Categories
شاعری

زمستاں کا نوحہ

(شہدائے کوئٹہ کے لیے، اختر حسین جعفری کی طرز پر۔۔)
اختر عثمان
ابھی پچھلے جنازوں کے نمازی گھر نہیں لوٹے
ابھی تازہ کُھدی قبروں کی مٹّی بھی نہیں سُوکھی
اگر بتّی کی خوشبو سانس کو مصلوب کرتی ہے
پسِ چشم ِ عزا ٹھہرے سرشکِ حشر بستہ میں ابھی احساس کا نم ہے
ابھی پرسے کو آئے نوحہ گر واپس نہیں پہنچے
ابھی کنز ِ غم ِ جاوید میں صد ھا الم ہیں، عرصہء غم ہے
عزادارو ! ابھی پچھلے جنازوں کے نمازی گھر نہیں لوٹے
نئے تابوت پچھلے چوک پر ہیں ، نوحہ و نالہ کی لَے مدّھم رکھو
گُل ھائے تازہ کا کوئی نوحہ نہیں کہنا (زمستاں ہے)
ابھی وہ خوش نفس واپس نہیں پہنچے
علی اصغر، علی اکبر نہیں لوٹے
ابھی قاسم کی مہندی گھولنا باقی ہے پانی آئے تو نوحہ اٹھائیں گے
ابھی زنجیر ِ گریہ میں کئی بے آب حلقے ہیں
اگر بتّی کی خوشبو ہڈّیوں تک آن پہنچی ہے
مگر پچھلے جنازوں کے نمازی گھر نہیں لوٹے—————————-ہمیں فارغ خطی لکھ دو
ہمیں تاریخ کی کم وسعتی ، جغرافیہ کے قید خانے میں نہیں رہنا
شغالانِ شبِ شام آج بھی لب ھائے آیت خواں سے لرزاں ہیں
وہ سَر اب تک فراز ِ نیزہ پر ہے ، امن کی آیات بالیدہ
گرسنہ سگ کے پنجوں میں ہمارے اُستخواں یوں کَڑکَڑاتے ہیں کہ ہر جانب صدائے ” یا علی ” کا روپ روشن ہے
اگر یہ شمع بجھتی ہے ، بجھا ڈالو
ہمیں فارغ خطی لکھ دو
ہمیں آگے نہیں جانا کہ پھر تاریخ کو اک واقعہ درپیش ہے اور بازگردانی کا موسم ہے
ہمارا آئنہ مُحکم ہے، اِس میں صُورتیں دُھندلی نہیں پڑتیں
یہ سب تمثیل اور تمثال سے آگے ، علامت سے بہت آگے کی راہیں ہیں
ہمیں سینے لگا لینے کو وہ بانہیں ہیں جو کٹ کر قلَم آثار ہیں
بانہیں ، عَلم آثار ، جن کا پنجہء کاشف کفِ ماہِ دوہفتہ کو بھی شرمائے
شبِ سیمیں کی بانہوں میں لہکتے کارپردازو
ہمیں فارغ خطی لکھ دو

(Published in The Laaltain – Issue 8)

Categories
شاعری

بے مصرف اور بے قیمت

(ملک بھر میں جاری شیعہ نسل کشی کے شرمناک تسلسل کی مناسبت سے۔۔۔)
عرفان ستار
لاشیں سب اٹھوا لی گئی ہیں
جتنے زخمی تھے اُن کو امداد فراہم کردی گئی ہے
جسموں کے بکھرے اعضا اب وہاں نہیں ہیں، جہاں پڑے تھے
سب کچھ ویسا ہے جیسا اُس بم کے پھٹنے سے پہلے تھے
البتہ مرنے والے کے جھلسے ہوئے ارمانوں کا اک ڈھیر ابھی تک وہیں پڑا ہے
ٹوٹے ہوئے اور مسخ شدہ خوابوں کا بھی انبار لگا ہے
ارمانوں اور خوابوں کا کیا کرسکتے ہیں ہم
ان کو دفنانے کے بارے میں بھی کوئی حکم نہیں ہے
جن کے تھے یہ، اُن کے سِوا کسی اور کے کام نہیں آسکتے
ان کی کوئی قیمت ہوتی تو انھیں کباڑی ہی لے جاتا
بالکل ہی بے مصرف ہیں، بے قیمت ہیں یہ
آوٗ کہ ہم سب مل کر اِن کو دور کہیں پھینک آئیں جا کر
اس سے قبل کہ گلے سڑے ارمانوں اور خوابوں سے اٹھنے والا تعفن
ساری فضا آلودہ کردے
آخر ہم اس شہر کو صاف رکھیں گے تو آئندہ نسلیں
صحت مند اور صاف فضا میں پیدا ہوں گی
یہ نمٹا لیں
اس کے بعد ہمیں اپنے بچوں کو بھی سمجھانا ہوگا
ان ارمانوں اور خوابوں کے کتنے مضر اثرات ہیں ممکن
تاکہ ہمارے بچے ان سے دُور رہیں اور چین سے اپنی عمر گزاریں
ویسے تم نے غور کیا ہے؟
ارمانوں اور خوابوں کی لعنت میں ہم سب کی محنت سے
کتنے قلیل عرصے میں کتنی کمی ہوئی ہے؟
اب تو یوں لگتا ہے جیسے
پولیو اور تپِ دق سے بھی پہلے شاید
ارمانوں اور خوابوں کی مہلک بیماری مٹ جائے گی
خیر۔ ۔ ۔ ابھی تو ہاتھ بڑھاوٗ
ارمانوں اور خوابوں کا یہ ڈھیر ہٹاوٗ
بے مصرف اور بے قمیت انبار اٹھاوٗ۔۔۔۔

(Published in The Laaltain – Issue 8)

Categories
گفتگو

جسم و زباں کی موت سے پہلے

jism-o-zubaan-ki-maut-2نوجوان ہزارہ سماجی کارکن سجاد چنگیزی سے لالٹین کی بات چیت

 

