Categories
فکشن

ایک گھر اپنی اولاد کے لیے (محمود دیاب)

[blockquote style=”3″]
محمود دیاب ۱۹۳۶ء میں اسمعٰیلیہ، مصر، میں پیدا ہوے اور قانون کے مضمون میں تعلیم حاصل کی۔ انھیں بنیادی طور پر ان کے ڈراموں کی وجہ سے شہرت حاصل ہے، لیکن انھوں نے کہانیاں بھی لکھی ہیں۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: محمود دیاب (Mahmoud Diab)
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تو خیر ممکن ہی نہیں کہ یہ خیال مجھے وقت کے وقت سوجھ گیا ہو، کہ میں تو سدا سے ایک ذاتی مکان کا خواب دیکھا کرتا تھا۔ گو خوابوں میں اس کے خدوخال کچھ اتنے زیادہ صاف نظر نہیں آتے تھے، مگر اس کا ایک امتیازی وصف یہ تھا کہ اس پر حرارت اور راحت کی ایک فضا سی محیط رہتی۔ چنانچہ جیسے ہی مجھے موقع میسر آیا، میں نے اس کو فی الفور ایسے جھپٹ لیا جیسے میرا جینا اسی پرمنحصر ہو۔

خود میرے لیے یہ سودا کوئی اتفاقی امر نہیں تھا مگر میری بیوی کے لیے یہ کچھ اتنا حیران کن تھا کہ وہ مارے خوشی کے اپنے آنسو ضبط نہ کر سکی۔ دراصل میں نے خالی خولی ہوائی قلعے کے بجاے شہر کے مشرقی علاقے میں قائم کی گئی ایک نئی رہائشی بستی کے ایک خالی پلاٹ کے حقیقی بیع نامے کی شکل میں اپنی بیوی کی حیرت کا سامان کیا تھا، ورنہ پھر اس میں گرم جوشی پیدا نہ ہوتی۔

یہ اس دن کی بات ہے جس دن ہمارے بچوں، ہالہ اور ہشام، کی سالگرہ تھی۔ ہماری بیٹی کی عمر چار سال اور بیٹے کی تین سال تھی۔ دونوں کی پیدائش ایک ہی ماہ کی تھی، گو تاریخیں جدا جدا تھیں، اس لیے ہم دونوں کی سالگرہ ایک ہی دن منایا کرتے تھے۔

اس دن گھر پہنچنے پر بیوی نے پوچھا، ’’کیا بھول گئے تھے کہ بچوں کی سالگرہ ہے؟‘‘
’’نہیں تو، بھولا تو نہیں،‘‘ میں نے بےچینی کو چھپاتے ہوے آہستہ سے کہا۔
’’اب مجھ سے یہ نہ کہنا کہ تمھارے پلے کچھ بھی نہیں،‘‘ اس نے چھینٹا کسا۔
’’نہیں نہیں، میں قلاش نہیں ہوں۔‘‘

’’ایک وہ ہیں کہ کب سے تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ایک تم ہو کہ تم نے ان کے واسطے ایک پیاستر کی مٹھائی بھی لانا گوارا نہیں کیا،’’ اس نے میرے خالی ہاتھوں کی طرف اشارہ کرتے ہوے کہا۔

’’ان کو خالی خولی مٹھائیاں اور کھلونے دلانے سے اب میں بیزار آ گیا ہوں،‘‘ حیرت پیدا کرنے کی خاطر اس سے بہتر تمہید باندھنے میں ناکام ہو کر میں نے اپنی بغل میں دبا بڑا سا لفافہ نکالا اور بیوی کے حوالے کر دیا۔

’’میرا تحفہ اس لفافے میں ہے،‘‘ میں نے اسے بتایا۔ اس نے کاغذات نکالے اور ان پر نظر دوڑانے لگی، اور میں اپنی اس توفیق پر اتراتے ہوے اس پر نظریں گاڑے رہا۔ بیک نظر ان دستاویزات کی اصلیت کو پانے میں ناکام ہو کر اس نے سوالیہ انداز میں اپنا حسین چہرہ اٹھایا اور چیخی، ’’یہ کیا ہے؟‘‘

’’ان کے لیے ایک گھر،‘‘ میں نے مسکراتے ہوے کہا۔

ہشام پیچھے سے آیا اور میری ٹانگوں میں اپنا منھ دے کر دھیمے دھیمے ہنسنے لگا۔ میں نے جھک کر اس کو اٹھا لیا اور اپنی بیوی پر ہونے والے غیرمتوقع ردعمل سے بالکل بےخبر، اپنے بیٹے کو پیار کرنے لگا۔

اس پل کے بعد بیوی کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ حد یہ ہے کہ اس نے میری محبت کا وہ پرانا قصہ چھیڑا ہی نہیں جس سے وہ چند دن پہلے واقف ہوچکی تھی۔ پتا نہیں اس نے اسے بھلا دیا تھا یا جان بوجھ کر نظرانداز کر دیا تھا۔ بلکہ وہ تو نہایت نرم خو اور بشاش ہو گئی اور شاید ہی ہمارا کوئی عزیز یا جاننے والا بچا ہو جس کو اس نے یہ نہ بتایا ہو کہ ہم اپنا مکان بنانے جا رہے ہیں۔ اصل میں اس کو تو اب مکان کے سوا کوئی اَور بات کرنے میں لطف ہی نہیں آتا تھا۔

ایک دن ہم چاروں اپنا پلاٹ دیکھنے گئے، یعنی بقول اس کے ’’موقعے کا معائنہ کرنے۔‘‘ ہم پلاٹ کے ایک کونے میں جا کر کھڑے ہوے۔ وہ میرے پاس کھڑی مارے خوشی کے پھولی نہ سمارہی تھی۔ دونوں بچے قریب ہی خوش خوش دوڑیں لگا رہے تھے، شور مچا رہے تھے اور گردوغبار کے چھوٹے چھوٹے مرغولے اڑا رہے تھے۔

میری بیوی بتائے جا رہی تھی کہ مکان کس طرح کا ہو گا۔ وہ بغیر سوچے سمجھے باربار دہرا رہی تھی: ’’ایک منزلہ ہو گا، ہے نا؟ جب بچے بڑے ہو جائیں گے تو ہم ایک منزل اور چڑھا لیں گے۔ ہم اس کو بڑے باغ سے گھیر دیں گے۔ اس کی دیکھ بھال میں خود کروں گی۔ میں اس کو پھولوں سے پاٹ دوں گی۔ تمھیں کس طرح کے پھول پسند ہیں جی؟ ہے نا ہنسی کی بات کہ پانچ برسوں میں میں یہ بھی نہ جان پائی کہ تمھیں کون سا پھول پسند ہے۔‘‘
’’مجھے چنبیلی پسند ہے۔‘‘

’’ہم باغ کو چنبیلی سے پاٹ دیں گے،‘‘ وہ چلّائی۔ پھر بولنے لگی، ’’شہر کے شور اور دھویں سے دور، اس قسم کے مکان کی رہائش بچوں کی صحت کے لیے بہت اچھی رہے گی۔ میرے دادا کا منصورہ میں بہت پیارا سا گھر تھا۔ ایک ایکڑ کا تو باغ ہی تھا اس میں۔ ذرا سوچو! اور ہاں، اوپر کپڑے دھونے کے لیے کوئی جگہ ضرور نکالنا، اور ایک کمرہ ملازموں کے لیے بھی۔۔۔‘‘

’’ملازموں کے کمرے سے کیا مطلب ہے تمھارا؟‘‘ میں نے اسے ٹوکا۔ ’’میں نے تو اپنی زندگی کے قیمتی سال اس خواب کو حقیقت بنانے میں لگا دیے، اب میں تم سے درخواست کروں گا کہ اس کو فضولیات میں تو نہ بدلو۔‘‘
’’اچھا اچھا، اور گیراج؟ بنگلے میں گیراج تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘
’’مگر میرے پاس کار کہاں؟‘‘

’’کبھی تو کار ہو گی۔ جو گیراج نہ ہو گا تو کہاں رکھو گے بھلا؟‘‘ اس نے پکار کر بیٹی سے کہا کہ اپنے بھائی کو لے کر آ جائے، اور پھر وہ خود تیکھا سا قہقہہ لگاتی بچوں کے پیچھے کسی کمسن لڑکی کی طرح دوڑیں لگانے لگی۔

ان تینوں کو پلاٹ کے بیچوں بیچ اس حالت میں دیکھتے دیکھتے میرا دھیان بھٹک کر بہت دور نکل گیا اور پھر اسی وقت پلٹا جب میری بیوی پلٹ کر میرے پاس آ کھڑی ہوئی اور دوبارہ اپنی باتیں کلی پھندنے لگا کر دہرانے لگی، اور میں اپنے دھیان میں کھویا ہوا تھا— نہیں، میں اس کی باتوں کا جواب دیتا رہا تھا۔

زمان و مقام سے بہت دور مجھ کو ایک پرانا گھر یاد آ گیا۔ مقام تو تھا اسمٰعیلیہ؛ رہ گیا زمانہ تو اس کا اندازہ میں اپنی عمر سے لگا سکتا ہوں۔ میں اُس وقت آٹھ نو برس کا تھا۔ اس بستی میں ہمارا مکان تھا، معمولی سا ایک منزلہ مکان جس کے چہار اطراف ایک مختصر مگر خوبصورت سا باغیچہ تھا۔ بہرحال، اس میں ملازموں کے لیے کوئی کمرہ نہیں تھا کیونکہ ہمارے پاس ملازم ہی نہیں تھے۔ نہ ہی اس میں کوئی گیراج تھا کیونکہ میرے ابا نے اپنی زندگی میں کبھی کسی ذاتی کار میں قدم ہی نہیں رکھا تھا۔ مجھے یاد آیا کہ ہمارے باغیچے میں انگوروں کی ایک ٹٹی تھی، آم کے دو پیڑ تھے، لیموں کا ایک جھاڑ تھا، اور مرغیوں کے لیے ایک بڑا سا دڑبہ تھا۔ مجھ کو یہ بھی یاد آیا کہ ابا کو گھر میں آئے ایک منٹ نہیں ہوتا تھا کہ وہ کھرپی اٹھا کر باغیچے میں کام سے لگ جاتے تھے جس کی باڑھ چنبیلی کی جھاڑیوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ مجھ کو یہ یاد نہیں کہ ہم اس مکان کے مالک کب بنے تھے یا کب اس میں بودوباش اختیار کی تھی؛ پر اتنا یاد ہے کہ ابا کو اس پر بےانتہا ناز تھا اور میری امی اس کے ملکیت میں آنے کو ایک عظیم الشان تاریخی واقعہ سمجھتی تھیں، چنانچہ انھوں نے اس کو خود اپنی اور اپنے کنبے کی زندگی کے دیگر واقعات کا صحیح وقت متعین کرنے کا پیمانہ بنا لیا تھا۔ کئی بار میں نے ان کو کہتے سنا، ’’جب ہم اس مکان میں اترے اس وقت فلاں پیٹ میں تھا‘‘، یا ’’جب ہم نے یہ مکان خریدا تو میرے میاں کی تنخواہ اتنی تھی‘‘، اور اسی طرح کی اَور باتیں جن کو یاد کر کے میں اب بھی مسکرا اٹھتا ہوں۔

مجھ کو اُس زمانے کے کوئی خاص واقعات تو اب یاد نہیں رہے، سواے اپنے ایک بھائی کی ولادت کے جو ہم سب میں پانچواں اور نرینہ اولاد میں تیسرا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ دیگر واقعات اتنے غیراہم تھے کہ انھوں نے میرے دماغ پر کوئی نقش نہیں چھوڑا، لیکن مجھ کو یہ یاد رہا کہ جب شام ہو جاتی تھی تو ہمسایوں کی ٹولی میرے ابا سے ملنے آ جاتی تھی اور وہ سب باغیچے میں بیٹھ کر مختلف موضوعات پر خوش گپیاں کیا کرتے تھے، جب کہ ہم بچے ان کے آس پاس کھیلتے رہتے اور بادِ بہاری چنبیلی کی مہک سے بوجھل ہو کر نشے میں جھومتی پھرتی۔ ممکن ہے اس وقت ہمارے گھر میں سدا بہار ہی رہا کرتی ہو کیونکہ میں اب اس زمانے کو بغیر باغیچے کے ان کھیلوں اور چنبیلی کی خوشبو کے یاد ہی نہیں کر پاتا۔

پھر کچھ ایسے واقعات رونما ہونے لگے جنھوں نے گو ہماری زندگی کی یکسانیت کو یک دم درہم برہم نہیں کیا، اس وجہ سے وہ مجھ کو پوری تفصیل کے ساتھ تو مشکل ہی سے یاد آتے ہیں، ہاں ان کی مبہم سی بازیافت ہو جاتی ہے۔ مثلاً یہ کہ لفظ ’’جنگ‘‘ انھی دنوں کان میں پڑنا شروع ہوا تھا جو میرے لیے ایک نیا لفظ تھا اور اس وقت گھر میں لفظ ’’روٹی‘‘ کی بہ نسبت کہیں زیادہ استعمال کیا جانے لگا تھا۔ ہماری گلی کے بڑے بوڑھے بھی اب اس کو مستقل بولنے لگے تھے جب کہ میں اس کے معنی ہی نہیں جانتا تھا۔ اسی طرح کے اَور بھی کئی الفاظ تھے جو اجنبی اور مشکل ہونے کے باوجود، صرف تواتر سے بولے جانے کی بنا پر، مجھے ازبر ہو گئے— اتحادی، محوری، جرمن، ماژی نولائین اور نہ جانے کتنے، جو سب کے سب میرے لیے محض ایسے الفاظ تھے جو میرے کان میں پڑتے رہتے تھے۔

ابا اور ہمارے ہمسائے باغیچے میں بیٹھ کر انھی سب پر باتیں کیا کرتے اور باتوں ہی باتوں میں دو گروہوں میں بٹ جاتے۔ ایک انگریزوں کی فتح کا خواہاں ہوتا تو دوسرا جرمنوں کی کامیابی کا دعاگو۔ میرے ابا کا تعلق آخرالذکر گروہ سے تھا، اس لیے میں بھی جرمنوں کی کامیابی کی دعا مانگا کرتا۔ اکثر میں ابا کو کہتے سنتا: ’’جرمنوں کی فتح کا مطلب ہے انگریزوں کا مصر سے انخلا،‘‘ اگرچہ ہمارے ساتھ والے ہمسائے چچا حسن کو یقین تھا کہ ’’اگر انگریزوں نے مصر خالی کیا تو اس کا مطلب ہو گا کہ جرمن اس میں گھس پڑیں گے۔‘‘ بزرگ اسی طرح دیر تک اپنی زوردار بحثابحثی جاری رکھتے جو ایک رات کو جہاں ختم ہوتی دوسری رات کو وہیں سے پھر شروع ہو جاتی۔ اِدھر ہم بچے کھیل کھیل میں دو ٹولیوں میں بٹ جایا کرتے، ایک انگریز تو دوسری جرمن۔ ظاہر ہے میں دوسری ٹولی سے تعلق رکھتا تھا۔ پھر ہم اپنی بچکانہ جنگوں میں جٹ جاتے جس کی وجہ سے آخرکار ہم سب ہانپتے کانپتے تھک تھکا کر چُور ہو جاتے تھے۔

جب سونے کا وقت ہو جاتا تو میں اپنے بستر میں جا گھستا اور کچھ دیر تک باغیچے سے آتی بزرگوں کی آوازیں سنا کرتا جن میں مَیں ابا کی آواز کو الگ سے پہچان لیتا۔ پھر لیٹے لیٹے اپنے ذہن میں جرمنوں کی صورت گری میں لگ جاتا۔ میرے تصور میں جرمن نہ تو انگریزوں کے سے ڈیل ڈول کے ہوتے اور نہ ان کی سی شکل صورت کے، بلکہ وہ مجھ کو ان سے کہیں زیادہ لمبے تڑنگے اور شان دار نظر آتے۔

ایک رات ہوائی حملے کا سائرن بج اٹھا۔ یہ بھی اس زمانے کی ایک نئی اور دلچسپ چیز تھی۔ گلی کوچوں اور گھروں کی بتیاں بجھ گئی تھیں اور ہر سو گہری خاموشی سے بوجھل اندھیرے کی عملداری ہو گئی تھی۔ دروازوں پر آسیبی ہیولے سے جمع ہو گئے تھے اور چنبیلی کی تیز مہک گزری ہوئی راتوں کی نسبت کچھ زیادہ ہی پھیلی ہوئی تھی۔

’’جرمن ہوائی جہاز!‘‘ ابا چلّائے۔ آسمان پر نظریں جمائے اور پوری توجہ سے کان لگائے میں اس بےہنگم بھنبھناہٹ کا اندازہ لگا سکتا تھا جو افق کے اس پار سے گھٹا ٹوپ اندھیرے کو چیرتی ہوئی قریب آ رہی تھی۔

’’کیا وہ بستی پر بمباری کریں گے؟‘‘ میں نے دہشت زدہ ہو کر امی سے پوچھا۔

’’نہیں،‘‘ ابا نے ایک ایسے شخص کی طرح مطلع کیا جو اس قسم کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہو۔ ’’ہٹلر ایسا نہیں کرے گا۔ وہ تو بس انگریزوں کی چھاؤنی کی طرف جا رہے ہیں۔‘‘

انگریزوں کی چھاؤنی ہمارے چھوٹے سے شہر کو ہر طرف سے گھیرے ہوے تھی، بلکہ تقریباً آ ملی تھی۔ ہم نے ہیبت ناک دھماکے سنے جنھوں نے مجھے نہیں یاد کہ ختم ہونے کا نام بھی لیا ہو۔ ایک ہوائی جہاز آسمان ہی میں پھٹ کر شعلۂ جوالہ بن گیا۔ پھر آسیبی ہیولے اپنی بھاری بھاری چاپ کے ساتھ ہجوم کرتے لوگوں کو یہ بتاتے ہوے گزرے کہ جہاز بستی کو برباد کیے دے رہے ہیں اور مشورہ دینے لگے کہ لوگ اپنے گھروں سے دور دور رہیں۔

آسیبی ہیولوں کے پرے کے پرے گرتے پڑتے گلی کوچوں میں نکل بھاگے۔ ہمارے والدین بھی اٹھ کھڑے ہوے اور ہم سب کو جلدی جلدی سمیٹ کر خوفزدہ ازدحام کے ساتھ اس صحرا کی جانب نکال لے گئے جو بستی کے شمال مشرق میں پھیلا ہوا تھا۔ آس پاس پناہ کے لیے کوئی اور جگہ ہی نہیں تھی۔

وہ رات قیامت سے کم نہ لگتی تھی۔ ابا اس کو اسی طرح بیان کرتے تھے اور بعد میں امی بھی ان کے یہی الفاظ دہرایا کرتیں۔ لوگ وحشیوں کی طرح آپس میں دھکاپیل کر رہے تھے اور ننگے پاؤں اپنے گھر کے لباسوں میں اس گھپ اندھیرے میں ایک دوسرے کو آوازیں دیتے بھاگے چلے جا رہے تھے۔ ’’محسن، تم کہاں ہو؟‘‘، ’’بچے کہاں ہیں؟‘‘، ’’دروازہ لگا دیا تھا؟‘‘، ’’گھر کو جھونکو جہنم میں، جلدی کرو‘‘، ’’ابا، ذرا رکو تو!‘‘، اور کتے تھے کہ چہار جانب سے بھونکے چلے جا رہے تھے۔ میں اپنے تین بھائی بہنوں کے ساتھ بھاگتے ہوے روتا بھی جا رہا تھا۔ اس گھنے اندھیرے میں آہ و بکا کرنے والوں میں بچوں کی اکثریت تھی۔

یہ تو میں نہیں بتا سکتا کہ اس ابتری کی رات میں کتنی ساری خلقت نے اس صحرا میں پناہ لے رکھی تھی؛ بس اتنا جانتا ہوں کہ وہ تاریک راہگزار لوگوں سے اس طرح پَٹا پڑا تھا جیسے ہم سب کسی بزرگ کے عرس میں آئے ہوے ہوں، جیسا کہ چچا حسن نے زہرخند کے ساتھ کہا تھا: ’’شیخ ہٹلر کے عرس میں۔‘‘

