Categories
فکشن

نعمت خانہ – چودہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

پھر وہ رُکی نہیں۔ وہ ہوتی ہی رہی۔ کسی بھی دن کا آسمان بادلوں سے خالی نہ رہا۔ کبھی موسلادھار بارش ہوتی اور کبھی کبھی ہلکی پڑ جاتی۔ مگر پھوار برابر پڑتی رہی۔ دس دن گزر گئے۔ ندیاں خطرے کے نشان کے اوپر بہنے لگیں۔ باندھ کھول دئے گئے اور پانی نے آس پاس کے علاقوں کو ڈبوکر رکھ دیا۔

باڑھ آگئی، اس باڑھ میں انسانوں کے ساتھ اُن کے مویشی بھی بہہ گئے۔ شہر کی سڑکوں پر گھٹنوں گھٹنوں پانی تھا۔ محلے کے کئی گھروںکی چھتیں اور دیواریں گر گئیں۔ لوگ ان گرتی ہوئی چھتوں اور دیواروں کے نیچے دب دب کر مر گئے۔ مگر بارش نہ رُکی۔

ہمارا گھر کافی پختہ اور مضبوط تھا، مگر اس کی دیواروں میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ گئیں اور دالانوں اور کوٹھریوں کی چھتیں بری طرح ٹپکنے لگیں۔ پلنگ، بستر، صندوق، میز، کرسیاں سب پانی سے تربتر ہو گئے۔ باورچی خانے کا تو سب سے برا حال تھا۔ اس کی چھت سے تو پانی تقریباً اسی طرح نیچے آرہا تھا جیسے آنگن میں۔ چولہا ٹھنڈا پڑ گیا۔ کھانا دالان میں انگیٹھی رکھ کر پکایا جانے لگا۔

باورچی خانے کے برتن، تیل، گھی، اناج اور مسالے سب پانی میں ڈوبے پڑے تھے۔

ایک دن گھر کے کچے آنگن میں بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی بھر گیا۔ سڑکوں کی نالیاں بند تھیں۔ اور پانی کی نکاسی کا کوئی راستہ نہ تھا۔ باورچی خانہ کیونکہ آنگن کی سطح سے بالکل ملا ہوا تھا اس لیے وہاں بھی پانی آگیا۔ باورچی خانے کے برتن اسی پانی میں بہہ بہہ کر آنگن میں تیرنے لگے۔ دیگچیاں، پتیلے، تسلے، چمچے، کفگیر، پتیلیاں اور توے سب آنگن میں بہتے چلے جارہے تھے۔ وہ گھر کی نالی سے باہر نکل جانا چاہتے تھے۔

پورا گھر بارش رُکنے کی دعائیں مانگنے لگا۔ آنگن میں چلنا دشوار ہوگیا۔ لوگ پھسل پھسل کر گرنے لگے۔ پاخانے اور دروازے تک جانے کے لیے چند اینٹیں رکھ دی گئیں تھیں جو اَب پانی میں پوری طرح ڈوب چکی تھیں اور نظر نہ آرہی تھیں۔نارنگی کے ایک چھوٹے سے درخت میں اچھّن دادی نے ایک سفید پرزے پر ’’ق ق ق‘‘ لکھ کر لٹکا دیا۔ آنگن میں پانی اور کائی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ جب وہ یہ سفید پرزہ درخت میں لٹکاکر جلدی جلدی دالان کی جانب واپس آرہی تھیں، تب ہی کائی میں اُن کا پیر پھسل گیا۔ وہ چاروں خانے چت گریں۔ وہ کائی اور کیچڑ میں لت پت تھیں۔ اُن کے کولہے کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔(اس کے بعد وہ جب تک جئیں، صاحب فراش ہی رہیں اور مجھے ہمیشہ کائی میں لتھڑی ہوئی محسوس ہوئیں) گھر میں نالیوں سے بہہ بہہ کر حشرات الارض چلے آئے۔ مینڈک اور کچھوے، کنکھجورے اور کان سلائیاں۔ کینچوے اور سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے بھی۔ حد تو یہ تھی کہ ایک دن چھوٹی چھوٹی مچھلیاں بھی۔ پورا گھر کائی کی بساندھ سے بھر گیا اور اُس کی ہر دیوار ہری اور کالی نظر آنے لگی۔ اندر کی دیواروں پر سیلن اور پانی نے آکر ساری قلعی نیست و نابود کر دی۔ گارا اور چونا جگہ جگہ سے پھول کر نیچے گرنے لگا۔ وہاں طرح طرح کے دھبّے اور شکلیں سی بنتی نظر آنے لگیں۔ بھیانک اور بولتی ہوئی صورتیں، خود رو گھاس اور پودوں نے دیواروں کی منڈیروں پر پھیلنا شروع کر دیا۔ آسمان پھٹ گیا تھا اور شاید زمین بھی جلد ہی پیروں کے نیچے سے پھسل کر غائب ہوجانے والی تھی۔ طوفانی بارش میں، مَیں اپنے کن کٹے خرگوش کے ساتھ دالان، کبھی کوٹھری اور کبھی داسے کے قریب دُبکا رہتا اور بارش دیکھتا رہتا۔ جب کبھی بجلی زور سے کڑکتی تو نورجہاں خالہ کے منھ سے بے اختیار نکلتا ’’یا اللہ خیر۔‘‘

رات میں اس بارش کی آواز مہیب اور پُراسرار ہوجاتی۔ ٹین پر گرتی ہوئی بارش اب مجھے اس ماتمی باجے کی یاد دلاتی جو محرّم کے دنوں میں تختوں کے ساتھ بجایا جاتا ہے۔

بارش کی یہ آواز آہستہ آہستہ سنّاٹے میں بدلتی جاتی تھی۔ جیسے کوئی اُداس اور ماتمی موسیقی آخر میں خاموشی یا ایک گہری چُپ میں جاکر کھو جاتی ہے۔ اب میرے کان اس بارش کی آواز کے عادی ہوچکے تھے۔ اس لیے میرے لیے اب رات کے سنّاٹے اور بارش میں کوئی فرق نہیں رہا۔ مجھے نیند آنے لگی، ان راتوں میں، مجھ پرجلد ہی نیند کا غلبہ ہوجاتا اور میں گہری نیند سونے لگا۔ نہ صرف سونے لگا بلکہ خواب بھی دیکھنے لگا۔ ایسے خواب جنہیں میں آج تک نہیں بھولا۔

کچھ بیماریاں، عادتیں، اضطراری عمل یا ردّعمل وغیرہ ورثے میں مل جاتے ہیں۔ ہمارے گھر کے تقریباً تمام افراد کی اکثر سوتے میں اپنے ہی دانتوں سے زبان کٹ جاتی تھی۔ جیسے وہ ایک لذت آگیں یا وحشت انگیز خواب دیکھتے تھے۔ وہ صبح کو آنکھیں ملتے ہوئے اُٹھتے اور اُن کے منھ سے ٹھوڑی کی طرف بہتی ہوئی ایک خون کی لکیر ہوتی۔

اب تک میں بچا ہوا تھا۔ سوتے میں، میری زبان دانتوںکے درمیان کبھی نہیں آئی تھی مگر اس دفعہ بارش اور سیلاب کی اُن پرُاسرار راتوں میں، جب میں بہت گہری نیند سونے لگا اور خواب دیکھنے لگا تو صبح کو جاگنے پر میرے منھ سے بھی خون کی پتلی سی لکیر ٹھوڑی پربہتی نظر آنے لگی۔ میں اُسے اکثر شہادت کی انگلی سے پونچھ دیا کرتا۔

ان خوابوں میں ہمیشہ ایک لڑکی ہوتی یا یہ کہ لڑکی نہ ہوکر وہ بارش تھی جس نے خواب کا چولا پہن لیا تھا۔ ہربار کے خواب میں اس کی صورت مختلف ہوتی مگر میرے اندر، زیریں سطح پر یہ احساس ہمیشہ موجود رہتا کہ وہ ایک ہی لڑکی ہے۔ وہی ایک وجود جو ہر خواب میں آتا ہے۔ میں لاکھ کوشش کر لوں مگر اُس کا حلیہ لفظوں میں نہیں بیان کر سکتا۔ کبھی لگتا کہ وہ چہرہ دنیا کے ہر انسان سے ملتا جلتا ہے۔ اور کبھی یہ محسوس ہوتا کہ وہ چہرہ کسی سے بھی مشابہت نہیں رکھتا۔ کچھ شکلیں، کچھ صورتیں ایسی ہوتی ہیں جو آنکھوں کی گرفت میں نہیں آتیں۔ وہ آنکھوں سے ہوکر نکل جاتی ہیں۔ اور پھر خوشبو بن کر روح میں اُتر جاتی ہیں، یہ اور بات ہے کہ ہر خوشبو آپ کو محض مسرت ہی نہیں فراہم کرتی، وہ کبھی کبھی بلکہ اکثر بے حد افسردہ بھی کر دیتی ہے۔

’’لو—‘‘ وہ اپنی ہتھیلی آگے بڑھاتی ہے۔ کلائیوں تک اُس کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی ہے۔ میں غور سے دیکھتا ہوں، گوری، اُجلی صاف، نازک سی ہتھیلی پر ایک سوکھا شامی کباب رکھا ہوا ہے۔

’’لو کھالو۔‘‘

میں احتیاط کے ساتھ شامی کباب اُٹھاتا ہوں۔ شامی کباب برف کی طرح ٹھنڈا اور اُداس ہے۔ میں شامی کباب کا ایک ٹکڑا دانتوں سے کاٹتا ہوں۔

منّ و سلویٰ شرماکر ایک کونے میں چھپ جاتا ہے۔ لڑکی بھی اچانک گم ہوجاتی ہے۔

میری آنکھ کھل جاتی ہے۔ بارش ہوئے جارہی ہے۔

’’گڈّو میاں! تمھیں کھانے میں سب سے زیادہ کیا پسند ہے؟‘‘ لڑکی پوچھتی ہے۔ اس بار اُس کی کلائیوں میں سبز چوڑیاں ہیں۔ چوڑیاں اُس کی کھنک دار آواز سے خود بھی کھنکنے لگتیں ہیں۔

’’قورمہ۔‘‘ میں جواب دیتا ہوں۔
’’اور؟‘‘
’’پلائو۔‘‘
’’اور؟‘‘
’’ارہر کی دال۔‘‘
’’اور؟‘‘
’’اور۔۔۔ اور۔۔۔ میں ذہن پر زور دیتا ہوں۔ پھر جوش بھرے لہجے میں کہتا ہوں۔ ’’اور سب سے زیادہ تو گردہ کلیجی۔‘‘
’’گردہ کلیجی؟‘‘
’’ہاں! وہ مجھے بہت بہت پسند ہے۔‘‘
’’تمھیں گردے کلیجی اتنے پسند ہیں؟‘‘ لڑکی کی آواز رُندھ جاتی ہے۔
’’ہاں!‘‘ مگر ہمارے یہاں بہت کم پکتے ہیں۔ صرف بقرعید میں۔‘‘
میں افسردگی کے ساتھ کہتا ہوں۔
’’تمھیں گردے کلیجی اتنے پسند ہیں تو میرے نکال کر کھالو۔‘‘
میں اُسے ٹکر ٹکر دیکھتا رہتا ہوں۔
’’ہاں نکال لو، میرے دونوں گردے اورمیری کلیجی۔‘‘ وہ پرخلوص لہجے میں کہتی ہے۔
میں باورچی خانے میں جانور ذبح کرنے والی چھری لینے کے لیے چلا جاتا ہوں۔

میری آنکھ کھل گئی۔ صبح ہو گئی ہے۔ بارش جارہی ہے۔ منھ سے ٹھوڑی تک خون لگا ہوا ہے۔ میری زبان میں بہت تکلیف ہورہی ہے۔ زبان دانتوں کے درمیان آکر بری طرح کٹ گئی ہے۔ میں نے سوچا کہ میرے دانت نکیلے بھی تو بہت ہوتے جارہے ہیں۔

خوابوں کا یہ سلسلہ تب تک چلتا رہاجب تک بارش ہوتی رہی۔ پھر ایک دن پانی برسنا بند ہو گیا۔ آخرکار بارش رُک گئی۔ ہر بارش کو بہرحال ایک نہ ایک دن رُکنا ہی ہوتا ہے۔ اُس طویل ترین بھیانک بارش کو بھی تھک کر رُکنا ہی پڑا تھا۔ جو لاکھوں برس تک اس کرّہ ارض پرہوتی رہی تھی۔
دھوپ نکل آئی ۔ سورج نے بادلوں کی سیاہ نقاب، اپنے چہرے سے نوچ کر پھینک دی۔ ہر شے اب سوکھنے لگی۔ گھر، دیواریں، چھت، کپڑے، سب گرم ہونے لگے۔ مگریہ ایک سیلن زدہ تمازت تھی۔ بارش کے بعد سارے شہر میں بخار کی وبا پھیل گئی۔ کھانے سڑنے لگے۔ کھانا، باورچی خانہ ہو، یا کوئی اور جگہ، ہر جگہ سڑ رہا تھا۔ اور سڑے ہوئے کھانے کی بوہر جگہ سے آرہی تھی۔یہ بخار آنتوں اور پیٹ میں خطرناک جراثیم پیدا ہونے سے آتا تھا۔ ہمارے گھر میں بھی ہر کسی کا پیٹ خراب تھا۔ سب اُلٹیاں کر رہے تھے۔ اور ایک دوسرے کو، چڑچڑاتے ہوئے، تقریباً کھا جانے کے لیے دوڑتے تھے۔ سب کی آنتوں میں مروڑ تھی۔ انجم باجی تک کی آنتوں میں (مجھے اس بار اُن کے پیٹ میں آنتیں ہونے کے احساس سے اتنا صدمہ نہیں پہنچا)۔ ان دنوں گھر میں صرف مونگ کی دال کی کھچڑی پکتی تھی اور سارا گھر اُسے دہی کے ساتھ دونوں وقت کھاتا تھا۔ میں نے اتنے بڑے دیگچے میں اتنی زیادہ کھچڑی پکتی کبھی نہیں دیکھی تھی۔
میں بھی کھچڑی ہی کھاتا رہتا، مگر میرا پیٹ خراب نہیں ہوا۔ نہ تو میری آنتوں میں مروڑ ہوئی اورنہ ہی مجھے کوئی اُلٹی ہوئی۔

دراصل ہیضہ پھیل گیا تھا۔ برسات کے بعد، اُن دنوں یہ بیماری عام تھی، لیکن اس بار اس نے وبا کی صورت اختیار کرلی۔ لوگ قے اور دستوں سے مرنے لگے۔ ہمارے محلے میں ہی کئی موتیں ہوئیں۔ گھر کے پاس ہی ڈاکٹر اقبال کا مطب تھا۔ ڈاکٹر اقبال ایک نیم حکیم تھا اور اُس کے پاس باقاعدہ کوئی میڈیکل ڈگری نہیں تھی۔ مگر اُس کے مطب پر مریضوں کا میلہ لگ گیا۔ مطب ایک پتلی سی گلی میں تھا۔ یہ پوری گلی ہیضے کے مریضوں سے اور پیشاب پاخانے کی ناگوار بدبوئوں سے بھری رہتی تھی۔ مریض ایک کے اوپرایک لدے سے رہتے اور اکثر اپنی اپنی الٹیاں اور قے برداشت نہ کرتے ہوئے، ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہی کر دیتے اور پھر آپس میں مارپیٹ کی نوبت آجاتی۔ اگرچہ مارپیٹ ہو نہ پاتی کیونکہ وہ سب لگاتار دستوں، اُلٹیوں، بخار اور کچھ نہ کھانے پینے کی وجہ سے انتہائی لاغر اور کمزور ہوچکے تھے۔ ان کی کھال، گوشت اور ہڈیوں میں پانی کی بوند تک نہ بچی تھی۔کئی مریضوں نے ڈاکٹر اقبال کے مطب کے سامنے، اِسی گلی میں نالیوں میں گر کر دم توڑ دیا۔

یہ تھا انسان کی آنتوں کا تماشہ جسے سب نے کھلی آنکھوں سے دیکھا۔ یہ تھی منھ چلائے جانے کی سزا۔ انسان کا جرم اور اُس کی سزا دونوں ہی اس کی تعمیر میں مضمر ہیں۔

اس لیے میں نے کہیں کہا تھا کہ انسان اپنی آنتوں میں رہتا ہے۔

پھر آہستہ آہستہ یہ وبا بھی کم ہونے لگی۔ کیونکہ زمین نے گردش کرنا تو چھوڑانھیں تھا۔ ستمبرکے آخری دن آپہنچے اور وہ ہوائیں چلنے لگیں جن سے تیز دھوپ بھی ہار جاتی ہے وہ دُھلی دھلائی اور پاکیزہ دھوپ تھی۔ نیلا آسمان پہلے سے زیادہ نیلا نظر آنے لگا اور دوپہر میں تیز ہوا کے جھکّڑ جیسے دھوپ اور آسمان دونوں کو اپنے ساتھ اُڑائے لے جاتے تھے، موسم نے کروٹ لی تھی۔ ہیضے کے جراثیم کمزور پڑنے لگے۔

یہ ہوائیں بارش کے رخصت ہوجانے کا ایک جشن منا رہی تھیں یا نوحہ، یہ تو میری سمجھ میں آج تک نہ آسکا، حالانکہ میں ہر سال بارش کے بعد چلنے والی ان ہوائوں سے دوچار ہوتا ہوں مگر اب یہ بھی ہے کہ جشن اور نوحہ کون سی دو مختلف باتیں ہیں، جس طرح زندگی اور موت دو مختلف چیزیں نہیں ہیں۔

وہ خوفناک بارش تو چلی گئی تھی مگر میں پہلے سے کچھ زیادہ بڑا اور شاید زیادہ خطرناک ہوگیا تھا۔ میرے گالوں اور ٹھوڑی پر ہلکا ہلکا سا رُوواں سا اُگ آیا تھا۔ مجھے اب اُس مہربان لڑکی والے خواب بالکل نہیں آتے تھے، نہ ہی دانتوں کے درمیان آکر زبان کٹتی تھی۔ میرے امتحان قریب آرہے تھے۔ مجھے راتوں کو جاگ جاگ کر پڑھنا تھا۔ اس لیے میں نے ان خوابوں کو بائیں طرف، اپنے دل کے قریب، اپنی قمیص کی اوپری جیب میں رکھ لیا ہے جسے جب چاہے نکال کر دیکھا جاسکتا ہے۔ میں اپنے خوابوں کو دیکھنے کے لیے نیند کا محتاج نہیں تھا۔
میں دیر رات تک جاگ جاگ کر پڑھتا۔ زیادہ تر ریاضی کے سوال حل کرتا کیونکہ ہائی اسکول میں، اس مضمون سے سب سے زیادہ مجھے ڈر لگتا تھا۔ بہت سے سوالوں کو میں حل نہیں کر پاتا تھا۔ تب اُن کے جواب، کتاب کے آخر میںدیکھ کر میں اُلٹے سیدھے، اوٹ پٹانگ طریقے سے فارمولے کا غلط استعمال کرتے ہوئے نیچے لکھ دیا کرتا تھا۔ ظاہر تھا کہ میری ریاضی چوپٹ ہوئی جارہی تھی۔ اور سب سے زیادہ توالجبرا اور جیومٹری جہاں سب کچھ پہلے سے ہی فرض کر لیا جاتا تھا۔ یہاں سب کچھ ایک تُک بندی تھی۔ ایک اندھا راستہ، کچھ مان کر چلو اور ایک اوٹ پٹانگ، مگر اپنے ہی بنائے ہوئے راستے پر چل کراُسے ثابت کر دو۔ (دنیا کے وجود کو بھی ایسے ہی ثابت کیا گیا اور ایسے ہی سراب مان کر اس کا نہ ہونا بھی ثابت کر دیا گیا) عقل و دانش اور منطق کی یہ خود غرض مکّاریاں اب تو میرے سامنے پوری طرح عیاں ہوچکی ہیں۔ مگر اُن دنوں حساب کا مضمون مجھے بری طرح تھکا کر رکھ دیتا تھا اور میں تنگ آکر سوال کوحل کیے بغیر اُس کا جواب دیکھ کر وہیں لکھ دیا کرتا تھا اور یہ بات بھی آج تک میرے لیے ناقابل فہم بلکہ مضحکہ خیز ہے کہ اگر کسی سوال یا مسئلے کا جواب کہیں لکھا ہوا ہے یا کسی نے اُسے حل کر رکھا ہے اوراُس پر اُسے یقین بھی ہے تو پھر دوسروں کو الجھانے اور پریشان کرنے سے کیا فائدہ؟

مگر اس ریاضی سے الگ ایک دوسری ریاضی بھی تھی۔ ایک مہلک اور پُراسرار ریاضی جس کا علم میرے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ صرف میرے پاس ہی اُس کے خطرناک فارمولے تھے۔ اس کی کوئی کتاب نہ تھی جس کے آخری اوراق پلٹ کر میں سوالوں کے حل ڈھونڈ لیتا، مگر میں حل سے لاعلم رہتے ہوئے بھی ’حل‘ کی نوعیت سے واقف تھا اور جانتا تھا کہ وہ کتنے اعداد کے درمیان کہیں ہوگا۔ کم نحس سے زیادہ نحس کے درمیان۔

یقینا اب یہ ایک گھٹیا ہتھیار تھا۔ جو میرے ہاتھ لگ گیا تھا اور میں اس پر کبھی کبھی فخر بھی کرتا۔ گھٹیا باتوں پر فخر کرنے والوں میں، دنیا میں اکیلا میں ہی تو نہیں ہوں۔ کتنے عامل، تانترک، جیوتشی، قسمت کا حال بتانے والے اور چھچھورے، سیاست داں اور کاروباری لوگ آخر گھٹیا باتوں پر ہی تو فخر محسوس کرتے ہیں۔

اِس خطرناک مضمون کا ایک سوال میں نے جلد ہی پھر حل کیا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – تیرہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اور پھر بارش آگئی۔ وہ تو اُمس اور حبس کے ریشوں میں پہلے ہی سے پوشیدہ تھی۔ ایک رات جب میں نے اپنی کلائیوں اور چہرے کو انگلیوں سے چھوا، تب ہی مجھے محسوس ہوگیا کہ وہ آپہنچی ہے۔

رات کے تقریباً تین بجے ہوں گے۔ جب بادلوں کی زبردست گرج اور چمک کے ساتھ پانی برسنے لگا۔ ساتھ میں بارش کی ازلی رفیق ہوا بھی آئی۔ اُمس کی دیوار ٹوٹ کر گر گئی اور میں باہری دالان میں ٹین سے لگے داسے سے لگ کر کھڑا ہوگیا۔ برابر میں سنبل کا پنجرہ لٹک رہا تھا۔ ہوا کے تیز جھونکے میں داسے میں لٹکی ہوئی لالٹین بھک سے بجھ گئی۔ سارا گھر تاریک ہوگیا۔ ایک بار بہت زور سے بجلی چمکی تو میں نے دیکھا کہ طوطے نے اپنے پروں میں منھ چھپا لیا ہے۔

اندھیرے میں، بارش کے بھیانک شورمیں مجھے بھی ڈر لگنے لگا۔ چھتوں کے پرنالوں سے زبردست آواز پیدا کرتا ہوا پانی بہہ رہاتھا۔
بارش کے شور میں اچانک میں نے ایک مختلف اور پُراسرار آواز سنی۔ ایک عجیب سی سرسراہٹ اور پھنکار زینے کے قریب بنے مرغیوں کے ڈربے کی طرف سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔ پھرباورچی خانے کے دروازے پر، پھر آم کے درخت کے قریب اور پھر معدوم ہو گئی۔ یہ بارش کی آواز ہرگز نہ تھی۔ بارش کا زور بڑھتا جارہا تھا۔ مجھے سردی اور خوف دونوں محسوس ہوئے۔ میںجلدی سے اندر جاکر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا اور چادر میں منھ ڈھانپتے ہی مجھے گہری نیند آگئی۔