اپنے پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں، اور یہ بھی کہ آپ ایکٹیوزم کی طرف کیسے مائل ہوئے؟
کوئٹہ میں آباد ہزارہ قبیلے کی ایک مڈل کلاس فیملی سے میرا تعلق ہے- میں ایک مزدور کا پُر فخر بیٹا ہوں – کوئٹہ ہی میں گورنمنٹ ہزارہ سوسائٹی ھائی سکول سے میٹرک اور تعمیر نو پبلک کالج سے ایف ایس سی کا امتحان پاس کیا ۔ صوبہ بھر میں میری پوزیشن اگرچہ بارہویں تھی تاہم انٹری ٹیسٹ میںاول آنے کی وجہ سے یو ای ٹی لاہور میں پورے بلوچستان کے لیئے مختص الیکٹریکل انجنئیرنگ کی واحد نشست میرے حصے میں آئی۔ اپنے سکول اور کالج کا نمائندہ مقرّر رہنے کے بعد لاہور میں میں نے لٹریری سوسائٹی میں شمولیت اختیار کی ۔ لاہور میں پہلی مرتبہ مجھے احساس ہوا کہ پنجاب میں بلوچستان کے لوگوں سے متعلق بہت سے بے بنیاد اور غلط مفروضات ہیں جنہیں چیلنج کرنے کی ضرورت ہے ۔ لاہور آکر مجھے پتہ چلا کہ  بیچارے احمدی کون لوگ ہیں ، بریلوی دیوبندی کیا چیزیں ہیں اور پیر فقیر اور مزارات سے وابستہ کیا روایات ہیں – انھی سالوں میں بلوچستان میں ہماری کمیونٹی کو زیادہ تواتر سے انتہا پسندی کا نشانہ بنایا جانے لگا ، خصوصا حسین علی یوسفی کی شہادت نے، جو ایک معروف مزاحیہ ڈرامہ نگار اور ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین بھی تھے، مجھے بہت متاثر کیا ۔ مشینوں میں نسبتا کم دلچسپی اور ان متقاضی سماجی حالات کی وجہ سے مجھے لامحالہ سڑکوں پر آنا پڑا ۔
میرے دوست جبسریاب روڈ، سپنی روڈ، ارباب کرم خان روڈ، ھزارگنجی، جناح روڈ اور علمدار روڈ کی گلیوں کو خون سے سرخ کردیں تو ایف سکس اور جناح ایونیو کے محفوظ چوراہوں پہ تھوڑا سا شور کرنا فرض بنتا ہے۔

 

ہزارہ برادری کے ایک  نمائندے کی حیثیت سے آپ اپنی برادری پر بیتنے والے ظلم و ستم کے المیے کو کیسے بیان کریں گے؟
ایک ہزارہ ہونے کے ناطے تشدّد ، قتل و غارتگری کے یہ سال شاید میری زندگی میں سالہا ئے افسوس بن کر رہیں گے – غالب کی دلّی جس طرح آشوب کا شہر بن گئی تھی، اسی طرح ہمارا پیا را کوئٹہ آج لہولہا ن ہے ۔ یہ صرف میری داستان نہیں ، ہر ایک ہزارہ کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہے۔ حالات کی وجہ سے لوگ پاکستان سے باہر پناہ ڈھونڈ رہے ہیں ۔ جن گلیوں میں ہم پلے بڑھے، اب ویران ہیں ۔ دوست یا تو پاکستان سے باہر جا چکے ہیں یا لشکر جھنگوی کی گولیوں کا ناانہ بن کر قبرستان – سب سے زیادہ افسوس مجھے اس بات کا ہے کہ ہماری کمیونٹی نسلوں کی مسلسل محنت کے بعد ابھی ابھی اعلی تعلیم ، افسرانہ نوکریوں اور درمیانے درجے کے کاروبار کی طرف بڑھ رہی تھی کہ مسلسل اور یکطرفہ تشدد کے ذریعے ہمیں نا قابل ِ تلافی نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے – نہ صرف ایک ہزارہ ہونے کے ناتے بلکہ ‘پیس اینڈ کانفلکٹ سٹڈیز ‘ کے طالبعلم کی حیثیت سے بھی میں ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ ہونیوالے یکطرفہ قتل و غارت کو ‘ نسل کُشی ‘ سمجھتا ہوں-

دہشت گردی، فرقہ واریت اور نسل کشی کی حکومتی سر پرستی یا بے حسی کے رویے میں کوئی تبدیلی کی امید دیکھتے ہیں یا نہیں؟ اور کیا آپ کی نظر میں اس مسئلے پر عوامی رائے ہموار ہو رہی ہے؟

حکومت جان بوجھ کر بے حس ہے البتہ اس سب کا تعلق حکومت سے زیادہ فوجی اسٹیبلشمنٹ سے ہے ۔ کیا خبر 2014 میں امریکی فوج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد خطے میں کیا تبدیلی آئےگی تب تک تو طالبان اور لشکر ِ جھنگوی سمیت دیگر جہادی اور فرقہ ورانہ گروہوں کو ہماری اسٹیبلشمنٹ کی پشت پناہی حاصل رہے گی اور اسلامائزیشن کو بلوچ نیشنلزم کے تدارک کی دوا کے طور پر بلوچستان میں فروغ دیتے رہیں گے – عوامی رائے کا جہاں تک تعلق ہے ، حالیہ ملک گیر پُرامن مظاہروں کے ذریعے پاکستان کے انسان دوست اور روشن خیال عوام نے ہزارہ کمیو نٹی سے یکجہتی کا جس طرح اظہار کیا ہے اس سے میری امید کافی بڑھ چکی ہے۔بزبان ِ ناصر ؛
؎’کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی’

حالیہ دھماکوں کے بعد ہونے والے مظاہروں کو منظم کرنے میں آپ پیش پیش تھے، ان مظاہروں میں کیا نئی بات تھی؟ اور کیا یہ مظاہرے ایک بڑی تحریک کی شکل اختیار کر پائیں گے؟