’’زمین کھودنے میں میرا ہاتھ بٹاؤ!‘‘ ابا نے امی سے اس قسم کے امور کے کسی ماہر کے لہجے میں کہا تھا۔ ’’چلو بچّو، کھودو۔ حسن آفندی، اپنے بچوں کے لیے ایک خندق بنا لو تاکہ گولوں کے اڑتے ہوے ٹکڑوں کی زد سے محفوظ رہیں۔‘‘

ہم نے مل کر ایک بڑی سی خندق کھودی جس میں ابا نے ہم سب کو ٹھساٹھس بھردیا۔ اس دوران بستی پر پے در پے دھماکوں پر دھماکے ہوتے رہے اور آسمان پر بے ہنگم گھن گرج چھائی رہی۔ اوپر آسمان بجلی کی طرح وقفے وقفے سے روشنی کے جھما کے ہوتے رہے اور پھر ہوائی جہاز ہمارے اوپر منڈلانے لگے۔

’’بالکل ہمارے سروں پر آ گئے ہیں،‘‘ ابا چلّائے۔ امی نے ایک دلدوز چیخ ماری اور ہم سب کو چھپا لینے کے لیے ہمارے اوپر اوندھ گئیں۔ ابا نے بھی یہی کیا۔ پورے صحرا میں لوگوں کو خاموش کرنے کے لیے آوازیں گونجنے لگیں۔ جواب میں ان کو چپ کرانے کے لیے کچھ دوسری آوازیں بلند ہو گئیں۔

میں نے اپنی گردن اچکا کر سر اوپر کو اٹھایا اور ابا کی بغل میں سے آسمان کی طرف دیکھا کہ شاید کسی ہوائی جہاز میں کوئی جرمن دکھائی دے جائے اور میں اپنے تصور میں بنائی ہوئی جرمنوں کی شکل کی تصدیق کر سکوں۔ مگر ابا نے زور سے دبا کر میرا سر ریت میں دے مارا۔

’’اگر ان کی لڑائی انگریزوں سے ہے تو آخر ہم پر بمباری کیوں کر رہے ہیں؟‘‘ امی نے سرگوشی کی۔ ابا نے کوئی جواب نہیں دیا۔
’’کیا ہم ان کے رفیق نہیں ہیں؟‘‘ میں نے سوال کیا۔
’’دونوں پر اللہ کی لعنت!‘‘ ابا زور سے چیخے۔

ہوائی جہاز زمین کے اتنے قریب آ گئے تھے کہ ان کی تھرتھراہٹوں نے مجھ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ پھر یکایک خوفناک روشنی کے جھماکوں نے سیٹیاں سی بجاتے ہوے تاریک صحرا کو بے لباس کر دیا اور پھر تو، جیسا کہ چچا حسن کی بیوی نے، جو اس رات دو برس کے بعد ہم کو ملی تھیں، بیان کیا تھا، ’’لوگوں پر بارش کی طرح گولیوں کی بوچھاڑ پڑنے لگی۔‘‘
زمین سے بلند ہوتی ہوئی چیخوں نے آسمان سے آتے ہوے دھماکوں کے ساتھ مل کر شور اور واویلا کا اس قدر ہنگامہ گرم کیا کہ اتنا وقت گزر جانے کے بعد بھی وہ اب تک میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ جب پو پھٹی تو امی نے آس پاس کی دوسری عورتوں کی طرح خود کو جنونی دوروں کے حوالے کر دیا اور ان کو آپے میں لانے کی ابا کی ہر کوشش بیکار گئی۔

آخرکار یہ قتل عام بند ہوا۔ آسمان سے ہوائی جہاز معدوم ہو گئے اور اوپر سے آتی ہوئی تمام آوازوں اور دھماکوں نے بند ہوکر زمین کے وحشیانہ شوروغوغا کے لیے جگہ خالی چھوڑ دی جو اس وقت تک جاری رہا جب تک دن کی روشنی کا اولیں ڈورا نمودار نہ ہو گیا۔

تکان سے چُور چُور ہم سب اپنی خندق سے نکلے تھے اور اپنے والدین کے پیچھے پیچھے چل دیے تھے۔ ان کے حکم پر ہم نے اپنی آنکھیں کس کر میچ رکھی تھیں تاکہ ہماری نظر گردوپیش کے خون خرابے پر نہ پڑ جائے۔ ہم نے سیدھے اپنے گھر کی راہ لی، مگر وہ وہاں موجود نہ تھا۔ ہماری گلی میں نہ چچا حسن کا گھر سلامت تھا نہ تیسرا والا مکان اور نہ چوتھے کا آدھا حصہ؛ سب کے سب ملبے کا ڈھیر بن چکے تھے۔ ملبے کے اس ڈھیر پر جو ہمارا مکان تھا، ہماری ایک بط چکراتی پھر رہی تھی۔ پیچھے پیچھے اس کا ایک بچہ بھی تھا، جبکہ پہلے وہ پانچ تھے۔ ہوا میں چنبیلی کی مہک کا دور دور تک پتا نہیں تھا۔

ابا کسی سراسیمہ شخص کی طرح پہلے تو کھڑے کھڑے اس ملبے کو تکتے رہے اور پھر امی کو ٹکرٹکر دیکھنے لگے جن کو اس ناگہانی نے دم بخود کر دیا تھا۔
اس دن کا آخری اور اندوہ ناک منظر ابا کو روتے ہوے دیکھنا تھا — ایسا منظر جو میں نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں دیکھا تھا۔
’’زندگی بھر کی محنت پل بھر میں اکارت ہو گئی،‘‘ امی آنسوؤں کی جھڑی میں منمنائیں۔

’’شکر الحمدللہ،‘‘ ابا آنسو پونچھتے ہوے بڑبڑائے۔ ’’شکر ہے کہ ہم اندر نہیں تھے۔‘‘ کچھ دیر کے لیے خاموشی ہم پر مسلّط رہی۔ پھر وہ بولے، ’’ اب تم لوگوں کو اندرونِ ملک ترکِ وطن کر جانا ہو گا،‘‘ اور اس طرح میں نے ایک نئی ترکیب ’’ترکِ وطن‘‘ سیکھی۔

’’چلو، جب تک کوئی اور بندوبست نہ ہو، تمھاری پھوپھی کے گھر چلتے ہیں،‘‘ ابا نے بات جاری رکھی، ’’بشرطےکہ وہ بھی ڈھے نہ گیا ہو۔‘‘

غمزدہ جلوس پھر سے مرتب ہوا اور ہم سب مریل چال سے چلتے ہوے روانہ ہو گئے، ’’جیسے کسی میت کے ساتھ ساتھ‘‘ جیسا کہ میں سیانا ہوجانے پر اپنے احباب کو یہ واقعہ سناتے وقت کہا کرتا تھا۔ اپنے مکان کے ملبے کے پاس سے ہٹتے وقت میں نے دیکھا کہ ابا نے باہر کو نکلے ہوے ایک پتھر کو گھسیٹا اور دوبارہ ملبے کے بڑے سے ڈھیر کی طرف اچھال دیا۔

’’جب جنگ ختم ہو جائے گی،‘‘ میں نے ان کو کہتے سنا، ’’تو ہم اس کو پھر سے بنائیں گے۔‘‘
پھر جنگ ختم ہو گئی۔۔۔

کندھے پر ٹہوکا لگا تو میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ میری بیوی کہہ رہی تھی، ’’تم کو کیا ہوگیا ہے؟ سن رہے ہو؟ ہم کب بنانا شروع کریں گے؟‘‘

اس مکان کا آسیب ابھی میرے سر میں موجود تھا۔

’’جن لوگوں نے تباہی کے یہ سب خوفناک ہتھیار ایجاد کیے ہیں،‘‘ میں بولنے لگا، ’’آخر وہ کوئی ایسی چیز بنانے کی کیوں نہیں سوچتے جو مکانات کو ان کی تباہ کاریوں سے بچا سکے؟‘‘

میری بیوی کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی۔ اس نے مجھ کو یوں دیکھا جیسے بڑے دُلار سے سوال کر رہی ہو۔ میں مسکرا دیا اور اپنے ہاتھوں کو اس طرح گھمانے لگا جیسے اپنے خیالات کو اڑا رہا ہوں، اور بولا، ’’فکر کی کوئی بات نہیں؛ میرا اس پر یقین ہے کہ اب جنگ کبھی نہیں ہو گی۔‘‘

اس بات نے میری بیوی کے چہرے کی حیرانی کو اور بھی بڑھا دیا۔

Image: Muhammad Hafez

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں (لی کوک لیانگ)

[blockquote style=”3″]

لی کوک لیانگ (Lee Kok Liang) ملائیشیا کی چینی نژاد برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانی ’’جس وقت لوگ سیر کو نکل جاتے ہیں‘‘ یوں تو ایک ایسے موضوع کو پیش کرتی ہے جس پر ہزارہا انداز سے لکھا جاتا رہا ہے، لیکن زوال عمر کے تجربے کو اس کہانی میں ایک بالکل اچھوتے زاویے سے پیش کیا گیا ہے۔ اس زاویے کو نبھانے کے لیے فن پر نہایت ماہرانہ دسترس ضروری تھی، اور کہانی پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا کہ اسے اسی مہارت اور فنی ضبط کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔

عطا صدیقی (پورا نام عطاء الرحمٰن صدیقی) 13 نومبر 1931 میں لکھنؤ میں پیدا ہوے، تقسیم کے بعد کراچی منتقل ہوے۔ کراچی یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد بندر روڈ پر واقع ایک سکول میں پڑھانا شروع کیا اور وہیں سے ہیڈماسٹر کے طور پر ریٹائر ہوے۔ ایک پڑھنے والے اور ترجمہ کار کے طور پر ان کی ادب سے عمربھر گہری وابستگی رہی۔ ان کے کیے ہوے بہت سی عالمی کہانیوں کے ترجمے آج کراچی اور دیگر رسالوں میں شائع ہوتے رہے۔ انھوں نے امرتا پریتم کی کتاب ’’ایک تھی سارا‘‘ کا ہندی سے ترجمہ کیا۔ عطا صدیقی کی ترجمہ کی ہوئی کہانیوں کا مجموعہ زیر ترتیب ہے۔ 13 اگست 2018 کو کراچی میں وفات پائی۔

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
تحریر: لی کوک کیانگ
انگریزی سے ترجمہ: عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کنگ منگ نے بائیں کلائی اٹھا کر گھڑی پر نظر ڈالی۔ ساڑھے پانچ بجے تھے۔ اس کے پاس ابھی کچھ وقت تھا۔

جوں ہی اس کی کار سائے سے نکلی، دھوپ اس پر جھپٹ پڑی اور بونیٹ کی کالی سطح سے روشنی کی چھوٹی چھوٹی چنگاریاں بکھر اٹھیں۔ پیش بندی میں اس نے پہلے ہی سے اپنی آنکھیں سکیڑ لی تھیں۔ ایک ہاتھ سے اسٹیئرنگ تھامے تھامے، اس نے دوسرے ہاتھ سے رومال نکالا اور پھرتی سے اپنی گُدّی پونچھی۔ پسینہ اس کے چہرے کے اطراف اور گردن پر بہنے لگا تھا۔ رومال کو کار کے فرش پر ڈال کر اس نے سیٹ پر سے چشمہ اٹھایا اور اپنی آنکھوں پر جما لیا۔ سڑک اب اپنے ہلکے نشیب و فراز سمیت بتدریج چڑھائی میں تبدیل ہو رہی تھی۔ جب وہ بڑے موڑ پر پہنچا تو اس نے اپنی گھڑی ٹیلے پر بنائے گئے اس نئے گھنٹہ گھر سے ملائی جو بلوریں آسمان میں پیوست ہوتا نظر آتا تھا۔

دور سڑک کے سرے پر اسے اپنے بنگلے کی سیاہ ڈھلوان چھت، چائے کی دبیز باڑھ کے پرلی طرف گرد اڑنے کے سبب کسی قدیم جہاز کے ڈھانچے کی طرح جھکولے کھاتی دکھائی دی۔ اس کا بنگلہ پہاڑیوں میں ایک بلند مقام پر واقع تھا۔

جیسے ہی چھت پر نظر پڑی، اسے اپنی کنپٹیوں پر خفیف سی پھڑکن محسوس ہوئی۔ اس کی ڈھلی عمر کا لہو۔ یہ پھڑکن بڑھ کر شدت اختیار کر گئی۔ کنگ منگ نے پیٹھ اکڑا لی اور تن کر بیٹھ گیا۔ جوں جوں وہ بڑی سی چھت اپنی جسامت اور میلے پن کو نمایاں کرتی گئی، وہ بھی بےارادہ اپنے گھٹنے اکڑاتا رہا۔ یہ چھت سخت ڈھلوان تھی اور بارش نے اس پر بالکل پسینے کے نشان کی طرح کے دھبے ڈال دیے تھے۔ اس کا چہرہ ٹھنڈا ہو گیا اور تھرتھری اس کی ریڑھ کی دُمچی سے چھوٹی چھوٹی لہروں کی شکل میں نکل کر پھیل گئی۔ جیسے ہی درد کی لہر اس کی دائیں کنپٹی تک پہنچ کر ہتھوڑے کی چوٹ کی طرح لگی، اس نے سانس روک لی۔ دو دن قبل بھی اس نے یونہی لاچاری سے اس چھت کو دیکھا تھا۔ جوں جوں وہ آگے بڑھتا گیا، وہ یوں جنبش کرتی معلوم دی جیسے کسی نہ نظر آنے والی موج پر بپھرتی چلی آتی ہو اور خوف دلاتی ہو کہ اونچی باڑ کے اوپر سے خود کو اٹھا پھینکے گی۔ کسی نہ کسی طرح اتنی قوت اس میں آ گئی کہ اس نے اپنی کار کو پشتے سے ٹکرا جانے سے پہلے ہی روک لیا۔

مگر اس بار وہ لرزشیں اس کے شانوں تک پہنچنے سے پہلے ہی جاتی رہیں۔ اس کی سانس ایک طویل آہ کی صورت نکلی اور اس نے اپنی کار سڑک پار کر کے بھاری چوبی پھاٹک کے سامنے رسان سے لا روکی۔

اترنے سے پہلے اس نے اس دورے کے گزر جانے کا انتظار کیا۔ پھر اس نے پھاٹک کھولا اور کار کو آہستگی سے پختہ راستے کی ہلکی سی چڑھائی پر چڑھا لے گیا۔ اس نے انجن بند کیا تو تکان اور گرمی کے اثر کو تیزی سے خود پر غالب آتے محسوس کیا۔ اس نے اپنی پیشانی کو بازوؤں پر ٹکا دیا اور بغل کی بساند کے بھپکے سونگھتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو اسے نظر آیا کہ اس کے ہاتھ کتنے کھردرے اور سانولے ہو چکے تھے۔ جہاں جہاں اس نے کبھی کھجا لیا ہو گا وہاں وہاں جلد پر ننھے ننھے سے سفید نشان پڑ گئے تھے۔ مساموں کے سِروں پر چھوٹے چھوٹے سیدھے روئیں ابھرے ہوے تھے اور ایک گہری کاسنی ورِید اس کی لٹکتی کھال پر نمایاں تھی۔ وہ چل کر پھاٹک تک گیا اور پٹوں کو بہت احتیاط سے بند کیا اور نیچے والی لوہے کی چٹخنی کو دبانے کے لیے پیر استعمال کیا۔ جب وہ ان ڈِھبریوں کو غور سے دیکھنے کے لیے جھکا جن سے تختے جوڑے گئے تھے تو دھوپ نے اس کی گدّی کو جھلسا دیا۔ تب وہ سیدھا ہوا اور اپنے اس بنگلے کی طرف قدم بڑھائے جو اس نے اُس وقت بنوایا تھا جب وہ اپنی نوجوان شریک حیات کے ساتھ پہلی مرتبہ یہاں آیا تھا۔ وہ اس سرزمین پر بسنے کے لیے جاوا سے آئے تھے۔ اس نے پہاڑی کی ڈھلان کا یہ قطعہ اس وجہ سے منتخب کیا تھا کہ یہ سستا بھی تھا اور شہر کے ساحلی علاقوں سے زیادہ ٹھنڈا بھی۔ یہ بنگلہ اس نے کئی بیٹوں کو دھیان میں رکھ کر بنوایا تھا۔ ایک بڑا وسیع بنگلہ، رین ٹری کے مانند مضبوط۔

بنگلے کے سامنے والے حصے نے زمین کی چوڑائی کا تقریباً تین چوتھائی حصہ گھیر رکھا تھا۔ نچلی اور بالائی منزل میں چار چار دریچے تھے۔ بنگلے کی ڈیوڑھی ایک چوبی پیش دہلیز تھی۔ بالائی منزل استعمال نہیں ہوتی تھی، اس کے زینوں کو اس نے تختے جڑوا کر بند کروا دیا تھا۔ پچھلے دنوں جب اس نے بجلی کی وائرنگ دوبارہ کروائی تھی تو کاریگروں کو اوپر جانے نہیں دیا تھا۔ بعض اوقات راتوں کو بالائی منزل پر بلیوں کی بھدبھد اس کو سنائی دیتی۔ کنکریٹ کی پختہ روش، اونچی باڑ، آزو بازو اور پشت پر جست کے تاروں کا جنگلہ اور بھاری پھاٹک تازہ اضافے تھے۔

جب وہ ڈیوڑھی کے قریب پہنچا تو قریبی کھڑکی کا گلابی چھینٹ والا پردہ یوں ہلا جیسے ہوا نے اسے ہلا دیا ہو۔ قدم روک کر اس نے آنکھیں سکیڑیں تو اس کو پردے کے پیچھے کسی کی جھلک محسوس ہوئی۔ اس نے پورچ کی ٹھنڈک میں سنبھل کر قدم رکھا اور پھر دہلیز پر بیٹھ کر اپنے جوتے کھولنے لگا۔ ہُو کا عالم تھا۔

’’کون؟ تم ہو کیا؟‘‘ وہ اپنی آواز کو قابو میں رکھتے ہوے پکارا۔
کوئی جواب نہ آیا۔
اس نے پھر پوچھا، ’’کون ہے؟‘‘ پھر اس نے نئی ملازمہ آہ نوئی کا ہیولا ہال کے اندھیرے میں چلتا ہوا پہچانا۔
’’تم اکیلی ہو کیا؟‘‘ اس نے اپنی آواز جھلّاہٹ سے پاک رکھنے کی کوشش کی۔

لڑکی نے اقرار میں اپنی مُنڈی زور سے ہلائی اور منھ پھیر لیا۔ وہ جو اپنی بالی عمر میں تھی اور دھوپ سے سنولائی ہوئی بھی تھی، اپنے کندھے لٹکائے کھڑکی کے قریب کھڑی تھی۔ اس کے بشرے سے گھبراہٹ عیاں تھی۔ اس نے کس کے پردے کو تھام لیا اور اپنے بدن میں دوڑتی کپکپی کو روکنے کی کوشش کی۔

’’کیا ابھی کھڑکی میں سے تم جھانک رہی تھیں؟‘‘ اس نے اپنی درشتی پر تاسف کرتے ہوے بہت نرم لہجے میں پوچھا۔ یوں پردے کو لمبے بے تکے ہاتھ سے تھامے وہ اپنے بسنتی جوڑے میں بہت الھڑ لگ رہی تھی۔ جوں ہی لڑکی نے اپنے قدم بدلے، پردے میں سے روشنی در آئی اور اس کے نوخیز سینے کو چھونے لگی— اس نے فوراً ہی اپنی نظر ہٹا لی۔ اس کی پوروں کے سروں پر سنسناہٹ کچھ اس طرح ہونے لگی جیسے اس نے دن کی پہلی سگریٹ پی ہو۔ اس نے اپنے داہنے ہاتھ کو جنبش دی اور جیب میں کھسے قلم کا کلپ درست کرنے کا ڈھونگ رچایا۔ خود کو سخت گیر ظاہر کرتے ہوے اس نے درشتی سے کہا، ’’تم جا سکتی ہو، اور آئندہ جھانکنا مت۔‘‘ وہ ہال پار کر کے گیا اور پنکھے کا بٹن کھول دیا۔

