ توجہ کبھی کبھار ٹپکتی اور ذرا دیر کو یاداشت کی سطح پر موجیں ابھر تی تھیں۔ کب کون سی چیز کہاں کس طرح سامنے آجائے کوئی ضابطہ کوئی کلیہ نہیں ہے ۔لیکن ہوا کو وقت، زمانے یا مقام کی کسی رسمی قید کی ضرورت نہیں وہ آپ سے کسی بھی وقت کہیں بھی آپ کے آس پاس اپنے دامن کے سبھی شاپر، بدبو، خوشبو، تنکے، پتے، مٹی اور پانی کے قطرے گرا کر مصافحہ، معانقہ کئے بغیر کہیں بھی جا سکتی ہے۔)
اچا نک اس کا دھیان تیز(مگر شناسا) ہوا سے ہلتے کسی کھڑکی کے کواڑ کی جانب لپکا اور بوڑھے نے چونک کر دھندلائی ہوئی آوازوں سے بھرے کان اس آواز پر لگانے کی کوشش کی ، مگر دوسری بار ہواکھڑکی سے دامن بچا کے گزری(ہوا اپنے گزرنے کے سبھی نشان مٹا دیتی ہے)۔ وہ کچھ مایوس سا ہو گیا، کہ ہوا نے اپنی شناسائی کا بھی پاس نہیں کیا اور پلٹ کر نہیں دیکھا ۔ (ہوا تو پرانی ساتھی ہے۔ پتنگ کے ایک ہیولے سے لے کر سیٹی کے حلق سے نکلتی ہوئی کلکاریوں تک کئی لمحوں میں دونوں کی مشترکہ سرمایہ کاری تھی ،لیکن اب کھانسنا ہی دونوں کی واحد مشترکہ دلچسپی رہ گئی ہے۔)
میں فالتو ہی تھا یا ہو گیا ہوں(لیکن ہوا ابھی کارآمد ہے بلکہ بہت مصروف بھی )واقعہ جو بھی ہو مگر اتنی بے عتنائی؟ زندگی اور اس سے جڑا سب کچھ تو کب کا ہوا ہو چکا(ہوا کو پکڑنے تھامنے کی بے کار، بے سود مگر ضروری کوششوں کی طرح زندہ رہنے کی بلاوجہ ضرورت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے) لیکن موت کہ ذ مے میری کچھ ذمہ داری ابھی باقی ہے۔کہیں سنا تھا کہ موت کے ذمے ایک ہی کام ہے؛نئی زندگی کو راستہ بنا کے دینا(اور ہوا موت کو انگلی پکڑ کر چلاتی ہے، وہاں پہنچاتی ہے جہاں زندگی کا کوئی سراادھورا ہواور کسی کی موت کہانی کو دلچسپ بنا سکتی ہو)۔ جنگلوں میں جب گھاس سوکھ جاتی ہے تو موت اسے چنگاری دکھا دیتی ہے تا کہ نئے سبزے کو سبز ہونے میں دشواری نہ ہو۔ کیا میں سوکھی گھاس سے بھی گیا گزرا ہوں؟ آنسووں کا ٹھوس گولہ اس کے حلق میں ذرا دیر کو رکا اور آنکھوں سے مائع ہو کہ بہہ نکلا۔ بوڑھے نے لرزتے ہاتھوں سے ان پر بند باندھنے کی ناکام کوشش کی اور پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔
تاک میں بیٹھی ہوا موقع پاتے ہی پلٹی ۔ اب کی بار ہوا نے باغیچے سے سوکھے پتے اٹھائے اور انھیں برآمدے کے فرش دروازے اور کھڑکیوں پر بجا تے ہوئے گزری۔ اسے بوڑھے سے آنکھ مچولی کھیل کر بہت لطف آتا تھا اور وہ اسے اس کے بچپن سے جانتی تھی۔ جب وہ بچہ تھا تو ہوا کی اس حرکت پر باوّلا ہو کر پتوں کا پیچھا کیا کرتا تھا۔(بوڑھے اور ہوا نے یہ واقعہ بڑی تفصیل اور خوبصورتی کے ساتھ یاد کیا)۔ “رفتہ ہر گزران کا ہست بن کے رہتا ہے۔” کھانسی اسے پھردوڑتے قد موں سے وہیل چئیر پر گھسیٹ لائی۔(ہوا کی یاداشت ابھی اچھی ہے اور اسے اچھی طرح یاد ہے کہ کہاں کہاں کس کس کونے سے کیا کیا برآمد کیا جا سکتا ہے، کس کو کب کھانسنے اور کب ہنسنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔)
ہوا سے ملاقات کی ایک اور کوشش کے لئےاب کی بار اس نے ہوا کا تماشہ دیکھنے کو پورے زور سے پہیے گھمائے۔ کھلی فضا جہاں ہوا کرتب دکھاتی ہے۔ طرح طرح کی آوازیں، منظر اور ارتعاش پیدا کرتی ہے اور یہ سب وہ بچپن سے دیکھتا آیا تھا۔ وہیل چیئر کے پہیوں نے، جنہیں کب سے تیل نہیں دیا گیا تھا پر شور احتجاج کیا مگر وہ برآمدے والا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو ہی گیا۔ ہوا اسے یوں اپنے سامنے دیکھ کر ذرا ٹھٹکی اور پھر پورے گھر میں خوشی سے بھاگتی پھری۔ اسے یہ بھی ہوش نہ رہا کہ بوڑھا اب وہ بچہ نہیں رہا ہے جو اس کے اڑائے پتوں کا پیچھا کرتا تھا اور نہ ہی مکان کی جوانی باقی رہی ہے۔
گھر کی ہر کھڑکی، دروازے نے ہوا کو اس حرکت سے باز رکھنے کی کوشش میں اپنی چولیں ہلا لیں۔ چھت نے بھی ایک دو بارغرا کر اسے یاد دلایا کہ وہ اس طوفان کو اچھی نظر سے نہی دیکھ رہی۔ باغیچے کے ہر درخت نے دوہرا ہو ہو کر ہوا کو پکڑنا چا ہا مگر بچپن کے دوست آج ایک دوسرے کو دیکھ کر اتنے خوش تھے کہ دونوں نے کسی کی نہیں سنی اور آخر پرانا مکان دھڑ دھڑاتا ہوا بوڑھے پر آگرااور ہوا صدمے سے ساکت ہو گئی( گرد کو بیٹھنے میں کافی وقت لگا)۔
Categories
فکشن