صبح جب میری آنکھ کھلی تو بارش ہورہی تھی۔ گھر میں کچھ ہلچل سی محسوس ہوئی۔ معلوم ہوا کہ ڈربے میں بند ساری مرغیاں مر گئی ہیں۔

اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ سانپ اِس گھر کا بہت پرانا مکین ہے، جب یہ گھربن رہا تھا تب ہی سے، یہ اس کی بنیادوں میں رینگتا اور سرسراتا ہوا دیکھاگیا تھا۔ اس کے اثر سے جانور تو کئی بار مر چکے ہیں مگر کسی انسان کو اس ناگ نے کبھی نہیں ڈسا۔

اچھّن دادی یوں تو غپ مارنے میں مشہور تھیں مگر اُن کی اس بات کی تائید گھر کے دوسرے افراد نے بھی کی۔ اگر رات کا وقت ہوتا تو مجھے بہت ڈر لگتا مگر اُس وقت تو مجھے اُس ناگ کو دیکھنے کا تجسّس پیدا ہوگیا۔ رات اور دن کا یہی تو فرق ہے۔ انسان روز ایک دوہری زندگی جیتا ہے۔ دن میں کچھ اور رات میں کچھ بلکہ ایک دوسری زندگی۔ زمین کی گردش کوئی معمولی واقعہ نہیں، اِسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئیے۔ اس امر کو فراموش کرنا ہمیشہ خطرناک نتائج کا موجب ہوا کرتاہے۔

آپ نے ناگ کو دیکھا ہے؟ میں نے اچھّن دادی سے پوچھا تھا۔ ’’ہاں، کئی بار۔ جب میں تیرہ سال کی تھی اور اُس کے بعد بھی کئی بار۔ اس کے اوپر یہ بڑے بڑے بال ہیں۔ وہ بہت پرانا ہے اور بالکل کالا۔ ایسا کالا کہ اُس کے آگے چراغ نہیں جل سکتا۔‘‘ اچھّن دادی نے جھرجھری لیتے ہوئے جواب دیا۔

’’وہ اکثرباورچی خانے کی کوٹھری میں بھی دکھائی دیا ہے۔‘‘ نورجہاں خالہ نے کہا تھا۔ مگر اُس پُراسرار سانپ کو دیکھنے کی آرزو میرے دل میں ہی رہ گئی۔ میں جب تک اپنے گھر میں رہا، مجھے وہ کبھی نظر نہ آسکا۔ مگر اب مجھے اُسے نہ دیکھ پانے کا کوئی ملال یا افسوس نہیں ہے کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ میرے دل میں بھی ایک اتنا ہی زہریلا، اتنا ہی کالا اور اتنا ہی عمر رسیدہ ایک ناگ کنڈلی مارے بیٹھا ہے۔ میں یہ جواپنی یادداشتیں لکھ رہا ہوں یا سنا رہا ہوں، یہ اپنے دل کے اس سیاہ ناگ کو پٹاری میں بِٹھا کر اُس کے سامنے بین بجاکر تماشہ دکھانے کے ہی مترادف ہے۔یہ ہمت اور جان جوکھوں کا کام ہے، میں تو خیر اپنی عدالت کو ڈھونڈھ رہا ہوں یا عدالت مجھے شکاری کتّے کی طرح سونگھتی پھر رہی ہے، مگر تم سب کیا کر رہے ہو؟

میں نے تو اپنا کوبرا دکھا دیا۔ یہ رہا میرا ناگ، مگر تم بھی تو اپنے اپنے ناگ، اپنے اپنے کوبرے دکھائو۔ اے نیک دل اور شریف انسانو!
اس وقت میری یاددشت کو بہت زیادہ محنت کرنا یا بھٹکنا نہیں پڑ رہا ہے۔ بارش کی یاد، میرے حافظے کو اِس طرح اپنے ساتھ لیے لیے چل رہی ہے جیسے بادل پانی کو لے کر چلتا ہے۔ بارش کتنی بھی اندھیری ہو، وہ یادداشت کے لیے ایک کبھی نہ مٹنے والے اُجالے کی مانند ہوتی ہے۔ اب کچھ دیر تک میں جو بھی لکھوں گا وہ تحریر قلم کی سیاہی کے ذریعے نہیں بلکہ ٹین پر ٹپ ٹپ گرتی ہوئی بارش کے ذریعے خودبخود وجودمیں آ جائے گی۔ بارش کی دھند اور اُس کی بوندیں، اس کی بوچھار اور جھاوٹ اور سیاہ بادلوں سے منڈھا ہوا آسمان یہ سب میرے کاغذ قلم ہیں۔ بارش ہی وہ لفظ ہے جس کے سہارے میں بغیر لکنت کے، اپنی فرّاٹے دار زبان میں اُس سیلن زدہ اور بھیگے ہوئے زمانے کو حفظ کر سکتا ہوں۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – بارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

مئی کا تپتا ہوا اور لُو کے جھکّڑوں سے ہلتا اور کانپتا ہوا مہینہ آپہنچا۔ یہ بڑا شاندار اور پُروقار گرمی کازمانہ تھا۔ ہر شے تپ رہی تھی۔ گرمی ہر شے کو آگ کی مانند جلاکر راکھ کر دینے کے درپے تھی۔ ہر شے کو پوتر کرنے کے لیے تیار۔ یہی کام تو آگ کرتی ہے۔

انجم باجی کی شادی کی تیاریاں ہونے لگیں۔ تاریخ بھی مقرر ہوگئی۔ شادی، برسات کا موسم گزر جانے کے بعد ہونا طے پائی تھی مگر یہ شادی آفتاب بھائی کے ساتھ نہیں ہو رہی تھی جس کا مجھے اندیشہ تھا۔ شادی کہیں اور ہو رہی تھی اور اُن کا ہونے والا شوہر سعودی عرب میں ملازمت کرتا تھا۔ میں نے یہ واضح طو رپر محسوس کیا کہ انجم باجی زیادہ تر روتی رہتی ہیں اور اپنے بیاہ کے کاموں میں رتّی برابر بھی دلچسپی نہیں لیتیں۔ مجھے نہ جانے کیوں اس سے بڑی طمانیت سی محسوس ہوتی۔
ایک دن میں نے اُن سے پوچھا تھا:

’’آپ مجھے بھول تو نہیں جائیں گی؟‘‘

وہ پہلے تو کچھ نہیں بولیں، پھر میری گود میں بیٹھے کن کٹے خرگوش کو اُٹھا کر اپنے سینے سے لگا لیا اور سسکیاں لینے لگیں۔
’’آپ میری وجہ سے روتی ہیں نا!‘‘

انجم باجی نے خرگوش زمین پر اُتار دیا اور مجھے خالی خالی بیگانی نظروں سے دیکھنے لگیں۔

جون کا مہینہ آتے آتے میں کچھ اور بڑا ہو گیا۔ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ کسی بھی دن بلکہ کسی بھی لمحے اچانک بڑے ہو جاتے ہیں، تبدیل ہوجاتے ہیں اور آپ کو اپنے بڑے ہوجانے یا بدل جانے کا احساس تک نہیں ہوتا۔ تبدیلی کا عمل اتنا ہی پُراسرار ہے جتنا کہ زمین کا گردش کرنا، جس کا انسان کو پتہ تک نہیں چلتا۔

میں کچھ اوربڑا ہوگیا یا میرے جسم میں ایک آدھ انچ عمر اور بڑھ گئی۔ ان دنوں مجھے جانوروں سے بہت لگائو ہوگیا تھا۔ سنبل طوطا اور کن کٹا خرگوش تو تھے ہی۔ ہمارے گھر میں کہیں سے گلہری کے دو بچّے آگئے تھے۔ میں نے ضد کرکے انھیں تقریباً پال ہی لیا۔ میں ان کو جوتے کے ڈبّے میں روئی بھر کر رکھتا تھا جس سے کہ وہ اُن کا گھونسلہ بن جائے۔ چھوٹی سی تام چینی کی کٹوری میں دودھ دیتا تھا اور جو کچھ بھی، دانہ دُنکا وہ کھاتے تھے۔ نورجہاں خالہ نے اُن کے نام بھی رکھ دیے تھے۔ لوسی اور جیک۔ مگر جب وہ بڑے ہوئے تو انسانوں سے خاصا ہل جانے کے باوجود انھوںنے آم کے درخت کے ایک کھوکے میں اپنا باقاعدہ گھونسلہ بنا لیا۔ رات میں وہ وہاں سوتے تھے اور دن میں سارے گھر بلکہ بستروں تک پر گھوما کرتے تھے۔

جون کے اواخر میں جب ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی تو دونوں کو ایک عجیب مشغلہ ہاتھ آگیا۔ بارش کی بوندیں جیسے ہی ٹین پر گرتیں وہ داسے پر سے اُچھل کر اپنی خوبصورت دُمیں سر پر رکھ کر بھاگتے ہوئے درخت کے کھوکے میں گھس جاتے اور پھر وہاں سے اپنا منھ باہر نکال کر بارش دیکھا کرتے۔

ویسے ابھی مانسون نہیں آیا تھا اور اُمس کا یہ عالم تھا کہ سارا بدن گیلا اور چکنا ہوگیا تھا۔ اب کہہ سکتا ہوں کہ وہ انسانی ارتقا کے ابتدائی پڑائو کا تجربہ تھا۔ مجھے اپنی کھال مچھلی کی کھال کی طرح لگتی تھی۔ پسینہ سوکھتا ہی نہ تھا۔ جو شخص بھی قریب سے گزرتا، تو پسینے کی بدبو سے ناک سڑ اکر رکھ دیتا۔ زیادہ تر افراد دالانوں سے نکل کر رات میں آنگن میں ہی سویا کرتے۔
ایسی ہی اُمس بھری ایک شام کا ذکر ہے۔ میں چھت سے پتنگ اُڑا کر نیچے آیا۔ باورچی خانے میں ایک کھٹّی میٹھی سی خوشبو جو مجھے بدبو محسوس ہوئی، آرہی تھی۔ میں اندر گیا۔

نورجہاں خالہ چولہے کے سامنے بیٹھی تھیں اور ایک ہانڈی میں باربار کفگیر چلا رہی تھیں۔
’’کیا پک رہا ہے؟‘‘

’’آم رس۔‘‘ نورجہاں خالہ نے اسی طرح کفگیر چلاتے چلاتے جواب دیا۔ اُن کے کپڑوں سے پسینے اور آم کی ملی جلی بو نے میرا جی متلا کر رکھ دیا۔ مجھے نہ آم پسند ہے اور نہ اُس سے بنی کوئی دوسری شے۔

میں جیسے ہی واپس جانے کے لیے مڑا مجھے محسوس ہواکہ میرے پائوں ڈگمگا رہے ہیں۔ دونوں وقت مل رہے تھے، آسمان پر ایک پیلا سا غبار تھا،جیسے آندھی آتے آتے رہ گئی ہو۔ ’’نہیں ٹھیک نہیں ہے۔ آم رس آج نہیں پکتا تو اچھا تھا۔‘‘ میں دھیرے سے بڑبڑایا۔ میری وہ منحوس چھٹی حس شاید جاگنے والی تھی۔ مگر پھر میں نے خود ہی اپنی توجہ زبردستی کہیں اور مرکوز کر دی۔ میں نے لوسی اور جیک کو چمکار کر زور زور سے آوازیں دینا شروع کردیں۔

دونوں اپنی دُمیں سر پر اُٹھائے دوڑے چلے آئے۔ میں تھوڑی دیر تک اُن سے کھیلتا رہا۔ پھر جیک کچھ سونگھتا ہوا باورچی خانے میں چلا گیا اور لوسی چھوٹے چچا کے پلنگ کے پائے پر چڑھنے اُترنے لگی۔

رات ہو گئی، لالٹین جل گئی۔ مجھے بھوک لگنے لگی۔ کھانا تو پہلے ہی تیار ہوچکا تھا۔ بس آم رس کا انتظار تھا۔ وہ بھی اب پک گیا تھا۔
میں باورچی خانے میں دیکھ رہا تھا کہ نورجہاں خالہ نے آم رس کی ہانڈی کو چولھے سے اُتار لیا ہے۔

جیک اُن کے پاس ہی اپنے اگلے دو پنجوں میں کچھ دبائے کُتر رہا تھا۔ نورجہاں خالہ نے چولہے میں سے سلگتی ہوئی لکڑی نکالی اور وہیں بیٹھے بیٹھے لوٹے سے پانی ڈال کر اُسے بجھا دیا۔

جلتی سلگتی لکڑی پر جیسے ہی پانی گرا۔ سن سن کی ایک تیز آواز باورچی خانے میں گونجی۔ انسان اس آواز سے صدیوں سے مانوس ہیں مگربے زبان جانور نہیں۔ جیک اِس (بھیانک آواز؟) آواز سے بری طرح خوف زدہ ہوکر حواس باختہ ہوتے ہوئے زور سے اُچھلا اور چولہے میں جاگرا۔ چولہے میں تازہ تازہ بھوبھل تھی جس کی تہہ میں انگارے دہک رہے تھے۔

وہ ’’چیں چیں‘‘ کی بڑی دردناک آوازیں تھیں۔ سب چولہے کی طرف دوڑے، میں زور زور سے رونے لگا۔

چھوٹے چچا نے اُسے کسی طرح چولہے سے باہر نکالا۔ جیک چیں چیں کرتا ہوا، لڑکھڑاتا، ڈگمگاتا ہوا، فرش پراِدھر اُدھر چکر لگا رہاتھا۔ اس کے ننھے ننھے پیر پوری طرح جل گئے تھے اور قصائی کی دوکان پر رکھے چھیچھڑوں کی مانند نظر آرہے تھے۔ اس کی جلد پر سے سفید دھاریاں غائب تھیں۔ اس کی دُم جل کر ٹوٹ گئی تھی۔ اور وہ ایک گلہری نہ ہوکر ایک بدنما، خارش زدہ اور گندا، دُم کٹا چوہا نظر آرہا تھا۔ تھوڑی دیر تک وہ اسی طرح اچھلتا کودتا رہا، پھر خاموش اور نڈھال ہوکر فرش پر پڑ گیا۔ چھوٹے چچا نے اُسے ہاتھ سے چھوا، میں نے دیکھا، اُس کی آنکھیں غائب تھیں۔ سر کی جلی ہوئی کھال آگے کو لٹک رہی تھی۔

’’دودھ لائو، دودھ۔‘‘ انجم باجی نے کسی سے کہا، مگر نہیں سب بیکار تھا۔ جیک نے اِس سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔

باورچی خانے میں سنّاٹا ہوگیا۔ اُس رات کسی نے کھانا نہیں کھایا۔ میں تمام رات پلنگ پر لیٹے لیٹے روتا رہا۔ لوسی پتہ نہیں کہاں تھی؟
کوئی میرے پاس آنے کی یا دلاسہ دینے کی ہمت نہ کر سکا۔ مگر شاید آدھی رات رہی ہوگی جب میرا خرگوش آکر میرے پیروں کے پاس بیٹھ گیا۔ وہ اپنی تھوتھنی میرے پاؤں سے رگڑ رہا تھا۔ پتہ نہیں کب مجھے نیند آگئی۔

صبح میں دیر سے اُٹھا۔ چھوٹے چچا نے مجھے بتایا کہ لوسی بھی مر گئی۔

فجر کی نماز کے بعد جب چھوٹے چچا مسجد سے لوٹ رہے تھے تو اُن کی نظر بے خیالی میں بجلی کے کھمبے کی طرف اُٹھ گئی۔ انھوںنے دیکھا اوپر بجلی کے کھمبے سے ہوکر جہاں بہت سے تار جاتے ہیں، وہاں اُن بجلی کے تاروں میں وہ جھول رہی تھی، مردہ اور اکڑی ہوئی۔

اس بار میں رویا نہیں، بس خاموشی سے زینے کی سیڑھیاں چڑھتا ہوا چھت پر چلا گیا۔

مجھے نہیں معلوم کہ جانور خودکشی کرتے ہیں یا نہیں۔ مگرآج اس بات پر مجھے پورا یقین ہے کہ لوسی نے خودکشی کی تھی۔
اس واقعے کے بعد میں اپنی اس خطرناک صلاحیت سے بے حد خوف زدہ اور سراسیمہ رہنے لگا۔ میں خدا سے دُعا مانگتا کہ وہ مجھ سے یہ صلاحیت، یہ پُراسرار حس چھین لے۔ میں نے کافی عرصے تک باورچی خانے کی جانب رُخ بھی نہ کیا۔ میں اس کے قریب سے بھی گزرتا تو ناک بند کرکے کہ کہیں کوئی خوشبو نہ آجائے اور پھر کوئی حادثہ، کوئی برا واقعہ نہ رونما ہوجائے۔ مگر اب مجھے یہ اپنا بچپنا اور حماقت ہی نظر آتے ہیں۔ اب تو یہ میرے لیے بہت عام سی اور فطری بات ہو چکی ہے۔ جیسے کوئی پیدائشی بہرا، گونگا یا اندھا ہو، بالکل اس طرح یہ زائد اور خوفناک چھٹی حس میرے وجود کا وہ پیدایشی عیب یا محرومی بن چکی ہے جو اَب میری عادت میں شمار ہے اور جس کے ساتھ، بغیر کسی پریشانی یا مشکل کے، اطمینان کے ساتھ میں نے جینا سیکھ لیا ہے۔ بلکہ سچی بات تو یہ ہے کہ اس منحوس اور کالی صلاحیت نے میرے اندر کی کمینگی اور کینہ پروری کو بھی سہارا دے کر اُسے اور زیادہ مضبوط بنادیا ہے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – گیارہویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُس زمانے میں مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ کرّہ ارض ایک معمولی سے نقطے سے شروع ہوا تھا۔ اب مجھے یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ واقعی یہ دنیا سفید کاغذ پر سرمئی پنسل سے لگایا گیا ایک نقطہ ہی تھا۔

پھر جو اس نقطے نے پھیلنا شروع کیا اور شیطانی آنت کی طرح جو روپ اور حجم اختیار کیا اُس کے بارے میں یہاں کچھ بھی لکھنا محض ایک تضیع اوقات ہے۔

حالانکہ دنیا میرے لیے کوئی بہت بڑا معمّہ نہیں ہے۔ (دنیا میں رہنے والے انسان معمّہ ہیں اور خود میں معمّہ ہوں)
ایک بے تُکے نقطے کا بے تُکے انداز میں پھیلتے رہنے سے مجھے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ یہ تو ایک مرض کی مانند ہے۔ ایک کینسر کی طرح۔ مگر اس نقطے کے اندر جو ایک لامحدود حجم والا بھورے رنگ کا لفافہ بن چکاہے، اُس میں عورت مرد رہتے ہیں۔ جانور رہتے ہیں، کیڑے مکوڑے رہتے ہیں اور بچّے رہتے ہیں۔ جی ہاں بچّے بھی۔ اوراسی دنیا میں جہاں پہاڑ، سمندر، آتش فشاں، جنگل، ندیاں اور ریگستان ہیں۔ وہیں ایک باورچی خانہ بھی تو اسی نقطے میں ہے۔ باورچی خانہ جیسا کہ میں باربار کہتا ہوں (کیونکہ تکرار مجھے پسند ہے، مجھے بھی اور اِس دنیا کوبھی) کہ وہ ایک انتہائی بھیانک اور ناخوشگوار مگر انسانی آنتوںکے لیے شہوت سے بھری ایک جگہ کا نام ہے۔ انسانی آنتوں کی شہوت اپنی ماہیت میں اُس کے پوشیدہ اعضاء کی شہوت سے زیادہ خوفناک ہے۔ اور کیا عجب اس نقطے (کرّۂ ارض) کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی شیطانی مقام نے کی ہو اور مجھے تو اَب مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں باورچی خانے سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔

اس لیے دنیا کے بڑھتے، پھیلتے رہنے یا فنا ہونے وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہ ہونے کے باوجود میں اس نقطے پر ایک پسّو کی مانند جاکر چپک جانا چاہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میری معجزاتی یادداشت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ وہ دنیا نام کے کاغذ پر لگاگئے گئے اُسی نقطے تک پہنچ جائے۔ میں اپنے جسم سے بھٹک گئے ایک خلیے کی مانند، ہوا میں اُڑتے ہوئے یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس دنیا نے انسانوں کے ساتھ کیا برتائو کیا۔ یا یہ کہ انسانوں نے دنیا کے ساتھ کیا کمینہ پن کیا، مگر افسوس کہ میرا حافظہ زیادہ سے زیادہ میرے بچپن تک ہی جاکر رُک جاتا ہے اور پھر ایک ایسی ذہنی کشمکش شروع ہوجاتی ہے جس کا انجام میرے سر میں بھیانک درد کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

میرا بچپن؟

میں اپنے بچپن کو دوبارہ اس لیے نہیں حاصل کرنا چاہتا، کہ اُسے ایک بارپھر سے جینے لگوں۔ میں اب اُس تک اس لیے رسائی حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ اُسے سمجھ سکوں۔ جس طرح ذرا بڑے ہو جانے پر بچّے اپنی پرانی گیند کو توڑ کر اُس کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پرانے کھلونوں کو توڑ کر اُس کے انجر پنجر ایک کرکے رکھ دیتے ہیں تاکہ سمجھ سکیں کہ چابی والا بندر دودھ کی شیشی منھ میں کس طرح لے کر پیتا تھا۔

میرا بچپن؟ وہ کہاں چھپا بیٹھا ہے؟

میں نے اپنی عمررسیدہ بدرنگ کھال کو باربار ساٹھ کی دہائی کے محمد رفیع کے فلمی گانوں کی نوکوں سے ادھیڑا اور چھیلا۔ ابن صفی کے ناولوں کی دھاردار قینچی سے باطن کے یہ موٹے موٹے بے رحم دھاگے اور ستلیاں کاٹ ڈالے۔ پرانے دوستوں کے ساتھ پرانی باتیں کرتا رہا اور میرے حافظے کو ان سب کی کمک ملتے رہنے کے باوجود، بچپن اس طرح نہ ملا جس طرح میں چاہتا ہوں۔ حالانکہ وہ میرے اندر ہی کہیں ہے۔ کھال کے نیچے، ہڈیوں کے گُودے میں، کہیں چپکا ہوا، گھر کے کسی تاریک گوشے میں پڑے پلاسٹک کی گیند کے ایک ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کی طرح، اپنے بچپن کے ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں پر جب توجہ مرکوز کرتے ہوئے غور وفکر کرتا ہوں تو ایک بات سامنے ضرور آتی ہے اور وہ یہ کہ آہستہ آہستہ میرے اندر ایک قسم کی کینہ پروری پیدا ہوتی جارہی تھی۔ ایک خطرناک قسم کا کینہ، جس کے اندر ایک گھٹیا قسم کا تشدّد پوشیدہ تھا۔ دوسروں کو ایذا پہنچانے کی ایک ناقابل فہم خواہش اکثر میرے اند رپیدا ہوتی رہتی تھی۔ مثلاً باربار میرا جی چاہتا تھا کہ اپنے پاس بیٹھے افراد کے جسم میں کوئی باریک سی سوئی چبھو دوں، یا کھانا پکاتے ہوئے کسی شخص کے کھانے میں چپکے سے تھوک دوں، اور بھی اِسی قسم کی گھٹیا اور غیر اخلاقی حرکتیں کرتا پھروں۔