مگر وہ اس پر نظریں جمائے اسی جگہ کھڑی رہی۔ اس کے دہانے کے کنارے ایسے کپکپائے جیسے وہ کچھ کہنا چاہتی ہو۔ دھوپ سرک کر اب اس کی گردن پر آ گئی تھی اور اس کے کان کے نیچے واقع اس مسّے کو تپا رہی تھی جو سیاہ نہیں تھا بلکہ منّے سے تازہ زخم کی طرح سرخ تھا۔ وہ ہچکچائی اور پھر اس نے ایک دم پردہ چھوڑا اور سر جھکائے جھکائے چل دی۔ ہال کے پرلے سرے پر سبز دروازے کے پاس سے جب وہ گزری تو اس کے قدم تیز ہو گئے اور پھر وہ بنگلے کے پچھواڑے نگاہوں سے اوجھل ہو گئی۔ کنگ منگ کی نظروں نے ہال میں اس کی چال کا تعاقب کیا اور پھر اس کی نگاہیں پلٹ کر سبز دروازے پر ٹک گئیں۔ وہ بند تھا۔

جب وہ چلی گئی تو یہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اپنا بایاں ہاتھ اس نے گود میں اس طرح رکھ لیا کہ وہ گھڑی پر نظر رکھ سکے۔ پنکھے کی ہوا نے اس کو ٹھنڈک پہنچائی۔ کچھ دیر بعد اس نے قمیص اتاری اور دبے پاؤں چلتا اپنے کمرے میں گھس گیا جو کہ پچھواڑے کی طرف جانے والی راہداری کے دوسرے سرے پر تھا۔ اس نے اپنی وارڈروب کھولی اور اپنے کپڑوں کو چھوا، ان کے کرارے پن کو محسوس کیا۔ قمیص اٹھا کر اس نے اپنی ناک سے لگائی اور پاک صاف سُوت کی مہک کو سونگھا۔ اس لڑکی نے کتنی عمدگی سے اس کے کپڑے استری کیے تھے۔ کتنے افسوس کی بات تھی کہ اس کا اپنا لباس ہمیشہ میلا اور جسامت سے ایک سائز بڑا نظر آتا تھا۔ اس نے سوچا کہ آیا وہ اس کو کچھ نئے جوڑے خرید دے۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے جب اس کی نظر اس پر پڑی تھی تو پہلی نظر میں وہ کتنی سہمی ہوئی نظر آ رہی تھی، مگر اس کے اس خوفزدہ بشرے میں بھی کوئی بات ایسی تھی جو اس کو دوسروں سے ممتاز کرتی تھی۔ اگر وہ کلی ہوتی تو وہ اس کو پروان چڑھاتا اور اس کے کھل اٹھنے کا انتظار کرتا، اور جو کہیں وہ اس کی اپنی بیٹی ہو سکتی تو وہ کتنا فخر محسوس کرتا۔ لیکن جب بھی اس سے لباس کے بارے میں پوچھنے کا اسے خیال آتا، ایک احساسِ گناہ اس کے حواس پر غالب آ جاتا اور وہ ایک لفظ بھی نہ بول پاتا، گو اس کا ارادہ ہمیشہ اس پر شفقت کرنے کا ہی ہوتا۔

کرسی کھڑکی کے قریب گھسیٹ کر اور کھڑکی کے شیشے پر سر ٹکا کر بیٹھا وہ اپنے کمرے میں سے باورچی خانے میں جھانکنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک سگریٹ وہ پھونک چکا تھا اور دوسری جلانے والا تھا کہ اس کی نظر گھڑی پر پڑی۔ وہ چونک کر اٹھ کھڑا ہوا اور کمرے سے نکل کر باورچی خانے میں گیا۔ وہ وہاں نہیں تھی۔ ریفریجریٹر میں سے اس نے ٹھنڈا پانی لے کر ایک جگ میں انڈیلا اور سبز دروازے تک لے کر آیا۔ آہستہ سے اس نے چابیوں کا گچھا نکالا اور دروازے سے کان لگائے کھڑا رہا۔ چھوٹی سوئی چھ پر تھی۔ اس نے توقف کیا، یہاں تک کہ بڑی سوئی لرزتی ہوئی بارہ پر آ گئی۔ پھر اس نے دروازے کو چابی لگائی اور دھیمے سے دروازہ تھوڑا کھول دیا۔

اس کمرے کی تمام کھڑکیاں بند تھیں۔ دروازے میں کھڑے کھڑے اس نے کونے میں لگے ایک بستر پر نظر ڈالی۔ وہاں کوئی جنبش نہیں تھی۔ پنجوں کے بل کمرہ پار کرکے اس نے آہستہ آہستہ جھلملی کی ڈوری کھینچی۔ کمرہ روشن ہو گیا۔ وہ تن کر سیدھا ہوا، چل کر پلنگ تک آیا اور اس کی پٹی پر کولھا ٹکا کر بیٹھ گیا اور اپنی بیوی کو تکنے لگا۔

وہ چت پڑی تھی اور باقاعدگی سے سانس لے رہی تھی۔ جونہی اس کے وزن سے پلنگ دبا، وہ کسمسائی اور اپنے ٹخنے ایک دوسرے پر رکھ لیے۔ ہلکی روشنی میں اس کا چہرہ چھوٹا سا دکھائی دیتا تھا، سُتا ہوا، جھرّیوں سے بھرا جنھوں نے اس کے رخساروں پر چھوٹے چھوٹے سفید کھرونچوں کی سِیون سی بنا دی تھی۔ اس کی آنکھیں پوری طرح بند نہیں تھیں، ان کی ہلالی درزوں میں سے وہ اس کے ڈھیلوں کو حرکت کرتے اور اس کے سوجے ہوے بیضوی پپوٹوں کو پھڑکاتے دیکھ سکتا تھا۔ بال اس کے سفید تھے، بس اطراف میں کہیں کہیں سیاہ پٹیاں سی تھیں۔ اس کی تازہ جھریوں کو یوں بیٹھ کر تلاش کرنا کچھ عجیب سا عمل تھا۔

کولھے کے پٹھے دُکھنے لگے تو اس کو پہلو بدلنا پڑا۔ اس ہل جل نے اس کی بیوی کو بےچین کر دیا۔ اس نے اپنی آنکھیں کھولیں، پتلیوں کو نچایا اور ایک ہلکی سی کراہ کے ساتھ کروٹ لے لی اور خود ایک گولے کی طرح گڑی مڑی ہو گئی۔ اس کے سارونگ نے اوپر کی طرف کھسک کر اس کی ٹانگوں کو ننگا کر دیا جو لیموں کی طرح زرد اور کسی نہ کسی حد تک اب بھی کسی کسائی دکھائی دیتی تھیں۔ اس نے آہستہ آہستہ اپنی انگلیاں ان پر پھیریں تاکہ اُن بیتے ہوے ابتدائی ایام کو یاد کر سکے۔ یقیناً اس کے ناخنوں نے ان پر خراشیں ڈال دی ہوں گی کیونکہ اس نے پیر زور سے جھٹکے اور اپنا ہاتھ منھ پر رکھ کر ہانپنے لگی۔ پہلی نظر میں وہ اس کو پہچان نہ سکی تھی اور وحشت زدہ سی گھورے جا رہی تھی۔

’’کیا میں نے تم کو پریشان کر دیا؟‘‘ وہ اس پر جھکا اور اس کا ہاتھ منھ پر سے ہٹایا۔ ’’آئی ایم سوری۔‘‘ اس کی بیوی نے اسے دیکھنے کے لیے خود کو اٹھا لیا۔ ’’نہیں نہیں، اٹھو مت، سو جاؤ، میں ہوں یہاں پر،‘‘ وہ پھڑکتے ہونٹوں سے مسکرایا۔

جماہی لیتے ہوے اور پیر پھیلاتے ہوے وہ تکیے پر گر گئی۔ بستر پر پَسر جانے کے بعد وہ سیدھی چھت کو تکنے لگی اور نچلے ہونٹ کو اندر دبا کر زور سے چبانے لگی۔اس نے تیزی سے اپنا ہاتھ بڑھایا لیکن قبل اس کے کہ وہ اس کو چھوتا، اس نے اپنا ہونٹ چھوڑ دیا جو اُچک کر بہت گلابی سا ہو کر باہر نکل آیا۔ خود کو اپنی کہنیوں کے بل اٹھا کر اس کی بیوی نے اس کے چہرے کو دوبارہ غور سے دیکھا اور ایک ہاتھ سے اس کا ڈھیلا گریبان پکڑ لیا۔ وہ تنی ہوئی مسکراہٹ لیے دم سادھے بیٹھا رہا۔

’’پانی، پانی، مجھے پانی چاہیے۔‘‘ اس کی آواز میں شناسائی کا کوئی شائبہ نہ تھا۔

’’اچھا، اچھا، تم لیٹ جاؤ، میں تمھارے لیے پانی لاتا ہوں۔‘‘ ٹھڈّی سے اٹھتی ہوئی لرزش کو دباتے ہوے اس نے نرمی سے اپنی قمیص اس کے ہاتھ سے چھڑائی اور مسکراہٹ اپنے چہرے پر جما لی۔ اس کا ہاتھ لگتے ہی اس کی بیوی نے اپنا منھ گھما لیا۔ رخسار کی ہڈی باہر کو ابھر آئی جس نے اس کی گردن کی شکنوں کو سپاٹ کر کے غائب کر دیا۔

دروازہ کھلا چھوڑ کر جب وہ جگ اور پلاسٹک کا پیالہ لے کر لوٹا تو اس کو اسی حالت میں پایا۔ یہ طے کرتے ہوے کہ وہ اب اس کو ہاتھ نہیں لگائے گا، اس نے بیوی کو دبی آواز سے پکارا، ’’دیکھو میں پانی لے آیا۔ لو پی لو۔‘‘

دونوں ہاتھوں سے پیالہ تھام کر اور اپنی ناک کے بانسے سے اس کی کگر ملا کر وہ آہستہ آہستہ پانی پینے لگی۔ کچھ دیر بعد اس کا دم رکنے لگا اور پانی اس کے رخساروں پر بہنے لگا۔ وہ پیالے کو پچکانے لگی۔ اپنے فیصلے کو فراموش کرتے ہوے اس نے پیالہ اس کے ہاتھ سے چھین لینا چاہا۔ جیسے ہی اس نے اسے ہاتھ لگایا، وہ زور سے چیخی اور اپنا سر جھٹکا۔ پانی چھلک گیا اور اس کے بلاؤز پر سامنے گیلی دھاریاں بن گئیں۔ فوراً ہی اس نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا اور کھڑا ہو گیا اور اپنی دکھاوٹی مسکراہٹ لیے اسے دیکھنے لگا۔ اس نے اپنی مٹھیاں کس کر اپنی رانوں کے اطراف گاڑ لیں۔ کافی دیر تک وہ اپنی سانس روکے رہا۔ اس بار اس کی چیخ بھلا کتنی دور تک گئی ہو گی؟ کتنی دور؟ دیکھتے دیکھتے پورے گھر پر سناٹا چھا گیا۔ ملازمہ اب کہاں دبکی بیٹھی ہو گی بھلا؟ تلخی کی ایک لہر نے اس کے خیالات کو منتشر کر دیا۔ اس کی کنپٹیاں لپکنے لگیں۔ کیا اس نے کافی خمیازہ نہیں بھگت لیا تھا؟ ایک ایسی بات کے لیے جو وہ کبھی نہیں چاہتا تھا کہ ہو۔ اس کے جسم میں ٹھنڈے غصے کی ایک لہر دوڑ گئی۔ مگر ہمیشہ کی طرح خود کو اس کے سامنے یوں کھڑے دیکھ کر اس نے اپنے آپ کو بہت بےبس محسوس کیا۔ اور جیسے ہی وہ ذرا پرسکون ہوا، ایک نئے طرز کی کوفت اور حقارت اس کے حلق میں مثل کڑواہٹ کے باقی رہ گئی۔ اس نے اس عجیب ذائقے کو محسوس کیا اور پھر اسی راضی برضا والی کیفیت نے اس کے جسم پر طاری ہو کر اس کی ہڈیوں کو کچھ اور نرم اور عضلات کو کچھ اور کمزور کر دیا۔ سب کچھ اتنا مایوس کن اور بےکیف لگ رہا تھا۔ دونوں کی عمر تھوڑی سی باقی رہ گئی تھی۔ جو وہ یہاں تک جھیل لے جا سکتا تھا تو اب چند روز اور مزید کچھ بگاڑ نہیں سکتے تھے۔ اس کو اپنی بیوی کی خبرگیری تو کرنا ہی تھی کہ اس کے سوا اب اس کا تھا بھی کون۔
اس کے ہاتھ سے پیالہ چھین لینا ایک غلطی تھی۔ ہاں، اس کی غلطی ہی تھی۔ اس نے اپنی مٹھیاں کھولیں تو اس کے کندھے لٹک گئے۔ اب وہ اس کو ٹھیک طرح دیکھ سکتا تھا۔ حیرت سی حیرت! اس کا چہرہ کتنا سُت گیا تھا، بس ہڈیاں ہی نکلی رہ گئی تھیں۔ ایک سہ پہر کو جب وہ دفتر لنچ بریک کے بعد معمول سے ذرا پہلے پہنچ گیا تھا تو چھوٹے اسٹور روم کے پاس سے گزرتے ہوے اس کے کان میں یہ بات پڑی تھی کہ عورت جب بوڑھاتی ہے تو کون سا حصہ پہلے مرجھاتا ہے۔ ایک جملہ اس کے ذہن میں اٹک گیا تھا، ’’میری خالہ بولتی ہیں۔۔۔۔‘‘ ایک تیکھی سی آواز سنائی دی تھی جو ہنسی ضبط کرتے ہوے تھوڑے توقف کے بعد بولی تھی ’’کہ جب عورت بوڑھی ہونے لگتی ہے تو مکھڑے سے چل کر نیچے کو سوکھنا شروع ہوتی ہے۔ کیونکہ ہم تو نیچے کی طرف بہت بعد میں بڑھتے ہیں نا۔‘‘ اور ہنسی کے فوارے کھلکھلاہٹ سمیت ابل پڑے تھے اور وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا تھا۔

اس کی بیوی تکیے پر سر ٹکائے یوں چپ چاپ پڑی تھی جیسے اس چیخ نے اسے نڈھال کر دیا ہو۔ وہ اپنی لٹوں کو اپنی چھنگلیا کے گرد لپیٹنے لگی، دھیرے دھیرے اور سنبھل سنبھل کر، اور ساتھ ہی وہ جَھرجَھری آواز میں گنگنانے لگی۔ کمرے میں دھوپ نے جگہ بدل لی تھی اور روشنی کا ایک بڑا سا قطعہ اس کے بلاؤز پر بلّی کی طرح لیٹا اس کی جھریوں بھری خشک گردن کو چاٹ رہا تھا۔ گزشتہ پانچ برسوں میں وہ دیکھتے دیکھتے کتنی بوڑھی ہو گئی تھی۔ کیا یہ کسی اندرونی ناسور کے زیراثر خون بہہ جانے کے سبب ہوا تھا کہ جس نے اس کے گوشت کی ساری نمی چوس لی تھی؟ سنگاپور یونیورسٹی کے طب کے استاد نے اس کا معائنہ کیا تھا اور وہ اس میں کوئی جسمانی آزار دریافت نہ کر سکا تھا۔ بیوی کے بارے میں اس نے پروفیسر سے اس وقت بات کی تھی جب وہ سامنے کوچ پر مصنوعی نیند کے غلبے میں بےحس پڑی تھی۔ اور واپسی کے سفر میں وہ اپنی سیٹ پر اس وقت تک غافل بیٹھی رہی تھی جب تک کہ نوجوان مردوں اور عورتوں کا ایک غول جشن آزادی کی خوشیوں سے سرشار، غل مچاتا، ڈبے میں داخل نہ ہوا تھا۔ اس نے بےچینی سے پہلو بدلا اور اپنے چہرے کے بائیں حصے پر یوں ہاتھ مارنے لگی جیسے اس پر مکھیاں آبیٹھی ہوں۔ بہرحال وہ خود اس موج اڑاتے غول کو دیکھ کر برانگیختہ ہو گیا تھا، خاص طور پر ان نوجوان لڑکیوں کو دیکھ کر جو اپنی اونچی اونچی اسکرٹس میں بہت اطمینان اور یقین سے راہداری میں چل رہی تھیں اور ان کے پسینے میں نہائے چہرے اس گرم دوپہر میں بہت چونچال لگ رہے تھے۔ جب وہ اس کے لیے پانی لینے باہر گیا تھا تو اسے نوجوان لڑکیوں کے اس ہجوم میں اپنا راستہ بنانے کے لیے دھکاپیل کرنا پڑی تھی اور جب اس کی رانوں نے ان کے پٹھوں سے رگڑ کھائی تو اس کی ناک میں ان کی جوان مہک پہنچی تھی اور اس کے رگ و پے میں خون تیزی سے دوڑنے لگا تھا جس نے اسے بے دم کردیا تھا۔ واپسی پر اس کی بیوی نے غالباً اس کی جولانی کو بھانپ لیا تھا کیونکہ وہ اکڑ کر بیٹھ گئی تھی اور اس نے پیٹھ پھیر کر پانی لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے رومال احتیاط سے نکالا تھا اور بیوی سے چھپا کر ایک گولہ سا بنا کر اپنی مٹھی میں دبا لیا تھا اور اس کے چیخنے کا انتظار کرنے لگا تھا۔ جس کے بجاے اس نے اپنے بال کھول ڈالے اور لٹیں اپنی انگلیوں میں لپیٹ کر انھیں اپنے منھ کے سامنے مثل پروں کے پھیلا لیا تھا۔ جب وہ لڑکیاں اِدھر سے گزریں تو یہ منظر دیکھ کر کھلکھلائی تھیں اور اس کو بہت غصہ آیا تھا۔

اس کو بستر پر لیٹے لیٹے، بالوں سے کھیلتے اور انگلیوں کو بار بار حرکت دیتے دیکھ کر وہ بڑی تھکن محسوس کرنے لگا۔ اس کی ٹھڈّی دکھنے لگی اور درد مٹانے کے لیے اس نے اپنی ریڑھ دوہری کر لی۔ کاش کہ وہ چند ساعت سر ٹکا کر جھپکی لے سکتا، بن سوچے رہ سکتا۔ مرد سب سے پہلے کہاں سے سکڑتا ہے؟

اس خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوے وہ بولا، ’’آؤ، باہر باغیچے میں چلیں۔ الامینڈر کھِلے ہوے ہیں، چلو۔‘‘ اس کو کمرے سے لازماً نکالنا چاہیے۔ ان لڑکیوں کے تصور نے کنگ منگ کو گڑبڑا دیا تھا۔

لیکن وہ سنی اَن سنی کر رہی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں موند لی تھیں اور کمبل کے ایک کونے کو باربار مروڑے جا رہی تھی جیسے اس سے چھوٹی چھوٹی گیندیں بنا رہی ہو۔

’’آؤ چلو،‘‘ اس نے منت کی، ’’الامینڈر سچ مچ اتنے پیارے سے اجلے اجلے، پیلے پیلے ہیں۔‘‘ اس نے لمبی سانس کھینچی۔ کمرہ جوان جسموں کی مہک سے پٹا معلوم ہوا۔ ایک خطاکار کی طرح اس نے چونک کر اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔ مگر وہ اب بھی اپنا کمبل مروڑے جا رہی تھی۔
’’ارے بھئی چلو نا،‘‘ اس نے اپنی قوتِ برداشت پر تعجب کیا۔ بیوی نے کمبل چھوڑ دیا اور اس کا ہاتھ بالوں کی طرف اٹھ گیا۔

