Categories
شاعری

دو نظمیں (قاسم یعقوب)

میں کبھی ایسا دیکھوں

میں خوابوں کا بارود بنوں
اور بارود مرا چہرہ، مری آنکھیں اوڑھ کے
ریزہ ریزہ ملبہ بنتی
دل کی آبادی بن جائے

میں ایک شجر کو خود پر پہنوں
اور مرا سایہ
تیرے جسم پر میرے ہونٹوں کے لمس کو
تپتی ریت اور وحشی دھوپ سے محفوظ رکھے

میں ایک کتاب بنوں
اور کتاب مجھے پڑھتے پڑھتے سینے پر رکھ کر سو جائے

میں بازار بنوں
اور بازار مری رونق سے
نفرت کی آلائش
اور سود و زیاں کا تعفن چن کر
اپنے آپ سے شرمندہ ہو جائے

میں شام کا دریا بن جاوں
اور دریا کا پانی
ساحل پر میری موجوں کی آواز سنے

میں ایک پرندے کا پَر بن جائوں
اور پرندہ مجھ سے
بارش میں اُڑنے کا فن سیکھے

میں کہساروں کی برف بنوں
اور سردیوں کا سورج
میری برفیلی چادر کو گلے لگائے

میں ایک غریب کی روزی کا سامان بنوں
اور اُس کے بچوں کی گالوں کو
اپنے لمس کی حدّت دوں

میں کبھی بارش کی چھتری پہن لوں
گھنے جنگل میں اُتروں
اورپھولوں کے پیالوں میں چھپ کے
فطرت کا چلّہ کاٹوں

میں ایک پہاڑ کی تاریکی پہنوں
اور پہاڑ مرے سینے سے لگ کر
پھوٹ پھوٹ کے روئے

میں کسی شہرکی رونق بن جاوں
اور شہر مری گلیوں میں شام کے سایوں کو
بالشتوں سے ماپے
اور اپنی ازلی تنہائی کا دُکھ کاٹے

میں اک لڑکی کا جسم پہن لوں
اوروہ میرے بدن سے اپنے جسم کا خواب تراشے
اپنی آنکھوں سے
میرے خواب کے آنسو روئے

ایک نظم فائق کی وساطت سے

فائق مجھ سے چونتیس سال بڑا ہے
جس طرح میری پیدائش پر میرا باپ مجھ سے تینتالیس سال چھوٹا تھا
ماں کہتی ہے
میں جب پیدا ہُوا تھا
اُس وقت میرا باپ کتاب پڑھ رہا تھا
فائق پیدا ہُوا ہے تو میں ایک کتاب پڑھ کے ابھی ابھی فارغ ہُوا ہوں

شہر میں زندگی سڑکوں پر پہلے جاگتی ہے
پھر عمارتوں کے ستونوں میں روشنی دوڑنے لگتی ہے
مگر یہ وقت تو ابھی سوئے لمحوں کو سمیٹنے کا ہے
سورج تاریکی کے غار سے اپنا منہ نکالنے کی کوشش میں ہے
ٍمگر دہانے پر مکڑی کا جالا، اُسے بازووں میں جکڑے ہوئے ہے
مسجد کے میناروں سے اذانیں
پہاڑوں سے نکلتے چشمے کی طرح پھوٹ رہی ہیں
فائق کے بستر پر زندگی کی رنگ برنگی کرنوں کا ہالہ ہے
وہ کبھی میری طرف اور کبھی میز پہ رکھی کتاب کو دیکھتا ہے
میں فائق کو نہیں بتا سکتا
میری پیدائش پر میرا باپ جو کتاب پڑھ رہا تھا
اُس میں کیا تھا
اور میں جو کتاب ابھی ابھی پڑھ کے فارغ ہُوا ہوں
اُس میں کس دانش کا رَس ہے
مگر شاید وہ جانتا ہے
کہ ہر معنی کی صداقت لفظ کے ساتھ جمی ہوئی نہیں ہوتی
وہ پاوں کے پھٹے ناخنوں کا درد
بستر سے اُتر کے محسوس کرنا چاہتا ہے

