Categories
نقطۂ نظر

عمران خان، میرے محبوب ترین راہ نما، کیوں؟

Nara-e-Mastana-ajmal-jami

کیونکہ آپ نے ہتھیلی پر سرسوں جماتے ہوئے مارچ ۱۹۹۲ میں پاکستان کو پہلا (اوراب تک کا آخری) کرکٹ ورلڈ کپ جتوایا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ نے شوکت خانم اسپتال جیسا بیمار پرور شفاخانہ کھڑا کیا؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ آپ دنیا بھر میں ایک کرشماتی شخصیت کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کو دنیا بھر میں شادی کے لیے ایک سے ایک آفرز موصول ہوئیں؟ اجی نہیں۔ کیونکہ آپ پندرہ فٹ اونچے سٹیج سے گردن کے بل گرے، لیکن گردن میں خم نہیں آیا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ زمین پر ورکرز کے ہمراہ پھٹے پرانے کپڑے پہن کر سوکھا باسی کھانا کھاتے ہیں اور وہیں سو جاتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔کیونکہ آپ نے چار حلقوں میں دھاندلی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا، اور یہی مطالبہ چالیس حلقوں۔۔اور پھر۔۔۔؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ نے آزادی مارچ جیسا انقلابی قد م اٹھایا؟ ہرگز نہیں۔کیونکہ آپ نے پنتیس پنکچرز والی بلاک بسٹر ٹیپ ریلیز کی اور ایک بریگیڈئر کا نام عوامی اجتماعات میں بہ بانگ دہل پکارا؟ ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کی جماعت میں محترمہ شیریں مزاری جیسی قدآور سیاستدان بطور ترجمان پائی جاتی ہیں؟ جی نہیں، ہر گز نہیں۔ کیونکہ آپ کی سیاست کو ٹریفک کے ایک سگنل سے منسوب کیا جاتا ہے؟ بالکل نہیں۔ کیونکہ جہانگیر ترین، خورشید قصوری، عبدالعلیم خان، شاہ محمود قریشی اور لاتعداد کھرانٹ انقلابیے آپ کے دست راست ہیں؟ناں، ہرگز نہیں۔ تو پھر شاید اس لیے کہ آپ کے ہم قدم ان دنوں پنڈی والے شیخ صاحب آپ کے مصاحب ہیں؟ جی نہیں۔ ہر گز نہیں۔ تو پھر آخر ایسی کون سی خوبی باقی رہی جس کی بدولت آپ ہمارے محبوب ترین رہنما ہوئے ہیں۔
لیجیے، ہم بیان کیے دیتے ہیں ۔ تو صاحب ایسا یوں ہوا ہے کیونکہ حکومتی نااہلی اور عوام کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے خان صاحب نے ایک قومی لیڈر کا روپ دھارا،کراچی سے خیبر تک اور گوادر سے قراقرم تک تمام ملکی مسائل کے حل کے لیے انتہائی جاں فشانی سے دن رات ایک کیا، نان ایشوز کو چھوا تک نہیں، اور ہمارے حقیقی مسئلوں پر کیا کیا نہ کر دکھایا۔ مثال کے طور پر یہ خان صاحب ہی تھے جنہوں نے گزرے ڈیڑھ برس کا نصف یعنی پورے نو ماہ بلوچستان میں گزارا۔ پارٹی تنظیم سازی تو ثانوی معاملہ رہا، اصل میں اس عرصے کے دوران آپ نے تمام ناراض بلوچ قبائل سے لاتعداد ملاقاتیں کیں۔ یہ آپ ہی کی سیاسی بصیرت کا نتیجہ ہے کہ آج حکومت اور ناراض بلوچ رہنما ایک میز پر اکٹھے بیٹھے دکھائی دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ناصرف وفاقی اور صوبائی حکومت بلکہ پورا بلوچستان آپ کو سفیر امن کے نام سے یاد کرتا ہے۔
ٓآپ کی جماعت نے خیبرپختونخواہ میں صرف نوے روز میں انقلاب برپا کر دکھایا۔ آپریشن ضرب عضب کی بھر پور حمایت کی، متاثرین شمالی وزیرستان کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا۔ملک بھرسے لاکھوں تبدیلی رضاکار اکٹھے کیے اور انہیں آئی ڈی پیز کی خدمت پر مامور کیا۔ صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔
اندرون سندھ ہو، کراچی کی بد امنی ہو یا جنوبی پنجاب کی دہائیوں سے جاری محرومی ہو۔ خان صاحب نے نہ صرف ان اہم معاملات کی وکالت ایوان میں کی بلکہ ایوان سے باہر بھی آپ کی آواز سب سے موثر ثابت ہوئی۔ ان مدعوں پر تمام سٹیک ہولڈرز کو خان صاحب نے آن بورڈ کیا، اور آپ کی یہی وہ کاوشیں ہیں جنہوں نے آپ کو ملک کا مقبول ترین راہ نما بنا دیا۔
