Categories
فکشن

بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگاتار بارشوں کے تیسرے دن وہ اتنے بہت سے کیکڑے ٹھکانے لگا چکے تھے کہ پیلایو کو اپنا پانی بھرا صحن پار کر کے ان سب کو سمندر میں پھینکنے کے لیے جانا پڑا۔ بات یہ تھی کہ نومولود بچے کو تیز بخار تھا، اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کا سبب اِن کیکڑوں کی بساند ہے۔ منگل کے دن سے سارا عالم اداس اداس تھا۔ کیا سمندر اور کیا آسمان، سب ایک جیسے گدلے گدلے دکھائی دے رہے تھے، اور ساحل کی وہ ریت جو مارچ کی راتوں میں مثل افشاں کے جھلملایا کرتی تھی، اس وقت کیچڑ اور سڑے بُسے گھونگوں کی گاد بن چکی تھی۔ عین دوپہر میں بھی روشنی اتنی کم کم تھی کہ پیلایو جب کیکڑے پھینک کر گھر واپس آ رہا تھا تو اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آخر وہ کیا شے ہے جو صحن کے پچھواڑے رینگ رہی ہے اور کراہ رہی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ ایک بڈّھا ہے، اسے اس کے بہت ہی قریب جانا پڑا: ایک پیرِ فرتوت جو منھ کے بل کیچڑ میں پڑا ہے اور سرتوڑ کوشش کے باوجود اپنے بڑے بڑے پروں کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا۔

اس کابوس سے دہشت زدہ ہو کر پیلایو اپنی بیوی ایلی سیندا کو بلانے لپکا، جو کہ بیمار بچے کے ماتھے پر گیلی پٹیاں رکھ رہی تھی، اور اس کو لے کر صحن کے پچھواڑے تک آیا۔ وہ دونوں زمین پر پڑے ہوے اس جسم کو گم سُم، پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ چِندیاں بٹورنے والوں کا سا لباس پہنے تھا۔ اس کی سپاٹ چَندیا پر چند گنے چنے بال رہ گئے تھے اور منھ میں دانت بھی اکّادکّا تھے، اور اس کی تربتر، سگڑداداؤں والی افسوسناک حالت نے اس کی رہی سہی شان کو، جو اس میں کبھی رہی ہو گی، خاک میں ملا دیا تھا۔ اس کے میلے، اَدھ نُچے، بڑے بڑے، عقاب جیسے پنکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو چکے تھے۔ دونوں اُس کو اتنی دیر تک اور اتنے غور سے دیکھا کیے کہ پیلایو اور ایلی سیندا کی حیرانی دھیرے دھیرے جاتی رہی، اور ہوتے ہوتے وہ ان کو مانوس سا لگنے لگا۔ تب انھوں نے اس سے بات کرنے کی ہمت کی، جس کا جواب اس نے ملّاحوں کی سی بھاری آواز میں کسی انجانی زبان میں دیا۔ یوں انھوں نے پروں والی دقّت کو نظرانداز کرتے ہوے، اپنی دانست میں بڑی دانشمندی سے، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ طوفان کے مارے کسی شکستہ فرنگی جہاز کا آخری بچ جانے والا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے پڑوس کی اُس عورت کو بلا لیا جو زندگی اور موت کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی، تاکہ وہ اس کا معائنہ کر لے۔ ان کے غلط اندازے کو جھٹلانے کے لیے اس عورت کا اس کو بس ایک نظر دیکھنا کافی تھا۔

’’یہ تو فرشتہ ہے،‘‘ اس نے ان کو بتایا۔ ’’وہ بچے کے لیے آ رہا ہو گا، پر بےچارہ اتنا بوڑھا ہے کہ بارش نے راستے ہی میں ڈھیر کر دیا۔‘‘

اگلے دن سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ ایک جیتاجاگتا فرشتہ پیلایو کے گھر میں بند ہے۔ پڑوس کی سیانی عورت کی رائے کے برخلاف، جس کا کہنا تھا کہ آج کل کے فرشتے دراصل ایک آسمانی سازش کے بعد بچ جانے والے بھگوڑے ہیں، ان کا دل نہ مانا کہ وہ ڈنڈے مار مار کر اس کی جان نکال دیں۔ اپنا بیلِف والا ڈنڈا اٹھائے اٹھائے پیلایو ساری سہ پہر باورچی خانے میں بیٹھا اس کی نگرانی کرتا رہا، اور رات کو سونے سے قبل اس نے اسے کیچڑ میں سے گھسیٹا اور لے جا کر جالی دار دڑبے میں مرغیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ آدھی رات گئے جس وقت بارش تھمی تو پیلایو اور ایلی سیندا ابھی کیکڑے ہی مار رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بچّے کی آنکھ کھل گئی؛ اس کو بخار نہیں تھا اور وہ کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ تب ان کی دریادلی نے جوش مارا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ فرشتے کو تازہ پانی اور تین دن کی رسد دے کر، ایک تختے پر سوار کرا کے، سمندر میں تن بہ تقدیر چھوڑ آئیں گے۔ مگر جب وہ منھ اندھیرے صحن میں گئے تو کیا دیکھا کہ پورا محلّہ ٹولہ دڑبے کے سامنے جمع، فرشتے کے ساتھ دل لگی بازی میں لگا ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی جالی میں سے کھانے کی چیزیں ذرا سے بھی ادب و احترام کے بغیر اس کی طرف اس طرح پھینک رہے تھے جیسے وہ کوئی علوی وجود نہ ہو بلکہ سرکس کا کوئی جانور ہو۔