فیصلہ کن اور بڑی تحریک تو مشکل ہے ، جس کی وجہ پاکستانی سماج اور سیاست کا ہنگامہ خیز سٹیج ہے – اس قدر افراتفری کے عالم میں ہزارہ کمیو نٹی تو درکنار پوری بلوچ قوم کی آواز دب جاتی ہے ۔ البتہ پیس سٹڈیز کا ایک طالبعلم ہونے کے ناتے میں ‘عدم تشدّد ‘ کا قائل ہوں ؛مارٹن لوتھر کنگ ، موہن داس کرم چند گاندھی اور نیلسن منڈیلا کو قابل ِ تقلید شخصیات سمجھتا ہوں اور اسی لئے حالیہ مظاہروں کا میرا پسندیدہ پہلو یہی ہے کہ ایک ٹائر تک نہ جلا، کسی کی گاڑی نذرِ آتش نہیں ہوئی، سرکاری املاک کو نقصان نہیں پہنچایا گیا ۔ کسی جارحانہ معاشی یا سیاسی دباؤ کی غیر موجودگی میں ہماری کمیونٹی نے خالصتاً اخلاقی بنیادوں پر یہ جنگ لڑی اور جلد ہی نہ صرف شیعہ کمیونٹی بلکہ پاکستان کے تمام انسان دوست حلقوں کو اپنا ہمنوا بنا لیا – عوامی سطح پر پہلی دفعہ لوگوں نے اس دس سالہ یکطرفہ تشد د کو ‘ فرقہ واریت’ کے بجائے ‘نسل کُشی’ تسلیم کیا اور حتی کہ دائیں بازو کی جماعتوں نے بھی ‘لشکر جھنگوی’ کا نام لےکر ان کی مزمت کی جیسا کی پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی – 200 ملین لوگوں کے اس ملک میں جہاں ہماری کُل آبادی 6 لاکھ ہے ، ہزارہ کمیونٹی کے لیےکسی بھی صوبے کے سب سے زیادہ زیر ِ تنقید سیاستداناور اتنے ہی ڈھیٹ وزیر اعلیٰ کی برطرفیایک اہم سنگِ میل ہے –

کیا صوبے میں گورنر راج اس مسئلے کا موثر حل ہے؟ اور کیا یہ فیصلہ ہزارہ برادری کے مطالبات کی عکاسی کرتا ہے؟

گورنر راج اس مسئلے کا حل تو خیر نہیں البتہ ہزارہ کمیو نٹی کے متفقہ مطالبات میں سے ایک تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ اسلم رئیسانی بلاشبہ ‘ناقابل ِ برادشت’ ہو چکے تھے – مستونگ میں 16 شیعہ زائرین کے قتل عام کے بعد کسی منصبی یا اخلاقی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے انھوں نے متاثرہ کمیونٹی کو ٹشو پیپرز بھجوانے کا لطیفہ کسا تھا – جو چیز ہمیں سمجھنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ بلوچ ، پشتون اور ہزارہ نیشنلسٹ اور سیکولر جماعتیں (اگرچہ جمیعت علمائے اسلام کا ووٹ بینک بھی پشتون علاقوں میں کم نہیں) ہی بلوچستان کے عوام کےحقیقی نمائداے ہیں ۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ ان جماعتوں میں سیاسی روابط ہی نہیں ، تعاون تو بعد کی بات ہے ۔ اور اگر ہو بھی تو اسٹیبلشمنٹ ان کو نا قابل ِ اعتماد سمجھ کر اہم کرسیوں اور میزوں سے دور رکھتی ہے- نیشنلسٹ، سیکولر اور جمہوری جماعتوں کی غیر موجودگی میں یہ خلا چاہے گورنر پُر کرے یا کوئی اسلم رئیسانی ، بلوچستان کے ستم دیدہ لوگوں کے دن نہیں پھرنے والے ۔

ان دھماکوں میں ایک نوجوان سماجی کارکن عرفان (خودی) علی کی بھی شہادت ہوئی، وہ آپ کے دوست بھی تھے۔ عرفان کی زندگی میں ہمارے لیے کیا سبق ہے؟

عرفان بھائی ایک دوست کے علاوہ انسانی حقوق کی جدوجہد میں ایک سرگرم اور قابل ِ تقلید شخصیت تھے – اُن سے میری پہلی ملاقات اکتوبر 2011 میں خودی پاکستان کے ‘انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس – اسلام آباد’ میں ہوئی اور اس کے بعد ہم مختلف فورمز پر ساتھ ساتھ کام کرتے رہے – اُن کی زندگی کا سب سے روشن پہلو میرے نزدیک یہ ہے کہ مظلوم کمیونٹی کی نفسیاتی علیحدگی پسندی اور گوشہ نشینی کے برخلاف انہوں نے دیگر اقوام میں گھل مل کر دوست بنانے کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیا۔ خلوص اور انسان دوستی پر مبنی ان کے ان گنت روابط اور رشتوں کی وجہ سے ان کی شہادت پر ہزارہ سے زیادہ غیر ہزارہ اور شیعہ سےکہیں زیادہ غیر شیعہ آنکھیں اشکبار تھیں –

نوجوانوں یا اس تحریر کے قاری کے لیے کوئی پیغام؟

اب جبکہ آہن گر کی دکاں پر تند ہیں شعلے، سرخ ہے آہن، جسم و زباں کی موت سے پہلے ، جب یہ تھوڑا وقت بہت ہے ، اتنا کہوں گا کہ جس غیر اخلاقی تحریک کا آغاز احمدیوں کو ٹارگٹ کرنےسے کیا گیا تھا ، وہ میرے خون پر نہیں رُکے گی ۔ اسلامائزیشن کے علمبردار یہ قاتل میرے قتل کے بعد جفا سے توبہ نہیں کرنے والے، کیونکہ اسلامزم اور اسلامائزیشن (یہ دین ِ اسلام سے مختلف شے ہے ) کا بنیادی مسئلہ ہی یہی ہے کہ سماج اور ریاست کبھی بھی ‘کافی مسلمان’ نہیں ہو ں گے اور تکفیر کے جِن کو ہمیشہ خون کی طلب رہے گی –کل احمدیوں کا خون ہوا ، آج میرا ہو رہا ہے ، کل کس کی باری ہو گی ۔ ۔ ۔ اس کے لیے آپ کو بہر حال سوچنا ہو گا ۔
Categories
خصوصی

A Tribute to Irfan Khudi Ali

Irfan-(Khudi)-AliIrfan Ali, with Khudi Ali as his social media alias, was a peace and human rights activist belonging to Hazara community. Last month, when two bombs blasts on Alamdar Road in Quetta targeting Hazara Shias took more than 100 lives, Irfan was one among who died. He got martyred in the second blast while helping those who injured in the first one. Both his life and death are an inspiration for his friends and fellow activists. Here are some memories and views about Irfan Ali and his life.

