Categories
نقطۂ نظر

دعوتِ اسلام، چند واقعات (شعیب محمد)

1) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے مدینہ ہجرت کی اور وہاں پہنچنے کے بعد یہودیوں کے ساتھ پہلی باقاعدہ ملاقات ہوئی اور خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے اسلام لانے کے لئے پہلی دعوت دی گئی۔ چنانچہ حضرت انس سے روایت ہے:

“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پیغام بھیجا تو وہ آئے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: “اے جماعت یہود! تمھاری خرابی ہو، اللہ سے ڈرو۔ اس اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ بلاشبہ تم خوب جانتے ہو کہ یقیناً مَیں اللہ کا رسول ہوں اور تمھارے پاس حق لے کر آیا ہوں، لہٰذا تم اسلام لے آؤ۔” انہوں نے کہا کہ ہم تو اس بات کو نہیں جانتے۔ یہ بات انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے تین مرتبہ کہی۔”
(صحیح بخاری، کتاب مناقب الانصار، باب ہجر النبی صلی اللہ علیہ وسلم، و اصحابہ الی المدینۃ، رقم 3911)

2) حضرت ابوہریرۃ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: “یہود کی طرف چلو۔” ہم آپ کے ساتھ نکلے حتیٰ کہ ان کے ہاں پہنچ گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، بلند آواز سے انہیں پکارا اور فرمایا:

“اے یہود کی جماعت! اسلام قبول کر لو، سلامتی پاؤ گے۔” انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (پھر) فرمایا: مَیں یہی چاہتا ہوں، اسلام قبول کر لو، سلامتی پاؤ گے۔” انہوں نے کہا: اے ابوالقاسم! آپ نے پیغام پہنچا دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے (پھر) فرمایا: “مَیں یہی چاہتا ہوں۔” آپ نے ان سے تیسری مرتبہ کہتے ہوئے (ساتھ) فرمایا:

“جان لو! یہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور مَیں چاہتا ہوں کہ تمھیں اس زمین سے جلا وطن کر دوِ، تم میں سے جسے اپنے مال کے عوض کچھ ملے وہ فروخت کر دے، ورنہ جان لو کہ یہ زمین اللہ کی اور اس کے رسول کی ہے۔”
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد و السیر، باب اجلاء الیہود من الحجاز، رقم 1765، دارالسلام 4591)

یہ حکم بعد میں پورے جزیرہ عرب کے لئے بھی دیا گیا۔ چنانچہ حضرت عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: : “مَیں یہود و نصاریٰ کو ہر صورت جزیرہ عرب سے نکال دوں گا، یہاں تک کہ مَیں مسلمانوں کے سوا کسی اور کو نہیں رہنے دوں گا۔”
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد و السیر، باب اخراج الیہود و النصاریٰ من جزیرۃ العرب، رقم 1767، دارالسلام 4594)

3) دعوتِ دین کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے کئی خطوط بھی مختلف قبائل اور بادشاہوں کو لکھے گئے۔ ایسے ہی ایک خط میں درج تھا:

“محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بنی زہیر بن اُقیش کے لئے۔ تم لوگ اگر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت دو، نماز قائم کرو، غنیمت میں سے پانچواں حصہ (خمس) اور نبی کا خاص حصہ (صفی) ادا کرو تو اللہ اور اس کے رسول کی امان میں سے امن میں ہو۔”
(سنن ابو داؤد، کتاب الخراج، باب ما جاء فی سھم الصفی، حدیث 2999 / صحیح ابن حبان بمطابق الاحسان، رقم6557 / مصنف ابن ابی شیبۃ، رقم 37790)

4) عمان والوں کی جانب جو خط لکھا گیا، وہ کچھ یوں تھا: “اللہ کے رسول محمد کی طرف سے اہل عمان کی طرف، سلام ہو۔ اما بعد! تم لوگ یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مَیں اللہ کا رسول ہوں، زکاۃ ادا کرو اور فلاں فلاں طریقے سے مسجدیں بناؤ، ورنہ مَیں تم پر حملہ آور ہوں گا۔”
(اعلام السائلین لابن طولون: ص101-102، رقم 24 / معرفة الصحابة لأبي نعيم، رقم 6354)

