Categories
نقطۂ نظر

میں نے مذہب کیوں چھوڑا؟

فیض کی پنجابی نظم، ربا سچیا توں تے آکھیا سی (اے سچے رب، تو نے وعدہ کیا تھا) ٹینا ثانی کی آواز میں گاڑی کے سپیکر سے نمودار ہو رہی تھی اور میں خیالات کے گردباد میں ڈوبتا جا رہا تھا۔فیض خدا سے مکالمے کے دوران جب کہتا ہے کہ اے خدا اگر تو میری بات نہیں مان سکتا تو کیا پھر میں کوئی اور رب ڈھونڈ لوں، اس موقعے پر گویا دماغ کےاندر کوئی شےچٹخ گئ۔ کیا انسان کے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ ایک نیا خدا ڈھونڈ لے، یا کم ازکم پرانے سے چھٹکارا حاصل کر لے؟ اس سوال کا جواب ہر ذی شعور انسان نے اپنی بساط کے مطابق دینا ہے۔ صدیوں پرانے خیالات، معاشرتی روایات اور گھریلو ذہن سازی جیسی طاقتوں سے ٹکر لینا سہل نہیں ہوتا۔ ایک ایسے نظریے سے نجات پانا جو آپ کی زندگی کا بڑا حصہ ہو، اذیت طلب کام ہے۔ انکار مشکل اور تقلید آسان ہوتی ہے۔ کبھی ایسے بھٹکے ہوئے اور بھٹکانے والے خیالات دماغ میں آئیں تو عربی زبان میں کچھ پڑھ کر پھونک دینے سے وقتی طور پر ایسے جھنجھٹ سے بچا جا سکتا ہے، لیکن یہ نسخہ ہمیشہ بارآور نہیں ہوتا۔ تشکیک کا مرض موزی ہے، انسان کو اعتقاد کی دنیا سے کوچ کرواتا ہے اور فکری تنہائی کے کنویں میں پھینک دیتا ہے۔ ناپختہ اذہان کے لئے اس کیفیت کو سمجھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اچھے بچے اور بچیاں بغاوت نہیں کرتے، چپ چاپ روایت کے بلی چڑھ جاتے ہیں۔ مینڈک جب اپنے کنویں سے باہر نکلتا ہے تو باقی دنیا اجنبی دکھائی دیتی ہے۔ عقائد کے کھونٹوں سے بندھ کر جو اطمینان نصیب ہوتا ہے وہ انکار اور تشکیک کے بیابانوں میں بھٹکنے کی آزادی سے اجتناب کی بڑی وجہ ہے۔

بچپن پنجاب کے ایک چھوٹے شہر میں مذہبی ماحول میں گزرا۔والد صاحب حافظ تھے، تو برخوردار کو بھی اس راہ پر لگانے کی کوشش کی گئی۔ برخوردار نماز روزے کے معاملے میں سستی نہیں کرتا تھا لیکن روایتی تعلیم سے مدرسےتک کا سفر کٹھن تھا لہٰذا جلد ہی مزاہمت کا راستہ اپنایا اور روایتی تعلیم کا سلسلہ بحال ہوا۔ فجر کی نماز کے معاملے میں کوتاہی پر پہلی دفعہ مار پڑی اور مختصر دورانیے کے لئے گھر بدری برداشت کرنی پڑی۔ اس روز تہیہ کر لیا کہ زور زبردستی سے مذہب پر عمل نہیں کرنا۔ لڑکپن میں رضاکارانہ طور پر گھر چھوڑا تو مزید مذہبی ماحول میں پہنچ گیا۔ہاسٹل میں بھی نماز کی سختی تھی۔ وہاں مذہب سے فائدہ اٹھایا۔ موذن بننے کی کوشش کی اور کئ سال کچھ دوستوں سے مقابلہ رہا کہ کون نماز سے قبل مسجد پہنچ کر آذان دے گا اور پہلی صف کا حصہ بنے گا۔ اس مقابلے میں خاکسار کثرت سے اول آتا رہا۔ اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی مذہب کی بدولت امتیاز حاصل کیا کیونکہ سینکڑوں کے ہجوم میں نمایاں ہونا آسان نہیں تھا۔ قریبی دوست تبلیغی جماعت میں تھے لہٰذا خاکسار بھی ان کے ساتھ “بیان” میں بیٹھنے لگا اور ایک آدھ مرتبہ “فضائل اعمال” سے پڑھنے کا موقعہ بھی ملا۔مخصوص دنوں میں مغرب کے بعد “گشت” منعقد ہوتا تو اس میں بھی شریک ہوتا۔ کالج پہنچا تو ہاسٹل میں باقاعدہ مسجد نہیں تھی لیکن ایک جگہ مختص تھی۔ وہاں مغرب کی نماز کی امامت خاکسار کے ذمے تھی۔ اس دوران ذہن میں بہت سے سوال تھے جن کے جوابات تلاش کرنے کی لگن عمر گزرنے کے ساتھ بڑھتی گئی۔

یہ بات سمجھ آئی کہ مذہب، عقل اور منطق کی بجائے جذبات اور اعتقاد سے سمجھ آتا ہے۔ سوال کا کیڑا عقیدت کی عمارت چاٹ جاتا ہے۔ سوال اٹھے تو پہلے ماخذات کا رخ کیا، بخاری شریف پڑھنی شروع کی، نام نہاد علماٴ سے سوالات کئے، اسرار احمد کے راستے غامدی تک آئے اور پھر مذہب اور سیاست کی ملاوٹ اور اس کے موذی اثرات کے باعث مذہبی عقائد کو خیر باد کہا۔ بیرون ملک جانے کا موقعہ ملا تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ مذہب کے بغیر خوش و خرم زندگی گزار رہے ہیں۔ اور ہم ہیں کہ مذہب کے بغیر سانس لینا بھی گوارا نہیں۔جس چیز پر مذہب یا عقیدت کا ملمع چڑھے، اس پر تنقید محال۔اور یہ حال ظاہری طور پر پڑھے لکھوں کا ہے، کم پڑھے لکھے یا ان پڑھ بے چارے یوں ہی بدنام ہیں۔

مذہب کے نام پر دہشت گردی شروع ہوئی تو اپنے نظریات پر نظر ثانی کی۔ سلمان تاثیر کی شہادت نے گویا اونٹ کی کمر پر آخری تنکے کا کردار ادا کیا۔ سلمان تاثیر، شہباز بھٹی، ڈاکٹر علی حیدر، مفتی سرفراز نعیمی اور کئی ہزار بے گناہ ہم وطنوں کی ہلاکت نے جھنجوڑ کے رکھ دیا۔ سوالات بڑھتے گئے۔ اگر اسلام امن کا مذہب ہے تو اسلام کے ماننے والے اپنے مذہب کا نام لینے والے دہشت گردوں کی مذمت کیوں نہیں کرتے؟ مرنے والے اور مارنے والے دونوں کلمہ گو ہیں تو قصوروار کون ہے؟ سلمان تاثیر واقعے کے بعد مقامی مسجد میں مغرب کی نماز ادا کرنے گیا اور فرض نماز کے بعد نمازیوں سے گزارش کی کہ اس واقعے کی مذمت کی جائے۔سنت ادا کر کے باہر نکل رہا تھا تو تین نمازیوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ میرا موقف کیا ہے۔ ان کے مطابق سلمان تاثیر کے ساتھ جو ہوا، بالکل ٹھیک تھا۔ کچھ دیر ان سے بحث کی لیکن ان کا موقف عقلیت کی بجائے عقیدت پر مبنی تھا لہٰذا بحث بے معنی تھی۔ اس رات ایک دوست کی طرف گیا تو اس کی وکیل والدہ کے خیال میں بھی سلمان تاثیر کے قتل کا قانونی جواز موجود تھا۔ اس دن مجھے اپنے بہت سے سوالات کا جواب مل گیا مگر کچھ سوالات کی پتنگیں تجربے اور مشاہدے کی بجائے تحقیق اور تخیل کے آسمان پر اڑانے کو تھیں۔

جون ایلیا کو پڑھا۔ کوئی رہتا ہے آسماں میں کیا؟ ہم تو وہ ہیں جو خدا کو بھول گئے، تو مری جاں کس گمان میں ہے؟ علی عباس جلالپوری کی تصنیف شدہ مذاہب کی تاریخ اور فکری مغالطے پڑھنے کا موقعہ ملا۔ خدا کی وحدانیت کا نظریہ یہودیوں نے پہلی بار کب اپنایا؟ کعبہ اور اللہ کو نام نہاد “دور جاہلیہ” میں کیا مقام حاصل تھا؟ تمام بڑے مذاہب میں خدا کا تصور ایک جیسا کیوں ہے؟ کیا مذاہب ایک دوسرے کا چربہ ہیں؟ پیٹریشیا کرون کو پڑھا۔ اسلام کی ابتدائی تاریخ کے متعلق صرف عرب، مسلمان تاریخ نویسوں پر ہی کیوں بھروسہ کیا جائے؟ رابرٹ ہوئلینڈ کو پڑھا۔ اسلام بطور مذہب اور عرب سامراج کا آپس میں کیا تعلق ہے؟ کیا اسلام نے عرب سامراج کے پھیلاوٴ میں کردار ادا کیا یا سامراج نے سیاسی مقاصد کے لئے مذہب کو جنم دیا؟ لسانیات کے موضوع سے استفادہ کیا۔ انگریزی میں جہنم کا لفظ سکینڈینیون زبانوں سے آیا ہے اور اس کا مطلب ہے برف سے بھرپور جگہ۔ عربی والوں کی جہنم آ گ سے بنی ہے۔ علم آثار قدیمہ پر نظر ڈالی۔ جدید تحقیق کے مطابق عربی زبان کی جس شکل میں قرآن موجود ہے ، مکہ اور مدینہ میں وہ زبان کبھی بولی ہی نہیں جاتی تھی۔ جس علاقے میں اس زبان کے آثار ملے ہیں وہ حجاز سے کئی سو میل شمال میں ہے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔ اگر مذہبی کتب میں سب سوالوں کے جواب موجود ہیں تو نت نئ ایجادات کے متعلق کیا کہا جائے؟ سائنس کی ترقی کے بعد “معجزے” ہونا بند کیوں ہو گئے؟ الہامی کتب میں جو تاریخی اور منطقی سقم ہیں، ان کا کیا جواز ہے؟ تاریخ کے ایک استاد کہتے تھے کہ مذاہب اپنے ادوار کے انقلابات تھے۔ مذاہب جس دور میں ظہورپذیر ہوئے اس دور میں بغاوت کہلائے۔ کیا زمانہٴ حال میں مذہب سے روگردانی ہی مذہب بن جائے گی یہ تو ابھی نہیں کہا جا سکتا مگر ایک بات طے ہے کہ اب زیادہ دیر تک لوگوں کو موت کے مذہبی کنووں میں عقیدت کے موٹر سائیکل چلانے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا، جلد یا بدیر یہ سرکس بھی لپیٹ لیا جائے گا اور یہ قصے بھی بھلا دئیے جائیں گے یا عجائب گھروں میں نمائش کو رکھ دیئے جا ئیں گے۔

 

خادم حسین

Categories
نان فکشن

عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات

روحانیت کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی مذہب کی تاریخ ہے۔ روحانیت کی کوئی حتمی اور متعین تعریف کرنا تو بہت مشکل ہے مگر عام طور پر اس سے مراد مقدس ہستیوں یا تصورات سے وابستگی،عقل اور حواس سے ماوریٰ روحانی تجربات و مشاہدات، مراقبہ، ترک دنیا، زہد و ریاضت اور ضبط نفس پر مبنی زندگی رہی ہے۔ زمانہ قدیم میں روحانیت مذہب اور تصوف کے ملاپ سے وجود میں آتی تھی۔ یہودیت، مسیحیت اور اسلام جیسے آسمانی مذاہب کے علاوہ ہندو مت، بدھ مت اور جین مت جیسے مذاہب میں اس ملاپ سے پیدا ہونے والی روحانیت کی اساس بہت مضبوط رہی ہیں۔ ان مذاہب کے روحانی لوگوں کی مشترکہ اقدار وہی ہوتی تھیں جو اوپر بیان ہوئی ہیں، البتہ اپنے اپنے مذاہب کے زیر اثر مقدس شخصیات، زہد و عبادت کے طریقے اور روحانی تجربات کی نوعیت میں کچھ تبدیلی ہوتی رہتی تھی۔مگر ہر ایک کا مقصود مذہب کے قانونی پہلووں اور ظاہری مراسم سے بلند ہو کر اپنی ذات میں ڈوب کر دل کا سکون تلاش کرنا ہوتا تھا۔تاہم دور جدید میں جب مذہب اور عقیدے کو انسان کی زندگی میں مرکزی مقام حاصل نہیں رہا ہے، روحانیت کی ایک نئی قسم عام ہو چکی ہے جسے غیر مذہبی روحانیت یا Non-Religious Spiritualityکہا جاتا ہے۔ ایک پہلو سے یہ دور جدید کے انسان کا نیا مذہب ہے جو مذہبی عقیدے، ظاہری شناخت، مراسم عبودیت سے ہٹ کر انسانیت کی اعلی اقدار جیسے محبت، ہمدردی، رہم، در گز ر اور باطنی اور ظاہری پہلووں سے انسان کو سکون اور آرام پہنچانے کا نام ہے۔ یہ رنگ و نسل سے بلند ہو کر کائناتی اور آفاقی انسانوں کی تشکیل پر مبنی مذہب ہے۔(1)

باہم رواداری اور مروت کے ساتھ زندہ رہو اور زندہ رہنے دو یہ زندگی کا قانون ہے، یہ سبق میں نے قرآن،انجیل، زند اوستا، اور گیتا سے سیکھا ہے۔(2)

مذہب کے لغوی معنی ہیں راہ یا راستہ جس کو دوسرے لفظوں میں مشرب، طریق، نظریہ اور دین بھی کہا جاتا ہے۔ جب ہم عالمی مذاہب کی بات کرتے ہیں تو اس سے ہماری مراد یہ ہوتی ہے کہ دنیا بھر میں زندگی جینے کے وہ طریقے جو ایک خاص نظریہ کے تحت ہم کو سکھائے گئے ان کا اجتمائی تصور۔عالمی مذاہب میں عام طور پر ہم صرف ایسے چند ایک مشارب کو ہی شمار کرتے ہیں،کیوں کہ پوری دنیا میں عقائد و نظر یات کی جتنی بہتات ہے اس کے پیش نظر اگر دنیا بھر کے مذاہب کا شمار عالمی مذاہب کی فہرست میں کیا جانے لگے تو یہ سلسلہ بہت طول پکڑ جائے گا۔ ان چند ایک میں عام طور سے عیسائیت، اسلام، ہندو ازم، یہودیت، بدھ مت اور جین مت وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ اس کے بالمقابل یہاں اس بات کا تذکرہ بے محل نہ ہوگا کہ دنیا جہاں میں پائے جانے والے ان عظیم مذاہب کے علاوہ مشارب کو ماننے والوں کی بھی کچھ کمی نہیں ہے۔ امریکہ، افریقہ اور ایشیا میں ہی ایسے سیکڑوں نظریات و عقائد ہیں جن کو مختلف مقامات پر عوام الناس میں کافی مقبولیت نصیب ہے۔ ان چند ایک مذاہب جن کا ذکر میں نے اوپر کیا ان کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ وہ مذاہب ہیں جن سے دنیا بھر کے مذاہب کے عقائد کسی نہ کسی طور جڑے ہوئے ہیں، ساتھ ہی یہ تمام مذاہب اتنےقدیم ہیں کہ ان کی رسومات و رورایات سے دنیا کے مختلف مذاہب نے اکتساب فیض کیا ہے۔ ہندو دھرم، یہودیت اور عیسائیت ان مذاہب کی جڑین دنیا کی قدیم تہذیبوں میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ہندو دھر کی بعض روایات جن میں مورتی پوجا، تصور بھگوان اور مختلف طاقتوں کے Supreme ہونے کا نظریہ وغیرہ اتنے قدیم ہیں کہ مصر، بابل و نینوا وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔ حالاں کہ یہ بات کسی طور نہیں کہی جا سکتی کہ Egyptian یا Mesopotamianمذاہب نے ہندو دھرم سے کسی طور استفادہ کیا تھا، یہ تصور اس لئے خام ہے کیوں کہ متذکرہ بالا دونوں علاقوں کی مذہبی تاریخ ہندو دھرم سے قدیم ہے، لہذا اس جملے کے معنی یہ ہیں کہ ہندو دھرم میں ان قدیم مذاہب کی رسومات و روایات کی وہ جھلکیاں اب تک محفوظ ہیں جو اب یکسر معدوم ہو چکی ہیں۔ اسی طرح یہودیت اور عیسائیت کا معاملہ ہے کہ اسلام جیسے عظیم مذہب کی تعلیمات ان سے مشتق ہیں۔ یہ اور اسی نوع کی کئی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ان مذاہب کو عالمی مذاہب میں شمار کیا جاتا ہے۔