میں مثال کے طور پر ایک واقعہ کا ذکر کروں گا، کچھ دنوں سے مَیں دیکھ رہاتھاکہ ثروت ممانی اور فیروز خالو آپس میں بہت بے تکلف ہوتے جارہے ہیں اور ماموں اور ممانی کے آپسی جھگڑے ضرورت سے زیادہ بڑھتے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک رات ماموںنے ممانی کو چپّلوں سے مارا پیٹا بھی۔ مجھے خوشی ہوئی کیونکہ ثروت ممانی بے حد بددماغ قسم کی عورت تھیں اُن کے کوئی اولاد نہ تھی مگر میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ وہ مجھ سے چڑتی تھیں۔ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ جس کا مجھے علم نہیں۔ انسان کو وجہوں کے پیچھے ہاتھ دھوکر نہیں پڑنا چاہئیے۔ بس تیل دیکھنا چاہئیے، اور تیل کی دھار۔ اگرچہ اس کارآمد اُصول پر میں خود بھی قائم نہ رہ سکا۔

اُس شام باورچی خانے سے اُس مسالے کی بُو آرہی تھی جس کے ساتھ مچھلی بھونی جاتی ہے۔ مجھے مسالے والی مچھلی بہت پسند ہے مگرمیری چھٹی حس نے مجھے آگاہ کر دیا تھا کہ آج یہ اچھا شگون نہیں ہے۔ کوئی بھی برُا واقعہ کسی کے بھی ساتھ پیش آسکتا ہے۔ مگر میں نے اُس رات مچھلی خوب مزے لے لے کرکھائی۔ مچھلی ثروت ممانی نے پکائی، اگر انجم باجی پکاتیں تو لطف دوبالا ہوجاتا۔ رات کا کھانا ساتھ خیریت کے کھالیاگیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا۔ میری چھٹی حس بھی سوگئی۔

وہ شاید اپریل کے شروع کے دن تھے۔ باہر والے دالان سے ملحق ایک آڑ میں چھوٹا سا برآمدہ تھا جس کی چھت لکڑی کی کڑیوں اور شہتیروں کی تھی۔ ان اطراف میں ان دنوں شہد کی مکھّیاں جگہ جگہ اپنے چھتّے بناتی پھرتی تھیں۔ برآمدے میں ایک شہتیر پر شہد کی مکھّیوں نے بہت بڑا سا چھتہ بنا رکھاتھا۔ تیز کتھئی رنگ کا بے حد نفاست اور ناپ تول کر بنایا گیا چھتّہ جو کبھی کبھی چھت پر فانوس کی طرح لٹکا ہوا نظر آتاتھا ۔ گھر میں کسی کی ہمت نہ تھی کہ اُسے چھیڑے۔

برآمدے کے سامنے باورچی خانے کا عقبی روشندان کھلتا تھا۔ جس سے یہ چھتّہ صاف نظر آتا تھا۔ رات کے تقریباً دو بج رہے تھے اور مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔کچھ بے چینی سی تھی۔ گھر کے تمام افراد اِدھر ُدھر دُبکے ہوئے سو رہے تھے۔ مجھے کچھ میٹھا کھانے کی خواہش ہوئی۔ رات میں اکثر میں چھپ کر میٹھا کھاتا تھا جس کے لیے مجھے باورچی خانے میں جانا پڑتا تھا۔ میں نے سوچا کہ تھوڑی شکر ہی پھانک لوں۔ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میں بستر سے اُٹھتا ہوں اور بلّی کی چال چلتے ہوئے باورچی خانے تک پہنچتاہوں۔ بہت آہستگی اور کمالِ احتیاط سے کام لیتا ہوا میں باورچی خانے کا دروازہ کھولتا ہوں ۔ اندر داخل ہوتا ہوں۔ اندھیرے باورچی خانے میں مچھلی کی بساندھ بھری ہوئی ہے۔ بغیر بتّی جلائے، اندازے سے میں شکر کے ڈبّے تک پہنچتا ہوں۔ روشندان میں سے پام کا ایک بڑا سا پتّہ اندر کو چلا آیا ہے جو اپریل کی رات میں چلنے والی خوشگوار ہوا میں آہستہ آہستہ لرز رہا ہے۔

میں شکر کا ڈبّہ کھولتا ہوں، شکر کو مٹھی میں دبائے ہوئے اُسے منھ میں ڈالنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ایک عجیب سی آہٹ سنائی دیتی ہے۔
میرا کن کٹا خرگوش؟

لوسی یا جیک؟
کوئی بلّی؟
یا وہ سیاہ ناگ؟

میں خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ میری بند مٹھی کھل جاتی ہے۔ ساری شکر اندھیرے میں فرش پر گر جاتی ہے۔
مگر نہیں یہ انسانی سانسیں ہیں اور انسانی سرگوشیاں۔

کوئی برآمدے میں ہے۔

میں ہمت سے کام لیتاہوں اور ایک بڑے سے پتیلے پر پیر رکھ کر روشندان سے جھانکتا ہوں۔ پام کا پتّہ میری آنکھوں اور ناک پر چبھنے لگتا ہے۔ میرے پورے چہرے پر سخت قسم کی کھجلی ہونے لگتی ہے۔ جس کو برداشت کرتے ہوئے اُچک کر میں دیکھتا ہوں۔
مدھم سی چاندنی میں دوسائے آپس میں اس طرح گتھے ہوئے نظر آئے جیسے کشتی لڑ رہے ہوں۔ ایک پل کو اُن کے چہروں پر خاص زاویے سے روشنی پڑتی ہے۔ میں اُنہیں پہچان لیتا ہوں۔

وہ ثروت ممانی اور فیروز خالو ہیں۔

میرے اندر ایک زبردست قسم کی نفرت کا بھنور پیدا ہوگیا۔ میرے اندر کینہ اور بغض اپنی حدوں کو پار کرنے لگے۔ میں سراپا تشدّد بن گیا، مگر کچھ نہ کر پانے کی سکت کے احساس نے میرے پورے جسم پر کپکپی طاری کر دی۔

ٹھیک اُسی وقت چاندنی رات میں مجھے وہ نظرآیا۔ وہ چھتّہ جو ٹھیک اُن دونوں کے سروں پر ہی لٹک رہا تھا۔

میں کانپتے ہوئے پیروں سے پتیلے سے نیچے اُترا۔ تاریک باورچی خانے میں اٹکل سے مٹّی کی اُس ہانڈی تک پہنچا جس میں نمک کے ڈبّے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے نمک کا ایک بڑا سا ڈیلہ ہاتھ میں دبایا اور دوبارہ اُس پتیلے پر چڑھ گیا۔ اس بار میں کانپ نہیں رہاتھا۔ حیرت انگیز طور پر میں خود کو بہت طاقتور محسوس کر رہا تھا۔

دو تاریک سائے دو جانوروںکی مانند ایک دوسرے سے گتھے ہوئے اور لپٹے ہوئے ہیں۔ میں پام کے پتّے کو ایک ہاتھ سے تھوڑا سا ہٹاتا ہوں۔ شہد کی مکھّیوں کے چھتّے پر اپنا نشانہ سادھتا ہوں۔ سانس روک کر اپنے دائیں ہاتھ میں اپنے جسم اور روح کی تمام طاقت کو منتقل کرتا ہوں اور پھر نمک کا ڈیلہ چھتّے پر زور سے پھینک کر مار دیتا ہوں۔ ہلکی سی آواز آتی ہے۔ جس کے بعد ایک عجیب اور پُراسرار سی بھنبھناہٹ گونجتی ہے۔ جیسے موت غصّے میں بھری سرگوشیاں کر رہی ہو۔

اُن دونوں کی ہذیانی چیخوں سے سارا گھر جاگ جاتا ہے۔ مکّھیاں دونوں پر بری طرح چمٹ گئی تھیں۔ چاندنی رات میں مکّھیوںکے سائے بھیانک تاریک دھبّوں کی طرح اُڑتے اور گردش کرتے پھر رہے تھے۔

غیض و غضب سے بھری شہد کی مکّھیاں اُن کے کپڑوں میں گھس گئی تھیں۔ فیروز خالو کو میں نے بھاگتے ہوئے زینے کی طرف جاتے دیکھا۔ وہ چھت پر دوڑ رہے تھے، شاید منڈیر سے برابر والے گھر یا گلی میں چھلانگ لگانے کے لیے۔ ان کی قمیض اور پتلون اُن کے کاندھوں پر تھی۔ وہ باربار اپنے نچلے حصّے پر اِدھراُدھر ہاتھ مار رہے تھے شاید اُن کے پوشیدہ اعضاء کو مکھّیوں نے ڈنک مارے تھے۔

ثروت ممانی بری طرح چیخیں مار رہی تھیںاور دیوانوں کی طرح زمین پر لوٹیں لگا رہی تھیں۔ کبھی وہ اُٹھ کر کھڑی ہوتیں اور بگولے کی طرح چکرانے لگتیں۔ اُن کے بال کھل کر اُن کے گھنٹوں تک جارہے تھے۔ پھر زمین پر گر کر لوٹیں لگانے لگتیں۔ میں نے اُنہیں اپنا جمپر اُتارتے ہوئے دیکھا، ان کی غیر معمولی طور پر بڑی اور بھاری بھاری لٹکی ہوئی چھاتیوں کی پرچھائیں کبھی زمین پر پڑتی،کبھی دیوار پر۔ اُن کے بال کھل گئے تھے۔ ان کا چہرہ اُن میں چھپ گیا۔ ان کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ کوئی خوفناک تانڈو ناچ ناچ رہی ہوں۔ ایک چڑیل، ایک آسیب کی مانند۔ ان کی چیخیں کبھی بھاری اور طویل ہوجاتیں اور کبھی پتلی، باریک اور مختصر — وہ کسی غیر انسانی شے میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد بالکل خاموش ہوکر وہ زمین پر ایک وزنی درخت کی مانند آگریں۔ مجھے لگا کہ وہ مر گئیں۔

گھر کے تمام افراد خوف زدہ سے اِدھر اُدھر کھڑے یا چھُپے ہوئے تھے۔

آہستہ آہستہ وہ خوفناک بھنبھناہٹ مدھم پڑتی گئی۔ مکھّیوں کے سائے سمٹنے لگے۔ اپریل کی ہوا پھر چلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ثروت ممانی اب تقریباً بالکل ننگی فرش پر شاید بے ہو ش پڑی تھیں۔ گھر کے دوسرے لوگ اِدھر کو آنے لگے۔ میرا سارا جسم پسینے سے بھیگ گیا۔ دل اس طرح دھڑک رہا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں یہیں، اسی جگہ، اسی باورچی خانے میں مرجائوں گا۔

مگر نہیں، اچانک پھرایک مکّار ہمت اور چالاکی نے مجھے نہ جانے کہاں سے نمودار ہوکر سہارا دیا ۔ میں تیزی سے باورچی خانے سے نکل کر برآمدے اورآنگن میں اکٹھا دوسرے افراد میں جاکر گھل مل گیا۔ اس افراتفری میں کسی نے بھی مجھے وہاں سے نکلتے نہیں دیکھا۔

یہ تو خیر ہوئی کہ چھتّہ ٹوٹ کر نیچے نہیں گرا تھا۔ نمک کے ڈھیلے سے وہ شاید صرف ہل کر رہ گیا ہوگا۔ اسی لیے مکھّیاں اپنا بدلہ لینے کے بعد دوبارہ چھتے پر جاکر چپک گئیں تھیں۔ نورجہاں خالہ نے ثروت ممانی کے ننگے بدن پراپنا سوتی دوپٹہ ڈال دیا تھا۔ مگر دوپٹہ ڈالنے سے پہلے میں نے اُن کے سینے کی طرف دیکھا تھا۔ وہاں اب چھاتیاں نہ تھیں۔ وہ سوج کر ایک بہت بڑے سے تھیلے میں بدل چکی تھیں۔
مجھے آٹا لانے والا تھیلا یادآگیا۔ تب اُنھیں اُٹھا کر اندرلایا گیا۔ ان کا پورا چہرہ سوج کر کپّا ہو گیا تھا۔ آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھیں۔ ان کے ہونٹ کسی درندے کی تھوتھنی کی طرح نیچے لٹک رہے تھے۔ چہرہ اس قدر لال تھا جیسے کوئی بڑا سا انگارہ، مجھے یہ ہرگز علم نہ تھا کہ شہد کی مکھّیوں کے کاٹنے سے اس حد تک معاملہ بگڑ جائے گا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اگر فوراً اسپتال نہ لے جایا گیا تو وہ مر بھی سکتی تھیں۔

’’مر جانے دو، مر جانے دو اس کتیا کو۔‘‘ ماموں چیخے۔ سب نے جھپٹ کر ماموں کا منھ بند کر دیا، مگر وہ دوبارہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگے۔

’’پوچھو- پوچھو اِس چھنال سے، یہ کس کے ساتھ منھ کالاکر رہی تھی۔ کون چھت پر بھاگا تھا۔

انجم باجی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا۔

’’چلو گڈّو میاں، تم جاکر سو جاؤ۔ میں بھی تمھارے ساتھ چلتی ہوں۔‘‘ انجم باجی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر والے دالان میں لے آئیں۔ انھوں نے پیار سے مجھے سو جانے کے لیے کہا۔ میں نے اُن کا چہرہ دیکھا۔ وہ بہت اُداس تھیں۔ اتنی اُداس کہ ان کے چہرے کی پاکیزگی تک اس افسردہ رنگ کی چھُوٹ میں کہیں گم ہو گئی تھی۔

اور میں سو گیا۔ میں واقعتا سو گیا۔ اتنا بڑا شیطانی کارنامہ انجام دینے کے بعد میں بے خبر سوگیا۔

دوسرے دن کی صبح غیرمعمولی طور پر سونی اور خاموش تھی۔ پتہ چلاکہ ثروت ممانی بچ تو گئی تھیں مگر اب وہ اس گھرمیں نہیں تھیں۔ مجھے یہی بتایا گیا کہ وہ علاج کے لیے بنگلہ دیش اپنے مائیکے کے کچھ رشتہ داروں کے یہاں چلی گئی تھیں۔

اس کے بعد ثروت ممانی کومیں نے کبھی نہیں دیکھا۔ چند دنوں پہلے کہیں سے یہ اُڑتی اُڑتی خبر آئی تھی کہ پاکستان میںاُن کاانتقال ہوگیا۔ وہ شاید بنگلہ دیش سے پاکستان منتقل ہو گئی تھیں۔

فیروز خالو جو محلے میں ہی رہتے تھے۔ اور ہمارے نسبتاً دورکے رشتہ دار تھے، اُن کا بھی کوئی پتہ نہ چلا۔ وہ تو اس طرح غائب ہوئے جیسے اُنہیں زمین کھا گئی ہو۔ ان کی بیوی کا اس واقعے سے پہلے ہی انتقال ہو چکاتھا۔ اور بچّے اپنی نانہال میں رہتے تھے۔

جہاں تک ماموں کا سوال ہے وہ ایک عرصے تک گم سم رہے۔ پھرانھوں نے اپنے آپ کو مقدموں اور کچہری کی دنیا میں پوری طرح غرق کردیا۔

یہ سب میں نے بڑی مشکل سے یاد کرکے لکھا ہے۔ اوراب مجھے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ سب جتنا بھیانک تھا اتنا ہی مضحکہ خیز بھی۔ یعنی یہ کہ دو نفس جب جنسی عمل میں مشغول ہوں تو اُن پر شہد کی مکھّیوں کے ڈنگارے کا حملہ۔۔۔! اور فیروز خالو کے پوشیدہ اعضا پر ٹھیک اُس وقت ایسی مصیبت جب وہ اعضا بذاتِ خود دوسرے جہانوںکی سیر کر رہے ہوں۔ بہرحال مضحکہ خیزی اور بھیانک پن ایک ہی سکّے کے دو پہلو ہیں۔ ایک کے ساتھ دوسری کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر آپ بھوت کو ہی لے لیجیے۔ وہ ڈرائونا اور مسخرہ ایک ساتھ ہے۔ بس بات یہ ہے کہ آپ کس پہلو پر زور دیتے ہیں۔ میرے اندر اُس زمانے میں دوسرے کو ایذا پہنچانے کا خبط اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ کسی بھی قسم کے احساسِ جرم وغیرہ سے میرا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اور ضمیر کس چڑیا کو کہتے ہیں، اس کا کوئی علم کم از کم اُس زمانے میں ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیداہوتا تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ میں اگر یہ حرکت نہ کرتا تب بھی کچھ نہ کچھ ہوکر رہتا۔ ایک غلط وقت اور غلط دن مسالحے دارمچھلی کا پکنا گُل کھلا کر ہی رہتا۔ یہ میرا ایمان اور ایقان ہے۔

یقینا یہ کہا جاسکتا ہے کہ میرے اندر مجرمانہ جراثیم بہت بچپن سے ہی پل رہے تھے۔ مگر ایک ایسا مجرم جس کی سزا جس عدالت میں طے ہونا تھی وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ لہٰذا ایک عرصے تک بلکہ شاید تازندگی میں اسی طرح چھٹّے بیل کی طرح گھومتا رہوں گا۔ اور اپنے اوپر اسرار کے اتنے دبیز اور سیاہ پردے ڈالے رکھوں گا کہ میرا باطنی وجود اپنے آپ میں ایک اسرار، ایک بھید،ایک خفیہ ریاضی میںبدل جائے گا۔

اور یہ سب ہونے میں بہت دیر نہیں ہے۔ اگر میں ناول لکھنے کے قابل ہوتا تو میرے مکھوٹے فطری طور پر آہستہ آہستہ سرک کر نیچے گرتے جاتے مگر مقدموں کی اپیلیں، عرض داشتیں اور عدالتوں میں ہونے والی بحثیں، یہ سب تو اپنے آپ میں خود سیاہ نقابیں ہیں۔ ہر وکیل، ہر گواہ اور ہر منصف ایک نقاب پوش ہے۔

میں جو یہ سب لکھ رہا ہوں (لکھ بھی رہاہوں یا بڑبڑا رہا ہوں؟) تو یہ بھی ایک اپیل، ایک عرض داشت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس کو کس عدالت میں داخل کرنا ہے یہ ابھی مجھے نہیں معلوم۔ بس میں اسے ہاتھ میں پکڑے پکڑے بھٹک رہا ہوں۔ اپنی عدالت کی تلاش میں، جب بھی مجھے مل جائے گی میں وہاں اِسے داخل کرکے خاموشی کے ساتھ اپنے سارے مکھوٹے گرادوں گا۔ میں وہاں عدالت کے سامنے ننگا ہوجائوں گا۔ میں یہ جسم تک اُتار کر پھینک دوں گا۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – دسویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

سردیاں رخصت ہو گئیں ۔ مارچ کا مہینہ آپہنچا۔ گھر بھر میں سوکھے پیلے اور مُردہ پتّوں کا ایک ڈھیر لگ کر رہ گیا۔ مارچ کی خشک ہوائوں کے اُداس جھکّڑوں میںیہ پتّے باورچی خانے میں بھی اکٹھا ہوجاتے کیونکہ باورچی خانہ گھر کے مشرقی حصّے میں تھا اور یہ ہوائیں شاید اُدھر سے آتیں تھیں جدھر مغرب تھا۔

میں ایک دوپہر زینے کی چوتھی سیڑھی پر بیٹھا باورچی خانے میں جھانک رہا تھا۔ زینہ ان خزاں رسیدہ پتّوں سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ میرے پیروں کے نیچے چرمرا رہے تھے۔

اچانک میرے پیچھے کی سیڑھیوں پر پتّوں میں کھڑبڑ ہوئی۔ میں نے مُڑ کر دیکھا۔

وہ ایک چھوٹا سا خرگوش تھا، سفید رنگ کا جس کے دو سیاہ کانوں میں سے ایک، آدھا کٹا ہوا تھا۔ خرگوش کی لال لال آنکھوں میں میرے لیے کوئی خوف یا دہشت نہ تھی، ایسا محسوس ہوا جیسے وہ مجھے ہمیشہ سے جانتا تھا۔

دراصل ہمارے گھر کے پچھواڑے جو مکان تھا، اُس کے مکین گھر چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے تھے۔ اُنہیں لوگوں نے خرگوشوں کا ایک جوڑا پالا تھا۔ انجم باجی اکثر چھت پر مجھے گود میں لے کر اُن کے آنگن میں دوڑتے بھاگے یہ خرگوش دکھایا بھی کرتی تھیں۔ اب وہ لوگ خرگوشوں کے جوڑے کو تواپنے ساتھ لے گئے تھے، مگر اُس کے بچّے کو اسی خالی گھر میں لاوارث چھوڑ گئے تھے۔ کچھ ہی دنوں پہلے مجھے نورجہاں خالہ نے بتایا تھا کہ گھر کی موری سے یہ خرگوش کا بچّہ باہر آگیا اور سڑک کے ایک آوارہ کتّے نے اُس پر حملہ کر دیا، کسی طرح اُس کی جان تو بچ گئی مگر کتّا اُس کا ایک کان آدھا کاٹ کر لے گیا۔

یہ وہی خرگوش تھا جو نہ جانے کہاں کہاں بھٹکتا ہوا، گندی موریوں اورنالیوں سے گزرتا اور بچتا بچاتا یہاں میرے پاس سوکھے مردہ پتوں سے ڈھکی گکیّا اینٹوں سے بنے زینے کی سیڑھیوں پر آکر بیٹھ گیا تھا۔

میں نے اُسے گود میں لے لیا۔ اس کے کان پر زخم تھا جس پر خون جما ہوا تھا۔ زخم اندر سے پک رہا تھا۔

میں نے خرگوش کا سر نرمی سے سہلایا۔ اس نے بے حد مانوسیت کے ساتھ میری گود کو اپنی تھوتھنی سے رگڑا۔
میں باورچی خانے کا منظر جالی میں سے دیکھ رہا تھا۔

ثروت ممانی چولہے پر کچھ پکا رہی تھیں، اُن کے ہاتھ میں ’’رشیدہ کا دسترخوان‘‘ تھا۔

ان دنوں ہمارے گھر میں ہر عورت کے ہاتھ میں یا تو رشیدہ کا دسترخوان ہوتا یا ’’رشیدہ کی کشیدہ کاری۔‘‘

اُڑتے اُڑتے میں نے انجم آپا سے یہ بھی سنا تھا کہ انجم باجی کی بارات ہونے والی ہے، ممکن ہے اسی لیے طرح طرح کے کھانوں پر مشق آرائیاں کی جارہی ہوں۔

ثروت ممانی نے رشیدہ کے دسترخوان کا ایک ورق پلٹا، پھر دوسرا، پھر ناک پر مضبوطی سے عینک جماکر کچھ پڑھنے لگیں۔ ان کی ناک پر وہ ڈھیلی ڈھالی اور بڑے بڑے شیشوں والی عینک پھر پھسلی۔

مجھے تجسّس ہوا کہ وہ کون سے کھانے کی ترکیب پڑھ رہی ہیں۔ میں زینے سے اُتر کر باورچی خانے میں آگیا۔ خرگوش میرے پیچھے پیچھے تھا۔

ثروت ممانی کھانا بہت اچھا پکاتی تھیں۔ مگراُن کے پکائے ہوئے چاول ہمیشہ سخت رہتے۔ چاہے وہ خشکہ پکاتیں یا بریانی، ہمیشہ دَم پر آنے سے کچھ پہلے ہی وہ دیگچی چولہے پر سے اُتار لیتیں۔ نتیجہ یہ ہوتا کہ ان کے ہاتھوں کے پکائے چاول دیکھنے میں تو بہت خوبصورت اور سفید سفید موتی جیسے بکھرے ہوئے ہوتے مگر کھانے میں ہمیشہ تکلیف کا سبب بنتے۔ مگر چوںکہ ثروت ممانی خاصی بددماغ واقع ہوئی تھیں اِس لیے کوئی اُن سے کچھ کہنے کی ہمت نہ کر پاتا۔