اس عجیب و غریب خبر سے گھبرا کر پادری گون زاگا کوئی سات بجے سے پہلے ہی پہلے آ گئے۔ اس وقت تک صبح والوں سے ذرا کم شریر تماش بین آ چکے تھے، اور قیدی کے مستقبل کے بارے میں جو منھ میں آ رہا تھا رائے زنی کر رہے تھے۔ ان میں سب سے بھولے کا خیال تھا کہ اس کو ساری دنیا کا میئر نامزد کر دیا جائے۔ ذرا زیادہ عقل کے پوڑھوں نے محسوس کیا کہ اس کو پنج ستاری جنرل ہونا چاہیے کہ ساری جنگیں فتح کر لے۔ چند خیال پرستوں نے آس لگائی کہ اس سے نسل کَشی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ روے زمین پر پَردار سیانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کر دے جو پوری کائنات کا چارج سنبھال سکے۔ لیکن پادری گون زاگا پادری بننے سے پہلے ایک تنومند لکڑہارے رہ چکے تھے۔ جالی کے پاس کھڑے کھڑے انھوں نے جھٹ پٹ علمِ دینیات کے تمام سوالات و جوابات کو دماغ میں تازہ کیا اور ان لوگوں سے کہا کہ دروازہ کھولیں تاکہ وہ قریب سے اس دُکھیا آدمی کو دیکھیں جو حیران پریشان، مرغیوں کے درمیان خود ایک بڑی سی خستہ حال مرغی لگ رہا تھا۔ وہ ایک کونے میں پھلوں کے چھلکوں اور بچے کھچے ناشتے کی چیزوں کے درمیان، جو صبح کو آنے والے پھینک گئے تھے، پڑا اپنے پھیلے ہوے پروں کو دھوپ میں سُکھا رہا تھا۔ جس وقت پادری گون زاگا نے دڑبے میں داخل ہوکر لاطینی زبان میں صبح بخیر کہا تو اس نے دنیا کی گستاخیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوے بس اپنی عمررسیدہ نظریں اٹھائیں اور اپنی بولی میں کچھ منمنایا۔ جب پادری گون زاگا نے دیکھا کہ نہ تو وہ خدا کی زبان جانتا ہے اور نہ اس کے خادموں کے استقبال کے آداب سے واقف ہے، تو ان کو پہلی بار اس پر جعلیا ہونے کا شبہ ہوا۔ پھر انھوں نے غور کیا کہ بہت قریب سے دیکھنے پر وہ بالکل آدمیوں جیسا ہے۔ اس کے پاس سے کھلے میں رہنے والوں کی سی ناقابلِ برداشت بو آ رہی تھی، اس کے پروں میں جوئیں بِجَک رہی تھیں اور زمینی ہواؤں نے اس کے اصل پروں کا برا حشر کر دیا تھا؛ اور اس میں کوئی بات بھی تو ایسی نہیں تھی جو فرشتوں کے قابلِ فخر وقار کے معیار پر پوری اترتی ہو۔ پھر وہ دڑبے سے باہر آئے اور ایک مختصر خطبے کے ذریعے متجسّس نفوس کو طبّاع بننے کے خطرات سے خبردار کیا۔ انھوں نے ان کو یاد دلایا کہ شیطان کی ایک بُری عادت کارنیوالی کرتبوں کا استعمال کرنا بھی ہے تاکہ غافلوں کو دھوکا دے سکے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ اگر ہوائی جہاز اور عقاب میں فرق کرنے کے لیے پنکھ لازمی عنصر نہیں، تو فرشتوں کی پہچان کے لیے تو ان کی اہمیت اور بھی کم ہو گی۔ پھر بھی انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اُسقف کو عریضہ روانہ کریں گے، تاکہ وہ اپنے اُسقفِ اعظم کو اس بابت لکھیں، تاکہ وہ پاپاے روم کو لکھیں، اور یوں اعلیٰ ترین عدالت سے قولِ فیصل حاصل ہو جائے گا۔

ان کی دانشمندی چکنے گھڑوں پر ضائع گئی۔ اسیر فرشتے کی خبر اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر صحن میں بازار کی سی چہل پہل ہو گئی اور سنگین بردار سپاہی بلوانے پڑے تاکہ اس مجمعے کو منتشر کریں جو کہ مکان کو تلپٹ کیے دے رہا تھا۔ ایلی سیندا کو، جس کی کمر اتنا سارا بازاری گند جھاڑتے جھاڑتے دوہری ہو چکی تھی، یہ سوجھ گئی کہ صحن میں کٹہرا لگا دے اور فرشتے کو دیکھنے کے لیے ہر ایک سے پانچ پانچ سینٹ وصول کر لے۔ مشتاقانِ دید دور دور سے آنے لگے۔ ایک گشتی کارنیوال نے پھیرا لگایا؛ اس میں ایک اُڑان بھرنے والا نَٹ مجمعے کے سروں پر بار بار پھڑپھڑاتا پھِرا، مگر کسی نے اسے گھاس نہ ڈالی کیونکہ اس کے پَر فرشتوں کے مانند نہیں تھے بلکہ چمگادڑوں جیسے تھے۔ زمانے بھر کے بدنصیب ترین معذور لوگ تندرستی کی آس میں آنے لگے؛ ایک دُکھیاری جو بچپن سے دل کی دھڑکنیں شمار کر رہی تھی اور گنتے گنتے جس کی گنتی ہی ختم ہو گئی تھی؛ ایک پرتگالی مرد جو اس لیے سو نہیں سکتا تھا کہ ستاروں کا شور اس کو تنگ کرتا تھا؛ ایک نیند میں چلنے والا جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے دن میں کیے ہوے کام بگاڑا کرتا تھا؛ اور دوسرے بہت سارے جن کے مرض ان سے ذرا کم تشویش ناک تھے۔ پیروں تلے کی زمین ہلا دینے والی، ڈوبتے جہاز جیسی اس ہڑبونگ کے بیچ پیلایو اور ایلی سیندا اپنی تھکن میں بھی مگن تھے، کیونکہ ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں انھوں نے اپنا گھر رقم سے ٹھَساٹھَس بھر لیا تھا اور اب بھی اپنی باری کے منتظر زائرین کی قطار افق کے اُس پار تک پہنچی ہوئی تھی۔

