Categories
نقطۂ نظر

طلاق کی روایت اور مسلمانوں کا رویہ

اس وقت ہندوستان میں مسلمانوں کے تعلق سے دو تین باتیں بہت زیادہ شور میں ہیں۔انہی میں تین طلاق کی بابت کافی کچھ کہا سنا جارہا ہے،نیوز چینلز ڈبیٹ کرارہے ہیں، قانونی چارہ جوئی ہورہی ہے۔مسلمان مرد و عورت بھی اس سلسلے میں دو الگ الگ خانوں میں بٹ گئے ہیں، جن میں کچھ کا ماننا ہے کہ اس معاملے میں حکومت کی دخل اندازی دراصل مذہبی معاملات میں دخل اندازی جیسا معاملہ ہے اور دوسری طرف ایک بھولے بسرے مسلمانوں کی نمائندگی کا دم بھرنے والے گرد آلود ادارے کی آنکھیں پھر چمکنے لگی ہیں ، جس کا نام مسلم پرسنل لا بورڈ ہے۔اس ادارے کے کارہائے نمایاں کیا ہیں، ان کا کچھ پتہ نہیں، یہ ادارہ ابھی تک مسلمانوں کی پچھڑی ہوئی حیثیت اور شناخت کو ختم کرنے کے لیے کیا کرتا رہا ہے، اس بارے میں کوئی سوال نہیں، اس ادارے نے مسلمانوں کے شدت پسندانہ رویے کی کتنی مذمت کی ہے ، کوئی ریکارڈ نہیں۔حتیٰ کہ ابھی چند روز پہلے تک یعنی جب تک تین طلاق کا مسئلہ وجود میں نہیں آیا تھا، بیشتر مسلمان اس ادارے کے نام سے بھی واقف نہ تھے، ابھی بھی بہت سے لوگوں سے اس کے کام کرنے کے طریقے، اس کی باڈی، اس میں موجود اہم افراد کے ناموں کے بارے میں سوال کیا جائے تو وہ جھینپتے ہوئے مسکرانے کے علاوہ کچھ نہ کرسکیں گے، لیکن پھر بھی اچانک حکومت کے اس اعلان پر کہ ہم مسلمان عورتوں کو تین طلاق کی اس لعنت سے چھٹکارہ دلائیں گے اورقانونی طور پر اس بات کا بندوبست کیا جائے گا کہ ہمارے ملک میں موجود ایک مخصوص مذہب کی عورتوں کو روبرو، موبائل پر، واٹس ایپ، فیس بک یا کسی اور پیغام کے ذریعے تین طلاق بھجوا کر ان سے زندگی بھر کے لیے رشتہ منقطع کرلینے کی فرسودہ روایت سے چھٹکارا دلایا جائے۔ایسے میں اچانک مسلم پرسنل لابورڈ کی حمیت جاگ گئی اور وہ تمام دوسرے اہم مسائل کو چھوڑ کر تین طلاق کے قائم رہنے کواسلام کے وجود کے لیے بے حد ضروری خیال کرنے لگا، بورڈ کا ماننا ہے کہ حکومت کی اس قسم کی دخل اندازی سے مذہبی قانون مجروح ہوتا ہے اور اللہ کے بنائے گئے قانون میں کسی کو بھی مداخلت کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔یعنی حکومت جب ایک ایسی چیز کو ختم کرنا چاہ رہی ہے جو قرآن و حدیث کے عین مطابق خدا کی سب سے ناپسندیدہ چیز ہے تو اسے ایک سیاسی لبادہ اڑھا کر اپنا نام چمکانے اور ادارے کو دوبارہ ذکر میں لانے کا سنہری موقع کیسے گنوایا جاسکتا ہے۔

 