وہ بھی ایک عجیب منظر ہوتا۔ جس دن بھی چاولوں میں کسر رہ جاتی، پورا گھر کھانا کھانے کے بعد ناریل کی جُگالی کرتا پھرتا کیونکہ حکیموں کاکہنا ہے کہ سخت یا کرّے چاولوں کا توڑ ناریل ہے۔

اچھن دادی دنیا میں اگر کھانے پینے کی کسی شے سے خوف کھاتی تھیں تو وہ سخت اور کم گلے ہوئے چاول ہی ہوتے تھے، ورنہ وہ تو پائے ، گردے،کلیجی، پھیپڑے اور بٹ اور سِری سب ہضم کر جاتیں اور ڈکار تک نہ لیتیں۔ اُن کا قول تھا کہ ’’کلّا چلے ستّر بلا ٹلے۔‘‘

مگر یہی اچھن دادی سخت چاول کھاکر ، ناریل چباتی جاتیں اور بڑبڑاتی جاتیں کہ
’’چاول کی کنی، نیزے کی اَنی۔‘‘

اب سوچتاہوں کہ کتنا مضحکہ خیز محسوس ہوتا ہے کہ بکھرے بکھرے، سخت چاول کھاکر گھر کے سارے افراد ناریل چباتے جاتے ہیں اور آنگن میں ٹہلتے جاتے ہیں۔ ،’’چاول کی اَنی، نیزے کی اَنی۔‘‘

مگر اصل میں نیزے کی انی کیا ہوتی ہے۔ یہ میں ہی جانتا تھا اور آج بھی جانتا ہوں، میں تو اُس نیزے کے لوہے اور اُسے بنانے والے لوہار تک کو جانتا ہوں۔

’’آپ کیا پکا رہی ہیں؟‘‘

ثروت ممانی ایک بددماغ عورت تھیں۔ اُنھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

میں نے پھر پوچھا، ’’آپ کیا پکا رہی ہیں؟‘‘

’’قیمہ بھرے کریلے۔‘‘ انھوں نے بے نیازی سے کہا اور کتاب کی طرف توجہ مرکوز کر دی۔

’’چولہے پر رکھی ہانڈی میں تیل پک رہا تھا جس میں دوچار لہسن کے جوے جل کرکالے ہو چکے تھے۔ تیل میں سے جھاگ اُٹھ رہے تھے۔ سفید سفید جھاگ جنھیں دیکھ کر جی گھبرانے لگا۔

ثروت ممانی زور زور سے پڑھنے لگیں، جیسے سبق رٹ رہی ہوں۔

کریلے 10 عدد
قیمہ باریک ½ سیر
پیلی سرسوں کا تیل ½ سیر
ناگ پوری پیاز 2 سیر
گرم مصالحہ 1½ تولہ
کاجو 20عدد
کِشمش 2 تولہ
خربوزے کی مینگ 1½ تولہ
چرونجی 2½ تولہ
سرخ مرچ 1 تولہ
ہلدی 2 تولہ
دھنیہ 1½تولہ
لہسن پسا ہوا 5 تولہ
ادرک پسی ہوئی 5 تولہ
نمک حسب منشا

سب سے پہلے کریلوں کو گہرا گہرا چھیل لیں اور کچھ دیر پانی میں بھگو کر رکھیں۔ قیمے میں اگر چکنائی ہو تو اُسے بین بین کر الگ کر دیں۔ قیمہ خوب باریک ہونا چاہئیے ۔۔۔ ثروت ممانی جلدی جلدی دہرا رہی تھیں۔ مگر اُس سے آگے میں نہ سن سکا۔ مجھے کچھ ہونے والا تھا۔ میری طبیعت عجیب انداز سے بگڑ رہی تھی۔ مجھ سے باورچی خانے میں ٹھہرا نہ گیا۔

آنگن میں آم کا درخت بری طرح ہل رہا تھا۔ میں اُس کے سائے میں جاکر کھڑا ہوا تو میرے سر پر اُس کی شاخوں سے بہت سے پتّے گرے۔
خود میرا دل بھی ایک سوکھے پتّے کی طرح ہی لرز رہا تھا۔

یہ بات کچھ دیر بعد مجھے سمجھ میں آئی کہ میرا دل جو پتّے کی طرح لرز رہا تھا وہ دراصل مجھے اپنی زبان میں کچھ بتا رہاتھا۔ وہ مجھے خبردار کر رہا تھا، میں نے اپنے دل کی اس عجیب و غریب زبان کو سمجھ لیا تھا۔

’’آج نہیں— آج قیمے بھرے کریلے نہیں پکنا چاہئیں یہ اچھا شگون نہیں ہے، آج یہ کھانا ایک مخدوش کھانا ہے۔ پتہ نہیں کیا نتیجہ نکلے؟‘‘
آہستہ آہستہ میں اِس یقین کے وہم میں پوری طرح مبتلا ہوگیا کہ آج کے دن اُس وقت یہ کھانا پکنا کچھ منحوس باتوںکا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے۔

کھانا پکا اور مزے لے لے کر کھایا گیا۔ خود میں نے بھی کھایا مگر میرا دل لگاتار گھبراتا رہا۔ اور میری آنتوں سے نکل کر ایک چکنی روشنی لگاتار ایک روشن دھبّے کی صورت میری آنکھوں کے سامنے گردش کرتی رہی۔ شام کے ساڑھے پانج بجے ہوں گے جب سامنے والے گھر سے ایک شور سا بلند ہوا اور ببّو کی ہذیانی چیخوں سے محلہ ہل کر رہ گیا۔ یوں تو ببّو رات دن ہی چیختا رہتا تھا۔ اس کے گھر والے اور محلّے کے تمام لوگ اُس کی ان وحشی چیخوں کے عادی ہو گئے تھے۔ ببّو کی بھی ایک عجیب کہانی تھی۔

بچپن میں وہ بہت ضدّی اور شیطان قسم کا بچّہ تھا۔ ایک دن اپنے باورچی خانے میں اُودھم مچا رہا تھا۔ وہاں بُرادے کی انگیٹھی دہک رہی تھی۔ ایک پل کو اس کی ماں کی نظر بچی توببّو کے جی میں کیا آئی کہ انگیٹھی پر جاکر بیٹھ گیا۔

وہ ایک نچلے طبقے کا بچّہ تھا، اور چھ سات سال کا ہو جانے کے باوجود نیکر نہیں پہنتا تھا۔

اس کے منھ سے دردناک چیخیں نکلیں، وہ رو بھی نہ سکا۔ اس کا رونا صرف چیخ بن کر رہ گیا۔ ایک کبھی نہ ختم ہونے والی چیخ۔ اس کے ننھے معصوم پوشیدہ اعضا جل کر رہ گئے۔ نچلا دھڑ بری طرح جھلس گیا۔

مگر وہ مرا نہیں، وہ بچ گیا۔ لوگ کبھی کبھی بچ جاتے ہیں۔

وہ ایک بڑی موت کو گلے لگانے کے لیے کمینی اور ٹچّی قسم کی موت کو حقارت سے ٹھوکر مار دیتے ہیں۔

ببّو اَب چالیس سال کا تھا۔ اُس کا دماغ خراب ہو چکا تھا۔ چھ سات سال کی عمر میں وہ پاگل ہو گیا تھا۔ وہ گھر میں ننگا گھوما کرتا اور رات دن چیخیں مارا کرتا، بالکل اُسی طرح جیسے وہ آج بھی جلتی ہوئی انگیٹھی پر بیٹھا ہوا ہو۔

اس کی ماں نہ جانے کب کی مرچکی تھی۔ اور اُس کا باپ جو ایک بڑھئی تھا، وہ اُس کی اور خود اپنی زندگی سے عاجز آچکا تھا۔
محلے والوں کے لیے ببّو ایک تفریح کا موضوع تھا۔ محلے کے لونڈے دروازے میں سے جھانکتے اور ’’ببّو انگیٹھی، ببّو انگیٹھی‘ کہہ کر اُسے چڑا چڑا کر بھاگ جاتے۔ببّو کی وحشی چیخیں بڑھ جاتیں اور اُس کا باپ ہاتھ میں آری یا برما لیے، گالیاں بکتا ہوا بچّوں کے پیچھے دوڑتا۔بچے اِدھر اُدھر پھیلی ہوئی قبروں کے پیچھے کہیں چھپ جاتے۔ محلے کی عورتیں بھی ببّو کے جنسی اعضا جل جانے کا ذکر چٹخارے لے لے کر اور ہنستے ہوئے کرتیں۔

آج ببّو کی ہذیانی چیخیں اچانک بہت بلند ہوگئیں۔ غیر معمولی طور پر بلند۔ محلے میں شور ہورہا تھا، لوگ اُس کے گھر پر جمع تھے۔ پھر وہ چیخیں اچانک تھم گئیں، جیسے ایک زبردست طوفان اچانک رُک گیا ہو۔

میں بھاگ کر چھت پرجاکر کھڑا ہو گیا، جہاں سے ببّو کا گھر صاف نظر آتا تھا۔ لوگ زور زور سے دروازہ پیٹ رہے تھے۔ دروازہ اندرسے بند تھا۔ آخر کئی لوگوں نے مل کر خستہ ہال دروازہ توڑ ڈالا۔ عورتوں اور مردوں کی ایک بھیڑ گھر میں گھستی چلی گئی۔

کچھ دیر بعد معلوم ہوا کہ ببّو انگیٹھی کے باپ نے تنگ آکر پہلے تو ببّو کو گلا گھونٹ کر مار ڈالا اور اس کے بعد اُس آری سے، جس سے وہ لکڑی کاٹا کرتا تھا، اپنی گردن ریت ڈالی۔ مجھے یاد ہے کہ اُس وقت اس کے گھر کی موری سے کچھ کتھئی رنگ کا سیال بہہ کر نالی میں گر رہا تھا۔ تب تو نہیں، لیکن اب میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ کٹی ہوئی گردن سے بہتا ہوا خون ہوگا۔

کچھ ہی دیر بعد ساری گلی پولیس والوں کی خاکی وردی سے بھر گئی۔ میں چھت سے اُتر آیا۔ سارے گھر میں اِسی واقعہ کو لے کر چہ میگوئیاں چل رہی تھیں۔ میں ببّو انگیٹھی کو دیکھنے جانا چاہتا تھا۔ مگر گھر میں کسی نے اس کی اجازت نہیں دی، مجھے یہ بھی افسوس ہے کہ میں کبھی قریب سے ببّو انگیٹھی کو دیکھ نہیں سکا۔ اپنی زندگی میں صرف ایک بار میں نے اُسے دیکھا تھا، جب وہ نہ جانے کیسے گھر سے باہر نکل کرگلی میں آگیا تھا۔ اور لونڈے اُسے چڑا رہے تھے۔ یا اُس پر مٹّی کے ڈھیلے پھینک رہے تھے۔ اُس وقت وہ چیخیں نہیں مار رہاتھا، اُس کے تن پر صرف میل سے چیکٹ، پھٹی ہوئی ایک بنیان تھی۔ میں نے غور سے اُس کے نچلے دھڑ کی طرف دیکھا تھا۔ وہاں ایک خاموش مُردہ سفیدی کے سوا کچھ نہ تھا۔

اُس رات مجھے نیند نہ آئی۔ ایک ناقابل فہم دہشت مجھ پر چھائی رہی۔ گھر اور دہشت تو محلے پر بھی چھائی رہی۔ میرا اندیشہ صحیح ثابت ہوا، بلکہ میرا علم مکمل طور پر صحیح ثابت ہوا۔ مجھے پکّا یقین ہوگیا کہ اس بھیانک حادثے کا سبب آج دوپہر میں میرے باورچی خانے میں پکنے والے قیمے بھرے کریلوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔

مجھے اپنی اس خطرناک صلاحیت سے اتنا خوف محسوس ہوا کہ مجھ پر کپکپی سی چڑھنے لگی۔

اب اُس خطرناک قوت کا بھید مجھ پر کھل گیا جو لگاتار اور بے تعداد مقدار میں اُلٹیاں کرتے رہنے کے بعد مجھ میں پیدا ہوگئی تھی۔ کھانا اور اُس کے مختلف اقسام اب میرے لیے الجبرے کے اُن الجھے اور مشکل سوالات کی طرح تھے۔ جنہیں میں دیکھے بغیر ہی حل کر سکتا تھا اورجن کے آخر میں کسی ہندسے کے آگے پیچھے + کی یا – کی علامت لگاکر اُسے صحیح صحیح حل کرکے ثابت کردینا میرے لیے ایک خوفناک مگر گویا چٹکیوں کا کھیل تھا۔

(جاری ہے)

Categories
فکشن

نعمت خانہ – نویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میں انجم آپا کے پاس بیٹھا بازار میں آئے ہوئے ایک نئے جاسوسی ناول کے بارے میں باتیں کر رہا تھا۔ انجم آپا، چولہے پر بیٹھی چائے بنا رہی تھیں۔ شام کا دھندلکا پھیلنے لگا تھا۔ سُلگتے ہوئے اُپلوں سے نکلتے دھوئیں میں باورچی خانے کی کوئی شئے صاف نظر نہیں آرہی تھی۔ باہر دسمبر کی شام نے اپنے ازلی رفیق کہرے کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ باورچی خاے میں صرف چھپکلیوں کے سائے صاف نظر آرہے تھے۔ اتنی سخت سردی میں بھی دیواروں پر اتنی چھپکلیاں تھیں۔ سردی سے تقریباً مُردہ مگر ممکن ہے کہ وہ چولہے کی گرمی کی وجہ سے وہاں آجاتی ہوں۔ تھی مگر یہ حیرت انگیز بات۔

 

چولہے کے اونلے پر ایک چھوٹی ایلمیونیم کی بوسیدہ سی دیگچی رکھّی تھی، جس میں کوئی ڈھکّن نہ تھا۔ دیگچی میں دودھ تھا۔ انجم آپا نے چائے میں ڈالنے کے لیے ہاتھ بڑھا کر دیگچی اُٹھائی اور تھوڑا سا دودھ چائے کے برتن میں اُنڈیل دیا۔

 

“آج کل روز، پتہ نہیں دودھ میں کچھ نیلاہٹ کیوں ہوتی ہے؟ بہت ہی پتلا دودھ لارہا ہے یہ دودھ والا، کل اس کی خبر لوں گی۔” کہتے ہوئے جیسے ہی انجم آپا نے دودھ کی دیگچی فر ش پر رکھی، میرے منھ سے زور کی چیخ نکل گئی۔

 

دودھ میں ایک کالی اور موٹی سی چھپکلی تیر رہی تھی۔

 

انجم آپا کے بھی حلق سے چیخ نکلی۔

 

باورچی خانے میں گھر کے دوسرے افراد بھاگے چلے آئے۔

 

“یہاں اتنی چھپکلیاں ہیں، اندھی تجھے سوجھتا نہیں، سارے برتن بنا ڈھکے پڑے رہتے ہیں۔” کسی عورت کی آواز تھی مگر مجھے محسوس ہوا جیسے دیگچی میں تیرتی چھپکلی نے ہی یہ کہا ہو۔
مجھے یاد آیا کہ کل بھی میں نے یہاں چائے پی تھی، بلکہ دو بار پی تھی اور انجم آپا نے کل بھی دودھ کی نیلاہٹ کا ذکر کیا تھا۔

 

میں کانپتا ہوا سا اپنے گھر واپس آیا۔ سخت سردی میں بھی مجھے پسینہ آرہا تھا۔ میرا جی بری طرح متلا رہا تھا۔ تھوڑی دیر میں مجھے چکّر آنے شروع ہو گئے۔

 

اس کے بعد اگر مجھے کچھ یاد رہ گیا ہے تو وہ اُلٹیاں ہیں جو پتہ نہیں کتنے دنوں تک میرے حلق سے باہر آتی رہیں۔ اپنے بستر پر لیٹا لیٹا میں تھک کر پلنگ سے جھک کر فرش پر ہی قے کرتا رہا اور اُن میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ناکام کوشش کرتا رہا۔ نہ جانے کب تک میں نے کھانا نہیں کھایا۔ صرف کڑوی کسیلی دوائیں میرے گلے سے نیچے اُتاری جاتی رہیں۔ مجھے محسوس ہوتا تھا جیسے میری آنتیں اُچھل کر حلق سے باہر فرش پر بکھر جائیں گی۔ آنتوں میں ایک زبردست غصہ تھا۔ وہ غصّے میں دیوانی ہو گئی تھیں۔ میں نے اُنہیں غصّے میں بڑبڑاتے ہوئے سنا۔ آنتیں اپنی چکنائی کو میرے منھ پر مار مارکر باہر پھینک رہی تھیں۔ لگاتار بڑبڑا، بڑبڑا کر مجھے شاید بددُعا دیے جارہی تھیں۔

 

آہستہ آہستہ میں وقت اور دنیا مافیہا سے بے خبر ہوتا چلا گیا۔ میری پسلیوں کا درد ایک بے ہوشی میں بدل گیا۔ اب نہ دن رہا نہ رات، نہ صبح نہ شام۔ میں موت کے پالنے میں جھولا جھول رہاتھا۔

 

جب مجھے ہوش آیا تو لوگوں کے کہنے کے مطابق یہ میرا دوسرا جنم تھا یا نئی زندگی۔ میں ایک ایسا بچّہ تھا جس نے موت کی دیوار کو چھوکر واپس بھاگتے ہوئے آنے کا خطرناک کھیل کھیلا تھا۔ میں آئینے میں اپنے آپ کو پہچان نہ سکا۔ میں بے ہنگم، مکروہ اور نکیلی ہڈیوں کا ایک چلتا پھرتا ڈھیر تھا۔ میرے جسم کی ساری کھال پیلی ہوکر جگہ جگہ سے جھڑ رہی تھی۔ مجھے اپنا قد پہلے سے چھوٹا محسوس ہوا۔ میں ایک بھیانک خشکی کی یلغار میں آگیاتھا۔

 

کچھ عرصے تک میری یادداشت جاڑوں کی ہوائوں کے جھکّڑوں میں اِدھر اُدھر لاوارث اُڑتی پھری، ایک سوکھے پتّے کی مانند، میں کس زمانے میں ہوں؟ قواعد کی کتاب میں، میں نے زمانے کے تینوں صیغوں میں خود کو تلاش کیا اور ہر مقام پر خود کو غیر حاضر پایا۔

 

لیکن ایک دن جب مغرب کی اذان سے کچھ پہلے میں، باورچی خانے کی سیڑھی کے پاس کھڑا دسمبر کے کہرے کو بے خیالی سے دیکھے جارہا تھا، تو اچانک میری آنتوں نے جیسے میرے کانوں میں کچھ آہستہ سے کہا، کوئی علم، کوئی ریاضی کا فارمولہ، قواعد کا کوئی اصول۔

 

مگر آنتوں کی یہ آواز میرے کانوں میں جاکر رُک نہیں گئی، میں نے اُسے ایک سفید روشنی کی طرح کانوں سے باہر آتے دیکھا۔ پُراسرار آواز، سفید روشنی کا ایک دھبّہ بن کر گھر کی منڈیر پر چھائے ہوئے کہرے کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر جم گئی۔

 

پل بھر کو مجھے اپنا وزن بہت کم محسوس ہوا۔ میں ہوا یا روشنی کی طرح ہلکا سا ہو گیا۔ میں نے اپنے اندر ایک واضح تبدیلی محسوس کی۔ جیسے دیوار پر ٹنگی کسی پرانی، دھول زدہ گھڑی کی ٹک ٹک اچانک بہت بلند ہوگئی ہو۔

 

یقینا میرے اندر، میرے جسم اور دماغ میں کچھ تبدیل ہوا تھا۔ اُلٹیوں اور قے کے ذریعے نہ جانے کیا کیا میرے جسم سے باہراُنڈیل دیا گیا تھا، مگر ساتھ ہی جسم سے باہر موجود ہوائوں نے کوئی پُراسرار یا آسیبی شے میرے وجود کی گہرائیوں میں پیوست بھی کر دی تھی۔

 

میرے اندر کوئی طاقت آئی تھی۔ آخر کمزوری اورنقاہت، ایک نئی قوت اور طاقت کا پیش خیمہ بھی تو تھے۔

 

مگر میں اپنی چھٹی حس سے پہچان گیاکہ یہ طاقت منحوس اور خطرناک ہے۔ مجھے احساس تھا کہ جو بھی ہے وہ جلد ہی میرے لیے ایک عذاب کی پیشین گوئی ثابت ہوگا— ہاں! یقینا ایک عذاب!