میری بیوی ابھی تک سخت تکلیف میں ہے
اس کے کپڑوں پر خون کے دھبے ہیں
رات بھر جاگنے سے ہم سب کو سخت بھوک لگی ہے
میری ماں تنور پہ روٹی سینک رہی ہے
میں چھت کے اکھڑے رنگ و روغن کو دیکھ رہا ہوں
مجھے ڈر ہے فائق بستر سے اُتر نہ جائے

Categories
شاعری

ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے

ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے
دن بھر گلیوں، بازاروں میں پھرتے ہیں
اسم کی شمع رات کو ایک منارے پر جلتی ہے
صبح سویرے دفتر میں
فائلوں پہ ہوس کی اوس کے چھینٹے جھاڑ کے
رزق کی گٹھڑی کھولتے ہیں
بلند عمارتوں کے روشن دانوں سے جھانکتی زندگی کی ہریالی
ہم کو دہقانی لذت سے نوازتی ہے

ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے
اسمِ عظیم کا ورد لبوں پر رکھ کر
روز گھروں سے نکلتے ہیں
مارکیٹوں میں رونق کا اُبلتا لاوا
انسانی لہو کی بُو سے بھرجاتا ہے
دانش گاہوں میں علم کا میوہ
ٹہنیوں سے پک کے گرجاتا ہے
سڑکوں کے کنارے پودوں کی چھاؤں
سبزپرندے آپس میں بانٹ کے
بستیوں کے اُوپر آنے والے آسمان پہ اڑتے ہیں
گھر گھر سے ناشتے کی خوشبُو
اُجلے دھویں کی روئی اُڑا کے بازاروں تک لانے لگتی ہے

میں اپنے دوستوں کوشہر کے مرکزی چوراہے میں پکارنے جاتا ہوں
میرے دوست (جو میرے باہر سے آگاہ)
میرے اندرکے رستوں کی رکاوٹیں توڑ نہیں سکتے

ہم بے کاری کی مزدوری کرنے والے
دن بھر گلیوں، بازاروں میں پھرتے ہیں
شام ڈھلے گھر کے صحن میں
چاند کی ٹھنڈی لَو کے لمبے لمبے کش لیتے ہیں
پھر رات کو دن کی تھکن اتارکے بستر پر رکھتے ہیں
اورچاند کی چادر اوڑھ کے
خواب کی آنکھوں میں سو جاتے ہیں

Categories
شاعری

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے
“عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے”
زمانہ شہر کے بازار میں جسموں کو دکانوں پہ رکھ کے
لمسِ لذت کی صدائیں بیچتا ہے
مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے
برہنہ شاخ پر پتوں کا میلہ لگنے سے پہلے
ہوائیں منقسم ہو کر نئی ترتیب پاتی ہیں

عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
گھر آنگن سے نکلنے والی لڑکی
آسماں کی دھوپ سے اپنی گلی میں بوڑھی عورت ہو گئی ہے
پیالہ ہاتھ کا، بجھتے چراغوں کو بچانے کے لیے گنبد نہیں بنتا
نفیس اور نازک اعضا بھینچنے کی خواہشیں مٹی میں گرتے بیج کے ہم رہ
درختوں کی قدآورشاخ بنتی ہیں

عجائب گھر کی بوسیدہ عمارت میں پڑی دیمک زدہ تحریرمیں ویدیں بتاتی ہیں
یہاں پر کاشت کاری ہو رہی تھی
یہاں پر کوئی دشوادارا، گھوشا اور پالا گا رہا تھا
اور یہیں یگیوں کی رسمیں تھیں
سروں میں فتح مندی کا کوئی نعرہ نہیں تھا
صنفِ نازک اور تن ِمضبوط
اک بستر پہ دو خوابوں کے موجد تھے

عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
زمیں پاؤں کی ٹھوکرپرپڑی ہے
آسماں مرضی کا منظر چاہتا ہے
رتجگے کی شب کروموسوم کی ہجرت پہ پہرہ دے رہا ہے