دردِ مشترک

او ہنری (۱۹۱۰ء– ۱۸۶۲ء)
چور جھپاک سے کھڑکی کے اندر کودا اور پل بھر دم لینے کو ٹھٹک گیا۔سکہ بند چور چور گھر کی متاع میں سے کچھ لینے سے پہلے تھوڑا دم ضرور لیتے ہیں۔
کہتے ہیں گھر کے بھاگ دروازے سے پہچانے جاتے ہیں۔ چور نے بھی ایک نظر میں بھانپ لیا کہ بی بی اس وقت کسی ہوٹل میں بیٹھی کسی ہمدرد کے ساتھ بیٹھی رونا رو رہی ہو گی کہ ابھی تک اس کے دل کو کسی نے نہیں سمجھا، کسی نے اس کے دکھ کو نہیں اپنایا۔ چوتھی منزل کے سامنے والی کھڑکیوں میں روشنی کا مطلب یہ تھا کہ صاحبِ خانہ گھر آ گئے ہیں اور جلد ہی بتی بجھا کر سو جائیں گے۔ ستمبر کا مہینہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ ہوٹلوں اور کیفوں اور لڑکیوں کی صحبت کو لہو و لعب خیال کرتے ہیں اور پہلے سے گھر پہنچ کر بی بی کے آنے کی راہ دیکھتے ہیں۔
یہ چور معمولی یعنی تیسرے درجے کا تھا۔ تیسرے درجے کا چور اوباش ہوتا ہے۔ پہلے اور دوسرے درجے کے چوروں کی طرح نہیں جو دن میں جنٹلمین بنے رہتے ہیں۔ عمدہ لباس پہنتے ہیں۔ اچھے ہوٹلوں میں آمدورفت رکھتے ہیں۔ دیواروں پر کاغذ منڈھنے اور فرنیچر وغیرہ مہیا کرنے کے بہانے گھروں کی کھوج لگاتے ہیں اور جھٹ پٹا ہوتے ہی اپنی آئی پر آ جاتے ہیں۔ اخباروں میں ایسے لوگوں کو خوب اچھالا جاتا ہے۔ ان کی، ان کی بیویوں کی اور بیسیوں آشناؤں کی تصویریں چھاپی جاتی ہیں۔ وہ بیٹھے بٹھائے ہیرو بن جاتے ہیں۔
لیکن یہ چور اس قسم کا نہیں تھا۔ ادنٰی درجے کا تھا۔ اس کا ٹھاٹ باٹ بڑے چوروں جیسا نہ تھا۔ نہ لالٹین ،نہ نقاب، نہ بے آواز تلے والے جوتے۔ بس سیدھا سبھاؤ آدمی تھا۔ منہ میں پیپر منٹ کا چیونگم رکھے جگالی کرتا ہوا۔
فرنیچر پر گرد جم رہی تھی۔ چور کو اس گھر سے کوئی بڑا خزانہ ملنے کی امید نہ تھی۔ اس کی منزک مدھم روشنی والا وہ کمرہ تھاجس میں صاحب خانہ استراحت فرما رہے تھے۔ وہاں کسی گھڑی، کچھ کھلے پیسوں یا ایسی ہی کسی چیز کا ملنا خارج از امکان نہ تھا۔
گھڑی، چابیاں، بجھے ہوئے سگریٹ، بال باندھنے کے گلابی ریشمی فیتے اور ایک بوتل سوڈا واٹر کی۔ صبح دم نوش جاں کرنے کے لئے۔
چورنے سنگھار میز کی طرف قدم بڑھایا لیکن یکایک وہ سویا ہوا شخص پہلو بدل کر جاگ اٹھا اور آنکھیں کھول دیں۔ اس کا داہنا ہاتھ تکیے کے نیچے گیا لیکن وہیں کا وہیں رہ گیا۔
“چپ لیٹے رہو۔”چور نے آہستگی سے کہا۔ اس شخص نے چور کے ہاتھ میں پستول کی نال دیکھی اور بےحس و حرکت پڑ رہا۔
“اب اپنے دونوں ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔”چور کا لہجہ تحکمانہ ہو گیا۔
اس شخص کی چھوٹی سی کھچڑی داڑھی تھی، جیسی بغیر درد دانت نکالنے والے ڈاکٹروں کی ہوتی ہے۔وہ جھنجھلایا سا معلوم ہوتا تھا۔
“دوسراہاتھ بھی اوپر اٹھاؤ، تمہارا کیا ہے۔ بائیں ہاتھ سے پستول داغ دو۔ میں دو تک گنتا ہوں۔۔۔ایک۔۔۔”
“یہ ہاتھ میں نہیں اٹھا سکتا۔”اس شخص نے کہا
“کیوں؟” چور نے پوچھا
“گٹھیا کا درد ہے۔کاندھے میں”
“ورم کے ساتھ؟”
“پہلے ورم تھا اب نہیں ہے”
چور اسی طرح دو لمحے ٹھٹکا کھڑا اسے دیکھتا رہا۔ پستول کی نال اسی طرح اس شخص کی طرف تھی۔ اس نے سنگھار میز کی چیزوں پرنظر دوڑائی۔ اس کے بعد اس شخص کے چہرے پر ایک تشنج سا پھیل گیا۔
“منہ مت بناؤ۔”اس شخص نے کہا،”اگر تمہیں چوری کرنی ہے تو کرو۔یہ میز پر دھری ہیں سب چیزیں”