 

Rajab Ali (Friend, Activist)

Who would have thought that a young energetic guy of 32 years with curly hairs and persuasive way of discourse would leave us so early when we needed him the most? Words sometimes are not the medium to express our feelings and emotions. Irfan and I had the intimacy that today I still cannot believe that he is no more with us. His ideas were my ideals and his thoughts became my ideology. I used to try to imitate him. The way he stressed some words had the power to attract any stranger he met once in his life. Today he is though physically killed but his martyrdom has made him immortal.


RoohullahGulzari (Friend, Activist)

I met Irfan a few times and he always inspired me. He wanted to bring Hazara issue on the twitter trend list to highlight our plight. But there came the day when his own name #RIPKhudiAli appeared at the top of trend list. That was a heart wrenching moment for me. For me, he was a personification of honesty, compassion and bravery.


BeenaSarwar (Journalist, Activist)

I met Irfan in July in Karachi for the first time at the Social Media Mela, but we had been in touch for some time via email. He was such a bright, smiling, courageous, and committed young man. Irfan was vocal and outspoken on many platforms. His presence will be sorely missed but his legacy of fearless activism remains. The best tribute we can pay him is to continue fighting those very forces that killed him.


Ahmad Shujaa (Washington based Afghan Analyst recalling a recent conversation with Irfan)

It took me a while to notice, but somewhere during that conversation Khudi had broken down, silently crying. I had imagined him as a hardened activist who had grown used to conversations about loss because he dealt with it so often. But that night he seemed just as hurt and vulnerble as the rest of us, pained by the memories of the friends he’d lost, the distances the attacks had created between the Shia-Hazaras and the non-Shia, non-Hazara residents of Quetta. In some ways, he was more hurt than me because, while I reacted to the bloodbath from the safety of Washington, he was in the middle of it, occasionally picking up the dead bodies and, as every so often happened, pieces of bodies….

Activism in Pakistan, as in many developing countries, tends to be an elite preoccupation. People who worry about their next meal rarely lead campaigns, rarely go on hunger strike and almost never coin revolutionary Twitter hashtags. People who have a family to feed and clothe are usually too busy to go to attack sites and rescue victims, to hospitals and give blood, to protest rallies and chant slogans.

So, in a way, Khudi was an elite. But he was in the thick of it everyday. He wasn’t a dual citizen, didn’t have a safe perch, didn’t content himself with online petitions or after-work sit-ins.


Shiraz Hassan (Blogger, Friend, Activist)

This is heart-wrenching. I cannot forget the smiling face of Irfan Ali. He gave a voice to his voiceless community and his words are still echoing in this gloomy atmosphere and asking the government and security agencies to protect its citizens.


TaimurRahman (Singer, Activist)

RIP Irfan. Your knowledge of existential philosophy, love of music, support for human rights, women’s rights, and defense of shias touched all of us. We promise to continue your struggle my friend.


اختر عثمان
ادیب، شاعر، نقاد اور دانشورانسانی تاریخ میں سب سے اہم سوال روئے زمین پر امن کا قیام رہا ہے۔ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں انسان نے دو عظیم جنگوں کا روگن سہا۔ لہٰذا بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں تمام علوم ‘امن مرکز’ ہو گئے۔ جنگ نے ایک صنعت کا درجہ اختیار کیا تو ترقی پذیر مغرب پیداواری معاشرے، اور مشرق صارف معاشرے کے طور پر نمودار ہوا۔ تیسری دنیا جسے اب گلوبل ساوتھ کہا جاتا ہے، خاص طور پر پچھلے تیس برسوں میں نقص امن کا شکار چلی آتی ہے۔ صنعتی سرمایہ داری میں نے اپنا اسلحہ تیسری دنیا کے ان ممالک کو فروخت کیا جو صرف حربی برتری کے حوالے سے سبقت چاہتے ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان ایشیا میں اس سلسلے کی نمایاں مثالیں ہیں جن کے بجٹ کا اسی فیصد سے زائد حربی آلات کی خریداری میں صرف ہو رہا ہے۔ دنیا کے ان خطوں میں ‘امن بذریعہ جنگ’ کے قیام کو باقاعدہ فلسفہ بنایا جا رہا ہے۔ دہشت گردی انہی سماجی و معاشی حالات کی زایدہ ہے۔
جن لوگوں نے قیام امن کے لیے پر خلوص کوششیں کیں، ان میں عالمی دہشت گردی کے تازہ ترین ہدف عرفان علی خودی کا نام امن پسندوں کے لیے ہمیشہ درس کے طور پر آتا رہے گا۔ خودی نے علاقائی اور عالمی سطحوں پر امن کے لیے پایدار اور غیر متزلزل کوششیں کیں۔ اس سفر میں ان کی ملاقات، مکالمے کے لیے مجھ سے بھی ہوئی اور میں نے دیکھا کہ وہ امن کی ٹھوس تجاویز کے لیے ناصرف یہ کہ بیتاب ہیں، بلکہ انہیں عملی صورت میں بھی نافذ دیکھنا چاہتے ہیں۔ عمر کے اُس حصے میں عرفان علی خودی کے لیے دوسرے نوجوانوں کی طرح یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ کوئی بھی تہذیبی ذمہ داری قبول کریں۔ لیکن انہوں نے ایک دیانتدار تہذیبی فرض کے طور پر عالمی امن کو اپنے فرائض میں پہلے نمبر پر رکھا۔ وہ قیام امن کے لیے غیر سرکاری تنظیموں سے امداد طلب بھی نہیں ہوئے اور حکومتوں سے بھی اس سلسلے میں کوئی تقاضا نہیں کیا۔ یوں کہنا چاہیے کہ امن عرفان علی خودی کے لیے عالمی قضیہ تھا، جسے باقاعدہ نظریاتی شکل دینا ان کا نصب العین بن گیا۔ آج عرفان علی خودی ہم میں نہیں، لیکن قیامِ امن کے لیے ان کی کوششیں آتی نسلوں کے لیے راستے ہموار کریں گی۔