 

میں واپس اپنے زمانے میں آ گیا۔ میں نے اپنے روٹھے ہوئے حافظے کو دوبارہ ایک ٹھوس شے کی طرح اپنے سامنے پایا اور میں نے اُسے اپنے دماغ کے خلیوں میں گویا ہاتھوں سے پکڑ پکڑ کر اندر محفوظ کر لیا۔ اُس وقت پنجرے میں طوطے نے تین بار زور زور سے کہا، “گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔”
Categories
فکشن

نعمت خانہ – آٹھویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

یہ گھر جس محلے میں واقع تھا، میرے بڑے ماموں اکثربتایا کرتے تھے، ایک قبرستان پر آباد کیا گیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر ہر گھر کی زمین میں ایک قبر موجود تھی۔ جب بھی کسی کے گھر کی زمین کو گہرے کھودے جانے کا موقع آتا تو مزدوروں کا پھاوڑا کسی نہ کسی ہڈیوں کے ڈھانچے سے جاکر ضرو رٹکراتا۔ محلّے کے باشندوں کے لیے یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ وہ سب اس کے عادی ہو چکے تھے۔

 

گلیوں میں بھی جگہ جگہ پکّی قبریں نظر آتیں جن کے تکیوں پر آورہ لونڈے دن بھر بیٹھے ہڑڈنگ مچاتے نظر آتے۔ رات میں انھیں قبروں پر بیٹھ کر جو ا بھی کھیلا جاتا۔ کچھ قبریں ایسی بھی تھیں جنہیں مزار کہا جاتا تھا اور ہر جمعرات کو وہاں چادریں چڑھائی جاتی تھیں۔ اگربتّی اور لوبان کے دھوئیں سلگتے، کھیلیں اور بتاشے تقسیم ہوتے اور قوّالیاں بھی ہوتیں۔ ہر گھر میں نیاز نذر کا ماحول تھا اور دوسرے مسلک والوں کا حقہ پانی یہاں بند تھا۔

 

اُس پار کھیتوں کے ایک لمبے سلسلے کے بعد جو محلہ تھا وہاں دوسرے مسلک اور عقیدے والے لوگ رہتے تھے۔ ا دھر کا آدمی اُدھر اور اُدھر کا آدمی اِدھر آکر مسجد میں نماز تک پڑھنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے محلے کے بعض گھروں کی لڑکیاں زندگی بھر کنواری رہیں اوربوڑھی ہوگئیں، صرف اس وجہ سے کہ اپنے عقیدے کے لوگوں میں اُنہیں اپنے معیار کے مطابق رشتہ نہ مل سکا اور بد عقیدوں میں شادی ہوجانے سے بہتراُن کا زندگی بھر کنوارا رہنا ہی تھا۔

 

ہماراگھر بھی انھیں میںسے ایک تھا۔ نورجہاں خالہ، ثروت پھوپھی، شاہین باجی اورنہ جانے کون کون تمام عمر کنواری رہیں۔ اور اُن سب کا بڑھاپا یقینا بہت خراب گزرا ہوگا اگرچہ اس بارے میں مجھے بہت زیادہ علم نہیں ہے۔

 

گھرمیں ہر وقت شور سا مچا رہتا۔گرمیوں کی دوپہر اور رات کے وقفے کو چھوڑ کر بس آوازیں ہی آوازیں تھیں۔ زنانہ، مردانہ، جوان اور بوڑھی آوازوں کا ایک سیلاب تھا جس سے گھر کی دیواریں چٹخی جاتی تھیں۔ ہاں وہاں بچّوں کی آوازیں نہ تھیں۔ بچّہ تو صر ف میں تھا۔ اکیلا بچّہ مگر جس زمانے کا میں ذکر کررہا ہوں، اُس وقت تک تو میری آواز بھی بچّے کی نہ رہی ہوگی۔ یوں بھی میں نے اپنے آپ کو کبھی بچّہ نہ سمجھا۔ باورچی خانے اورانجم باجی کی گود نے مجھے اپنے اندر ایک کینہ پرور اور خطرناک مرد کے وجود سے شاید ہوش سنبھالتے ہی روشناس کر دیا تھا۔

 

ہر جمعرات کو گھر میں عصر اور مغرب کے درمیان فاتحہ ہوتی اور لازمی طو رپر گوشت کا سالن پکایا جاتا۔ زیادہ تر بڑے ماموں ہی بیٹھ کر سر پر تولیہ ڈال کر فاتحہ دیتے۔ کبھی انجم باجی، کبھی نورجہاں خالہ اور کبھی ثروت پھوپھی جمعرات کا کھانا پکاتیں۔ یوں تو بہت سی عورتیں جن میں ممانیاں، خالائیں اوراُن کی لڑکیاں اور کچھ خادمائیں بھی باورچی خانے میں کچھ نہ کچھ کام کرتی نظر آتیں، مگر چند خاص کھانے جو ہر جمعرات کو اہتمام کے ساتھ پکائے جاتے، ان کا ذمہ انجم باجی،نورجہاں خالہ اور ثروت پھوپھی کے ہی سر تھا۔

 

بڑے ماموں کا کہنا تھا کہ جمعرات کی شام کو، مغرب سے پہلے گھر کے آبائو اجداد کی روحیں اپنی اپنی قبر کے باہر بیٹھ کر فاتحہ کے کھانے کا انتظار کرتی ہیں۔ اورجن کے پیارے اُنہیں بھول چکے ہیں اور فاتحہ نہیں دلاتے اُن روحوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ بڑے ماموں یہ بھی بتاتے تھے کہ رات میں کسی نہ کسی وقت گھر کے مکینوں کی روحیں گھر میں گشت کرنے کے لیے ضرور آتی ہیں۔

 

میں فاتحہ کے وقت بڑے ماموں کے پاس بیٹھا رہتا تھا۔ اگر بتّی کے دھوئیں میں پیالوںمیں رکھا سالن صاف صاف نظر نہیں آتا تھا۔ اُس وقت کچھ بھی صاف صاف نظرنہیں آتا تھا۔ دونوں وقت مل رہے ہوتے۔ سارے ماحول پر ایک ناقابل فہم دھند سی پھیل جاتی اور جب مغرب کی اذان ہونے لگتی تو میں شدّت سے اُداس ہو جاتا۔ اُس وقت چاروں اطراف میں اُداسی پھیل جاتی اور میں قبروں کے باہر، اپنے اپنے کھانے کے انتظار میں بیٹھے ہوئے مُردوں کے بارے میں سوچنے لگتا۔ وہاں کون کون ہوگا؟ کیا میرے ماں باپ بھی؟

 

مگر کچھ ہی دیر بعد یہ منظر ایک حیرت انگیز خاموشی کے ساتھ وہاں سے سرک کر نہ جانے کہاں چلا جاتا، داسے میں لالٹین روشن ہوجاتی۔ گھر میں رونق ہی رونق پھیل جاتی اور باورچی خانہ چوڑیوں کی جھنکار سے گونجنے لگتا۔

 

مجھے صرف انجم باجی کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا پسند تھا۔

 

ہاتھ؟

 

دراصل ہاتھوں کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ مجھے اب معلوم ہوا ہے، ہاتھ تو انسان کے دماغ سے بھی پہلے قوت نمو حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہاتھوں کی ایک ایک انگلی کی اپنی ایک الگ داستان ہے۔ انسان کے ہاتھوں کا لگاتار ارتقا ہو رہا ہے مگر ممکن ہے کہ ہاتھوں کا یہ ارتقا ایک معکوسی ارتقا ثابت ہو اور انسانی ہاتھ انجام کار ایک روز آکٹوپس کے ہاتھ پاؤں میں تبدیل ہو جائیں۔

 

غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ ہاتھوں سے زیادہ گنجان ہڈیوں کے گچھّے جسم میں اور کہیں نہیں پائے جاتے۔ ہاتھ انسان سے الگ ہیں، کبھی کبھی تو اُس کے ذہن و دماغ اور جسم کے لیے یکسر اجنبی اور بیگانے۔

 

یہی سبب تھا کہ وہاں الگ الگ ہاتھوں کے الگ الگ کھانے تھے، اُن کے ذائقے الگ، ان کی خوشبوئیں الگ اور اُن کی شکلیں الگ۔ باورچی خانہ ان ہاتھوں کی حرکات و سکنات کا ایک عجائب گھر تھا۔

 

مجھے یاد ہے کہ کچھ دنوں کے لیے ہمارے یہاں ایک باورچی بھی رکھا گیا تھا۔ جو پیروں سے لہسن چھیلتا تھا اور سب اُسے انگشت بدنداں دیکھتے تھے، مگر ایک بار جب اُس نے پیروں سے کھانا پکانے کی خواہش ظاہر کی تو ہر شخص نے اِس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ کھانا ایک پاک صاف شئے ہے۔ اس کا احترام کرنا چاہئیے۔ چاہے حلق سے اُترتے ہی وہ ناپاک کیوں نہ ہو جائے اور بڑی آنت میں جاکر فضلے کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے۔ اس لیے باورچی خانے کے سرکس میں کوئی بھی اُس غریب کا یہ کرتب دیکھنے پر آمادہ نہ ہوا۔ باورچی کو بے عزتی ہونے کا احساس ہوا۔ اپنے سے زیادہ اپنے آرٹ کی۔ وہ نوکری چھوڑ کر فوراً ہی چلا گیا مگر جاتے وقت اُس نے یہ ضرو رکہا تھا کہ افسوس وہ لوگ نہیں جانتے کہ کبھی کبھی کچھ انسانوں کے ہاتھ اُن کے پائوں میں اُتر آتے ہیں۔ یہ ایک مرض بھی ہو سکتا ہے جس طرح آدمی کی آنت اُترجاتی ہے، اس لیے میں باربار یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ ہاتھوں کی اپنی ایک الگ ہی پُراسرار دنیا ہے۔ وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ کہیں بھی جاسکتے ہیں، وہ کسی کا سر سہلا سکتے ہیں، کسی کے آنسو پونچھ سکتے ہیں اور گال پر تھپّڑ بھی رسید کر سکتے ہیں۔ ہاتھ قتل تک کر سکتے ہیں۔

 

باورچی خانے میں الگ الگ ہاتھوں سے ایک ہی قسم کی اشیا ایک ہی جگہ پر الگ الگ انداز سے رکھی جاتی تھیں، وہی نمک کا ڈبہ تھا، وہی سوکھے دھنیے کا۔ پسی ہوئی مرچوں کا اور ہلدی کا مگر ہر ہاتھ اُنہیں ایک نئے ڈھب کے ساتھ استعمال کرتا تھا۔ اُنہیں کھولتا، بند کرتا اور رکھتا تھا۔ کھرنجے کے فرش پر کسی کے ہاتھ سے جھاڑو دینے پر کوڑا بچا رہتا تھا اور کوئی دوسرا ہاتھ جھاڑو دیتا تو فرش آئینے کی طرح چمکنے لگتا، اپنی بوسیدگی کے باوجود ہر ہاتھ کا اپنا تماشہ تھا، اور ہر تماشے کو اپنے اداکاروں پر ناز تھا، اداکار جو صرف ہاتھ تھے۔

 

باورچی خانہ ایک متوازی دنیا تھا جس پر حکومت کرنے کے لیے عورتیں آپس میں جھگڑا کرتی تھیں، چلّاتی تھیں، ایک دوسرے پر مارنے کے لیے برتن اُٹھا لیتی تھیں، پھر ٹسوے بہاتی تھیں اور چولہے کی گرم بھوبل کو اپنے سر میں بھر لینے کی دھمکیاں دیتی تھیں اور وہ ہاتھ جن میں کبھی چوڑیاں کھنکتی تھیں اور کبھی وہ گھونسے کی شکل میں فضا میں تنتے۔ وہ ایک دوسرے کے دوست تھے۔ وہ ایک دوسرے کے دشمن تھے۔

 

باورچی خانے کی اس چھوٹی سی دنیا میں ایک گھسمان مگر زنانہ رن برپا تھا۔

 

گھر کے مرداِس جنگ سے بالکل متاثرنہ تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ جہاں چار برتن ہوتے ہیں تو آپس میں ٹکراتے ہی ہیں، اس گھر کے افراد کو اپنی پرانی (چھین لی گئی زمینداری) زمینداری، اعلیٰ حسب و نسب اور مدّتوں سے چلی آرہی مشترکہ خاندان کی روایت پر بے حد غرور اور گھمنڈ تھا۔ انھیں باورچی خانے کی پُراسرار دنیا کا کوئی علم ہی نہیں تھا۔ باورچی خانے کے دھوئیں سے، وقت سے پہلے جالے بھرتی ہوئی اور اندھی ہوتی آنکھوں، جلتے ہوئے ہاتھوں اور سُن ہوتے ہوئے گھٹنوں سے وہ انجان تھے۔

 

بس ایک میں تھا، ایک اکیلا۔ بڑا ہوتا ہوا ایک بچّہ۔ جو باورچی خانے کے تماشے کا ایک عینی شاہد تھا۔ یا اُس عدالت کا جو روز وہاں لگتی تھی اور جس کے کٹہرے میں ایک دن مجھے بھی مجرم بن کر کھڑا ہوجانا تھا۔

 

انسان اپنے مقدّرسے بچ کر نہیں جاسکتا۔ مقدّر تو خود چل کر اُس کے پاس آتا ہے۔ ٹیڑھے میڑھے راستوں اور بھول بھلیّوں سے نکل کر اچانک کسی آسیب کی صورت آپ اپنے مقدّر کو اپنے سامنے کھڑا دانت نکالے ہوئے دیکھتے ہیں۔ آپ کے پیر پتھّر کے ہو جاتے ہیں۔

 

بارہ تیرہ سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے مجھے اُردو کے جاسوسی ناولوں کا چسکہ لگ گیا۔ یہ چسکہ بھی مجھے بڑے ماموں نے ہی لگایا تھا۔ ساٹھ کی دہائی کا زمانہ اُردو کے مقبول عام ادب کا زمانہ تھا۔ میں بری طرح اس ادب کا شکار ہوگیا۔ جاسوسی ناولوں کے ساتھ ساتھ میں نے ہر قسم کے رومانی ناول بھی چاٹ ڈالے۔ فلموں کا بھی شائق ہو گیا۔ اگرچہ فلمیں دیکھنے کو کم ملتی تھیں، مگر فلمی رسائل گھر میں پابندی کے ساتھ آیا کرتے تھے۔ اور پھر ریڈیو تھا، اُس پر فلمی گانے آتے رہتے تھے۔

 

سچ بات تویہ ہے کہ میری شخصیت کی تشکیل میں جاسوسی ناول، گھٹیا قسم کے رومانی ناول اور چونّی والی فلموں اور اُ ن کے گانوں کا زبردست ہاتھ رہا ہے۔

 

گھر سے نکل کر بائیں طرف دس بارہ قدم چلنے کے بعد ٹوٹی پھوٹی تین چار قبریں پڑتی ہیں، اُن قبروں کے پار انجم آپا کا مکان تھا۔ انجم آپا ہماری دور کی رشتہ دار تھیں اور عمر میں مجھ سے آٹھ نو برس بڑی تھیں۔ ان کا خاندان ہمارے مقابلے معاشی اعتبار سے کمتر تھا اور اُن کا باورچی خانہ بھی بہت چھوٹا سا تھا۔ جس میں سامان رکھنے کے لیے کوئی اندھیری کوٹھری نہیں تھی برتن بھی بہت کم تھے۔ اُن کے یہاں چولہے میں زیاد تر اُپلے ہی استعمال کیے جاتے تھے یا پھر ایک زنگ آلود بھدا سا مٹّی کے تیل کا اسٹوو تھا۔ مٹّی کے تیل کی انجم باجی کے یہاں بہتات تھی، اس کی وجہ یہ تھی کہ اُن کے والد کی سرکاری راشن کی دوکان تھی۔ جہاں گیہوں، چاول،شکر، سستے کپڑے کے ساتھ ساتھ مٹّی کا تیل بھی رعایتی داموں پر فروخت ہوتا تھا۔ وہ آج کی طرح بازاری معیشت کا دورنہیں تھا اور اس چھوٹے سے شہر میں ایسی دوکانوں کی بہتات تھی۔ انجم آپا کو بھی فلموں سے اورجاسوسی ناولوں سے بہت دلچسپی تھی۔ وہ محلے کی لائبریری اور کتابوں کی دوکانوں سے دو آنہ کرایہ پر لے لے کر ناول اور رسائل پڑھا کرتی تھیں۔ میں اُن کو محبوب ناول ہائوس سے کرایہ پر لا لا کر ناول دینے لگا اور مشترکہ شوق کے باعث دوپہر میں میرا زیادہ تر وقت اُن کے ساتھ باورچی خانے میں گزرنے لگا۔ جہاں وہ اکثر مجھے گھر میں پلی ہوئی بکری کے دودھ کی چائے بناکر پلاتی تھیں۔ اُپلوں پربنی ہوئی چائے، فطرت کے زیادہ قریب مگر مقدّر—؟ ہاں مقدّر آہستہ آہستہ وقت کی لکیروں کے ساتھ رینگتا ہوا میرے پاس آرہا تھا۔ پتہ نہیں جاسوسی ناولوں کی وجہ سے یا کسی اور وجہ سے۔ میں نے اپنے اندر ایک چھٹی حس کو آہستہ آہستہ پروان چڑھتا پایا۔ مجھے اپنے اندر ایک خطرناک صلاحیت ہونے کے وجود کا خوفناک انکشاف ہوا۔

 

اس خطرناک صلاحیت یا خوفناک علم کی خبر سب سے پہلے مجھے میری آنتوں نے دی تھی۔ آنتوں کی وہ چکنائی جو میرے منھ سے نکلی، یہ اُسی کا دیا ہوا ایک وردان تھا یا کہ شاپ، ایک دُعا یا بددُعا؟ یہ تومیں یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتا مگر تمام عمر اس دُعا یا بددُعا کو سود کے ساتھ ادا کرتا رہا ہوں، بچپن سے اب تک۔ اِس عمر تک پہنچ جانے کے باوجود۔

 

میں ریاضی میں کتنا کمزور تھا، نہ عدد سمجھ میں آتے تھے، نہ ہندسے اور نہ اُن کے آپسی رشتے اور اُلجھاوے۔ مگر یہ ایک دوسری ریاضی تھی۔ ایک دوسرا حساب جس میں سوال کو حل کرنے کے لیے کھانے کے مختلف اقسام ہندسوں میں بدل گئے تھے اور باورچی خانہ ہی وہ منحوس جگہ تھی جہاں سے اِس علم میں علّت و معلول کے بظاہر مضحکہ خیز اور ناقابل تشریح سراغ ملنا شروع ہو جاتے تھے۔

 

یہ سب اچانک شروع ہوا تھا، ایک واقعہ کے بعد جو انجم آپا کے باورچی خانے میں پیش آیا تھا۔ اِس پُراسرار صلاحیت کی ابتدا انجم آپا کے باورچی خانے میں فرش پر رکھی ایک بنا ڈھکی بدقلعی دیگچی سے ہوئی تھی۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – ساتویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہمارا گھر ایک عجیب و غریب اور مثالی مشترکہ خاندان تھا۔ میرے ماں باپ کو چھوڑ کر وہاں سب ہی رہتے تھے۔ ماں میری پیدائش کے کچھ ہی مہینوں بعد چل بسی تھیں۔ اُنھیں پرانی ٹی بی تھی اور باپ پولیس میں ملازمت کرتے تھے۔ میری عمر شاید دوسال رہی ہوگی جب ڈاکوؤں سے مقابلہ کرتے ہوئے وہ اُن کی گولیوں سے ہلاک ہو گئے تھے۔ تو ماں باپ کا ذکر ہی کیا کرنا، وہ ایک بند کتاب کی طرح ہے، جسے شاید کبھی نہیں کھولا جا سکے۔

 

مگر اُن کے علاوہ گھر میں افراد کی کوئی کمی نہیں تھی۔ خاص طور پر چچازاد، ماموں زاد، پھوپھی زاد اور خالہ زاد بھائیوں اور بہنوں کی، دادیہال کے علاوہ شاید میری پوری نانہال بھی یہیں آبسی تھی۔ مجھے یہ نہیں معلوم کہ وہ کیا حالات تھے جس کے سبب میری نانہال کے بہت سے لوگ مثلاً ماموں اور خالہ وغیرہ بھی اس گھر میں رہتے تھے جسے میں اپنا گھر کہہ رہاہوں۔ اصل میں گھر کس کا تھا اور کس کے نام تھا۔ نہ مجھے معلوم تھا اور نہ کبھی یہ دریافت کرنے کی کوئی ضرورت ہی محسوس ہوئی۔ مجھے اصل میں کون پال رہا تھا، میری پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری کس کی تھی مجھے یہ بھی نہیں معلوم۔ گاؤں میں ایکڑوں کے حساب سے زمین تھی اور وہاں سے اتنا اناج اور غلّہ آتا تھا کہ گھر میں رکھنے کی جگہ نہ بچتی تھی۔

 

گھر میں کتنے افراد تھے، میں گن گن کر بتا سکتا ہوں، مگر مانا کہ میری یادداشت بہت اچھی ہے لیکن آخر اُس پر زور کیوں ڈالاجائے۔ دماغ کے ایک چھوٹے سے حصّے میں اگر اتنی تصویریں زبردستی اکٹھا کرکے اُن کے نام لے لے کر گنایاجائے تو اس سے نہ تو اُن تصویروں کا کوئی بھلا ہوگا نہ دماغ کا۔ بہتر یہی ہے کہ میں پیچھے پیچھے آنے والے اُس وفادارکتّے کی چاپ ہی سنوں۔ اِدھر اُدھر کی دوسری آہٹوں کو نظرانداز کر دوں۔

 

انجم باجی میری خالہ زاد بہن تھیں۔ عمر میں مجھ سے کم از کم دس سال بڑی ضرور رہی ہوںگی۔ اس بھرے پرے گھر میں شاید وہ سب سے زیادہ مجھ سے محبت کرتی تھیں۔ چھ سات سال کی عمر تک تو وہ مجھے گود میں لیے لیے بھی گھوما کرتیں اور باہری دالان کے داسے کے کنڈے میں لٹکے ہوئے طوطے کے پنجرے کے پاس مجھے لے جاتیں۔ اور طوطے سے کہتیں، “لو گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔” طوطا بڑا باتونی تھا، نقل اُتارنے کا ماہر، سُنبل اُس کا نام تھا۔ دو تین منٹ تک تو طوطا خاموشی سے اپنی آنکھیں گھما گھماکر ہم دونوں کو دیکھتا رہتا، پھر فوراً ہی اپنی واضح طور پر توتلی مگر غیر انسانی آواز میں بولتا۔

 

“ گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آ گئے”
انجم باجی ایک ہری مرچ میرے ہاتھوں میں تھما کر کہتیں۔
“لو سنبل کو مرچ کھلاؤ۔”

 

مرچ کو چونچ میں دبائے دبائے وہ ہم دونوں کو دیکھتا رہتا۔ پھرانجم باجی اسی طرح مجھے گود میں لیے لیے نل پر چلی جاتیں، اور اُس سے ملی دیوار پر مٹّی کے وہ گھر دِکھانے لگتیں جو بھڑیں بنا رہی تھیں۔

 

انجم باجی بہت گوری اور دُبلی پتلی نازک سی لڑکی تھیں۔ تب تو نہیں مگر بہت بعد میں غصّے کے کچھ کمزور اور کمینے لمحات میں، میں نے جب اپنے خیالوں میں اُنہیں بے لباس کرنا چاہا تو یہ ممکن ہی نہ ہوا۔ شاید کپڑوں کے اندر اُن کا جسم تھا ہی نہیں، یا کپڑے اُتارتے ہی اُن کے بدن کے تمام نشیب و فراز دھواں دھواں ہوکر تحلیل ہوجاتے تھے۔

 

اُن کے گورے بدن میں ایک پیلاہٹ تھی، وہ جس رنگ کا بھی کپڑا پہنتیں، اُس پر مجھے پیلے پن کی ایک پاکیزہ مگرپُراسرار سی چھوٹ پڑتی ہمیشہ محسوس ہوتی۔

 

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ کو کسی شخص میں بس کوئی ایک ہی چیز نظر آتی ہے۔ آخر آنکھوں کی اپنی حماقت بھی تو ہوتی ہے یا اُن کا اپنا انفرادی المیہ۔

 

میری آنکھوں کو نہ تواُن کی آنکھیں کبھی صاف طورپرنظر آئیں اورنہ ناک یا ہونٹ اور جہاں تک گردن کے نیچے کا سوال ہے تواُن کے دوپٹے کا اُبھار مجھے دلکش تو لگتا تھا مگر جتنا دلکش لگتا تھا اُتنا ہی فطری اور عام بھی۔ ظاہر ہے کہ یہ عورت اور مرد کا فرق تھا جس طرح ایک میز کرسی سے مختلف ہوتی ہے یا ایک کتاب پتھّر کی سل سے۔ اس لیے میرے اندر انجم باجی کے سینے کے اُبھاروں کے بارے میں کوئی تجسس نہ تھا۔ یاد رکھئے جنسی معاملات میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا۔

 

اس لیے مجھے تو صرف ان کی گوری، اجلی، صاف ستھری رنگت ہی نظر آتی تھی۔ پتہ نہیں وہ خوبصورت تھیں یا یونہی سی تھیں۔ میں اپنی فطری یادداشت کو اُلجھن میں کیوں مبتلا کروں؟ میں اُن کی رنگت سے ہی لپٹا رہنا چاہتا تھا۔ کاش! وہ سفید اُجلا رنگ انجم باجی کے جسم کی کھال سے نہ چپکا ہوتا۔ کاش! وہ رنگت اُن سے ماوراہوتی، کہیں خلا میں،یا ہوا میں، یا آسمان میں اور تب میرے گناہوں کے اندھیرے اتنے گاڑھے نہ ہوتے۔ وہاں کچھ سفیدی باقی رہتی۔

 

مجھے انجم باجی سے محبت ہو گئی تھی، بچپن میں، جب میں نیکر پہنتا تھا اور زیر ناف میرے بال بھی نہیں اُگے تھے، مگر میں پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ اپنی ماہیت میں بچپن کا یہ عشق، جوانی بلکہ کسی بوڑھے بوالہوس کے عشق سے مختلف نہ تھا۔ باورچی خانے میں رکھے کچّے گوشت کے مانند جس پر گرم مسالوں کی تہہ نہ لگی ہو اور جو ابھی ہانڈی میں اُبلنے کے لیے نہ رکھا گیا ہو۔

 

محبت اورنفرت میں ایک بڑا واضح اور خطرناک فرق ہے۔ محبت کی شکل صورت، اس کا جسم، اس کے خطوط اور خدوخال یاد نہیں رہتے، مگر نفرت ہمیشہ ایک جسم اور چہرہ رکھتی ہے۔
آفتا ب بھائی سے مجھے نفرت تھی۔ ہمیشہ سے،چاہے انھوں نے مجھے کتنی بھی ٹافیاں اور قلاقند کھلائے ہوں۔ آفتاب بھائی لمبے چوڑے جسم کے مالک تھے، رنگت اُن کی بھی گوری تھی مگر وہ انجم باجی کی طرح ایک پاکیزہ پیلی سفیدی نہ تھی۔ اُن کی جلد کی سفیدی میں لال رنگ چھپا ہوا تھا۔ ایسی سفیدی ہمیشہ اندر سے داغ دار اور تشدّد کی سیاہی سے پُتی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کا پتہ بھلے ہی بعد میں چلتا ہو۔