“اتفاق سے میں بھی اس موذی مرض گٹھیا کا پرانا مریض ہوں۔میرے بھی یہ بائیں بازو میں ہے، کوئی اور ہوتا تو تمہارا بایاں پنجہ اٹھتا نہ دیکھ کر دھائیں سے گولی داغ دیتا۔”
“تمہیں یہ درد کب سے ہے؟”اس شخص نے پوچھا
“چار سال سے… گٹھیا تو میں سمجھتا ہوں کہ ایسی چیز ہے کہ جان جائے پر گٹھیا نہ جائے۔”
“کبھی کوڑیالے سانپ کا تیل استعمال کیا؟”
“سیروں بلکہ منوں۔ جتنے سانپوں کا تیل میں نے استعمال کیا ہے اگر ان کو باندھ کر رسی بنائی جائے تو آٹھ بار یہاں سے چاند تک اور چاند سے زمین تک آ سکتی ہے”
“بقراطی گولیاں استعمال کیں؟”
“پانچ مہینے متواتر۔”چور نے جواب دیا۔ “کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ہاں حبوب کبیر، معجون فلاسفہ اور اطریفل جالینوس خاص الخاص استعمال کئے تھے، اس سے کچھ فائدہ ہوا لیکن زیادہ افاقہ لعوق خراسانی سے ہوا جو میں جیب میں رکھتا تھا۔”
“تمہارا درد صبح کو زیادہ ہوتا ہے یا رات کو؟” اس شخص نے دریافت کیا
“رات کو۔ اور رات ہی میرے کام دھندے کا وقت ہوتا ہے۔”چور بولا،”اچھا اب یہ ہاتھ نیچا کر لو۔ہاں ہاں کر لو۔ جم کر دو چار مہینے ماء اللحم دو آتشہ پی دیکھنا۔ فائدہ دیتا ہے”
“ہاں وہ نہیں پیا۔تم یہ بتاؤ۔تمہارے اس بازو میں ٹیس اٹھتی ہے یا ایک سا درد رہتا ہے؟”شخص مذکور بولا
اب چور آ کر اس شخص کی پائنتی بیٹھ گیا اور پستول کو اپنے گھٹنوں پر رکھ لیا۔
“یکایک ٹیس اٹھتی ہے۔کبھی کبھی تو میں سیڑھیاں بھی نہیں چڑھ پاتا۔بس آدھے راستے میں آ لیتا ہے۔میں تو کہتا ہوں ڈاکٹر کے پاس اس کا علاج ہی نہیں سب چور ہیں۔”
“میرا بھی یہی خیال ہے۔ہزاروں روپیہ ڈاکٹروں کو کھلا دیا، دھیلا بھر آرام نہیں ، تمہیں کچھ تو افاقہ ہوا۔”
“ہاں صبح کو ذرا چین رہتا ہے۔لیکن ذرا سا مینہ کا چھینٹا پڑا اور جان کو آ بنی۔”
“یہی حال ادھر ہے۔بادل کا ٹکڑاکہیں سے اٹھے۔ اس کی نمی سیدھی میرے کندھے میں آ گھستی ہے اور پھر داڑھ کے درد کی سی اذیت۔”
چور نے پستول اٹھایا اور ذرا سی جھینپکے ساتھ جیب میں ڈال لیا۔ تھوڑے تامل کے بعد وہ بولا،”اچھا یہ بتاؤ کبھی فاسفورس کے تیل کی بھی مالش کروائی ہے؟”
“بہت۔ اس سے تو سرسوں کا تیل اچھا ہے۔”
“ٹھیک کہتے ہو ٹھیک کہتے ہو۔”چور نے کہا،”بہت معمولی چیز ہے۔ ہاتھ بانہہ پر معمولی خراش میں تو فائدہ دیتا ہے لیکن اس سے آگے نہیں۔ہم دونوں کی حالت اس معاملے میں ایک سی ہےبس اس کی تو ایک ہی دوا ہے۔ واہ وا۔ کیا موقعے پر یاد آئی۔شراب کے دو گھونٹ جو کام کرتے ہین وہ ان تیلوں معجونوں کے بس کی بات نہیں۔چلو ذرا کپڑے پہنو۔ باہر کوئی شراب خانہ کھلا ہو تو دو گھونٹ پی آئیں۔”چور نے کہا۔
“ایک ہفتے سے تو یہ حالت ہے کہ کپڑے بھی خود نہین پہن پاتا۔ نوکر پہنا دیتا ہے۔ وہ اس وقت سو رہا ہو گا۔”
“اس کی فکر نہ کرو، میں پہناتا ہوں کپڑے۔ ذرا سی ہمت کر کے بستر سے نکل آؤ”
یکایک اس شخص کو خیال آیا کہ اس نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیر کر کہا، “عجیب قصہ ہے عقل کام نہیں کرتی۔”
“یہ لو قمیض اپنی۔ایک صاحب بتاتے تھے کہ اونچے پل کے پاس ایک ڈاکٹر کے پاس مجرب نسخہ ہے ۔کوئی مرہم ہے ، دو ہفتے میں درد آدھا رہ جاتا ہے”
دروازے سے نکلتے ہوئے صاحب خانہ نے کہا،”ارے میں پیسے تو بھول ہی چلا تھا۔ٹھہرو۔ میز پر سے لے لوں۔”
“نہیں نہیں۔ “چور نے اس کی آستین تھام کر کہا،”میرے پاس پیسے ہیں فکر مت کرو تمہیں میٹھے تیل میں لونگ ڈال کے ذرا مالش بھی کروانی تھی”(ترجمہ: ابنِ انشا – ماخوذ)

