Categories
نقطۂ نظر

شرمین عبید کا آسکر اور میاں انار سلطان

ساکنانِ ارضِ پاک کے حسّاس طبقات و جماعتیں ملالہ یوسفزئی کے ڈھائے گئے مظالم کے درد سے خون کے آنسو رو رہے تھے۔ دکھ و الم کی نشاۃِ ثانیہ جاری تھی۔ نئے نئے نابغے نئی نئی کتابیں دراز کر رہے تھے بلکہ کتابیں داغ رہے تھے۔ کتابوں پہ کتابیں، کالموں پہ کالم، تقریروں پہ تقریروں کے جے-ایف تھنڈر اڑائے جا رہے تھے پر نا تو ان کے غیض کو ٹھنڈ پڑتی تھی اور نا ہی غضب کو۔ بہت کمزور ہوئے پڑے تھے بھاری بھرکم جُثّوں اور کئی من وزنی دماغوں والے۔ “دیس کو بیچ دیا اس ملالہ لڑکی کے باپ نے! ننگِ قوم، حمیت فروشِ دین نے اپنی دُنیا بنا لی” کی تسبیح پھرولتے رہتے تھے۔

 

ہمارے دین اور دیس کے متعلق اہلِ مغرب سازش کی بھٹی چالُو رکھتے ہیں۔ بس جُونہی موقعہ ملتا ہے فوراً تیار مال پارسل کرکے باہر پھینک دیتے ہیں۔”
کچھ روز پہلے ہی ہم نے ڈاکٹر دانش کے ٹی وی پروگرام اور جناب عامر ہاشم خاکوانی کے “محققانہ” کالم کی معاصر آن لائن جریدے “ہم سب” پہ اشاعتِ نو کے چرچے سنے۔ ہر دو اصحاب نے اپنی پوری ذہنی توانائی صرف کر کے اس بچی اور اس کے والد کے بزعمِ خود ایم آر آئی کیئے تاکہ ان کی نیتوں کی کوئی ہائی ڈیفینیشن تصویر بن سکے۔ داخلیت سے پریشان و مفلوک خارجیت سے کوڑیاں گھڑی گئیں۔ لفظوں کے کُھرے نکالتے نکالتے اپنی جوتیاں چٹخا ماریں۔ اے کاش کچھ اپنے موضوع کے متعلق بھی کوئی ایک مضبوط و مدلل حوالہ بُنتے لیکن یہ ہو نا سکا۔ وہی انداز رہا جس طرح آیتوں کے سیاق و سباق سے میراتھن برت کے معنی نکالنے کا۔ ہوا بھی تو یہ کہ اپنی نگارشات میں زیادہ تر خود اپنی ذہنی حالت کا ہی سیپارہ بن کے رہ گئے۔ شاہد خود ہی مشہود بنا رہا اور انجانے میں بڑے بلند آہنگ میں اپنی کامیابی کے جھنڈے بھی خود ہی گاڑتے رہے۔

 

یہ کافر بڑے صریح ظالم ہیں۔ کہنے کو تو یہ دعوے کرتے ہیں کہ انسان دوستی ہماری اوڑھنی اور بچھونی ہے۔ پر اوّل درجے کے جھوٹے ہیں۔ یہ ہمارے وطن کے چند حسّاس طبقات کا ذرا برابر بھی بھرم نہیں رکھتے۔ ابھی ابھی تو ان حسّاس طبقات و جماعتوں کے ملالہ کے گرد تازہ بحث کے باعث زخم ہرے تھے کہ ایک اور سانحہ ہوگیا۔ سانحے سے بھی بڑا حادثہ۔ کیا کہا آپ نے میاں انار سلطان؟ “یہ سانحہ نہیں تھا!”

 

اچھا تو یہ کیا کوئی سوچی سمجھی منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔

 

“ہمارے دین اور دیس کے متعلق اہلِ مغرب سازش کی بھٹی چالُو رکھتے ہیں۔ بس جُونہی موقعہ ملتا ہے فوراً تیار مال پارسل کرکے باہر پھینک دیتے ہیں۔” جی، جی آپ بالکل درست ارشاد کرتے ہیں۔ “یہ مغرب والے ایسے ہی فارغ لوگ ہیں۔ کالوں، گندمیوں اور پِیلوں سے کام لیتے رہتے ہیں اور خود سازش کے تانے بانے بنتے رہتے ہیں۔ جیسے ہی کوئی دین و دیس فروش رالیں ٹپکاتا ان کے آس پاس آتا ہے تو اسے فوراً انعام و اکرام اور خلعتیں عنایت کرتے ہیں۔ بس پہلے کچھ شرطیں ان دین و دیس فروشوں کے سامنے رکھتے ہیں،” میاں انار سلطان نیم وا آنکھوں سے بولا۔