سجاد چنگیزی
دوست، نوجوان سماجی کارکن

عرفان بھائی ایک دوست کے علاوہ انسانی حقوق کی جدوجہد میں ایک سرگرم اور قابل ِ تقلید شخصیت تھے – اُن سے میری پہلی ملاقات اکتوبر 2011 میں خودی پاکستان کے ‘انٹرنیشنل یوتھ کانفرنس – اسلام آباد’ میں ہوئی اور اس کے بعد ہم مختلف فورمز پر ساتھ ساتھ کام کرتے رہے – اُن کی زندگی کا سب سے روشن پہلو میرے نزدیک یہ ہے کہ مظلوم کمیونٹی کی نفسیاتی علیحدگی پسندی اور گوشہ نشینی کے برخلاف انہوں نے دیگر اقوام میں گھل مل کر دوست بنانے کو اپنی زندگی کا اصول بنا لیا۔ خلوص اور انسان دوستی پر مبنی ان کے ان گنت روابط اور رشتوں کی وجہ سے ان کی شہادت پر ہزارہ سے زیادہ غیر ہزارہ اور شیعہ سےکہیں زیادہ غیر شیعہ آنکھیں اشکبار تھیں –

 

(Published in The Laaltain – Issue 7)

Categories
نقطۂ نظر

‘حادثہ ایک دم نہیں ہوتا’

ہزارہ نسل کشی اور فرقہ واریت کا تاریخی پس منظر

(الف-ف)

مذہبی معاشروں میں پیشوائیت کے اندرونی تصادم اور عام آدمی کی ‘روح’ پر تسلط کے لیے تکفیر اور قتال کے ہتھیار استعمال کرنا ہر مذہبی معاشرے کا تاریخی تجربہ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد غیرمسلموں کے مرحلہ وار انخلاء کے بعد سیاسی اور مذہبی اکھاڑامسلمان قومیت کے رنگ برنگے پیشواؤں کے لیے خالی رہ گیا۔ ایسےمیں طاقت اور دہشت کی رسہ کشی ایک بالکل فطری اور قابل فہم عمل تھا۔ تقسیم کے وقت ہی مولانا ابوالکلام آزاد اور ایسے دیگر مفکرین نے اس نوزائیدہ مذہبی معاشرے میں جلد یا بدیر فرقہ وارانہ شورشوں کے برپا رہنے کی پیشین گوئی کر دی تھی۔ ترقی کے جدید زاویوں یامذہبی جذباتیت کو اپنا ہتھیار بنانے کے مابین انتخاب کرنے میں پاکستانی قوم ابتدائی تین سے چار عشروں تک کشمکش میں رہی۔ 70ء اور 80ء کی دہائیوں تک ریاستی ڈھانچے غالباًیہ طےکر چکے تھے کہ آنے والی دہائیوں میں لوگوں کے بے ضرر مذہبی عقائد کو گروہی نفرت کی شکل دے کر ریاستی مفادات کے حق میں ایک طاقت کے طور پر برتا جائے گا۔

خطے کا دوسرا اور ملک کا سب سے بڑا مذہب، اسلام گزشتہ بارہ تیرہ صدیوں سے خطے کی ثقافت، معاشرت اور سیاست میں اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اولیائے اسلام کے آفاقی توحید کے پیغام سے متاثر ہو کر اس خطہ کے صلح جو، محبت کیش اور فنون لطیفہ کے دلدادہ لوگوں نے جوق در جوق اسلام قبول کیا توصوفیاء کے آفاقی پیغام اور مقامی لوگوں کی طبع سلیم نے باہم مل کر توحید اور مقامی انسان دوست روایتوں کا ایسا امتزاج پیدا کیا جس سے دنیا بھر میں مسلمانان برصغیر شخصی خصائل، علوم اور فنون لطیفہ کے باب میں دنیا بھر کے لیے ایک عظیم حوالہ بنے رہے۔برصغیر میں مسلم اقتدارکے زوال کے بعد مسلمانان ہند کی سیاسی وفاداریاں باستثناء اگرچہ اپنی زمین سے وابستہ رہیں لیکن روحانی وابستگیاں اور بین الاقوامی معاملات کی فیصلہ سازی  ترکی میں بچی کھچی اسلامی خلافت کے زیر اثر آ گئیں۔ مسلمانوں کے لیے مقدس ترین علاقہ حجاز مقدس بھی خلافت عثمانیہ کا ہی ایک حصہ تھا جسے اٹھارہویں صدی میں عثمانیوں نے ناجدہ کی تحریک کو کچل کے حاصل کیا تھا۔ اس رنجش کے زیر اثر ناجدہ گزشتہ دو صدیوں سے مکہ اور مدینہ کو خلافت عثمانیہ سے چھیننے کی فکر میں رہے تاوقتیکہ پہلی عالمی جنگ میں انگریزوں نے خلافت عثمانیہ کو ختم کرنے کا منصوبہ بنایا اور عرب میں خاندان سعود کو خلیفہ کے خلاف مسلح کرنا شروع کیا۔ بالآخر خلافت کا تختہ الٹ کر جزیرہ عرب کی بادشاہی آل سعود کو سونپ دی گئی۔دو صدیاں قبل ناجدہ کی اس تحریک نے اپنا آغاز بڑے پیمانے پر فروعی عقائد کے نام پر کشت و خون اور مقدس مقامات کے انہدام سے آغاز کیا تھا۔ عثمانیوں کے خلاف جنگ میں صحرائے عرب سے دیگر کئی بدوی قبائل بھی ان سے آن ملے تھے، جن کے مزاج میں روایتی قبائلی منتقم رجحانات پہلے سے ہی موجود تھے۔ جس وجہ سے آتے ہی  یہ تحریک دہشت اور فرقہ وارانہ خونریزی کی ایک علامت بن گئی۔ ادھر برطانیہ کے زیر نگیں ہندوستان میں، جس کی اکثریت خلافت عثمانیہ کی روحانی سیادت کو تسلیم کرتی تھی، انگریزوں نےمسلمان برادری میں عثمانیوں کی حمایت اور تحریک خلافت کا اثر گھٹانے کے لیے سعودی فکر کےپنپنے کا پورا بند وبست کیا۔ جس سے صدیوں سے تفرقہ پروری اور گروہی خونریزی سے ناآشنا ہندوستانیوں میں اچانک ایک دوسرے کے لیے تکفیر اور نفرت کے نعرے گونجنے لگے۔