(Published in The Laaltain – Issue 8)

Categories
فکشن

مائے نی میں کنوں آکھاں

(Translation of ‘Misery: To Whom shall I tell my Grief’)

(انطون چیخوف)

شام کا جھٹپٹا پھیل رہا تھا۔ برف کے چھوٹے چھوٹے گالے سڑک کنارے لگے کھمبوں کے گرد چکر کھا کھا کر نیچے گر رہے تھے اور گھروں کی چھتوں، گھوڑوں کی پیٹھوں، لوگوں کے شانوں، ٹوپیوں اور پگڑیوں پر برف کی سفید تہہ جماتے جاتے تھے۔ اس بار مری میں ہمیشہ سے ذیادہ برفباری ہوئی۔ بوڑھا گامو کوچوان کسی بھوت کی طرح سر تا پا سفید ہو چکا تھا۔ وہ اپنے چھوٹے سے یکے پر اس قدر دوہرا ہو کر بے حس و حرکت بیٹھا تھا کہ اس سے زیادہ خود کو دوہرا کرنے کی گنجائش نہ تھی۔ اس پر برف کی تہہ چڑھتی جا رہی تھی مگر وہ اس سے لاتعلق نظر آتا تھا۔ اس کی چھوٹی سی گھوڑی بھی برف پڑنے سے سفید نظر آ رہی تھی اور کسی سوچ میں ڈوبییوں ساکت و جامد کھڑی تھی گویا گھوڑے کا مومی کھلونا ہو۔ شایدر دوڑتے بھاگتے لوگوں سے بھرے شہراور شوروغل کے درمیان اُسے گاؤں کے کھیتوں کی دلفریب پگڈنڈیاں بہت یاد آ رہی تھیں۔