’’چلو گی نا؟‘‘ اس کی آواز میں تناؤ پیدا ہو گیا۔ اس کو دیکھتے ہوے اسے خیال آیا کہ خوابیدہ نفرتوں کے اس مستقل نقاب کے باعث وہ کتنی مسخ ہو چکی تھی۔ ایک درگزر نہ کرنے والا انتقامی کینہ اس پر مسلط تھا اور کسی بھی لمحے اس کے خدوخال بگڑ سکتے تھے۔ اس بارے میں سوچتے ہوے ایک خیال اس کے ذہن میں آیا اور جتنا جتنا اس نے سوچا اتنا ہی اس کا جوش بڑھتا گیا۔ اب اس کو کمرے سے باہر لے جانا لازم ہو گیا تھا۔ اس نے گھڑی پر نظر ڈالی۔ ابھی بھی کافی وقت تھا۔ لیکن پہلے اس کو پرسکون کرنا ضروری تھا۔ اس کی وحشت کو دور کرنا تھا۔

’’اچھا تو بھئی،‘‘ وہ بولا، ’’تمھیں اپنے بالوں کی اتنی فکر ہے تو میں تم کو برش لا دیتا ہوں، پھر تم پیاری لگو گی۔‘‘ اس کہنے کا اس عمل سے کوئی تعلق نہیں تھا جو وہ کر رہی تھی۔ بس وہ تجربے سے یہ جان چکا تھا کہ اس کے سامنے کچھ بھی بول دینا اس کی توجہ مبذول کر لیتا تھا۔ اس کا خیال غلط نہیں تھا۔

جب کہ وہ یہ کہہ رہا تھا، اس کی بیوی نے پھرتی سے اپنے ہاتھ میں اپنا منھ چھپا لیا اور ایک پراسرار مسکراہٹ اس کے گالوں پر آنکھوں کے کناروں تک پھیل گئی۔ ایک دبی دبی سی ہنسی پھوٹی اور گزر گئی۔ برسوں پہلے جب وہ اس کو پہلی مرتبہ ایک مشترک پارٹی میں لے گیا تھا تو لوٹتے وقت کسی بیوقوف انگریز نے ملائی زبان میں اس کی ستائش کی تھی اور وہ ایک دم ٹھٹک کر اور گردن اٹھا کر بھونچکّا سی ایسے دیکھنے لگی تھی جیسے کہ اب کیا کرے۔ اُس وقت بھی اس نے اچانک اپنا ہاتھ اٹھا کر رومال سے منھ چھپا لیا تھا اور ہنسنے لگی تھی جس پر کنگ منگ نے شرمندگی محسوس کی تھی۔ ویسا ہی احساس اس پر اس وقت بھی طاری ہوا۔ بس صرف اس کے کنارے چپچپی نفرت اور حقارت سے سنے ہوے تھے، پھربھی اس نے تنی ہوئی مسکراہٹ اپنے چہرے پر برقرار رکھی۔ بیوی نے ہامی میں سر ہلا دیا۔

اس کو وہیں چھوڑ کر وہ کمرے کے دوسرے سرے پر رکھی ڈریسنگ ٹیبل تک گیا، جھکا اور برش کی تلاش میں درازیں کھکھوڑنے لگا۔ آئینہ نکال دیا گیا تھا۔ ایک دن وہ لوٹتے میں ہوٹل پر رک جانے کی وجہ سے گھر دیر سے پہنچا تو اس کو آئینے کے سامنے اس طرح کھڑے پایا تھا کہ اس کا ایک ہاتھ بےطرح کٹ گیا تھا، خون بہہ رہا تھا اور آئینے کی کرچیاں فرش پر بکھری پڑی تھیں۔ بہلا پھسلا کر اس کو بستر تک واپس لانے میں اسے کافی وقت لگا تھا اور جب ڈاکٹر نے اسے خواب آور دوا دے دی تھی تو وہ کرسی پر بیٹھا رہا تھا اور اس کی تیمارداری کرتا رہا تھا۔ تب ہی اس نے فیصلہ کیا تھا کہ لوٹتے ہوے کبھی ہوٹل پر نہیں رکے گا۔ یہ اس کی ایک اور غلطی تھی۔

’’مل گیا،‘‘ وہ برش دکھاتے ہوے جیسے ہی مڑا، اس کی نمائشی مسکراہٹ اس کے چہرے سے جاتی رہی۔ وہ اپنے بستر پر نہیں تھی۔ وہ تیزی سے بستر کی طرف لپکا اور گھٹنوں کے بل جھک کر پلنگ کے نیچے دیکھنے لگا۔ خون اس کے سر کی جانب چڑھ گیا اور وہ بڑی دقت سے کھڑا ہو سکا۔ آنکھیں موند کر سہارے کے لیے اس نے پلنگ کی پٹی پکڑ لی، یہاں تک کہ چکر کا اثر جاتا رہا۔ وہ کتنا بیوقوف تھا کہ اس نے دروازہ بند نہیں کیا تھا۔

جیسے ہی وہ کھڑا ہوا تو دروازے تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ تھوڑا سا لڑکھڑایا۔ اس نے اپنا سر آہستہ سے باہر نکالا اور خفیف سی بھی حرکت کی سن گن لینے لگا۔ دل ہی دل میں دعا مانگتا رہا کہ اس شام اتنی جلدی اس کو ہسیٹریائی دورہ نہ پڑے۔ وہ اپنی سانس روکے رہا تو تھوک اس کے منھ میں جمع ہو گیا۔ جوں ہی اس کو یقین ہوا کہ اس کی بیوی ہال میں نہیں ہے، وہ کمرے سے باہر آیا اور دروازہ بند کرنے کا خیال رکھا۔ پنجوں کے بل رینگتا وہ باورچی خانے کی طرف ہو لیا۔

جس وقت وہ داخل ہوا، آہ نوئی پھسکڑا مارے ترکاری کاٹنے میں منہمک تھی۔ اس کی طرف اس کی پیٹھ تھی۔ جب اس نے دیکھا کہ اس کا پیندا کس قدر کَس کے اس کے بسنتی پجامے پر دباؤ ڈالے ہوے تھا تو ہلکی سی جھنجھناہٹ اس کی رانوں میں دوڑ گئی۔ شاید اس نے بھی محسوس کر لیا کہ وہ وہاں اکیلی نہیں کیونکہ وہ ایک دم گھبرائی سی آواز نکال کر پلٹی اور چاقو اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر تختے پر گر پڑا۔ خود کو تنبیہ کرتے ہوے کہ وہ پرسکون رہے گا، وہ ایسا بن کر باورچی خانے میں ہر طرف نظر دوڑانے لگا جیسے کہ اس نے اسے دیکھا ہی نہیں، اور پھر خاموشی سے واپس پلٹ کر باغیچے کی طرف نکل گیا۔

جب وحشت کے ابتدائی آثار نمودار ہوے تو خوش بختی ہی سمجھیے کہ بنگلے کے تینوں اطراف جست کے تاروں کا اونچا جنگلہ لگوا کر وہ احتیاط اختیار کر چکا تھا۔ سامنے والی باڑ گھنی تھی اور وہ شمار ہی نہیں رکھ سکا تھا کہ اس کو اس کی خاطر کَے گاڑی گوبر استعمال کرنا پڑا تھا۔ مگر موجودہ چوبی پھاٹک لگنے سے قبل ایک چھوٹا سا جھولنے والا دروازہ تھا جس میں کنڈی لگی تھی اور جو آسانی سے کھولی جا سکتی تھی۔ ایک شام وہ یہ جھولنے والا دروازہ کھلا چھوڑ کر غائب ہو گئی تھی۔ ڈھونڈنے والے پہاڑی کی ڈھلانوں پر چاروں اطراف پھیل گئے تھے اور کچھ وقت تک اس نے اس بڑے رین ٹری کی طرف اشارہ کرنے سے گریز کیا تھا جس کی ایک موٹی سی ٹیڑھی میڑھی ڈال ایک ضخیم پتھریلی چٹان پر جھکی رہتی تھی۔ مگر جب وہ ان لوگوں کو کہیں نہ ملی تھی تو پھر اس نے ان کو اس پیڑ کا بتایا تھا اور خود تھکن کا بہانہ کر کے ایک گِرے ڈالے پر بیٹھ گیا تھا جبکہ وہ سب اپنی ٹارچیں لیے اس طرف بڑھ گئے تھے۔ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہو گئے تھے، اس نے ان کے قدموں کو گنا تھا۔ بڑے نعرے بلند ہوے جب ان لوگوں نے اس کو پتھریلی چٹان پر کھڑے کھڑے ہاتھ اٹھا کر اس جھکے ہوے ٹیڑھے میڑھے ڈالے کو پکڑنے کی کوشش کرتے دیکھ لیا تھا، اور جب وہ لوگ اس کو لے کر اس کے پاس آئے تھے تب بھی اس نے چیخنا چلّانا بند نہیں کیا تھا اور وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پاتے ہوے وہیں ان لوگوں کے سامنے اس سے لپٹ کر رو پڑا تھا۔ یہ کئی برس پہلے ہوا تھا۔

چوبی پھاٹک اب مٹیالا ہو چکا تھا، اور اس کے جوڑ کی درزوں میں سبز کائی جم چکی تھی۔ ایک نظر میں اس نے دیکھ لیا کہ وہ بند تھا، اس لیے وہ پورچ میں ہی کھڑا رہا۔ باغیچے میں ایک سبز لان تھا جس میں اس نے سب سے بڑھیا گھاس جو وہ خرید سکتا تھا، لگوائی تھی۔ اس میں جگہ جگہ گھنی پتیوں سے ڈھکے، لذیذ پھلوں والے چھوٹے درخت لگے ہوے تھے۔ اجلے اجلے، پیلے الامینڈر اپنی بھوری پھلیوں سمیت پھاٹک کے قریب اگے ہوے تھے۔ پانچ قسم کے ہبسکس کے پودے اپنے سرخ چکنے پھول اٹھائے لان کے وسط میں لگے تھے۔ اس نے کناروں پر لال اینٹیں چنوائی تھیں۔ الامینڈر کے قریب ہی فرنجی پانی کا ٹیڑھا میڑھا درخت اپنی شاخوں کو اینٹوں کی حد سے بھی آگے پھیلائے وقفے وقفے سے اپنے پھولوں کے پیراشوٹ زمین پر بھیج رہا تھا۔ ہوا میں قدرے خشکی پیدا ہو گئی تھی اور دھوپ اب پیڑوں کی اوپری شاخوں پر پہنچ گئی تھی۔

’’نکل آؤ،‘‘ پیڑوں کی طرف مبہم انداز میں ہاتھ اٹھ کر اس نے بلند آواز سے کہا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے!‘‘ دم سادھ کر اس نے کن سوئیاں لیں۔ ’’تم بےایمانی کر رہی ہو،‘‘ وہ بولا، ’’میں نے تم کو دیکھ لیا ہے، اگر تم یہ کرو گی تو میں نہیں کھیلوں گا۔‘‘ پھر اس نے اپنا سر رک رک کر بائیں سے دائیں گھمایا اور آسمان کی طرف دیکھا جو غروبِ آفتاب کے باعث ہلکا بینگنی بلکہ تقریباً بھورا گلابی ہو رہا تھا۔ تھوک گٹکتے ہوے وہ چلّایا، ’’نکل آؤ!‘‘ اور پھر اس نے ظاہر کیا کہ جیسے وہ اندر جا رہا ہو۔ اس نے گھڑی پر تیزی سے ایک بےچین نظر ڈالی۔

اس کی آواز کی گونج ختم ہونے سے پہلے ہی اس کی بیوی کا قہقہہ لان کے سرے پر لگی ہبسکس کی جھاڑیوں کے پیچھے سے گونجا۔ وہ جھاڑیوں کو ہلاتی کھڑی ہو گئی۔ بال اس کے چہرے پر بکھرے ہوے تھے۔ مسکراہٹ سے تھوڑی دیر کے لیے چہرہ شکن آلود ہوا اور پھر وہی بیزاری لوٹ آئی۔ کناروں پر کھلے چھوٹے چھوٹے سرخ پھولوں کو توڑتے ہوے رکتا رکاتا وہ اس کی طرف گیا۔

’’شریر کہیں کی، تم پہلے کیوں نہیں نکلیں؟‘‘ اس نے پھول اس کے ہاتھوں میں پکڑا دیے، جن کو اس نے اونچا اٹھا لیا اور ان کی پنکھڑیوں کو وہ دونوں ہاتھوں سے مسلنے لگی۔ اس نے اپنی ہتھیلیوں پر لگے سرخ دھبوں کو دیکھا تو پھر سے قہقہہ لگایا۔ اس نے فوراً ہی جیب سے رومال گھسیٹا اور گھبرایا سا اس کے ہاتھ پونچھنے لگا۔ جس وقت وہ یہ کر رہا تھا تو اس نے کنکھیوں سے پورچ کے پاس والی کھڑکی کے پردے کے پیچھے تھوڑی سی حرکت دیکھی۔

’’آہ نوئی، آہ نوئی،‘‘ اس نے آواز دی، ’’ذرا چٹائی تو نکال لانا۔‘‘
سایہ پردے کے پاس سے ہٹ گیا۔

اور پھر وہ باہر آئی، روشن زرد کوندے کی طرح لپکتی، لپٹی چٹائی بغل میں دبائے اور اپنا سر جھکائے وہ ان کی طرف آئی۔ ان کے قریب پہنچ کر چٹائی اس نے زمین پر ڈال دی اور چپ چاپ کھڑی ہو گئی۔ اس کی بیوی نے ملازمہ کو گھورا اور بدبداتے ہوے مٹھیاں بھینچیں۔ لمحے بھر کو اسے اندیشہ ہوا کہ اس کی بیوی اس ملازمہ کو بھی اسی طرح کھدیڑ دے گی جس طرح وہ گزشتہ سال ایک اور ملازمہ کے ساتھ کر چکی تھی، مگر اس مرتبہ اس کی بیوی نے فقط تھوک دیا۔ ’’مجھے الھڑ چھوکریوں سے چڑ ہے، بڑی کتّی خصلت ہوتی ہیں،‘‘ وہ پھنکاری، مگر لڑکی ہلی تک نہیں۔ وہ جلدی سے بولا، ’’جاؤ، تم جا سکتی ہو۔‘‘ وہ اتنی جلدی کوئی ہنگامہ کھڑا کرنا نہیں چاہتا تھا۔ لڑکی جانے کو مڑی تو اس کی کمر کتنی پتلی دکھائی دی۔

’’آؤ یہاں بیٹھیں،‘‘ اس نے چٹائی گھاس پر بچھا دی۔ جاتی ہوئی لڑکی پر سے نظریں ہٹائے بغیر اس کی بیوی چٹائی پر تن کر بیٹھ گئی۔ اس کا چہرہ پھر دور کے خیالوں میں گم ہو گیا۔

اس نے اپنی جیب سے تاش کی وہ گڈی نکالی جو اس کی تلاش کے دوران اس نے میز پر سے اٹھا لی تھی۔ گڈی کے دو حصوں کو انگوٹھوں اور انگلیوں میں دبا کر اس نے بار بار پھریری دی۔ یہ کرتے دیکھ کر اس کی بیوی کے چہرے کا انداز بدل گیا۔ اس نے پتوں کو پھینٹا اور اس کے سامنے کھلے پتے ایک قطار میں جمانے لگا۔ وہ اس کے ہاتھوں کی حرکت کو دیکھتی رہی اور جب اس نے ہاتھ روکا تو بغیر کچھ کہے وہ جھکی اور اس نے غلام اٹھا لیا۔ اس نے گردن ہلائی اور مسکرایا۔ تین ماہ قبل وہ تاش کے پتے پہچان ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ ترکیب اسے ڈائجسٹ کے ایک مضمون سے سوجھی تھی۔ شہر کا کوئی بھی ڈاکٹر اس کے لیے سوا مسکّن دوائیں تجویز کرنے اور اس کو پرسکون رکھنے کا مشورہ دینے کے کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ جہاں تک اس پاگل خانے تن جونگ نائیر اسپتال کا تعلق تھا تو وہ تو ایک قیدخانہ تھا یا اس سے بھی بدتر۔ وہ اس کو وہاں تو کبھی نہیں بھیج سکتا، حالانکہ چند ڈاکٹر اس کی تصدیق کرنے کو تیار تھے۔ اس کے کچھ کاروباری دوستوں نے سمجھایا بھی تھا کہ آزادی ملنے کے بعد بڑی بڑی تبدیلیاں آئیں گی۔ تب سے وہ متعدد بار تن جونگ نائیر تبدیلیاں دیکھنے جا چکا تھا۔ گزشتہ چھ برسوں میں وہ کئی بار وہاں جا چکا تھا مگر ناامیدی کے سوا اسے کچھ نہ ملا تھا۔

پتے پھنٹے اور چابکدستی سے پرندوں کے پروں کی طرح دوبارہ چٹائی پر پھیلا دیے گئے۔ مگر اس بار اس نے ان کو چھوا تک نہیں۔ اس نے سر اٹھا کر بیوی کی طرف دیکھا۔ پپڑیاں جمے خشک بھورے ہونٹوں کو اندر باہر کرتے ہوے اس نے پھوپھو کرنا شروع کر دیا۔ پھولے ہوے غبارے اور پچکے ہوے جوف کی طرح گال پھولنے اور سکڑنے لگے۔ سوکھی ہوئی چام کے نیچے ہڈیاں اُبھر آئیں۔ دفتر میں اس لڑکی کا کہا ہوا جملہ اس کے ذہن میں کچوکے لگانے لگا، اور ایک صدمے کے ساتھ اسے احساس ہوا کہ وہ اس کی بیوی کے بارے میں ہی گفتگو کر رہی تھیں۔ یہ بات کان میں پڑنے سے چند روز پہلے وہ ایک جوان عورت کی طرح بنی ٹھنی اس کے دفتر آ دھمکی تھی اور جب اس نے اس کی آنکھوں میں جھانکا تھا تو اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ دورے کی حالت میں تھی۔ اس کو ٹھنڈا کرنے کے بعد ہی وہ اس کو اپنے کمرے سے باہر لایا تھا۔ وہ ایک ایسی بےکیف گرم سہ پہر تھی جب ہر ایک اکھڑا اکھڑا اپنی ڈیسک پر بیٹھا وقت گزر جانے کا منتظر تھا۔ اس کی بغلوں میں پسینہ بہہ رہا تھا۔ جب وہ دفتر میں سے گزر رہے تھے تو اس کی بیوی ہاتھ چھڑا کر ایک لڑکی کی طرف لپکی تھی اور اس کے گال پر تھپڑ جڑ دیا تھا۔ لڑکی نے سسکی بھر کر کھڑے ہونے کی کوشش کی تھی مگر اس کی بیوی نے ٹہوکا دے کر اسے دھکیل دیا تھا اور چیخ چیخ کر اس کا سینہ نوچنے لگی تھی۔ ’’بیہودہ! بیہودہ!‘‘ سب لوگ دم بخود دیکھتے رہ گئے تھے۔ چپراسی کی مدد سے وہ اس کو دفتر سے باہر لایا تھا۔ اس سہ پہر وہ پھر لوٹ کر دفتر نہیں گیا تھا۔

’’اچھا، بادشاہ اٹھاؤ،‘‘ اس نے اپنے جذبات قابو میں رکھتے ہوے کہا۔ اس کی بیوی پھونکیں مارتی رہی۔ اس کے گلے میں کچھ پھنسنے لگا اور اس کی آواز بیٹھ سی گئی۔ دفتر میں ہونے والے اس واقعے کی یاد نے اس کی تلخی میں اضافہ کر دیا۔

شاید اس تبدیلی کو اس نے محسوس کرلیا اور یک لخت پھونکنا بند کر دیا۔ اس کے بشرے پر تکان کا اثر نمایاں ہو گیا۔ اس کی آنکھیں گمبھیر ہو کر جھٹپٹے میں چمکنے لگیں۔ اس کا دایاں ہاتھ کانپا اور وہ بار بار اپنی انگلیاں کھولنے اور بند کرنے لگی۔ وہ بالکل چپ بیٹھی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ اب وہ روئے گی یا اس پر چیخے گی۔

’’چلو اٹھاؤ،‘‘ اپنی آواز اور بھینچ کر اور اپنی تلخی کا مزہ لیتے ہوے اس نے اصرار کیا۔