دنیا بھر کے مذاہب میں تصوف یا صوفی ازم کے رجحان کی بات کرنے سے قبل یہ بات بھی جان لینا اشد ضروری ہے کہ آخر کار تصوف سے ہم یہاں کیا کچھ مراد لے رہے ہیں۔ یہ لفظ تصوف جیسے انگریزی میں mysticismیا spiritualism کہتے ہیں اپنے آپ میں اتنا متنازعہ ہے کہ اس کے یک رخی معنی پر اکتفا کر لینا اس کے وسعت کی تحدید کر دینے کے مترادف ہے۔ یہ لفظ یک مذہبی اور یک نظری نہ ہوتے ہوئے کثیر مذہبی اور کثیر مشربی ہے۔ لہذا اس کی تعریف بھی وسعت نظر کی متقاضی ہے۔ اس لفظ کے متعلق کسی ایک مذہب کے ایسے کسی بھی ماننے والے کی کوئی تعریف قابل قبول نہیں ہو سکتی جو اپنے مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کی تعلیمات کو قدر و منزل کی نگاہ سے نہ دیکھتا ہو۔ پھر خواہ وہ اپنے مذہب کی تعلیمات میں کتنا ہی زیادہ ماہر کیوں نہ ہو۔ اس کی تعریف اس مذہب کے ماننے والوں کے لئے تو قابل قبول ہو سکتی ہے،پر بین المذاہبی سطح پر اس کو کچھ خاص اہمیت حاصل نہیں ہو سکتی ہے۔ مثال کے طور پر مسلمانوں کے چند علما کا یہ خیال ہے کہ”شریعت محمدی ہی طریقہ تصوف ہے۔ “لہذا اس کو ماننے میں کوئی عذر نہیں پر یہ صرف مسلمانوں کی جماعت کے لئے قابل قبول ہو سکتا ہے نہ کہ عالمی مذاہب میں اس کی قبولیت کو وہ درجہ حاصل ہوگا جو امت مسلمہ کے مابین حاصل ہو سکتا ہے۔ اس کے بر عکس تصوف کی یہ تعریف ملاحظہ کریں :

اقوام عالم کے صوفیانہ ادب اور صوفیوں کے اقوال کے مطالعہ سے یہ بات واضح ہے کہ اپنی ماہئیت کے اعتبار سے تصوف اس اشتیاق کا نام ہے جو ایک صوفی کے دل و دماغ میں خدا سے ملنے کے لئے اس شدت کے ساتھ موجزن ہوتا ہے کہ اس کی پوری عقلی اور جذباتی زندگی پر غالب آ جاتا ہے، جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ صوفی اسی (خدا) کو اپنا مقصود حیات بنا لیتا ہے، گفتگو کرتا ہے تو اسی کی، خیال کرتا ہے تو اسی کا، یاد کر تا ہے تو اسی کو، کلمہ پڑھتا ہے تو اسی کا، شفق کی سر خی میں، دریا کی روانی میں، پھولوں کی مہک میں، بلبل کی آواز میں، تاروں کی چمک میں، صحرا کی وسعت میں، باغ کی شادابی میں غرض کے تمام مظاہر فطرت اور مناظر قدر میں اسے خدا ہی کا جلوہ نظر آتا ہے۔ (3)

یہ تعریف ایسی ہے جس کو ایک حد تک تمام وہ مذاہب جن میں خدا کا ایک واضح تصور پایا جا تا ہے ان میں قبول عام حاصل ہو سکتی ہے۔لہذا ایسی ہی تعریفات کو عالمی مذاہب میں اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ حالاں کہ تصوف صرف خدا کا اثبات، پندو نصاح، اخلاق و کردار اور خدمت خلق نہیں ہے بلکہ اس کو ایک ایسا لازمہ زندگی قرار دیا جا سکتا ہے جس میں ان تمام امور کو ایک خاص طریقہ حیات کے تحت قبولیت نصیب ہوتی ہے۔ اس لئے تصوف صرف ان میں سے کچھ ایک ہونے کے بجائے ان تمام افعال کا آمیزہ قرار دیا جا سکتا ہے جس کی بنیاد اخلاص پر استوار ہے۔

تصوف کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس کے اثرات نہایت قدیم ہیں۔ یونانیوں کے یہاں تصوف کا رجحان موجود تھا اس کی واضح دلیل یہ ہے کہ انگریزی لفظ Mysticismیونانی زبان سے ہی آیا ہے۔ اس کا تذکرہ ڈاکٹر ہریندر چند ر پول نے اپنی کتاب Jalal-ul-deen Roomi and Tasawwufکے Sufism and its Exponentsکے باب کی ابتدا میں کیا ہے۔وہ تصوف کی تعریف بیان کرتے ہوئےpsychology of religious mysticismکے حوالے سے لکھتے ہیں :

The term ‘mysticism’ comes from Greek word which designated those who had been initiated into the esoteric rite of the Greek religion. The following definitions, selected from a large number of the same tenor, indicate that this use of the term is in substantial agreement with the generally accepted understanding of it in Protestantism: ‘Mysticism is deification of man’: it is ‘a merging of the individual with the Universal will’; ‘a consciousness of immediate relation with the Divine’: and an intuitive certainty of contact with the super sensual world’: etc.(4)

باطنیت اور روحانیت سے متعلق نظریات کی ایک لمبی تاریخ ہے،جس زمانے میں یونانی روحانیت کے مختلف النوع نظریات کی اخترا ع کر رہے تھے اس عہد میں مصری تصوف اور چینی تصوف کی جڑیں تقریبان مضبوط ہو چکی تھیں اور بعد کے عہد میں ہندوستان، روم اور عرب میں بھی اس کے اثرات مختلف انداز میں مرتب ہوئے۔ الہیات سے متعلق جتنے نظر یات قدیم دنیا میں پائے جاتے ہیں ان سب میں اگرکوئی ایک مشترک پہلو نظر آتا ہے تو وہ تصوف اور احسان ہی ہے۔ ورنہ ان تمام مذاہب کی رسومات ایک دوسرے سے یکسر جدا ہیں۔بقول پروفیسریوسف سلیم چشتی :

ہر مذہب ہر قوم، ہر ملک اور ہر دور کا تصوف کا طریقہ کار ایک ہی رہا ہے۔یعنی عشق،اگر خدا محبوب ہے اور انسان محب ہے تو لا محالہ محبوب کے حصول کا طریقہ محبت (عشق) ہی قرار پا سکتا ہے۔ دوسرا کوئی طریقہ نہیں ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ (الخ)۔ تصوف کے اصول اور مبادی ہر قوم میں یکساں رہے ہیں۔ ہر صوفی در اصل عاشق ہوتا ہے اس لئے ہر قوم اور ہر ملک کے تصوف کا دار و مدار عشق و محبت ہی پر ہے۔ فرق جو کچھ نظر آتا ہے وہ صرف ظاہری اوضاع و روسوم میں ہے۔ مثلا ً جب عید کے دن کسی شہر کے مسلمان عید گاہ کی طرف جاتے ہیں تو ایک آدمی پیدل عید گاہ جاتا ہے تو دوسرا بیل گاڑی میں،تیسرافٹن میں، چوتھا موٹر میں۔ ان کی وضع ظاہری اور رفتار میں تو فرق نظر آتا ہے مگر منزل مقصود چاروں کی ایک ہی ہے اور جذبہ محرکہ (داعیہ باطنی )ایک ہی ہے۔ (5)

یہاں یہ دو بنیادی سوال قائم ہوتے ہیں کہ آخر یہ عشق کیا ہے ؟ اور ظاہری اوضاع سے عالمی مذاہب کے تناظر میں کیا کچھ مراد لیا جا سکتا ہے۔ اول الذکر کے تعلق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ عشق سے مراد یہاں دنیا اور مالک دنیا سے ہر طرح کی وابستگی عشق کے مترادف ہے۔ خدمت خلق میں خود کو اس حد تک وقف کر دینا کہ کسی نوع کے اختلاف کی گنجائش باقی نہ رہے اور راہ خدا میں اتنا مگن ہو جانا کہ راہوں کی تفریق کا خیال مٹ جائے یہ دو نوں باتیں عشق کے ذیل میں آتی ہیں۔ ظاہری اوضاع سے مراد وہ تمام ثقافتی علامتیں ہیں جو انسانی تاریخ نے کسی ایک مذہب سے وابستہ کر دی ہیں، جن میں رہنے سہنے، اوڑھنے، پہننے، کھانے پینے اور عبادت کرنے کے طریقوں وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں تصوف کے تناظر میں ایسا کوئی اصول نہیں جس سے عشق کے تقاضوں کی تحدید کی جا سکے۔ خدا اور بندہ خدا سے محبت ایک ایسا لازمہ ہے جس پر ایک صوفی کا مشرب قائم ہوتا ہے، لہذا کفر و ایمان کی کوئی بحث اپنے،( جوکہ ہر معاشرے میں اپنے معروف معنوں کے ساتھ رائج ہے) اس کا یہاں کچھ گزر نہیں۔

عالمی مذاہب میں تصوف کی بحث کے تحت ایک سب سے بڑا مسئلہ مقدس کتابوں کے اثبات کا ہے کہ مختلف مذاہب کی جو مقدس کتابیں پوری دنیا کے مختلف النوع مذاہب کے ماننے والوں کے پاس موجود ہیں ان کی حقیقت کو کیوں کر تسلیم کیا جائے۔ ایک صوفی کا یہ تشخص ہے کہ وہ مذہب سے متعلق تمام آسمانی کتب کا اعتراف کرتا ہے اور اس کی تعلیمات کو اہمیت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ کسی ایک مذہب کو ماننا یہ عدم صوفی ہونے کی علامت نہیں ہے،بلکہ کسی بھی مذہب کا انکار کرنا غیر صوفی ہونے کی نشانی ہے۔ مرزا مظہر جان جاناں نے اپنے ایک خط میں ہندو مذہب کی تعلیمات کا جس طور اثبات کیا ہے اس سے اس خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔ بہر کیف عالمی مذاہب میں ایسے بہت سے رجحانات ہے جو تصوف کی سطح پر آ کر ایک ایسا نظام زندگی مرتب کرتے ہیں جہاں دوئی کے جھگڑے کی یکسر تکذیب ہوتی ہے۔میں یہاں چند ایک مقدس کتابوں کے حوالے سے مختلف مذاہب کی تعلیمات کی ایک جھلک پیش کر رہی ہوں، جس سے عالمی مذاہب میں تصوف کے رجحانات کا علم ہوتا ہے کہ کس طرح تصوف کے علمی اور عملی کردار سے کئی ایک پیمانوں پر الگ الگ مذاہب کے ماننے والے ایک سطح پر نظر آتے ہیں۔یہاں اس بات کا تذکرہ بھی کرتی چلوں کہ دنیا بھر کے مذاہب کو عام طور پر دو خانوں میں بانٹا جاتا ہے۔ایک سامی مذاہب اور دوسرا غیر سامی مذاہب۔ سامی مذاہب میں یہودیت، عیسائیت اور اسلام کا شمار ہوتا ہے اور غیر سامی مذاہب میں ہندو دھرم، زرتشتیت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت وغیرہ شامل ہیں۔

غیر سامی مذاہب :

یہ بات اظہر من شمس ہے کہ ہندو دھرم کی مقدس کتابوں میں وید کو بڑی اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس مذہب کی بنیادیں ویدوں کی تعلیمات پر ہی استوار ہیں۔ ہر وید کو ہندودھرم کے بڑے گیانیوں، پنڈتوں اور اچاریوں نے بنیادی طور پر تین خانوں میں بانٹا ہے۔ جس کا سب سے آخری حصہ اپنشد کہلاتا ہے۔ اپنشد کو ہندوستان کے قدیم تعلیمی نظام کا ایک بڑا ماخذبھی تصور کیا جاتا ہے، لہذا اس کی تعلیمات سے کوئی وہ شخص صرف نظر نہیں کر سکتا جو قدیم ہندوستانی تاریخ کے مطالعے کا ذوق رکھتا ہو۔ اپنشدوں میں تصوف کی تعلیمات بھری پڑی ہیں، اس کی ایک خاص وجہ یہ بھی نظر آتی ہے کہ یہ اپنشد جس عہد میں ہندوستان میں رقم کئے گئے اس زمانے میں یہاں مذہبی تعلیمات کا بڑا زور تھا اور تصوف چونکہ رواداری اور انکساری کے ساتھ فروغ دین کا کام انجام دیتا ہے اس لئے اس طریق کو گیانیوں، پنڈتوں اور ناتھ پنتھیوں نے ہمیشہ سے بہت اہمیت دی ہے۔ اپنشدوں میں ویسے توبہت سی اور مختلف النوع تعلیمات تصوف ملتی ہیں، لیکن سب سے زیادہ جس قسم کی تعلیمات کا زور اس میں نظر آتا ہے وہ بے ثباتی دہر کی تعلیم ہے۔ دنیا اور آخرت کی تعلیم کا بہت واضح تصور اس میں پیش کیا گیا ہے اور تصوف کی خاص اصطلاحات کے ذریعہ عوام الناس میں تصور تارک الدنیا کو عام کیا گیا ہے۔ لیکن اس کی ایک خاص بات یہ بھی نظر آتی ہے کہ تارک الدنیا ہونے سےاپنشد نے جو مراد لیا ہے وہ اس قوم کے مترادف ہے کہ ” دنیا ایسے کماو کہ ہاتھ تک آئے دل تک نہ پہنچے۔” لہذا اس کی تعلیمات اس حوالے اور زیادہ قابل قبول گردانی گئیں۔ اپنشدوں کو مسلم صوفیہ نے بھی بہت قدر و منزل کی نگاہ سے دیکھا،اس کی ایک واضح دلیل یہ ہے کہ ارونگ زیب کے بڑے بھائی داراشکوہ جنہوں مغل دور حکومت کے عہد عروج میں تصوف کے کار ہائے نمایاں انجام دئے اور سیر الاولیا جیسی تصوف کی معرکۃ آرا کتاب تصنیف کی، انہوں نے 56اپنشدوں کا اس عہد میں فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور اس کی تعلیمات کا اثبات کرتے ہوئے اس کی ہر حوالے سے تشہیر کی۔ بہر کیف یہاں میں اپنشدوں کی انہی تعلیمات تصوف میں سےچند ایک کو یہاں پیش کر رہی ہوں، جس سےاپنشدوں کی تعلیمات کے صوفیانہ مزاج کا علم ہوتا ہے۔

اپنشدوں کی صوفیانہ تعلیمات:

1۔ دنیا میں رہو مگر اس سے دل مت لگاو۔ ویرا گ (تبتل یا انقطاع عن ماسو ی اللہ) بہترین طرز حیات ہے۔
2۔ دنیا کی نعمتوں سے تمتع جائز ہے۔ مگر انہیں مقصود حیات بنانا نا جائز ہے، کیوں کہ جو شخص فانی چیزوں سے دل لگاتا ہے وہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے۔