آپ نے ناصرف دھاندلی زدہ انتخابات کو قبول کیا بلکہ جمہوریت کے استحکام کے لیے موجودہ حکومت کو مدت پوری کرنے کا وقت دیتے ہوئے چار سال کا کڑوا کسیلا گھونٹ بھرنے کو ترجیح دی۔ لوڈ شیڈنگ کا جن بوتل سے نکلا،عوام بلبلا اٹھے۔اور مجبوراً سڑکوں پر آٓگئے، تو حکومتی بے حسی اورنا اہلی کھل کر سامنے آگئی۔ ایسے میں خان صاحب آگے بڑھے، تحریک انصاف کے تھینک ٹینک کے سرکردہ ماہرین کو بلایا۔ ہفتوں سر جوڑے بیٹھے رہے۔اور بالآخر حکومت کو لوڈشیڈنگ سے جلد چھٹکارا اپانے کا تیر بہدف نسخہ عطا کرتے ہوئے ایک اور شرمندگی سے دو چار کیا۔
خدا خوش رکھے، خان صاحب ملکی تاریخ کے وہ واحد اپوزیشن رہنما ہیں جنہوں نے ایوان میں عددی اکثریت کم ہونے کے باوجود انتہائی موثر اندا ز میں ملکی داخلی اور خارجی مسائل پر پالیسی ساز اقدامت تجویز کیے جن کو قبول کرنے کے سوا حکومت کے پاس کوئی اور چارہ نہ رہا۔ میرے محبوب رہنما نے انتخابی اصلاحات اور دھاندلی کے تدارک کے لیے سیاسی اور آئینی طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے جامع اور مفصل تجاویز پیش کیں جنہیں ملک بھر کی تمام سیاسی جماعتوں کی تائید حاصل ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ بالآخر حکومت نے یہ اصلاحات من و عن تسلیم کرتے ہوئے انہیں آئین کا حصہ بنا دیا ۔
آپ کی جماعت نے خیبر پختونخواہ میں صرف نوے روز میں انقلاب برپا کر دکھایا۔ آپریشن ضرب عضب کی بھر پور حمایت کی، متاثرین شمالی وزیرستان کی خدمت کے لیے دن رات ایک کیا۔ملک بھرسے لاکھوں تبدیلی رضاکار اکٹھے کیے اور انہیں آئی ڈی پیز کی خدمت پر مامور کیا۔ صوبے کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے آپ نے انقلابی اقدامات اٹھائے۔ دو چار نہیں بلکہ تین سو پچاس ڈیمز بنا ڈالے۔ اور اب تو عالم یہ ہے کہ خیبر پختونخواہ کے کسی بزنس مین سے یہ پوچھا جائے کہ صاحب، آپ کیا کاروبار کرتے ہیں؟ تو وہ عجز و انکساری سے شرماتے ہوئے یہ جواب دیتا ہے؛ “کچھ خاص نہیں جی، بس ایک چھوٹا سا ڈیم ہے”
اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ عجیب پاگل لکھاری ہے۔بھئی، یہ سب کام تو حکومت کے کرنے کے تھے۔ یہ سب بھلا خان صاحب کے گلے کیوں ڈالے گئے۔تو صاحب، گزارش فقط اتنی سی ہے کہ جب حکومت ہی نا اہل ہو تو پھر ملکی سیاسی منظرنامے میں خان صاحب کے کردار کو بھلا کیونکر جھٹلایا جا سکتا ہے؟ اور حکومت اپنی ساکھ ویسے ہی مکمل طور پر کھو چکی ہے۔ عوام الناس عام انتخابات کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں۔ پذیرائی کا عالم یہ ہے کہ اب تو وولف بلٹزر اور کرسٹینا آمنپور کو بھی خان صاحب کا انٹرویو لینے کے لیے چھ ماہ کی ایڈوانس بکنگ کروانا پڑتی ہے، رہی بات ملکی میڈیا کی تو ابھی چند روز پہلے آپ نے ملک کے دو جیدصحافیوں جناب طلعت حسین صاحب اور محترمہ نسیم زہر ہ صاحبہ کو انٹرویوز کے دوران ا انتہائی تحمل اور مدلل گفتگوسے لاجواب کر دیا۔اور پھر پورے پاکستان نے دیکھا کہ کیسے یہ صحافی لاجواب ہو کر رہ گئے۔ ہیں جی!
صاحب، اندر کی اطلاع یہ ہے کہ بے پناہ عوامی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے اب محترمہ شیریں مزاری اور دیگر سینئر رہنما رات دن ایک ہی مدعے پر دماغ کھپا رہے ہیں۔ اور وہ مدعا یہ ہے کہ کس طرح پاکستان کی وزارت عظمی تاحیات خان صاحب کے نام کر دی جائے۔امید ہے کہ اس گھمبیر سمَسیا کا حل جلد تلاش کر لیا جاوے گا۔
آپ کے کرشماتی حسن پر مولانا حسرت موہانی کا وہ شعر ہی پیش کر سکتا ہوں؛
خرد کا نام جنوں رکھ دیا، جنوں کا خرد
جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے

 

نوٹ:( قارئین کے بے پناہ اصرار کے باوجود ناچیز مرشد پاک، اعلیٰ حضرت قبلہ شیخ السلام پروفیسر ڈاکٹر حضرت علامہ طاہرالقادری مدظلہ العالی المعروف عالم رویا والے کے جملہ اوصاف پر مزید روشنی ڈالنے سے قاصر ہے۔کیونکہ اس حقیر نے بالآخر قبلہ کی مریدی کا فیصلہ کر لیا ہے۔وجوہات کا ذکر پھر سہی)
Categories
نقطۂ نظر

بنام قبلہ وکعبہ،المشہور و المعروف ٹوپیوں والی سرکار

pabajolan-jami

قربان جاوں قبلہ مرشد انقلاب کی شان پر، کتھے میں نکما ،تے کتھے قبلہ دی روح پرور شخصیت، سبحان اللہ۔
شاید انہی کے بارے احمد فراز کہہ گئے تھے،
سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
لیکن میرے قبلہ جب کبھی ولایت سے لوٹیں اور ہم بے چاروں سے ہم کلام ہوں تو ان کے لفظ سننے والوں کے کانوں میں رس گھولیں، پہروں سن لیں، مجال ہے جو قبلہ وما علینہ پر اتفاق کریں اور پھر پھول کیا قبلہ کے کلام سے تو بشارتیں اور خواب جھڑتے ہیں۔ ان کے نورانی چہرے پر کبھی تھکاوٹ کے آثار نہیں دیکھے، مائیک دیکھتے ہی قبلہ کے تن بدن میں جیسے ‘کرنٹ’ دوڑ جائے، انگ انگ میں جیسے شرارے بھڑک اٹھیں اورطبیعت ایسی جلالی کہ دوران خطاب لعاب ِ دہنِ کی بوندیں مریدین کو معطر کریں،اللہ اللہ۔
کرامات کا ذکر کیا کیجیے ایک عمر چاہیے ، دفتروں کے دفتر بھر جائیں مگر نہ لکھی جاسکیں۔ چہرہ مبارک ایسا کہ جس کسی نے درشن کر لیےوہ تا حیات سرکار ، کا ‘رخ روشن’ کبھی نظروں سے اوجھل نہ کر پائے، یعنی عالم یہ کہ فقط اک تجلی اور ہزار تسلی۔
میرے قبلہ و کعبہ مرشد پاک ٹوپیوں والی سرکار، بچپن سے ہی ‘گُرو’ واقع ہوئے ہیں۔ کچھ روایات کے مطابق تو قبلہ پیدا ہی مہان ہوئے تھے۔ نور ایسے ٹپکتا تھا کہ جس طرف نگاہ اٹھ جائے اہل ایمان تاب نہ لا پائیں۔ مشرکین اور کفار کی ایک بہت بڑی تعداد بھی مرشد پاک سے فیض یاب ہوئے بغیر نہ رہ سکی، آپ جس راہ سے گزرے اسے لازوال بنا دیا یعنی
رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے “انقلاب” بنا دیا
چاہے وہ ضلع جھنگ ہو ‘اتفاق’ سے لاہور ہو، کینیڈا ہو یا ملکہ کے تاج تلے بسنے والا کوئی اور سرد ملک ہو، جناب کی تپش سے ٹھٹھرتے بشر دھمال ڈالتے دیکھے گئے۔ سرکار بنیادی طور پر مادی دنیا میں کم کم ہی پائے جاتے ہیں، عموما آپ کو عالم ارواح میں ‘کنچے’ کھیلتے دیکھا گیا جہاں کئی جن بھوت جناب کے مرید ہوئے ہیں۔ قبلہ کی دنیاوی اور روحانی تعلیم بارے خودقبلہ کے بیانات دیکھنے اور سننے سے تعلق رکھتے ہیں کہ آپ بے اختیار دھمال ڈالنے پر مجبور ہو جائیں۔ مختلف جید ہستیوں نے پندرہ بیس سال تک عالم رویا میں آپ کی تربیت کی۔ بیچ میں کبھی کبھار تڑپتے مریدین کے جگرے ٹھنڈے کرنے کے کارن قبلہ اس جہان کا رخ بھی کرتے لیکن قیام ہمیشہ مختصر رہا۔