فرشتہ ہی فقط ایک واحد ہستی تھا جو خود اپنے تماشے میں کوئی حصہ نہیں لیتا تھا۔ جالی کے نزدیک رکھے گئے تیل کے چراغوں اور عشاے ربانی والی موم بتیوں کی جہنّمی تمازت سے چکرایا چکرایا سا، وہ اپنا وقت اپنے مانگے کے ٹھکانے میں آسائش کی جستجو میں گزارتا۔ اوّل اوّل انھوں نے اس کو کپڑوں میں رکھنے والی گولیاں کھلانے کی کوشش کی، جو سیانی پڑوسن کے علم کے مطابق فرشتوں کی غذا تھی، لیکن اس نے کھانے سے انکار کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے پوپ کا وہ خاصّہ کھانے سے انکار کر دیا تھا جو تائب لوگ لاتے تھے۔ وہ اتنا کبھی نہ جان سکے کہ اس کا سبب اس کا فرشتہ ہونا تھا یا یہ کہ وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ اور آخر کو وہ بینگن کے گودے کے سوا کچھ نہیں کھاتا تھا۔ اس کی قوتِ برداشت ہی ایک اکیلی خارقِ عادت بات نظر آتی تھی، خاص کر ابتدائی ایام میں، جب مرغیاں ان سماوی جوؤں کی تلاش میں جو اس کے پروں کے اندر بڑھی چلی جا رہی تھیں ٹھونگیں مارا کرتیں، اور اپاہج لوگ اپنے ناقص اعضا سے چُھوانے کے لیے اس کے پَر نوچا کرتے، اور سب سے زیادہ مہربان لوگ تک اس کو کھڑا کرنے کی کوشش میں پتھر مار دیا کرتے تاکہ وہ اس کو کھڑے قد دیکھ سکیں۔ وہ صرف ایک بار اس کو اپنی جگہ سے ہلانے میں کامیاب ہو سکے تھے، جب انھوں نے بچھڑوں کو داغنے والے لوہے سے اس کے پہلو میں چرکا لگا دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہ اتنے گھنٹوں سے بے حس و حرکت پڑا تھا کہ انھوں نے سوچا کہیں مر نہ گیا ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے بھرے اپنی جنّاتی زبان میں بلبلانے لگا اور دو ایک بار اپنے پَر پھڑپھڑائے تو مرغیوں کی بِیٹ اور قمری خاک کا بگولا ناچنے لگا اور دہشت کا وہ جھکّڑ چلا جو اِس دنیا کا تو لگتا نہیں تھا۔ گو بہتوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ خفگی کا نہیں بلکہ تکلیف کا مظاہرہ تھا، مگر اس دن کے بعد سے وہ سب احتیاط کرنے لگے کہ اس کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھ چکے تھے کہ اس کی مفعولیت اُس سورما کی سی نہیں جو اگلے حملے کے لیے سستا رہا ہو، بلکہ کسی خوابیدہ فتنے کی سی ہے۔

قیدی کی اصلیت کے بارے میں قولِ فیصل آنے کے انتظار کے دوران پادری گون زاگا نے مجمعے کی شرارتوں کو خادماؤں کی سی سوجھ بوجھ والے چٹکلوں سے قابو میں رکھا۔ مگر روم کی ڈاک نے آنے میں کوئی عجلت نہ دکھائی؛ کبھی وہ لوگ یہ دیکھتے کہ اس کی ناف ہے یا نہیں، کبھی یہ سوچتے کہ اس کی بولی کا تعلق آرامی زبان سے تو نہیں، کبھی یہ کہ ایک سوئی کی گھنڈی پر وہ کتنی مرتبہ سما سکتا ہے، یا یہ کہ کہیں وہ محض کوئی پَردار ناروے والا نہ ہو؛ اور یوں وہ لوگ اپنا وقت بِتایا کرتے تھے۔ اگر رحمتِ خداوندی نے آڑے آ کر پادری کی زحمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا ہوتا تو یہ مختصر سے عریضے قیامت تک آتے جاتے رہتے۔

ہوا یہ کہ انھی دنوں میں آنے والے بہت سے کھیل تماشوں میں ایک ایسی عورت کا گشتی تماشا بھی آیا جس کو والدین کی نافرمانی کرنے پر مکڑی بنا دیا گیا تھا۔ اس کو دیکھنے کی قیمت نہ صرف یہ کہ فرشتے کی دید کی رقم سے کم تھی، بلکہ لوگوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اس کی مضحکہ خیز حالت کے بارے میں قسم قسم کے سوالات بھی پوچھ سکیں اور سر سے پیر تک اس کو چھو کر معائنہ بھی کر سکیں تاکہ کسی کو بھی اس ہولناک حقیقت پر کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ مینڈھے جتنی ایک ڈراؤنی ترَن تُولا مکڑی تھی جس کا سر ایک غمزدہ دوشیزہ کا سا تھا۔ تاہم سب سے بڑھ کر دل ہلا دینے والی شے اس کی نامانوس ہیئت نہ تھی بلکہ وہ پُرخلوص اندازِ بیاں تھا جس میں وہ اپنی بپتا کی ایک ایک تفصیل سناتی تھی۔ ابھی وہ بالی ہی تھی کہ ایک بار ناچ رنگ میں حصہ لینے کے لیے گھر سے چھپ کر چپ چاپ نکل گئی تھی، اور جب وہ بغیر اجازت لیے ساری رات ناچ لینے کے بعد جنگل میں سے ہوتی ہوئی گھر لوٹ رہی تھی تو ایک ہولناک کڑاکے نے آسمان کو دو کر دیا، اور شگاف میں سے لاوے کا برقی تیر سا لپکا جس نے اسے مکڑی بنا دیا۔ اس کا پیٹ فقط ان کوفتوں سے بھرتا تھا جو سخی لوگ اس کے منھ میں ڈال دیتے تھے۔ ایک ایسے نظارے کو، جس میں اتنی انسانی سچائی بھری ہو اور اتنی خوف دلانے والی نصیحت ہو، کوشش کیے بغیر ایک ایسے نک چڑھے فرشتے کی نمائش پر غالب رہنا ہی تھا جو فانی انسانوں کی طرف آنکھ اٹھانا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں، جو تھوڑی بہت کرامات فرشتے سے منسوب کی گئیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ عقل کا فتور نظر آیا— مثلاً وہ نابینا جس کو بینائی تو نہ ملی مگر تین نئے دانت نکل آئے، یا وہ مفلوج جو چل تو نہ سکا لیکن لاٹری تقریباً جیت لی، اور وہ کوڑھی جس کے زخموں کے اندر سے سورج مکھی پھوٹ نکلے۔ ان بہلانے والی کرامات کے سبب، جوکہ ہنسی دل لگی سے زیادہ کیا تھیں، فرشتے کی ساکھ گر تو چکی تھی کہ مکڑی بن جانے والی عورت نے آ کر آخرکار اس کو بالکل ملیامیٹ کر دیا، اور یوں پادری گون زاگا کا بےخوابی کا روگ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاتا رہا، اور پیلایو کا آنگن بھی پھر سے اتنا ہی خالی خالی رہنے لگا جتنا وہ اُس تین دن کی بارشوں کے زمانے میں تھا جب کیکڑے کمروں میں رینگا کرتے تھے۔