3۔ انسان کے حقیقی دشمن باہر نہیں ہیں،بلکہ اندر ہیں اور وہ حسب ذیل ہیں۔
• کام (شہوت)
• کرودھ (غضب)
• موہ (حرص)
• لوبھ (طمع)
• اہنکار(عجب)
4۔ جب تک ان دشمنوں (اور نفس امارہ انہیں کے مجموعے کا نام ہے۔) کو مغلوب نہیں کرو گے۔ عرفان (برہم گیان ) حاصل نہیں ہو سکتا۔
5۔ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو اس میں یہ چار صفات پیدا ہو جاتی ہے۔
• اطمنان
• ہمت
• طاعت
• خدمت خلق
پھر وہ دسروں کو فائدہ پہنچانے کے لئے جیتا ہے۔
6۔ ایشور صرف انہیں کو در شن دیتا ہے جو اس کے دیدار کے لئے بیتاب ہیں اور اسے حاصل کرنے کے لئے سراپا جستجو ہوں۔ اس کو پانے کی شرائط حسب ذیل ہیں :
• دم (ضبط نفس)
• دان (ایثار)
• دیا (شفقت)
• جاپ(ذکر)
• تپ(مجاہدہ)
• دھیان (مراقبہ)

7۔ فانی سے دل لگانا سب سے بڑی نادانی ہے۔
8۔ حق تعالی متحرک بھی ہے، غیر متحرک بھی ہے۔ چلتا بھی ہے، ساکن بھی ہے، دور بھی ہے، قریب بھی ہے۔ اندر بھی ہے باہر بھی ہے۔(6)

اپنشدو کی مانند ہندو دھرم میں شری مد بھگوت گیتا کو بھی بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ یہ کتاب بھگوان کرشن کے ان احکامات پر مبنی ہے جو انہوں نے ارجن کو دیئے تھے۔ اس میں کل اٹھارہ ادھیائے ہیں اور ان اٹھارہ ادھیاوں میں بھگوان کرشن نے ارجن کو حق و باطل کی جو تعلم دی ہے اس سے تصوف کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ حالاں کہ گیتا ہندو دھرم کی آسمانی کتاب کبھی تصور نہیں گئی اور ویدوں کی طرح ہندودھر کے اعلی تعلیم یافتہ طبقے میں اسے وہ مقام نہیں حاصل جو اپنشدوں کا حاصل ہے، پر یہ کتاب ویدوں سے کہیں زیادہ عوام و خواص میں مقبول رہی ہے۔ اس کتاب کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ البیرونی نے آج سے ایک ہزار برس پہلے جب ہندوستان کا سفر کیا تھا اور اس سفر کی داستان کتاب الہند کے نام سے لکھی تھی تو اس میں انہوں نے گیتا کے حوالے سے یہ جملے رقم کئے تھے کہ” یہاں کے باشندے ایک کتاب کو بہت زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو ان کی مذہبی مقدس کتب میں شمار ہوتی ہے اور اس کتاب کا نام گیتا ہے۔ ” گیتا میری ناقص رائے میں تصوف کی بہت اہم کتاب متصور کی جا سکتی ہے، اس کی خاص وجہ یہ ہے کہ اس میں زندگی کو جس طرح جینے اور اس کے مسائل سے نبرد آزما ہونے کا سبق دیا گیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کرشن ایک مرشد کامل کی مانند اپنے مرید کو راہ سلوک کی منازل طے کرنے کا طریق سکھا رہے ہیں۔ اس میں اتنا زیادہ تصوف ہے کہ اس کے کسی ایک ادھیائے کے ایک اقتباس پیش کرنے سے اس کی مکمل عکاسی ممکن نہیں،بہر کیف میں یہاں اس کے دو، ایک اقتباس پیش کر رہی ہوں تاکہ ان تعلیمات کی ایک جھلک نظر آ جائے۔
شری مد بھگوت گیتا میں تصوف:

o بھگوت گیتا جو کہ برہم ودیا یعنی فلسفہ بھی ہے اور یوگ شاستر یونی تصوف بھی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ حقیقت کیا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ انسان اس تک کیسے پہنچ سکتا ہے۔ خدا تک پہنچے کے تین راستے بتائے ہیں :
• جنان مارگ (طریق علم )
• بھگتی مارگ (طرق عشق )
• کرم مارگ (طریق عمل )۔ (الخ)

o گیتا میں ویدانتی تصوف کے تمام اسرار و رموز بالوضاحت بیان کر دئے گئے ہیں جن کا خلاصہ یہ ہے:
خدا کو اپنا مقصود بناو۔

• اس سے محبت کرو تاکہ اسے حاصل کر سکو۔
• خدا اپنے عاشقوں کے دلوں میں رہتا ہے۔
• جو اسے چاہتا ہے وہ اسے ضرور درشن دیتا ہے۔
• ساری زندگی اس کے لئے بسر کرو۔
• نیک اعمال بجا لاو، مگر نیت یہ ہو کہ خدا مجھ سے خوش ہو۔
• سب انسانوں سے محبت کرو۔
• یہ دنیا خدا کی جلوہ گاہ ہے۔ ہر شئے مظہر خدا ہے۔
یہی تصوف کی روح اور یہ ہی گیتا کا اپدیش ہے۔(7)

گوتم بدھ ایک صوفی تھے۔ ایک کامل صوفی۔ جنہوں نے پوری زندگی زہد و تقوی اور عبادت و ریاضت میں گزار دی۔ حالاں کہ ان کے نام سے ساتھ لفظ صوفی استعمال کرنے پر کافی متبازعہ ہوا ہے۔ لیکن اگر ہم بدھ مت کی تعلیمات اور گوتھ بدھ کی زندگی حالات و واقعات کا مطالعہ کریں تو علم ہوتا ہے کہ ان کے لئے لفظ صوفی سے زیادہ بہتر کوئی لفظ نہیں۔ نروان اور ترک دنیا کی تعلیمات جس عہد میں انہوں عام کی اس عہد میں عوا م میں اس کا کوئی واضح تصور موجود نہ تھا۔ صوفی تعلیمات میں بعد کے عہد میں جو کچھ تصرفات ہوئے ان میں گوتم بدھ کی تعلیمات کا خاصہ حصہ پایا جاتا ہے۔ گوتم بدھ کی تیس سالہ زندگی چونکہ عام انسانی زندگی ہے اور بچپن سے لے کر عنفوان شباب تک کے حالات کچھ بہت زیادہ متاثر کن نہیں ہیں۔پھر بھی تیس سال کی عمر کے بعد ان کی ذہنی بیداری کو محسوس کیا جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ ان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ جس عہد میں پیدا ہوئے تھے، اس عہد کی ایک مشہور بزرگ ہستی نے ان کو دیکھتے ہوئے اس بات کا افسوس ظاہر کیا تھا کہ ان کی پیغمبرانہ اور صوفیانہ تعلیمات سے دنیا بیدار ہوگی لیکن میں اس کو دیکھنے کے لئے زندہ نہ رہوں گا۔ گوتم بدھ کی ذات واحد ایک صوفی نما ہوتے ہوئے کسی کرامت کا مظاہرہ کرتی نظر نہیں آتی ہے۔ ان کی کرامت ان کی اپنی تعلیمات ہیں جس سےدنیا و آخرت کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ان کی صوفیانہ ذات کا اعتراف ان تعلیمات سے ہوتا ہے جو بدھ مت کی مذہبی کتب میں درج ہیں، لہذا اس سے تصوف کی قدامت اور بالا دستی کا احساس بھی قوی ہوتا ہے کہ دنیا کے کتنے عظیم رہ نماوں نے اس طریق کو اپنا کر اس دنیا میں امن و آتشی، انسان دوستی اور خدا ترسی کا سبق عام کیا۔میں یہاں ان کی صوفیانہ تعلیمات کا ایک نمونہ پیش کر رہی ہوں جس سے بدھ مت کی صوفیانہ مزاجی کا علم ہوتا ہے۔
گوتم بدھ کی صوفیانہ تعلیمات:

o اس شخص کی تنہائی کس قدر پر مسرت ہے جو مکمل خوشی ہے بہریاب ہے، جس کو حق کی معرفت حاصل ہو چکی ہے۔ جو حق کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ باعث مسرت ہے۔ بغض و نفرت چھٹکارا پا لینا اور تمام مخلوقات کے سلسلے میں ضبظ نفس کا حامل ہونا باعث خوشی ہے، نفس پروری سے رہائی حاصل کر لیانا، تمام خواہشات کے پار ہو جانا۔ اس تکبر کو “جو میں ہوں “کے تصور سے پیدا ہوتا ہے ایک طرف اٹھا کہ رکھ دینا یہ ہی اعلی ترین مسرت ہے۔

o میں نے تمام دشمنوں پر فتح پا لی ہے۔ میں دانا ترین ہر صورت میں عیب سے پاک ہوں۔ میں ہر چیز کو ترک کر چکا ہوں اور خواہشات کو فنا کر کے نجات حاصل کر چکا ہوں۔ خود اپنی کوشش سے معرفت حاصل کرنے کے بعد۔ اب میں کس کو اپنا استاد کہوں۔ کوئی میرا ہم پلہ انسانوں اور دیوتاوں میں کوئی میرا جنس نہیں۔ اس دنیا میں میں ہی مقدس ترین ہوں۔ میں ہی عظیم ترین استاد ہوں اور اکیلا میں ہی عارف مطلق ہوں۔ میں نے جذبات اور خواہشات کی آگ بجھا کر ٹھنڈک پا لی ہے اور نروان حاصل کر لیا ہے۔(8)

مدھ مت کی طرح جین مت میں بھی تصوف کی تعلیمات کے اثرات بڑے پیمانے پر دیکھنے کو ملتے ہیں :

جین مت میں چونکہ نجات کا دار و مدار کسی غیبی طاقت کے فیصلے یا دیوتاوں کی مر ضی کے بر خلاف سر تا سر انسان کے ذاتی سعی و کوشش پہ مبنی ہیں اس لئے اس مذہب میں ایک بہت تفصیلی لائحہ عمل تجویز کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف نوعیت کے قوانین، اصولوں اور ضابطوں کی متعدد فہرستیں ہیں جو جین مت کے مطابق ہر نجا ت خواہش مند کے لئے لازمی ہیں یہ اصول و ضوابط تعدا د میں اتنے زیادہ اور ہمہ گیر ہیں کہ فرد کی ذاتی و سماجی زندگی کا کوئی گوشہ ان کے دائرے سے باہر نہیں رہ گیا ہے۔ (9)
مندرجہ ذیل اقتباسات جین مت کی صوفیانہ تعلیمات پر مبنی ہیں۔ اس سے جین مت میں تصوف کس نوع سے اپنی شناخت قائم کر تا ہے اس کو بحسن و خوبی محسوس کیا جا سکتا ہے۔
جین دھرم کی تعلیمات تصوف :

o نجات حاصل کرنے کے للائحہ عمل کو جین مت نے تین بڑے حصوں میں بانٹ دیا گیا ہے۔جو جین مت میں تری رتن (جواہر ثلاثہ کہلاتے ہیں )۔ جین مت کے یہ جواہر ثلاثہ مندرجہ ذیل ہیں :
• سُمیک درشن (صحیح عقیدہ)
• سُمیک گیان(صحیح علم)
• سُمیک چرتر(صحیح عمل)

جین مت کی اخلاقی تعلیمات میں سب سے بنیادی اہمیت ان پانچ ورتوں (واحد : ورت)ہے۔ جن پر ہر جینی کو تا زندگی عمل کرنے کا عہد کرنا پڑتاہے اور وہ بنیادی عہد یہ ہیں :
• اہنسا (عدم تشدد)
• ستیہ (راست گفتاری)
• استیہ (چوری نہ کرنا)
• براہم چریہ(پاک بازی)
• اپری گرہ (دنیا سے بے رغبتی )۔(الخ)

o ان پانچ بنیادی عہدوں کے علاوہ جو کہ تمام جینیوں کے لئے لازم ہیں گرہست جینیوں کو سات مزید فروعی عہد کرنے ہوتے ہیں جوکہ جین مت کے تصور میں ان کو بنیادی عہدوں آنے جانے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ فروعی عہد اس طرح ہیں :

• دگ ورت
• دیش ورت
• انرتھ ڈنڈ ورت
• سامائکا
• پردشادھو پادسا
• اپابھوگ، پری بھوگ،پری مان
• اتی سمو بھاگ

o مندرجہ بالا قوانین اور ان جیسے اور دوسرے اعمال کے علاوہ جو کہ جین مت میں گرہست جینیوں کی روحانی ترقی کے لئے تجویز کئے گئے ہیں۔ گرہست جینیوں کے روحانی ارتقا اور موکش سے ان کی درجہ بدرجہ قربت کو ایک اور اسکیم کے ذریعہ متعین کیا گیا ہے، جو کہ گیارہ پریتمائیں یا روحانی زندگی کے گیارہ مدارج کہلاتے ہیں۔ ان پریتماوں کے ذریعہ گرہست درجہ بدرجہ روحانی ترقی کرتا ہوا وہ ہی فوائد حاصل کر سکتا ہے جو کہ ایک جین سادھو کو اپنے سنیاس کے درجہ کمال میں حاصل ہوتے ہیں۔(10)

زرتشتیت کی مقدس کتاب اوستا مختلف طرح کی تحریرات میں پر مشتمل ہے۔ (الخ)۔ یہ امیشا اسپنٹا (نورانی ابدی ہستیاں )، وہومنا (نیک خیال)، آشا (راستی، الوہی قانون)، خشتر (سلطان الہی )، آرا میتی (عقیدت یا جذبہ الہی)ہور ویتات (کمال اور بے عیبی)، امیریتات (بقائے دوام )ہیں۔ دوسری طرف گاتھاوں میں انسان کے لئے برائی اور بھلائی میں انتخاب کی آزادی کے ساتھ ساتھ اخلاقی ذمہ داری کا تصور بھی بہت پر زور طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔(11)

زرتشیت کی تعلیمات تصوف :

• وہی تجھ سے مل سکتے ہیں اے اہورا جو اپنے اعمال راستی اور نیک خیال کے الفاظ اور زبان کے ذریعہ جس کا کہ تو اولین رہ نما ہے اے مزد تیرے آقا ہونے کا اعتراف کرتے ہیں۔
• محنت کش انسان جس کا عمل انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔ جو دانائی اور روحانی حکمت سے بھرا ہوا لیکن خاک سار ہوتا ہے۔ جو بلند کردار پیغمبر کا وفا دار ہے، وہی چستی یعنی اپنی معرفت و حکمت کے سبب دنیا کا بادشاہ ہو جائے گا۔
• کائنات کی بنیادی حقیقت یہ دو ہیں۔ ایک خیر ایک شر کائنات کی حکومت ان دونوں میں تقسیم ہے اور دونوں ایک ازلی لڑائی میں مصروف ہیں۔ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ خدائے خیر کے ساتھ تعاون کریں جس کو بالآخر فتح ہونا ہے۔(12)

سامی مذاہب :

یہودیت، عیسائیت، اسلام اورتصوف :