مدتیں بیت گئیں قبلہ کی بشارتیں سنتے سنتے مجال ہے جو کبھی کوئی اک خواب جھوٹا ثابت ہوا ہو۔ حاسدین نے ایڑ ی چوٹی کا زور لگا لیا کہ مرشدی کو جھوٹا ثابت کرسکیں لیکن یہ آپ کی ہی کرامات ہیں کہ سائنس بھی آپ کی وسعت تخیل کی بلندیوں کو نہ چھو پائی۔


ناچیز کی بدقسمتی دیکھیے ایک مدت ہوئی قبلہ کے عاشق ہوئےلیکن دیدار فقط تین بار نصیب ہوا ہربار دیدار کی تڑپ پہلے کی نسبت دوگنا ہوئی مگر جناب تک رسائی ہر کس و ناکس کو حاصل نہیں صرف وہی آتے ہیں جو مقبول نظر ہوں ۔ محترم کی مہربانی ہے کہ ناچیز کو بھی بہت قریب سے رخ ا نور کا دیدار بخشا۔ لانگ مارچ کے ہنگام جی ٹی روڈ پر پریس کانفرنس کے دوران تقریباً چند فٹ کے فاصلے سے ہنستا ہوا نورانی چہرہ دیکھا۔ بہت ہی زیادہ قریب ہونے کے باعث ڈب کھڑبی جلد پر پفنگ پاوڈر کے نشانات دکھائی دئیےلیکن ہم نے مارے عقیدت کے اسے واہمہ جان کر جھٹلا دیا۔ لباس ایسا کہ جس کی کوئی مثال نہیں اور ٹوپیاں ایسی کہ ایک سے بڑھ کر ایک؛ مخروطی، گول، سندھی، چپکی، انگریزی، دیسی، مستطیل ، چوکور، مکعب نما، اور نہ جانے جانے کس کس ذات کی ٹوپیاں آپ کی زنبیل میں پائی جاتی ہیں۔ ٹوپیاں خود بھی پہنتے ہیں اور موقع محل بھانپتے ہوئے کسی کو بھی ٹوپی پہنانے کی صلاحیتیوں سے مالا مال ہیں۔
بھلے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بار قبلہ دیار ِغیر سے وطن لوٹے، استقبالیہ میں درجن بھر صحافی بھی بن بلائے مہمان تھے یہاں یہ بات واضح کر تا چلوں کہ مرشدی کو میڈیا کوریج کی کبھی بھوک نہ رہی، آپ ہمیشہ کیمروں سے دور رہنا ہی پسند کرتے ہیں ہمیشہ آپ کو خود نمائی اورتعریف پر لعنت بھیجتے دیکھا۔ صحافیوں سے حسن سلوک سے پیش آئے، اور انہیں ولائتی عطریات و خوشبویات تحفتاً عنایت کیے اور فرمایا، قطعا علم نہ تھا کہ یہاں درجن بھر صحافی حضرات بھی ہوں گے، اور ہر گز اندازہ نہ تھا کہ تھیلے میں بھی صرف اتنے ہی پرفیوم ہیں۔ یہ قبلہ کی کرامت تھی کہ انہوں نے بارہ صحافیوں میں بارہ پرفیوم تقسیم کیے حالانکہ انہیں علم ہی نہ تھا کہ ان کے پاس تھیلے میں کتنی پرفیومز ہیں۔
نڈر ایسے کہ ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑے دکھائی دئیے۔شان و شوکت، دکھاوے اور بڑی بڑی گاڑیوں پر لعنت بھیجی ہمیشہ عوامی سواری کو شوق سے پسند کیا، کبھی کسی کنٹینر کا سہارا نہ لیا، عوام کے ساتھ بیچ چوراہے سردی میں ٹھٹھرتے ہوئے نمونیا کا شکار ہوئے۔ جب سردی ناقابل برداشت ہوئی تو یہ آپ کا ہی اعجاز تھا کہ یک بیک اسی یخ بستگی سے حرارت کا سامان ہوا۔