5) رعیہ السحیمی یمامہ کا رہنے والا اور بنو حنیفہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کے بارے میں موجود ہے کہ “نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رعیہ السحیمی کی طرف (چمڑے کے ٹکڑے پر) خط لکھا۔ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خط پکڑا اور اس کے ساتھ اپنے ڈول کو پیوند لگا لیا (مطلب کہ کوئی پرواہ نہ کی)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ کیا۔ انہوں نے (جا کر) اس کے اہل و عیال اور مال پر قبضہ کر لیا۔”

پھر یہ بڑی ندامت کے ساتھ ذلیل و رسوا ہو کر مدینہ منورہ پہنچا اور بیعت اسلام کی اور اپنے اہل و عیال بچا لئے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: “اے لوگو! یہ رعیہ السحیمی ہے، جس کی طرف مَیں نے خط لکھا تو اس نے میرا خط لے کر اسی سے اپنا ڈول سی لیا، اب اسلام لے آیا ہے۔”
(مصنف ابن ابی شیبہ، رقم 37794، دوسرا نسخہ 36639 / المعجم الكبير للطبراني، رقم 4635 / مسند احمد، رقم 22365 / مجمع الزوائد، رقم 10348 / الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، رقم 2661)

6) حضرت خالد بن ولید نے اہل فارس کے نام خط لکھا، جس میں موجود تھا کہ “ہم تمھیں اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں، اگر تم انکار کرو تو تم اپنے ہاتھوں جزیہ ادا کرو اس حال میں کہ تم ذلیل ہو کیونکہ میرے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں قتال کو ایسے پسند کرتے ہیں جیسے فارسی شراب پسند کرتے ہیں۔”
(مستدرک حاکم، ج3 ص299 / المعجم الكبير للطبراني، ج4 ص105 / مسند علی بن الجعد، رقم 2304 / مجمع الزوائد، ج5 ص310)

7) حضرت جریر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہم پر یمن بھیجا۔ اس تفصیلی واقعہ میں موجود ہے کہ “ذوالخلصہ یمن میں قبیلہ خثعم اور بجیلہ کا ایک گھر تھا جس میں بُت نصب تھے جن کی عبادت کی جاتی تھی۔، اسے کعبہ کہا جاتا تھا۔ حضرت جریر نے اسے آگ لگا دی اور گرا دیا۔ جب حضرت جریر یمن پہنچے تو وہاں ایک شخص تیروں کے ذریعے فال نکال رہا تھا۔ اسے کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد یہاں آ پہنچا ہے، اگر تُو اس کے ہتھے چڑھ گیا تو وہ تیری گردن اڑا دے گا۔

چنانچہ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ فال نکال رہا تھا، اتنے میں حضرت جریر وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے فرمایا: تُو فال کے ان تیروں کو توڑ کر کلمئہ شہادت پڑھ لے بصورت دیگر مَیں تیری گردن اڑا دوں گا، چنانچہ اس نے تیر توڑ کر کلمہ شہادت پڑھ لیا۔”
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوۃ ذی الخلصۃ، رقم 4357)

