Categories
شاعری

دودھ والے وقت کے بہت پابند ہوتے ہیں (ساحر شفیق)

اگر مجھے بیس منٹ میں کچھ لکھنے کو کہا جائے تو میں کاغذ پر ۷ تک پہاڑوں کے سوا کچھ بھی نہیں لکھ سکوں گا
___یا شاید___
متعدد بار اپنا نام اور پتہ اس رسم الخط میں/ جو میں نے خود ہی ایجاد کیا تھا
میں ان بیس منٹوں میں اپنے دن بھر کے معمولات کے بارے میں کچھ باتیں لکھ سکتا ہوں
میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ میں صرف چھٹی والے دن اپنے جوتے پالش کرتا ہوں
یا یہ کہ میں صبح اس وقت اٹھتا ہوں جب دودھ والا پڑوسی کے فلیٹ پر دستک دیتا ہے
میں بیس منٹ میں آپ کو اس بوڑھے مصور کے بارے میں کچھ نہیں بتا سکوں گا جو تیسری منزل پر عین میرے کمرے کے اوپر رہتا ہے

اگرچہ بیس منٹ کوئی اتنا کم وقت بھی نہیں ہوتا___ خاص طور پر جب آپ بغیر برساتی کے سٹاپ پہ اپنے مطلوبہ نمبر کے روٹ کے انتظار میں کھڑے ہوں___
___یا جب___

دفتر جانے کے لیے آپ کی آنکھ دیر سے کھلے اور پتہ چلے کہ رات آپ صبح کا لباس پریس کرنا بھول گئے تھے

بیس منٹ میں آدمی دفتر سے چھٹی کی درخواست لکھ سکتا ہے مگر اپنی محبوبہ کے نام خط لکھنے کے لیے یہ وقت بہت کم ہے
بیس منٹ کافی ہوتے ہیں/ چائے پینے، ٹائی باندھنے اور ایک زوردار قہقہہ لگانے کے لیے___ مگر کسی بات پر رونے کے لیے 20 منٹ کم پڑ سکتے ہیں
بیس منٹ سوچنے کے لیے کافی ہوتے ہیں
آپ سوچ سکتے ہیں /کوئی کتاب پڑھنے
کسی دوست کو ٹیلی فون کرنے___ ناخن تراشنے یا کسی اُدھوری نظم کو پورا کرنے کے بارے میں
آپ بیس منٹ میں کسی دوست کو منانے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں
مگر روٹھے ہوئے کو منانے کے لیے ۲۰ منٹ بہت کم ہوتے ہیں

اگر کچھ برس پہلے اس دن میں ریلوے سٹیشن ۲۰منٹ لیٹ پہنچا ہوتا تو میری اس سے ملاقات ہی نہ ہوئی ہوتی___
کاش اس صبح دودھ والے نے پڑوسی کے فلیٹ پر ۲۰ منٹ لیٹ دستک دی ہوتی
Image: Richard Odabashian

Categories
شاعری

ہم زندہ رہتے ہیں (ساحر شفیق)

ہم زندہ رہتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
مر جاتے ہیں

ہم نے کبھی سمندری سفر نہیں کیا ہوتا
باغیوں کے کسی گروہ کے ممبر نہیں بنتے
کسی مداری کو زندہ سانپ کھاتے ہوئے نہیں دیکھا ہوتا
ہم اس کے باوجود مر جاتے ہیں

ہمارے پاس ایک دن ہوتا ہے
جسے ہم سو کر گزار دیتے ہیں
اور ایک زندگی
جو کسی لڑکی کے نام کر دی جاتی ہے

جب سورج مر جاتا ہے
ہم چھت پر ٹہلتے ہوئے
پڑوس میں رہنے والی عورتوں کو سونگھتے ہیں
جب فسادات میں مرنے والوں کے اعضاء اکٹھے کیے جارہے ہوتے ہیں
ہم کسی اخباری تصویر پر پنسل سے
مونچھیں بنا رہے ہوتے ہیں

ہم موٹے ہو جاتے ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود زندہ رہتے ہیں

عین اُس وقت /جب ہم خواب میں
کسی نو عمر لڑکی کے بریزئیر کا ہُک کھول رہے ہوتے ہیں
ایک بوڑھی چڑیل ہمارے مُنہ میں پیشاب کر دیتی ہے

جب کوّے اپنا قومی ترانہ پڑھ رہے ہوتے ہیں
سمندر ہمیں خودکُشی کے دعوت نامے بھیجتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔ہم
آگ کا حمل ٹیسٹ کروانے کے لیے جہنم کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہوتے ہیں
ہمارے ہاتھ بوڑھے ہوجاتے ہیں
ہمارے پائوں چُرا لیے جاتے ہیں
دروازہ دیوار میں تبدیل ہوجاتا ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔اور۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم
آگ کے حمل کی طرح گِر جاتے ہیں

Categories
شاعری

آدھا زندہ مجسمہ (ساحر شفیق)

وہ باتیں جو گاڑی چھوٹنے کی وجہ سے
میں اس سے نہیں کہہ سکا تھا
وہ باتیں
ریل کی سیٹی نے جن کے کانوں میں سوراخ کر دیئے تھے

میں نے اسٹیشن پر بکھری ہوئی الجھنوں اور سوالات کو سمیٹ کر
کوٹ کی جیبوں میں بھرا
ریل ایجاد کرنے والے کو گالی دی
فاصلے کو غصے سے گھورا
-اور- قطار میں کھڑے لوگوں کو دھکیلتا ہوا
باہر نکل آیا

میں نے اسمگلنگ کا سامان بیچنے والے آدمی سے
ایک صندوقچہ خریدا
-اور- اس میں تمام باتوں کو بھر دیا
چوروں کے محلے سے ایک تالا خریدا
اسے صندوقچے کے جبڑوں میں پھنسا دیا

میں کئی دن اس صندوقچے کو اٹھائے پھرتا رہا
میں اُسے پہاڑ
-یا-
کسی عمارت کے اوپر سے گرادیتا
اگر مجھ میں ہمت ہوتی
اسے مطلوبہ اونچائی تک لے جانے کی

آخر رات کی تاریکی میں
گڑھا کھود کر دفنا دیا اسے
شہر کے چوک میں نصب مجسمے کے قدموں میں
یہ باتیں تم مجھے ویسے بھی بتا سکتے تھے
یہ کہہ کر مجسمے نے
جھک کر صندوق میں سے ایک بات نکالنا چاہی
میں نے کلہاڑے سے اس کی گردن اڑا دی

صبح شہر بیدار ہوا تو
دیکھنے والوں نے دیکھا
مجسمے کے کندھوں پہ میرا سر لگا ہوا تھا
Image: Kevin Conor Keller