ہندوستان میں ایک ہزار سال سے آباد مسلمان قوم اس سے پہلے دو بنیادی رجحانات پر مشتمل تھی۔اکثریتی رجحان صوفیائے کرام کے عالمگیر محبت اورذات حق کا عرفان حاصل کرنے کے پیغا  م کو بنیادی عقائد کا محور بنائے ہوئے اپنی مذہبی اور سماجی زندگی نہایت امن و رواداری سے گزار رہا تھا۔ جبکہ دوسرا بڑا مذہبی رجحان، انہی عقائد کے ساتھ ساتھ شہادتوں کےعظیم تر تقدس اور جمہوری احتجاج کو ناانصافی کے خلاف اپنی طاقت سمجھتا تھا۔ ان کی مذہبی رسوم اور اعمال اپنے پیروؤں کو درس دیتے تھے کہ ظلم کے جواب میں غارت گری ہی کا راستہ اپنانے کی بجائے اپنی مظلومیت کو اپنا ہتھیار بنانا خدا کے نزدیک برتر ہے۔ اس رجحان کی باقاعدہ ابتداء اسلامی تاریخ کے ایک نہایت نمایاں واقعہ، جنگ کربلا سے ہوئی تھی۔ لہذا یہ فرقہ شروع سے ظلم اور ظلم کے خلاف مزاحمت کی اس فکر میں حضرت امام حسین اور یزید کو اپنی رسوم میں اچھائی اور برائی کے دو استعاروں کے طور پر یاد کرتا رہا ہے۔اس واقعہ کے ایک نمایاں پہلو کا یہاں ذکر کرنا نہایت برمحل ہے کہ روایتی عرب سماج میں خونیں انتقام کو ایک خاص تقدس حاصل تھا، جس کی وجہ سے زمانہ جاہلیت میں ایک قتل کے جواب میں قتل کا ایک لامتناہی سلسلہ چلتا تھا جو بسا اوقات پوری صدی سے ذیادہ طول پکڑ جاتا۔جبکہ اس جنگ کے بعد ظالمانہ قتل کے جواب میں انتقامی سلسلہ شروع کرنے کی بجائے عرب میں پہلی دفعہ جمہوری انداز میں احتجاجی جلوسوں کی روایت ڈالی گئی۔کوئٹہ کے حالیہ احتجاجی دھرنے، احتجاجیوں کے مطابق اسی روایت کا تسلسل اور بزرگداشت ہیں۔

پاکستان میں حالیہ فرقہ وارانہ فسادات کا باقاعدہ آغاز 70ء اور 80ء کی دہائیوں سے ہوتا ہے۔تب تک معاشی اور فکری پس ماندگی کی شکار سعودی سلطنت نے تیل کے ذخائر کی دریافت کے بعد ایک بین الاقوامی معاشی طاقت کا روپ دھار لیاتھا اور سکّوں کی تازہ کھنک سے ان کے دل میں مسلم دنیا پر ثقافتی غلبے کی دبی خواہش پھر سے انگڑائیاں لینے لگی تھی۔ ادھر ایران میں بادشاہت کا تختہ الٹنے اور حریف مذہبی حکومت کے قیام نے ‘جلتی پر تیل’ کا کام کیا۔سعودی ثقافت مسلط کرنے کے لیے آسان ترین ہدف لامحالہ طور پر پاکستان تھا، جہاں 1978ء میں جمہوری حکومت کو الٹ کر مذہبی لبادے میں ایک فوجی آمریت آ چکی تھی۔ روس امریکہ جنگ میں پاکستان کی حد درجہ دلچسپی کی وجہ سے جہادی عنصر کا فروغ، مذہب کے نام پر مار دھاڑ ایک اہم ریاستی ضرورت بن گیا تھا۔ ان عوامل نے پاکستانی مسلمانوں کی آنے والی زندگی پر سعودی خواہشات کے نفاذ کی راہ  ایک دم ہموار کر دی۔ پاکستان جو کہ افغان سرحدوں پر امریکی سرمائے پر ایک پرائی جنگ اپنے سر لے رہا تھا، اب آل سعود نے بھی اپنے ارادوں کے تحت پاکستانی ریاست پر نوٹ نچھاور کرنا شروع کر دیے، جن سے آمرانہ حکومت اپنے ملک کے اندر فرقہ وارانہ نفرت کے دائمی بیج بوتی چلی گئی اور برابر نوٹ سمیٹتی رہی۔

قومی اور عوامی امن کے ساتھ اس ریاستی کھلواڑ  سے آن کی آن میں پاکستان میں پھر سے تکفیر کے نعرے اور قتل کے فتوے گونجنے لگے۔ جگہ جگہ مخالف فرقوں کی نسل کشی کے لیے مسلح تنظیموں کے تربیت کیمپ کھلنے لگے اور محراب و منبر پر فروعی اختلافات کی ان ان باریکیوں پر دھواں دھار تقریریں ہونے لگیں جو عام مسلمانوں نے پچھلی تیرہ صدیوں میں نہ سنی تھیں نہ کبھی پڑھی تھیں۔ قومی پرچم کا سفید اقلیتی حصہ ادھیڑ پھینکنے کے بعد جھنڈے کا سبز مسلمانی ٹکڑا بھی چیتھڑے ہونے لگا۔ ہارے ہوئے پاکستانیوں نے پگڑیاں اچھال کر عربی رکاف سروں پر باندھ لیے، رمضان کو “رامادان” کہا جانے لگ گیا اور بہت سے شکست خوردہ ہم وطنوں نے اپنی چھتوں سے پاکستانی پرچم اتار پھینک کر اپنے ہاتھوں سے گھروں پر سعودی عرب کا جھنڈا گاڑ دیا۔

سرد جنگ کے خاتمے کے ساتھ ہی ریاست پر نوٹوں کی بارش تھم گئی اور اپنے ہی پالے ہوئے جہادی عنصر کی ضرورت اچانک ختم ہو گئی۔ لیکن تب تک بچے بچے کے دماغ میں باہمی نفرتوں کا زہر سرایت کر چکا تھا اور قومی اتحاد تقریبا پارہ پارہ ہوتا نظر آ رہا تھا۔حکومت نے فرقہ پرست قاتلوں کی سرپرستی سے ہاتھ اٹھا لیا لیکن تب تک مسلح تنظیموں کے ہاتھ اس قدر لمبے ہو چکے تھے کہ انہیں بیرونی امداد کے لیے پاکستانی حکومت کے درمیانی ہاتھ کی ضرورت نہیں رہی تھی۔