Categories
فکشن

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ چہارم

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

تبلیغی جماعت

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

دین کے نام پر ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے جو تبلیغی جماعت سے عمومًا اور مولانا طارق جمیل کی طرف سے خصوصًا، تبلیغی حضرات کے فہم دین کا حصہ بنائی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ان کے طرزِ عمل میں کسی ممکنہ بہتری کے امکان معدوم ہو جاتے ہیں، وہ یہ کہ اگر تبلیغی حضرات کسی کمی کوتاہی کا شکار بھی ہیں تو ان کا تبلیغ کے راستے میں چلنے کا بے انتہا ثواب، جو ہر عمل کو کروڑوں میں بتاتا ہے، ان کی کمی کوتاہیوں کی تلافی کر دے گا اور خدا کے ہاں وہ ٹوٹل میں پاس ہو کر نجات یافتہ بلکہ انعام یافتہ قرار پائیں گے۔ اسے مولانا طارق جمیل سو میں تینتیس نمبر لے کر پاس ہونا کہتے ہیں۔ یہ خود ساختہ معیارِ فہم دین کی ناقص تفہیم سے پیدا ہوا ہے، اور یہ خود کو خدا کے درجے پر فائز کرنا ہے۔ دین کے فرائض اور مستحبات میں اور دین کے ضروری اور کم ضروری احکامات میں فرق کرنا اصل فہم دین ہے۔ مثلاً کوئی اپنے اپنے گھر کے افراد کی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کر کے تبلیغ کرنے نکل کھڑا ہو، تو ایسا کوئی مطالبہ خدا نے اس سے نہیں کیا ہے۔ اپنے جنونِ شوق میں خدا کی تعلیم، اصولوں اور ترتیب کو نظر انداز کر کے اپنے لائحہ عمل کو ترجیح دینا، خدا کی بجائے اپنی پالیسی کو اور اس کو پیش کرنے والوں کو خدا اور رسول کے درجے پر لا بٹھانا ہے، جیسا کہ یہود کے عوام، اپنے فقیہوں اور راہبوں کے ساتھ کرتے تھے۔ قرآن اس کی مذمت کرتے ہوئے کہتا ہے یہود کے عوام اپنے علماء اور راہبوں کو معبود بنا لیا، ان کی سنتے تھے، ان کے مقابلے میں اپنی کتاب کے صریح بیانات کو خاطر میں نہ لاتے تھے۔ یہاں بھی یہی حال ہے۔

 

اپنی دولت و جائیداد پیچ کر یا قرض لے کر تبلیغ پر جانا آپ کا اپنا انتخاب ہو سکتا ہے، دین نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے۔ اپنے انتخاب سے ایک غیر فرض کو ایک فرض کے لیے چھوڑ دینا ایسا معاملہ نہیں ہے کہ خدا یہ دیکھے کہ ایک کام چھوڑ کر دوسری نیکی کر لی گئی ہے تو معاملہ برابر سرابر ہو گیا، ہر گز نہیں، درحقیقت دین کے بارے میں خدا کی ساری سکیم کو ہی الٹ دیا گیا ہے، دین کی ترتیب بدل دی گئی ہے اور جو نتائج خدا پیدا کرنا چاہتا تھا، وہ نتائج پیدا نہیں ہونے دیئے گئے۔

 

مسئلہ صرف یہ نہیں کہ لوگوں کو تبلیغ کرنی ہے، مسئلہ یہ بھی ہے کہ اپنے خاندان کو صالح روزی اور صالح تربیت بھی دینی ہے۔ اور یہ کام مسلسل حاضری اور نگرانی مانگتا ہے۔ کوئی مجبوری ہو تو معاملہ الگ ہے، لیکن خدا کبھی یہ نہیں چاہتا کہ گھر کے مرد، سال ہا سال اپنے گھر سے، اس کی ذمہ داریوں سے، اور اپنے گھر والوں کی تربیت سے دور، لوگوں کو تبلیغ کرتے رہیں جو ان پر خدا نے فرض بھی نہیں کی۔ خصوصاً ایسے لوگوں کو تبلیغ کرنا جن کی زبان سے بھی یہ واقف نہیں۔ یہ معاملہ سو میں سے تینتیس نمبر لینے کا نہیں، لازمی سوال چھوڑنے کا ہے، جس کی تلافی اختیاری سوالات کے زیادہ جوابات دینے سے بھی پوری نہیں ہو سکتی۔ تبلیغ کو جس طرح فرض سمجھا گیا ہے، اور جو تفصیلی لائحہ عمل اس کے لیے طے کر لیا گیا ہے کہ آپ گھر سے دور رہ کر اور بلاضرورت سفر کر کر کے لوگوں کو تبلیغ کریں اور کوئی اس کے علاوہ اگر تبلیغ کی کوئی صورت اختیار کرنا چاہے تو اسے دین کی خدمت سرے سے ماننے سے انکار کر دیا جائے، یہ سب دین میں ایک اور دین بنانے کی کوششیں ہیں جس کی غلطی سمجھنا بہت ضروری ہے۔ ان غیر ضروری قربانیوں کو عزیمت گردانا جاتا ہے جب کہ درحقیقت یہ بڑی غلط فہمی ہے۔

 

معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کے قوانین کسی کے فہم دین کی کجی سے بدل نہیں جاتے۔ یہ بات خدا نے قرآن میں واضح طور پر بتائی ہے:

 