اس کے بائیں رخسار کے عضلات جھٹکا لے کر پھڑکے اور جب اس نے گھبرا کر اپنا داہنا ہاتھ پھیلایا تو ساتھ ہی اس کو ٹکٹکی باندھ کر گھورنے لگی۔ اس کو گھورتے جو دیکھا تو اس نے اپنا سر ساکت رکھ کر اس کے آر پار دیکھنے والی ترکیب استعمال کی۔ اس بار اس نے ہتھیار ڈال دیے، اپنا سر جھکا کر اس نے اپنا ہاتھ پتوں کے عین اوپر ٹھہرا لیا۔ اچانک اس سکوت کو پہاڑی کی طرف اڑ کر جاتے ہوے ایک زرد پرندے کی سریلی آواز نے توڑ دیا۔ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور سر اٹھا کر پرندے کی اڑان دیکھنے لگی۔ جب اس نے پرندے کی اڑان کا رخ یہ دیکھا کہ وہ بڑے درختوں کی جانب لپک رہا تھا تو اس کے چہرے پر ہیبت چھانے لگی۔

’’یہ دیکھو۔۔۔‘‘ اس نے اس کی توجہ ہٹانے کے لیے کہا کیونکہ وہ بھی دیکھ چکا تھا کہ پرندے کی منزل کدھر تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات مکمل کرتا، اس نے ہاتھ مار کر تاش چٹائی پر تتر بتر کردیے اور دونوں مٹھیوں سے گھاس پیٹ پیٹ کر بین کرنے لگی۔

’’کوئی بات نہیں، روؤ مت، کوئی بات نہیں!‘‘ اس کی تلخی کافور ہو گئی۔ اس نے اس گھور غم کو محسوس کیا جس نے ان دونوں کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ یہ اس پر اتنا اچانک ٹوٹا تھا کہ اس نے اسے بالکل پست کر دیا تھا۔ ایک بار تو اس نے بھی حقیقتاً ندامت محسوس کی تھی۔ اس نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور کانپتا ہاتھ اس کے شانے پر رکھ دیا۔ وہ ایک دم پرسکون ہو گئی۔ ’’آؤ لیٹ جاؤ، تم کو زیادہ آرام ملے گا۔‘‘ جب تک پہاڑی نظر نہ آئے، اس کا سکون برقرار رہے گا۔

اس نے بغیر کسی مزاحمت کے اُسے لٹانے دیا۔ چٹائی پر پاؤں پھیلا کر اس نے اپنے بازو پیٹ پر رکھ لیے اور آسمان کو تکنے لگی۔ وہ اس سے باتیں کرنے لگا، چھوٹی چھوٹی باتیں جو وہ سننا پسند کرتی تھی، ساتھ ہی ساتھ اپنی آنکھیں بند کر کے انگلیوں سے اس کی پیشانی سہلاتا رہا۔ جب اس نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا کہ وہ سو چکی تھی۔ اندھیرا پھیل رہا تھا اور آسمان گہرا اُودا ہو چکا تھا اور اکادکا بدلیاں تیر رہی تھیں۔ ہوا رک گئی تھی، زمین اپنی گرمی کے نم بھپارے رہ رہ کر چھوڑ رہی تھی۔ سڑک پر کاریں تواتر سے اپنی آوازیں بکھیرتی گزر رہی تھیں۔ جب وہ قریب سے گزرتیں تو ان کے ہیڈ ماپ باڑھ پر روشنی کی چتیاں ڈالتے اور سیاہ پتیوں میں جگنو سے اڑاتے۔ پہاڑی کی ڈھلانیں مدھم ہوتے جھٹپٹے کو جذب کر رہی تھیں۔ جیسے جیسے رات کے سائے پھنگیوں کی جانب بڑھ رہے تھے، ویسے ویسے درختوں کی گوبھی نما چوٹیاں اوجھل ہوتی جا رہی تھیں۔ اور وہ زرد پرندہ غالباً کسی بڑے درخت کی جھولتی شاخ پر بسیرا کیے نیچے کالی چٹانوں کو دیکھ رہا ہو گا۔ شام کے دھندلکے میں فرنجی پانی کا پیڑ وقفے وقفے سے اپنے سیاہ جسم سے چھوٹی چھوٹی سفید بوندیں ٹپکا رہا تھا۔

اور اسے سیوچو کا خیال آیا جو اپنے سفید لباس میں اس فرنجی پانی کے نیچے گرے ہوے پھولوں کے درمیان مثل ایک سائے کے بت بنی ششدر کھڑی پہاڑی کے عقب میں غروب ہوتے آفتاب کی بھڑک دیکھ رہی تھی۔ جب وہ اس کو اندر بلا لے جانے کے لیے گھر کے اندھیارے سے نکل کر دبے پاؤں اس کے پیچھے پہنچا تو اس نے اس کو تقریباً ڈرا دیا تھا۔ وہ اس کی بیوی سے بہت چھوٹی تھی۔ سیوچو اپنی شادی کے دن کے انتظار کا وقفہ گزارنے کے لیے ان کے پاس رہنے کے لیے آئی ہوئی تھی۔ کنگ منگ کو اس کا نکاحی گواہ بننا تھا کیونکہ اس کے سسر کا انتقال ہو چکا تھا اور اس کے کنبے میں اور کوئی مرد نہیں تھا۔ شادی میں ابھی کوئی دو ماہ باقی تھے۔ مگر وہ اپنی ہمشیرہ سے ملاقات کرنا چاہتی تھی جو اس وقت رخصت ہو کر آ گئی تھی جب سیوچو ابھی بچی ہی تھی۔

غالباً پہاڑی کے حسن سے متاثر ہو کر گھر کے اندر جانے سے پہلے اس نے اس کے ساتھ بےتکلفی سے گفتگو کی تھی۔ کسی نوجوان لڑکی سے بےتکلفی سے گفتگو کرنا اس کو ایک انوکھا تجربہ لگا تھا۔

پراسرار کمردرد اور پسینہ چھوٹنے کی تکلیف کے سبب اس کی بیوی کی صحت کچھ دنوں سے گر رہی تھی، اس لیے لڑکی کی میزبانی اس نے کنگ منگ کے سپرد کر دی تھی۔ بعض اوقات وہ سیوچو کو شہر لے جاتا تھا جہاں وہ خریداری کیا کرتے تھے۔ رفتہ رفتہ وہ اس کی خوش اخلاقی کا گرویدہ ہوتا گیا تھا۔ ہر شام کھانے کے بعد وہ دونوں باغیچے میں چلے جاتے تھے جبکہ اس کی بیوی معذرت کر لیتی تھی۔ اس کو آپس کی بیشتر گفتگو تو اب یاد نہیں رہی تھی؛ زیادہ تر تو وہی معمولی باتیں تھیں جن سے اس کو دلچسپی تھی۔ لڑکی کو بیرونی دنیا کی معلومات کی چیٹک تھی اور جلد ہی اس کی ابتدائی جھجک جاتی رہی تھی۔ اب وہ اس کو الجھن میں ڈالے بغیر اس کی طرف دیکھ سکتا تھا۔ دو چمکدار سیاہ آنکھیں جن سے رات کی روشنی منعکس ہوتی رہتی تھی، نازک بیضوی چہرہ اور آواز جو کھنکھناتی تھی۔ وہ اس کی بیوی کا بہتر مثنیٰ تھی اور حیرت انگیز طور پر نرم خو تھی۔ اس کی بیوی میں تو ایک مخصوص سی سنگدلی کا شائبہ تھا، ضبط کے پارچے تلے مستور ایک خوابیدہ ڈاہ۔ لڑکی کو دیکھ کر اسے پیلی چڑیا کا پوٹا یاد آ جاتا تھا۔
اب وہ صحیح صحیح تو دہرا نہیں سکتا تھا کہ یہ سب ہو کیسے گیا تھا۔ ایک شام وہ تاش کھیل رہے تھے کہ اتفاقاً اس کی انگلیاں اس کی ہتھیلی کی پشت سے چھو گئیں جو ٹھنڈی تھی مگر اس کو یوں معلوم دیا جیسے اچانک کوئی سلگتی چنگاری آ گری ہو۔ اس کی ریڑھ تن گئی تھی۔ اس رات کے بعد وہ اس سے کترانے لگا تھا۔ اس نے اپنے ان احساسات کو دبانا شروع کر دیا تھا جنھوں نے ایک عجیب پریشان کن صورت اختیار کر لی تھی۔ مگر چند ہی راتیں ڈانواڈول رہنے کے بعد اس نے اس واقعے کو ذہن سے جھٹک دیا تھا بلکہ اسے اس قسم کی بات سمجھنے لگا تھا جس کی پروا نہیں کرنا چاہیے تھی۔ آخر تھا تو وہ ایک امرِ اتفاقی۔

اول اول تو وہ لڑکی حیران پریشان رہی تھی اور اس کے اندر کی تبدیلی کو سمجھ نہ پائی تھی، قہقہے اس کے اب بھی کھنکتے تھے۔

آہستہ آہستہ اس کو گھورے جانے کا احساس ہوا تھا اور پھر جب بھی وہ اس پر سے اپنی نگاہ جلد نہیں ہٹاتا تھا تو اس کی تیوری پر تشویش نمایاں ہو جاتی تھی۔ وہ اس سے خوفزدہ نظر آتی تھی۔ مگر جب تک رات کی دبیز ہوا میں اس کی تازہ سنگتروں جیسی خوشبو آتی رہتی تھی تب تک اسے کوئی پریشانی نہیں ہوتی تھی کہ وہ لڑکی اس کو پراسرار سمجھتی تھی۔

جس روز ملک کی آزادی کا اعلان ہوا تھا، وہ بار میں اپنے کاروباری ساتھیوں کی سنگت میں جام لنڈھا کر اور ویٹریسوں سے ٹھٹھولیاں کر کے جشن مناتا رہا تھا اور جب وہ معمول سے ذرا دیر میں گھر پہنچا تھا اور اپنے پنجوں پر اپنا توازن قائم کرتے ہوے کار سے نکلا تھا تو وہ اس کو فرنجی پانی کے نیچے آسمان کی طرف منھ اٹھائے کھڑی آتش بازی کا تماشا دیکھتے ہوے ملی تھی۔ جلوس بہت پہلے گھر کے پاس سے گزر کر دور جا چکا تھا۔ وہ دبے پاؤں چلتا اس کے نزدیک گیا تھا۔ وہ اس سے معلوم کرنے لگی تھی کہ شہر میں کیا کچھ ہوتا رہا تھا۔ بےشک وہ شراب کی ترنگ ہی تھی۔ ٹھنڈی ہوا نے اس کی جلد کو چھیڑا تو برانڈی کے اثر سے نرالے احساسات اس کے تن بدن میں دوڑ گئے تھے، یہاں تک کہ اس کو پور پور مدہوش ہوتی لگی تھی۔ وہ شہر کی ان خوشی سے تمتماتے چہروں والی حسیناؤں کے تصور کا ہی اثر تھا جس نے اس سے وہ حرکت سرزد کروائی تھی۔ اس نے اس کو اپنی بغل میں کھینچا تھا اور سر ابھی چکرا ہی رہا تھا کہ اس کو چوم لیا تھا۔ اس کی چیخ نکل گئی تھی۔ آتش بازی نے آسمان پر روشنی کی ایک چھتری سی چھا دی تھی اور اندھیارے میں اجالے کے نقطے سے بکھیر دیے تھے اور جیسے ہی اس نے اپنے آپ کو چھڑا کر علیحدہ کیا تھا، ان کی نظر پورچ میں کھڑی ہوئی بیوی پر پڑی تھی۔ لڑکی خود کو چھڑا کر بھاگی تھی اور اس کی بیوی کے پاس سے گزر کر دوڑتی ہوئی گھر کے اندر چلی گئی تھی۔ یہ سراسر اس کی نادانی تھی۔ اگر وہ اس رات بھاگی نہ ہوتی تو اس نے کوئی نہ کوئی عذر تراش لیا ہوتا۔

رات گئے تک آتش بازی چھوٹتی رہی تھی مگر گھر میں ایک بےچین کر دینے والی خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ اپنے کمرے میں جانے کے بجاے وہ جھونک میں آ کر پنکھے کے نیچے کوچ پر ہی پڑ رہا تھا۔ اس کی بیوی نے اس کا سامان کمرے کے باہر پھینک دیا تھا۔ اس کو گمان گزرا کہ ایک مرتبہ اس نے خواب میں کسی تاریک سائے کو اپنے اوپر جھکتے دیکھا تھا اور جب اس نے کروٹ لی تھی تو سائے نے اس کے گال کو چھوا تھا۔ صبح ہوتے جب اس کی نیند اچٹ گئی تھی تو وہ اٹھ گیا تھا اور تادیر ہال میں ٹہلتا رہا تھا۔ پھر اس نے اپنے کمرے میں جھانکا تھا۔ اس کی بیوی گہری نیند سو رہی تھی۔ وہ دوبارہ ٹہلنے لگا تھا۔ آخرکار وہ دوسرے کمرے کی طرف گیا تھا اور جب اس نے دروازہ کھولا تھا تو وہ کانپ رہا تھا۔ مگر سیوچو کا بستر خالی تھا۔ وہ اس کو پورے گھر میں چپ چاپ تلاش کرتا پھرا تھا اور پھر باغیچے میں نکل گیا تھا۔ جب وہ گھر میں جانے کے لیے پلٹ رہا تھا تو اس کی نظر کھڑکی پر پڑی تھی جو کھلی ہوئی تھی۔ باہر سڑک سنسان تھی۔ بےچینی محسوس کرتے ہوے وہ ہال میں آیا تھا۔ آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد اس نے اپنی بیوی کو جگانے کی ہمت کی تھی اور جس وقت تک وہ کھوجیوں کو اکٹھا کر سکے تھے، دن نکل آیا تھا۔ ایک تنگ حلقہ بنائے انھوں نے پہاڑی کی ڈھلانوں کو کھنگالنا شروع کیا تھا۔ اس کی بیوی نے ہی سب سے پہلے اس کو رین ٹری کی اس ٹیڑھی میڑھی شاخ سے جھولتے لٹکتے دیکھا تھا۔ ایک چھوٹا سفیدپوش پیکر سیاہ چٹان کے اوپر لٹکا ہوا تھا۔ جب دوڑ کر وہ اُدھر گئی تھی اور اس لڑکی کو نیچے کھینچنے لگی تھی تو اس کی آہ و زاری نے دور دور تک پہاڑی کی خاموشی کو پاش پاش کر دیا تھا۔ سہارا دے کر وہ اپنی بیوی کو گھر لے آیا تھا اور ڈاکٹر بلوایا تھا۔

وہ حقیقتاً پشیمان تھا۔ ذہن ہی ذہن میں اس نے تقدیر سے شکوہ کیا تھا۔ آخر کو تھی تو وہ ایک معمولی سی بات، پھر اس کا انجام یوں کیوں ہوا؟ کنگ منگ نے کبھی بھی یہ حقیقت قبول نہیں کی کہ زندگی ایسے ہی صورت اختیار کرتی تھی جیسے جھینگر کے حلق سے نکلی ایک یکہ و تنہا تھرتھری رات کو پہاڑ بنا دے۔

یہ سات برس پہلے کی بات تھی۔ رات کی خنک ہوا نے اس کے چہرے کو منجمد کر دیا اور وہ کانپا۔ گھڑی کے روشن ڈائل پر 7:54 کے ہندسے نظر آئے۔ اس کی بیوی اب بھی چٹائی پر سوئی پڑی تھی۔ سڑک پر اچانک خاموشی چھا گئی تھی۔ دھیمے دھیمے ایک نئی آواز ابھری۔ شروع میں بہت مدھم، دور سے آتی ہوئی گاجے باجے کی آواز، جو بتدریج قریب آتی گئی۔ بیوی اب بھی سو رہی تھی اور وہ اس اُدھیڑبُن میں تھا کہ آیا وہ پھر وہی کچھ ہونے دے۔ گردن گھما کر اس نے ہال کی روشنیوں کو گلابی پردوں میں سے چھن کر آتے دیکھا اور اپنے ہونٹ چباتے ہوے اس نے دل ہی دل میں دعا کی کہ جس بات کا خیال اسے آیا تھا، وہ نہ ہو۔ سیوچو کی موت کے بعد وہ اندر سے ڈھے گیا تھا۔ بند ٹوٹ چکا تھا۔ آبِ زُلال اب غلیظ سیل بن چکا تھا۔ اس نے اپنے گھٹنوں میں سر دے لیا اور اپنی چپنیوں کو زور سے دبایا۔ یہاں تک کہ ماتھا دُکھنے لگا۔ اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اس نے سر اٹھا کر باڑ کی سمت دیکھا۔ آتے ہوے جلوس کے گیس ہنڈوں سے آتی ہوئی روشنی کی وجہ سے باڑ سلمہ ستارے والی ہو گئی تھی اور ہوا میں سانپ کی طرح لہرا رہی تھی۔ جلوس کی آوازوں نے پھیل کر فضا کو پُرشور کر دیا تھا۔ گاتی بجاتی آوازیں، نفیریاں، بینڈباجوں پر فوجی نغمے… اور اچانک مائیکروفون نے تلوار کی طرح وار کیا۔ ایک تیز کرخت آواز آئی، ’’آزادی، ہماری قوم زندہ باد!‘‘ اور خلقت کی طرف سے نعرہ بلند ہوا، ’’آزادی، آزادی!‘‘

اس کی بیوی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی اور بغیر کچھ سمجھے دائیں بائیں دیکھنے لگی۔ یک لخت تاریک آسمان میں دور اوپر آتش بازی پھٹ پھٹ کر اپنی شاخیں پھیلانے لگی تو جلوس میں سے زوردار نعرے بلند ہوے۔ ایک پل کے لیے اس کی بیوی بالکل حواس باختہ رہی اور پھر ایک جست مارکر چیخ پکار کرتی گھر کے اندر بھاگ گئی۔

جب وہ اس کے پیچھے پیچھے بھاگتا ہوا اس کے کمرے میں گھسا تو وہ اپنے بستر پر لیٹ چکی تھی اور اس کا حلیہ بگڑا ہوا تھا۔

’’آہ نوئی! آہ نوئی!‘‘ کنگ منگ بیوی کی چیخوں سے اپنی آواز زیادہ بلند کرتے ہوے پکارا، ’’اِدھر آؤ، فوراً!‘‘ اس نے خود کو بیوی پر گرایا اور جب وہ اٹھنے لگی تو اسے جکڑ لیا۔ گردن گھمائی تو اس نے ملازمہ کو دروازے میں ٹھٹکے ان دونوں کو دیکھتے ہوے پایا۔ ’’جلدی کرو! جلدی سے گولیوں کی شیشی اور ایک کپ پانی لے آؤ۔۔۔۔ جلدی کرو!‘‘ اس نے چیخ کر سہمی ہوئی لڑکی کو حکم دیا۔ لڑکی پھرتی سے گئی اور دوا کی شیشی اور پلاسٹک کپ لے کر آ گئی۔ ’’ادھر آؤ!‘‘ اس نے اپنا آزاد ہاتھ ہلایا۔ ’’جب میں دوا دوں تو تم ان کو کس کر دبائے رہنا۔‘‘ اس نے دل میں دعا مانگی کہ وہ اٹھ کر بھاگ نہ جائے۔ لڑکی نے اس کے کہنے پر عمل کیا۔

