Categories
شاعری

آج کے دن

آج کے دن کوئی سستی نہیں کی جا سکتی
کپڑے بکھرے پڑے ہیں
فرنیچر پر دھول جم گئی ہے
کھانے کی میز کتابوں سے بھر گئی ہے
فرج میں کھانا ختم ہو چکا ہے
دفتر سے جتنی چھٹیاں کر سکتی تھیں کر چکی ہو
مزید چھٹی کی تو تنخواہ کٹ جائے گی
کپڑوں کو الماری میں رکھو
فرنیچر صاف کرو
ہر طرف بکھری کتابوں کو ان کی جگہوں پر رکھو
فرج کو کھانوں سے بھرو
اور دفتر کی تیاری کرو
آج کے دن نظموں کو چھٹی دے دو

Categories
شاعری

خاتون خانہ

میں اپنی اولاد کے لئے
دودھ کی ایک بوتل
اپنے صاحب کے لئے تسکین
گھر کے لیے مشین
اور اپنے لیے
ایک آہٹ بن کے رہ گئی ہوں
میرا گھر
جہاں مجھے رات اور دن
انتظار کے دہکتے ہوئے لمس
لپیٹ کر سونا پڑرہا ہے
خیال کی ادھ سلی باس سے
کلائیوں کے گجرے گوندھ کر
سنگھار کرنا پڑرہا ہے
تنہائیوں کے سوال
ہونٹ کی سرخیوں کی
تہوں میں دبا کر
الوداعی بوسوں کا
جواب سہنا پڑرہا ہے
خموش ٹٹولتی ہوئی
پتلیاں، کاجلوں کی لکیروں کی جگہ
سجا کر آنسوؤں کے درمیان
ہنسنا پڑرہا ہے
میرا گھر جہاں مجھے اشیاء صرف کی طرح
رہنا پڑرہا ہے

Image: Shadi Ghadiran

Categories
شاعری

ہم تمہیں اورتمہارے فیصلوں کو منسوخ کرتے ہیں

ہم تمہیں اورتمہارے فیصلوں کو منسوخ کرتے ہیں
تو تم نے!
ایک کٹورا تیل
اور سونے کے چند سکے
اب اس میز کو بھی خیرات کردئے
جس کے گرد بیٹھ کے
تمہارے ہی جیسے عیار تاجر
عورت کے حقوق کا فیصلہ کریں گے
تم !!
تم نے آج تک عورتوں
کو ریوڑ کے طرح رکھنے
اورگولیاں پھانک کے
آسودگی کے لمحات کو
برا بھلا گزارنے کے سوا کیا کیا ہے؟
اے آل سعود !!
تم مکارعادتوں کے غلام ہو
عورت کی عادت
سجدے اورطواف بیچنے کی عادت
سفید مچھیروں ک جوتے چاٹنے کی عادت
تمہاری عیارعادتوں کو
ہم !!
اپنے فیصلوں
اوراپنے حقوق کی گفتگوسے دھتکارتے
اورمنسوخ کرتے ہیں

Image: Shirin Neshat

Categories
شاعری

ہماری خاموشی، تمہاری داستانیں

ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
اک گہرا ربط ہے

تم نے سنائیں ہمیں پریوں کی کہانیاں
ہم نے بنا لی اک جادو بھری کوٹھری

تم نے سنائیں ہمیں عشقیہ داستانیں
ہم نے اپنا لیا محبت میں مٹ جانے کا اصول

تم نے سنائے ہمیں اچھی بیویوں اور ماؤں کے قصے
ہم نے بنا لیا اپنے خون سے اک گھر

تم نے سنائے ہمیں وطن کے لیے قربانیوں کے افسانے
ہم نے ترجیح دی پردیس کی شاہراہوں پر اپنی تنگ گلی کو

تم نے سنائیں ہمیں عظیم اموات کی حکایتیں
ہم نے انتظام کر لیا اک با عزت موت کا

ہم خاموش لوگوں کو کبھی کسی نے یاد نہ کیا
اور تم رہے مقبول اپنی داستانوں کے ساتھ
بد نما حقیقتوں کے درمیان
نفرتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے
بغیر کسی گھر کے
پردیس کی شاہراہوں میں
ایک گمنام موت مر جانے کے لیے۔

لیکن ہمیشہ رہے گا
ہماری خاموشی اور تمہاری داستانوں کے درمیان
ایک گہرا ربط
جوتمہیں نہیں معلوم

Image: Penelope Slinger

Categories
شاعری

تلاش

تلاش
میں جب پیدا ہوئی
تو میرا آدھا وجود
میری نال سمجھ کر
مٹی میں دبا دیا گیا اور میں
اپنے جنم سے لے کے آج تک
اپنے گم شدہ حصے کی تلاش کر رہی ہوں
شروع شروع میں مجھے لگا
کہ میرا آدھا وجود میری ماں کی کوکھ
یا باپ کی آنکھ میں دفن ہے
مگر میری ہزار ہا کرید کے باوجود
مجھے میرا وجود نہیں ملا
پھر مجھے لگا کہ میرا وجود
غلطی سے میرے محبوب کی روح میں
گوندھ دیا گیا ہے
مگر سالہا سال کی کھوج کے بعد
خبر ملی کہ جسے میں اپنا وجود
سمجھ رہی تھی وہ تو اس کی اپنی نال تھی
جو بہت تلاش کے بعد
اس نے خود میں چھپالی تھی
اب مجھے لگ رہا تھا
کہ میری نال میرے بچے کے وجود میں
ڈھل گئی ہے
مگر جیسے جیسے وہ بڑا ہورہا ہے
اسے تو خود اپنی نال کی تلاش کی عادت پڑگئی ہے

سو مجھے یقین ہے
کہ میری نال خود مجھے
میری قبر تک
تلاش کرتی ہوئی پہنچ جائے گی

Image: Frida Kahlo

Categories
شاعری

اسیری

اسیری
شاعرہ: لی میرے کل
ترجمہ: نسیم سید

میں اب تک تمہیں
یعنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اپنے غاصبوں کو
یقین دلانے کی
کوشش کرتی رہی
“بے وقوف نیٹوعورتیں”
نہیں!!
نہیں !!
میں ان جیسی نہیں ہوں
میں تمہارے بنائے
اور تمہارے سمجھائے
سانچے میں
ڈھل چکی ہوں
میں نے تمہاری
پلائی ہوئی
شراب کے نشہ سے
خود کودھت کرلیا
تمہاری زبان
بڑی محنت سے سیکھی
تمہاری عورتوں جیسا
بننے کی کوشش کی
مگر۔۔۔۔۔۔
آج یہ نطم لکھتے ہوئے
میرے ماتھے پر
شرمندگی کا پسینہ ہے
تمہارے معیار پر
پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا
گویا !!
میں اب تک اسیر ہوں