اس موضوع پر بات کرتے ہوئے ہندوستان کے پڑھے لکھے مسلم طبقے کی بھی نگاہوں میں شک کے ڈورے تیر جاتے ہیں کہ آخر بھارتیہ جنتا پارٹی کو جو کہ مسلم دشمن پارٹی کے طور پر معروف رہی ہے، آخر ایسی کیا ضرورت آن پڑی کہ وہ تین طلاق کے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کررہی ہے اور مسلمان خواتین کی اتنی ہمدرد بن رہی ہے، یعنی سارا مسئلہ شک کی بنیاد پر قائم ہے، شک یہ ہے کہ ہمارے دین کا دشمن، ہماری ہمدردی کی بات کیوں کررہا ہے،یعنی بالراست یہ بات سب مانتے ہیں کہ یہ فیصلہ یا اقدام مسلمان عورتوں سے ہمدردی کی بنیاد پر ہی کیا جارہا ہے، مگر جہاں شک کے کیڑے رینگنے لگیں وہاں کسی کی ہمدردی کیسے قبول کی جاسکتی ہے اور وہ بھی اہل اسلام کے نزدیک، جو کسی دوسرے فرقے کی بات کو بھی شک کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں، دوسرے مسلک کے طریقوں میں بھی شک کا پہلو ڈھونڈ نکالتے ہیں، ان کے لیے دوسرے مذہب کے ماننے والوں کی ایسی باتیں ، شک نہ پیدا کریں گی، ممکن ہی نہیں۔مگر اصل مسئلہ شک کا نہیں ہے۔اصل مسئلہ ہے غلط بات کو غلط نہ سمجھنے کا، سپریم کورٹ کا فیصلہ بعد میں آئے گا، اس پر عمل کے منصوبے بعد میں بنیں گے۔پہلے تو یہ پوچھنا چاہیے کہ مسلمان اپنے مذہب کی ایسی کتنی باتوں کو اپنی زندگیوں میں روا رکھتے ہیں ، جو خدا کے نزدیک جائز ہیں، مثال کے طور پر خداکی راہ میں لڑنا، باندیاں رکھنا، چار شادیاں کرنااورداڑھی کا لازمی طور پر رکھناوغیرہ وغیرہ۔یہ سب وہ باتیں ہیں، جن کو ظاہر ہے تمام یا بیشتر مسلمان مرد ہندوستان میں پریکٹس میں نہیں لاسکتے یا لانا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اس سے ان کی زندگی کا نظام درہم برہم ہوجائے گا، موخرالذکر بات بالکل ٹھیک ہے، ایسی باتیں موجودہ زمانے سے مطابقت نہیں رکھتیں اور ان کو جاری رکھنے سے زندگیوں میں بہت سے مسائل پیدا ہونگے، اس لیے ضروری یہی ہے کہ انہیں چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ چھوڑی جاسکتی ہیں، ان کے چھوڑنے سے نہ مذہب کو کوئی فرق پڑرہا ہے اور نہ ان کی زندگی کو، البتہ ان کے جاری رکھنے سے بہت سے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور ان میں سے جو شخص آج بھی انہیں جاری رکھنا چاہتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے تو لامحالہ اس کی اپنی اور آس پاس موجود لوگوں کی زندگی اس سے متاثر ہوتی ہے۔اس لیے سب سے اہم پہلو یہی ہے کہ کیا طلاق کا وہ طریقہ جو کہ قرآن و حدیث کی رو سے بھی ثابت نہیں ہے اور جسے بعد میں رائج کیا گیا ہے ، اسے اپنے وقت کے مطابق چھوڑ کر مسلمان زندگیوں کو زیادہ بہتر بنائیں۔ایسے میں ان قوانین کی پشت پناہی کرنے والے ادارے ایک طرف مردوں کو یہ حوصلہ دیتے ہیں کہ کسی عورت کو یونہی بے یار و مددگار چھوڑ دینا، مہر کی حقیر سی رقم اس کے منہ پہ مار کراسے بے آسرا کردینا تمہارے لیے جائزہی نہیں عین مذہبی رو سے مستحسن بھی ہے کیونکہ یہ طریقہ اگر مستحسن نہ سمجھا جاتا اور اسے مسلمانوں کی نمائندگی کرنے کا دعویٰ کرنے والا مسلم پرسنل لابورڈ بھی غلط ہی سمجھتا تو اس کے قائم رہنے پر اس قدر اصرار نہ کرتا اور اپنے حلف نامے میں یہ کہتے ہوئے کچھ شرم محسوس کرتا کہ اللہ کے نزدیک چونکہ مرد عورت سے عقل میں بالاتر ہے اس لیے اسے طلاق کا حق دیا گیا ہے۔

 