ہمیشہ لوگوں سے اپنی دوستیاں اور رفاقتیں نبھائیں؛ سن نواسی میں فرمایا کہ شریف فیملی اور بڑے میاں صاحب کی محبت کا تادم مرگ احساس رہے گا، میاں صاحب سے وہی محبت پائی جو بیٹے کو باپ سے ملتی ہے، فرمایا کہ نواز شریف کے کندھوں پر سوار ہو کر غار حرا تک پہنچا ،اور اس بے پایاں خدمت کا سدا قرض دار رہوں گا، آج جب لوٹے ہیں تو اسی تعلق اور نسبت کی تجدید کے عہد سے آئے ہیں۔
ہمیشہ اپنے اصولی موقف پر ڈٹے رہنا قبلہ کو باقی تمام تماشہ گروں سے ممتاز کرتا ہے، اپنے انقلابی مقاصد سے آپ نہ کبھی دستبردار ہوئے نہ کبھی پیچھے ہٹے ۔ابھی چند روز پہلے کی بات ہے، قبلہ کی آمد آمد تھی اور پورا پاکستان آنکھیں بچھائے جان نچھاور کیے جار ہا تھا کہ جہاز کا رخ موڑا گیا اور محترم لاہور پہنچے۔لاہور پہنچتے ہی آپ نے کمال تحمل سے مدبرانہ مطالبات کی بھر مار کر دی-
نمونے کے طور پر چند گھنٹوں میں پیش کیے گئے چند مطالبات پیش خدمت ہیں:
۱۔ طیارے کا رخ اسلام آباد موڑا جائے، کسی صورت یہاں نہیں اتروں گا!
۲۔ کور کمانڈر اور سنئیر فوجی افسران یہاں آئیں، فوج کی سکیورٹی میں باہر آوں گا، کسی حکومتی نمائندے سے بات چیت نہیں ہو گی، صرف فوج سے بات ہو گی۔
۳۔ گورنر پنچاب خود آئیں تو ہم باہر آ سکتے ہیں۔
باقی ‘تُسی آپ سمجھدار او۔ویسے لانگ مارچ والا قصہ ابھی زیادہ پرانا نہیں ہوا۔
باقی جہاں تک رہ گئی بات انقلاب کی تو آپ روز اول سے ہی انقلابی رہے ہیں، قبلہ کی زندگی میں ہمیں جا بجا انقلاب بکھرے دکھائی دیتے ہیں، سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف قبلہ کی جدوجہد کا ایک زمانہ معترف رہا ہے، یہ آپ ہی کی انقلابی جدوجہد تھی کہ جنرل مشرف وردی اتارنے پر مجبور ہوئے۔ ملک ، قوم اور افواج پاکستان پر جب بھی کڑا وقت آیا، قبلہ نے تمام تر علمی فوراً مصروفیات ترک کیں اور متاثرین زلزلہ اور سیلاب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے دکھائی دئیے۔
اب جبکہ وطن عزیز ایک بار پھر تاریخ کے نازک ترین دور سے گزرہا ہے، تو قوم کا ساتھ دینے کو قبلہ چودہ سوٹ کیس، حتٰی کہ بقول قبلہ ایک جراب تک وہاں نہیں چھوڑی، اور ہزاروں کتب ساتھ لے کر وطن واپس پہنچے ہیں تو دشمنوں کو خبر ہونی چاہیے کہ اب وہ واپس جانے کے نہیں بلکہ انقلاب آنے تک یہیں قیام ہو گا۔یہیں جینا مرنا ہوگا، محلات گرائے جائیں گے، انقلاب برپا کیا جائے گا، لوٹی دولت واپس لائی جائے گی ،پائٰی پائٰی کا حساب لیا جائے گا۔ قبلہ کے انقلاب کے آتے ہی ہر سو امن ہو گا، چین ہو گا،دودھ شہد کی نہریں ہوں گی جو القادسیہ سے لاہور ائیر پورٹ ، کالا شاہ کاکو سے چھانگا مانگا، چوبرجی سے ٹھوکر نیاز بیگ، شاہدرہ سے رائیونڈ، اور مغلپورہ سے اندرون بھاٹی تک بہا کریں گی،اور اس انقلاب کو یقنی بنانے کے لیے چوہدری برادران اور شیخ جی پنڈی وال آپ کے دست راست ہوں گے۔
اب آپ ہی بتلا دیجیے بھلا اس انقلابی ریلے کو کون مائی کا لعل روکے گا؟؟ ہیں جی!
Categories
نقطۂ نظر