موجودہ حالات میں جب فرقہ پرست جنگجوؤں کے راہ و رسم حکومت کے ساتھ ماضی جیسے نہیں رہے، انہیں اپنے محفوظ مستقر بنانے کے لیے ایک ایسا علاقہ چاہیے تھا جس میں ریاستی ڈھانچے کا کوئی عملی وجود نہ ہو۔ لہذا انہوں نے اپنا گولہ بارود سمیٹ کر بلوچستان جیسے شورش زدہ علاقہ میں جا کر بسیرا کیا ہے۔ ہزارہ برادری بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ اور قریبی آبادیوں میں ایک بڑی اکثریت سے آباد ہے۔ یہ لوگ مذہبا ًشیعہ مسلمان اور اکثریتی طور پر فارسی بان ہیں۔ اس جغرافیائی، مذہبی اور لسانی قربت کی وجہ سے پڑوسی ملک ایران کی طرف ان کی آمد و رفت اورروابط بہت دوستانہ ہیں۔گزشتہ چند سالوں سے ان شدت پسند تنظیموں نے بلوچستان کے شیعہ ہزارہ قبائل کی نسل کشی سے اپنے فرقہ وارانہ قتل عام کا سلسلہ از سر نو بحال کیا ہے۔ اس گروہ کے نمائندہ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے ساتھ ساتھ ایران پاکستان زمینی راستے سے گزرنے والے مسافروں اور خاص طور سے شیعہ زائرین کو بڑے پیمانے پر مارنے کا سلسلہ پچھلے کئی عرصہ سے جاری تھا جس سے پاکستانی  عوام ایران کے زمینی راستوں کو غیر محفوظ اور جان جوکھم کا سفر سمجھنے لگے۔ لیکن اس قتل عام پر قومی ذرائع ابلاغ کے ہاں  ایک پراسرار خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ کراچی اور کوئٹہ میں ایک سے لے کر دس بارہ افراد تک کو روزانہ قتل کیا جاتا رہا ہے لیکن ایسے ذیادہ تر سانحے قومی اخبارات میں ایک معمولی سی خبری سرخی جتنی جگہ کا بار بھی نہ پا سکے۔ مجبورا ظلم کا شکار شیعہ برادری نے انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکشن ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے آزادانہ اور غیر روایتی خبری ذرائع قائم کر لیے تاکہ سنجیدہ حلقوں تک ان مظالم کے احوال ہر لمحہ پہنچتے رہیں، لیکن ارباب اقتدار نے کسی بھی سنجیدہ کوشش کو اپنی ترجیح نہیں سمجھا۔ پاکستانی عدلیہ جو پچھلے پانچ سالوں سے شہریوں اور سیاستدانوں کے فروعی مسئلوں پر دھڑا دھڑ ازخود نوٹس لے کر بلاناغہ قومی میڈیا کی شہ سرخیوں پر ہے، اس کے حضور متعدد بار اس قتل عام کے خلاف پٹیشنز دائر کی گئیں لیکن یہ سنجیدہ مسئلہ چونکہ سنسنی خیز مہم جوئی سے خالی تھا، اس لیے شہ سرخیوں میں رہنے کے شوقین ججوں نے اس “غیر اخباری” ایشو پر کسی بھی پٹیشن پر کوئی عملدرآمد کرنا اہم نہیں سمجھا۔

12 جنوری کو جب پورے قومی ذرائع ابلاغ ایک نیم سیاسی لیڈر کے اسلام آباد کی طرف سیاسی مارچ کی کوریج میں مصروف تھے، کوئٹہ میں شیعہ ہزارہ برادری کے رہائشی علاقے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا جس میں سو سے زائد افراد مارے گئے۔متاثرہ شیعہ برادری جو کہ اب تک صبر اور خاموشی کی حدوں کو عبور کیے بیٹھی تھی، انہیں اپنے حالیہ تجربات کی روشنی میں پورا خدشہ تھا کہ اتنا بڑا قومی سانحہ بھی اسلام آباد کی سیاسی گہما گہمیوں کے شور میں ماند پڑ سکتا ہے۔ ایسی صورت حال میں کسی بھی متاثرہ گروہ کا ماورائے قانون ہنگامے کھڑے کر دینا بالکل قرین از توقع تھا۔ لیکن کوئٹہ کے امن پسند ہزارہ شہریوں نے ردعمل کا وہی طریقہ اختیار کیاجو انہوں نے اپنی تیرہ صدیوں سے چلی آ رہی مقدس روایت سے سیکھا تھا۔ ذی شعور اور صابر ہزارہ برادری نے اپنے شہداء کے بیسیوں تابوت  کاندھوں پر رکھ کر علمدار روڈ پر لا کر سجا دیے اور منفی آٹھ درجہ حرارت پر غیر معینہ مدت کا دھرنا دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تب تک اپنے ان لاشوں کو نہیں دفنائیں گے جب تک اس قتل عام سے آنکھیں موندے ہوئی حکومت،  بلوچستان کی غیر ذمہ دار صوبائی حکومت کو برطرف کر کے قاتلوں کے خلاف قابل ذکر اقدامات نہیں کرے گی۔ بین الاقوامی میڈیا پھٹی آنکھوں سے ان غم سے نڈھال اور خاموش سوگوار مسلمانوں کا اچھوتا احتجاج دکھا رہا تھا۔ جن مسلمانوں کے بارے میں اب تک بین الاقوامی ذرائع پر محض یہی دکھایا اور بتایا جاتا تھا کہ مسلمان بات بے بات بگڑ کر اپنی سڑکوں پر توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ جیسا متشدد احتجاج کرنے والی قوم ہیں۔ دھرنا دینے والوں کی استقامت کے آگے ہتھیار ڈال کر بالآخر 72 گھنٹوں کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم نے کوئٹہ آ کر ان کے مطالبات منظور کرنے کا اعلان کرتے ہوئے، بلوچستان کی صوبائی حکومت کو تحلیل کر کے گورنر راج نافذ کر دیا۔

اس فرقہ وارانہ خونریزی کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستانی قوم کے بارے جو شرمناک تاثر پھیل رہا تھا، کوئٹہ کے ہزارہ مسلمانوں کی طرف سے ایسی لازوال مثال قائم کیے جانے کے بعد ایک متبادل رائے کی راہ ہموار ہوتی نظر آ رہی ہے کہ پاکستانی عوام، جمہوری طرز عمل کے ذریعے بھی اپنے مطالبات منوانا، اپنا حق حاصل کرنا اور ظلم کو پچھاڑنا جانتے ہیں۔