 

دیکھو نا ابھی پھر شرمین عبید چنائے کو انہوں نے دوسرا آسکر انعام دے دیا ہے حالانکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ ایوارڈ وہ اس گانے لکھنے والے کو دیتے جس نے لکھا تھا کہ “مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔”
پر یہ شرطیں کون سی ہوتی ہیں؟ “بھائی صاحب، سادہ سی شرطیں ہوتی ہیں۔ جیسے کہ اپنے دین اور دیس کے بُرے اور کمزور پہلوؤں پر خبریں لگاؤ، مضمون لکھو، کتابیں رقم کرو، فلمیں بناؤ، اور کیا! یہ دیکھو نا ابھی پھر شرمین عبید چنائے کو انہوں نے دوسرا آسکر انعام دے دیا ہے حالانکہ انہیں چاہیئے تھا کہ یہ ایوارڈ وہ اس گانے لکھنے والے کو دیتے جس نے لکھا تھا کہ “مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔” کتنی اچھی اور بے لوث بات کی تھی۔ یا پھر جناب جنرل راحیل شریف کو جنہوں نے ایک نجی رہائشی کمپنی ڈی ایچ اے کے ہاتھوں سے لگ بھگ آٹھ ایکڑ زمین جناب عمران خان کو سرطان کا ہسپتال بنوانے کے لئے عطیہ کردی ہے۔ لیکن یہ کبھی آسکر یا نوبل ایسے بندے کو نہیں دیں گے۔ یہ اچھے لوگوں کی کبھی ہمت افزائی نہیں کریں گے،” میاں انار سلطان ناک کو پُھلائے اور آنکھوں کو گول کئے گویا۔

 

تو شرمین عبید چنائے کو کس بات پہ آسکر انعام مل گیا؟ ” انہیں پرانے اصولوں پہ کہ دین و دیس کو بدنام کرو اور انعام حاصل کرو۔ اس ناہنجار خاتون نے پاکستان میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل پہ ڈاکیومینٹری بنائی ہے اور اس پہ ان گورے ‘بندروں’ نے اپنے بغض اور کلیجے کو ٹھنڈ ڈالنے کے لئے شرمین عبید کو پھر آسکر دے دیا ہے۔”

 

اچھا، تو یہ بات ہے۔ تو کیا میاں انار سلطان آپ کے خیال میں ہمارے ہاں غیرت کے نام پر قتل کا مسئلہ نہیں ہے کیا؟ ” اس بات پہ بحث ایک الگ بات ہے، پر دیکھیں نا جی، اب گھر کی باتیں گھر ہی رہنی چاہئے نا۔ ایسے ہی خوامخواہ بیگانوں کے سامنے اپنا پیٹ ننگا کرنے کا کیا فائدہ۔ ہمیں اپنے ملک کے سافٹ امیج کا خیال رکھنا چاہئے نا اور کُھلی بے غیرتی نہیں کرنی چاہئے۔”

 

اس ناہنجار خاتون نے پاکستان میں غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل پہ ڈاکیومینٹری بنائی ہے اور اس پہ ان گورے ‘بندروں’ نے اپنے بغض اور کلیجے کو ٹھنڈ ڈالنے کے لئے شرمین عبید کو پھر آسکر دے دیا ہے۔
میاں انار سلطان اپنے غصے کے اظہار کے لئے کوئی کتاب لکھنا چاہتا تھا کہ کوئی ڈاکٹر دانش اس اپنے پرائم ٹائم میں مزید الّم غلم کرنے دے۔ اس سلسلے میں اس نے کئی عامر خاکوانی صاحبان کی تحقیقیں جلد ہی پڑھ لینی تھیں تا کہ اسے اور ان جیسوں کو ہر بات اور آن پہ سازش ہی کامن سینس لگے۔

 