(تم پر واضح ہونا چاہیے کہ نجات) نہ تمھاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ (اِس لیے) جو برائی کرے گا، اُس کا بدلہ پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں وہ اپنے لیے کوئی حامی اور مددگار نہ پاسکے گا (سورہ النساء، 4:123)

 

ان غیر ضروری قربانیوں کے جواز کے لیے جو واقعات سنائے جاتے ہیں، پہلے تو ان کی تصدیق کرانا ضروری ہے کہ کیا وہ واقعی درست ہیں یا نہیں۔ اور اگر درست ہیں تو کیا وہ قرآن مجید کی واضح نصوص اور دین کے واضح اصولوں کے مطابق بھی درست ہیں یا نہیں۔ دین کا معیار قرآن ہونا چاہیے نہ کہ واقعات۔

 

اس غیر متناسب حدود سے ماورا دین داری جس میں اپنی مرضی کے کسی دینی عمل کو چن کر باقی کو نظر انداز کرنے کی روش اپنا لی جاتی ہے، اس کے جواز کے لیے لوگوں میں پائے جانے والے بے دین رویوں سے جواز تلاش کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے کہ فلاں اگر جوا یا نشے کی لت میں پڑ کر یا کسی محبوب کی چاہ میں اپنا گھر بار لٹا سکتا ہے یا لوگ نوکری اور دولت کے لیے اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر بیرونِ ملک چلے جاتے ہیں، تو تبلیغی حضرات نے یا اور کسی دینی رویے میں پڑ کر کوئی حدود سے تجاوز کر رہا ہے تو کیا برا ہے، یہ تو اچھا ہے ہے نا کہ کسی بے دینی کی وجہ سے ایسا نہیں کر رہا۔ یہ جواز پیدا کرنا بہت نا درست ہے۔ دین پر عمل کرنے کے لیے بے دینی کے رویوں سے جواز کیسے لایا جا سکتا ہے؟ دین پر عمل کرنا ہے تو اسی تناسب اور شعور سے عمل کرنا ہوگا جو دین کا مقصود ہے۔ کیا میں چاہوں کہ سارا دن نمازیں پڑھا کروں اور اس کی لذت میں دین اور دینا کی باقی ذمہ داریوں سے جان چھڑا لوں تو کیا درست ہوگا؟ اسی طرح کوئی عشق رسول کو بنیاد پر کر باقی کاموں سے کنارہ کش ہو جائے تو کیا جائز ہوگا۔ ایسا جواز وہی لا سکتا ہے جو دین کے بنیادی تصورات سے بھی واقف نہیں۔ اسی بات کا افسوس ہے کہ تبلیغ میں برسوں گزار لینے کے باوجود دین کی بنیادی تعلیم سے آگاہی حاصل کرنا بالکل غیر ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان کے بڑوں کے بیانات سن کر دیکھا جا سکتا ہے کہ علم اور فہم دین کی طرف سرے سے کوئی رغبت نہیں دلائی جاتی۔

 

اور پھر یہ کون سی عقل مندی ہے کہ تبلیغی حضرات کو ایسے علاقوں اور ملکوں میں تبلیغ کرنے بھیج دیا جاتا ہے جن کی زبان بھی ان کو نہیں آتی۔ اس سے تو تبلیغ کا مقصد ہی حاصل نہیں ہو سکتا۔ خدا نے ہر قوم میں اسی کا ہم زبان پیغمبر بھیجا، لیکن یہاں بھی دین کی حکمت کے برعکس، غیر زبان والوں کو اشاروں یا مترجم کے ذریعے تبلیغ کی جاتی ہے۔ تبلیغ کا مقصد پیغام پہنچانا ہی نہیں ہوتا، بات کو دلوں میں اتارنا ہوتا ہے۔ اس کے لیے تو نہ صرف یہ کہ ہم زبان ہونا ضروری ہے، بلکہ زبان دان ہونا ضروری ہے۔ تبلیغی جماعت کی یہ پالیسی، دعوت دین کی حکمت کے برخلاف ہے۔

 

دین کا ہر حکم اپنی شرائط، آداب اور ضوابط کے ساتھ لاگو ہوتا ہے۔ یہ اہم بات تبلیغی حضرات کے سمجھنے کی ہے۔

 

(جاری ہے)