گھر والوں کے لیے کُڑھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جو رقم انھوں نے اس دوران جمع کر لی تھی اس سے انھوں نے چھجّوں اور پھلواریوں والی دومنزلہ حویلی کھڑی کر لی جس میں اونچی اونچی جالیاں لگائی گئی تھیں کہ جاڑوں میں کیکڑے نہ گھس آئیں، اور دریچوں میں لوہے کی سلاخیں لگوائی گئی تھیں کہ فرشتے اندر نہ آ جائیں۔ پیلایو نے بستی کے قریب ہی خرگوش پالنے کا کاروبار جما لیا اور بیلف کی نوکری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی اور ایلی سیندا نے ساٹن کے اونچی ایڑی والے چند پمپ اور ست رنگی ریشم کی پوشاکیں خریدیں، وہی جو اس زمانے کی من موہنی عورتیں اتوار کے دن زیبِ تن کیا کرتی تھیں۔ بس مرغیوں کا دڑبا ہی ایک ایسی چیز تھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جو وہ کبھی کبھار اس کی دھلائی کریولن سے کر دیتے تھے اور اس کے اندر مُر اور لوبان سلگا دیتے تھے تو یہ کوئی فرشتے کی عقیدت میں نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد فُضلے کی اس سڑاند سے پیچھا چھڑانا ہوتا تھا جو آسیب کی طرح ہر وقت لپٹی رہتی تھی اور ان کے نئے مکان کو بھی پرانا کیے دے رہی تھی۔ جب بچے نے چلنا سیکھ لیا تو پہلے پہلے انھوں نے احتیاط کی کہ وہ دڑبے کے بہت نزدیک نہ جانے پائے؛ پھر رفتہ رفتہ ان کا خوف دور ہوتا گیا، اور وہ بدبو کے عادی ہوتے گئے، اور دوسرا دانت نکلنے سے پہلے ہی بچہ کھیلنے کے لیے جہاں سے جالی ٹوٹ رہی تھی دڑبے میں گھس گیا۔ فرشتہ بچے سے بھی اتنا ہی لیے دیے رہا جتنا وہ دوسرے لوگوں سے رہتا تھا، مگر وہ اس کی نت نئی چھیڑخانیوں کو اس کتّے کے سے صبر سے برداشت کرتا رہتا جس کو کوئی خوش فہمیاں نہ ہوں۔ دونوں کو ایک ساتھ خسرہ نکل آئی۔ جس ڈاکٹر نے بچے کا علاج کیا وہ فرشتے کے دل کی دھڑکن سننے کے شوق کو دبا نہ سکا، اور اس نے اس کے دل میں اس قدر سیٹیاں بجتی اور گردے میں اتنی آوازیں سنیں کہ اس کو فرشتے کا زندہ رہنا محال نظر آیا۔ پروں کی تُک نے اس کو سب سے زیادہ حیرت میں ڈالا۔ اس مکمل انسانی بدن پر وہ اتنے فطری لگتے تھے کہ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ نہ آ سکا کہ آخر سب انسانوں کے جسم پر وہ کیوں نہیں ہوتے۔

جس وقت بچے نے اسکول جانا شروع کیا تو مرغی خانے کو دھوپ اور بارشوں کی وجہ سے تباہ ہوے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ فرشتہ ایک بھٹکتے ہوے جاں بہ لب آدمی کی طرح یہاں وہاں گھسٹتا پھرتا تھا۔ وہ اسے جھاڑو مار مار کر خوابگاہ میں سے نکالتے تو پل بھر بعد وہ باورچی خانے میں نظر آتا؛ وہ بیک وقت اتنے مقامات پر نظر آنے لگا کہ وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ ایک سے دو ہو گیا ہے، کہ وہ گھربھر میں اپنی نوع کو بڑھاتا پھر رہا ہے؛ اور بھنّائی اور بولائی ہوئی ایلی سیندا چیخ پڑی کہ اس فرشتوں بھرے جہنّم زار میں جینا دُوبھر ہو گیا۔ وہ اب مشکل ہی سے کھا پاتا تھا، اور اس کی بوڑھی آنکھیں اتنی دُھندلا گئی تھیں کہ وہ ستونوں سے ٹکراتا پھرتا تھا۔ اب اس کے پاس جھڑے ہوے آخری پروں کے ننگے سرے ہی رہ گئے تھے۔ پیلایو اس پر کمبل ڈال دیتا اور اتنا احسان اور کرتا کہ اس کو سائبان میں پڑ رہنے دیتا۔ اور تب ہی انھوں نے دیکھا کہ رات کو اسے بخار ہو جاتا اور وہ ہذیانی سا ہو کر بوڑھے ناروے والوں کی طرح زبان گھمایا کرتا۔ یہ چند موقعوں میں سے ایک موقع تھا جب وہ پریشان ہو گئے، کیونکہ انھوں نے سوچا کہ اس کا آخری و قت آ گیا؛ اور پڑوس کی سیانی عورت بھی یہ بتانے سے قاصر تھی کہ وہ مرتے ہوے فرشتے کے لیے کیا کیا کریں۔

اس کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اپنا بدترین موسمِ سرما جھیل گیا بلکہ دھوپ سے روشن دنوں کے شروع ہوتے ہی سنبھالا لیتا ہوا نظر آنے لگا۔ وہ صحن کے پرلے سرے پر، سب کی نظروں سے دور، کئی دنوں تک چاپ چاپ پڑا رہا، اور دسمبر شروع ہوتے ہی چند لمبے اور سخت پَر اس کے شہپروں پر نمودار ہونے لگے؛ بجوکے کے پَر جو اس سے کہیں زیادہ، ناتوانی کی ایک اور نحوست دکھائی دیتے تھے۔ مگر وہ اپنی تبدیلیوں کی وجہ ضرور جانتا ہو گا، اسی لیے وہ اس بات کا بہت خیال رکھتا تھا کہ کوئی ان تبدیلیوں کو دیکھ نہ لے، کوئی وہ سمندری گیت نہ سن لے جو وہ وقتاًفوقتاً تاروں کی چھاؤں میں گنگنایا کرتا تھا۔ ایک صبح ایلی سیندا بیٹھی پیاز کتر رہی تھی کہ ہوا کا ایک جھونکا، جو سمندروں پر سے ہوتا ہوا آ رہا تھا، باورچی خانے میں در آیا۔ وہ اٹھ کر دریچے کے پاس گئی اور تب ہی اس نے فرشتے کو اُڑان بھرنے کی ابتدائی کوششیں کرتے ہوے دیکھ لیا۔ یہ کوششیں اس قدر بھونڈی تھیں کہ اس کے ناخنوں نے سبزی کی کیاری میں گہرا نشان ڈال دیا تھا، اور اپنے پروں کی بھدی سی پھڑپھڑاہٹ سے، جو ہوا میں ٹِک نہیں پا رہے تھے، وہ سائبان کو گرانے ہی والا تھا۔ پھر بھی وہ تھوڑا بہت اوپر اٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایلی سیندا نے جب اس کو ایک پھُوس عقاب کی طرح تشویش ناک انداز میں پَر ہلا ہلا کر، اور کسی نہ کسی طرح خود کو ہوا میں سنبھالے سنبھالے، آخری مکانوں کے اوپر سے دور ہوتے دیکھا تو اس نے خود اپنے لیے اور اس کی خاطر اطمینان کا سانس لیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی، پیاز کترنے سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ تکتی رہی، اور اس وقت تک نظریں جمائے رہی جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ اس کے جی کا جنجال نہ تھا بلکہ سمندری افق پر ایک خیالی نقطہ تھا۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