گامو کوچوان اپنے اڈے سے کافی دیر کا نکلا ہوا تھا اور ابھی تک اسے کوئی سواری نہیں ملی تھی اور اب تو شام ہو رہی تھی۔ سڑکوں کے کنارے روشنی کے کھمبوں پر بجلی کے قمقمے روشن ہو رہے تھے۔

“یکے والا ڈاک بنگلہ جانا مانگٹا؟” بوڑھے گامو نے اچانک کسی کو پکارتے سنا۔ اس نے برف سے ڈھکی پلکوں کو دھیرے سے اٹھا کر دیکھا، ایک گورا صاحب فوجی وردی میں ملبوس سر پر ہیٹ پہنے کھڑا تھا۔ “ٹم سوٹا ہے کیا؟ ڈاک بنگلہ جائے گا؟”۔ گورے فوجی نے ڈانٹنے کے انداز سے بات دہرائی۔ گامو نے اپنا سکون اور سکوت توڑ کر گھوڑی کی لگام کھینچی اور برف کی قاشیں گھوڑی کے بدن سے پھسل کر نیچے جا گریں۔ گورا صاحب یکے پر سوار ہو گیا۔ گامو نے بگلے کی طرح گردن اٹھائی، سیدھا ہو کر اپنی سیٹ پر بیٹھا اور چابک گھمایا۔ گھوڑی نے بھی گردن اٹھائی اور بے دلی سے چلنا شروع کر دیا۔ “کہاں مر رہے ہو خبیث! اپنی راہ چلو!”۔ سڑک پر پیدل چلنے والا کوئی راہ گیر چلایا۔ ساتھ ہی صاحب بہادر بولا: “کہاں مرٹا؟ بائیں جانیب چلو ٹم!”۔ گامو نے خاموشی سے گھوڑی کی باگیں کھینچیں، اسی اثنا میں پہلو سے کسی اور تانگے والے نے گالیاں بکنا شروع کر دیں اور پھر کوئی دوسرا راہ گیر بڑبڑایا، جس کی قمیض سے گھوڑی کی ناک چھو گئی تھی۔ گامو اپنی نشست پر بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ “یہ الو کا پٹا ٹم سے مقابلہ کرٹا دیکھو۔۔”۔ گورے صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔ لیکن گاموں کے دل و دماغ میں کوئی اور بات گردش کر رہی تھی۔ وہ اپنے گرد و نواح سے لاپروا تھا۔ اس نے چہرہ گھما کر ایک نظر پیچھے بیٹھے انگریز فوجی افسر کو دیکھا، کچھ کہنے کے لیے ہونٹ ہلائے لیکن کوئی بات تھی جو اس کی زبان پر آ کر پلٹ گئی۔ “ٹم کچھ کہنا مانگٹا؟”۔ صاحب بہادر نے بھنویں سکیڑ کر گامو سے سوال کر دیا۔ گامو کے ہونٹوں پر ایک پھیکی سی مسکراہٹ آ کر غائب ہو گئی۔ اس نے اپنا گلا صاف کرتے ہوئے بمشکل کہا: “صاحب جی۔۔۔ وہ اسی ہفتے میرا۔۔۔ بیٹا۔۔۔ مر گیا ہے جی!”۔ “ہوں۔۔ کیسے مرا؟” انگریز نے سنجیدگی سے پوچھا۔ گامو پیچھے کو مڑا اور انگریز کو بتانے لگا: “اللہ کو پتہ جی، کیا ہوا! بخار تھا، پھر تین دن ڈاکٹر اللہ بخش صاحب کے ہاں رکا پڑا رہا، پھر مر گیا، جو مرضی اوپر والے کی”۔ “پیچھے ہٹو، مردود!” اندھیرے سے پھر ایک آواز آئی، “پاگل ہو گئے ہو باؤلے بڈھے؟ دیکھ کے چلو!”۔ نجانے پھر یکہ کس پر چڑھ دوڑا تھا۔ “راہ دیکھ کر چلو بابا، جلدی کرو، ہم کو دیر ہو جائے گی”۔ انگریز فوجی نے ہولے سے کہا اور اپنی نشست پر نیم دراز ہو گیا۔ گامو پھر سے سیدھا ہو بیٹھا، چابک گھمایا اور یکہ چلانے لگا۔ کئی بار اس نے مڑ کر دیکھا اور چاہا کہ گورے صاحب سے گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جڑ جائے جہاں سے کٹ گیا تھا لیکن صاحب بہادر آنکھیں میچے سیٹ پر نیم دراز پڑا تھا۔ گورے صاحب کو ڈاک بنگلے اتار کر گامو نے یکہ ایک سستے سے ہوٹل کے سامنے جا کر کھڑا کیا اور ایک بار پھر یکے پر اسی طرح بے حس و حرکت بیٹھ گیا۔ اور برف نے اسے اور اس کی گھوڑی کو ایک بار پھر مومی مجسمہ بنا دیا۔

