Laaltain

دو نظمیں (قاسم یعقوب)

میں کبھی ایسا دیکھوں میں خوابوں کا بارود بنوں اور بارود مرا چہرہ، مری آنکھیں اوڑھ کے ریزہ ریزہ ملبہ بنتی دل کی آبادی بن جائے میں ایک شجر کو خود پر پہنوں اور مرا سایہ تیرے جسم پر میرے ہونٹوں کے لمس کو تپتی ریت اور وحشی دھوپ سے محفوظ رکھے میں ایک کتاب […]

مرکزہ اپنی اکائی توڑتا ہے

قاسم یعقوب: عجب عشوہ گری ایام نے سیکھی ہے موسم کے تغیر سے
زمیں پاؤں کی ٹھوکرپرپڑی ہے
آسماں مرضی کا منظر چاہتا ہے
رتجگے کی شب کروموسوم کی ہجرت پہ پہرہ دے رہا ہے

روزنامچہ

قاسم یعقوب:
مکتبوں ،دانش کدوں سے زندگی کے فلسفے پرمشتمل
جھوٹی کتابیں پڑھ کے آنا
موت کو آسان کرنے کے جتن کرنا

بیل ذبح ہو گیا

پھر بازار کے بیچ میں صبح سویرے
بیل کی رسی کھلتی سب لوگوں نے دیکھی
دیکھتے دیکھتے کھال کی کترن کٹ کے
دھڑیوں میں گوشت کو چانپ چانپ بکھیر گئی
اور دیکھتے دیکھتے خلقِ خدا
سب ران گوڑ کو چتون چتون چاٹ گئی