لفڑا۔۔۔الیکشن کمیشن کا

انتخابات ہو گئے، حکومتیں بھی بن گئیں، لیکن ایک سال گزر جانے کے باوجود الیکشن کمیشن کا لفڑا جوں کا توں ہے۔ بلکہ اتوار کے روز مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے جلسوں میں الیکشن کمیشن کی شفافیت کو آڑے ہاتھوں لیا اور نئے آزادانہ کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ بھی داغ دیا، اس سلسلے میں تحریک انصاف کے چیئرمین سر کردہ نظر آئے۔ یقینا جمہوریت کی بقا اور دوام کے لیے ایک بااختیار، آزاد، شفاف اور موثر الیکشن کمیشن بے حد ضروری ہے، اور اسی ضرورت کا ادراک کرتے ہوئے اب سبھی جماعتیں اس اہم نقطے پر متفق نظر آرہی ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟!
سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟
طالب علم خان صاحب کی سیاسی بصیرت کا کوئی زیادہ مداح تو ہر گز نہیں، لیکن دن کو دن اور رات کو رات کہنے میں کبھی عار محسوس نہ کی۔ یہ اور بات ہے کہ کئی سیزنل سیاستدان سوشل میڈیا پر مزاح سے لپٹی گفتگو پڑھ کر سیخ پا ہو جاتے ہیں ۔ خیربات ہورہی ہے نئے الیکشن کمیشن کے قیام کی ۔تو اس بارے عرض ہے کہ اب پیپلز پارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی نے الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کے حوالے سے خان صاحب کے موقف کی تائید کر دی ہے، بھلے اسے سیاسی پلٹا سمجھیں یا بصیرت، لیکن بات اصولی ہے اور جمہوریت کے لیے بے پناہ اہمیت کی حامل بھی۔ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما سینٹر اعتزاز احسن نے عمران خان کے مطالبات کی تائید کی اور الیکشن کمیشن کی تشکیل نو کا پرزور مطالبہ کیا۔ چوہدری پرویز الہی کے بقول غیر جانبدار الیکشن کمیشن کے بغیر صاف شفاف الیکشن کا خواب ممکن نہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ معاملہ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اٹھانے کے لیے جلدپارلیمانی پارٹی کو ہدایات جاری کریں گے۔ متحدہ قومی موومنٹ کی محترمہ ثمن جعفری نے پارٹی پوزیشن واضح انداز میں بیان کردی کہ متحدہ ہمیشہ سے ہی آزاد ، شفاف اور بااختیار الیکشن کمیشن کی حامی رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ نے بھی بااختیار الیکشن کمیشن کی تشکیل کی حمایت کی ہے۔ دوسری جانب پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا اللہ کہہ چکے ہیں کہ اس معاملے پر پہلے سے سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔ درست، لیکن سوال یہ ہے کہ پھر لفڑا کیا ہے؟؟
خان صاحب نے اپنی تقریر میں سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری پر بھی تنقید کی، جس کی تائید سابق چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم چند روز پہلے ہی کر چکے ہیں، اس بارے ناچیز کو سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کے خیالات جاننے کا موقع ملا، دلشاد صاحب نے پہلی بار برملا اظہار کیا کہ جی ہاں، سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے الیکشن کمیشن کو دباؤ میں رکھا، درست! یہ بھی درست! لیکن سوال دو ہیں؛ ایک، سابق چیف جسٹس بارے یہ سب اتنی دیر سے کیوں سامنے آیا؟ اور اب جب کہ خان صاحب سو فیصد یقین سے ہیں تو وہ سابق سی جے کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیوں نہیں کرتے؟ کیوں نہ سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے کہ جناب سابق چیف جسٹس کو طلب کیا جائے اور اس اہم مدعے پر فل کورٹ بنچ تشکیل دے کر قصہ ہی تمام کیا جائے۔ لیکن سوال یہ بھی ہے کہ اگر ایسا نہیں ہو رہا اور معاملہ صرف میڈیا یا جلسے جلوسوں کو انٹرٹین کرنے کی حد تک ہی ہے تو پھر لفڑا کیا ہے۔
جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔
چلیے یہ بھی سنتے جائیے کہ موجودہ قانون کے مطابق چیف الیکشن کمشنر کی تقرری وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر مشاورت سے کرتے ہیں، لیکن اس تقرری میں عمران خان اور پارلیمنٹ میں موجود دیگر بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا کوئی کردار نظر نہیں آتا، تو چیف الیکشن کمشنر کی تقرری تمام بڑے رہنماؤں کی رضا مندی سے کرنے کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا؟ یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا کوئی ایسی ہستی ہے جس پر تمام سیاسی جماعتیں اور بالخصوص خان صاحب اتفاق رائے کرلیں؟ اگر نہیں تو پھر سوال وہی ہے۔ آخر لفڑا کیا ہے۔
مدعا جس قدر مشکل دکھائی دیتا ہے اس سے کہیں زیادہ آسان بھی ہے۔ جب سبھی پارٹیاں اس مدعے پر متفق نظر آرہی ہیں تو کمی ہے صرف خلوص نیت کی، بسم اللہ کریں، پارلیمنٹ میں اصلاحاتی بل منظوری کے لیے پیش کریں۔ اس بل کے لیے تمام جماعتوں کو آن بورڈ لیں، سیر حاصل بحث کروائیں، آئینی ماہرین کی سفارشات شامل کریں اور دو تہائی اکثریت سے منظوری کے بعد اسے آئین کا حصہ بنا ڈالیں (سبھی جماعتیں متفق ہیں تو پھر دو تہائی اکثریت سے منظوری یقینا بآسانی ہو جاوے گی)۔
اللہ اللہ خیر سلا۔ لیکن یہاں سوال لفڑے کا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ مکھن سے بال نکالے گا کون؟! ہیں جی۔۔۔
قصہ مختصر، جمہوریت کے عدم تسلسل کے باعث جمہوریت کی اقدار کی پاسداری بھی تسلسل کے ساتھ نہ ہوسکی، یہی وجہ ہے کہ ہم آج بھی الیکشن کمیشن جیسے اہم مدعے پر شش و پنج میں مبتلا ہیں، راہ نما وہ ہوتا ہے جورہ نمائی کرے، اور ساتھ ساتھ مستقبل کے مسائل کا ادراک کرتے ہوئے ٹھوس اقدام اٹھائے۔ لیکن یہاں الٹی گنگا بہتی ہے، رہ نما آتے ہیں، ایوانوں میں دھمال ڈالتے ہیں اور اگلے آنے والوں کے لیے مسائل کو کئی گنا بڑھا کر جنگلوں میں کھو جاتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہاں اس مدعے پر تو اب سبھی راضی ہیں۔ تو پھر اصل لفڑا کیا ہے؟؟
منیر نیازی نے کہا تھا؛
خیال جس کا تھا مجھے ، خیال میں ملا مجھے
سوال کا جواب بھی سوال میں ملا مجھے
نوٹ: اتوار کے روز برپا کیے گئے جلوسوں کے بعد طالب علم مسلسل عالم استغراق میں ہے۔نہیں معلوم کہ اس روز جگہ جگہ بکھرے انقلاب کو قوم اب مزید کتنے دن سمیٹتی رہے گی۔
Categories
نقطۂ نظر

