نعمت خانہ — چودہویں قسط

خالد جاوید: ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔
نعمت خانہ — تیرہویں قسط

خالد جاوید: اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔
نعمت خانہ — بارہویں قسط

خالد جاوید: فجر کی نماز کے بعد جب چھوٹے چچا مسجد سے لوٹ رہے تھے تو اُن کی نظر بے خیالی میں بجلی کے کھمبے کی طرف اُٹھ گئی۔ انھوںنے دیکھا اوپر بجلی کے کھمبے سے ہوکر جہاں بہت سے تار جاتے ہیں، وہاں اُن بجلی کے تاروں میں وہ جھول رہی تھی، مردہ اور اکڑی ہوئی۔
نعمت خانہ — گیارہویں قسط

خالد جاوید: یقینا یہ کہا جاسکتا ہے کہ میرے اندر مجرمانہ جراثیم بہت بچپن سے ہی پل رہے تھے۔ مگر ایک ایسا مجرم جس کی سزا جس عدالت میں طے ہونا تھی وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔
نعمت خانہ — دسویں قسط

خالد جاوید: میں ببّو انگیٹھی کو دیکھنے جانا چاہتا تھا۔ مگر گھر میں کسی نے اس کی اجازت نہیں دی، مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میں کبھی قریب سے ببّو انگیٹھی کو دیکھ نہیں سکا۔
نعمت خانہ — نویں قسط

نعمت خانہ — آٹھویں قسط

نعمت خانہ — ساتویں قسط

نعمت خانہ — چھٹی قسط

نعمت خانہ — پانچویں قسط

باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔
نعمت خانہ — چوتھی قسط

نعمت خانہ — تیسری قسط

نعمت خانہ — دوسری قسط

نعمت خانہ — پہلی قسط