دنیا بھر کا حسین ترین ڈوب مرنے والا (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے پہل جن بچوں نے اس پراسرار ڈولتے اُبھار کو سمندر کی جانب سے اپنی طرف بہہ کر آتے دیکھا انھوں نے خیال کیا کہ دشمن کا کوئی جہاز ہوگا۔ پھر ان کو نظر آیا کہ اس پر نہ تو کوئی مستول ہے اور نہ کوئی پھریرا، تو اس کو ویل سمجھا۔ مگر جب وہ کنارے آ لگا اور جب انھوں نے اس پر سے سمندری جھاڑ جھنکار، جیلی فش کے پنجے، مچھلیوں کے بچے کھچے حصے اور تیرنے والا کباڑ صاف کرلیا، تب ہی ان کو معلوم ہوا کہ وہ کوئی ڈوب کر مر جانے والا ہے۔

ساری سہ پہر وہ اس سے کھیلتے رہے؛ کبھی اس کو بالُو میں دبا دیتے، کبھی اس کو نکال لیتے، کہ اتفاقاً کسی کی نظر ان پر پڑ گئی اور اس نے گاؤں میں خبر پھیلا دی۔ جو لوگ اس کو اٹھا کر قریب ترین گھر تک لائے، انھوں نے دیکھا کہ وہ ان تمام مُردوں سے کہیں زیادہ بھاری بھرکم ہے جن سے اب تک ان کا سابقہ پڑا تھا۔ وہ قریب قریب گھوڑے جتنا لدّھڑ تھا۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہوسکتا ہے کافی عرصے تک پانی میں رہنے کی وجہ سے پانی اس کی ہڈیوں تک میں اتر گیا ہو۔ جب ان لوگوں نے اس کو فرش پر لٹا دیا تو بولے کہ یہ تو باقی سب لوگوں سے زیادہ دراز قد نکلا، کیونکہ گھر کے اندر اس کی سمائی کے لیے جگہ ناکافی تھی، مگر انھیں خیال آیا کہ شاید مر جانے کے بعد بھی بالیدگی کی صلاحیت بعض ڈوب مرنے والوں کی فطرت میں شامل ہو۔ اس میں سے سمندری بساند اٹھ رہی تھی اور صرف اس کی بناوٹ ہی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ کوئی انسانی لاش ہے کیونکہ اس کی جلد مٹی کی پپڑیوں اور مچھلیوں کے سفنوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔

اتنا معلوم کرنے کے لیے کہ مرنے والا کوئی اجنبی ہے، انھیں اس کا چہرہ صاف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ گاؤں میں کوئی بیس ایک پتھریلی انگنائیوں والے چوبی مکانات تھے جن میں پھول پودے نام کو نہیں تھے اور سب کے سب ایک ریتیلی راس کے کنارے کنارے پھیلے ہوے تھے۔ وہاں زمین اتنی کم تھی کہ مائیں ہر وقت ڈری سہمی رہتی تھیں کہ کوئی جھکّڑ کہیں ان کے بچوں کو اُڑا نہ لے جائے، اور وقتاً فوقتاً مر جانے والوں کو ساحلی چٹانوں کے کنارے لے جا کر سمندر میں ٹھنڈا کردیا جاتا تھا۔ مگر سمندر پُرسکون اور بڑا سخی داتا تھا اور گائوں کے کُل مرد سات کشتیوں میں سما جاتے تھے۔ اس لیے لاش ملنے کے بعد انھوں نے بس ایک نظر ایک دوسرے پر ڈال کر تسلی کرلی کہ وہ سب کے سب موجود ہیں۔

اس رات وہ اپنی روزی کی تلاش میں سمندر کی طرف نہیں گئے۔ مرد آس پاس کی بستیوں میں یہ معلوم کرنے نکل گئے کہ کہیں کوئی لا پتا تو نہیں، اور عورتیں ڈوب مرنے والے کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہ گئیں۔ انھوں نے گھاس کی کوچیوں کی مدد سے اس کے بدن پر لگی ہوئی کیچڑ کو صاف کیا، اس کے بالوں میں پھنسی سمندری بالُو کو نکالا اور مٹی کے پپّڑوں کو مچھلیوں کے سفنے اتارنے والے اوزاروں سے کھرچا۔ یہ کام کرتے کرتے انھوں نے بھانپ لیا کہ جو جھاڑ جھنکاڑ اس کے جسم سے چمٹا ہوا ہے وہ دور دراز کے گہرے پانیوں سے آیا ہے اور اس کے بدن پر لبیریاں لگی ہوئی ہیں جیسے وہ مونگوں کی بھول بھلیوں میں سے ڈبکنیاں کھاتا ہوا آیا ہو۔ انھوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ اپنی موت کو خودداری کے ساتھ سہہ رہا ہے؛ نہ تو اس کا منھ دوسرے ڈوب مرنے والوں کی مانند اُجاڑ اُجاڑ سا تھا اور نہ دریا میں غرق ہونے والوں کی طرح بھک منگوں کا سا اُترا اُترا تھا۔ اس کو پوری طرح پاک صاف کرلینے کے بعد ہی یہ عیاں ہوسکا کہ وہ کس قسم کا آدمی تھا، اور ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ نہ صرف یہ کہ وہ ان سب مردوں میں جو اب تک ان کی نظر سے گزرے تھے، سب سے زیادہ دراز قد، سب سے زیادہ توانا، سب سے زیادہ زور آور اور سب سے زیادہ خوش اندام تھا بلکہ اتنا تکے جانے کے باوجود وہ ان کے تصور میں سما نہیں پا رہا تھا۔