لیکن ہمارے ذہن مین چند خیال گھوم رہے تھے کہ سوچنے، سمجھنے، جانچنے، پرکھنے اور اپنی جانچ پرکھ کو ایک فنکارانہ کاوش و مصنوعہ کی شکل میں دُنیا کے سامنے پیش کرنے سے قبل محض اس بات کو مّدِ نظر رکھنا ہی اشد ضروری ہوتا ہے کہ غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے۔ صاحبِ فکر و خیال اور فنکاران کو اس بات کی خاطر چپ نہیں سادھنی ہوتی کہ ایسا سچ کتنوں کو نا گوار گزرے گا۔ زیادہ تر سچ خوش ذائقہ تو نہیں ہوتے لیکن ان کی تاثیر البتہ خوش کن ہی ہوتی ہے۔ اکثر افراد، معاشرے اور قومیں صرف خوشامدیں سننا پسند کرتی ہیں اور تنقید کی آہٹ ہی پہ دشمن ہو جاتی ہیں۔ بیشتر یہ دیکھا گیا ہے کہ جسموں کے ناسور نشتروں اور کڑوی دواؤں سے ہی درست اور صحت مند حالت کو واپس لوٹتے ہیں محض چونچلوں اور قالین کے نیچے کچرا پھینکتے جانے سے نہیں۔

 

وما علینا الالبلاغ
Categories
نقطۂ نظر

زید حامد کا ایک فرضی کالم

[blockquote style=”3″]

ثاقب ملک کا یہ فکاہیہ مضمون اس سے قبل ان کے اپنے بلاگ پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کی اجازت سے اسے لالٹین کے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ اس تحریر کا مقصد محض تفریح طبع کا سامان کرنا ہے، کسی بھی فرد کی توہین یا دل آزاری قطعاً مقصود نہیں۔

[/blockquote]

جاوید چوہدری اور حسن نثار کے فرضی کالم پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
الحمداللہ ہم اپنے شاہی تخت پر برا جمان تھے، کنیزیں ہماری خدمت کر رہی تھیں، ہم نے تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی کے تحت کنیزوں کواپنی خدمت پر مامور کیا تھا۔ الحمد اللہ کترینہ اور دیپیکا کو ان کے لمبے قد کی وجہ سے پنکھا جھلنے پر متعین کیا گیا ہے، ایشوریا اور کرینہ کو ان کے ہاتھوں کی حدت کی وجہ اپنی ٹانگیں دبانے پر لگایا ہوا ہے، سوناکشی ہمیں ‘چُوری’ کھلا رہی تھی کیونکہ وہ اس کام میں ماہر ہے۔ یہ کنیزیں ہمیں لال قلعہ کی ادھوری فتح کے صلے میں مال غنیمت میں ملی تھیں۔ ہم اس وقت اپنی فتح مبین مکمل نہیں کر سکے تھے کہ ہم نے اپنی اہلیہ کے ساتھ واپس پاکستان آ کر منگل بازار بھی جانا تھا لیکن الحمد اللہ، انشاء اللہ وہ وقت جلد آئے گا جب دلی کے لال قلعے پر ہمارے فوجیوں کی بنیانیں دھو کر سکھائی جائیں گی۔ الحمد اللہ میرے بچو آپ کی مدد سے ہم لال قلعے پر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے۔

 

الحمداللہ ہم اپنے شاہی تخت پر برا جمان تھے، کنیزیں ہماری خدمت کر رہی تھیں، ہم نے تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی کے تحت کنیزوں کواپنی خدمت پر مامور کیا تھا۔
ہم ابھی اپنے شاہی تخت پر براجمان تھے کہ اچانک ایک سبز ہلالی کبوتر (یاد رہے یہ کبوتر اسی شکل و شباہت کا تھا جو ہندوستان جاسوسی کی غرض سے بھیجا گیا تھا) نے آ کر ہمیں ایک خط دینا چاہا۔ اس نے پاس آنے کی اجازت مانگی، ”عالی جاہ میں آپ کے قریب آنا چاہتا ہوں“ ہم نے فرمایا اجازت ہے۔ اس کبوتر نے خط ہماری جھولی میں ڈالا اور کندھے پر بیٹھ گیا۔ اس سے پہلے کہ ہم اس کی سازش کو سمجھتے وہ ہمارے کندھے پر بیٹ کر کے تیزی سے اڑ گیا۔ اس وقت تک اس کبوتر کی رنگت بھی بدل کر جیو ٹی وی کے لوگو جیسی ہو گئی تھی۔ ہمیں یقین ہو گیا کہ اس ناہنجار کبوتر نے جو حامد میر کی طرح بیٹ کی ہے، یہ صیہونیوں، را، جیو اور سیفما کی سازش ہے۔ ہم نے خادم سے کہا کہ ہمیں خط پڑھ کر سنایا جائے۔ خادم نے با آواز بلندخط پڑھنا شروع کیا۔ خط میں لکھا تھا، اقبال نے کہا ہے:

 

“جس نے ماں کو ستایا اس نے رکشہ چلایا “

 

خادم نے خط کا اگلا حصہ بھی پڑھا کہ اقبال نے یہ بھی فرمایا:

 

سواری پیچھے کرینہ، کترینا
ڈرائیور آگے پسینہ پسینہ

 

ہم نے جان لیا کہ یہ صیہونیوں نے شاعر مشرق اقبال، ہماری کنیزوں اور ہمارے رکشے یعنی ‘براق’ پر وار کیا ہے۔ ہم نے اپنی سواری کا نام پاک فوج کے ذرون طیارے کے نام پر براق رکھا ہے۔ اس سیکولر لادین خط پر ہمیں بہت غصہ آیا مگر الحمد اللہ ہمارے مقاصد بہت بلند ہیں۔ اسی اثنا میں ہمیں وائبر پر قسطنطنیہ کے فرماں روا کا پیغام آیا کہ “آپ اپنے لشکر کے ساتھ جلدی سے قسطنطنیہ پہنچیں کہ یہاں پر صیہونی سنڈیوں نے فصلوں پر حملہ کر دیا ہے اور ہمیں تھرڈ جنریشن وارفیئر اور سرد جنگ کے ماہر کی ضرورت ہے”۔ “ہم نے امت مسلمہ کی بھلائی کی خاطر فوراً قسطنطنیہ کا قصد کیا۔ .ہم نے اپنا لشکر یو ایس بی میں ڈالا، اپنے براق کو ایڑ لگائی اور اس پر پر سوار ہو کر قسطنطنیہ کے ساحل پر پہنچ گئے۔ ہم نے بر وقت سنڈیوں کا تہ تیغ کر دیا۔ ان یہودیوں، صیہونی سنڈیوں نے میڈیا کے ذریعے قسطنطنیہ میں عذاب مچا رکھا تھا۔

 

زید حامد؛ صیہونی سازش کا شکار ہونے کے بعد
زید حامد؛ صیہونی سازش کا شکار ہونے کے بعد
قسطنطنیہ کے بعد ہم نے بغداد کا قصد کیا۔ بغداد میں ہمیں تھرڈ جنریشن وار سٹریٹیجی پر بغداد کے خلیفہ ابو بکر البغدادی اور شوریٰ کو لیکچر دینا تھا۔ ہم اپنے براق پر بغداد کے ساحل پر اترے۔ میرے نوجوانو، تم ہرگز سیفما اور جیو کے پراپیگینڈے میں نہ آنا اگر وہ کہیں کہ بغداد کا تو ساحل ہی نہیں ہے۔ ساحل ہو یا نہ ہو ہم ہمیشہ ساحل پر ہی اترتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کا ہم پر خاص کرم ہے۔ ہم نے بغداد کے خلیفہ کو سمجھایا کہ تھرڈ جنریشن وار کا مطلب کیا ہے اور یہ کیسی لڑی جا سکتی ہے؟ ہم نے انہیں تھرڈ جنریشن وار کی عملی مشقیں کر کے دکھلائیں۔ ہم نے کہا کہ خلیفہ صاحب آپ ہمارے لیے تین بندروں کا بندوبست کریں۔ انہوں نے بندر پورے پروٹوکول کے ساتھ ہمارے حوالے کر دیئے۔ ہم نے ان تینوں بندروں کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا تو ان تینوں بندروں نے خلیفہ اور ہمیں اقبال کے شعرسنائے۔ پہلے بندر نے کہا:

 

میرے نوجوانو، تم ہرگز سیفما اور جیو کے پراپیگینڈے میں نہ آنا اگر وہ کہیں کہ بغداد کا تو ساحل ہی نہیں ہے۔ ساحل ہو یا نہ ہو ہم ہمیشہ ساحل پر ہی اترتے ہیں۔ یہ اللہ رب العزت کا ہم پر خاص کرم ہے۔
مرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر

 

دوسرے بندر نے کہا:

 

پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں
کرگس کا جہاں اور ہے، شاہین کاجہاں اور

 

تیسرے بندر نے کہا:

 

نہیں تیرا نشمین قصر سلطانی کے گنبد پر
تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر

 