رضا رومی کے لیے ایک خاموش تحریر

ajmal-jami

حضرت روم سے منسوب ہے ، ” اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، بادل کے برسنے سے اگتے ہیں”۔ رضا احمد کا نام حضرت رومی کی نسبت سے ہی جانا جاتا ہے، ، میرا ان سے پہلا باقاعدہ تعارف ایک جرمن مصنف کی صوفی موسیقی پر لکھی گئی کتاب کے حوالے سے ہوا، جہاں مصنف خود موجود تھے اور اس نشست کا اہتما م رضا رومی کی جانب سے ہی کیا گیا تھا، جرمن مصنف ڈاکٹر جورگن وسیم اس دھرتی کے صوفیا اور ان سے منسوب موسیقی پر گہری دسترس رکھتے ہیں، لیکن اس محفل میں رضا رومی سے صوفیا اکرام او ر سلاسل طریقت پر ہوئی گفتگو ناچیز کے لیے خوشگوار حیرت کا باعث ثابت ہوئی، اور پھر ملاقاتوں کا سلسلہ چل نکلا، عموما آرا میں ہم آہنگی ہی دیکھنے کو ملی لیکن اختلاف بھی مسکراہٹوں کا مرہون منت رہا۔

رضا رومی کی فکر اور سوچ کے پیچھے ان کے آباواجداد کاخاصا اثر ہے، بڑے بوڑھے کتابوں کے رسیا تھے، اہل خانہ کی کیا بات کیجیے کہ گھر کے درو دیوار بھی علم و حکمت سے سجے ہیں، والدین کی ذاتی لائبریری کئی تعلیمی اداروں کے کتب خانوں سے بڑی اور نادر کتب پر مشتمل ہے۔۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ رضا رومی کا منظر عام پر آنا دو چار دنوں کی بات نہیں۔ ہر گز نہیں۔ ایک پڑھے لکھے خاندان سے وابستگی ہے جوعلمی اور ادبی طور پر ایک مضبوط تاریخی پس سے جڑی ہے۔ اور یہی وابستگی رضا کو بتدریج پروان چڑھاتی رہی۔

رضا رومی کی فکر اور سوچ کے پیچھے ان کے آباواجداد کاخاصا اثر ہے، بڑے بوڑھے کتابوں کے رسیا تھے، اہل خانہ کی کیا بات کیجیے کہ گھر کے درو دیوار بھی علم و حکمت سے سجے ہیں، والدین کی ذاتی لائبریری کئی تعلیمی اداروں کے کتب خانوں سے بڑی اور نادر کتب پر مشتمل ہے۔

ان صاحب کی والدہ محترمہ بلقیس ریاض اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں، ناول، سفر نامے ، افسانے لکھنے کے علاوہ ممتاز اخبارات اور میگزینز میں کالم نگار رہ چکی ہیں۔ والد صاحب چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر تعینات رہے ہیں، ، ورثے میں کچھ اور ملا ہو یا نہیں، البتہ کتب خانے سے واسطہ بچپن سے ہی رہا ہے ، شاید بہت کم لوگ جانتے ہوں کہ رضا نے مقابلے کے امتحان میں انیس سو ترانوے چورانوے میں پاکستان بھر میں ٹاپ کیا تھا ، اور پھر دو ہزار دو تک سرکاری ملازم رہے، بعد ازاں ایشین ڈویلپمنٹ بنک کے ساتھ پبلک پالیسی ایکسپرٹ کی حیثیت سے وابسطہ ہو گئے۔ لیکن زبان و بیان کے اظہار نے موصوف کو چین نہ لینے دیا، اور پھر صحافت میں آن کودے۔ دہلی دل سے۔ اور پبلک ایڈمنسٹریشن کے موضوع پر کتب لکھ چکے ہیں۔

چلیے گھڑی بھر کو مان لیا کہ رضا رومی کے نظریات قابل سوال ہیں، یا رضا کو صوفیا اور اسلاف کی تعلیمات سے کوئی ربط نہیں، اور انہیں مسلمان ہونے کا ‘سرٹیفکیٹ’ بھی درکار ہے، تو؟ اسکا مطلب یہ ہے کہ انہیں گولیوں سے چھلنی کر دیا جائے؟!

