
لیجیے، ہم بیان کیے دیتے ہیں ۔ تو صاحب ایسا یوں ہوا ہے کیونکہ حکومتی نااہلی اور عوام کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے خان صاحب نے ایک قومی لیڈر کا روپ دھارا،کراچی سے خیبر تک اور گوادر سے قراقرم تک تمام ملکی مسائل کے حل کے لیے انتہائی جاں فشانی سے دن رات ایک کیا، نان ایشوز کو چھوا تک نہیں، اور ہمارے حقیقی مسئلوں پر کیا کیا نہ کر دکھایا۔ مثال کے طور پر یہ خان صاحب ہی تھے جنہوں نے گزرے ڈیڑھ برس کا نصف یعنی پورے نو ماہ بلوچستان میں گزارا۔ پارٹی تنظیم سازی تو ثانوی معاملہ رہا، اصل میں اس عرصے کے دوران آپ نے تمام ناراض بلوچ قبائل سے لاتعداد ملاقاتیں کیں۔ یہ آپ ہی کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے کہ آج حکومت اور ناراض بلوچ رہنما ایک میز پر اکٹھے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناصرف وفاقی اور صوبائی حکومت بلکہ پورا بلوچستان آپ کو سفیر امن کے نام سے یاد کرتا ہے۔
آپ نے ناصرف دھاندلی زدہ انتخابات کو قبول کیا بلکہ جمہوریت کے استحکام کے لیے موجودہ حکومت کو مدت پوری کرنے کا وقت دیتے ہوئے چار سال کا کڑوا کسیلا گھونٹ بھرنے کو ترجیح دی۔ لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل سے نکلا،عوام بلبلا اٹھے۔اور مجبوراً سڑکوں پر آٓگئے، تو حکومتی بے حسی اورنا اہلی کھل کر سامنے آگئی۔ ایسے میں خان صاحب آگے بڑھے، تحریک انصاف کے تھینک ٹینک کے سرکردہ ماہرین کو بلایا۔ ہفتوں سر جوڑے بیٹھے رہے۔اور بالآخر حکومت کو لوڈشیڈنگ سے جلد چھٹکارا اپانے کا تیر بہدف نسخہ عطا کرتے ہوئے ایک اور شرمندگی سے دو چار کیا۔
خدا خوش رکھے، خان صاحب ملکی تاریخ کے وہ واحد اپوزیشن رہنما ہیں جنہوں نے ایوان میں عددی اکثریت کم ہونے کے باوجود انتہائی موثر اندا ز میں ملکی داخلی اور خارجی مسائل پر پالیسی ساز اقدامت تجویز کیے جن کو قبول کرنے کے سوا حکومت کے پاس کوئی اور چارہ نہ رہا۔ میرے محبوب رہنما نے انتخابی اصلاحات اور دھاندلی کے تدارک کے لیے سیاسی اور آئینی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے جامع اور مفصل تجاویز پیش کیں جنہیں ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بالآخر حکومت نے یہ اصلاحات من و عن تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئین کا حصہ بنا دیا ۔
آپ کی جماعت نے خیبر پختونخواہ میں صرف نوے روز میں انقلاب برپا کر دکھایا۔ آپریشن ضرب عضب کی بھر پور حمایت کی، متاثرین شمالی وزیرستان کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا۔ملک بھرسے لاکھوں تبدیلی رضاکار اکٹھے کیے اور انہیں آئی ڈی پیز کی خدمت پر مامور کیا۔ صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ دو چار نہیں بلکہ تین سو پچاس ڈیمز بنا ڈالے۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کے کسی بزنس مین سے یہ پوچھا جائے کہ صاحب، آپ کیا کاروبار کرتے ہیں؟ تو وہ عجز و انکساری سے شرماتے ہوئے یہ جواب دیتا ہے؛ “کچھ خاص نہیں جی، بس ایک چھوٹا سا ڈیم ہے”
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عجیب پاگل لکھاری ہے۔بھئی، یہ سب کام تو حکومت کے کرنے کے تھے۔ یہ سب بھلا خان صاحب کے گلے کیوں ڈالے گئے۔تو صاحب، گزارش فقط اتنی سی ہے کہ جب حکومت ہی نا اہل ہو تو پھر ملکی سیاسی منظرنامے میں خان صاحب کے کردار کو بھلا کیونکر جھٹلایا جا سکتا ہے؟ اور حکومت اپنی ساکھ ویسے ہی مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ عوام الناس عام انتخابات کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ پذیرائی کا عالم یہ ہے کہ اب تو وولف بلٹزر اور کرسٹینا آمنپور کو بھی خان صاحب کا انٹرویو لینے کے لیے چھ ماہ کی ایڈوانس بکنگ کروانا پڑتی ہے، رہی بات ملکی میڈیا کی تو ابھی چند روز پہلے آپ نے ملک کے دو جیدصحافیوں جناب طلعت حسین صاحب اور محترمہ نسیم زہر ہ صاحبہ کو انٹرویوز کے دوران ا انتہائی تحمل اور مدلل گفتگوسے لاجواب کر دیا۔اور پھر پورے پاکستان نے دیکھا کہ کیسے یہ صحافی لاجواب ہو کر رہ گئے۔ ہیں جی!
صاحب، اندر کی اطلاع یہ ہے کہ بے پناہ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب محترمہ شیریں مزاری اور دیگر سینئر رہنما رات دن ایک ہی مدعے پر دماغ کھپا رہے ہیں۔ اور وہ مدعا یہ ہے کہ کس طرح پاکستان کی وزارت عظمی تاحیات خان صاحب کے نام کر دی جائے۔امید ہے کہ اس گھمبیر سمَسیا کا حل جلد تلاش کر لیا جاوے گا۔
آپ کے کرشماتی حسن پر مولانا حسرت موہانی کا وہ شعر ہی پیش کر سکتا ہوں؛
خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے



رنگ ۔۔! رنگ آنکھ کی کی پہچان ہیں۔رنگ نظر کا ایقان ہیں۔رنگ باتیں کرتے ہیں۔رنگ ،رنگ بھرتے ہیں۔رنگ تخیل ہیں۔رنگ حقیقت ہیں۔رنگ دُنیا کی سب سے بڑی سچائی ہیں۔ ۔