خدا جانے کتنی دیر گزر چکی تھی جب تین مشٹنڈے نوجوان یکے کی طرف بڑھے۔ ایک کبڑا اور ٹھگنا سا اور دو لمبے گجر نوجوان تھے جو ایک دوسرے کو بھاری بھرکم گالیاں بکتے، جوتے پٹختے غالبا ڈھابے سے نکل رہے تھے۔ “لاری اڈّے جاؤ گے؟” کبڑے نے بدتمیزی سے پوچھا۔ “ہم تین ہیں، دو روپے دیں گے”۔ گامو نے گھوڑی کی باگ کھینچی۔ لڑکوں نے کرایہ تو بہت کم کہا تھا لیکن گامو کے پیش نظر کرایہ نہیں ، تین سواریاں تھیں۔ تینوں نوجوان ایک دوسرے کو دھکیلتے گالیاں بکتے یکے پر بیٹھ گئے۔ “چلو چاچا!”۔ اس کے پیچھے بیٹھے کبڑے نے قریب ہو کر کہا۔ “ارے واہ!” کبڑا، جو پی کر زیادہ ہی بکے جا رہا تھا، بولا: “یہ پگڑی جو تو نے پہنی ہے کوچوان چاچا، اس سے میلی پگڑی تجھے پورے مری میں نہیں ملی کیا؟”۔ “ہی ہی۔۔ اجی شیخی کیا بگھاریں۔۔ غریب آدمی ہیں”۔ گامو مصنوعی سی ہنسی ہنس کر بولا۔ “ہاں، شاباش۔ شیخی نہیں بگھارتے۔ جلدی چلاؤ یکہ۔۔ کیا ساری راہ ایسے ہی چلو گے؟ جماؤں ایک دھول؟!” کبڑا بکنے لگا۔ “یار میرے تو سر میں درد ہونے لگا ہے”۔ لمبا گجر نوجوان گویا ہوا “کل میں نے اور بخشو نے ولایتی کی چار بوتلیں چڑھا لیں بھئی”۔ “مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تو اتنی لمبی کیوں ہانکتا ہے گنواروں کی طرح”۔ دوسرے لمبے نوجوان نے تیوری چڑھا کر کہا: “نئیں یار، جھوٹ نہیں بولتا۔۔ مولا قسم!” پہلا جوان بولا۔ “سچ ہے۔ بالکل ایسے جیسے۔۔کھٹمل کھانستا ہے۔۔ ہاہاہا” دوسرے نے کہا اور تینوں نوجوان قہقہے لگا کر ہنس پڑے اور گامو بھی کھسیانی ہنسی ہنسا۔ “ابے بڈھے !” کبڑا چلایا۔ ایسے چلاتے ہیں یکہ؟! چابک لو اور لگاؤ اس گھوڑے کے۔۔۔” کبڑے کے ڈانٹنے کے بعد ایک بار پھر گامو کی توجہ یکے کی طرف ہوئی۔ وہ اپنے پیچھے بیٹھے کبڑے کی بک بک سنتا رہا، راہ گیروں کے کوسنے بھی وقفے وقفے سے اسے سننے کو مل رہے تھے اور آتے جاتے لوگوں کو دیکھ کر بھی اس کی توجہ اپنی تنہائی سے ہٹی تھی۔ اس دوران لمبے گجر نوجوانوں نے کسی لونڈیا کا تذکرہ چھیڑ دیا۔ “میرا بیٹا۔۔ اسی ہفتے۔۔ مرا ہے”۔ گامو نے کافی انتظار کے بعد ان کی گفتگو کے ایک وقفے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا۔ “ہاں۔ ہم سب نے ایک دن مرنا ہے”۔ کبڑا کھانستے ہوئے بولا۔ “لیکن تو جلدی چل، جلدی!۔۔ دوستو! اس طرح رینگ رینگ کر چلنے سے تو ہم آج پہنچنے سے رہے”۔ کبڑے نے کہا۔ “ہاں اس کی ہمت بڑھاؤ ذرا۔ ایک جماؤ نا گدی پر۔۔” لمبا نوجوان بولا۔ “او بڈھی بیماری! میں سیدھا کر دوں گا تجھے۔ سن رہا ہے ناں؟!” کبڑا بولا۔ گامو خفیف سا ہنسا۔ “ہاں صاحب، سنتا ہوں۔ مولا آپ کو سکھی رکھے۔” “کوچوان چاچا۔ تم شادی شدہ ہو؟”۔ لمبے نوجوان نے پوچھا تو گامو ہنس پڑا۔ “میری شادی تو اب قبرستان میں پہنچ کر ہی ہو گی۔۔ اب دیکھو جی، میرا بیٹا مر گیا ہے اور میں زندہ ہوں۔ کیسی اڈھب سی بات ہے۔ موت کو ذرا بھی ڈھنگ نہ تھا، پہلے مجھ پر آتی۔۔” پھر گامو ان نوجوانوں کی طرف گھوما تا کہ وہ انہیں اپنے بیٹے کے مرنے کا قصہ تفصیل سے سنائے لیکن اسی لمحے کبڑا بولا: “لو جی۔ آ گیا لاری اڈّا”۔ وہ تینوں کرائے کے دام چکا کر چلے گئے اور گامو انہیں دیکھتا رہ گیا۔ وہ ایک بار پھر اکیلا تھا اور جس بے چارگی کے درد سے وقتی طور پر اس کی توجہ ہٹ چکی تھی، وہ درد ایک بار پھر پوری شدت سے جاگ اٹھا۔ گامو پتھرائی ہوئی آنکھوں سے سڑک کی دوسری جانب آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ ان میں ایسا کون تھا، کوئی ایک جو اس کی بپتا سن لیتا۔ لیکن لوگوں کا ہجوم تھا جو اس کی حالت سے بے خبر اپنے اپنے راستے پر رواں تھا۔ اس وقت اس کی بے چارگی کا یہ عالم تھا کہ اگر اس کا دل پھٹ جاتا اور درد کے سیلاب بن کر بہہ نکلتا تو گامو کو یقین تھا کہ پورا ہندوستان بہا لے جاتا لیکن خدا جانے کہاں ٹھہرا تھا یہ درد۔