فضا اللہ اکبر کے شور سے گونج اٹھی۔ اب تھرڈ جنریشن وار کا سب سے مشکل مرحلہ آن پہنچا کہ پہلے ایک بندر نے ہمارے دائیں گال پر جھانپڑ مارنا تھا، دوسرے نے بائیں گال پر اور تیسرے نے پشت پر چپت لگانی تھی۔ الحمد اللہ امت مسلمہ کی امداد کے لیے ہم نے یہ سب بغداد میں کر دکھایا۔

 

دیبل میں موجود محمد بن قاسم نے ہمیں واٹس ایپ پر میسج کیا کہ آپ کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔ ہم نے جواب میں اپنے خادموں کو محمد بن قاسم کو میڈ ان چائنا باربی کنیزیں بھجوانے کا حکم دیا۔
اب ہم نے براق کو ایڑ لگائی اور غرناطہ کا قصد کیا۔ غرناطہ کے ساحل پر پہنچ کر ہم نے مسجد قرطبہ میں نماز پڑھی۔ وہاں سے ہم اندلس کے ساحل پر جا اترے۔ اندلس میں طارق بن زیاد کی یاد میں ہم نے والز میگنم کی ڈنڈیوں سے بنی کشتی جلائی۔ اندلس سے ہم دمشق کے ساحل پر اترے۔ دمشق سے ہم دیبل کے ساحل پر گئے، وہاں سے پھر ہم غرناطہ واپس آ گئے۔ چاشت کی نماز ادا کی۔ غرناطہ میں صیہونیوں نے ہمارے براق میں پٹرول کی بجائے سرسوں کا ‘کوڑا’ تیل ڈال دیا۔ .ہم وہاں براق یعنی رکشے کی خرابی کی وجہ سے کافی دیر تک رکے رہے۔ وہاں سے دیبل میں موجود محمد بن قاسم نے ہمیں واٹس ایپ پر میسج کیا کہ آپ کے لیے نیک تمنائیں ہیں۔ ہم نے جواب میں اپنے خادموں کو محمد بن قاسم کو میڈ ان چائنا باربی کنیزیں بھجوانے کا حکم دیا۔ واپس دمشق آ کر کر ہم نے نناوے بار قسطنطنیہ، قسطنطنیہ کا ورد کیا۔ ہماری سواری جیسے ہی عرب کے صحراوں می٘ں اتری ہمیں سعودی شرطوں نے مولانا طاہر اشرفی جیسے غلیظ اور ناپاک صیہونی ایجنٹ، حامد میر را کے ایجنٹ، ماروی سرمد زنانہ را کی ایجنٹ، نصرت جاوید اسرائیلی موساد کے ایجنٹ، امتیاز عالم ان تمام کے ایجنٹ۔۔۔۔ وغیرہ کی سازش کی وجہ گرفتار کر لیا گیا۔
لیکن گرفتاری کے کچھ ہی عرصے بعد سعودیوں کو ہماری اہمیت کا اندازہ ہو گیا۔ ہمیں سیون سٹار پروٹوکول ملنے لگا .وگر نہ اس سے پہلے تو ایک سعودی تفتیش کار نے ہم سے تفتیش کے دوران یہ گستاخانہ سوال بھی کر ڈالا کہ “قسطنطنیہ لال قلعے کے جنوب میں ہے یا مشرق میں” اور “کیا طارق بن زیاد نے واقعی جبل الطارق پر خطاب سے پہلے ٹائی ٹینک کو آگ لگا دی تھی؟” ہم نے اس گستاخ کا دماغ درست کر دیا کہ ہمارے جغرافیہ اور ہماری تاریخ کا امتحان مت لو۔

 

ہماری گرفتاری یقیناً سیفما، جیو، را اور موساد کی سازش ہے۔ گرفتاری کے فوراً بعد یہ فیصلہ بھی ہو گیا تھا کہ ہمیں سو کوڑے قسطنطنیہ کے ساحل پر جا کر لگائے جائیں گے، سو کوڑے دمشق کے ساحل پر، سو کوڑے بغداد کے ساحل پر، سو ،دیبل، سو،غرناطہ، سو اندلس، سو سمرقند اور سو جی ایچ کیو راولپنڈی کے ساحل پر، جس کے بعد دوبارہ قسطنطنیہ کے دوسرے ساحل پر جا کر مزید سو کوڑے لگائے جائیں گے۔ مگر بعد میں جب سعودیوں کو ہماری اہمیت کا احساس ہوا، تو ہمیں سزا دینے کی بجائے ہمیں نہ صرف رہا کیا گیا بلکہ قسطنطنیہ کے ساحل پر اتارا گیا۔
Categories
نقطۂ نظر