اب اس میں سب سے زیادہ ضرورت کس بات کی ہے ، ضرورت ہے عورتوں کو سمجھنے کی۔عورتیں اگر یہ سمجھ جائیں کہ یہ لڑائی کسی اور کے حق کی نہیں، ان کے حق کی ہے۔وہ اگر یہ مانیں کہ مردوں کو کسی بھی طور پر اس طرح کے جبر کا عادی ہونے سے روکنا ضروری ہے تو وہ طلاق کے ایک طویل اور جائز طریقے پر غور کریں۔ طلاق ہرگز بری چیز نہیں ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب آپ کسی کے ساتھ زبردستی زندگی گزارتے ہیں، تو اس سے قبل آپ کو یہ یقین کرلینا ہوتا ہے کہ آپ کی ازدواجی زندگی پہلے ہی ختم ہوچکی ہے، اب آپ محض اسے سماجی مجبوری کے کندھوں کی مدد سے گھسیٹ رہے ہیں، اور اگر یہ رسہ ٹوٹا تو ظاہر ہے بے حد نقصان ہوسکتا ہے، لیکن اس کے لیے بوجھ اتار کر کچھ دیر تک تو اپنے ہم سفر کو یہ بات بتانی ضروری ہے کہ آپ اس کے ساتھ کیوں نہیں رہنا چاہتے اور جب آپ نے اس سماجی معاہدے کو قبول کیا ہے، جس کا فائدہ اٹھاکر آپ نے کئی سہاگ راتوں کے مزے لوٹے ہیں تو سماج کو جواب دینا بھی آپ کی ذمہ داری بنتی ہے۔اگر آپ اصولی طور پر شادی کے ہی مخالف ہوتے تو بات کچھ اور تھی، لیکن کسی ایک اصول کے زیر اثر اپنی زندگیوں کی بنیاد رکھنے والوں کو یہ حق کیسے حاصل ہوسکتا ہے کہ وہ رسہ تڑا کر بھاگ کھڑے ہوں، جبکہ اس سے دوسروں کی زندگی پر بہت برا سماجی، معاشی اور نفسیاتی اثر پڑسکتا ہے۔پھر اس ذمہ داری سے باہر نکلنے کے لیے آپ کو عورت کی کفالت کا کچھ انتظام کرنا ہوگا کیونکہ آپ ہی ہیں جو ایک طرف اسے پردے میں رکھنا چاہتے ہیں، اس کے اعتماد کا گلا گھونٹنا چاہتے ہیں، اس سے گھر کے سارے کام کاج کرانا چاہتے ہیں، اس کی ہنسنے بولنے اور اپنی مرضی سے زندگی گزارنے پر نظروں اور احکام کے بھاری ٹیکس لگاتے ہیں ،اس کے باوجود اگر عورت آپ کو اپنا شریک سفر مان رہی ہے، آپ کو اہمیت دے رہی ہے، آپ کے بچے پال رہی ہے تو ظاہر ہے کہ آپ کو منظر نامے سے یکدم غائب ہوجانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔

 

پھر ہندوستان کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ وہ دوسروں کی طرح اس وطن میں مین سٹریم کا حصہ کیوں نہیں بن پاتے، وہ کون سے ایسے عوامل ہیں، جن کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے ان کی کمر دوہری ہوگئی مگر مذہب کے ٹھیکیداروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔اور اب ا س استحصال کے جاری رکھنے کے لیے خود مسلمانوں کا ہی استعمال کیا جارہا ہے، ان سے کہا جارہا ہے کہ دیکھو، تمہارا مذہب خطرے میں ہے، کوڑے کھائو، ظلم سہو، بھوکے مرو، مگر اس رسم کو ختم کرنے کا خیال بھی دل میں نہ لائو جو تمہارے ہی رب کے نزدیک ناپسندہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ مسلمانوں کا خدا کے تعلق سے یہ کیسا کنفیوزن ہے جو انہیں خدا کی ہی ناپسندیدہ چیز کو ان ہی کی زندگیوں میں کم سے کم کرنے سے روک رہا ہے۔لیکن پھر سوچتا ہوں کہ مذہب کے اس جعلی تصور سے آزاد ہونے کے لیے کم از کم مذہب کا ہی بنیادی علم ہونا ضروری ہے، لیکن مدرسوں کی بھرمار والے اس ملک میں مسلمان لڑکے لڑکیوں کو قرآن بھی اس زبان میں پڑھایا جاتا ہے، جس کی انہیں سمجھ ہی نہیں ۔اس لیے مولوی جو کہے وہ بغیر سمجھے بوجھے ، قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے!
Categories
نقطۂ نظر

The Stigma of Divorce in Pakistan

Happily Ever After
Getting married is a giant leap of faith. You give up your independence and freedom to be half of a whole; and it feels right while you are taking the decision. Well… maybe not right, but in Pakistan ‘right’ is what you are expected to feel, even if every cell in your body is screaming otherwise. Welcome to the world of Arranged and Partly-Arranged Marriages. I use the term Partly-arranged to define marriages where the ‘boy’ and ‘girl’ (not man and woman, mind you) know each other, and the families from both sides come into the picture to take the final decision. If the families judge the match to be ‘acceptable’, the deal is finalized. Otherwise, love or no love, the couple has to break up.