جب اس کی بیوی نے دیکھا کہ اسے کون پکڑے تھا تو گالیاں کوسنے اس کے منھ سے ابل پڑے۔ لڑکی پیلی پڑ گئی۔ اپنی انگلیوں کی لرزش کو قابو میں کرتے ہوے اس نے شیشی کا ڈھکن کھولا اور گولیاں اپنی ہتھیلی پر انڈیلیں اور پھر جھک کر اس نے بیوی کے پے در پے چپتیں لگائیں اور اپنے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کی چمٹی سی بنا کر اس کے گالوں کو دبایا اور زبردستی اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ اس نے منھ سے غرغراہٹ پیدا کی، حیرت انگیز قوت سے بل کھا کر پہلو بدلا، اپنا چہرہ اس کی گرفت سے چھڑا لیا اور اسی لپیٹ میں لڑکی کو وہ اپنے ساتھ گھسیٹ لے گئی۔ اس اچانک زورآزمائی نے اس کا توازن بگاڑ دیا اور اس نے خود کو اس حالت میں پایا کہ اس کا سینہ لڑکی کے کندھوں کے اوپر تھا۔ زور لگا کر اس کی بیوی نے دوبارہ اٹھنا چاہا تو لڑکی کے سرین اچھلے اور اس کے پیٹ سے ٹکرا کر پچک گئے۔ اس کی رانوں میں سنسناہٹ دوڑ گئی۔ اپنا بایاں ہاتھ لڑکی کے سر کے اوپر سے نکال کر اس نے بیوی کے رخسار پھر انگلیوں کی گرفت میں لیے، آہستہ آہستہ اسے منھ کھولنے پر مجبور کیا۔ دوسرے ہاتھ سے اس نے گولیاں اس کے لرزتے منھ میں ڈالیں اور منھ بند کر کے دوسرے ہاتھ سے ناک دبا دی۔ اس کی بیوی نے گولیاں یوں نگلیں جیسے اُبکائی لے رہی ہو۔ لڑکی اب رونے لگی تھی۔ اس گڑبڑاہٹ میں اس نے اس کے سرین پر ہاتھ پھیر دیا اور پھر کانپتے ہوے کمزوری محسوس کرنے لگا۔ تادیر تینوں اسی طرح ایک دوسرے میں الجھے رہے۔
ایک دھچکے کے ساتھ اس کو احساس ہوا کہ وہ تو لڑکی کے کان کے نیچے واقع گلابی مسّے کو چاٹ رہا تھا، اپنی زبان کی نوک سے اس کو تر کر رہا تھا اور اس کی ناک اس کی لیموں جیسی مہک کو یوں سونگھ رہی تھی جیسے کہ وہ کتّا ہو۔ وہ خود کو اس کے بدن سے مس کر رہا تھا، اور تب ہی غشی کی ایک لہر سی اس پر سے گزر گئی۔ اپنے جسم کو اس سے دور ہٹاتے ہوے وہ خود کو آپے میں لایا اور اپنے آپ کو تھکی تھکی آواز میں کہتے سنا، ’’تم اب جا سکتی ہو۔‘‘ اس کی بیوی اب بھی اس کے بوجھ تلے دبی پڑی تھی۔ لڑکی اس کے جسم پر دباؤ ڈالتی اٹھی اور جب وہ پلنگ سے اتری تو اس کا اسپرنگ اپنی جگہ آیا اور پلنگ چرچرایا۔ جب اس نے منھ گھمایا تو اس کی نظریں لڑکی کی عجیب الجھن میں گرفتار نظروں سے ملیں۔ وہ ابھی تک پلنگ کے قریب کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بات کو پا جانے والی چمک تھی۔ ’’تم جاؤ، میں ٹھیک ہوں…میں اب ٹھیک ٹھاک ہوں،‘‘ اس نے دہرایا اور منھ پھیر لیا۔ وہ ذرا سا کُب نکالے وہاں سے چل دی۔ جب وہ چلی گئی تو وہ اپنی بیوی پر جھکا چپکے چپکے روتا رہا جو کچھ اس طرح ساکت پڑی تھی جیسے مردہ ہو۔

دھوم دھڑکّا آدھا گھنٹہ ہوا ختم ہو چکا تھا۔ وہ آہستگی سے پلنگ سے اٹھا، باغیچے میں جا کر بکھرے ہوے تاش سمیٹے اور چٹائی کو لپیٹا۔ رات اندھیری تھی اور آتش بازی اب بھی آسمان پر چھوٹ رہی تھی۔ اس کو ناتوانی محسوس ہوئی تو اس نے ایک درخت سے ٹیک لگا لی۔ ایک بڑا سا چکنا پھول اس کے گال کو چھوتا ہوا زمین پر جا گرا۔

جیسے ہی وہ واپس جانے کے لیے مڑا، لڑکی کے کمرے کی بتی بجھ گئی۔ اسے جُھرجُھری شروع ہوئی تو اس نے لان کے کنارے ٹھٹک کر آنکھیں موند لیں اور بڑی دقت سے اپنے قدم اٹھائے۔ اس نے غور سے اس کی آواز پر کان لگائے لگائے ہال کی بتیاں بجھائیں۔ جھینگر کے حلق سے ایک کراہ نکل کر فضا میں لرزنے لگی۔ فاختیٔ رنگ کی چھپکلیاں اپنے شکار کی تلاش میں چھت کے تختوں پر رینگیں۔ پچھلی بار کون سی تھی؟ کیا وہ آہ پن تھی جو پھرتی سے اپنا دروازہ بند کرتے ہوے ہکلائی تھی؟ یا وہ آہ کِم تھی جس نے کپڑوں پر استری کرتے ہوے عیّار نظریں مٹکائیں اور پھر اس کو بلیک میل کرنے کی کوشش کی؟ یا آہ پوہ جس نے باہر نکل کر بھاگنے کے لیے بیرونی پھاٹک دھڑدھڑا ڈالا تھا؟ لگتا تھا اتنی بہت سی تھیں۔ تھکن محسوس کرتے ہوے وہ اپنی بیوی کے کمرے میں گیا اور کرسی پر مڑتڑ کے پڑ رہا اور بستر پر پڑے اس کے مبہم جسم کو دیکھتا رہا۔ خدا کا شکر کہ اگلے دن چھٹی تھی۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور ان ڈراؤنے خوابوں کی کشش سے پیچھا چھڑانے میں لگ گیا جو اب کثرت سے آنے لگے تھے۔ مکان کی بالائی منزل میں بلیاں دبے پاؤں گھوم رہی تھیں۔ اس نے سوچا کہ ایک طرح سے وہ خوش تھا کہ اس کا اپنا گھر تھا اور روپے پیسے کی طرف سے بھی کوئی فکر نہیں تھی۔ آزادی نے اس پر بڑا ہُن برسایا تھا۔ بس اگر سیوچو بھی زندہ رہتی۔۔۔۔ اگلے دن کے لیے جب اس نے گھڑی کو کوک دی تو اندھیرے میں اس کی روشن سوئی تھرتھرائی۔

Categories
فکشن

بڑے بڑے پروں والا ایک بوڑھا پھُوس (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لگاتار بارشوں کے تیسرے دن وہ اتنے بہت سے کیکڑے ٹھکانے لگا چکے تھے کہ پیلایو کو اپنا پانی بھرا صحن پار کر کے ان سب کو سمندر میں پھینکنے کے لیے جانا پڑا۔ بات یہ تھی کہ نومولود بچے کو تیز بخار تھا، اور وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کا سبب اِن کیکڑوں کی بساند ہے۔ منگل کے دن سے سارا عالم اداس اداس تھا۔ کیا سمندر اور کیا آسمان، سب ایک جیسے گدلے گدلے دکھائی دے رہے تھے، اور ساحل کی وہ ریت جو مارچ کی راتوں میں مثل افشاں کے جھلملایا کرتی تھی، اس وقت کیچڑ اور سڑے بُسے گھونگوں کی گاد بن چکی تھی۔ عین دوپہر میں بھی روشنی اتنی کم کم تھی کہ پیلایو جب کیکڑے پھینک کر گھر واپس آ رہا تھا تو اس کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل تھا کہ آخر وہ کیا شے ہے جو صحن کے پچھواڑے رینگ رہی ہے اور کراہ رہی ہے۔ یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ ایک بڈّھا ہے، اسے اس کے بہت ہی قریب جانا پڑا: ایک پیرِ فرتوت جو منھ کے بل کیچڑ میں پڑا ہے اور سرتوڑ کوشش کے باوجود اپنے بڑے بڑے پروں کی وجہ سے اٹھ نہیں پا رہا۔

اس کابوس سے دہشت زدہ ہو کر پیلایو اپنی بیوی ایلی سیندا کو بلانے لپکا، جو کہ بیمار بچے کے ماتھے پر گیلی پٹیاں رکھ رہی تھی، اور اس کو لے کر صحن کے پچھواڑے تک آیا۔ وہ دونوں زمین پر پڑے ہوے اس جسم کو گم سُم، پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔ وہ چِندیاں بٹورنے والوں کا سا لباس پہنے تھا۔ اس کی سپاٹ چَندیا پر چند گنے چنے بال رہ گئے تھے اور منھ میں دانت بھی اکّادکّا تھے، اور اس کی تربتر، سگڑداداؤں والی افسوسناک حالت نے اس کی رہی سہی شان کو، جو اس میں کبھی رہی ہو گی، خاک میں ملا دیا تھا۔ اس کے میلے، اَدھ نُچے، بڑے بڑے، عقاب جیسے پنکھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کیچڑ میں لت پت ہو چکے تھے۔ دونوں اُس کو اتنی دیر تک اور اتنے غور سے دیکھا کیے کہ پیلایو اور ایلی سیندا کی حیرانی دھیرے دھیرے جاتی رہی، اور ہوتے ہوتے وہ ان کو مانوس سا لگنے لگا۔ تب انھوں نے اس سے بات کرنے کی ہمت کی، جس کا جواب اس نے ملّاحوں کی سی بھاری آواز میں کسی انجانی زبان میں دیا۔ یوں انھوں نے پروں والی دقّت کو نظرانداز کرتے ہوے، اپنی دانست میں بڑی دانشمندی سے، یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ طوفان کے مارے کسی شکستہ فرنگی جہاز کا آخری بچ جانے والا ہے۔ اس کے باوجود انھوں نے پڑوس کی اُس عورت کو بلا لیا جو زندگی اور موت کے بارے میں سب کچھ جانتی تھی، تاکہ وہ اس کا معائنہ کر لے۔ ان کے غلط اندازے کو جھٹلانے کے لیے اس عورت کا اس کو بس ایک نظر دیکھنا کافی تھا۔

’’یہ تو فرشتہ ہے،‘‘ اس نے ان کو بتایا۔ ’’وہ بچے کے لیے آ رہا ہو گا، پر بےچارہ اتنا بوڑھا ہے کہ بارش نے راستے ہی میں ڈھیر کر دیا۔‘‘

اگلے دن سب کو معلوم ہو چکا تھا کہ ایک جیتاجاگتا فرشتہ پیلایو کے گھر میں بند ہے۔ پڑوس کی سیانی عورت کی رائے کے برخلاف، جس کا کہنا تھا کہ آج کل کے فرشتے دراصل ایک آسمانی سازش کے بعد بچ جانے والے بھگوڑے ہیں، ان کا دل نہ مانا کہ وہ ڈنڈے مار مار کر اس کی جان نکال دیں۔ اپنا بیلِف والا ڈنڈا اٹھائے اٹھائے پیلایو ساری سہ پہر باورچی خانے میں بیٹھا اس کی نگرانی کرتا رہا، اور رات کو سونے سے قبل اس نے اسے کیچڑ میں سے گھسیٹا اور لے جا کر جالی دار دڑبے میں مرغیوں کے ساتھ بند کر دیا۔ آدھی رات گئے جس وقت بارش تھمی تو پیلایو اور ایلی سیندا ابھی کیکڑے ہی مار رہے تھے۔ تھوڑی دیر بعد بچّے کی آنکھ کھل گئی؛ اس کو بخار نہیں تھا اور وہ کچھ کھانے کو مانگ رہا تھا۔ تب ان کی دریادلی نے جوش مارا اور انھوں نے طے کر لیا کہ وہ فرشتے کو تازہ پانی اور تین دن کی رسد دے کر، ایک تختے پر سوار کرا کے، سمندر میں تن بہ تقدیر چھوڑ آئیں گے۔ مگر جب وہ منھ اندھیرے صحن میں گئے تو کیا دیکھا کہ پورا محلّہ ٹولہ دڑبے کے سامنے جمع، فرشتے کے ساتھ دل لگی بازی میں لگا ہے۔ وہ ٹوٹی ہوئی جالی میں سے کھانے کی چیزیں ذرا سے بھی ادب و احترام کے بغیر اس کی طرف اس طرح پھینک رہے تھے جیسے وہ کوئی علوی وجود نہ ہو بلکہ سرکس کا کوئی جانور ہو۔

اس عجیب و غریب خبر سے گھبرا کر پادری گون زاگا کوئی سات بجے سے پہلے ہی پہلے آ گئے۔ اس وقت تک صبح والوں سے ذرا کم شریر تماش بین آ چکے تھے، اور قیدی کے مستقبل کے بارے میں جو منھ میں آ رہا تھا رائے زنی کر رہے تھے۔ ان میں سب سے بھولے کا خیال تھا کہ اس کو ساری دنیا کا میئر نامزد کر دیا جائے۔ ذرا زیادہ عقل کے پوڑھوں نے محسوس کیا کہ اس کو پنج ستاری جنرل ہونا چاہیے کہ ساری جنگیں فتح کر لے۔ چند خیال پرستوں نے آس لگائی کہ اس سے نسل کَشی کا کام بھی لیا جا سکتا ہے کہ وہ روے زمین پر پَردار سیانوں کی ایک ایسی نسل پیدا کر دے جو پوری کائنات کا چارج سنبھال سکے۔ لیکن پادری گون زاگا پادری بننے سے پہلے ایک تنومند لکڑہارے رہ چکے تھے۔ جالی کے پاس کھڑے کھڑے انھوں نے جھٹ پٹ علمِ دینیات کے تمام سوالات و جوابات کو دماغ میں تازہ کیا اور ان لوگوں سے کہا کہ دروازہ کھولیں تاکہ وہ قریب سے اس دُکھیا آدمی کو دیکھیں جو حیران پریشان، مرغیوں کے درمیان خود ایک بڑی سی خستہ حال مرغی لگ رہا تھا۔ وہ ایک کونے میں پھلوں کے چھلکوں اور بچے کھچے ناشتے کی چیزوں کے درمیان، جو صبح کو آنے والے پھینک گئے تھے، پڑا اپنے پھیلے ہوے پروں کو دھوپ میں سُکھا رہا تھا۔ جس وقت پادری گون زاگا نے دڑبے میں داخل ہوکر لاطینی زبان میں صبح بخیر کہا تو اس نے دنیا کی گستاخیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوے بس اپنی عمررسیدہ نظریں اٹھائیں اور اپنی بولی میں کچھ منمنایا۔ جب پادری گون زاگا نے دیکھا کہ نہ تو وہ خدا کی زبان جانتا ہے اور نہ اس کے خادموں کے استقبال کے آداب سے واقف ہے، تو ان کو پہلی بار اس پر جعلیا ہونے کا شبہ ہوا۔ پھر انھوں نے غور کیا کہ بہت قریب سے دیکھنے پر وہ بالکل آدمیوں جیسا ہے۔ اس کے پاس سے کھلے میں رہنے والوں کی سی ناقابلِ برداشت بو آ رہی تھی، اس کے پروں میں جوئیں بِجَک رہی تھیں اور زمینی ہواؤں نے اس کے اصل پروں کا برا حشر کر دیا تھا؛ اور اس میں کوئی بات بھی تو ایسی نہیں تھی جو فرشتوں کے قابلِ فخر وقار کے معیار پر پوری اترتی ہو۔ پھر وہ دڑبے سے باہر آئے اور ایک مختصر خطبے کے ذریعے متجسّس نفوس کو طبّاع بننے کے خطرات سے خبردار کیا۔ انھوں نے ان کو یاد دلایا کہ شیطان کی ایک بُری عادت کارنیوالی کرتبوں کا استعمال کرنا بھی ہے تاکہ غافلوں کو دھوکا دے سکے۔ انھوں نے دلیل پیش کی کہ اگر ہوائی جہاز اور عقاب میں فرق کرنے کے لیے پنکھ لازمی عنصر نہیں، تو فرشتوں کی پہچان کے لیے تو ان کی اہمیت اور بھی کم ہو گی۔ پھر بھی انھوں نے وعدہ کیا کہ وہ اپنے اُسقف کو عریضہ روانہ کریں گے، تاکہ وہ اپنے اُسقفِ اعظم کو اس بابت لکھیں، تاکہ وہ پاپاے روم کو لکھیں، اور یوں اعلیٰ ترین عدالت سے قولِ فیصل حاصل ہو جائے گا۔

ان کی دانشمندی چکنے گھڑوں پر ضائع گئی۔ اسیر فرشتے کی خبر اتنی تیزی سے پھیلی کہ چند گھنٹوں کے اندر اندر صحن میں بازار کی سی چہل پہل ہو گئی اور سنگین بردار سپاہی بلوانے پڑے تاکہ اس مجمعے کو منتشر کریں جو کہ مکان کو تلپٹ کیے دے رہا تھا۔ ایلی سیندا کو، جس کی کمر اتنا سارا بازاری گند جھاڑتے جھاڑتے دوہری ہو چکی تھی، یہ سوجھ گئی کہ صحن میں کٹہرا لگا دے اور فرشتے کو دیکھنے کے لیے ہر ایک سے پانچ پانچ سینٹ وصول کر لے۔ مشتاقانِ دید دور دور سے آنے لگے۔ ایک گشتی کارنیوال نے پھیرا لگایا؛ اس میں ایک اُڑان بھرنے والا نَٹ مجمعے کے سروں پر بار بار پھڑپھڑاتا پھِرا، مگر کسی نے اسے گھاس نہ ڈالی کیونکہ اس کے پَر فرشتوں کے مانند نہیں تھے بلکہ چمگادڑوں جیسے تھے۔ زمانے بھر کے بدنصیب ترین معذور لوگ تندرستی کی آس میں آنے لگے؛ ایک دُکھیاری جو بچپن سے دل کی دھڑکنیں شمار کر رہی تھی اور گنتے گنتے جس کی گنتی ہی ختم ہو گئی تھی؛ ایک پرتگالی مرد جو اس لیے سو نہیں سکتا تھا کہ ستاروں کا شور اس کو تنگ کرتا تھا؛ ایک نیند میں چلنے والا جو راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنے دن میں کیے ہوے کام بگاڑا کرتا تھا؛ اور دوسرے بہت سارے جن کے مرض ان سے ذرا کم تشویش ناک تھے۔ پیروں تلے کی زمین ہلا دینے والی، ڈوبتے جہاز جیسی اس ہڑبونگ کے بیچ پیلایو اور ایلی سیندا اپنی تھکن میں بھی مگن تھے، کیونکہ ایک ہفتے سے بھی کم مدت میں انھوں نے اپنا گھر رقم سے ٹھَساٹھَس بھر لیا تھا اور اب بھی اپنی باری کے منتظر زائرین کی قطار افق کے اُس پار تک پہنچی ہوئی تھی۔

فرشتہ ہی فقط ایک واحد ہستی تھا جو خود اپنے تماشے میں کوئی حصہ نہیں لیتا تھا۔ جالی کے نزدیک رکھے گئے تیل کے چراغوں اور عشاے ربانی والی موم بتیوں کی جہنّمی تمازت سے چکرایا چکرایا سا، وہ اپنا وقت اپنے مانگے کے ٹھکانے میں آسائش کی جستجو میں گزارتا۔ اوّل اوّل انھوں نے اس کو کپڑوں میں رکھنے والی گولیاں کھلانے کی کوشش کی، جو سیانی پڑوسن کے علم کے مطابق فرشتوں کی غذا تھی، لیکن اس نے کھانے سے انکار کر دیا، بالکل اسی طرح جیسے اس نے پوپ کا وہ خاصّہ کھانے سے انکار کر دیا تھا جو تائب لوگ لاتے تھے۔ وہ اتنا کبھی نہ جان سکے کہ اس کا سبب اس کا فرشتہ ہونا تھا یا یہ کہ وہ بوڑھا ہو چکا تھا۔ اور آخر کو وہ بینگن کے گودے کے سوا کچھ نہیں کھاتا تھا۔ اس کی قوتِ برداشت ہی ایک اکیلی خارقِ عادت بات نظر آتی تھی، خاص کر ابتدائی ایام میں، جب مرغیاں ان سماوی جوؤں کی تلاش میں جو اس کے پروں کے اندر بڑھی چلی جا رہی تھیں ٹھونگیں مارا کرتیں، اور اپاہج لوگ اپنے ناقص اعضا سے چُھوانے کے لیے اس کے پَر نوچا کرتے، اور سب سے زیادہ مہربان لوگ تک اس کو کھڑا کرنے کی کوشش میں پتھر مار دیا کرتے تاکہ وہ اس کو کھڑے قد دیکھ سکیں۔ وہ صرف ایک بار اس کو اپنی جگہ سے ہلانے میں کامیاب ہو سکے تھے، جب انھوں نے بچھڑوں کو داغنے والے لوہے سے اس کے پہلو میں چرکا لگا دیا تھا۔ بات یہ تھی کہ وہ اتنے گھنٹوں سے بے حس و حرکت پڑا تھا کہ انھوں نے سوچا کہیں مر نہ گیا ہو۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور آنکھوں میں آنسو بھرے بھرے اپنی جنّاتی زبان میں بلبلانے لگا اور دو ایک بار اپنے پَر پھڑپھڑائے تو مرغیوں کی بِیٹ اور قمری خاک کا بگولا ناچنے لگا اور دہشت کا وہ جھکّڑ چلا جو اِس دنیا کا تو لگتا نہیں تھا۔ گو بہتوں نے سوچ لیا تھا کہ وہ خفگی کا نہیں بلکہ تکلیف کا مظاہرہ تھا، مگر اس دن کے بعد سے وہ سب احتیاط کرنے لگے کہ اس کو ناراض نہ کریں، کیونکہ اکثر لوگ سمجھ چکے تھے کہ اس کی مفعولیت اُس سورما کی سی نہیں جو اگلے حملے کے لیے سستا رہا ہو، بلکہ کسی خوابیدہ فتنے کی سی ہے۔