یہودیت، عیسائیت اور اسلام ان تینوں مذاہب کی چونکہ اساس ایک ہے، اس لئے ان تینوں مذاہب کی صوفیانہ تعلیمات بھی تقریباً ایک جیسی ہیں۔ لیکن خالص مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو علم ہوتا ہے کہ چونکہ ان تینوں مذاہب کا شرعی نظام مختلف ہے اور اس کے ادوارمیں بھی خاصہ بعد ہے اس لئے تعلیمات تصوف میں بھی یک گنا تبدل نظر آتا ہے۔ اسلام میں تصوف کی روایت خود عہد محمد ﷺ سے ایک صدی بعد مستحکم ہونا شروع ہوئی لہذا عیسائیت اور یہودیت میں اس کی جڑیں ویسی کیوں کر نظر آ سکتی ہیں جیسا کہ بعد از اسلام کے تصوف میں نظر آتی ہیں۔ عیسا ئیت میں جس نوع کی صوفیانہ روایت پائی جاتی ہے اس سے ہمارے عہد کے بڑے محققین کو یہ گمان گزرا ہے کہ تصوف کی اصل مذہب عیسوی ہی ہے۔ لیکن یہ خیال خالص مستشرقین کا ہے، جبکہ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ اسلامی اور عیسائی تصوف میں شرعی بعد کی وجہ سے خاصہ فرق پایا جاتا ہے۔ بہر کیف یہ خالص علمی بحث ہے کہ دینے عیسوی میں علم لطائف اور اذکار وظائف، مراقبہ و مشاہدہ اور وجود باری تعالی کے وہ مباحث کیوں کر نظر نہیں آتے جو کہ اسلامی تصوف کے عروج کے بعد زیر بحث آئے۔ خود توحید کی جس بحث کو احمد بن روئم کے عہد میں چھیڑا گیا اور توحید کے نقطہ کمال تک تصوف کے کاملین نےاعلی نوع کے مباحث قائم کئے وہ عیسائیت کے کسی بھی دور میں نظر نہیں آتا۔ عیسائیت میں روح القدس کا تصور ایسا ہے جس کو عیسی ؑ کے ایک سو بچاس برس بعد زیر بحث لایا گیا اور اس پر ان عیسوی علما نے جم کے بحثیں کیں جن کو بعد از اسلام کے صوفیہ سے مشابہ قرار دیا جا سکتا ہے۔ یوحنا کے ترتیب انجیل کے بعد ان مباحث میں مزید اضافہ ہوا۔ بہر کیف یہودیت کا معاملہ اس سے ذرا مختلف ہے۔ مثلا ً زبور اورعہد نامہ قدیم یا توریت کا ظہور جب ہوا اس زمانے میں توحید کے صوفیانہ مباحث کا رواج نہیں تھا۔ اسی طرح تصوف کے وہ زیادہ تر رجحانات اس عہد میں اس مقام پر مفقود تھے جہاں زبور یاتوریت نازل ہوئی۔ پھر بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اذکار و اودار کے پیش نظر زبورکی اچھی خاصی آیات کا مزاج قران سے میل کھاتا ہے۔ سورۃ فاتحہ جس کو اسلامی تصوف کو فروغ دینے والے عظیم صوفیہ نے بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا اور اذکار میں اس کی اہمیت کے بہت فضائل بیان کئے ہیں، اس قسم کی آیات زبور میں بھی نظر آتی ہیں۔ اس سے تصوف کا برائے راست یہ تعلق ہے کہ وہ ایک سالک کے لئے ان راست بازیوں کا سامان مہیا کرتا ہے جس سے سلوک کی منازل طے کرنے میں سالک کو معاونت حاصل ہوتی ہے۔ صراط المستقیم کی خواہش اور اس پر بنے رہنے کے توسط سے سورۃ فاتحہ میں جو کلمات موجود ہیں اس کی شرح سے بعض شارحین نے تصوف کے پورے نظام کا لائحہ عمل ترتیب دیا ہے۔اس میں ایک صوفی کا ذکر نہیں کہ دمشق، روم، ایران، ایراق، اصفہان، شیراز، بخارا، بلخ، چشت، مازندان، عرب، آذر بائجان اور ہندوستان کے بعض قدیم صوفیا تک اس میں شمار ہوتے ہیں۔ میں زبور کی ایک دعا کو یہاں پیش کر رہی ہوں جس سے اس کا علم ہوتا ہے کہ قران اور زبور کی تعلیمات کا مزاج کتنا ملتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ فاتحہ سے مشابہ آیات کا نزول قبل از اسلام بھی ہوتا رہا جس سے یہودیت اور عیسائیت کے نظام معاشرت میں خدا ترسی، راست راہی، اخلاق اورامن وآتشی کی روایت قائم ہوئی۔
اے خدا میرا انصاف کر کیوں کہ میں راستی سے چلتا رہا ہوں۔

اور میں نے خداوند پر بے لغزش تو کل کیا ہے۔
اے خدا وند مجھے جانچ اور آزما۔
میرے دل و دماغ کو پرکھ۔
کیونکہ تیری شفقت میری آنکھوں کے سا منے ہے۔
اور میں تیری سچائی کی راہ پر چلتا رہا ہوں۔
میں بیہودہ لوگوں کے ساتھ نہیں بیٹھا۔
میں ریا کاروں کے ساتھ کہیں نہیں جاوں گا۔
بد کرداروں کی جماعت سے مجھے نفرت ہے۔
میں شریروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا۔
میں بے گناہی میں اپنے ہاتھ دھووں گا۔
اور اے خداوند ! میں تیرے مذبح کا طواف کروں گا
تاکہ شکر گزاری کی آواز بلند کروں
اور تیرے سب عجیب کا موں کو بیان کروں۔
اے خداوند ! میں تیری سکونت گاہ
اور تیرے جلال کے خیمہ کو عزیز رکھتا ہوں۔
میری جان کو گنہگاروں کے ساتھ
اوری میری زندگی کو خونی آدمیوں کے ساتھ نہ ملا۔(13)

یہ وہ دعا ہے جس میں ایسی صوفیانہ بو قلمونی پائی جاتی ہے جس میں خلوص دل سے اپنے خدا سے وابستگی کا اظہار کیا گیا ہے۔ حالاں کہ براہ راست تو ان دعاوں میں کوئی بڑی بات نظر نہیں آتی مگر علم الطائف اور اذکار و اوراد کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اصل اہمیت کیا ہے۔ ایک صوفی جس کی پوری زندگی علم ادراک میں صرف ہوتی ہے اور جس کو دیدار خدا وندی میں تگ ودو کرنا عرفان ذات سے عرفان خدا تک پہنچا سب سے زیادہ معنی خیز معلوم ہوتا ہے وہ صفائے قلب کے لئے ان دعاوں کا کل وقتی ورد کرتے ہیں۔ یہودیت،عیسائیت اور اسلام کی عالمی سطح پر تصوف کے حوالے سے ایک سب سے الگ شناخت یہ بھی ہے کہ اس میں دعاوں کا ایک ایسا نظام ہے جو غیر سامی مباحث میں کہیں نظر نہیں آتا۔ اس کو ہم صوفیانہ ارتقا سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں مثلا قدیم غیر سامی مذاہب کی دعاوں سے اگر ہم یہود و نصاری کی دعاوں کا تقابل کریں تو اس کا علم ہمیں بخوبی ہو جا تا ہے۔ مثلا ً بابل و نینوا کی تہذیب کے قدیم مذاہب میں ایک دعا رائج تھی جو کہ دانت کے درد کی تھی۔ اس دعا کو ملاحظہ کیجیے:

انو نے سب نے پہلے آسمان پیدا کیا
تب آسمان نے زمین کو پیدا کیا
اور زمین نے دریاوں کو پیدا کیا
اور دریاوں نے نہروں کو پیدا کیا
اور نہروں نے دلدل کو پیدا کیا
اور دلدل نے کیڑوں کو پیدا کیا (14)

یہ انو بھگوان کے لئے ہے جو آسمان کا دیوتا تھا۔ اس دعا کو اس عہد میں کچھ بھی اہمیت حاصل رہی ہو پر اس کا اس عہد دانت کے درد سے کوئی وابستہ معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا کوئی منطقی جواز نظر آتا ہے، جبکہ زبور کی مندرجہ بالا دعا یا قران کی سورۃ فاتحہ ایسی دعائیں ہیں جن کا منطقی جواز ہزاروں سال سے موجود ہے اور جن کی منطقی تحلیل بھی بہت آسانی سے ہوتی نظر آتی ہے۔ اسی لئے سامی مذاہب کے صوفیہ کے اوراد و وظائف کو غیر سامی مذاہب کے ماننے والوں سے زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
عیسائیت اور اسلام تک آتے آتے تصوف کی تعلیمات بہت زیادہ واضح اور کثیر ہو تی نظر آتی ہیں۔عیسائی مذہب کی بنیادی کتاب بائبل ہے جبکہ مسلمانوں کا سر چشمہ مذہب قرآن ہے۔ بائبل کی تعلیمات سے تصوف کے جو سوتے تھوٹتے ہیں اس کے تعلق سے کچھ کہنے سے قبل میں یہ بتا دوں کہ بائبل جس کو اردو میں کلام مقدس کہا جاتا ہے کہ بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے جس میں سے ایک کو عہد نامہ قدیم کہا جاتا ہے اور دوسرے کو عہد نامہ جدید، بائبل کوئی آسمانی لفظ نہیں ہے بلکہ یہ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہوتے ہیں مجموعہ کتب، اس کو اسی لئے بائبل کہا جاتا ہے کیوں کہ یہ بنیادی طور پر کئی کتب کا مجموعہ ہے۔ اس میں عہد نامہ قدیم میں پروٹسٹنٹ کے نزد یک انتالیس کتابیں ہیں اور کیتھولک کے نزدیک جھیالیس کتابیں ہیں،ان میں بھی سات کتب ایسی ہیں جن پر پروٹسٹینٹ اور کیتھولکس میں یہ بحث ہے کہ یہ الہامی ہیں یا الحاقی۔اس کے بر عکس قرآن مکمل الہامی کتاب ہے جس میں تیس پارے ہیں اور اس میں کسی بھی نو ع یہ الہامی یا الحاقی بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔

اس مختصر سی معلومات کو یہاں درج کرنے کا مقصد یہ تھا کہ تصوف کی جو تعلیمات بائبل کے حوالے سے ہم تک پہنچتی ہیں ان پر خواہ عالمی مذہبی الہام کے تناظر میں کسی طرح کی بحث ہو مگر قرآن میں احسان کا جو تصور ہے پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکتا اور ایک خاص زمانی بعد کے لحاظ سے عیسائیت سے زیادہ احسان کا ایک واضح تصور یہاں نظر آتا ہے۔ عیسی ؑ کی زندگی اور ان کی تعلیمات میں ایثار و قر بانی کا جو رویہ نظر آتا ہے وہ تصوف کی بنیادی تعلیم ہے۔ یہ کہنا کچھ غلط نہ ہوگا کہ صوفی ازم کی بہت سے شقیں ایسی ہیں جن کو عیسائی مذہب سے جلا ملی ہے۔ ایک مشہور قول عیسی ؑ جس کی تشہر ہندوستان میں مہاتما گاندھی نے ایک عرصے تک کی وہ یہ ہے کہ” کوئی اگر تمہارے ایک گال پر تمانچہ مارے تو تم اس کے سامنے دوسرا گال پیش کر دو۔ “امن و آتشی، تحمل، عدم تشدد، ایثار اور خداترسی کی ایسی مثال ہے جس کی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب میں ملنا مشکل ہے۔ تصوف کے جو توحیدی مباحث ہے، جن کو اسلامی تصوف نے بہت زیادہ عروج تک پہنچا یا اور وحدت الوجود اور وحدت شہود جیسے مباحث نے یہاں سر ابھارا، اگر ہم ان کو نظر انداز کر دیں تو عیسائیت کی اس نوع کی تعلیمات سے تصوف کو سب سے زیادہ قوی ہوتا پائیں گے۔ تصوف جس طرز اندگی کا نام ہے، اس طرز زندگی میں عیسوی Life style کو ایک مکمل اسلوب زندگی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی ایک خاص وجہ ان کی عدم تشدد کی تعلیمات ہیں۔ تصوف اگر عیسوی نقطہ نظر سے کہیں مجروح ہوتا دکھائی دیتا ہے تو وہ صر عیسائیت کا وہ نقطہ توحید ہے جو ایک مثلث کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ ذات باری تعالی، حضرت عیسی اور روح القدس کے تصور کو عالمی پیمانے پر جو مقبولیت حاصل ہے اس سے قطع نظر تصوف کا جو ایک توحیدی نظام ہے اور جو سن عیسوی کے بعد ایک نوع کی منطق کے تحت قابل قبول گردانا گیا، اس کے پیش نظر اس تثلیث نے عیسوی تعلیمات تصوف کو مجروح کیا۔

تصوف کے تناظر میں یہ کوئی اتنا غیر اہم مسئلہ نہیں کہ ایثار و قربانی تو زندگی کے ہر شعبہ میں بہت اہم رہی ہے اور جس طرح کی انسانی ترقی نے دنیا کے عظیم معرکوں کو فتح کیا ہے اس میں وحدت میں کثرت اور کثرت میں وحدت جیسے صوفیانہ مباحث کو بہت قدر و منزل کی نگاہ سے دیکھا گیا ہے۔ بائبل کی وہ تعلیمات جن میں تصوف کے بنیادی مباحث کی جھلکیاں ملتی ہیں وہ اگر اقتباس اند اقتباس یہاں پیش کی جائیں تو ان کا ڈھیر لگ جائے گا۔ کیوں کہ عیسی ؑ کی زندگی کا ہر ہر لمحہ نمونہ تصوف کی بازیافت کرتا نظر آتا ہے۔ لہذا تصوف کے حوالے عیسائی مذہب کا جو کمزور ترین پہلو ہے میں نے اس پر یہاں زور دینا زیادہ اہم سمجھا۔ اس کمزور پہلو کو نئے زمانی نظام کے تحت اسلامی تھیوری سے مزید تقویت اس طرح ملتی ہے کہ ہم توحید کے نقطہ عروج کی ایک جھلک اسلامی تصوف کے تناظر میں دیکھیں، لہذا میں یہاں اس نقطہ توحید کی ایک جھلک کے طور پر اسلامی تصوف سے متعلق ایک بڑے صوفی کا اقتباس پیش کر رہی ہوں، جس سے توحید کے نقطہ عروج کا علم ہوتا ہے۔

توحید کی تعریف:” توحید یہ ہے کہ جس نے توحید کے بارے میں کوئی تصور باندھا،مشاہدہ معانی کیا،علم الاسماء پر عبور حاصل کیا،اسماء الہیٰ کی اللہ کی طرف نسبت کی اور صفات کو اس سے منسوب کیا اس نے تو حید کی بو تک بھی نہیں سونکھی،مگر جس نے یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی اسے منفی کردیا وہی موحد ہے مگر رسمی طور پر حقیقتاًنہیں۔” (15)

اسلامی تصوف کی یہ ہی وہ خاصیت ہے جس علمی سطح سے بلند ہو کر تصوف علمی مباحث نے اتنا زیادہ عروج حاصل کیا کہ اس سے قبل اس تصور بھی کہیں نظر نہیں آتا تھا۔

اسلامی تصوف کی ابتدا تو رسول اکرم ﷺ سے ہی ہو جاتی ہے، لیکن اس کو مسلم صوفیانہ بنی کے بعد حضرت علی اور ابو بکر صدیق ان دو صحابہ کے حوالے سے زیادہ اعتبار بخشا ہے۔ ان دونوں صحابہ کی صوفیانہ تعلیمات اور طرز زندگی سے استفادہ کرتے ہوئے بعد کے صوفیہ نے اسلامی تصوف کا ایک پختہ لائحہ عمل ترتیب دیا۔ اسلام میں تصوف کی روایت حالاں کہ پندرہ سو سال پرانی ہے، لیکن پہلے صوفی کا اطلا ق ابوہاشم پر ہوتا ہے جو کہ 763 عیسوی میں فوت ہوئے۔ اسی طرح تصوف کی پہلی کتاب ابو نصر سراج علیہ رحمہ کی کتاب اللمع کہی جاتی ہے۔ اسلام میں تصوف کے کئی ایک سلاسل ہیں۔ جن میں قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ اور نقشبندیہ وغیرہ کو زیادہ اہمیت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ان تمام سلاسل کے صوفیہ نے تذکیہ نفس، تذکیہ باطن اور صفائے قلب کی تعلیم کو پوری زندی عام کیا۔امام جنید بغدادی، منصور حلاج، شیخ عبدالقادر جیلانی، خواجہ بہاو الدین نقشبندی، خواجہ معین الدین چشتی، خواجہ نظام الدین اولیا، شیخ احمد سرہندی، عبدالحق محدث دہلوی، شاہ ولی اللہ اور شاہ وارث علی وغیرہ چند ایک مشہور و معروف صوفیہ ہیں۔ اس کے علاوہ بھی صوفیہ کی تعداد ہزاروں میں ہے جن سے دنیا بھر میں سلوک و معرفت کی تعلیمات عام ہوئی ہیں۔
اسلامی تصوف کیا ہے اس کی مثال سب سے بہتر انداز میں اس اقتباس سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ :

تصوف ابن آدم کی سرشت کا گراں مایہ راز سر بستہ ہے جس کا حصول مادیت اور ظاہری چکا چوند کو شکست دینے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ یہ کوئی سائنس و فلسفہ نہیں ہے جس کی تعبیریں اور مفہوم زمانے نشیب و فراز کے ساتھ بدلتے رہیں۔ محسن انسانیت، انسان کامل محمد ﷺ کے عہد مباک میں بھی اس کی وہی تعریف جو آج ہے، وہ ایک مکمل طرز حیات اور نا قابل تردید حقیقت ہے، جس سے ہمارے قول و فعل کا تضاد ختم ہوتا ہے اور ہم جیسے ہوتے ہیں ویسے نظر آتے ہیں۔ وہ سراپا صدق و حقیقت اور سعی و عمل نیز سر تاپا جدوجہد ہے۔(16)

اسلامی تصوف کی اس سے بہتر کوئی تعریف ممکن نہیں۔ واقعتاً یہ انسانی زندگی میں فکر و عمل کے تضاد کو ختم کرنے کے لئے سب سے بہتر طرز عمل ہے۔ جس ہزاروں برس کی مسافت طے کرتا ہوا، اسلامی تعلیمات سے جلا پا کر اس صورت میں ڈھلا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حواشی:
1۔ جدید روحانیت اور اجنبی اسلام، ابو یحیی،انظار ڈاٹ اورگ
2۔ ص: 13، مذہب اور دھرم، مہاتما گاندھی، انجمن ترقی اور، علی گڑھ
3۔ ص: 21، مقدمہ، تاریخ تصوف، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
4.Psychology of religious mysticism (Ref by) P. 102, Harenrdchandr paul, Jalal-ud-deen Roomi and Tasawwuf, M.I.G Housing Estate.
5۔ ص: 29،مقدمہ، تاریخ تصوف، پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
6۔ ص:39، 40، 41، 46، اپنشدوں کی تعلیمات، تاریخ تصوف،پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
7۔ ص:72، 77، 78، شری مد بھگوت گیتا میں تصوف،تاریخ تصوف،پروفیسر یوسف سلیم چشتی، اریب پبلیکیشنز
8۔ ص : 377، 378، بدھ مذہب کی مقدس کتابوں سے اقتباس،دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
9۔ ص: 132،اخلاقی تعلیمات، جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
10۔ ص: 136، 137، 138، اخلاقی تعلیمات، جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
11۔ ص: 383،زرتشتیت کی تعلیمات،جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
12۔ ص: 384، 385، زرتشتیت کی تعلیمات،جین مت، دنیا کے بڑے مذہب، عماد الحسن آزاد فاروقی، مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،نئی دہلی
13۔ زبور، پہلی کتاب، داود کامزمور 26
14۔ ص: 109،سبط حسن، ماضی کے مزار،سہمت پبلیکشنز
15۔ ص: 108،احمد بن رویم،حیات و تعلیمات، العرفان پبلیکیشنز
16۔ ص: 21، موجودہ دور میں تصوف اور خانقاہوں کی ضرورت، پروفیسر مسعود انور علوی، اکیسویں صدی میں تصوف :عالمی بحران کے حل کی تلاش

Categories
نقطۂ نظر

اٹھتے ہیں حجاب آخر-حصہ دوم

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: اس تحریر کی اشاعت کا مقصد کسی بھی مسلک کے پیروکاروں کی دل آزاری یا انہیں غلط قرار دینا نہیں بلکہ مذہب اور عقیدے پر انفرادی رائے قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ پاکستانی مسلمانوں میں مذہب اور عقیدے کے معاملے پر سوچ بچار، تنقید، تحقیق اور علمی جستجو کا چلن مفقود ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر مسلک میں جہاد، ختم نبوت یا ناموس اہل بیت جیسے تصورات کی آڑ میں تشدد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔ مذہب سے متعلق مروجہ تشریحات سے مختلف رائے قائم کرنا ہر فرد کا حق ہے، اس تحریر کی اشاعت ایسے افراد کو اعتماد بخشنے اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کا باعث بنے گی۔

[/blockquote]

تبلیغی جماعت

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

اس سلسلے کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے

 

میرے علمی و عقلی سفر کا اگلا مرحلہ دیوبندیت سے تعارف تھا۔ دیوبندیوں کی باتیں, ان کے دلائل بڑی حد تک درست معلوم ہو رہے تھے۔ دیوبندی ہوئے ہی تھے کہ تبلیغی جماعت والے ہمیں لے اڑے۔ ان کی سادہ نفسی اور عمل پر اصرار اچھا معلوم ہوا۔ تبلیغی جماعت نے دین داری پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے، بہت سے لوگ، جو بڑے بڑے جرائم اور غلط کاموں میں پڑے ہوئے تھے، جن سے دین کی بات کرنا تک کسی کو گوارا نہ تھا، تبلیغی جماعت کی کاوشوں سے تائب ہو کر دین دار ہوئے۔

 

لیکن دوسری طرف، تبلیغی جماعت میں زہد نما رہبانیت اور علم سے بیزاری کا رجحان بہت زیادہ ہے۔ ان کے ہاں علم سے ایک کِد سی پائی پائی جاتی ہے۔ کوئی عالم تبلیغی بھی ہو جائے تو آسانی سے اس کو معتبر تبلیغی نہیں سمجھتے۔ علما کے لیے وقت بھی زیادہ لگانا تجویز کر رکھا ہے۔ میں نے پوچھا کہ ایسا کیوں تو جواب ملا کہ علما کا علم ان کا حجاب ہے، جسے توڑنے کے لیے زیادہ وقت درکار ہے۔ اسی وجہ سے کم علم خطبا ان کے ہاں زیادہ پذیرائی پا جاتے ہیں۔

 

ان کے ہان توکل کا مطلب وسائل پر عدم بھروسہ ہی نہیں، معاملہ ترک وسائل تک چاپہنچا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ تبلیغ کریں، اللہ آپ کے کاموں کا ذمہ خود اٹھا لے گا، فرشتے خود آئیں گے اور آٹا دال آپ کے گھر پہنچا آئیں گے۔ علما یہاں بھی کوشش کرتے ہیں کہ لوگوں کو درست بات سمجھا سکیں، لیکن علم سے ایک اکتاہٹ سی جو یہاں پائی ہے، اس وجہ سے ایسی باتیں موثر کم ہوتی ہیں۔ امریکہ سے آئے ہوئے ایک تبلیغی ساتھ کے ساتھ تشکیل ہوئی۔ میں چھری سے سبزی کاٹ رہا تھا۔ فرمانے لگے، ‘اسباب سے کچھ نہیں ہوتا سب اللہ سے ہوتا ہے۔ یہ چھری خود سے نہیں کاٹ رہی، اللہ کے حکم سے کاٹ رہی ہے۔ اس بات پر اگر پختہ یقین ہو تو آپ چاہے چھری چلائیں، وہ نہیں کاٹے گی۔’ میرا دل چاہا کہ کہوں کہ چھری کو اسی یقین کے ساتھ ذرا اپنے پیٹ میں مار کر دیکھیں ابھی فیصلہ ہو جاتا ہے۔ لیکن مروت آڑے آ گئی۔

 

یہ تو درست ہے کہ ہر چیز اپنی تاثیر دکھانے میں اللہ کے حکم کے تابع ہے، لیکن اس سب کی کنجی اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی اور کے ہاتھ میں نہیں۔ ان معاملات کو اپنے ایمان و یقین کے تابع سمجھنا، گویا خود کو خدا کی جگہ رکھ لینا ہے کہ میری سوچ سے اسباب اپنی تاثیر بدل ڈالیں گے۔ پھر جس کا ایمان ایسا نہ ہو، جو اسباب پر اثر انداز ہو سکتا ہو، اور یقینًا ایسا ایمان ہو ہی نہیں سکتا، تو آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ اچھا مومن ہی نہیں۔ میں نے ایک بار پوچھا بھی کہ کیا ایسا ایک بھی مومن تبلیغی جماعت نے تیار کیا ہے جس کا ایسا ایمان ہو کہ اسباب کی تاثیر پر اثر انداز ہو سکے، جواب ملا، نہیں، تو پوچھا کہ پھر اس جماعت کو کامیاب کیسے قرار دیا جا سکتا ہے جو ایک بھی ایسا مومن تیار نہ کر سکی؟

 

اس قسم کے افکار کی وجہ سے تبلیغی حضرات کے ہاں اپنے گھریلو ذمہ داریوں سے لا پرواہی عام ہے۔ اس کی افسوس ناک مثالیں معاشرے میں دیکھی گئی ہیں۔ ہمارے سامنے ایک تبلیغی کی لاپرواہی کی وجہ سے اس کی بیوی عدم توجہ اور بر وقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے دھیرے دھیرے موت کے منہ میں چلی گئی، اس کو بہت سمجھایا گیا، اس کے گھر والوں سے اسے مارا پیٹآ بھی، لیکن تبلیغ کے آگے وہ ہر چیز قربان کر دینے پر تیار تھا۔ یہ اس کے نزدیک عزیمت کا سفر تھا۔ بیوی کے مرنے کے بعد اس نے ایصال ثواب کے لیے مدرسے میں پیسے دییے اور پھر کچھ ماہ بعد مولوی صاحب سے درخواست کی کہ اس کے لیے کوئی رشتہ تلاش کیا جائے۔

 

سال سال بھر یہ حضرات گھروں سے دور رہتے ہیں، اور ان کے گھر والے، بیوی اور بچے ان کی توجہ سے محروم، دین سے دور ہو جاتے ہیں۔ دین داری کا ایسا منفی رویہ یہ پیش کرتے ہیں جوان کی زبانی دعوت سے زیادہ بلند آہنگ ہوتا ہے۔ ان کی بیویاں اپنے بچوں کے ایسا تبلیغی بننے سے پناہ مانگتی ہیں۔ شوہروں کی اتنی طویل غیر حاضری بیویوں کے لیے کتنی آزمائش کا سبب ہوتی ہے، معلوم ہی ہے۔ اسی بات کا احساس کرتے ہوئے خلیفہ دوم، حضرت عمر نے جہاد پر جانے والوں کے لیے ہر چار ماہ بعد گھر واپس آنا لازم قرار دیا تھا، انہوں نے ایک خاتون جس کا شوہر طویل مدت سے جہاد پر تھا، اشعار میں یہ کہتے سنا تھا، کہ اگر خدا کا ڈر نہ ہوتا تو اس چارپائی کے پائے ہل گئے ہوتے۔ معلوم نہیں، کہ تبلیغی جماعت میں سال سال بھر کے دعوتی دورے، کس اصول کی رو سے درست سمجھے گیے ہیں۔ اس پر مزید ستم یہ کہ جیسے ہی کوئی تبلیغی دورے سے واپس آتا ہے، اسے ترغیب دی جاتی ہے کہ گھر نہ جانا، یہیں سے پھر اللہ کے راستے میں نکل کھڑے ہو، اس پر یہ زبان زد عام فقرہ بولا جاتا ہے کہ ‘جو گھر گیا وہ گھِر گیا۔”

 

کہا جاتا ہے کہ لوگ کسب معاش کے لیے بھی تو سالوں اپنے گھر نہیں جاتے، ہم تو اللہ کے راستے میں نکلے ہیں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جو کسب معاش کے لیے جاتے ہیں، ان کا گھر سے اتنا دور رہنا کون سا درست عمل ہے۔ کوئی مجبوری سے گھر سے دور ہے تو الگ بات ہے لیکن اپنے اختیار سے یہ عمل کیسے درست ہو سکتا ہے، جب کہ آپ اسے دین کے نام پر کر رہے ہیں، اور دین نے ایسی کوئی مجبوری آپ پر لادی بھی نہیں ہے۔ اپنے لیے طوق و سلاسل خود کیوں ایجاد کرتے ہو اور وہ بھی دین کے نام پر۔ یہ سب تبلیغی حضرات کے اہل علم اور غیر اہل علم ذمہ داران کی ہدایات کی روشنی میں ہو رہا ہے۔ تبلیغی مساعی سے دین اتنا نہیں پھیلتا جتنا اس طرح غلط حکمت عملی کی وجہ سے منفی تاثر پھیلتا ہے اور تبلیغی جماعت سے لوگوں کو متنفر کرتا ہے۔

 

دنیا سے بے رغبتی سکھاتے سکھاتے، یہ رہبانیت کی طرف نکل گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی قیمت مچھر کے پر کے برابر بھی نہیں، خدا کو اگر دنیا کی اتنی بھی قدر ہوتی، تو کسی کافر کو پانی کا ایک قطرہ نہ پینے دیتا۔ ظاہر ہے کہ کافر سے مراد، ان کے نزدیک ہر غیر مسلم ہوتا ہے، چاہے اس نے اسلام کی دعوت کا شعوری طور پر انکار کیا ہو یا بے جانے بوجھے، بہرحال وہ بھی کافر ہے۔ اس سے دنیا اور خدا کا جو تصور سامنے آتا ہے وہ ایسا نہیں کہ اس سے کوئی اچھا تاثر لیا جا سکے۔ دوسری طرف قرآن مجید کہتا ہے کہ خدا نے دنیا ہی نہیں، اس کی زینتیں اور خوب صورتیاں بھی اپنے مومن بندوں کے لیے پیدا کی ہیں، کون ہے جس نے ان کو حرام کرنے کی جرات کی ہے:

 

اِن سے پوچھو، (اے پیغمبر)، اللہ کی اُس زینت کو کس نے حرام کر دیا جو اُس نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی تھی اور کھانے کی پاکیزہ چیزوں کو کس نے ممنوع ٹھیرایا ہے؟ اِن سے کہو،وہ دنیا کی زندگی میں بھی ایمان والوں کے لیے ہیں، (لیکن خدانے منکروں کو بھی اُن میں شریک کر دیا ہے) اور قیامت کے دن تو خاص اُنھی کے لیے ہوں گی، (منکروں کا اُن میں کوئی حصہ نہ ہو گا)۔ ہم اُن لوگوں کے لیے جو جاننا، اپنی آیتوں کی اِسی طرح تفصیل کرتے ہیں۔ (سورہ اعراف، 7:32)

 

غور کیجیے، صرف دنیا ہی حلال نہیں، بلکہ دنیا کی زینتیں بھی ہمارے ہی لیے پیدا کی گئی ہیں۔ اور یہ زینتیں تو ایک طرف، دنیا ہی کے ترک کی طرف لیے جا رہے ہیں۔

 

دنیا سے اسی بے رغبتی کا نتیجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی بلکہ اپنے متعلقین کی دنیوی ضرورتوں اور ان کے پورا کرنے کے لیے وقت اور توانائی صرف کرنے کو عبث یا وقت کا ضیاع سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ نہ صرف اپنی دنیوی ترقی اور خوشحالی سے لا پرواہ ہو جاتے ہیں، بلکہ جس محکمے میں کام کرتے ہیں، جو کاروبار یہ کرتے ہیں، اس کو بھی تبلیغ کے نام پر قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ دنیا کے بارے میں انہیں تصورات کی وجہ سے یہ فلاحی کاموں میں بھی کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ انہیں اس قسم کے دنیوی کاموں میں مشغولیت بھی غیر دینی محسوس ہوتی ہے۔
جس طرح بریلویت میں عشق رسولؐ، اعمال اور سیرت میں تبدیلی پیدا نہیں کرتا، اسی طرح، تبلیغی جماعت میں بھی دین، نماز، روزہ اور دعوت جیسے چند اعمال کے ساتھ ہی شروع ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو تبلغی مراکز میں خطبات تک ارشاد فرماتے ہیں لیکن اپنے کلچر کے مطابق بیٹیوں اور بہنوں کو جائیداد میں حصہ دینے کے روادار نہیں۔