اسی لمحے گامو نے ایک قلی کو دیکھا جس کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا تھیلا تھا۔ گامو نے اس سے بات کرنے کا بہانہ تراشا۔ “دوست، کیا وقت ہو گا ابھی؟” گامو نے قلی سے پوچھا۔ “دس بجنے والا ہو گا، تم یہاں کاہے کو کھڑا ہے، چلتا بن!” قلی نے پان چباتے ہوئے کہا۔ گامو چند قدم آگے بڑھ گیا۔ وہ ایک بار پھر تنہائی کے رحم و کرم پر تھا۔ اسے خیال آیا کہ لوگوں سے کیا کہنا۔ واپس اڈے کو چلنا چاہیے۔ اب اسے سر درد بھی محسوس ہونے لگا تھا۔ گامو نے باگ پکڑی اور اڈے کی راہ لی۔

تانگے والوں کے اڈے پر ایک ٹین کی چھت کے نیچے ایک چولھا ہلکی آنچ پہ جل رہا تھا اور سارے کوچوان اس کے گرد چوبی بنچوں پر لیٹے بیٹھے خراٹے لے رہے تھے۔ گامو بھی درمیان میں جگہ پا کر بیٹھ گیا۔ “میں نے آج کچھ بھی کمائی نہیں کی۔۔” گاموسوچنے لگا۔ “کچھ اپنے کھانے کے لیے خرید سکا نہ اپنی گھوڑی کے لیے۔۔ شاید اداسی کی یہی وجہ ہے۔۔ جس شخص کے پاس اپنے کھانے کے لیے کچھ ہو، گھوڑے کے لیے بھی ہو اور اپنا کام بخوبی کر لیتا ہو۔۔ وہ سکون میں رہتا ہے”۔ گامو کے ذہن میں خیالات آنے لگے۔اسی لمحے ایک نوجوان کوچوان نیند سے اٹھا اور ادھ کھلی آنکھوں سے پانی کے مٹکے کی طرف بڑھا۔ “پانی پیو گے؟”گامو نے اس سے پوچھا۔ “ہونھ؟”۔ “میرا بیٹا اسی ہفتے مرا ہے، سن رہے ہو؟۔۔ ہاں۔ اسی ہفتے، ڈاکٹر اللہ بخش صاحب کے شفا خانے پر۔۔ نرالے کام ہیں اوپر والے کے۔۔” ساتھ ہی گامو نے اس خبر کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے غور سے نوجوان کی طرف دیکھا تو وہ پانی پی کر ایک بار پھر آنکھیں بند کر چکا تھا۔ گامو چپ ہو گیا۔ جس طرح سے اس نوجوان کو پانی کی پیاس تھی، اسی طرح گامو کو بھی اپنی بپتا سنانے کی حسرت تھی۔ وہ تو پانی پی کر سو رہا لیکن گامو پھر تنہا تھا۔ اس کے لڑکے کو مرے ایک ہفتہ ہونے کو تھا اور گامو نے کسی کو ہنوز اپنے بیٹے کی موت کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا تھا۔ وہ پوری تفصیل سے کسی کو بتانا چاہتا تھا کہ اس کا بیٹا بیمار کیسے پڑا، وہ کس قدر تکلیف میں تھا۔ پھر مرتے وقت اس نے کیا کہا، پھر وہ کیسے مر گیا۔۔ گامو بتانا چاہتا تھا کہ اس کی آخری رسم کیسے ادا ہوئی، پھر گامو اپنے بیٹے کے کپڑے اٹھا لانے کے لیے کیسے ڈاکٹر اللہ بخش کے کلینک پر گیا۔ گاؤں میں گامو کی ایک بچی بھی تھی۔۔ شبنم جسے وہ شبو کہا کرتا تھا۔ وہ اس بارے میں بھی بہت کچھ کہنا چاہتا تھا۔ اس کی بات سننے والادکھ سے یقیناًرو پڑتا اور کسی عورت سے بیان کرنا تو اور بھی بہتر تھا کہ یہ بھلی مانس مخلوق ایسی بات پر پہلا لفظ سنتے ہی رو رو کر برا حال کر لیتی ہے۔

ذرا باہر جا کر گھوڑی کو دیکھوں، گامو کو خیال آیا تو اس نے چادر اوڑھی اور اٹھ کر باہر چلا گیا۔ اپنی گھوڑی کے پاس آ کر وہ چارے کے بارے میں سوچنے لگا۔ موسم کے بارے میں سوچنے لگا لیکن تنہائی میں اپنے بیٹے کے بارے میں کچھ نہ سوچ سکا۔ کسی دوسرے سے اس کا تذکرہ کرنا تو بوڑھے گاموکے بس میں تھا لیکن اس کے بارے میں سوچنا اور اس کی تصویر اپنے خیالات کی تختی پر بنانا اس کے لیے ازحد درد ناک تھا۔

“تم جگالی کر رہی ہو؟” گامو نے اپنی گھوڑی کی آنکھوں کی چمک میں جھانکتے ہوئے کہا۔ “ہاں شاباش دیکھو ہم نے آج کچھ نہیں کمایا۔ ہم دونوں آج گھاس کھائیں گے۔۔ دیکھو میں کافی بوڑھا ہو گیا ہوں اور یکہ چلانے کے قابل نہیں رہا۔۔۔ میرا بیٹا زندہ ہوتا تو وہ میری جگہ یکہ چلاتا۔ وہ اصل کوچوان تھا۔۔ اسے زندہ رہنا چاہیے تھا۔۔” گامو ایک لمحے کو خاموش ہو کر پھر گویا ہوا: “میرے بیٹے نے مجھے الوداع کہا اور وہ چلا گیا۔۔ کوئی بات ہی نہ تھی اور وہ چلا گیا۔۔۔ دیکھو، تم ایک لمحے کو فرض کرو کہ تمہارا ایک بچھیرا ہوتا، تمہارا بچہ۔۔ اور تم اس کی ماں ہوتیں۔۔ اور پھر وہی چھوٹا بچھیرا۔۔ تمہارا بچہ چلا جاتا یا مر جاتا، تم کتنا دکھی ہوتیں۔۔ ہوتیں ناں؟” گامو کہے جا رہا تھا۔ گھوڑی نے جگالی کی۔ گامو کی بات سنی اور ایک گرم سانس اپنے مالک کے ہاتھ پر چھوڑ دی۔ پھر گامو کی آنکھوں سے آنسوؤں کا سیلاب بہہ نکلااور اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اپنی درد دل کی ساری بپتا سنا ڈالی۔

(ترجمہ: ذکی نقوی)

(Published in The Laaltain – Issue 6)