Categories
شاعری

خاموش خدا

خاموش خدا
شاعر: اشفاق آذر
سندھی سے ترجمہ: قاسم کیھر

میرے خاموش خدا کو کہنا !
شور بڑھ گیا ہے کتنا تو
شہر کا شہر ہو گیا ہے بہرا
گونگے الفاظ تڑپ رہے ہیں حلق میں
کون ہے کون، جو بات کرے؟
وحشتوں کو بندھی ہوئی ہیں پگڑیاں
زندہ جہنم کی کھانی ہے
یہ جو زور سے بج رہے ھیں لاؤڈ اسپیکر
بھڑکا رہا ہے آگ ان میں سے کوئی !
جو جل رہی ہے خاک وہ محبت ہے
اس پے جلے گا نہ اب دیا کوئی
بے اثر ہو گئے صحیفے جو
ان کو اب کوئی کفن پھنائے !
نعرے ہیں یا کوئی ہیں تلواریں؟
نوک پر کتنے روح مصلب ہیں
جشن ہے فتح کا پر دیکھنا
کون ہے کون جو شکستہ پا ہے؟
تیر ہی تیر ہیں ہجوموں کے
دل کی سماعتیں زخمی ہیں
کب تلک وہ خاموش بیٹھے گا؟
لب کھولے، کچھ تو کلام کرے !
میرے خاموش خدا کو کہنا !
Categories
شاعری

نہ دیکھو آسماں کو

نہ دیکھو آسماں کو
شاعر: ڈاکٹر تنویر عباسی
ترجمہ: قاسم کیھر

نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو
فرشتے نہیں اترنے
نبی نہ آئے گا اب کوئی
یہ دکھ جو ہم پر ہے نازل ہوا
اس کا کوئی آ کے عیسی مسیحا نہ بنے گا
ہم اپنے خود ہی مسیحا
خود ہی پیمبر ہیں
ہم خود ہی اپنے قافلے کے رہنما
اپنے آپ ہی اپنا نروان ہیں
ہم خود ہی اپنی شب کی دشت کے راہی
ہم خود ہی اپنی صبح کے اجالوں کے پیمبر
اور خود ہی اپنے رہبر بنیں گے!
نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو!!