 

یہ بھی عام تاثر ہے کہ کسی بھی محکمے میں کوئی تبلیغی اہل کار ہوگا تو وہ اپنے پیشہ ورانہ کاموں میں کوتاہ ہو گا، اسے ہر وقت دعوت دینے کی فکر رہتی ہے، اور کام پر توجہ کما حقہ نہیں ہوتی۔ تبلیغی لوگ، اپنے لیے تبلیغی ملازم رکھنے سے گھبراتے ہیں۔

 

سرمایہ دار تبلیغی الگ فینامینن ہے۔ یہ لوگ اپنے کاروبار کبھی متاثر نہیں کرتے۔ پورے انتظامات کر کے تبلیغ پر نکلتے ہیں۔ ان کی تبلیغ ان کے سرمایہ دارانہ اخلاقیات پر ذرہ برابر اثر انداز نہیں ہوتی۔ اپنے ملازمین کا قانونی اور غیر قانونی استحصال بڑے اطمینان قلب سے کرتے ہیں۔ ایک ملازم کے لیے تبلیغی مالک اور غیر تبلیغی مالک میں سوائے داڑھی، ٹخنوں سے اونچی شلوار اور نماز روزے کی پابندی کے اور کوئی فرق نہیں ہے۔

 

تبلیغی حضرات میں ایک عجیب اور دلچسپ خصوصیت پائی جاتی ہے، وہ یہ کہ ان کا اخلاص بھی بہت پروفیشنل ہوتا ہے۔ اخلاق اور اخلاص کا مظاہرہ وہیں کرتے ہیں جہاں دعوت دینا ہو اور تبلیغی جماعت کے دائرے میں لانا مقصود ہو, ، بالکل اس سیلز مین کی طرح جو اپنی پراڈکٹ پیچنے کے لیے پیشہ ورانہ خوش اخلاقی اور آپ سے اپنے اخلاص کا مظاہرہ کرتا ہے۔ یہ اس جماعت کے ماحول سے بننے والا عمومی مزاج ہے، اس سے انکار نہیں کہ اس سے مختلف لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی اچھی تربیت انہیں ہر جگہ اچھائی کا مظاہرہ کرنے پر ابھارتی ہے۔

 

تبلیغ والے، اپنی جماعت کو واحد جماعت قرار دیتے ہیں جو حق پر ہے، جس کا منہج واحد منہجِ ہے جو حق پر ہے، باقی سب لوگ ان کے نزدیک اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ تعصب کا حال یہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ فتوی اور مسئلہ فقط تبلیغی عالم سے پوچھا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ تبلیغی جماعت ایک فرقہ بن چکی ہے۔

 

اصلاح احوال کی کچھ کوشش اہل علم اپنے تئیں کرنے میں لگے ہوئے ہیں، لیکن جو تربیت ہو گئی ہے، اسی ریورس کرنا بہت مشکل ہے، بلکہ ان کے ہاں کہ کم علم تبلیغی حضرات، علما کی طرف سے کی جانے والی اصلاحی کوششوں کو ایک طرح کی مداہنت یا رخصت سمجھتے ہیں اور اپنے لیے عزیمت کے نام پر یہی انتہا پسند طرز عمل اپنائے ہوئے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

بچپن میں تصورِ خدا کی تشکیل اور نفاذ دین پر اس کے اثرات

[blockquote style=”3″]

ادارتی وضاحت: اس مضمون کے مندرجات مصنف کے ذاتی مشاہدے، مطالعے اور سوچ بچار کا نتیجہ ہیں اور ان سے کسی بھی قومیت کے حامل افراد کی دل آزاری مقصود نہیں۔ یہ مصنف کی رائے ہے قطعی یا حتمی فیصلہ نہیں۔ مضمون نگار کی رائے سے اختلاف کی صورت میں لالٹین کے صفحات جوابی نقطہ نظر کی اشاعت کے لیے حاضر ہیں۔

[/blockquote]

کسی نے کہا تھا کہ انسان کا بچپن ساری عمر اس کے اندر زندہ رہتا ہے۔ افراد ہوں یا اقوام ان کے مزاج اور نفسیات کی تشکیل میں ان کے بچپن کے تصورات کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ افراد یا اقوام کے مزاج اور نفسیات کا درست مطالعہ کرنا ہو تو ان کے ایام طفولیت (بچپن) اور ان کے ماضی کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ اسی طرح کسی فرد یا قوم کے دینی مزاج کا اندازہ بھی ان کے بچپن میں لا شعوری طور پر تشکیل پانے والے تصورِ خدا کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔

 

فرائڈ کہتا ہے کہ انسان اپنے لیے خدا کا پہلا تصور اپنے والدین سے لیتا ہے۔
میرا پہلا تصورِ خدا میرے سیپارے کی پہلی استاد ہمارے محلے کی ایک بزرگ خاتون تھیں۔ ہم انہیں بوا جی کہا کرتے تھے۔ وہ بڑے جثے کی رعب دار خاتون تھیں۔ وہ اپنے گھر کے کاموں کے ساتھ ساتھ ہمیں سبق بھی پڑھاتی جاتی تھیں۔ وہ دل کی نرم اور زبان کی سخت تھیں۔ ان سے کبھی ایک بار بھی مجھے مار نہیں پڑی تھی، نہ ہی کبھی کسی اور کو میرے سامنے انہوں نے مارا۔ پھر بھی میں ان سے بہت ڈرتا تھا، لیکن اپنے لیے ان کی دبی دبی سی شفقت بھی محسوس کرتا تھا۔ دراصل میں ان سے بہت حیا کرتا تھا۔ چھٹی کر لیتا تو ان کے سامنے جانے میں مجھے ڈر سے زیادہ شرمندگی محسوس ہوتی تھی اور یہ احساس ڈر سے زیادہ سخت ہوتا تھا۔ بچپن میں مجھے جب بھی خدا کا خیال آتا تو مجھے ایک عظیم الجثہ خاتون نما ہستی نظر آتی، جو گویا برتن دھوتے دھوتے کائنات کا انتظام بھی دیکھتی جاتی تھی۔ باوجود یہ کہ خدا کے لیے مذکر کا صیغہ بولا جاتا ہے، لیکن میرا تصورِ خدا ایک عظیم الجثہ خاتون کو دیکھتا تھا۔ بعد میں علم و آگہی نے اس تصور کو بہت بدلا۔

 

فرائڈ کہتا ہے کہ انسان اپنے لیے خدا کا پہلا تصور اپنے والدین سے لیتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ بچہ پہلے پہل اپنی ماں کے تاثر سے خدا کا تصور تشکیل دیتا ہے۔ پھر کچھ عرصہ بعد اس تصور خدا میں ماں کی جگہ باپ آ جاتا ہے جو زیادہ مضبوط اور محافظ محسوس ہوتا ہے۔ باقی کی ساری عمر اپنے باپ جیسے خدا کا تصور انسان کے ذہن میں موجود رہتا ہے۔ میں اس میں اتنا اضافہ کرنا چاہتا ہوں کہ بچہ اپنا تصور خدا ماں باپ کے علاوہ اپنے پہلے استاد یا اساتذہ سے بھی اخذ کرتا ہے، جیسا کہ میرا تجربہ تھا اور اس کی تائید دیگر لوگوں کے تجربات سے بھی ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنے بچپنے میں اس تجربے سے گزرتا ہے اور اس کو سمجھ سکتا ہے۔ بہت سے بچے اپنے مذھبی پیشوا سے خدا کا تصور لیتے ہیں۔

 

ہر مذھب نے مادری اور پدری اصطلاحات میں ہی خدا کے تصور کو پیش کیا ہے۔
ہر مذھب نے مادری اور پدری اصطلاحات میں ہی خدا کے تصور کو پیش کیا ہے۔ مسیحیت میں تو خدا کے لیے باپ کا لفظ ہی اختیار کر لیا گیا، ہندو مت میں دیوتا باپ جیسے تصور کی حامل ہستیاں ہیں اور دیویاں ماتا یعنی ماں جیسے ہستیاں۔ اسلام جیسے توحید پرست مذھب، جس میں تجسیمِ خداوندی اور انسان جیسے تصورِ خدا کا کوئی تصور ہی نہیں، اس میں بھی مختلف مادری اور پدری اصطلاحات کے ذریعے خدا کی رحمت اور غضب کے تصور کو سمجھایا گیا ہے۔ مثلًا حدیث میں آیا ہے کہ، “مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔”، اور “خدا ستر ماؤں سے زیادہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے۔” خد اکے لیے ربّ کا لفظ مستعمل ہے جو ایک لحاظ سے باپ یا سرپرست کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ ہم اپنے لیے فرزندانِ توحید کی تعبیر اختیار کرتے ہیں۔
پھر جیسے والدین ہوں گے، خاص طور باپ جس طرح کا ہو گا، اور جس طرح کے پہلے اساتذہ ہوں گے، ویسا ہی تصورِ خدا ایک بچے کے ذہن میں بیٹھے گا اور پھر وہ ساری عمر اسی تصور کے تاثر میں گزار دے گا۔ والدین اور بچپن میں ملنے والے پہلے اساتذہ اگر مہربان ہوں گے تو ایک مہربان خدا کا تصور ابھرے گا اور اگر سخت گیر، خود غرض یا غیر ذمہ دار وغیرہ ہوں گے تو ویسا ہی تصور خدا بچے کے ذہن میں ہمشہ کے لیے بیٹھ جائے گا۔

 

ہمارے معاشرے میں مذھب ایک غالب عنصر کے طور پر پایا جاتا ہے۔ مذھب میں خدا کا تصور بدیہی طور پر مرکزی حیثیت کا حامل ہوتا ہے۔ جیسا تصور خدا کا ہوگا ویسا ہی دینی مزاج اس کے ماننے والوں کا ہوگا۔ مثلًا ہمارے ہاں خدا کی بے نیازی کا یہ تصور پایا جاتا ہے کہ اس کو دوسروں کے احساسات یا احتیاجات کی کوئی پروا نہیں۔ فوتگی کے موقعوں پر اس قسم کے جملے سن کر آپ خدا کے بارے میں اس تصور کا اندازہ کر سکتے ہیں۔ یہ تصور خدا کی رحمت کے تصور سے مخالف تصور ہے۔

 

ہمارے معاشرے کا تصورِ خدا کیا ہے اور وہ کن تاثرات سے تشکیل پایا ہے یہ سمجھنا ہمارے لیے ضروری ہے تا کہ ہم اپنے لوگوں کے تصورِ خدا اور پھر تصورِ مذھب اور اس سے پیدا ہونے والے دینی مزاج کو درست طور پر سمجھ سکیں۔
میری رائے میں ہمارے ہاں علاقائی اعتبار سے دو بڑی دینی روایات پائی جاتی ہیں: ایک پختون علاقے کی دینی روایت اور دوسری ہندوستانی علاقوں سے آنے والی دینی روایت۔

 

ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے تو تقریبًا ہر بچہ مسجد کے مولوی اور قاری صاحب کے پاس تو جاتا ہی ہے۔ اور اس کے تاثر سے اپنا پہلا تصورِ خدا تشکیل دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں مذھب پر پختون علماء اور خطباء کا بڑا غلبہ ہے۔ پختون سماج میں روایتی طور پر باپ ایک سخت گیر شخصیت ہوتا ہے۔ اولاد سے اس کا تعلق ڈر، احترام اور اطاعت کا ہوتا ہے۔ محبت فطری طور پر ہوتی تو ہے، لیکن یہ جذباتی حدوں تک عمومًا نہیں پہنچ پاتی۔ نیز یہ محبت دائرہ اظہار میں بھی کم ہی آ پاتی ہے۔ دوسری طرف پختون بچوں کی ایک بڑی تعداد کو بہت کم عمری میں مدارس میں ڈال دیا جاتا ہے۔ ناظرہ قرآن پڑھنے کے لیے تو تقریبًا ہر بچہ مسجد کے مولوی اور قاری صاحب کے پاس تو جاتا ہی ہے۔ اور اس کے تاثر سے اپنا پہلا تصورِ خدا تشکیل دیتا ہے۔

 

مدارس میں داخل کرا دیئے جانے والے پختون بچوں کی اتنی کم عمری میں والدین سے دوری، والدین سے ان کے جذباتی تعلق کو کمزور کر دیتی ہے۔ اس کا اثر خدا کے ساتھ ان کے تعلق پر بھی پڑتا ہے اور پھر یہی اثر ان کا دینی مزاج بھی تشکیل دیتا ہے، جہاں جذبات، محبت اور رحمت کی جگہ خدا سے وابستگی کے ساتھ ایک گونا دوری کا تعلق ہوتا ہے۔ جس طرح وہ والدین کی شفقت اور محبت اور ان کی دیکھ بھال کے بغیر جانا سیکھ لیتے ہیں، اسی طرح وہ خدا کی محبت اور رحمت اور اس کے محتاج ہونے کے تصور سے بھی بڑی حد تک آزاد ہوتے ہیں۔

 

عمومًا ناظرہ اور حفظ قرآن کے درجے کے پختون اساتذہ، درج بالا بیان کی روشنی میں، سخت گیر ہوتے ہیں اور بچوں کی زیادہ تعداد کی وجہ سے انفرادی توجہ دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے۔ ان میں کئی ایسے بھی ہوتے ہیں جو بد اخلاقی کا شکار ہوتے ہیں اور بچوں کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بھی بناتے رہتے ہیں۔ جسمانی تشدد تو عام سی بات ہے جسے مدارس میں پوری طرح ‘قانونی’ اور ‘اخلاقی’ جواز دیا گیا ہے۔ بچے کی ابتدائی عمر کے ان اساتذہ سے بچے کے کوئی دلی تعلق نہیں بن پاتا۔ استاد شاگرد کا تعلق ادب، احترام، اطاعت، خوف، خدشے اور بعض صورتوں میں ظلم اور مظلوم کا ہوتا ہے۔ اب یہی تاثر خدا کا تصور تشکیل دینے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے۔

 

ہم نے دیکھا کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کو جہاں بھی اپنی شریعت نافذ کرنے کا موقع ملا تو ان کا سارا زور دین کے چند مظاہر تک محدود رہا
یہ ایک بڑی اور بنیادی وجہ ہے کہ ہم اپنے معاشرے کے روایتی دینی طبقے میں دین پر عمل کے میدان میں خدا سے محبت، اس کی رحمت کے احساس سے عاری، ایسا قانونی اور فقہی مزاج پاتے ہیں جو خشک قسم کی اطاعت کو کُل دین کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے کو اسلامائز کرنے کی برسوں کی کوششوں کا محور کیا ہے؟ محض چند اسلامی شقوں کو آئین اور قانون میں شامل کروانا ہی ان کا مطمح نظر ہے۔ اسلام کے نفاذ کا منتہا اسلامی سزاؤں کے اجراء کے سوا اور کچھ نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ افغانستان اور پاکستان میں طالبان کو جہاں بھی اپنی شریعت نافذ کرنے کا موقع ملا تو ان کا سارا زور دین کے چند مظاہر تک محدود رہا، یعنی خواتین کا پردہ، ان کے سکول جانے پر پابندی، مردوں کو داڑھی رکھوانا، انگریزی لباس کی حوصلہ شکنی، بتوں کو توڑنا، وغیرہ۔ ان کے اس سارے عمل میں آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اطاعت، قانون، جبر، خوف اور تشدد کے عناصر شامل ہیں۔ کہیں بھی رحمت، ہمدردی، بھائی چارہ، انسانی مسائل اور مشکلات کے حل اور ازالے کی کوئی منظم اور با مقصد کوششوں کا عمل دخل نہیں۔ خدا کی بے نیازی کا مندرجہ بالا مخصوص تصور بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ یعنی جیسا تصورِ خدا ان کو ملا، ویسا تصورِ دین ان کے ذہنوں میں بیٹھا، ویسا ہی دینی مزاج تشکیل پایا اور اختیار ملنے پر نتائج بھی اس کے مطابق ہی برآمد ہوئے۔