 

اُن کی آنکھیں بھوری اوربے رحم تھیں اور دہانہ کسی بل ڈاگ سے ملتا جلتا تھا۔ جس کو وہ اپنی خاندانی وجاہت اور مردانہ پن کی شان سمجھتے تھے۔

 

آفتاب بھائی، انجم باجی کے پھوپھی زاد بھائی تھے تومیرے کون ہوئے؟ پتہ نہیں بڑی گڑبڑ ہے۔ نہ جانے کیوں اس گھر میں اتنے عم زاد آکر کیوں اکٹھا ہوگئے تھے؟ غنیمت یہی تھا کہ یہاں بندروں نے اپنا ٹھکانہ نہیں بنایا تھا ورنہ وہ بھی ان تمام زادوں میں شامل ہو جاتے تو کوئی بعید نہ تھا۔
یقیناً آفتاب بھائی میں ایسی کوئی شے نہیں تھی جو اُن کے جسم سے ماورا ہونے کا امکان رکھتی۔ وہ پیٹو تھے اور ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے تھے۔ جس کے فوراً بعد مٹھی میں سگریٹ داب کر لگاتار گہرے گہرے کش کھینچتے۔ سگریٹ کی بو اُن کے آس پاس ہونے کی علامت تھی۔
آفتاب بھائی سے میری نفرت کی شدّت میں اُس دن غیر معمولی اضافہ ہوگیا جب میں نے انجم باجی کی سانسوں سے اُس سگریٹ کی بو آتی ہوئی محسوس کی۔

 

میں بڑا ہورہا تھا یا یہ کہاجاسکتا ہے کہ میرے جسم کے اندر عمر کی مقدار بڑھ رہی تھی۔ جس سے جسم آہستہ آہستہ۔ آخر کا ربڑھاپے کی طرف بلکہ تباہی کی طرف جاتا ہے۔

 

اب انجم باجی مجھے گود میں نہیں لیتی تھیں۔ نیکر میں میری پنڈلیاں اور رانیں موٹی موٹی ہو گئی تھیں۔ میں واقعی موٹا ہورہاتھا اور زیادہ تر وقت باورچی خانے میں گزرا کرتا تھا۔ باورچی خانے میں ایک دن جب میں شکر میں دیسی گھی ڈال کر اُسے باسی روٹی کے ساتھ کھا رہا تھا تو میں نے دیکھا۔

 

میں نے باورچی خانے کی جالی میں سے زینے کی چوتھی سیڑھی پر دیکھا، آفتاب بھائی انجم باجی کو اپنے ہاتھ سے کیک کھلا رہے تھے۔

 

میرے ہاتھ سے روٹی گر گئی۔

 

انجم باجی کا منھ چل رہا تھا۔ میں نے شاید پہلی بار اُن کا منہ کھلا دیکھا۔ وہ جلدی جلدی، گھبرا گھبرا کر کیک نگل رہی تھیں۔ میں نے پہلی بار اُن کے حلق کی حرکت اور اُس کی ہڈی کو دیکھا۔ شدید قسم کے غم و غصّے نے مجھے آکر گھیر لیا۔

 

دوپہر تھی، مئی کی تپتی ہوئی دوپہر۔ باورچی خانے کی جالیوں میں زینے سے ہوکر آتی ہوئی لُو ہوک رہی تھی۔ آفتاب بھائی سے مجھے خوف سا محسوس ہوا اور اِس بات پر افسوس بھی کہ اب تک میں نے یہ غور کیوں نہیں کیا تھا کہ انجم باجی کے پیٹ میں بھی آنتیں تھیں۔ نہ جانے کتنی بار میں نے اُن کے ہاتھ ہی کا پکا ہوا پلاؤ کھایا تھا۔ وہ بہت نفیس پلاؤ پکاتی تھیں، جس کا رنگ خود اُن کی اپنی رنگت سے ملتا جلتاہوتا۔ اور اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا پتلا شوربہ جسے میں تام چینی کی سفید رکابی میں اُتار کر بڑے اہتمام سے کھاتا تھا، جس دن بھی انجم باجی کے کھانا پکانے کی باری آتی، میں پڑھنا لکھنا چھوڑ کر باورچی خانے میں اُن کے ساتھ ہی کھڑا رہتا۔ مجھے اُن کے ہاتھ کا پکایا ہوا کھانا ہی اچھا لگتا تھا اور باورچی خانہ بھی اُس وقت مجھے دنیا کا سب سے حسین مقام معلوم ہوتا تھا جب وہاں انجم باجی کچھ کام کر رہی ہوتیں۔توا رنگ برنگی چنگاریاں بکھیرتے ہوئے ہنسنے لگتا جب وہ روٹیاں پکاتیں۔

 

بارہا میں نے انجم باجی کو کھانا کھاتے دیکھا تھا، مگر نہ جانے کیوں مجھے کبھی اُن کے جسم میں (اگر اُن کا کوئی جسم تھا) آنتوں کے ہونے کا رتّی برابر شائبہ تک نہ ہوا۔

 

مگر آج مئی کی اس سنسان گرم، تپتی ہوئی دوپہر میں۔ جب آسمان پر چیل انڈا چھوڑ رہی تھی، اچانک انجم باجی کے پیٹ میں نہ جانے کہاں سے آنتیں آگئیں۔ پل بھر کو آفتاب بھائی مجھے وہ نفرت انگیز چیل نظرآئے جو سڑک کے کنارے سڑتی ہوئی کسی اوجھڑی کو اپنی چونچ میں دبائے وہاں اُڑ رہی تھی۔

 

یہ غلیظ اور کراہیت سے بھری ہوئی اوجھڑی کسی بھی پاک صاف مقام پر، پاکیزہ جسم پر گر سکتی تھی۔ مجھے یاد ہے میں چولہے کی بھو بل کے پاس بیٹھ کر رونے لگا۔

 

میں نے زینے سے آتی ہوئی سرگوشی سنی۔

 

“باورچی خانے میں گڈّو میاں ہیں۔” انجم باجی تھیں۔

 

“وہ احمق موٹا ہوتا جارہاہے، سب اُسے گڈّو میاں کیوں کہتے ہیں، اُس کا اصل نام حفیظ ہے، حفیظ ہی کہنا چاہئیے۔” آفتاب بھائی ہنسے۔

 

“ابھی چھوٹا ہے، بن ماں باپ کی اولاد— وہ گڈّو ہی ہے۔ گڈّو میاں۔” انجم باجی کے لہجے میں پیار تھا۔

 

“یہ چھوٹاہے۔۔۔ اب کیا بتاؤں اُس دن جب یہ سورہا تھا۔ میں نے دیکھا۔۔۔” آفتاب بھائی نے کچھ آہستہ سے کہا تھا۔ یا جملہ غیر مکمل چھوڑ دیا تھا

 

“شرم نہیں آتی۔” انجم باجی غصے سے بولیں۔

 

اُس کے بعد سناٹا چھا گیا۔ میں چولہے کی بھوبل کے پاس اُسی طرح سر جھکائے بیٹھا تھا۔ میں اب رو نہیں رہاتھا۔ میرے کان آفتاب بھائی کے غیر مکمل جملے کے فحش پن کومکمل کر رہے تھے۔

 

اسی لیے میں نے کہا تھا کہ نفرت کا جسم بھی ہوتا ہے۔ اور چہرہ بھی۔ میں اپنی یادداشتوں پر تبصرہ کرتے رہنے کے لیے بھی مجبور ہوں۔ آخر جسم میں اتنی عمر آگئی ہے اور دماغ کے خلیے کمزور ہوکر مٹ رہے ہیں۔ میں جھکّی ہوتا جارہا ہوں۔

 

آفتاب بھائی اب میرے لیے سراپا نفرت کی ایک رسّی تھے جس سے میں بندھا ہوا تھا۔ اس رسّی سے بندھے ہوئے کسی وحشی جانور کی طرح میں انجم باجی کی طرف شکایت بھری نظروں سے دیکھتا تھا۔

 

وہ کچھ نہیں سمجھتی تھیں یا جان بوجھ کر انجان تھیں۔ اُنھیں دنوں اُنہوںنے مجھے اپنے ہاتھوں سے لال رنگ کا ایک سویٹر بھی بُن کر دیا تھا۔ میں نے وہ سویٹر آج تک نہیں پہنا، وہ اُسی طرح اُس لوہے کے کالے صندوق میں بند ہے۔ جس کے بارے میں، میں نے سنا تھاکہ وہ میرے ماں باپ کا صندوق تھا۔

 

میں بظاہر اپنا وقت اسکول کی کتابوں میں گزارنے لگا۔ میں نے انجم باجی کے پاس جانا کم کر دیا۔

 

بس کبھی کبھی میں طوطے کے پنجرے کے سامنے جاکر اُداس کھڑا ہوجاتا۔ طوطا دیر تک آنکھیں گھما گھما کر مجھے دیکھتا اور پھر زو رزور سے بولنا شروع کر دیتا۔

 

“گڈّو میاں آگئے، گڈّو میاں آگئے۔ “
Categories
فکشن

نعمت خانہ – چھٹی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

اپنی یادداشت پر اتنا غرور ہونے کے باوجود افسوس، میں یہ بتانا توبھول ہی گیا کہ ہمارے گھر میں ایک اور مسئلہ بھی تھا۔

 

اس گھر میں، باورچی خانہ کبھی کبھی کھسک کر چاروں طرف رینگنے لگتا تھا۔ ٹین میں داسے پر لٹکا ہوا چھینکا جس میں زیادہ تر دودھ کا برتن ہوتا۔ (برابر میں سنبل کا پنجرہ جھولتا رہتا تھا) کبھی کبھی چھینکے میں سالن بھی ہوتا۔

 

داسے کے دوسرے سرے پر مدّھم اور اُداس روشنی والی لالٹین۔ اس روشنی میں چھینکے کا سایہ ہوا میں آہستہ آہستہ ڈولتا تھا۔ اُس وقت آنگن میں پُراسرار طریقے سے غیر مرئی اشیا اکٹھا ہوتی جاتی تھیں۔ کہیں کسی چھینکے میں اُبلا ہوا گوشت لٹکا تھا، کہیں درختوں کی کیاری کے پاس رکھے ایک چھوٹے سے لکڑی کے اسٹول پر بچی ہوئی روٹیاں ڈلیا میں رکھی تھیں۔ باورچی خانے کے جھوٹے برتن نل کی حوضیہ میں پڑے تھے۔ گھر میں کتّا کوئی نہ تھا ا ور بلّیوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ وہ توپاک صاف جانور تھے۔

 

آنگن میں کھانوں کی بے ہنگم ڈولتی اور کانپتی ہوئی پرچھائیاں جو چاندنی راتوں میں اپنی سیاہ لکیروں کی حدود سے، پُراسرار اندازمیں ماورا ہوجانے کے درپے تھیں۔ اور ایک نعمت خانہ بھی تو تھا۔باہر والے دالان میں، اندر کی طرف، مغربی دیوار سے لگا ہوا نعمت خانے میں ایک سیاہ جالی تھی۔ سیاہ تو وہ دُھول دھکّڑ سے ہو گئی تھی۔ جالی کے چھید، دھول خاک اور میل سے بند ہوچکے تھے۔ نعمت خانے کا لکڑی کا ڈھانچہ جگہ جگہ سے گل رہا تھا۔ کبھی لکڑی پر سفید رنگ پوتا گیا تھا، مگر اب یہ سفیدی بھی کلجماہٹ میں تبدیل ہوگئی تھی۔

 

نعمت خانے میں انڈے، ڈبل روٹی، بڑے بڑے گول بسکٹ، کچھ پھل مثلاً زیادہ تر تو امرود یا خربوزے وغیرہ رکھے رہتے تھے۔ سیب اور انار کبھی کبھی ہی آتے اور وہ بھی شاید بیمار لوگوں کے لیے پتہ نہیں اُس کو نعمت خانہ کیوں کہتے تھے۔ مجھے تو وہ نعمت خانہ صرف اسی روز محسوس ہوتا تھا جب اُس میں شاہی ٹکڑے یا فیرینی کے پیالے رکھے ہوتے تھے۔ یا پھر کوئی مٹھائی۔ مگر یہ اشیا نعمت خانے کو روز روز کہاں نصیب تھیں۔

 

تو بس کھانا، کھانا اور کھانا۔ پورا گھر گویا مٹّی، گارے اور اینٹوںسے نہ بن کر پیاز، لہسن، ہلدی، دھنیہ، گرم مصالحوں اور گوشت اور ہڈیوں سے تعمیر ہواتھا۔ سارا سفر باورچی خانے سے شروع ہوتا تھا اور باورچی خانے پر ہی ختم ہوتا تھا۔

 

ساری محبت، ساری نفرت، ہر قسم کی لگاوٹ اور ہر قسم کا تشدّد باورچی خانے کے چولہے کی راکھ اور دھوئیں سے ہی نکل نکل کر گھر کے باقی حصوں یعنی برآمدے، دالان اور کوٹھریوں اور دروازوں تک پہنچتے تھے۔ باورچی خانہ ہی انسانوں کا گڑھا ہوا وہ متن تھا جس میں ہزار ہا معنی پوشیدہ تھے بلکہ معنی لگاتار پیدا ہوتے رہتے تھے۔

 

شادی، موت، ہر ہنگامے پر باورچی خانہ کا ایک انفرادی کردار ہوا کرتا تھا۔ نیاز، نذر اور تیوہار بس اِسی مقام پر اپنی معنویت کا مرکز رکھتے تھے۔ رَت جگوں کے گلگلے، کونڈوں کی پوریاں، کھیر، سویّاں اور موت کا حلوہ، سب اپنے ذائقے اور خوشبو کے لیے اسی کے مرہونِ منت تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ بقیہ تمام گھر، اُس کے آگے کمزور اور بے بس نظر آتا تھا۔ وہ قوت کا مرکز تھا۔ نئے زمانے کے جدید کچن کا باورچی خانوں کی عظیم مگر بھیانک روایت سے بظاہر کوئی تعلق نہیں نظر آتا۔

 

چندرگُپت موریہ کے زمانے سے لے کر مغلیہ دورِ حکومت کے اختتام تک تاریخ اِس امر کی شاہد ہے کہ رسوئی اور باورچی خانے کا رول حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت اہم مگر خفیہ نوعیت کا رہاہے۔ مہاتما بُدھ کی موت بھی بھکشا میں ملے ہوئے سڑے ہوئے گوشت کے کھانے سے ہی ہوئی تھی۔

 

باورچی خانے کا تعلق کھانا پکنے سے ہے اور کھانے کا تعلق انسان کی آنتوں سے اور بھوک سے اور بدنیتی سے بھی۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ انسان کے اعضائے تکلم ایک دوسرا کام بھی تو کرتے ہیں جس طرح جنسی اعضاء دو کام انجام دیتے ہیں۔

 

منھ، زبان، تالو، جبڑے اور دانت کھانا بھی تو چباتے ہیں۔ کھانے کا ذائقہ، لمس، مہک اور اُس کا چبانا، ریزے ریزے کر دینا اور پھر نگل کر آنتوں میں پھینک دیا جانا سب انھیں اعضا کے رحم و کرم پر مبنی ہیں۔

 

مگر آدمی بولتا بھی تو انھیں کے سہارے ہے۔ انھیں اعضا نے تو انسان کو قوتِ گویائی بخشی ہے۔ آخر کیوں؟

 

آخر کیوں؟ یہی اعضا کیوں؟؟ آنکھیںاور کان اور ناک کیوں نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھانا بھی ایک قسم کی وحشی اور گونگی بھاشا ہو اور بھوک اُس کے معنی!

 

ساری دنیا کی ایک عالمگیر زبان بھوک نہیں تو اور کیا ہے۔یہ اعضا زبان بولنے اور کھانا چبانے میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتے۔ ان دونوں کاموں سے اُنہیں ایک ہی قسم کی طمانیت اور سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ ایک حیاتیاتی سطح پر اور دوسرا تہذیبی سطح پر۔

 

مگر نہیں! کہاں کی حیات اور کہاں کی تہذیب، سب افواہیں ہیں اور دشمنوں کی اُڑائی ہوئی ہیں۔ معاملہ کچھ اور ہی ہوگا اور جوبھی ہوگا وہ بہت بھیانک ہوگا۔

 

بچپن سے ہی مجھے باورچی خانے سے ایک اجنبی اور نامانوس بُو کے آتے رہنے کا احساس تھا۔ یہ بُو ہلدی، مرچ، پیاز اور لہسن اور سرسوںکے تیل کے بگھار سے ملتی جلتی ہونے کے باوجود اُن سے الگ تھی۔ یہ زیادہ بھاری تھی اور اِسی لیے اس بُو کے سالمے بقیہ سے الگ اپنی ایک تہہ بناتے تھے۔ وہ ان سب اشیا کی بو میں گھل مل نہیں سکتے تھے۔

 

وہ نامانوس بو کس چیز کی تھی؟

 

تب تو نہیں مگر اب اِس عمر میں، تقریباً بوڑھا ہوجانے کے بعد مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ درندوں اور جنگلی جانوروںکے جسم سے آنے والی بو تھی۔

 

باورچی خانہ، آخر سرکس کا ایک تنبو بھی تو تھا۔

 

سرکس کے اس تنبو میں، ایک مسخرہ بن کر جیتے جیتے اور جانوروں کی بدبوئوں کے ساتھ رہ کر میری روح کی تمام خوشبو گھل گھل کر ختم ہوگئی۔

 

شایداب بھی میں کچھ جانوروں کے ساتھ رہتاہوں۔ اُن کا رِنگ ماسٹر اگرچہ مجھے قابو نہیں کرتا مگر میں اپنے آپ ہی اُس کی تعمیل کرتا ہوں۔ میں اُس کے چہرے اور اُس کے کوڑے دونوں ہی کے مزاج پہچانتا ہوں۔

 

میں جانوروں کے ساتھ ہی اُٹھ بیٹھ رہا ہوں۔ اُن کے ساتھ ہی میرا آب و دانہ ہے اوراُن کے ساتھ ہی میرا پیشاب پاخانہ۔

 

میں اِن سب سے اور باورچی خانے سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ کوئی بھی نہیں جاسکتا۔
انسان کہیں نہیں جاتا۔ سب چیزیں اُس کے پاس آتی ہیں، بالکل آنے والے کل کی طرح۔
آنے والا کل، شاید صرف اُس جسم کے لیے نہ ہو جو آنتوں اور معدے سے خالی ہو۔

 

مجھے ہندو دھرم کا یہ خیال باربار چونکاتا رہتا ہے کہ جس طرح ہون کنڈ میں اناج اور غلّہ وغیرہ ڈالاجاتا ہے، اُسی طرح معدہ بھی ایک قسم کا ہون کنڈ ہے۔ اور بھوک ایک آگ۔ پیٹ کی آگ کے لیے کھانا چاہئیے۔ کھانا کھانا ایک یگیہ سے مماثل ہے۔

 

ویسے بات کچھ خاص نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں استعارے سے کتراتا ہوں، مجھے تشبیہ پسند ہے۔

Categories
فکشن

نعمت خانہ – پانچویں قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

باورچی خانہ ایک خطرناک جگہ ہے۔

 

ہمارا گھر حویلی نما تھا، جس میں دو دالان تھے۔ ایک اندرونی اور دوسرا بیرونی۔ بیرونی دالان سے ملحق برآمدہ تھا جس میں ٹین پڑا تھا۔ اس کے سامنے ایک وسیع و عریض کچا آنگن جس میں آم کا درخت لگا تھا۔ اندرونی دالان سے ملی ہوئی دونوں اطراف میں کوٹھریاں تھیں، ایک کوٹھری میں بکس ہی بکس رکھے ہوئے تھے۔ نہ جانے کون کون سے زمانوں کے بکس اور ایک کوٹھری میں کتابیں، جو زیادہ تر پرانی اور خستہ حال تھیں۔

 

برآمدے کے ٹین کو لکڑی کے تھموں اور داسے کے ذریعے روکا گیا تھا، داسے میں جگہ جگہ لوہے کے ہُک نصب تھے جن میں لالٹین جلتی رہتی تھی۔ ٹین کے مشرقی حصّے میں مرغیوں کا ڈربہ اور کبوتروں کی کابُک تھی۔ مرغیوں کے ڈربے سے ملا ہوا زینہ تھا۔ چھت پر کوئی عمارت نہیں تھی۔ صرف منڈیریںتھیں جن پر دن میں کوّے، فاختائیں اور جنگلی کبوتر مٹرگشتی کرتے رہتے تھے اور رات میں آوارہ بلّیاں اگرچہ ہمارے گھر میں بھی کئی پالتو بلّیاں تھیں۔

 

آنگن میں دونوں طرف قطار سے چھوٹے چھوٹے پودے لگے ہوئے تھے اور ایک نارنگی کا درخت بھی تھا۔

 

چھتیں سب لکڑی کی کڑیوں کی تھیں اور خستہ حال ہو رہی تھیں،بارش کے دنوں میںجگہ جگہ سے ٹپکتی تھیں۔ کڑیوں میں چھپکلیوں اور چمگادڑوں نے بھی اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے۔
آنگن کے مشرقی حصّے میں ہتّھے والا نل لگا تھا جس کے نیچے ایک چھوٹی سی حوضیہ تھی۔ یہاں کپڑے اور برتن دُھلتے رہتے تھے اور گرمیوں کے خشک موسم میں بھڑیں اکٹھا رہتی تھیں۔
اس نل کے سامنے بالکل ناک کی سیدھ میں وہ تھا۔

 

وہ— یعنی باورچی خانہ۔

 

باورچی خانے کی کڑیوں کی چھت، کم از کم جب سے میں نے دیکھا، دھوئیں سے کالی ہی دیکھی۔ ان کڑیوں میں لٹکتے ہوئے مکڑیوں کے جالے بھی دھوئیں سے کالے ہو گئے تھے اور اُن پر دھول اور غبار کی موٹی تہہ جم گئی تھی۔ جب کبھی بھی (ایسا کبھی سالوں بعد ہوتا تھا) انہیں بانس کے ڈنڈے سے صاف کیا جاتا تو وہ فرش پر کالے کپڑے کی پتلی اورباریک دھجّیوں کی طرح نیچے گرتے باورچی خانے کی مکڑیاں اور چھپکلیاں بھی، وہاں زیادہ تر وقت گزارنے والی عورتوںکی طرح کالی پڑ گئی تھیں اور شاید اسی سبب سے اصل سے کچھ زیادہ زہریلی نظر آتی تھیں۔

 

ہر طرف کی دیوار کالی تھی اور ہر کونہ کالا تھا۔ مگر اِس سیاہی سے وہاں ایک مانوسیت اور اپنے پن کا احسا س قائم تھا۔ کبھی کبھار جب باورچی خانے میں چونے سے قلعی کروائی جاتی تو بھی یہ سیاہی، سفید چونے کے پیچھے سے جھانکتی ہی رہتی اور جلد ہی اِس پردے سے نکل کر باہر آجاتی۔

 

باورچی خانے کا فرش کھرنجے کا تھا اور جگہ جگہ سے اُدھڑ رہا تھا، اس میں بڑی بڑی دراڑیں تھیں جن میں چیونٹیاں اور کنکھجورے رہتے تھے اور کبھی کبھی سانپ کے چھوٹے چھوٹے بچّے بھی رینگتے ہوئے اِنہیں دراڑوںمیں گم ہوجاتے تھے۔