قیدی کی اصلیت کے بارے میں قولِ فیصل آنے کے انتظار کے دوران پادری گون زاگا نے مجمعے کی شرارتوں کو خادماؤں کی سی سوجھ بوجھ والے چٹکلوں سے قابو میں رکھا۔ مگر روم کی ڈاک نے آنے میں کوئی عجلت نہ دکھائی؛ کبھی وہ لوگ یہ دیکھتے کہ اس کی ناف ہے یا نہیں، کبھی یہ سوچتے کہ اس کی بولی کا تعلق آرامی زبان سے تو نہیں، کبھی یہ کہ ایک سوئی کی گھنڈی پر وہ کتنی مرتبہ سما سکتا ہے، یا یہ کہ کہیں وہ محض کوئی پَردار ناروے والا نہ ہو؛ اور یوں وہ لوگ اپنا وقت بِتایا کرتے تھے۔ اگر رحمتِ خداوندی نے آڑے آ کر پادری کی زحمتوں کا خاتمہ نہ کر دیا ہوتا تو یہ مختصر سے عریضے قیامت تک آتے جاتے رہتے۔

ہوا یہ کہ انھی دنوں میں آنے والے بہت سے کھیل تماشوں میں ایک ایسی عورت کا گشتی تماشا بھی آیا جس کو والدین کی نافرمانی کرنے پر مکڑی بنا دیا گیا تھا۔ اس کو دیکھنے کی قیمت نہ صرف یہ کہ فرشتے کی دید کی رقم سے کم تھی، بلکہ لوگوں کو اس بات کی بھی اجازت تھی کہ وہ اس کی مضحکہ خیز حالت کے بارے میں قسم قسم کے سوالات بھی پوچھ سکیں اور سر سے پیر تک اس کو چھو کر معائنہ بھی کر سکیں تاکہ کسی کو بھی اس ہولناک حقیقت پر کوئی شک و شبہ نہ رہے۔ وہ مینڈھے جتنی ایک ڈراؤنی ترَن تُولا مکڑی تھی جس کا سر ایک غمزدہ دوشیزہ کا سا تھا۔ تاہم سب سے بڑھ کر دل ہلا دینے والی شے اس کی نامانوس ہیئت نہ تھی بلکہ وہ پُرخلوص اندازِ بیاں تھا جس میں وہ اپنی بپتا کی ایک ایک تفصیل سناتی تھی۔ ابھی وہ بالی ہی تھی کہ ایک بار ناچ رنگ میں حصہ لینے کے لیے گھر سے چھپ کر چپ چاپ نکل گئی تھی، اور جب وہ بغیر اجازت لیے ساری رات ناچ لینے کے بعد جنگل میں سے ہوتی ہوئی گھر لوٹ رہی تھی تو ایک ہولناک کڑاکے نے آسمان کو دو کر دیا، اور شگاف میں سے لاوے کا برقی تیر سا لپکا جس نے اسے مکڑی بنا دیا۔ اس کا پیٹ فقط ان کوفتوں سے بھرتا تھا جو سخی لوگ اس کے منھ میں ڈال دیتے تھے۔ ایک ایسے نظارے کو، جس میں اتنی انسانی سچائی بھری ہو اور اتنی خوف دلانے والی نصیحت ہو، کوشش کیے بغیر ایک ایسے نک چڑھے فرشتے کی نمائش پر غالب رہنا ہی تھا جو فانی انسانوں کی طرف آنکھ اٹھانا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ علاوہ ازیں، جو تھوڑی بہت کرامات فرشتے سے منسوب کی گئیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ عقل کا فتور نظر آیا— مثلاً وہ نابینا جس کو بینائی تو نہ ملی مگر تین نئے دانت نکل آئے، یا وہ مفلوج جو چل تو نہ سکا لیکن لاٹری تقریباً جیت لی، اور وہ کوڑھی جس کے زخموں کے اندر سے سورج مکھی پھوٹ نکلے۔ ان بہلانے والی کرامات کے سبب، جوکہ ہنسی دل لگی سے زیادہ کیا تھیں، فرشتے کی ساکھ گر تو چکی تھی کہ مکڑی بن جانے والی عورت نے آ کر آخرکار اس کو بالکل ملیامیٹ کر دیا، اور یوں پادری گون زاگا کا بےخوابی کا روگ بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جاتا رہا، اور پیلایو کا آنگن بھی پھر سے اتنا ہی خالی خالی رہنے لگا جتنا وہ اُس تین دن کی بارشوں کے زمانے میں تھا جب کیکڑے کمروں میں رینگا کرتے تھے۔

گھر والوں کے لیے کُڑھنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ جو رقم انھوں نے اس دوران جمع کر لی تھی اس سے انھوں نے چھجّوں اور پھلواریوں والی دومنزلہ حویلی کھڑی کر لی جس میں اونچی اونچی جالیاں لگائی گئی تھیں کہ جاڑوں میں کیکڑے نہ گھس آئیں، اور دریچوں میں لوہے کی سلاخیں لگوائی گئی تھیں کہ فرشتے اندر نہ آ جائیں۔ پیلایو نے بستی کے قریب ہی خرگوش پالنے کا کاروبار جما لیا اور بیلف کی نوکری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چھوڑ دی اور ایلی سیندا نے ساٹن کے اونچی ایڑی والے چند پمپ اور ست رنگی ریشم کی پوشاکیں خریدیں، وہی جو اس زمانے کی من موہنی عورتیں اتوار کے دن زیبِ تن کیا کرتی تھیں۔ بس مرغیوں کا دڑبا ہی ایک ایسی چیز تھا جس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جو وہ کبھی کبھار اس کی دھلائی کریولن سے کر دیتے تھے اور اس کے اندر مُر اور لوبان سلگا دیتے تھے تو یہ کوئی فرشتے کی عقیدت میں نہیں تھا بلکہ اس کا مقصد فُضلے کی اس سڑاند سے پیچھا چھڑانا ہوتا تھا جو آسیب کی طرح ہر وقت لپٹی رہتی تھی اور ان کے نئے مکان کو بھی پرانا کیے دے رہی تھی۔ جب بچے نے چلنا سیکھ لیا تو پہلے پہلے انھوں نے احتیاط کی کہ وہ دڑبے کے بہت نزدیک نہ جانے پائے؛ پھر رفتہ رفتہ ان کا خوف دور ہوتا گیا، اور وہ بدبو کے عادی ہوتے گئے، اور دوسرا دانت نکلنے سے پہلے ہی بچہ کھیلنے کے لیے جہاں سے جالی ٹوٹ رہی تھی دڑبے میں گھس گیا۔ فرشتہ بچے سے بھی اتنا ہی لیے دیے رہا جتنا وہ دوسرے لوگوں سے رہتا تھا، مگر وہ اس کی نت نئی چھیڑخانیوں کو اس کتّے کے سے صبر سے برداشت کرتا رہتا جس کو کوئی خوش فہمیاں نہ ہوں۔ دونوں کو ایک ساتھ خسرہ نکل آئی۔ جس ڈاکٹر نے بچے کا علاج کیا وہ فرشتے کے دل کی دھڑکن سننے کے شوق کو دبا نہ سکا، اور اس نے اس کے دل میں اس قدر سیٹیاں بجتی اور گردے میں اتنی آوازیں سنیں کہ اس کو فرشتے کا زندہ رہنا محال نظر آیا۔ پروں کی تُک نے اس کو سب سے زیادہ حیرت میں ڈالا۔ اس مکمل انسانی بدن پر وہ اتنے فطری لگتے تھے کہ ڈاکٹر کی سمجھ میں یہ نہ آ سکا کہ آخر سب انسانوں کے جسم پر وہ کیوں نہیں ہوتے۔

جس وقت بچے نے اسکول جانا شروع کیا تو مرغی خانے کو دھوپ اور بارشوں کی وجہ سے تباہ ہوے کچھ عرصہ گزر چکا تھا۔ فرشتہ ایک بھٹکتے ہوے جاں بہ لب آدمی کی طرح یہاں وہاں گھسٹتا پھرتا تھا۔ وہ اسے جھاڑو مار مار کر خوابگاہ میں سے نکالتے تو پل بھر بعد وہ باورچی خانے میں نظر آتا؛ وہ بیک وقت اتنے مقامات پر نظر آنے لگا کہ وہ یہ سوچنے لگے کہ وہ ایک سے دو ہو گیا ہے، کہ وہ گھربھر میں اپنی نوع کو بڑھاتا پھر رہا ہے؛ اور بھنّائی اور بولائی ہوئی ایلی سیندا چیخ پڑی کہ اس فرشتوں بھرے جہنّم زار میں جینا دُوبھر ہو گیا۔ وہ اب مشکل ہی سے کھا پاتا تھا، اور اس کی بوڑھی آنکھیں اتنی دُھندلا گئی تھیں کہ وہ ستونوں سے ٹکراتا پھرتا تھا۔ اب اس کے پاس جھڑے ہوے آخری پروں کے ننگے سرے ہی رہ گئے تھے۔ پیلایو اس پر کمبل ڈال دیتا اور اتنا احسان اور کرتا کہ اس کو سائبان میں پڑ رہنے دیتا۔ اور تب ہی انھوں نے دیکھا کہ رات کو اسے بخار ہو جاتا اور وہ ہذیانی سا ہو کر بوڑھے ناروے والوں کی طرح زبان گھمایا کرتا۔ یہ چند موقعوں میں سے ایک موقع تھا جب وہ پریشان ہو گئے، کیونکہ انھوں نے سوچا کہ اس کا آخری و قت آ گیا؛ اور پڑوس کی سیانی عورت بھی یہ بتانے سے قاصر تھی کہ وہ مرتے ہوے فرشتے کے لیے کیا کیا کریں۔

اس کے باوجود وہ نہ صرف یہ کہ اپنا بدترین موسمِ سرما جھیل گیا بلکہ دھوپ سے روشن دنوں کے شروع ہوتے ہی سنبھالا لیتا ہوا نظر آنے لگا۔ وہ صحن کے پرلے سرے پر، سب کی نظروں سے دور، کئی دنوں تک چاپ چاپ پڑا رہا، اور دسمبر شروع ہوتے ہی چند لمبے اور سخت پَر اس کے شہپروں پر نمودار ہونے لگے؛ بجوکے کے پَر جو اس سے کہیں زیادہ، ناتوانی کی ایک اور نحوست دکھائی دیتے تھے۔ مگر وہ اپنی تبدیلیوں کی وجہ ضرور جانتا ہو گا، اسی لیے وہ اس بات کا بہت خیال رکھتا تھا کہ کوئی ان تبدیلیوں کو دیکھ نہ لے، کوئی وہ سمندری گیت نہ سن لے جو وہ وقتاًفوقتاً تاروں کی چھاؤں میں گنگنایا کرتا تھا۔ ایک صبح ایلی سیندا بیٹھی پیاز کتر رہی تھی کہ ہوا کا ایک جھونکا، جو سمندروں پر سے ہوتا ہوا آ رہا تھا، باورچی خانے میں در آیا۔ وہ اٹھ کر دریچے کے پاس گئی اور تب ہی اس نے فرشتے کو اُڑان بھرنے کی ابتدائی کوششیں کرتے ہوے دیکھ لیا۔ یہ کوششیں اس قدر بھونڈی تھیں کہ اس کے ناخنوں نے سبزی کی کیاری میں گہرا نشان ڈال دیا تھا، اور اپنے پروں کی بھدی سی پھڑپھڑاہٹ سے، جو ہوا میں ٹِک نہیں پا رہے تھے، وہ سائبان کو گرانے ہی والا تھا۔ پھر بھی وہ تھوڑا بہت اوپر اٹھنے میں کامیاب ہو گیا۔ ایلی سیندا نے جب اس کو ایک پھُوس عقاب کی طرح تشویش ناک انداز میں پَر ہلا ہلا کر، اور کسی نہ کسی طرح خود کو ہوا میں سنبھالے سنبھالے، آخری مکانوں کے اوپر سے دور ہوتے دیکھا تو اس نے خود اپنے لیے اور اس کی خاطر اطمینان کا سانس لیا۔ وہ اسے دیکھتی رہی، پیاز کترنے سے فارغ ہونے کے بعد بھی وہ تکتی رہی، اور اس وقت تک نظریں جمائے رہی جب تک کہ وہ نظروں سے اوجھل نہ ہو گیا۔ کیونکہ اب وہ اس کے جی کا جنجال نہ تھا بلکہ سمندری افق پر ایک خیالی نقطہ تھا۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔
Categories
فکشن

دنیا بھر کا حسین ترین ڈوب مرنے والا (گابریئل گارسیا مارکیز)

[blockquote style=”3″]

عطا صدیقی کے تراجم لالٹین پر اجمل کمال کے تعاون سے پیش کیے جا رہے ہیں۔ اجمل کمال کراچی پاکستان سے شائع ہونے والے سہ ماہی ادبی جریدے “آج” کے بانی اور مدیر ہیں۔ آج کا پہلا شمارہ 1981 میں شائع ہو تھا۔ آج نے اردو قارئین کو تراجم کے ذریعے دیگر زبانوں کے معیاری ادب سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ اردو میں لکھنے والے ادیبوں اور شاعروں کے کام سے بھی متعارف کرایا۔ سہ ماہی آج کو سبسکرائب کرنے اور آج میں شائع ہونے والی تخلیقات کو کتابی صورت میں خریدنے کے لیے سٹی پریس بک شاپ یا عامر انصاری سے رابطہ کیا جا سکتا ہے:
عامر انصاری: 03003451649

[/blockquote]
انگریزی سے ترجمہ:عطا صدیقی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پہلے پہل جن بچوں نے اس پراسرار ڈولتے اُبھار کو سمندر کی جانب سے اپنی طرف بہہ کر آتے دیکھا انھوں نے خیال کیا کہ دشمن کا کوئی جہاز ہوگا۔ پھر ان کو نظر آیا کہ اس پر نہ تو کوئی مستول ہے اور نہ کوئی پھریرا، تو اس کو ویل سمجھا۔ مگر جب وہ کنارے آ لگا اور جب انھوں نے اس پر سے سمندری جھاڑ جھنکار، جیلی فش کے پنجے، مچھلیوں کے بچے کھچے حصے اور تیرنے والا کباڑ صاف کرلیا، تب ہی ان کو معلوم ہوا کہ وہ کوئی ڈوب کر مر جانے والا ہے۔

ساری سہ پہر وہ اس سے کھیلتے رہے؛ کبھی اس کو بالُو میں دبا دیتے، کبھی اس کو نکال لیتے، کہ اتفاقاً کسی کی نظر ان پر پڑ گئی اور اس نے گاؤں میں خبر پھیلا دی۔ جو لوگ اس کو اٹھا کر قریب ترین گھر تک لائے، انھوں نے دیکھا کہ وہ ان تمام مُردوں سے کہیں زیادہ بھاری بھرکم ہے جن سے اب تک ان کا سابقہ پڑا تھا۔ وہ قریب قریب گھوڑے جتنا لدّھڑ تھا۔ انھوں نے ایک دوسرے سے کہا کہ ہوسکتا ہے کافی عرصے تک پانی میں رہنے کی وجہ سے پانی اس کی ہڈیوں تک میں اتر گیا ہو۔ جب ان لوگوں نے اس کو فرش پر لٹا دیا تو بولے کہ یہ تو باقی سب لوگوں سے زیادہ دراز قد نکلا، کیونکہ گھر کے اندر اس کی سمائی کے لیے جگہ ناکافی تھی، مگر انھیں خیال آیا کہ شاید مر جانے کے بعد بھی بالیدگی کی صلاحیت بعض ڈوب مرنے والوں کی فطرت میں شامل ہو۔ اس میں سے سمندری بساند اٹھ رہی تھی اور صرف اس کی بناوٹ ہی سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ وہ کوئی انسانی لاش ہے کیونکہ اس کی جلد مٹی کی پپڑیوں اور مچھلیوں کے سفنوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔

اتنا معلوم کرنے کے لیے کہ مرنے والا کوئی اجنبی ہے، انھیں اس کا چہرہ صاف کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ گاؤں میں کوئی بیس ایک پتھریلی انگنائیوں والے چوبی مکانات تھے جن میں پھول پودے نام کو نہیں تھے اور سب کے سب ایک ریتیلی راس کے کنارے کنارے پھیلے ہوے تھے۔ وہاں زمین اتنی کم تھی کہ مائیں ہر وقت ڈری سہمی رہتی تھیں کہ کوئی جھکّڑ کہیں ان کے بچوں کو اُڑا نہ لے جائے، اور وقتاً فوقتاً مر جانے والوں کو ساحلی چٹانوں کے کنارے لے جا کر سمندر میں ٹھنڈا کردیا جاتا تھا۔ مگر سمندر پُرسکون اور بڑا سخی داتا تھا اور گائوں کے کُل مرد سات کشتیوں میں سما جاتے تھے۔ اس لیے لاش ملنے کے بعد انھوں نے بس ایک نظر ایک دوسرے پر ڈال کر تسلی کرلی کہ وہ سب کے سب موجود ہیں۔

اس رات وہ اپنی روزی کی تلاش میں سمندر کی طرف نہیں گئے۔ مرد آس پاس کی بستیوں میں یہ معلوم کرنے نکل گئے کہ کہیں کوئی لا پتا تو نہیں، اور عورتیں ڈوب مرنے والے کی دیکھ بھال کے لیے پیچھے رہ گئیں۔ انھوں نے گھاس کی کوچیوں کی مدد سے اس کے بدن پر لگی ہوئی کیچڑ کو صاف کیا، اس کے بالوں میں پھنسی سمندری بالُو کو نکالا اور مٹی کے پپّڑوں کو مچھلیوں کے سفنے اتارنے والے اوزاروں سے کھرچا۔ یہ کام کرتے کرتے انھوں نے بھانپ لیا کہ جو جھاڑ جھنکاڑ اس کے جسم سے چمٹا ہوا ہے وہ دور دراز کے گہرے پانیوں سے آیا ہے اور اس کے بدن پر لبیریاں لگی ہوئی ہیں جیسے وہ مونگوں کی بھول بھلیوں میں سے ڈبکنیاں کھاتا ہوا آیا ہو۔ انھوں نے یہ بھی دیکھ لیا کہ وہ اپنی موت کو خودداری کے ساتھ سہہ رہا ہے؛ نہ تو اس کا منھ دوسرے ڈوب مرنے والوں کی مانند اُجاڑ اُجاڑ سا تھا اور نہ دریا میں غرق ہونے والوں کی طرح بھک منگوں کا سا اُترا اُترا تھا۔ اس کو پوری طرح پاک صاف کرلینے کے بعد ہی یہ عیاں ہوسکا کہ وہ کس قسم کا آدمی تھا، اور ان کا اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔ نہ صرف یہ کہ وہ ان سب مردوں میں جو اب تک ان کی نظر سے گزرے تھے، سب سے زیادہ دراز قد، سب سے زیادہ توانا، سب سے زیادہ زور آور اور سب سے زیادہ خوش اندام تھا بلکہ اتنا تکے جانے کے باوجود وہ ان کے تصور میں سما نہیں پا رہا تھا۔