Conspiracy Theory

’’ اللہ اکبر…. اللہ اکبر‘‘ مسجد کے مینار وں سے شمس العارفین کی آواز بلند ہو کر محلے میں گونج رہی تھی۔
فضل کریم چاچا نے اپنا بھاشن بند کردیا تھا،ان کے ہلتے ہونٹ اس بات کی غمازی کررہے تھے کہ وہ اذان کا جواب دے رہے ہیں۔ اذان کے اختتام پر فضل کریم چاچا نے اپنے دونوں ہاتھ دعا کےلیے بلند کر کے منہ پر پھیر لیے اور’’ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ‘‘ کے الفاظ ادا کرنے کے بعد مجھے مخاطب کیا:
’’ اب اگر ہمت ہے تو دے میرے سوال کا جواب؟ ‘‘
’’ کون سے سوال کا جواب؟؟‘‘
’’ ارے وہی تیری ملالہ کے ڈرامے کا‘‘
فضل کریم چاچا کی طویل من گھڑت حکایتوں، واہموں، اور شکوک و شبہات اور غیر منتطقی سوالوں کا بھلا میرے پاس کیا جواب ہوسکتا تھا،میں جب بھی اس کی دکان پر دوائی لینے جاتا تو وہ اپنی ہی ’’ عینک‘‘ سے میرا جائزہ لینا شروع کر دیتا ۔ کبھی کالر اور لباس کی بحث تو کبھی فرنچ کٹ اور چھوٹی بڑی داڑھی کے بالوں میں مجھے الجھا دیتا۔ سن 80 ء میں ایف ایس سی اور اس کے بعد ڈسپنسر کا کورس کرنے والا فضل کریم چاچا اپنی ذات میں ان تمام افراد کی زہنیت کا غماز تھا جو سازشی مفروضوں پر ایمان لے آتے ہیں۔
’’ چاچا! میں تو آپ کی لمبی روایات پر مبنی تقریر سے پہلے بتا چکا ہوں کہ تعصب کی عینک اتار دیجئے‘‘۔
’’ او جی ، کیا مطلب؟‘‘ چاچا بڑ بڑانے لگے ’’ عینک اتار دیجئے‘‘۔
’’ میں تو آپ کو صراطِ مستقیم دکھا رہا ہوں۔ تحقیق، تجسس، غور و فکر اور سوچ بچار کے بعد دلیل سے بات کی جاسکتی ہے‘‘۔ میرا لہجہ دو ٹوک ہونے لگا تھا۔
’’ بچے! مانو یا نہ مانو، میں لکھ کر دینے کے لئے تیار ہوں کہ یہودیوں کا سرپرست امریکہ ملالہ کو پاکستان کی وزیر اعظم بنا کر دم لے گا‘‘۔
’’ ہاہاہا… امریکہ… ملالہ….ہاہاہا‘‘۔
’’ آج میری باتوں پر ہنس رہے ہو… کل رو رہے ہوگے‘‘۔
’’ چاچا! آپ بھی عمران خان کی طرح لکھ کر دینے کی بات کرنے لگے، ویسے آپ لوگوں کا نیا پاکستان کب بنے گا؟‘‘
’’ زیادہ بک بک نہ کر…. خنزیر کی اولاد….. اپنی دوائی اٹھا، میری نماز کا وقت ہورہا ہے‘‘۔
’’ جس منہ سے گالی دی ہے، اسی سے اب خدا کا نام بھی لو گے؟‘‘
میرے ترکش میں کافی تیر تھے لیکن شاہ دولے کے چوہوں پر تیر برسانا بھی انہی کے مفاد میں ہوتا ہے اس لئے میں اس حبس آلود اور گھٹن زدہ ماحول سے باہر نکل آیا ۔
نماز ایک ایسی حالت اور کیفیت کا نام ہے جس میں ہمیشہ رہنا چاہئے…. غصے، نفرت اور تشدد کا راستہ ترک کردینابھی نماز جیسا ہی ضرور ی ہے‘‘۔