گاؤں بھر میں نہ تو اتنا بڑا پلنگ دستیاب تھا جس پر اس کو لٹایا جاسکتا اور نہ کوئی میز اتنی سخت تھی جو اس کی سوگ جاگ کے لیے استعمال کی جاسکتی۔ اس کے بدن پر نہ تو سب سے لانبے آدمی کا کوئی بڑھیا پتلون چڑھا، نہ سب سے موٹے آدمی کی اتوار کو پہنی جانے والی قمیص اور نہ سب سے بڑے پیر والے کے جوتے۔ اس کے پہاڑ سے تن و توش اور اس کے حسن سے مسحور ہوکر عورتوں نے طے کیا کہ وہ بادبان کے کسی بڑے ٹکڑے سے اس کے لیے پتلون بنائیں اور عروسی لنن سے قمیص تیار کریں، تاکہ وہ راہِ عدم کا سفر اپنی حیثیت کے مطابق طے کرسکے۔ جب وہ جھرمٹ مارے سلائی میں جٹی تھیں اور ٹانکے بھرتے بھرتے ٹکر ٹکر اس کو دیکھے جا رہی تھیں تو ان کو یوں لگا کہ نہ تو ہوا کبھی اتنی یکساں یکسا ں رفتار سے چلی اور نہ سمندر کبھی اس قدر بے چین بے چین سا رہا جس قدر وہ آج رات ہے، اور انھوں نے فرض کرلیا کہ ہو نہ ہو مرنے والے کا اس تبدیلی سے کوئی واسطہ ضرور ہے۔ انھیں خیال آیا کہ اگر وہ عظیم الشان انسان ان کے گاؤں میں رہتا ہوتا تو اس کے مسکن کے دروازے سب سے کشادہ، چھت سب سے بلند اور فرش سب سے مضبوط ہوتا؛ اس کی مسہری کسی جہازوں والی لکڑی کی پیٹیوں سے بنی ہوتی جن کو لوہے کے پیچوں سے کسا گیا ہوتا، اور اس کی بیوی خورسند ترین عورت رہی ہوتی۔ انھوں نے سوچا کہ اس کا اس قدر رعب و دبدبہ ہوتا کہ وہ مچھلیوں کو نام بہ نام پکار کر سمندر میں سے بلا لیا کرتا۔ اور اس نے اپنی زمینوں پر اس قدر محنت کی ہوتی کہ چٹانوں میں سے چشمے ابل پڑے ہوتے اور یوں اس نے سمندر کے ساحلی کراڑوں کو پھولوں کی تختہ بندی کے قابل بنا لیا ہوتا۔ دل ہی دل میں انھوں نے اس کا موازنہ اپنے اپنے مردوں سے کر ڈالا اور سوچا کہ وہ سب ساری عمر بھی کریں تو وہ سب کچھ نہیں کرسکتے جو وہ ایک رات میں کر گزرا ہوتا، اور انھوں نے اپنے اپنے دلوں کی گہرائیوں میں اپنے اپنوں کو زمانے بھر میں سب سے زیادہ بودا، سب سے زیادہ گھٹیا اور سب سے زیادہ نکما آدمی ٹھہرا کر دل سے نکال دیا۔ وہ اپنے تصورات کی بھول بھلیوں میں گم تھیں کہ اتنے میں ان میں سے سب سے بڑی عمر والی عورت، جو عمر رسیدہ ہونے کے باعث ڈوب مرنے والے کو محبت سے زیادہ شفقت بھری نظر سے دیکھ رہی تھی، بولی، ’’صورت تو اس کی ایستے بان نامی شخص کی سی ہے۔‘‘

بات پتے کی تھی۔ اس کا کوئی اور نام ہو ہی نہیں سکتا، اتنی بات مان لینے کے لیے ان میں سے اکثر کو اس پہ بس ایک نظر اور ڈالنی پڑی۔ وہ عورتیں جو عمر میں سب سے کم تھیں اور خود سر بھی، چند گھنٹے اس تصور میں مگن رہیں کہ جب وہ اس کو نئے کپڑے پہنا دیں گی اور وہ چمکدار جوتے ڈاٹے، پھولوں کے بیچ لیٹا ہوگا تو لاتارو نام شاید اُس پر زیادہ جچے، مگر یہ ایک خام خیال تھا۔ ان کے پاس کینوس خاطرخواہ نہیں تھا، پھر بُرابیونتا گیا اور خراب تُرپا گیا پتلون تنگ بھی بہت تھا، اور درونِ دل کسی دبی قوت سے اس کی قمیص کے بٹن بھی پٹ پٹ کھل گئے تھے۔ ہوا کی سائیں سائیں بند ہوچکی تھی اور سمندر کو بھی اپنی بدھ کے دن والی اونگھ آگئی تھی۔ اس سکوت نے گویا ان کے آخری شبہات بھی دور کردیے؛ وہ ایستے بان ہی تھا۔ جب ان کو اس کا فرش پر گھسیٹا جانا مجبوراً برداشت کرنا پڑا تو وہ عورتیں جنھوں نے اس کے کپڑے بدلائے تھے، بال سنوارے تھے، ناخن تراشے تھے اور حجامت بنائی تھی، ترس کے مارے کپکپانے سے باز نہ رہ سکیں۔ اس وقت کہیں جاکر ان کی سمجھ میں آیا کہ وہ اپنے اس جہاز کے جہاز ڈیل ڈول کے ہاتھوں کتنا تنگ رہتا ہوگا جبکہ مرنے کے بعد بھی اس قباحت نے اس کا پیچھا لے رکھا ہے۔ وہ اس کو جیتا جاگتا دیکھ سکتی تھیں؛ دروازوں میں سے ترچھا ہو کر گزرنے کی سزا بھگتتے ہوے، چھت کی کڑیوں سے سر ٹکراتے ہوے؛ کہیں ملنے گیا تو کھڑا رہنے پر مجبور، اس الجھن میں مبتلا کہ اپنے نرم گلابی سیل نما ہاتھوں کا کیا کرے، جبکہ خاتونِ خانہ گھر بھر کی سب سے مضبوط کرسی چن کر اپنا دم خشک کیے کیے اس کو پیش کرتی، لو ایستے بان اس پر بیٹھ جاؤ، اور وہ دیوار سے ٹیک لگائے لگائے مسکراتا، نہیں مادام تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں؛ ہر ملاقات پر بار بار یہی کرتے کرتے اس کے تلوے چھلنی اور پیٹھ سوختہ ہوچکی تھی مگر کرسی توڑ دینے کی شرمندگی سے بچنے کے لیے ہمیشہ وہی ایک بات: نہیں مادام، تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں، اور غالباً اس بات سے قطعی ناآشنا رہتے ہوے کہ جو ابھی ابھی یہ کہتیں کہ رُکو ایستے بان، کافی تیار ہونے تک تو رک جاؤ، وہی پیٹھ مڑتے ہی زیرِ لب بول اٹھتیں، آخرکار ٹل گیا دیوپیکر بوبک، اچھا ہوا خوبصورت بھوندو گیا۔ دن نکلنے سے ذرا پہلے لاش کے چاروں طرف بیٹھی ہوئی عورتیں یہی کچھ سوچ رہی تھیں۔ بعد میں جب انھوں نے رومال سے اس کا منھ اس لیے ڈھک دیا کہ دھوپ اس کو کہیں نہ ستائے، تو وہ ان کو جنم جنم کا مرا ہوا لگا، بے یار و مددگار، بالکل ان کے اپنے مردوں کا سا، اور رقت نے ان کے کلیجوں میں ابتدائی دراڑیں ڈال دیں۔ وہ کوئی نوجوان عورت تھی جس نے پہلے پہل رونا شروع کیا؛ دوسری عورتیں بھی اس کی دیکھا دیکھی ٹھنڈی آہوں سے لے کر بین تک کرنے لگیں، اور جتنی زیادہ وہ سسکیاں بھرتیں اتنا ہی زیادہ ان کا دل امنڈتا کہ ڈوب مرنے والا اب ان کی نظروں میں عین مین ایستے بان ہوتا جا رہا تھا؛ چنانچہ وہ خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں، کیونکہ وہی تو دنیا بھر میں سب سے زیادہ محروم، سب سے زیادہ صلح کل، سب سے زیادہ بامروت تھا، بے چارہ ایستے بان۔ اس لیے جب مرد لوگ یہ خبر لے کر لوٹے کہ مرنے والا آس پاس کی کسی بستی کا نہیں تو عورتوں کو اپنے آنسوئوں کی جھڑی میں مسرت پھوٹتی محسوس ہوئی۔
’’خداوند کی حمد ہو،‘‘ انھوں نے ٹھنڈی سانس بھری، ’’یہ اپنا ہے!‘‘