Once the knot is tied, the girl leaves her home to go and live with the boy’s family. In the new surroundings, she’s expected not only to adjust immediately, but to love, respect, nurture and serve the whole extended family. And three cheers for Pakistani women, because they do. Even before knowing who they are going to marry, they are ready for the responsibilities of a new life, a new home, a different role and a new family. The man’s family becomes the new bride’s first priority while her own needs and her own family take the backseat.

Beyond Happily Ever After
Once the girl marries someone (oh did I say ‘marries’? I meant ‘gets married’. My apologies to all concerned). Once a girl gets married, she becomes the husband’s responsibility. And let’s not misunderstand anything here, girls love it. Now, what happens in the majority of marriages, in our society, is that instead of being considered a responsibility, where the husband is responsible for loving, supporting, protecting and taking care of his wife, the wife often becomes a property and a slave. Again, I will clarify that it doesn’t happen in all marriages in Pakistan; there are plenty of good and enlightened people around. I am only speaking of a percentage of the whole.

So in the setting of a marriage where the woman is expected to give everything and expect little, it’s natural for the woman to feel dissatisfied and unfulfilled. Again, the women here find ways to adjust with, and accept the less than perfect treatment they are receiving. Why? Because family unity is considered the most important thing in the society. This is of course rightly so, as it provides support, security and continuity to everyone. Plus, as everybody knows, life can’t be perfect!

However, what happens if the two main players in this chessboard of marriage in the background of close-knit families, and a conservative society, don’t get along? What they do is that they ignore it for as long as possible, and then one or both parties try to figure out ways to bridge the differences and the gaps. Sometimes that works. At other times, humans being humans, the differences can’t be bridged and the problems can’t be solved, particularly if they are of serious nature like verbal or physical abuse, suspicion, a deep revulsion, infidelity or sexual perversions or dysfunction.
The nature of the issues notwithstanding, if the situation escalates and is brought to the attention of family members, the elders of the family try to sort through the muck to save the relationship and children. Yet again, the burden of blame and responsibility and guilt is usually put on the woman’s shoulders. Isn’t she supposed to compromise and sacrifice for the sake of everyone? What kind of upbringing has she had? What kind of a mother gave birth to such a vocal, stubborn and selfish woman? Isn’t she supposed to keep everything under wraps, and maintain a glossy veneer of contentment and joy?

Repercussions
Suppose, the husband and wife can’t live together due to some illness, or one of the two is a homosexual and has just figured it out, or because there is violence in the relationship. Under those circumstances what would you do? Part ways, right?
Wrong.

The whole of the society will make sure that it’s the most difficult thing you’ve ever done in your life. Separation and divorce are hard on anyone; the psychological, emotional and financial setbacks are enough to tear a soul to tatters, along with the sense of failure, guilt and regret over what could have been done to keep the marriage going. Even when it’s clear that everything that could have been done was done, it’s hard, very hard to make little kids understand why they have a different home and lifestyle and sometimes even a different school. It rips your heart apart seeing your children going through emotional and psychological turmoil.

Factor in the role the society assumes: of judge and jury. Of smug self-satisfied spectators, who loved you when you were putting up with the torture and living in misery, with their anecdotes and sympathy, with their recipes to make it work, or make life hell for the ones who are responsible. Now they berate you, accuse you of unspeakable crimes, call you names, all behind your back. Because in refusing to be a victim or a martyr, you have challenged the core that survives and thrives on the chance to pity the underdog, not help and support.
Disgrace

How you manage to get a divorce in this country is a topic worthy of another detailed discussion. All I will say here is that it’s a nightmare of mammoth proportions, and what happens afterward is beyond description. You aren’t respected for who you are, only judged by the failure of your relationship. No one wants to know beyond that you are divorced. It doesn’t matter why it happened. Well, it shouldn’t. It’s a personal matter. But society will give a verdict anyway. Congratulations, you are now an outcast.
“Self” for a woman should be nonexistent, the patriarchal society has decided. A woman is respectable only in the role of a wife, mother, sister, daughter and so on. Woe betide any woman who dares to say “no” to domestic violence, or one who can’t live a hypocrisy, one who decides to look for honesty and truth, who refuses to put up with a criminal partner.

A very lucky woman may find her family supportive, but most women aren’t lucky in Pakistan. Most parents still prefer that they don’t have to go through their daughter’s divorce. Most parents feel it’s an embarrassment that their daughter couldn’t remain married. The majority of women in Pakistan stay at home, so it’s a huge financial undertaking to look after a divorced or even widowed daughter. The cherry on this cake made of muck is the fear that a divorced woman will not be able to get married again. Why? Because her character, her sanctity and her dependability are now questionable, tainted and on trial.
The divorced Pakistani woman is, after years of being chained, now free…
…only to be whipped for the rest of her years.