گاؤں بھر میں نہ تو اتنا بڑا پلنگ دستیاب تھا جس پر اس کو لٹایا جاسکتا اور نہ کوئی میز اتنی سخت تھی جو اس کی سوگ جاگ کے لیے استعمال کی جاسکتی۔ اس کے بدن پر نہ تو سب سے لانبے آدمی کا کوئی بڑھیا پتلون چڑھا، نہ سب سے موٹے آدمی کی اتوار کو پہنی جانے والی قمیص اور نہ سب سے بڑے پیر والے کے جوتے۔ اس کے پہاڑ سے تن و توش اور اس کے حسن سے مسحور ہوکر عورتوں نے طے کیا کہ وہ بادبان کے کسی بڑے ٹکڑے سے اس کے لیے پتلون بنائیں اور عروسی لنن سے قمیص تیار کریں، تاکہ وہ راہِ عدم کا سفر اپنی حیثیت کے مطابق طے کرسکے۔ جب وہ جھرمٹ مارے سلائی میں جٹی تھیں اور ٹانکے بھرتے بھرتے ٹکر ٹکر اس کو دیکھے جا رہی تھیں تو ان کو یوں لگا کہ نہ تو ہوا کبھی اتنی یکساں یکسا ں رفتار سے چلی اور نہ سمندر کبھی اس قدر بے چین بے چین سا رہا جس قدر وہ آج رات ہے، اور انھوں نے فرض کرلیا کہ ہو نہ ہو مرنے والے کا اس تبدیلی سے کوئی واسطہ ضرور ہے۔ انھیں خیال آیا کہ اگر وہ عظیم الشان انسان ان کے گاؤں میں رہتا ہوتا تو اس کے مسکن کے دروازے سب سے کشادہ، چھت سب سے بلند اور فرش سب سے مضبوط ہوتا؛ اس کی مسہری کسی جہازوں والی لکڑی کی پیٹیوں سے بنی ہوتی جن کو لوہے کے پیچوں سے کسا گیا ہوتا، اور اس کی بیوی خورسند ترین عورت رہی ہوتی۔ انھوں نے سوچا کہ اس کا اس قدر رعب و دبدبہ ہوتا کہ وہ مچھلیوں کو نام بہ نام پکار کر سمندر میں سے بلا لیا کرتا۔ اور اس نے اپنی زمینوں پر اس قدر محنت کی ہوتی کہ چٹانوں میں سے چشمے ابل پڑے ہوتے اور یوں اس نے سمندر کے ساحلی کراڑوں کو پھولوں کی تختہ بندی کے قابل بنا لیا ہوتا۔ دل ہی دل میں انھوں نے اس کا موازنہ اپنے اپنے مردوں سے کر ڈالا اور سوچا کہ وہ سب ساری عمر بھی کریں تو وہ سب کچھ نہیں کرسکتے جو وہ ایک رات میں کر گزرا ہوتا، اور انھوں نے اپنے اپنے دلوں کی گہرائیوں میں اپنے اپنوں کو زمانے بھر میں سب سے زیادہ بودا، سب سے زیادہ گھٹیا اور سب سے زیادہ نکما آدمی ٹھہرا کر دل سے نکال دیا۔ وہ اپنے تصورات کی بھول بھلیوں میں گم تھیں کہ اتنے میں ان میں سے سب سے بڑی عمر والی عورت، جو عمر رسیدہ ہونے کے باعث ڈوب مرنے والے کو محبت سے زیادہ شفقت بھری نظر سے دیکھ رہی تھی، بولی، ’’صورت تو اس کی ایستے بان نامی شخص کی سی ہے۔‘‘

بات پتے کی تھی۔ اس کا کوئی اور نام ہو ہی نہیں سکتا، اتنی بات مان لینے کے لیے ان میں سے اکثر کو اس پہ بس ایک نظر اور ڈالنی پڑی۔ وہ عورتیں جو عمر میں سب سے کم تھیں اور خود سر بھی، چند گھنٹے اس تصور میں مگن رہیں کہ جب وہ اس کو نئے کپڑے پہنا دیں گی اور وہ چمکدار جوتے ڈاٹے، پھولوں کے بیچ لیٹا ہوگا تو لاتارو نام شاید اُس پر زیادہ جچے، مگر یہ ایک خام خیال تھا۔ ان کے پاس کینوس خاطرخواہ نہیں تھا، پھر بُرابیونتا گیا اور خراب تُرپا گیا پتلون تنگ بھی بہت تھا، اور درونِ دل کسی دبی قوت سے اس کی قمیص کے بٹن بھی پٹ پٹ کھل گئے تھے۔ ہوا کی سائیں سائیں بند ہوچکی تھی اور سمندر کو بھی اپنی بدھ کے دن والی اونگھ آگئی تھی۔ اس سکوت نے گویا ان کے آخری شبہات بھی دور کردیے؛ وہ ایستے بان ہی تھا۔ جب ان کو اس کا فرش پر گھسیٹا جانا مجبوراً برداشت کرنا پڑا تو وہ عورتیں جنھوں نے اس کے کپڑے بدلائے تھے، بال سنوارے تھے، ناخن تراشے تھے اور حجامت بنائی تھی، ترس کے مارے کپکپانے سے باز نہ رہ سکیں۔ اس وقت کہیں جاکر ان کی سمجھ میں آیا کہ وہ اپنے اس جہاز کے جہاز ڈیل ڈول کے ہاتھوں کتنا تنگ رہتا ہوگا جبکہ مرنے کے بعد بھی اس قباحت نے اس کا پیچھا لے رکھا ہے۔ وہ اس کو جیتا جاگتا دیکھ سکتی تھیں؛ دروازوں میں سے ترچھا ہو کر گزرنے کی سزا بھگتتے ہوے، چھت کی کڑیوں سے سر ٹکراتے ہوے؛ کہیں ملنے گیا تو کھڑا رہنے پر مجبور، اس الجھن میں مبتلا کہ اپنے نرم گلابی سیل نما ہاتھوں کا کیا کرے، جبکہ خاتونِ خانہ گھر بھر کی سب سے مضبوط کرسی چن کر اپنا دم خشک کیے کیے اس کو پیش کرتی، لو ایستے بان اس پر بیٹھ جاؤ، اور وہ دیوار سے ٹیک لگائے لگائے مسکراتا، نہیں مادام تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں؛ ہر ملاقات پر بار بار یہی کرتے کرتے اس کے تلوے چھلنی اور پیٹھ سوختہ ہوچکی تھی مگر کرسی توڑ دینے کی شرمندگی سے بچنے کے لیے ہمیشہ وہی ایک بات: نہیں مادام، تکلف کی ضرورت نہیں، میں ایسے ہی ٹھیک ہوں، اور غالباً اس بات سے قطعی ناآشنا رہتے ہوے کہ جو ابھی ابھی یہ کہتیں کہ رُکو ایستے بان، کافی تیار ہونے تک تو رک جاؤ، وہی پیٹھ مڑتے ہی زیرِ لب بول اٹھتیں، آخرکار ٹل گیا دیوپیکر بوبک، اچھا ہوا خوبصورت بھوندو گیا۔ دن نکلنے سے ذرا پہلے لاش کے چاروں طرف بیٹھی ہوئی عورتیں یہی کچھ سوچ رہی تھیں۔ بعد میں جب انھوں نے رومال سے اس کا منھ اس لیے ڈھک دیا کہ دھوپ اس کو کہیں نہ ستائے، تو وہ ان کو جنم جنم کا مرا ہوا لگا، بے یار و مددگار، بالکل ان کے اپنے مردوں کا سا، اور رقت نے ان کے کلیجوں میں ابتدائی دراڑیں ڈال دیں۔ وہ کوئی نوجوان عورت تھی جس نے پہلے پہل رونا شروع کیا؛ دوسری عورتیں بھی اس کی دیکھا دیکھی ٹھنڈی آہوں سے لے کر بین تک کرنے لگیں، اور جتنی زیادہ وہ سسکیاں بھرتیں اتنا ہی زیادہ ان کا دل امنڈتا کہ ڈوب مرنے والا اب ان کی نظروں میں عین مین ایستے بان ہوتا جا رہا تھا؛ چنانچہ وہ خوب پھوٹ پھوٹ کر روئیں، کیونکہ وہی تو دنیا بھر میں سب سے زیادہ محروم، سب سے زیادہ صلح کل، سب سے زیادہ بامروت تھا، بے چارہ ایستے بان۔ اس لیے جب مرد لوگ یہ خبر لے کر لوٹے کہ مرنے والا آس پاس کی کسی بستی کا نہیں تو عورتوں کو اپنے آنسوئوں کی جھڑی میں مسرت پھوٹتی محسوس ہوئی۔
’’خداوند کی حمد ہو،‘‘ انھوں نے ٹھنڈی سانس بھری، ’’یہ اپنا ہے!‘‘

مردوں نے اس کہرام کو زنانہ خرافات جانا۔ رات بھر کی کٹھن پوچھ تاچھ سے بے حال ہوچکنے کے بعد وہ تو بس اتنا چاہتے تھے کہ کسی طرح اس خشک اور ہوا بند دن، دھوپ چڑھ جانے سے پہلے پہلے، اس نووارد کے جھنجھٹ سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے فارغ ہوجائیں۔ انھوں نے فالتو پڑے ہوے بادبانوں اور ماہی گیری کے نیزوں کو جوڑ جاڑ کر ایک ڈولا سا بنایا اور اس کو رسیوں سے خوب کس کس کر باندھا تاکہ وہ اس کا بوجھ اس وقت تک برداشت کر لے جائے جب تک وہ چٹانوں کے کنارے تک نہ پہنچ جائیں۔ وہ بار بردار جہاز کا لنگر بھی باندھنا چاہتے تھے تاکہ وہ بہ آسانی قعرِ دریا میں اتر جائے جہاں مچھلیوں کو بھی کچھ سجھائی نہیں دیتا اور جہاں غوطہ خور تک خشکی کی ہُڑک میں ختم ہوجاتے ہیں، اور پھر اس لیے بھی کہ تُند لہریں اس کو دوبارہ کنارے پر نہ لے آئیں، جیساکہ دوسری کئی لاشوں کے ساتھ ہوچکا تھا۔ مگر مرد جتنی جتنی عجلت کرتے، عورتیں وقت ٹالنے کی اُتنی اُتنی ترکیبیں نکالتیں؛ اپنے سینوں پر سمندری تعویذ جھلاتی وہ بے چین مرغیوں کی مانند کُڑکُڑاتی پھر رہی تھیں۔ کچھ ایک جانب سے مداخلت کرتیں کہ مرنے والے کو مبارک ہوا والا منّتی احرام پہنایا جائے تو چند دوسری جانب سے رائے دیتیں کہ اس کی کلائی پر قطب نما باندھا جائے؛ اور ’’ایک طرف ہوجا بی بی، راستے سے ہٹ، دیکھو دیکھو! مجھے مُردے پر گرا ہی دیا تھا‘‘ کی کافی سے زیادہ چِل پوں کے بعد آخرکار مردوں کے دلوں میں شکوک سر اٹھانے لگے اور انھوں نے بڑبڑانا شروع کردیا کہ ایک اجنبی کی خاطر بڑی قربان گاہ والے اتنے سارے چڑھاوے آخر کیوں، کیونکہ چاہے جتنی بھی میخیں چڑھائو اور متبرک پانی کے جتنے چاہو اتنے برتن چڑھادو، پر شارک بہرصورت اس کو چٹ کر جائیں گی۔ مگر عورتیں تھیں کہ لپک جھپک گرتی پڑتی اپنے تبرکات کا سارا کباڑ لا لا کر اس پر نچھاور کیے جا رہی تھیں اور ساتھ ہی ساتھ جو کچھ اپنے آنسوئوں سے ظاہر نہیں کر پا رہی تھیں وہ ٹھنڈی آہوں کی صورت نکال رہی تھیں، یہاں تک کہ مرد لوگ آپے سے باہر ہوگئے۔ ’’ارے ایک بھٹکتی لاش، ایک انجانے بے حقیقت آدمی، ایک بُدھواری ٹھنڈے گوشت کی خاطر اتنے چونچلے کبھی کاہے کو ہوے تھے جو اَب ہونے لگے؟‘‘ احترام کی اس کمی سے دل برداشتہ ہوکر ان میں سے ایک عورت نے مرنے والے کے منھ پر سے رومال ہٹا دیا، اور پھر تو مردوں کی بھی اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔

وہ ایستے بان تھا۔ اس کو پہچان لینے کے لیے ان کے سامنے اس کا نام دہرانے کی ضرورت نہیں تھی۔ اگر کہا جاتا کہ سر والٹرریلے، تو وہ شاید اس کے فرنگی لہجے، اس کے کندھے پر بیٹھے طوطے، اس کی آدم خوروں کو مارنے والی توڑے دار بندوق کے رعب میں آگئے ہوتے، مگر ایستے بان تو سارے عالم میں بس ایک ہی تھا، اور وہ سامنے پڑا تھا، بالکل سفید ویل کی طرح، جوتے اتارے، کسی بونے کا پتلون چڑھائے، سخت سخت ناخونوں والا، جن کو چاقو سے تراشنا پڑا تھا۔ یہ جان لینے کے لیے بس اس کے چہرے سے رومال ہٹنے کی دیر تھی کہ وہ بہت نادم ہے،یوں کہ اس میں اس کا کوئی قصور نہیں کہ وہ اتنا جہاز کا جہاز، اتنا بھاری بھرکم اور اتنا صورت دار ہے، اور جو کہیں اس کو یہ معلوم ہوجاتا کہ سب کچھ یوں ہوگا تو اس نے اپنی غرقابی کے لیے کوئی الگ تھلگ سی جگہ دیکھی ہوتی۔ مذاق نہیں، میں تو بلکہ حالات سے بیزار ہوجانے والے آدمی کی طرح اپنے گلے میں کسی جنگی جہاز کا لنگر باندھ بوندھ کر کسی کراڑ پر سے جا لڑھکتا تاکہ اب تو اس بدھواری لاش کی طرح لوگوں کو پریشان نہ کروں۔ بقول آپ لوگوں کے، ٹھنڈے گوشت کے اس غلیظ لوتھڑے سے کسی کا ناک میں دم کیوں کیا جائے جس سے اب میرا کوئی واسطہ بھی نہ ہو۔ اس کے انداز میں اس قدر کھری صداقت تھی کہ نہ صرف ان سب سے زیادہ وہمی لوگوں کے، جو کہ سمندر میں گزاری ہوئی ان بے انت راتوں کی تلخیوں کو محسوس کرسکتے تھے جن میں ان کو یہ خوف کھائے جاتا تھا کہ کہیں ان کی عورتیں ان کے خواب دیکھتے دیکھتے تھک ہار کر غرق ہوجانے والوں کے خواب نہ دیکھنے لگی ہوں، بلکہ دوسرے ان سے بھی بڑھ کر سخت لوگوں تک کے تن بدن کے رونگٹے ایستے بان کی بے ریائی پر کھڑے ہو گئے۔

اور یوں انھوں نے اپنی ذہنی اُڑان کے مطابق ایک لاوارث ڈوب مرنے والے کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے اٹھایا۔ جب کچھ عورتیں پھولوں کی تلاش میں قریب کے گاؤں میں گئیں تو وہاں سے ان عورتوں کو ساتھ لے آئیں جن کو سنی سنائی پر اعتبار نہ آیا تھا، اور جب انھوں نے مرنے والے کے دیدار کرلیے تو وہ مزید پھول لانے چل دیں اور پھر تو اور آتے گئے، اور آتے گئے، یہاں تک کہ وہاں اس قدر پھول اور اتنی زیادہ خلقت جمع ہوگئی کہ پیر سرکانے بھر کی جگہ نہ رہی۔ آخری لمحات میں ان کا دل اس بات پر دُکھا کہ اس کو یتیمی کی حالت میں پانی کے سپرد کردیا جائے، اور انھوں نے اپنے معتبرین میں سے اس کے باپ اور ماں کو منتخب کیا، اور خالائیں اور پھوپھیاں اور چچا اور ماموں اور خلیرے اور چچیرے اور ممیرے بھائی بند، یہاں تک کہ اس کے توسط گائوں کا گائوں ایک دوسرے کا قرابت دار بن گیا۔ چند ملاح جنھوں نے دور سے ان کے بین سنے، اپنے راستے سے بھٹک گئے؛ اور لوگوں نے ایک کے بارے میں یہاں تک سنا کہ اس نے قدیم داستانوں کی سائرن عورتوں کا گمان کرتے ہوے خود کو مرکزی مستول سے کس کر بندھوا لیا۔ جس وقت وہ سب چٹانو ں کی کھڑواں رپٹ پر اس کو اپنے اپنے کاندھوں پر اٹھانے کے شرف کے لیے ٹوٹے پڑ رہے تھے، اس وقت اپنے ڈوب مرنے والے کے کرّوفر اور حسن کا سامنا کرتے ہوے، کیا مرد اور کیا عورتیں، سب ہی کو پہلی بار اپنی گلیوں کی ویرانی، اپنی انگنائیوں کی بے برگ و باری اور اپنے خوابوں کی تنگ دامنی کا احساس ہوا۔ انھوں نے اس کو لنگر کے بغیر ہی جانے دیا تاکہ اگر وہ آنا چاہے تو واپس آ سکے، جب بھی وہ آنا چاہے۔ اور جُگوں کے اس مختصر ترین پل تک وہ سب دم سادھے رہے جب تک کہ لاش گہرائی میں نہ پہنچ گئی۔ یہ جان لینے کے لیے کہ وہ سب نہ اب وہاں موجود ہیں اور نہ کبھی ہوں گے، انھیں ایک دوسرے کی طرف دیکھنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ مگر وہ اتنا ضرور جان گئے تھے کہ اس وقت کے بعد ہر چیز کی کایا پلٹ جائے گی؛ اب ان کے گھروں کے دروازے کشادہ، چھتیں بلند اور فرش مضبوط ہوا کریں گے، تاکہ ایستے بان کی یاد جہاں چاہے کڑیوں سے سر ٹکرائے بغیر آجا سکے اور آئندہ کسی کو بھی زیرِ لب یہ کہنے کی ہمت نہ ہو کہ دیوپیکر بوبک آخرکار مر گیا، بہت برا ہوا خوبصورت بھوندو انجام کار جاتا رہا، کیونکہ اب وہ ایستے بان کی یاد کو ہمیشہ ہمیشہ تازہ رکھنے کے لیے اپنے گھروں کو باہر سے چٹکیلے رنگوں سے رنگنے جا رہے تھے اور چٹانوں کے درمیان سے چشمے نکالنے اور کراڑوں پر پھولوں کی تختہ بندی کرنے کے لیے جی توڑ مشقت کرنے جا رہے تھے، تاکہ آنے والے زمانوں میںصبح سویرے بڑے بڑے جہازوں کے مسافر سمندر پر آتی ہوئی پھولوں کی مہکار سے گھٹ کر جاگ اٹھیں، اور کپتان کو اپنی پوری وردی، اپنے اسطرلاب، اپنے قطب تارے اور جنگ میں کمائے ہوے اپنے تمغوں سمیت عرشے پر اتر کر آنا پڑے، اور پھر سامنے افق پر گلابوں کی پٹی کی جانب اشارہ کرتے ہوے وہ چودہ زبانوں میں کہے: اُدھر دیکھو جہاں ہوا اتنی پُرسکون ہے جیسے کیاریوں میں پڑی نیند لے رہی ہو، اُدھر جہاں دھوپ اتنی روشن روشن ہے کہ سورج مکھی بھی حیران ہے کہ کدھر منھ کرے، وہاں اُس طرف، وہی ایستے بان کا گاؤں ہے۔

آج اور اجمل کمال کے تعاون سے شائع کی جانے والی مزید تحاریر اور تراجم پڑھنے کے لیے کلک کریں۔