مردوں نے اس کہرام کو زنانہ خرافات جانا۔ رات بھر کی کٹھن پوچھ تاچھ سے بے حال ہوچکنے کے بعد وہ تو بس اتنا چاہتے تھے کہ کسی طرح اس خشک اور ہوا بند دن، دھوپ چڑھ جانے سے پہلے پہلے، اس نووارد کے جھنجھٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فارغ ہوجائیں۔ انھوں نے فالتو پڑے ہوے بادبانوں اور ماہی گیری کے نیزوں کو جوڑ جاڑ کر ایک ڈولا سا بنایا اور اس کو رسیوں سے خوب کس کس کر باندھا تاکہ وہ اس کا بوجھ اس وقت تک برداشت کر لے جائے جب تک وہ چٹانوں کے کنارے تک نہ پہنچ جائیں۔ وہ بار بردار جہاز کا لنگر بھی باندھنا چاہتے تھے تاکہ وہ بہ آسانی قعرِ دریا میں اتر جائے جہاں مچھلیوں کو بھی کچھ سجھائی نہیں دیتا اور جہاں غوطہ خور تک خشکی کی ہُڑک میں ختم ہوجاتے ہیں، اور پھر اس لیے بھی کہ تُند لہریں اس کو دوبارہ کنارے پر نہ لے آئیں، جیساکہ دوسری کئی لاشوں کے ساتھ ہوچکا تھا۔ مگر مرد جتنی جتنی عجلت کرتے، عورتیں وقت ٹالنے کی اُتنی اُتنی ترکیبیں نکالتیں؛ اپنے سینوں پر سمندری تعویذ جھلاتی وہ بے چین مرغیوں کی مانند کُڑکُڑاتی پھر رہی تھیں۔ کچھ ایک جانب سے مداخلت کرتیں کہ مرنے والے کو مبارک ہوا والا منّتی احرام پہنایا جائے تو چند دوسری جانب سے رائے دیتیں کہ اس کی کلائی پر قطب نما باندھا جائے؛ اور ’’ایک طرف ہوجا بی بی، راستے سے ہٹ، دیکھو دیکھو! مجھے مُردے پر گرا ہی دیا تھا‘‘ کی کافی سے زیادہ چِل پوں کے بعد آخرکار مردوں کے دلوں میں شکوک سر اٹھانے لگے اور انھوں نے بڑبڑانا شروع کردیا کہ ایک اجنبی کی خاطر بڑی قربان گاہ والے اتنے سارے چڑھاوے آخر کیوں، کیونکہ چاہے جتنی بھی میخیں چڑھائو اور متبرک پانی کے جتنے چاہو اتنے برتن چڑھادو، پر شارک بہرصورت اس کو چٹ کر جائیں گی۔ مگر عورتیں تھیں کہ لپک جھپک گرتی پڑتی اپنے تبرکات کا سارا کباڑ لا لا کر اس پر نچھاور کیے جا رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ جو کچھ اپنے آنسوئوں سے ظاہر نہیں کر پا رہی تھیں وہ ٹھنڈی آہوں کی صورت نکال رہی تھیں، یہاں تک کہ مرد لوگ آپے سے باہر ہوگئے۔ ’’ارے ایک بھٹکتی لاش، ایک انجانے بے حقیقت آدمی، ایک بُدھواری ٹھنڈے گوشت کی خاطر اتنے چونچلے کبھی کاہے کو ہوے تھے جو اَب ہونے لگے؟‘‘ احترام کی اس کمی سے دل برداشتہ ہوکر ان میں سے ایک عورت نے مرنے والے کے منھ پر سے رومال ہٹا دیا، اور پھر تو مردوں کی بھی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔

وہ ایستے بان تھا۔ اس کو پہچان لینے کے لیے ان کے سامنے اس کا نام دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر کہا جاتا کہ سر والٹرریلے، تو وہ شاید اس کے فرنگی لہجے، اس کے کندھے پر بیٹھے طوطے، اس کی آدم خوروں کو مارنے والی توڑے دار بندوق کے رعب میں آگئے ہوتے، مگر ایستے بان تو سارے عالم میں بس ایک ہی تھا، اور وہ سامنے پڑا تھا، بالکل سفید ویل کی طرح، جوتے اتارے، کسی بونے کا پتلون چڑھائے، سخت سخت ناخونوں والا، جن کو چاقو سے تراشنا پڑا تھا۔ یہ جان لینے کے لیے بس اس کے چہرے سے رومال ہٹنے کی دیر تھی کہ وہ بہت نادم ہے،یوں کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں کہ وہ اتنا جہاز کا جہاز، اتنا بھاری بھرکم اور اتنا صورت دار ہے، اور جو کہیں اس کو یہ معلوم ہوجاتا کہ سب کچھ یوں ہوگا تو اس نے اپنی غرقابی کے لیے کوئی الگ تھلگ سی جگہ دیکھی ہوتی۔ مذاق نہیں، میں تو بلکہ حالات سے بیزار ہوجانے والے آدمی کی طرح اپنے گلے میں کسی جنگی جہاز کا لنگر باندھ بوندھ کر کسی کراڑ پر سے جا لڑھکتا تاکہ اب تو اس بدھواری لاش کی طرح لوگوں کو پریشان نہ کروں۔ بقول آپ لوگوں کے، ٹھنڈے گوشت کے اس غلیظ لوتھڑے سے کسی کا ناک میں دم کیوں کیا جائے جس سے اب میرا کوئی واسطہ بھی نہ ہو۔ اس کے انداز میں اس قدر کھری صداقت تھی کہ نہ صرف ان سب سے زیادہ وہمی لوگوں کے، جو کہ سمندر میں گزاری ہوئی ان بے انت راتوں کی تلخیوں کو محسوس کرسکتے تھے جن میں ان کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں ان کی عورتیں ان کے خواب دیکھتے دیکھتے تھک ہار کر غرق ہوجانے والوں کے خواب نہ دیکھنے لگی ہوں، بلکہ دوسرے ان سے بھی بڑھ کر سخت لوگوں تک کے تن بدن کے رونگٹے ایستے بان کی بے ریائی پر کھڑے ہو گئے۔

اور یوں انھوں نے اپنی ذہنی اُڑان کے مطابق ایک لاوارث ڈوب مرنے والے کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے اٹھایا۔ جب کچھ عورتیں پھولوں کی تلاش میں قریب کے گاؤں میں گئیں تو وہاں سے ان عورتوں کو ساتھ لے آئیں جن کو سنی سنائی پر اعتبار نہ آیا تھا، اور جب انھوں نے مرنے والے کے دیدار کرلیے تو وہ مزید پھول لانے چل دیں اور پھر تو اور آتے گئے، اور آتے گئے، یہاں تک کہ وہاں اس قدر پھول اور اتنی زیادہ خلقت جمع ہوگئی کہ پیر سرکانے بھر کی جگہ نہ رہی۔ آخری لمحات میں ان کا دل اس بات پر دُکھا کہ اس کو یتیمی کی حالت میں پانی کے سپرد کردیا جائے، اور انھوں نے اپنے معتبرین میں سے اس کے باپ اور ماں کو منتخب کیا، اور خالائیں اور پھوپھیاں اور چچا اور ماموں اور خلیرے اور چچیرے اور ممیرے بھائی بند، یہاں تک کہ اس کے توسط گائوں کا گائوں ایک دوسرے کا قرابت دار بن گیا۔ چند ملاح جنھوں نے دور سے ان کے بین سنے، اپنے راستے سے بھٹک گئے؛ اور لوگوں نے ایک کے بارے میں یہاں تک سنا کہ اس نے قدیم داستانوں کی سائرن عورتوں کا گمان کرتے ہوے خود کو مرکزی مستول سے کس کر بندھوا لیا۔ جس وقت وہ سب چٹانو ں کی کھڑواں رپٹ پر اس کو اپنے اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے شرف کے لیے ٹوٹے پڑ رہے تھے، اس وقت اپنے ڈوب مرنے والے کے کرّوفر اور حسن کا سامنا کرتے ہوے، کیا مرد اور کیا عورتیں، سب ہی کو پہلی بار اپنی گلیوں کی ویرانی، اپنی انگنائیوں کی بے برگ و باری اور اپنے خوابوں کی تنگ دامنی کا احساس ہوا۔ انھوں نے اس کو لنگر کے بغیر ہی جانے دیا تاکہ اگر وہ آنا چاہے تو واپس آ سکے، جب بھی وہ آنا چاہے۔ اور جُگوں کے اس مختصر ترین پل تک وہ سب دم سادھے رہے جب تک کہ لاش گہرائی میں نہ پہنچ گئی۔ یہ جان لینے کے لیے کہ وہ سب نہ اب وہاں موجود ہیں اور نہ کبھی ہوں گے، انھیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مگر وہ اتنا ضرور جان گئے تھے کہ اس وقت کے بعد ہر چیز کی کایا پلٹ جائے گی؛ اب ان کے گھروں کے دروازے کشادہ، چھتیں بلند اور فرش مضبوط ہوا کریں گے، تاکہ ایستے بان کی یاد جہاں چاہے کڑیوں سے سر ٹکرائے بغیر آجا سکے اور آئندہ کسی کو بھی زیرِ لب یہ کہنے کی ہمت نہ ہو کہ دیوپیکر بوبک آخرکار مر گیا، بہت برا ہوا خوبصورت بھوندو انجام کار جاتا رہا، کیونکہ اب وہ ایستے بان کی یاد کو ہمیشہ ہمیشہ تازہ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کو باہر سے چٹکیلے رنگوں سے رنگنے جا رہے تھے اور چٹانوں کے درمیان سے چشمے نکالنے اور کراڑوں پر پھولوں کی تختہ بندی کرنے کے لیے جی توڑ مشقت کرنے جا رہے تھے، تاکہ آنے والے زمانوں میںصبح سویرے بڑے بڑے جہازوں کے مسافر سمندر پر آتی ہوئی پھولوں کی مہکار سے گھٹ کر جاگ اٹھیں، اور کپتان کو اپنی پوری وردی، اپنے اسطرلاب، اپنے قطب تارے اور جنگ میں کمائے ہوے اپنے تمغوں سمیت عرشے پر اتر کر آنا پڑے، اور پھر سامنے افق پر گلابوں کی پٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوے وہ چودہ زبانوں میں کہے: اُدھر دیکھو جہاں ہوا اتنی پُرسکون ہے جیسے کیاریوں میں پڑی نیند لے رہی ہو، اُدھر جہاں دھوپ اتنی روشن روشن ہے کہ سورج مکھی بھی حیران ہے کہ کدھر منھ کرے، وہاں اُس طرف، وہی ایستے بان کا گاؤں ہے۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