گورنر راج کے سرکاری اعلان اور شدت پسندوں کے خلاف ایکشن لینے کے بعد کالعدم تنظیموں کے دو کے قریب مقامی کمانڈر مارے گئے ہیں۔ لیکن شیعہ مسلمانوں کی ٹارگٹ کلنگ کے واقعات دھرنا ختم ہونے کے دوسرے دن سے ہی، نسبتا کم قوت کے ساتھ مگر پھر سے شروع ہو گئے ہیں۔پچھلے تیس برسوں سے یہ مسلح کالعدم تنظیمیں جس قدر اندھی طاقت حاصل کر چکی ہیں، ان کی سرکوبی کے لیے نسبتا بڑے پیمانے کے اقدامات کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ سبھی اقدامات بھی صرف اس صورت کارگر ہو سکتے ہیں اگر عام لوگوں کی سطح پر آ چکے نفرت پسند خیالات اور عدم روادار رویوں کے خاتمے کے لیے ذرائع ابلاغ اور دانشور طبقہ کسی درجہ سنجیدگی دکھائے۔ اور اس سے بھی اہم امر یہ ہے کہ عوام از خود، نفرت اور پھوٹ کو ہوا دینے والے ہر دانشور، مُلا اور ہر سرکاری ادارے کی مذموم کاوشوں کو یک قلم مسترد کر دیں۔

(Published in The Laaltain – Issue 7)

Categories
نقطۂ نظر

From Solidarity with Hazaras to a Common Destiny

hazara-killing-2A recent survey by Pew Research Center gives a bleak picture of the sectarian divide in Pakistani society. According to the survey, about 50% of Sunni Muslims in Pakistan consider Shia beliefs to be heretic or a deviant form of Islam. Further to this, there is polarization within society on almost every social and political issue. If consensus does exist on some issues, there are differences of opinion regarding the pertaining solutions and policies. The general apathy surrounding the persecution of the Hazara Shia community is a manifestation of such polarization. However, in recent weeks an unprecedented show of solidarity for the Hazara community was displayed across the country. The slogan of ‘We are all Hazara’ became a meme.

The Hazara Shia community of Pakistan has been facing systematic persecution for the past decade or so.  More than one thousand innocent Hazara men, women and children have lost their lives to date merely due to their religious beliefs.  But the incident on 10th January, when twin suicide blasts on Quetta’s Alamdar Road killed more than 120 people (most of them Hazaras) was the most devastating one so far. The bereaved community took the dead bodies of their loved ones to the site of the blast and refused to bury them until their demands were met by the authorities.

Hundreds of people, including women and children,  staged a sit-in in freezing temperatures to demand protection and justice. The unusual sight of women in this political gathering and the fact that religious teachings instruct Muslims to bury the dead as soon as possible, couldn’t have sent a clearer reminder of the helplessness and misery of the Hazara community. These heartbreaking images forced common Pakistanis to come out of their homes and participate in the sit-ins to show solidarity for those in mourning and to condemn this barbaric act.

The sit-in that started in Quetta was soon followed by protests in other major cities. Civil society activists and rights organizations staged vigils where non-Shias were outnumbered by Shias. At Liberty Roundabout in Lahore, members of the Christian community, themselves victims of religious extremism, participated with great enthusiasm.

Two aspects which make these nationwide protests distinctive are worth mentioning. Firstly, the nonviolent nature and discipline of these protests was so remarkable that not even a single bullet was fired or a tire set ablaze. Secondly, people participated in these protests to not only to show their solidarity for the bereaved community but also out of a sense of general insecurity as citizens of a state where religious and sectarian differences might eventually become the reason for their death.

The protests resulted in the proclamation of Governor Rule and the sacking of the ineffective government of Chief Minister Raisani. The level of insensitivity of the incumbent CM was such that he used to mock serious security issues with his petty jokes. Leaving aside the fruitfulness of the Governor Rule, this success has at least set a positive precedent that peaceful, non-violent protests are more effective and far-reaching than outrageous vigilantism in which public properties are destroyed. Moreover it also proves that any sort of armed retaliation would also be futile.

As I write these lines I remember Irfan Khudi Ali, a human rights activist and one of the victims of the blasts. My last interaction with him was at a juice shop on the same Alamdar Road where he embraced martyrdom. I remember him mentioning how as Pakistanis we have selective moral outrage when it comes to human rights advocacy. He said that we seem too concerned about the Rohingya Muslims but at the same time indifferent to the persecution of our own compatriots. While quoting Saadat Hassan Manto’s famous saying “Don’t say that 1 lac Muslims and 1 lac Hindus have been killed, say 2 lac humans have been killed”, he urged to raise our voices for all the voiceless communities in Pakistan and around the world. He was indeed blessed with a true humanistic soul. Today he would have been proud to see that his countrymen have come out to join his community’s cause and are united on a simple yet powerful idea that persecution of anyone on the basis of creed is not acceptable.

The Hazara cause should not be seen as an isolated issue from the rest of Pakistan but an indicator of how injustice to one community is bound to spread to the rest. Similarly, our moral support should not be exclusively for Hazaras but should include the communities whose graves and worship places are desecrated every other day in this land of the pure. The mutilated bodies in Balochistan are a stain on our collective morality and our apathy towards it equals legitimizing this heinous act.

In fact, standing for the rights of minorities is nothing short of standing for the noble ideals of religious freedom, pluralism and equality; the ideals Jinnah mentioned in his famous speech before the Constituent Assembly on 11th August 1947. In his speech, Jinnah envisioned the nature of a newly born nation where the state would not interfere with the beliefs of her citizens. Hence any effort to protect a vulnerable community is like embracing, cherishing and realizing Jinnah’s Pakistan.

Although we follow different religions and sects, speak different languages and have distinct racial features, there is an everlasting relation, the thread of humanity, which binds all of us. Beliefs are different, but our destiny is the same and that destiny is a country where people won’t be discriminated on the basis of their identity. Let’s embark collectively on this journey towards a high moral ground with non-violence as a weapon and humanity as our primary slogan, the way the Hazaras did.

 

—Written by Roohullah Gulzari

 

(Published in The Laaltain – Issue 7)