 

باورچی خانے کی چھت کے وسط میں ایک کڑی میں چالیس واٹ کا بلب، بجلی کے تار کی ایک ڈوری سے لٹکتا رہتا تھا۔ اُس زمانے میں ہمارے چھوٹے سے شہر میں بجلی آگئی تھی۔ مگر بجلی زیادہ تر غائب رہتی تھی اس لیے باورچی خانے کے دروازے کی چوکھٹ کے اوپر بھی ایک لالٹین ہمیشہ لٹکی رہتی تھی۔ مجھے یاد ہے کہ یہ لالٹین زیادہ تر بھڑکتی رہتی تھی۔ اس میں کوئی عیب تھا۔ یہ مٹّی کے تیل کو زیادہ مقدار میں برداشت نہیں کر پاتی تھی۔ اکثر اس کی چمنی ایک چھناکے کے ساتھ پھٹ جایا کرتی تھی مگر پتہ نہیں کیوں، باربار چمنی کو بدلتے رہنے کے باوجود، کبھی بھی اس لالٹین کو بدلا نہیں گیا، جس کے پیندے میں ہی کوئی خرابی تھی یا جس کا اپنی ہی بتّی سے کوئی جھگڑا تھا۔

 

بجلی کا تار لال رنگ کا تھا، مگر بعد میں،وہ بھی کالا پڑ گیا تھا اور اُس پر نہ جانے کیوں مکھیاں چپکی رہتی تھیں۔ باورچی خانے کی جنوبی دیوار پر روشندان تھا۔ جو پام کے ایک پیڑ کی طرف کھلتا تھا، کبھی کبھی جب پام کے پتّے پرانے ہوجاتے تو روشندان سے باورچی خانے کے اندر جھانکنے لگتے بلکہ شاید اَندر داخل ہونے کی کوشش کرتے۔ پام کے یہ پتّے بھی خوب تھے، ٹین سے ٹپکتی ہوئی بارش بھی پام کے اوپر سے گزرتی اور بوندیں یہاں الگ انداز سے گونجتیں۔ بے جان دھات، ٹین اور ایک جاندار شئے پتّوںمیں موسیقی کا ایک مقابلہ ہوتا، ایک اُداس جُگل بندی۔ پام کے یہ پتّے جب بہت بڑے ہوجاتے تو انھیں آری سے کاٹ دیا جاتا اور گھر سے باہر پھینک دیا جاتا، جہاں محلّے کے بچّوں کو ایک دلچسپ مشغلہ ہاتھ آجاتا۔ وہ اس دبیز، نم اور سبز غالیچے جیسے پتّے پر بیٹھ جایا کرتے اور دوسرے بچّے ڈنڈی سے پکڑ کر اُس وسیع و عریض پتّے کو سڑک پر گھسیٹتے پھرتے۔

 

مجھے افسوس ہے کہ میں کبھی پتّے پر نہ بیٹھ سکا۔ دراصل میری یادداشت میں پام کا پیڑ اور باورچی خانہ آپس میں اِس طرح گڈمڈ ہیں کہ ایک کے بارے میں بات کرنا دوسرے کے بغیر اگر ناممکن نہیں تو ادھوری اور تشنہ ضرور ہے۔

 

دوسری طرف کی دیوار میں اینٹوں کی ایک جالی لگی تھی جو زینے کی طرف کھلتی تھی۔ زینے کی چوتھی سیڑھی پر بیٹھ کر باورچی خانے کا منظر ایک کالی تصویر کی مانند نظر آتا تھا جس کے وسط میں ایک سرخ دہکتا ہوا دھبّہ تھا۔

 

یہ چولہا تھا، پنڈول سے پُتا ہوا، جس کے عقب میں اونلہ تھا۔ ایک کھانا پک جانے کے بعد اُس کی ہانڈی اونلے پر رکھ دی جاتی، تاکہ گرم رہے۔ لکڑیاں اگر سوکھی ہوتیں تو چولہے میں دھڑا دھڑ جلتیں اور اگر گیلی ہوتیں تو سارا باورچی خانہ دھوئیں سے بھر جاتا۔ چولہے کے سامنے بیٹھیں ہوئی عورتوں کی آنکھوں سے لگاتار پانی یا آنسو بہتے رہتے۔ جو باورچی خانے کی سیاہی میں گیلاپن بھی پیدا کر دیتے تھے۔ کھاناپک جانے کے بعد، چولہے میں بھوبل باقی رہتی۔ ایک سلیٹی رنگ کی راکھ جس کو کریدنے پر شعلے برآمد ہوتے تھے، اکثر رات کو دودھ کا برتن گرم کرنے کے لیے، اسے بھوبھل پر ہی رکھ دیا جاتا تھا۔

 

ہمارے گھر میں گوبر کے اُپلوں کا رواج نہیں تھا۔ وہ نسبتاً غریب اور نچلے طبقوں میں استعمال کیے جاتے تھے۔ مگر مجھے جلتے اور سُلگتے ہوئے اُپلوں پر بنی چائے بہت پسند تھی۔ اُس چائے میں دودھ کی خوشبو بہت خالص اورممتا سے بھری ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
میں نے ایسی چائے کئی بار پی ہے۔

 

ہاں مگر ہمارے یہاں بُرادے کی انگیٹھی ضرور تھی، ہر پندرہ دن بعد ایک آدمی ٹھیلے پر بُرادے کی بوری رکھے ہوئے نمودار ہوتا اور بوری کواپنی کمر پر لاد کر تقریباً دہرا ہوتے ہوئے اُسے باورچی خانے کی اندھیری کوٹھری میں لے جاکر پٹک دیتا۔

 

اُس انگیٹھی میں برادے کو بہت ٹھونس ٹھونس کر بھرنا ہوتا جو ایک مشکل اور تکڑم والا کام تھا۔ ورنہ انگیٹھی اچھی طرح نہیں سلگ پاتی تھی۔

 

چولہے سے دو ہاتھ کے فاصلے پر دائیں طرف، دیوار پر اینٹوں کی ایک الماری تھی، جس میں روزمرہ کے برتن اور مسالے وغیرہ رکھے ہوئے تھے۔ اکثر یہاں پیاز سڑتی رہتی تھی، فرش پر ایک طرف آٹا گوندھنے کا پیتل کا تسلہ، کالے رنگ کا بڑا اور بھاری توا جو مجھے کالے سورج کی طرح دکھائی دیتا تھا اور جس پر بڑی بڑی گیہوں کی چپاتیاں پکتی تھیں۔ اُن دنوں چھوٹے چھوٹے پھلکوں کا راوج نہ تھا بلکہ اُنہیں بہت حقارت کی نظروں سے دیکھا جاتا تھا۔
توے کے ساتھ ہی اِدھر اُدھر چمٹا اور پھنکنی بھی پڑے رہتے۔ دونوں کالے رنگ کے تھے اور تشدّد آمیز محسوس ہوتے تھے۔ فرش پر ڈھیر سی، اونچی نیچی، لکڑی کی پٹلیاں تھیں جن پر بیٹھ کر عورتیں کام کرتیں اور جاڑوں کے دنوں میں سب لوگ اُنہیں پٹلیوں پر بیٹھ کر چولہے کے آگے کھانا کھاتے۔

 

شب برات کے دوسرے دن کی صبح تو دیکھنے کا منظر ہوتا۔ گھر کا ہر شخص، ناشتے کے وقت، باورچی خانے میں آکر پٹلیوں پر بیٹھ جاتا اور رات کے باسی حلوے کو چولہے پر گرم کرکے، تام چینی کی رکابیوں میں باسی روٹی کے ساتھ کھاتا۔

 

میں یہ بتانا بھول گیا کہ باورچی خانے کے اندرایک طرف، اندھیری کوٹھری تھی جس میں زیادہ تراناج، غلّہ، گھی، تیل وغیرہ بھرے ہوتے تھے۔ اس میں بجلی کا بلب نہیں تھا اور دن میں بھی یہاں لالٹین یا مٹّی کے تیل کی ڈبیہ لے کر جانا پڑتا تھا۔

 

باورچی خانے میں ہر طرف ایک بکھرائو اور بدنظمی کا منظر تھا۔ جبکہ دیکھا جائے تو کھانا پکانے میں مدد دگار اشیا یا آلات وغیرہ بہت کم تھے۔ صرف توا، پھنکنی، چمٹا، پتھّر کی سِل، ہاون دستہ اور چند چھوٹے بڑے چمچوں یا کفگیر وغیرہ سے ہی کام چلالیا جاتا تھا۔ گرم برتن کو اُٹھانے کے لیے کپڑے کا استعمال کیا جاتا تھا جسے صافی کہا جاتا۔ اگرچہ وہ چکنائی اور سیاہی سے اِس طرح سنا ہوتا کہ عورتوںکی انگلیاں اُس سے چپک جاتیں اور ویسے توتجربہ کار یا منجھی ہوئی عورتیں بغیر صافی کے ہی گرم سے گرم برتن کو چولہے سے اُٹھا لیتیں۔ ان کے ہاتھوں کی کھال سُن ہو چکی تھی۔

 

برتنوں میں زیادہ تر تو بدقلعی تھے۔ دیگچیاں، ہانڈیاں، پتیلے وغیرہ میں نے ہمیشہ بدقلعی ہی دیکھے۔ جہاں تک کھانا کھانے کے برتنوں کا سوال ہے تو باورچی خانے میں تو تام چینی کی رکابیاں ہی تھیں اور چائے پینے کے مگ بھی تام چینی ہی کے تھے۔ اچھے اور قاعدے کے برتن اندر، دالان میں ایک الماری میں رکھے تھے جو مہمانوں کی دعوت وغیرہ میں ہی باہر نکالے جاتے اور دھوکر فوراً دوبارہ اپنی جگہ پر رکھ دیے جاتے۔

 

دعوتوں اور تیوہاروں وغیرہ کے موقعوں پر تو باورچی خانے کی یہ بدنظمی اور بھی بڑھ جاتی۔ خاص طور سے عید کے موقع پر جب چینی کے پیالوں میں سویّاں رکھی جاتیں اور کھرنجے کا فرش ان پیالوں سے ڈھک جاتا جس کو پھلانگ پھلانگ کر اور اپنے غراروں یا شلواروں کے پائینچوں کو اُٹھا اُٹھا کر عورتیں حواس باختہ سی، باورچی خانے میں اِدھر اُدھر بھاگا کرتیں اور اکثرایک دوسرے سے ٹکرا جاتیں۔

 

کیا کبھی اس بات پرسنجیدگی سے غورکیا گیا ہے کہ باورچی خانے کی تقریباً تمام اشیا میں، چند خاص مواقع پر ایک خطرناک ہتھیار بن جانے کے امکانات پوشیدہ ہیں۔ چاہے وہ ترکاری کاٹنے والی چھری ہو، توا ہو، چمٹا ہو، پھنکنی ہو، جلتی ہوئی لکڑی ہو، چولہے میں روشن، دھڑادھڑ جلتی ہوئی آگ ہو، مسالہ پیسنے والی سل ہو، پسی ہوئی مرچیں یا بھبکتی ہوئی بھوبل ہو یا پھر مٹّی کا تیل ہی کیوں نہ ہو۔گھر کے کسی اور حصّے میں اتنی زیادہ تعداد میں ایسی اشیا نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ بیرونی دالان کی دیوار پر کیل میں ٹنگی بندوق بھی ان اشیاء کے آگے حقیر اور کمزور نظر آتی تھی۔

 

گھر کے کسی بھی حصّے میں اتنے خطرناک بہروپئے نہیںپائے جاتے جتنے کہ رسوئی میں اور گھر کے کسی بھی اور مقام پر عورتیں اتنی برانگیختہ، برافروختہ، حسد سے بھری ہوئیں، تشدّد آمیز اور چھوٹی ذہنیت کی نہیں ہوتیں جتنی کہ باورچی خانے میں۔

 

باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔ باورچی خانہ ایک میدانِ جنگ ہے اور پورے گھر، پورے خاندان بلکہ بنی نوع آدم کی قسمت کا فیصلہ اِسی چھوٹے سے اور بظاہر پاک صاف مقام سے ہی ہوتا ہے۔ عدالت یہیں لگتی ہے، مقدمہ یہیں چلایا جاتا ہے۔ اور پورا گھر اپنی خاموش آنکھوں سے یہ تماشہ دیکھتا ہے جب تک کہ آخر وہ کھنڈر نہ بن جائے۔ انسانی آنتوں کی بھوک اور دو وقت کی روٹی میں ایک پُراسرار اور بھیانک شہوت چھپی رہتی ہے۔ یہ شہوت صرف سیاہی اور خون کی طرف بڑھتی ہے۔ اور انجام کار بس ایک فحش اور مغالطہ آمیز بدنیتی بچ جاتی ہے۔ جس کے نشے کے زیر اثر کالی پیلی اور گوری عورتیں، گرم برتنوں کو اپنے سُن ہاتھوں سے اُٹھاتے رہنے کی عادی ہوکر باورچی خانے کے برتنوں سے وہی سلوک کرنے لگتی ہیں جو وہ اپنے مردوں سے کرتی ہیں۔ ان کے مرد آہستہ آہستہ چھوٹے بڑے برتنوں میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ باورچی خانے میں وہ سب بے حد حاوی اور خود غرض ہو جاتی ہیں۔ اُن کے جسم کی کھال سُن ہو جاتی ہے۔ عورتیں، باورچی خانے کے برتنوں کے ساتھ مباشرت کرتی ہیں۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – چوتھی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

میری یادداشت ایک معجزہ ہے۔ مجھے سب یاد ہے بس شرط یہ ہے کہ جو بھی میں نے دیکھا ہو، شاید بصری یادداشت اسی کو کہتے ہیں۔ حالانکہ کچھ ایسا بھی ہے جو مجھے یاد نہیں آتا یا اُسے میں لفظوں کاجامہ نہیں پہنا سکتا، مثلاً مجھے ایک تاریک دُنیا کا بھی احساس ہے جسے آپ عدم کہہ سکتے ہیں، اگرچہ میرا خیال ہے کہ عدم محض ایک واہمہ ہے۔

 

تو مجھے اِس واہمے کا بھی احساس ہے، تاریک دنیا کی پرچھائیاں، وہاں کی اشیا جو چاقو کی نوک پر لرزتی ہوئی اُن شکلوں کی طرح ہیں جو کبھی نظر نہیں آتیں۔ شاید اِس لیے کہ چاقو سے صرف سفید کاغذ پر لکیریں ڈالی گئی ہوں؟

 

اور وہاں کے کھانے، اُن کا کھٹا میٹھا اور تیکھا ذائقہ۔ اور اُن کھانوں کی خوشبو، میرے پیٹ کی آنتوں کو اُلجھن میں مبتلا کرتے ہیں جس کی وجہ سے میرے دماغ کے بائیں حصّے میں کچھ کشمکش کی سی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔

 

میں کبھی کبھی تنگ آکر اس وبال سے چھٹکارہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہوں مگر میرا حافظہ، وہ میرا وفادار کتّا دبے پاﺅں میرے پیچھے پیچھے چلاآتا ہے۔
بچپن میں اکثر سڑکوں پر چلتے وقت مجھے لگتا تھا جیسے کوئی کتا میرے تعاقب میں ہے، اب جاکر میری سمجھ میں آیا کہ وہ میرا حافظہ تھا۔

 

خیر! اب تو بہت سی باتیں صاف ہو چکی ہیں مثلاً زندگی میں موت کی یاد اور موت میں زندگی کی یاد اس طرح گھلی ملی ہوئی ہیں جیسے بھونے جاتے ہوئے مرغ میں مسالہ۔

 

ویسے بھی زندگی اور موت میں کوئی فرق تو ہوتا نہیں ۔ موت کا چھینا ہوا زندگی میں حاصل ہوجاتا ہے اور موت کے اندھیرے میں کھوئی ہوئی تمام اشیا مل جاتی ہیں۔

 

اسی لیے اِس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ زندہ انسانوں کا خون مُردوں پر چھڑکتے ہیں یا مُردوں کا خون زندہ انسانوں پر۔ دونوں صورتوں میں نتیجہ ایک ہی برآمد ہوتا ہے، یعنی کچھ کھوکر پالینا یا کچھ پاکر کھو دینا۔

 

ریاضی کا ایک معمولی طالب علم بھی اس سے ایک مساوات بنا سکتا ہے۔ مگر اِس مساوات کو حل کرنا یا ثابت کرنا بڑا مشکل ہے۔ یہ ایک ایساعمل ہے جس سے میں لگاتار دوچار ہوں اور شیطان کی آنت کی طرح یہ مساوات پھیلتی اور لمبی ہوتی جا رہی ہے۔ اِس کی وجہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں شاید یہ ہے کہ اس سفر میں انسان اپنی روح کے جغرافیے سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ کم از کم میرے ساتھ تو یہی ہوا۔ میں نے بچپن کی اپنی خاکی پتلون میں اپنی روح کے جغرافیے والا بوسیدہ کاغد سنبھال کر رکھ لیا تھا، مگر عمر کے نہ جانے کس پڑاﺅ پر اور پتہ نہیں کون سی بارش میں وہ گل سڑ گیا۔ میں نے اُسے گنوا دیا۔

 

اپنے اس بے رحم حافظے، زچ کرکے رکھ دینے کی حد تک اُس وفادار کتّے سے پیچھا چھڑانے کے لیے میں نے یہ ترکیب بھی سوچی کہ میں مڑ کر جلدی سے اِس کتّے کا پٹّہ پکڑ کر اُسے ناول کے کنویں میں دھکّہ دے دوں یعنی اپنی یادداشتوں کو میں ناول کے قالب میں ڈھال دوں اوراپنی جان چھڑاﺅں۔

 

میں اور ناول؟ یہ خیال کرکے مجھے ہنسی آتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ ایک ناول لکھوں۔ مگر میں ناول تو ناول ایک چھوٹی سی کہانی بھی نہیں گڑھ سکتا بلکہ میں ایک پیراگراف تک نہیں لکھ سکتا۔ اس کی ایک، بالکل سامنے کی وجہ تو یہ ہے کہ میرے اندر قابل رحم حد تک تخلیقیت کا فقدان ہے اور دوسری، شاید زیادہ اہم وجہ یہ ہے کہ بچپن سے ہی میری قواعد پوری طرح ٹھپ ہے۔ میں زمانوں میں فر ق نہیں کرسکتا۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میرے لیے ایک ہی ہیں بلکہ زمانہ حال اور زمانہ ماضی تو مجھے احساس کی سطح پر ایک دوسرے کے جڑواں نظر آتے ہیں۔ یہی حال مستقبل کا ہے، زمانہ مستقبل مجھے گزرا ہوا زمانہ ہی نظر آتا ہے۔ بچپن میں امتحان میں قواعد کے پرچے میں بس رٹ رٹاکر کام چلا لیا کرتا تھا۔ اس لیے افسوس کہ میں تو صرف مقدموں کی اپیلیں اور عرض داشتیں وغیرہ ہی لکھ سکتا ہوں، اور وہاں بھی اکثر مجھ سے گڑبڑ ہوجاتی ہے، جسے میرا محرّر ٹھیک کر دیا کرتا ہے۔ اس سلسلے میں، میں اگر اتنا ناکارہ اور نااہل نہ ہوتا تو میں تو واقعی ناول لکھتا۔

 

میرا ناول ہی میرا گھر ہوتا۔
میرا گھر، میرا گھر۔
کیا آپ کو معلوم ہے کہ گھر کا سب سے خطرناک حصّہ کون سا ہوتا ہے؟

 

لہٰذا میرا المیہ یہ ہے کہ میں اپنے حافظے کے قدموں کی چاپ سے بھڑک بھڑک کر بھاگ رہا ہوں اور اُن لفظوں کے ساتھ جی رہا ہوں جو ابھی لکھے نہیں گئے۔ ان لفظوں کے شور میں اِس طرح لاپروائی سے ہاتھ پیر پھینک کر چل رہا ہوں جیسے بہرا ہوں۔ میں تو بس اپنی گزری، بھولی بسری یادوں کے اندھیروںمیں لڑکھڑا رہا ہوں۔

 

جائے سب کچھ جہنم میں جائے۔

 

میں لفظوں کی غلامی تو کرنے سے رہا، جس دنیا میں ہر انسان ایک خوفناک راز کی طرح دوسرے انسان کی زندگی پر چھایا ہوا ہو، اُس دنیا کے بارے میں، اور انسانوں کے بارے میں لکھنا ویسے بھی ایک کارِ عبث ہی ہوتا۔

 

ہاں مگر، انسان کی ماہیت کے بارے میں ایک بات کا مجھے بخوبی علم ہے یا احساس ہے، بلکہ میں اسے احساس کی سطح پر ہی رکھنا چاہتا ہوں کیونکہ احساس جیسے ہی علم بنتا ہے۔ لوگ علم کو اپنے دماغ پر اِس طرح باندھ لیتے ہیں جیسے سُوّر کو باڑے میں۔

 

اور وہ احساس یہ ہے کہ انسان اپنی آنتوں کے اندر رہتا ہے۔ انسان کے اعضائے پوشیدہ تو محض انسانوں کے ہونے کے امکان، اُن کی پرچھائیوں کے ٹھکانے ہیں۔
ذہنی اور روحانی طورپر آدمی اپنی آنتوں کے اندر ہی چھپا رہتا ہے۔ اپنی بدنیتی، اپنے چٹورپن اور اپنی بھوک کو، دوسرے کے منھ پر مارتا ہوا، ایک دوسرے کی بھوک کے ذلیل لال رنگ سے دوسرے کا منھ سنا ہوا، یہ خون کی ہولی ہے۔

 

خون؟

 

خون، جس کی بُو میرے بچپن کی جیومٹری کی کتاب میں بنے ایک ایک دائرے، ایک ایک مثلث میں اور ہراُس قضیے میں ایک خفیہ گناہ اور فاش غلطی کی مانند شامل ہے جسے میں کبھی حل نہ کر سکا۔

 

اور یہ بھی ایک خفیہ امر ہے کہ انسان کی آنتیں ہی اُس کا گھر ہےں۔

 

گھر؟؟

 

کیا آپ جانتے ہیں کہ گھر کا سب سے خطرناک مقام کون سا ہے؟

 

یاد رکھیے، ’باورچی خانہ‘ ایک خطرناک اور مخدوش جگہ کا نام ہے۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – تیسری قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

یہ ہو گا بعد میں، ہماری موت کے بعد
کہ وہ مُردہ ہو جائے گا
اور گھنٹیاں بجیں گی مرنے والوں کی
اُس کے لیے
ملارے

 

……………..

 

ہوا کو وہ اپنی ہی طرح نظر آرہا تھا۔ وہ پُرانے مُردوں کے پاس آیا تھا اور ہر جذبے، احساس اور کیفیت سے خالی محض ایک چکراتا ہوا بگولا تھا یا ایک ایسی ممی بن چکا تھا جس کے دماغ کو اُس کی ناک کے ذریعے مہارت کے ساتھ باہر نکال کر پھینک دیا جاتا ہے تاکہ جسم سڑ گل نہ سکے۔ دماغ کوڑے دانوں میں بھٹکتا پھرتا ہے اور جسم ہواﺅں میں۔

 

دماغ اور جسم کی اس دائمی جدائی کے سبب دونوں کے درمیان صرف سائے پیدا ہوتے ہیں، جذبوں اور احساس سے خالی، محض تاریک سائے۔

 

یقینا وہ جذبات ہی تو تھے جن کے دریا جیسے پاٹ پر وہ گناہوں اور جرائم کے گھڑے رکھ کر کھینچا کرتا تھا اور وہ دماغ ہی تو تھا جو ان گھڑوں کو بنانے اور پھر چھپانے کی ترکیبیں سجھایا کرتا تھا۔

 

تب یہ گھڑا آسانی سے کھنچتا چلا جاتا تھا کیونکہ اس میں اُس گھڑے کی مٹّی کے خالق اور اس کے دریا کا زور اور بہاﺅ بھی شامل تھا۔ ایک زائد طاقت، ایک بیرونی امداد۔

 

مگراب وہ ایک اکیلا آدمی تھا۔ دنیا کے پہلے آدمی کی طرح اکیلا اور غریب۔ خدا کے رحم و کرم پرمبنی کیونکہ جہاں دریا بہتاتھا وہاں ریت کی ایک لمبی اور گہری کھائی ہے۔ اب اس پاپ کے گھڑے کو اکیلا، ریت پر وہی کھینچتا ہے۔ زوالِ آدم کے اِس تماشے کو ہوا دیکھ رہی ہے اور یہ بھی کہ اُس کے پاﺅں کے نشانوں سے ریت پر سانپ کی سی لکیر بنتی جاتی ہے۔

 

یہ ہے میرا سانپ! مگر تمھارا سانپ کہاں ہے؟

 

اپنا سانپ بھی تو دِکھاﺅ، اے فرشتو اور شریف نیک دل انسانو!

