پاروتی کا نیل کنٹھ (ثروت زہرا)

میں نے دھیرے دھیرے خواب کی ایک ایک گانٹھ کھولی اور اس ڈوری کو اپنی گردن پر لپیٹ لیا میں نے آہستہ آہستہ تمنا کی شاخ سبز زندگی کے مرتبان میں ڈال کر اس کی شاخوں کا لیپ تیار کیا اور دل کے زخموں پر لگا لیا میں نے چپکے چپکے شوق کے رسیلے پھل […]
معیشت کی رسی

ثروت زہرا: فصیلوں کے گارے سے
خواہش کی اینٹوں سے
غلامانِ غلاماں ہیں

ثروت زہرا: ہمیں کوئی بھی ڈھانچہ دو گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے
پل لیں گے
ہمیں کوئی بھی کھانچہ دو گے
ڈھل لیں گے
کب تک۔۔۔۔۔ آ خر کب تک

ثروت زہرا: تمہیں معلوم ہے؟
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
ہمارے بندھے ہوئے پروں کی پھڑپھڑاھٹ
وقت کی سانسوں کو پھکنیوں کی طرح پھونک پھونک کر
شعلوں میں تبدیل کرتی جا رہی ہے
آج چھٹی ہے

ثروت زہرا: میں نے شاعری کو زِپ لگا کر الماری میں
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
تہہ کرکے چابی تالا لگا لیا
جذبوں کو پلاسٹک میں لپیٹ کر فریزر میں
اگلے دن کے لئے پھر سے پگھلانے کے لۓ محفوظ کر دیا ہے