گھر پر بے بے جی دوائی کی منتظر تھی۔ داجی جمعے کی نماز کے لئے تیاری میں مگن تھے۔
’’ آج جمعۃ المبارک ہے… کم از کم جمعہ ہی پڑھ لیا کر!‘‘
’’ نماز تو دن میں پانچ بار فرض ہے…. پھر صرف جمعہ پڑھنے پر اصرار کیوں؟‘‘
داجی کا پارہ چڑھنے کو تھا کہ میں نے پھر چڑھائی کردی!” نماز پڑھی نہیں جاتی بلکہ قائم کی جاتی ہے۔ نماز ایک ایسی حالت اور کیفیت کا نام ہے جس میں ہمیشہ رہنا چاہئے…. غصے، نفرت اور تشدد کا راستہ ترک کردینابھی نماز جیسا ہی ہی ضرور ی ہے‘‘۔
’’ کیا اول فول بک رہے ہو….. اپنا فلسفہ اور بقراطیت اپنے پاس ہی رکھ…. دین میں اپنی سمجھ سے کام نہیں لیا جاتا‘‘۔ داجی وضو کی حالت میں بھی غصے سے لال پیلے ہورہے تھے۔

مسلک؟؟فرقہ؟؟ ایک ہی دین میں کہاں سے آگئے؟ وہابی، دیوبندی، بریلوی، سنی، شیعہ، اثنائے عشری؟؟ ہر مسجد پر تختی جڑی ہے کسی مسلمان مسجد کا پتہ بتادیجئے‘‘۔
’’ چلیں، میں نماز پڑھ ہی لیتا ہوں قائم نہیں کروں گا لیکن مسجد بلالؓ یا پھر مسجد ابو زر غفاریؓ میں پڑھوں گا‘‘۔
’’ پاگل مت بنو…. کیوں اپنی نماز ضائع کررہے ہو؟ ان دونوں مساجد کا تعلق ہمارے مسلک سے نہیں ہے‘‘۔
’’ مسلک؟؟فرقہ؟؟ ایک ہی دین میں کہاں سے آگئے؟ وہابی، دیوبندی، بریلوی، سنی، شیعہ، اثنائے عشری؟؟ ہر مسجد پر تختی جڑی ہے کسی مسلمان مسجد کا پتہ بتادیجئے‘‘۔
’’ استغفر اللہ تم سے تو بات کرنا ہی بے کار ہے، شیطان نے تم پر خوب محنت کی ہے۔ لاحول ولا قوۃ‘‘ داجی سے جواب نہ بن پڑا تو مجھے شیطان کا ساتھی قرار دے کر مسجد کی راہ لی۔
مسجد میں کافروں کے ایجاد کردہ لاؤڈ اسپیکر پر مفتی سبحان اللہ اپنے مقتدیوں کے جذبات کو برانگیختہ کررہا تھا:
’’ سیکولر ازم کا نعرہ دین کے خلاف سازش ہے‘‘۔
’’ توکل کا راستہ اپنانا چاہئے عقل پر زور دینے والے اغیار کی سازش کا شکار ہو چکے ہیں!‘‘
’’ اپنے بچوں کو انگریزی تعلیم سے بچانا ضروری ہے، اور اپنی عورتوں کو بے حیائی سے دور رکھنا واجب ہے۔عورت ذات کے لیے یا تو گور ہے اور یا پھر کور (گھر) اگر انہیں گھروں میں محصور نہ کیا گیا تو بے حیائی اور بے دینی بڑھ جائے گی‘‘۔
’’ دین میں روشن خیالی کی کوئی گنجائش نہیں کیونکہ کوئی بھی نئی بات یا کسی نئی چیز کا اضافہ بدعت ہے‘‘۔
’’ فوٹو گرافی حرام ہے اور شرعی ضرورت کے بغیر گھر میں تصاویر رکھنا جائز نہیں‘‘۔
’’ ٹیلی وژن شیطانی ڈبہ اور فحاشی کا مرکز ہے اور یہود و نصاریٰ اس کے ذریعے فحاشی عام کرنا چاہتے ہیں‘‘۔
’’ روس کی مدد سے پاکستان اسٹیل مل کا قیام پاکستان کے خلاف کمیونسٹوں کی بہت بڑی سازش تھی‘‘۔
’’ قوم پرست اور بائیں بازو کی جماعتیں روس، ہندوستان اور افغانستان کی مدد سے پاکستان میں فسادات اور سازشیں کرتے رہتے ہیں!!‘‘
’’ بی بی سی کے لئے گل مکئی کے نام سے ملالہ کی ڈائری بہت بڑی سازش ہے!!‘‘
’’ ملالہ پر حملہ امریکی سازش اور ایک بہت بڑی چال ہے‘‘۔