 

مدارس میں پائی جانے والی دوسری دینی روایت ہندوستانی علاقوں سے پاکستان میں آئی ہے۔ ہندوستانی والدین عمومًا سخت گیر نہیں ہوتے۔ اسی کا اثر ہے کہ ہندوستانی (اب پاکستانی) اساتذہ بھی زیادہ سخت گیر نہیں ہوتے۔ دین کا فقہی اور قانونی پہلو اگرچہ وہاں بھی غالب ہے، اور نفاذِ اسلام اور غیر ریاستی جہاد کے تصورات میں یہ لوگ بھی پختون دینی روایت کے ساتھ نظریاتی اشتراک رکھتے ہیں لیکن ان کی طرف سے پر تشدد کارروائیوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے اور نہ ایسی کارروائیوں میں حصہ لیا جاتا ہے۔ بلکہ ان کی طرف سے ان کی صوفی روایت کے تحت خدا کی رحمت اور محبت کا پرچار بھی کیا جاتا ہے۔ اس سب کی نفسیاتی وجہ والدین اور اساتذہ کی نرم مزاجی ہے جو تصور خدا ور پھر تصورِ دین میں ڈھل کر ان کے اس دینی مزاج کی تشکیل کا سبب بنی۔

 

بچپن کے تصورِ خدا کو شعوری علم کے ذریعے تبدیل کرنے سب سے اہم ذریعہ قرآن مجید کا براہ راست مطالعہ ہے۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچپن کے تصور خدا میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ بچپن کا تصورِ خدا شعور کی عمر میں علم اور فہم کی زیادتی سے تبدیل بھی ہو جاتا ہے لیکن اس کے باجود بچپنے کا تصورِ خدا مکمل طور پر غائب نہیں ہو پاتا۔ کہیں نہ کہیں اس کا اثر جھلکتا رہتا ہے۔ دوسرا یہ کہ ایسے لوگ کم ہوتے ہیں جو اپنے بچپن کے تصورِ خدا کو علم و فہم کی کے ذریعے بدلنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں یا علم و فہم کی راہ سے تصورِ خدا میں آنے والی تبدیلی کو قبو ل کرتے ہیں۔

 

بچپن کے تصورِ خدا کو شعوری علم کے ذریعے تبدیل کرنے سب سے اہم ذریعہ قرآن مجید کا براہ راست مطالعہ ہے۔ ایسا مطالعہ جس میں اپنے پہلے کے تصورِ خدا کو معطل کر دیا جائے اور بلا حجاب قرآن کو اپنے دل کو مخاطب کرنے دیا جائے۔ اس سے جو تصورِ خدا پیدا ہوتا ہے وہی حقیقی تصورِ خدا ہے۔ اس مطالعہ میں حتی الوسع اپنے تعصبات اور پہلے کے تصورات کو پورے شعور کے ساتھ الگ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تاکہ کہیں اپنے کی خیالات کی بازگشت قرآن کی تلاوت میں بھی سنائی دے رہی ہو۔ ایسا مطالعہ ہی آپ کو خدا کے حقیقی تصور سے روشناس کروا سکتا ہے جو آپ کے دینی مزاج کو بھی درست کر سکتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

The Reappraisal of Our Worldview

As a birthday present on my 26th, Fazal and Ain, my two good and close New Jersey friends, showed me the Indian comedy-drama film, PK. Amani, their 5-year old granddaughter, accompanied us as well to the cinema. Born to an American-Pakistani Muslim mother and an American Christian father of Lebanese origin, Amani is a perfect and beautiful blend of Arab, American, Pashtun, Christian, and Islamic identity features.

I grew up hearing conceited claims that Heaven is only for Muslims. And that non-Muslims will be burnt in Hell forever.

Sitting beside Amani and eating popcorn while watching the movie, a thought from my past struck me: In childhood, my religious mentor taught me that Muslims are the best people on the planet Earth. I grew up hearing conceited claims that Heaven is only for Muslims. And that non-Muslims will be burnt in Hell forever. Does not matter who. Nelson Mandela? Mother Theresa? All of them. Their virtuousness and humanity does not count at all because they don’t believe in ‘our’ God and our religion, Islam. I was told. I was also taught that non-Muslims could never be friends with Muslims. And that we can never share meal with them as they are not pure like us (Muslims).

Absurd lessons such as these imply that non-Muslims must immediately convert to Islam in order for them to be good human beings and on par with Muslims. It seems as if human dignity is inherent in Muslimness only. However, I have successfully escaped this trap through my own reflection, and through appeal to reason, love, and compassion.

I admit though that I am neither a scholar of Islam nor of religion in general. I have no authority, like everybody else, to certify who is superior and who is inferior in the sight of God. But I do believe that the universality of a religious ideology (Islamic or else) does not mean its uniformity, as there exist a variety of popular religious beliefs with relative strength, potential, and their acceptance by humongous populations. Therefore, they all deserve equal protection and space for an unrestricted and independent practice.

But I also believe that human beings are hard-wired for virtuousness. Which means they are inherently empathetic without believing in any form of religion.

As my train of thoughts continued, I looked at Amani and wondered: What religion does she belong to? Islam or Christianity, a blend of the two, or something in the middle? Or, does her religious identity, if anything, matter at all? Then I wondered what religion does her family as a single whole belong to? What religion does the feeling of love, which bound her parents together, belong to? The answer is that there are no clear divisions due to the complex and crosscutting nature of human identities that interlink us all in multiple and unbelievably varied ways.

But my country Pakistan is the complete opposite of what I believe in and hold dear to my heart. It does not even remotely resemble a place where people of diversity could live in unity and harmony. Far from accepting people of other religions, extremist groups and their sympathizers among masses are at daggers drawn with their coreligionists. Shia Muslims, Ismailis, Ahamdis, Christians, Hindus, and pagan communities in the farthest north of Pakistan have been perpetrated violence against by extremist groups for quite too long. As there does not seem any change in the exclusivist thinking of the people and policies of the state, religious violence is on a rise.

There is no one prescribed way to enjoy, live, and understand life in order to be at peace with it.

Since the beginning of 2015 only, there have been some large-scale attacks against religious minorities. While the irreparable wounds of Shikarpur and Youhanabad attacks against Shia Muslims and Christians respectively are still fresh in our memory, yet on May 13 another horrific episode of violence was unleashed on Ismailis in Karachi. 43 people including 16 women were murdered in cold blood. I am sure that as some are lamenting the brutal killing of Ismaili Shia, there may be many others who live indifferently in its face as they are led into make-believes that eliminating such ‘heretics’ from the land of Islam and Pakistan is the responsibility of ‘true’ Muslims. And such is also the popular public narrative at homes, in social gatherings on streets, in Islamic education classes at schools, and on loudspeakers in mosques. And this kind of religious hate and exclusivism boils down to one simple but dangerous idea that sectarian killing is necessary for purifying Islam from ‘apostates’. Our collective silence and inability or unwillingness in the face of such murderous ideologies has created a huge void filled in by the preachers of violence and murder in the name of faith.

Therefore, it is high time that we reappraise our thinking by developing a pluralist thought and hence a tolerant society. Accomplishing such pluralism requires challenging individuals, groups, and institutions that desire to impose their extremist narrative on others through violence regardless of their choice in faith. We also need to educate our younger generation which is being, and will continue to be, trapped into make-believes that I experienced myself once. But doing so is not easy when parents forbid their children from reading books antithetical to their beliefs. An educated friend of mine, who is pursuing a master’s degree in the US, was stopped by his ‘educated’ father from reading a book on secularism. Much harder as it is, I suggest it is through trust with our family and friends that we can make pluralist mindsets popular and acceptable among them, in our immediate social circles, and eventually in our communities.

Moreover, with our world coming much closer together than ever before, we have much in common to unite than fight for. I am aware of the fact that religious boundaries can’t simply cease to exist, and certainly for multiple practical reasons and purposes. But, I believe, we can still be accepting of others by thinning our self-created thick and impenetrable walls of religious and cultural identities. Doing so is possible by appealing to our human identity, which is the strongest, the most transcendental, and above all else.

All this may seem too quixotic but still possible and appropriate. And idealism for peace is more than worth trying for. I believe that it is only love for humanity that will counter religious biases and violence justified on their bases. I am not against religion. But its criticism does warrant merit when loathsome and dangerous ideologies associated with it are promoted at the cost of humanity. I do acknowledge that religion does have conspicuous and valuable contributions in providing hope to the hopeless and helpless, in disciplining society, and in reinforcing ethical and human values but it has also limited the scope for practicing humanity.

But I also believe that human beings are hard-wired for virtuousness. Which means they are inherently empathetic without believing in any form of religion. And it is no surprise that many smile at me. I feel loved by thousand others. Million others accept me without any discrimination, no matter where I am in the world. And I see them on my side. On the side of humanity.

PK, released in December 2014, also makes a solid and timely plea for deconstructing millennialist religious narratives propagated by religious “managers” (as rightly called in the movie). On reflection, in the real world, these religious entrepreneurs and their franchises are engaged unabashedly in presenting differences of faith as an existential struggle for establishing transcendental and eschatological truth i.e. their brand of religion is absolutist and superior to all others. It is at such critical juncture that the film strongly demands from us the reappraisal of our thinking about the world and our fellow humans on the planet Earth.

Finally, we need to look at life as a much bigger and richer entity than religion. Religion is just a tiny part of it, not the other way around. There is no one prescribed way to enjoy, live, and understand life in order to be at peace with it. There are in fact million ways to look at it and to live it. Religion, among others, is one way of looking at life and the world. The solution to our problems lies not in aggression but in introspection. In inclusiveness and acceptance of others. Not in Muslim exclusivism. And we must understand that every person has inherent dignity in them, and must strive to act in ways that reaffirm the inherent dignity of every person regardless of faith.

Categories
نقطۂ نظر

مذہبی شناخت نیکی نہیں

مذہبی روایات کو ہمارے معاشرے میں ایک خاص مقام حاصل ہے چند مواقعوں پر تو یہ انسان سے بھی فوقیت لے جاتی ہیں اور ان روایات کے خلاف جانے کے جرم میں ایک انسان دوسرے انسان کو قتل بھی کر سکتا ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ کیاروایات کسی بھی انسانی معاشرے کا ایک ترقی پسند عنصر ہیں یا یہ جمود کو ظاہر کرتی ہیں۔کسی بھی معاشرے میں مذہبی رسوم و رواج مخصوص شناخت اور خاکہ کو برقرار رکھنے کے لئے نافذ کی جاتی ہیں۔ حقیقت میں روایات معاشرے میں علامتی حیثیت رکھتی ہیں جو جمود کو برقرار رکھنے کا ایک ذریعہ ہے،قدامت پرست معاشرے ایسی روایات کونافذ کرتے ہیں جن کی بناء پر معاشرے میں طاقت، اقتدار اور اختیار کے مراکز قائم رہیں۔
تبلیغی تحریکوں اور اجتماعات کے ذریعے ہر سال لاکھوں لوگ مذہبی شناخت اور روایات اپنانے کا فیصلہ کرتے ہیں، مرد پائنچے ٹخنوں سے اوپر کرتے ہیں، مسواک شروع کرتے ہیں، ڈاڑھی بڑھاتے ہیں اور تبلیغی دوروں پر نکل جاتے ہیں جبکہ عورتیں برقعہ بند ہوجاتی ہیں ، مردوں کی اطاعت گزار ہو کر خود کو لہو ولعب سے دور کر لیتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود معاشرہ انسانی ترقی اور تمدن کے پیمانوں پر پہلے سے کہیں پست اور کم تر ہوتا کیوں نظر آتا ہے؟
روایات سماجی ضروریات پوری کرنے کے مواقع فراہم کرتی ہیں لیکن رفتہ رفتہ روایات محض علامت کی حیثیت اختیار کر لیتی ہیں جن پر عمل پیرا ہونا رسمی طور پر ضروری سمجھا جاتا ہے اور ان سے انحراف یا انکار کرنے والے افراد سزاوار سمجھے جاتے ہیں ۔مسلکی روایات ہمیں شناخت کو جاننے یا اس تک پہنچنے میں مدد دیتی ہیں خصوصاً ثقافتی رویات معاشرتی شناخت جب کہ مذہبی روایات اور رسوم دینی شناخت کے لئے اہم ہیں، یہی وجہ ہے کہ معاشرہ اور مذہب دونوں تقلید پرست اور روایت پرست ہوتے ہیں تاکہ مذہبی اور معاشرتی شناخت کو برقرار رکھا جا سکے۔ اس چیز کا احساس مجھے ہمیشہ اسی وقت شدت سے ہوتا ہے جب ہمارے گاؤں کی مسجد میں تبلیغی جماعت کے لوگ آتے ہیں اور سب کو اسلام کے بارے میں بتاتے ہیں اور ان کی تمام باتوں کو سننا میں اپنے لئے فرض سمجھتا ہوں ، کیونکہ مذہب کے بارے میں سننا اور بولنا ہمیشہ خوشگوار اور روحانیت سے بھرپور تجربہ محسوس ہوتا ہے۔
مذہب کے پیرو کاران اور مبلغین کا بنیادی فلسفہ بھی یہی ہے کہ دین کی بات کرنا اور دوسروں کو اس کی تبلیغ کرنا نیکی ہے، ان کی تبلیغ کا سارا محور اس بات پر ہوتا ہے کہ سبھی لوگ ان کے نقطہ نظر کے مطابق اچھے مسلمان بن جائیں، اور ان تمام روایات اور رسوم پر عمل پیرا ہو جائیں جو ایک مخصوص مذہبی شناخت کا حامل مسلمان بننے کے لئے اپنانا ضروری ہیں؛ جیسے دین کیلئے وقت وقف کرنا ، لوگوں کو دین کی طرف لے کر آنا،عبادات کرنا ، مذہبی تہوار منانا اور مذہبی حلیہ اختیار کرنا ۔لیکن معاشرہ جو اشحاص پر مشتمل ایک مجموعہ ہے ، اور شخص اس کی ایک بنیادی اکائی، اگر اکائی ایک اچھا مسلمان ہے تو معاشرہ گراوٹ کا شکار کیوں ہے۔ تبلیغی تحریکوں اور اجتماعات کے ذریعے ہر سال لاکھوں لوگ مذہبی شناخت اور روایات اپنانے کا فیصلہ کرتے ہیں، مرد پائنچے ٹخنوں سے اوپر کرتے ہیں، مسواک شروع کرتے ہیں، ڈاڑھی بڑھاتے ہیں اور تبلیغی دوروں پر نکل جاتے ہیں جبکہ عورتیں برقعہ بند ہوجاتی ہیں ، مردوں کی اطاعت گزار ہو کر خود کو لہو ولعب سے دور کر لیتی ہیں لیکن اس سب کے باوجود معاشرہ انسانی ترقی اور تمدن کے پیمانوں پر پہلے سے کہیں پست اور کم تر ہوتا کیوں نظر آتا ہے؟ اچھے مسلمانوں کے ایک گروہ اور جم غفیر کے باوجود بنیادی انسانی ضروریات کی دستیابی اور سماجی انصاف کی فراہمی کا عمل ابھی تک کیوں شروع نہیں ہو سکا؟ مذہب اگر ہمیں مساوات اور رواداری کا سبق دیتا ہے تو وہ ہمیں معاشرے میں نظر کیوں نہیں آتیں؟ اور خاص کر کے ان لوگوں میں جو اپنے آپ کو مذہب کا نمائندہ سمجھتے ہیں ۔
منبر و محراب سے نیکی ، سزا و جزا اور اچھائی کے جن فرسودہ تصورات کا خطیبانہ بنیا ن ہماری سوچ اور عمل کو اپنی مخصوص مذہبی تعبیر کے تحت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اجتماعی معاشرتی فلاح و بہبود میں اس کا کوئی حصہ نہیں ۔ والدین چھوٹے چھوٹے بچوں کے سروں پر امامے باندھ کر انہیں ایک اچھا مسلمان بننے کیلئے ان لوگوں کے پاس تعلیم کے حصول کیلئے بھیج دیتے ہیں جن کی گردان سزاوجزا کے اس تصور سے بندھی ہے جس کے تحت ایک مخصوص حلیہ اور عقیدہ ہی فلاح اور نجات کا ذریعہ ہیں
انسان اور معاشرہ کسی مخصوص عقیدہ کو طاری کر لینے سے نہیں چلتے ، بلکہ ان کی بنیاد تو عدل و انصاف ، مساوات و بردباری پر قائم ہوتی ہے، اور یہ صرف اسی صورت میں ہی ممکن ہے جب تعلیم و تبلیغ کا محور ایک انسان کو ’’اچھا ‘‘ اور’’ بہت اچھا ‘‘ مسلمان بنانے کی بجائے ایک اچھا اور بہت اچھا ’’انسان ‘‘بننے پرہو۔ ایک اچھا مسلمان ضروری نہیں ایک اچھا انسان بھی ہو، لیکن ایک اچھا انسان ایک اچھا عیسائی ،مسلمان اور یہودی ضرور ہوسکتاہے بلکہ صوفیوں کے مطابق ایک اچھے انسان کو کوئی بھی مذہب اپنانے کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔
منبر و محراب سے نیکی ، سزا و جزا اور اچھائی کے جن فرسودہ تصورات کا خطیبانہ بنیا ن ہماری سوچ اور عمل کو اپنی مخصوص مذہبی تعبیر کے تحت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ، اجتماعی معاشرتی فلاح و بہبود میں اس کا کوئی حصہ نہیں ۔ والدین چھوٹے چھوٹے بچوں کے سروں پر امامے باندھ کر انہیں ایک اچھا مسلمان بننے کیلئے ان لوگوں کے پاس تعلیم کے حصول کیلئے بھیج دیتے ہیں جن کی گردان سزاوجزا کے اس تصور سے بندھی ہے جس کے تحت ایک مخصوص حلیہ اور عقیدہ ہی فلاح اور نجات کا ذریعہ ہیں اور جن کے نزدیک تمام انسان عقیدے اور مسلک کی بنیا د پر تقسیم ہیں ۔جن کے نزدیک بارش ہونے یا نہ ہونے ، زلزلے آنے یا وبائیں پھوٹنے کی وجہ مذہبی شناخت کو چھوڑ کر بے حیائی اور بے راہروی اپناناہیں ۔ ایسے لوگ یہ ادراک کرنے کی صلاحیت سے ہی محروم ہیں کہ خدا کوایک مخصوص شناخت یا حلیہ اپنانے اور محض عبادت گزار لوگوں کی نسبت انسانوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے والوں سے محبت ہے۔
۔ معاشرتی اور مذہبی روایات کو کسی بھی طرح انسانی زندگی سے مقدم قرار نہیں دیا جا سکتا، ایک انسان دوست معاشرے میں انسانوں کی فلاح اور ان کے لئے آسانیاں پیدا کرنا ہی نیکی ہے ۔ایک مسلمان اور پھر اچھا مسلمان بننے کی تبلیغ کے ساتھ ایک بہتر اور اچھا انسان بننے کی تبلیغ کرنا بھی ضروری ہے۔ جیتے جاگتے انسانوں کی بجائے مخصوص مذہبی شناخت، حلیہ ، رسوم اور روایات میں نیکی تلاش کرنے سے زیادہ گم راہ کن تصور کوئی نہیں ۔مذہبی تعبیر، تفسیر اور تشریح کے اختلاف پر قتل کرنے والے لوگوں کو نیکی کے اس انسان دوست تصور سے آشنا کرنا نہایت ضروری ہے، جو اس دھرتی سے جڑے صوفیوں اور سنتوں کی روایت ہے۔ ان صوفیوں اور سنتوں کے تصور نیکی کی تبلیغ کی ضرورت ہے جن کے ہاں عشق اور انسانیت سب سے بڑی سچائیاں ہیں ۔ انسانوں سے محبت کے لئے کسی مخصوص عقیدے کی پیروی کرنا یا اس کی رسوم ہر عمل پیرا ہونا ضروری نہیں۔ بھگت کبیر، نانک اور بلھے شاہ کو کسی مذہبی ادارے یا شخصیت سے معاشرتی اور مذہبی قبولیت کی سند کی ضرورت نہیں، ان کی انسان دوستی تمام تفرقہ اور تعصب سے بالاتر ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