Image: Seema Kolhi

Categories
شاعری

ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں وہ ہوں
ابھی تک جو ظاہر نہیں ہو سکا
میں وہ ہوں
جواپنے ہی اندرکہیں محو ہے
ابھی مجھ کو تجسیم ہونا ہے
‘آئندہ’ کے بت کدے میں
خواہشوں کے گرانبار ملبے میں خود پر سنبھلتے ہوئے
میں اک سانس لینے کی محدود مدّت میں زندہ ہُوا ہوں
اسی ایک مدت کے پھیلاؤ میں
ایک آواز کی گونج
میرے تعاقب میں کانوں کو چھوتی ہوئی جا رہی ہے
زنگ آلود عہدوں کی مجھ تک خبر لا رہی ہے
میں وہ ہوں
جسے منکشف کرنے کے واسطے
وقت اپنی ریاضت میں مشغول ہے
میں وہ ہوں
کہ جس نے کبھی بھی____
کسی پر بھی____
ظاہر نہیں ہونا ہے

Image: Alterlier
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

روزنامچہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

روزنامچہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

زمانے کے خس و خاشاک کا ایندھن
گذشتہ رات کے چولہے پہ
دن کی دھوپ میں رکھ کے جلانا
روز گھر سے کام پر جانا
بسوں پر بیٹھنا
ڈیزل کے زہریلے دھویں کو پھیپھڑوں میں کھینچنا
دکان داروں سے جھگڑنا
دوستوں میں بیٹھ کر
گندے لطیفے قہقہوں میں ڈھالنا
ہمسائیوں سے چھوٹی چھوٹی بات پر ناراض ہونا
رکشے والے سے مناسب بھاؤ پر تکرار کرنا

 

مکتبوں، دانش کدوں سے زندگی کے فلسفے پرمشتمل
جھوٹی کتابیں پڑھ کے آنا
موت کو آسان کرنے کے جتن کرنا

 

“دوست یہ سب سچ ہے لیکن زندگی
کاٹنی ہو تو ہے، بسر کرنی تو ہے
گھات میں ہو منتظر چلّے پہ تیر
ہرنیوں نے چوکڑی بھرنی تو ہے”

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

بیل ذبح ہو گیا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

بیل ذبح ہو گیا

[/vc_column_text][vc_column_text]

ٹھٹ کے ٹھٹ چرنے نکلے میدان کے اندر
غٹ پٹ ہو گیا آپس میں دو بیلوں کا میل
اک بیل نے گھاس کی چوبی ناند سے بھوک مٹائی
دوسرے بیل کو مہنگا پڑ گیا اپنا کھیل لڑائی
مایا جال میں لے آیا آخر دھن مایا
مالک بازار میں اُس کو مچکاتے لے آیا

 

بازار تو پھر بازار ہے جس میں گھامڑ بیل کی چال
بے اوسان ہجوم کا گھمس گھمسگھمسان
بے چارہ بیل انسانوں کے گھن چکر میں چکرایا
صبح سویرے اُس کو چت فرش پہ جب لٹوایا
تب دریا کے مانجھی کی اک بات اُسے یاد آئی

 

انسانوں کی ماٹی کو تم بوڑھے سموں سے کھودنا”
کیچڑ سے لتھڑے پتھر ان میں ہیں مدفون
ایکھ کی پھوک سے زیادہ ان کا مان دھان نہیں
ان کا کھولن، جوش، اُبال ____ اور سب مال
زنگ زمیں سنسار میں سجتا صرف اک سنجوگ
نفرت کے تانبے اورپیتل کے برتنوں میں
گھر گھر رکھاہوا
رسموں کے ماتھوں پہ محبت کا سیندور”

 

پھر بازار کے بیچ میں صبح سویرے
بیل کی رسی کھلتی سب لوگوں نے دیکھی
دیکھتے دیکھتے کھال کی کترن کٹ کے
دھڑیوں میں گوشت کو چانپ چانپ بکھیر گئی
اور دیکھتے دیکھتے خلقِ خدا
سب ران گوڑ کو چتون چتون چاٹ گئی

Image: Nikolay Fechin
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]