دوسری مسجد میں قاری امام دین کسی علمی اور دینی مسئلے کے بجائے پولیو کے قطروں پر بحث کررہا تھا:‘‘
مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے سارے یہودی، عیسائی اور ہندو لرزہ بر اندام ہیں، سب مل کر بھی میدان جہاد میں مسلمانوں کو ختم نہیں کرسکتے،اس لئے انہوں نے پولیو کے قطروں میں ہماری امت کی نسل کشی کا سامان مہیا کر رکھا ہے۔
’’ مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے سارے یہودی، عیسائی اور ہندو لرزہ بر اندام ہیں، سب مل کر بھی میدان جہاد میں مسلمانوں کو ختم نہیں کرسکتے،اس لئے انہوں نے پولیو کے قطروں میں ہماری امت کی نسل کشی کا سامان مہیا کر رکھا ہے۔ اس سازش کو سمجھ۔خبردار! اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے مت پلانا، ان قطروں میں ایسا زہر ہے جو لڑکوں میں مردانہ قوت کو مار دیتا ہے اور لڑکیوں کو بانجھ کر دیتا ہے۔ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں سوچتے کہ آخر یہ قطرے آئے روز کیوں ہمارے بچوں کو پلائے جارہے ہیں اور وہ بھی بالکل مفت۔اہل مغرب اگر ہمیں پولیوں کے قطرے مفت فراہم کر سکتے ہیں، تو دیگر ادویات کیوں مہنگے داموں دیتے ہیں؟
’’مسلمانو! مغرب کا بائیکاٹ کرو ، ورنہ مٹ جاؤ گے۔مفتی سبحان اللہ اور قاری امام دین کی گھن گرج سے بچنے کے لئے میں نے تیسری مسجدمیں پناہ لی۔
جماعت کے بعد مساجد سے نکلنے والوں میں انسان کم اور “مسلمان” زیادہ تھے۔میرے دل و دماغ پر افسردگی، یاسیت اور مایوسی کا قبضہ تھا۔ شہر کی گلیوں پر خوف و دہشت کا راج تھا۔ دیواروں پر زہر آلود اور نفرت انگیز نعرے نمایا ں تھے، ہر دوسرے شخص کے چہرے پر غم و اندوہ کا بسیرا تھا۔

چار سدہ کے بس اڈے پر مسافر نہ ہونے کے برابر تھے لیکن کنڈیکٹروں کی پر امید آوازیں کانوں کے پردوں سے ٹکرا رہی تھیں:
’’ پشاور، مردان، تخت بھائی…….. تخت بھائی،
مردان، پشاور….‘‘ ۔
صوبائی حکومت کی ہدایت پر ایک جانب پویلو کے قطرے پلانے کاسٹال لگا تھا۔
’’ بالکل نہیں… ہر گز نہیں… کبھی نہیں!‘‘ احتجاج اور مزاحمت سے بھرپور یہ آواز ایک ادھیڑ عمر شخص کی تھی جس کے ہمراہ تین خواتین اور کئی چھوٹے بڑے بچے تھے۔ پولیو ٹیم کے افراد پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلانا چاہتے تھے۔
میں سڑک پار کرکے رحمان ٹی اسٹال میں اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر چائے پینے لگا۔ تازہ دم ہو کر میرا ذہن ایک بار پھر فضل کریم چاچا کی باتوں میں الجھنے لگا۔
بے بے جی کی بیماری ا ور داجی کی بے جا لعنت ملامت پر فکر کے گھوڑے دوڑا ہی رہا تھا کہ رحمن ٹی اسٹال کی پیالیاں اور پیتل چینک لرزنے لگے،اور پل بھر میں دھویں، گرد و غبار اور چیخ و پکار میں سب کے اعصاب جکڑ لئے ۔ خود کش حملے نے در و دیوار ہلا کر رکھ دیئے تھے۔ ایدھی کی ایمبولینس ، پولیس اور رضا کاروں کے پہنچنے کے بعد بھی عام لوگ سہمے کھڑے تھے۔ خود کش حملہ آور کا ہدف پولیوں ٹیم کی خواتین ارکان اور ان کی حفاظت پر مامور اہلکار تھے۔ حواس باختہ فضل کریم چاچا اپنے جواں سال بیٹے اور چھ بہنوں کے اکلوتے بھائی فضل حلیم کے چیتھڑے سمیٹ رہا تھا۔
عصر کی اذان ہورہی تھی اور مسجد کے میناروں میں شمس العارفین کی آواز گونج رہی تھی: ’’ اللہ اکبر…. اللہ اکبر‘‘