Two Faces of Nationalism

The French philosopher Renan satirically described nationalism as both an erroneous view of the past as well as a shared feeling of hatred towards neighboring nations. Ironically, in the case of Pakistan this description stands true. In order to understand the gravity of this irony, it would be pertinent to discuss the idea of nationalism first.

Nationalism is both a political theory explaining the rise of the nation state as well as a feeling of belonging to a nation. Firstly, in order to define a nation, we can identify two types of indicators: objective and subjective. The former includes ethnicity, language and religion. The latter deals with the sense of belonging and loyalty of the individual. Now there are two main perspectives to understanding nations: perennialism considers nations to be organic, cultural communities with specific traits, while modernism sees nations as mechanically created political communities resulting from modern socio-political transformations. Both perspectives concede that nationalism is the vital formative force behind today’s world.

There are two main perspectives to understanding nations: perennialism considers nations to be organic, cultural communities with specific traits, while modernism sees nations as mechanically created political communities resulting from modern socio-political transformations.

Nationalism’s varied dimensions can be broadly categorized as progressive or regressive. The progressive aspect takes off with the very birth of nationalism, which was preceded by the Reformation as well as the Industrial and French Revolutions. These events dissolved the individual’s allegiance to the institutions of monarchy, feudalism and the church. Instead, nations emerged as the basis for the future political entity called the nation-state.

The nation-state is not only a political manifestation of a nation’s collective aspirations but it is also the assertive force behind nation building. Due to its role in nation building, the nation-state often has to take action against reactionary and parochial forces. While this power has been used authoritatively by states, it is only when the nation becomes more inclusive that we see positive outcomes. This is particularly true about less perennial nations like Pakistan. Therefore, one of the positive outcomes of nationalism is the formation of an inclusive national identity against regressive tribal, ethnic and religious identities.

However the inclusive nature of nationalism has limitations, which brings us to the regressive side of nationalism. The spirit of nationalism has often led to aggression against other nations, while in turn nationalist sentiments are produced in the invaded nations, in response to such aggressions. Colonization by European powers was also a practical illustration of the rise of nationalism. Such aggressive and expansionist policies were the primary causes of the two World Wars. Nationalist sentiment can easily foster legitimization of invasions and aggression. As Aldus Huxley described, “In the person of a nation we are able, vicariously, to bully and cheat while feeling we are profoundly virtuous”.

Therefore, one of the positive outcomes of nationalism is the formation of an inclusive national identity against regressive tribal, ethnic and religious identities.

On a domestic level, nationalism, with its focus on a singular national identity and culture, tends to repress diversity and pluralism. This is particularly dangerous in the case of states with a plurality of cultures. Whenever the notion of national culture is professed without inclusion of all major cultural traits, it is actually the culture of the dominant group. The promotion of the singular national culture is declared to be patriotic while any attempt to incorporate other cultural practices is immediately labeled as unpatriotic or anti-state. Often, the dominant group also defines a foreign enemy and fighting that enemy becomes the greatest national virtue.

In light of the above discussion, we can better understand the case of Pakistani nationalism. Pakistan is an example of a regressive nationalism. Furthermore, Pakistani nationalism has no perennial basis, as it was the result of a particular socio-political context in the first half of the twentieth century. Since Pakistani nationalism did not evolve organically from historic experiences across generations, it could only be contractual. Contractual nationalism means there could have been an agreement among many ethnic nations and religious groups residing in Pakistan to give in to certain national objectives (which could be defined as Pakistani nationalism) while maintaining their cultural and religious practices.

Historical evidence suggests that there was in fact this kind of expressed or implied consensus between the mainstream Muslim League and parties from other ethnic and religious backgrounds, which later became part of Pakistan. The Pakistani state could have gone on to frame inclusive policies to persuade other groups to align themselves with the national identity over their primordial ethnic and religious affiliations.

What has actually happened in Pakistan is quite the opposite as the Pakistani state has consistently maintained a policy of exclusion. It excluded various groups on the basis of religion, ethnicity and difference of political visions. It mistakenly tried to define its nationalism solely in terms of religion and a permanent neighboring enemy.

What has actually happened in Pakistan is quite the opposite as the Pakistani state has consistently maintained a policy of exclusion. It excluded various groups on the basis of religion, ethnicity and difference of political visions. It mistakenly tried to define its nationalism solely in terms of religion and a permanent neighboring enemy. Politically it has been stuck in authoritative and centralized governance, while culturally it has denied pluralistic expressions of what is considered to be Pakistani.

Such policies were not a result of ignorance. This has been a premeditated act by certain unrepresentative groups and institutions, namely the army, bureaucracy and political elites. The dominant discourse of nationalism in Pakistan speaks for absolute acceptance of state ideology, hatred towards India, denial of provincial autonomy, discomfort towards religious and cultural plurality and a soft corner for the Taliban because of the so-called theory of strategic depth. For a Punjabi youth, it might be attractive but for an ordinary Baloch, it is seen as an expression of a flawed and exploitative Pakistan, which he is not ready to own. There is a stark absence of the subjective indicator-the feeling of belonging- in Pakistani nationalism.

This flawed Pakistani nationalism has faced challenges time and again. The separation of East Pakistan, futile wars with India, and the rise of religious militancy are concrete examples of the shortcomings of Pakistani nationalism, focused as it is on central power over provincial autonomy, an eternal enmity with India and a reliance on religion as a defining/unifying factor. While identity-based politics are generally seen as being prone to deadlock and violence, the over-powering Pakistani state has been emphasizing identities, when it should have been doing otherwise. From textbooks to TV, this toxic brand of nationalism continues to be propagated. There are few options now left for Pakistan, unless we can radically review what we define as ‘Pakistani’.

Categories
نقطۂ نظر

BIGOTRY MURDERS RELIGION

Abeer Javaid Advocate

bigotrymurdersreligion

We claim to live in a world that is becoming increasingly civilized and well-informed. While we sometimes attribute this change to the phenomenon of globalization, we often also point to the widespread use of the internet. Although the advancement in communication technology has certainly benefited human lives, one can argue that it is also being extensively exploited nowadays. The reality is that while technology can provide us with ‘factual’ information, it does not always specify the intentions behind this information. We, the consumers of such information, tend to rely on what we are told by a sensationalist media or by our governments, who usually have their own ulterior motives.

Humans have always been afraid of what they do not understand and this lack of understanding, coupled with a lack of communication, has been exploited time and again to pit nations against each other. What our generation lacks is face-to-face encounters and honest communication in an open and unbiased setting. Of course, this is not an easy task, as centuries of mistrust and bigotry have widened the communication gap between us and those we consider the “other”. The reality is that open-ended dialogue would be the best way to tackle our differences in a peaceful manner. Sadly, we are usually influenced, even in dialogue, by the doubt and suspicion that accompany our historical and emotional baggage.

What our generation lacks is face-to-face encounters and honest communication in an open and unbiased setting.

Thus, when I won a month-long scholarship to the Vienna International Christian-Islamic Summer University, I was not sure of what to expect. I had never traveled halfway around the world on my own and the travel was exhausting. Clichés aside, the Summer University was a revelation to me. For starters, I had never even seen the inside of a monastery, not to mention living and working in one. The Stift Altenburg, where the summer program was hosted, was beautiful and I discovered a new and enchanting part of it on a daily basis. As a house of worship and study, it was also a suitable location for inter-faith dialogue.

I was even more impressed when I met my forty fellow students, who had travelled there from seventeen different countries. Each had a distinctive persona, accent, and culture. Countries that had only been names to me now had faces. Initially, I was a little overwhelmed by the sheer diversity of all the participants. I wondered how I would manage to get to know all of them properly in just three weeks. However my apprehension faded on the second day, by which time I could recall most of their names without surreptitiously having to look at their nametags and they seemed to remember mine as well. This effort on the part of the students to know their peers was touching and it set the tone for the following weeks.

I was surprised to find that the Christian students were not only very receptive of my views but some had more knowledge of Islam than I had of Christianity.

Coming from a country where religion plays a prominent role in the common citizen’s life, I was quite conscious of the religious radicalism that has come to be associated with Pakistan. In 1947, we gained our independence from Britain after a struggle that has been primarily defined in terms of religion. In the decades since, our country has been in the international limelight for all the wrong reasons, the most recent being our link with terrorism. For me, this program was a unique opportunity to explain to my peers that a misguided view of Islam on the part of some should not incriminate all the followers of a religion, or indeed the religion itself. I was surprised to find that the Christian students were not only very receptive of my views but some had more knowledge of Islam than I had of Christianity. It was heart-warming to see that almost all Christian students signed up for the Islam tutorial. The need to understand each other, to speak, and to listen became paramount. Our discussions would often run into the early hours of the morning!

We need to look into ourselves and to find the humanity that exists within us. But first and foremost, we need to see each other as human beings and not only as Muslim or Christian, Asian or African.

During our passionate debates, I realized that I should not target people for holding certain views about my way of life when I was doing the very same thing concerning their ways of life. I learnt that stereotyping goes both ways. The need of the hour was tolerance and understanding. Being open-minded does not necessarily have to imply an endorsement of another person’s belief, life choices or ideas. Rather, the things that are most worthwhile to know and learn are the ones that challenge one’s convictions. These were all important lessons for me but perhaps the most important discovery was that bigotry murders religion.
This direct interaction – made possible not by modern technology but through an old-fashioned human encounter – was the very essence of this Summer University. For three magical weeks, I experienced seventeen different cultural backgrounds. Looking back, I feel like I have taken a mini-trip around the world or, as my friend Marsha from Philadelphia put it, lived a mini-life away from our normal life. Together, we laughed, danced, ate, lived, shared, sang, and even argued sometimes – though a walk in the evening would sort everything out. I became friends with people so unlike me, and yet at the same time we connected on so many levels. We discovered that our ways of life may be different but the root of our religions is the same, and the message of both our religions is very clear: peace and justice for humanity.

In our blind quest to be ‘right’ we have lost sight of the real message of Islam, which is one of enduring peace.

Prophet Muhammad (P.B.U.H) and Jesus Christ (SAW) came when social injustice had crossed all boundaries and the values of humanity were being trampled. Both brought a message of justice, peace, and compassion. We need to look into ourselves and to find the humanity that exists within us. But first and foremost, we need to see each other as human beings and not only as Muslim or Christian, Asian or African. “Why bother?” is no longer an option. This experience taught me that, despite all our differences, disputes, and specific histories, we can – if we honestly try – co-exist peacefully. It’s time we stop playing the victim or silent bystander to the hate brewing around us.

All the bonds I formed at this program left an indelible print on me. In learning the thoughts and ideas of others, I also discovered a lot about myself. Sadly, my return was dampened by suicide attacks on mosques, shrines and the worship places of Ahmedis. I couldn’t help but think that people from different countries, backgrounds, religions, ways of life and even languages, can make an effort to co-exist but Muslims living in the same country and even speaking the same language are finding it hard to tolerate fellow Muslims and people of other religions that live in their midst. In our blind quest to be ‘right’ we have lost sight of the real message of Islam, which is one of enduring peace.