 

اُسے چیخ کر غصّے اور احتجاج کے ساتھ کہنا چاہئیے تھا مگر نہیں کہا۔ اُس کے ہونٹ سڑے ہوئے شہد سے سنے ہوئے تھے اور ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے بھنچ گئے تھے تاکہ اب تالو اور حلق میں خاموشی بھی سڑنے لگے۔

 

اُس کا کاکروچ باورچی خانے کی اینٹوں تک پہنچ گیا۔

 

ہوا نے دیکھ لیا کہ ٹھیک یہی وقت تھا جب اُس کا بایاں پیر مٹّی کے گارے میں پھنس گیا اور اندر— گہرائی میں دھنستا ہی چلا گیا۔ اُس نے لوہے کے ایک پائپ کو کس کر پکڑ لیا، ورنہ منھ کے بل اپنے ہی سائے کے اوپر گرپڑتا، اگرچہ سایہ نظر نہ آتا تھا، وہ خود ہی ایک سایہ تھا۔

 

زنگ لگا ہوا لوہے کا یہ موٹا پائپ دراصل گزرے زمانوں کے پانیوں کا نل تھا۔

 

اس کی قسم کھائی جاسکتی ہے کہ ہوا چاہے کتنی بھی دبی کچلی ہو، وہ پھپھوندی لگی ایک چٹان یا پھر خدا کی مہربانی سے پتھّر کی مورت ہی کیوں نہ بن جائے، وہ بارش کی آہٹ کو ہمیشہ، دور بہت دور سے ہی پہچان لیتی ہے۔ بارش سے ہوا کا ایک ابدی اور پُراسرار رشتہ ہے۔ ایک بھید، کچھ کچھ انسانوں کے درمیان کے بھیدوں جیسا۔

 

ہوا نے پہچان لیا کہ بارش آرہی ہے اور اس کے ساتھ ایک دوسری، اجنبی ہوا بھی تھی۔ ایک ایسی ہوا جس کا تعلق اس گھر سے نہیں تھا؛ بارش کے ساتھ چلی آرہی تھی۔ مُردوں کو گھسیٹ کر لے آنے والی ہوا۔

 

چلنے سے معذور، درخت کی سوکھی لاش کے نیچے دبی ہوئی ہوا نے اس غیر، اجنبی اور زور زور سے چلتی ہوئی، آنے والی ہوا کو سونگھا اور اُس کی بے رحمی کو پہچان لیا۔ اُسے اِس پرائی ہوا سے کوئی حسد نہیں ہوا۔ وہ جانتی تھی کہ ہر ہوا کو ایک دن پتھّر بن کر سنّاٹے میں جذب ہوجانا ہے۔

 

اور یقیناً وہ آئی۔

 

بارش آ گئی، کسی دوسری دنیا کی ہوا کے کاندھوں پر سوار۔

 

بے آواز بارش میں اُس کا سر بھیگ رہا تھا۔

 

بارش ہوتی رہی۔ اُ س کا سر بھیگ بھیگ کر جوﺅں سے بھر گیا۔ وہ ایسے ہی، ملبے پر کھڑا رہا، خاموش، مٹّی میں دبے اپنے ایک پاﺅں کے ساتھ ۔ وہ اُس پرائی اور کالی ہوا کی چپیٹ میں آگیا۔ اس کا سرخ سویٹر، نیلی قمیص اور کرمچ کے سفید جوتے کالے پڑ گئے۔ اُ س کی آنکھوں تک میں کالی ہوا بھر گئی، مگر ہر فیصلہ موت تک ہی نہیں منحصر ہوتا۔ وہ بعد میں بھی سنایا جاسکتا ہے، وہ کالی ہوا میں جھومتا اور بارش میں بھیگتا ایک پاﺅں پر اِسی طرح کھڑا رہا۔

 

”گڈّو میاں آ گئے، گڈّو میاں آگئے، “

 

ہوا نے سنّاٹے کی سفید چادرکے تھان سے کٹنے کی آواز کو سن لیا۔ یہ وہی آواز تھی جو کپڑے کی چادر کو تیز دھار والی سفاک قینچی سے کاٹنے پر پیدا ہوتی تھی۔
وہ اس سفید سنّاٹے کی دوگز کی کترن کو اپنے جسم پر لپیٹنا چاہتا تھا۔ وہ موت کا بہی کھاتا تیار کرنا چاہتا تھا، تاکہ اُس میں اپنی موت کے اندراج کے ساتھ دوسروں کا حصّہ بھی لکھ سکے۔ روٹی اور حلوے کے حصّے کی طرح تاکہ جلد ہی لگنے والی عدالت میں ایک ملزم کی حیثیت سے وہ غیر حاضر نہ ہو، چاہے عدالت میں کوئی منصف ہو یا نہ ہو۔

 

”گڈّو میاں آگئے۔“

 

ہوا نے کچھ خوش اور کچھ مغموم ہوکر دیکھا کہ بارش میں بھیگتے ہوئے اُس کے سائے نے اس بار اِس توتلی آواز کو پہچان لیا تھا۔

 

ہوانے مُردوںکے قدموں کی دھمک کو خاموشی سے سنا۔ وہ سب آرہے تھے، ان کی تعداد کو اُن کے قدموں کی دھمک سے نہیں گنا جاسکتا تھا۔

 

لوہے کے پرانے زنگ لگے نل کو بائیں ہاتھ سے پکڑے، وہ اِسی جگہ ساکت و جامد کھڑاتھا اور اُس کا بایاں پیر گیلی لیس دار مٹّی میں پنڈلی تک اس طرح دھنسا ہوا تھا، جیسے اُس پر پیلی مٹّی کا سخت اور مضبوط لیپ چڑھایا گیا ہو اور ٹوٹی ہوئی ہڈی ہِل جُل نہ سکتی ہو۔

 

مگر یہ سب ہوا نے ہی دیکھا۔ وہی اِس المیے یا طربیے کی اِکلوتی عینی شاہد تھی۔

 

اور اگر وہاں ایک بار، بارش کے ساتھ کوندا نہ بھی ہوا ہوتا تو بھی ہوا یہ دیکھ لیتی کہ باورچی خانے کی گرتی ہوئی دیواروں پر بے شمار کاکروچ اکٹھا ہوگئے ہیں۔ عدالت لگ گئی ہے۔

 

باورچی خانہ— ایک خطرناک جگہ ہے۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – دوسری قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

نظر نہ آنے والے ہمارے آباؤاجداد
ہمارے ساتھ ساتھ چلتے ہیں
اُن چھوڑی گئی سڑکوں پر
کاروں کا شور، بچّوں کی کلکاری
جوان لڑکیوں کے جسم اُن کے آر پار جاتے ہیں
دھندلے،غیر مادّی، ہم اُن کے آرپار سفرکرتے ہیں
اوکتاویوپاز

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

مفاد! مفاد کیا تھا؟

 

ہوا کی پتھّرائی ہوئی آنکھیں کیا کیا دیکھیں؟

 

اِن آنکھوں نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں بھٹک رہا ہے۔ ایک ہاتھ میں مٹّی کی ہانڈی لیے اور دوسرے ہاتھ میں کاغذ کا ایک پیلابوسیدہ نسخہ لیے۔
وہ بھٹک رہا ہے مگر کچھ بھی نہیں دیکھ رہا ہے۔ اس کوّے تک کو نہیں جس کی حادثاتی موت پر نہ جانے کہاں سے، دور دور سے، بہت سارے کوّے چلے آئے تھے اور حیرت انگیز طور پر بغیر کوئی شورمچائے باورچی خانے کی منڈیر پر سر جھکائے بیٹھ گئے تھے۔ ایک گری ہوئی کڑی پر وہی مرا ہوا کوّا خاموش بیٹھا تھا مگر اُس نے نہیں دیکھا۔ قابلِ افسوس حد تک نہیں دیکھا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ کن کٹا خرگوش اُس کا ساتھ چھوڑ کر دراصل اپنی ہی قبر پر اُگی ہوئی گھاس کھا رہا تھا اور کاکروچ، اُس کی قمیص سے اُڑ کر، بدنیتی کے ساتھ رینگتا ہوا اُدھر، اس طرف جارہا تھا جہاں باورچی خانے کی اینٹوں اور دیواروں کا ملبہ تھا۔

 

ہوا جانتی تھی کہ سارے گناہوں کو، سارے چٹورپن اور ساری بدنیتی کو اُدھر ہی جانا ہوتا ہے چاہے وہ سب بچپن کے کھیل ہی کیوں نہ ہوں۔ سب کا مقدّر بہرحال ایک ہی ہے۔ شطرنج کی بساط پلٹنے کے بعد بھی، بندر کے مُردہ پنجے کے مانند گزر گئے وقت کو دوبارہ کھینچ کر لانے کے نتیجے میں صرف وہشت اور پشیمانی ہی حاصل ہوسکتے تھے اور کچھ نہیں۔ اصل بات بدنیت اور پیٹ کا کتّا بننا اور پھر مٹ جانا تھا۔ ایک مکمل انہدام کی جانب انسان کا ذہنی اور جسمانی سفر جاری ہے یہاں تک کہ حافظے کا انہدام ہی سب کی معراج ہے۔

 

ہوا اس دنیا کو بھی جانتی تھی کہ وہاں کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا۔ خون کی زنجیر محض ایک حافظہ ہے۔ ساری عبادتیں، سارے مذاہب، سارے اخلاقی فعل دراصل حافظے سے پیچھا چھڑانے کی ترکیبیں ہیں۔ وہاں سب اپنی تنہائی میں مسرور ہوں گے۔ ایک بھیانک بے شرمی کے ساتھ۔ ایسی بے شرمی سے تو بھوت بھی پاک ہے۔ بھوت اس لیے ہے کہ وہ اِس دنیا سے بہرحال کوئی نہ کوئی رشتہ تو قائم رکھتا ہی ہے۔ یہ اور بات کہ اس رشتے میں بدنیتی، حسد اور شیطنت بھری ہو، مگر وہ اپنے حافظے سے دست بردار نہیں ہوتا اور اِس کی سزا اُسے نُکیلے ناخنوں اور آنکھوں کے غاروں کے ذریعے دے دی جاتی ہے۔

 

تو اس دنیا کے تمام رشتے، تمام جذبے، محبتیں، نفرتیں، شہوتیں سب کو حافظے سے نکالناہوگا۔ انسان ایسی جنت میں جاکر کیا کرے گا، جہاں اُسے یہ بھی یاد نہ ہوگا کہ اُس کا باپ کون تھا؟

 

اس نفسا نفسی کے عالم کو برداشت کرنا ہوگا۔ صبر کے ساتھ برداشت کرنا۔

 

ہوا کو اُس کا چہرہ پل بھر کو صاف نظر آگیا۔ وہ ایک طویل اور تکلیف دہ سفر کرکے آنے والے کا تھکا ہوا چہرہ تھا۔ بہت طویل سفر، اتنا ہی طویل جتنا کہ گرم اور سرد ہوائیں طے کرتی ہیں۔ وہ ایک چلتی ہوئی ہوا کی طرح اپنے گھر آیا تھا۔

 

گھر؟

 

اگرچہ گھر شاید کہیں نہ تھا، بس ایک کالاپانی تھا اور ایک بہتا ہوا مہیب کنارہ تھا جو ملبہ نظر آتا تھا۔ جس پر وہ ٹھوکریں کھاتا اِدھر سے اُدھر گھوم رہا تھا۔ ایک اندھے اور حواس باختہ شخص کی طرح ایک بار تو وہ اس طرح گرتے گرتے بچا جیسے کوئی سوکھا پتّہ اپنی ہی پرچھائیں پر گرتا ہے۔ یہ خواب کی مانند تھا، مگر خواب دیکھتے وقت کوئی اپنی ایک آنکھ تک نہیں دیکھ سکتا۔ کاش کہ وہ دیکھ سکتا۔ ہوا کی مانند دیکھ سکتا اپنی اُس ایک آنکھ کی بدنصیبی، اُس کی خشکی اور اس کی نمی۔ افسوس کہ یہ کہاں ممکن تھا کہ جو آنکھ خواب دیکھے، اُس آنکھ کو خواب دیکھنے والا بھی دیکھے۔ کہرے کی مار سے،اپنے آخری اسٹیشن پر بہت دیر سے پہنچنے والے، شکست خوردہ، ایک شرمندہ اور تھکے ہوئے ریلوے انجن کا سا چہرہ دیکھے جو بس اُداس ہوکر سیٹیوں کی مُطلق خاموشی میں دھواں پھینکے جاتا ہے ۔
ہوا کو وہ اپنی ہی طرح نظر آیا۔
Categories
فکشن

نعمت خانہ – پہلی قسط

اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

ہر آنے والا ضروری نہیں کہ آیا ہی ہو
کہ خود نہ آیا ہووہ صرف اس کا سایہ ہی ہو
(فرحت احساس)

 

میں پُر اسرار ہوں
مگر صرف جسم کے تعلق سے
میری روح عام اور معمولی ہے
اور سوچتی نہیں ہے
(فرنانڈو پیسوا)

 

ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔

 

اُس کی اُداسی اُس کے پیروں سے گر گر کر زمین پر اکٹھا ہوتی جاتی تھی۔ یہ اُداسی بھی کیسی تھی؟ یہ کسی بند کنویں میں جھانکنے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھنے والی ایک افسردہ نظر کی طرح تھی اور آسمان لامتناہی طو رپر بے رحم تھا۔ یہ لامتناہیت صرف خوف پیدا کر سکتی تھی۔ سارے معنی، سارے مفہوم اسی لامتناہیت میں ڈوب ڈوب جاتے تھے۔

 

اس وسیع تر، بھیانک منظر میں محبت سے پکائی گئی دو روٹیاں ہی تھیں جو پرچم بن کر لہرا رہی تھیں۔ مگر یہ روٹیاں اب کسی معدے کے لیے نہ تھیں، یہ خون بن کرجسم میں دوڑنے کے لیے نہ تھیں۔ یہ فُضلہ بن کر جسم سے نکل کر تاریک موریوں میں بہہ جانے کے لیے بھی نہ تھیں، یہ تو دو گواہیاں تھیں۔ روح کی گواہیاں، ریاضی کے دو شفاف ایماندار ہندسوں کی مانند— لُٹی پٹی، اُجاڑ شکل دنیا کے ماتھے پر، لافانی اور پاکیزہ بندیا کی طرح چمکتی ہوئی، چولہے کی راکھ تک ٹھنڈی ہوئی مگر یہ لافانی ہیں اور گرم ہیں۔

 

اِس لیے ہوا نے دیکھا کہ وہ صرف اُداس ہے ۔وہ رو نہیں رہا، وہ شاید روئے گا بھی نہیں۔ وہ اپنے نمک کو سنبھال کر رکھے گا، نمک میں لاشیں دیر سے سڑتی ہیں۔ اُسے ابھی کتنا کچھ بچا کر رکھنا ہے۔

 

ہوا نے بہت سائے دیکھے تھے، ایک زمانے سے وہ صرف سائے ہی دیکھتی آئی تھی۔ کتنے سائے گہری، چوڑی اور ایک تاریک ندی میں چلتے چلے گئے ہیں۔ اُن کے پاؤں ریت سے اُتر کر گہرے پانیوں میں چلے گئے اور تب وہ اور بھی دبیز گہرے سایوں میں بدل گئے۔ ہر سفر سے واپسی پر پانی ہی کی طرف جانا ہوتا ہے۔ خلا نام کی کوئی شے نہیں، سب کچھ پانی ہے جو نظر نہیں آتا، مگر وہ ہر اُس جگہ موجود ہوتا ہے جہاں محبت ہوتی ہے، یا پھر نفرت۔

 

وہ اکیلا نہیں تھا، اس کے ساتھ دو نفس اور بھی تھے، ایک کن کٹا اورلنگڑاتا ہوا خرگوش کا سایہ جو اُس کے پیچھے پیچھے تھا اور ایک کاکروچ تھا جو اُس کی قمیص کے کالر پر تتلی کی طرح بیٹھا تھا۔

 

ہوا، اس گھر کی یا اِس مقام کی پرانی ہوا، یہاں کی ازلی مکین، ایک گرے ہوئے بھاری اور سوکھے درخت کے نیچے دبی کچلی پڑی تھی اور اب تقریباً پتھّر بن چکی تھی۔

 

درخت اپنے پتّوں، اپنی شاخوں کو نہ جانے کب کا کھو چکا تھا۔ صرف کچھ سوکھی جڑیں رہ گئی تھیں۔ زمین کے اندر ایک بے معنی اور مضحکہ خیز حد تک قابل رحم انداز میں پیوست، اور ہاں درخت کا تنا بھی تھا جو ایسی لکڑی بننے کے بہت قریب آچکاتھا جس سے گھر کے دروازوں کے جوڑ اور چوکھٹیں بنائی جاسکتی تھیں۔

 

ایسی ہوا چلتی نہیں ہے ۔یہ نہ کسی کے جسم کو لگتی ہے نہ الگنی پر لٹکے کپڑے سکھاتی ہے۔ یہ بس پتھّر بن کر اُس ملبے کے نیچے سے جھانکتی ہے۔ یہ اُس درخت کا ملبہ ہے جس سے نکل نکل کر وہ باہر آتی تھی۔ جھونکوں کی صورت چلتی تھی یا میلوں لمبی مسافت طے کرکے، جس کے پتّوں اور ٹہنیوں تک وہ آتی تھی۔ وہ درخت!

 

وہ آم کا درخت جو گزرے زمانوں کے آنگن میں لگا تھا، ہوا کو معلوم تھا کہ درخت کی کب کی موت ہو چکی۔ پھر بھی وہ اُسے چھوڑ کر نہیں گئی۔ جس طرح ایک بدنصیب بندریا اپنے مُردہ بچّے کی لاش کو لادے لادے، اپنے قابلِ رحم پیٹ سے چپکائے چپکائے پھرتی ہے، بالکل اُسی طرح ہوا اپنے درخت کی لاش کو ڈھو رہی تھی اور اُس کے ملبے کے نیچے پتھّر بن گئی تھی۔

 

پتھّر سے بڑا چشم دید گواہ کون ہے؟

 

وہ لڑھکتا، ٹھوکر کھاتا، بچتا بچاتا چل رہا تھا۔ ہوا نے محسوس کیا، زمین کے سینے پر پڑے پڑے، کہ اب زمین اپنا رونا نہیں روک پائی ۔ زمین اس کے کرمچ کے جوتوں پر رو رہی تھی جو گیلی مٹّی پر پھسل رہے تھے، وھنس رہے تھے ۔ ہوا کو یہ بھید بھی جلد ہی معلوم ہوگیا کہ وہاں ایک سنّاٹا بھی اپنی کہانی لکھ رہا تھا۔ ہوا کے لمبے لمبے کانوں میں سناٹا اپنی کہانی اُنڈیل رہا تھا۔

 

اور وہ —؟ اس نے سنّاٹے کو اپنے ٹھنڈے، گیلے جوتوں میں بھر لیا— اُسے شاید معلوم تھا کہ کیا رُونما ہونے والا ہے۔ ایک پتلی ندی کا شکار کرنے کے لیے، کہیں سے گھوم کر ایک بھیانک دریا چلا آرہا تھا۔ اور ندی، ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اس دریا میں ملنے کو اپنا مقدّر مانتی ہوئی آہستہ آہستہ خود ہی اُس کی طرف رینگ رہی تھی۔ یہ ایک جال تھا جس میں وہ خود ہی پھنستی جاتی تھی۔

 

ہوا نے دیکھا کہ وہ سائے کی طرح، ایک کونے میں کھڑا ہے۔

 

اُسی لمحے وہ سو سال پرانا سانپ جس کی پھنکار سے گھر کی مرغیاں دہشت زدہ ہوکر مر جاتی تھیں، لہراتا ہوا، تقریباً اُسے چھوتا ہوا گزر گیا۔ یہ سانپ بھی اس گھر کا پرانا مکین تھا، مگر اُس نے نہ اُسے دیکھا نہ محسوس کیا۔ اُس نے اُن بے شمار بندروں کے سائے بھی نہیں دیکھے جن سے یہ گھر بھرا ہوا تھا۔
ہوا نے دیکھا کہ ایک جھولتے ہوئے وزنی مگر دیمک زدہ شہتیر کے نیچے سے نکلتے وقت شہد کی مکھّیوں کا ایک خالی چھتّہ اُس کے سر سے ٹکرایا تھا مگر اُسے پتہ نہ چلا۔ چھتہ جس میں کوئی مکھی نہ تھی۔ وہ ویران پڑا تھا، اس لیے اب وہ کتھئی سنہرے رنگ کا نہ ہوکر خالی اور سوکھے اجسام کی ایک سفید صورت تھا۔ اس کی مکھّیاں بھٹکتی ہوئی کسی دوسرے سیارے پر پہنچ گئی تھیں۔ وہ اب چھتہ نہ ہوکر چھتّے کا کفن نظر آتا تھا۔ اتنا ہلکا، اتنا کمزور اوربے وقعت کہ بے حد حبس میں بھی، وہ آہستہ آہستہ ہلتا اور کانپتا تھا۔

 

مایوس کُن حد تک خطرے سے خالی یہ چھتہ جب اُس کے سائے سے ٹکرایا تو گر جانے سے بال بال ہی بچا۔

 

ہوا نے دیکھا کہ اُس نے ٹھوکر کھانے سے بچتے ہوئے، درخت کے مردہ، سوکھے تنے کو پھلانگا ہے اور ٹھیک اُسی جگہ سے جہاں وہ تنہا اور سنسان کھوکا ہے جس میں لوسی اور جیک بارش سے پناہ لینے کے لیے آکر بیٹھ جاتے تھے۔

 

کھوکا اُس تنے کے ”اکیلے پن“ پر گدا ہوا ایک دوسرا اکیلا پن ہے۔ خالی گھونسلہ جو ایک بار چھوڑ د یئے جا نے کے بعد پھر کبھی آباد نہیں ہوتا، وہ لوہے کا گھونسلہ بن جاتا ہے، اور درخت کا تنا اپنے پھولوں، پھلوں، پتّیوں اور شاخوں سب سے الگ، اکیلا اور اُس کے نیچے ایک کچلی ہوئی مگر زندہ ہوا، ہوا کو موت نہیں آتی کیونکہ وہ ہمیشہ سے اکیلی ہے۔ وہ جم کر پتھّر بن سکتی ہے یا برف۔

 

ہوا چشم دید گواہ ہے کہ وہ اس طرح بھٹک رہا تھا جس طرح اگھوری سادھو شمشان میں بھٹکتے رہتے ہیں تاکہ کسی لاش میں اپنی روح داخل کرکے اُسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر سکیں۔

Image: Mathew Borrett