اور اس بے چارے پچیس سالہ مصطفی کو کس ناکردہ گناہ کی سزا ملی کہ اسے بھی جان سے ہاتھ دھونا پڑا؟ ابھی تو اس نوجوان ڈرائیور کی شادی کو چند ماہ ہی گزرے تھے۔ بیوہ کا سہاگ اجاڑنے والے کیا ہوئے؟ کون جانتا ہے کہ ماں باپ کی رحلت کے بعد مصطفی چار بہن بھائیوں کا اکلوتا کفیل تھا، کیا مصطفی بھی کالم نویس تھا؟ مصطفی شاید اقلیتوں کے حقوق کے لیے سراپا احتجاج رہا ہو گا، یقینا مصطفی موثر قانون سازی اور جمہوری اقدار کے حق میں اہل محلہ سے الجھتا ہو گا، یہ ڈرائیور خبطی تھا، مذہب کے نام پر خود کش حملوں کی مخالفت کرتا تھا، اور انتہا پسندی کو مذہبی تعلیمات سے بدل ڈالنے کے حق میں دلائل دیتا تھا۔ یقینا اسی لیے حملہ آوروں نے مصطفی کو بھی لگے ہاتھوں اڑا ڈالا۔ یہاں ایسے شخص کا یہی انجام ہوتا ہے۔

کہاں سرکار دو عالمﷺ اور ان کی تعلیمات اور کہاں آج ہم کھڑے ہیں، کہاں رحمت العالمین ﷺ کے عاشقین صوفیا ئے کرام اور ان کی صوفی شاعری اور کہاں ہمارے حرام حلال اور کافر مسلمان کی بحث کرتے مخصوص علما دین۔ اب ایسے حالات میں اختلاف رائے بھلا کیونکر برداشت ہو؟ لیکن رضا ! یاد رکھیے گا، اقبال نے کہا تھا؛
پیر رومی مرشد روشن ضمیر
کاروان عشق و مستی را امیر

حیرت ہے کہ رضا نے آخر ایسا کیا کہہ دیا تھا کہ جس کے بعد ‘نامعلوم’ افراد کے پاس ان کی جان لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔ میں ذاتی طور پر رضا کی حالیہ تمام تحریریں اور ٹاک شوز کا جائزہ لے چکا ہو، یقین جانیں کوئی قابل اعتراض نقطہ ہاتھ نہیں آیا۔

اب چند روز پہلے کی بات ہے کہ ڈرٹی اولڈ مین خشونت سنگھ ننانوے برس کی عمر میں چل بسے۔ اس بابے نے ہمیشہ متنازعہ ایشوز پر دل کھول کر بھڑاس نکالی، جواباً پڑھنے والوں نے بھی انہیں ہمیشہ غیر اخلاقی القابات سے ہی یاد کیا، کئی فتوے صادر کئے گئے، گالیوں سے نوازا گیا، خبطی قرار دیا گیا، ایک جگہ خود کہنے لگے کہ ان کے کسی چاہنے والے نے انہیں ساٹھ کی دہائی میں امریکہ سے ایک پوسٹ کارڈ ارسال کیا ، جو تقریبا دو دہائیوں بعد انہیں موصول ہوا ، کھولنے سے پہلے ایکسائٹڈ ہوئے کہ اتنی دور سے مدت بعد کسی چاہنے والے کا پوسٹ کارڈ موصول ہوا ہے نہ جانے کیا لکھا ہو گا۔ پڑھا تو مزید ہنس دیئے،سر شام واک پر نکلے تو کارڈ ہاتھ میں رکھا، ٹہلتے رہے، اور مسکراتے رہے، کسی دوست نے پوچھا کہ سردار جی ایسا کیا ہے اس کارڈ میں جو آپ مسکراتے جار رہے ہیں، کہنے لگے کہ بھئی، ہنسی مارے افسوس کے نکلی ہے کہ کسی نے گالیوں سے شاندار تواضع کی اور ہماری بد قسمتی کہ ظالم کارڈ نے ہم تک پہنچنے میں اس قدر تاخیر کر دی۔ پھر کہا کہ شکر ہے چاہنے والے نے بندوق نہیں تان لی اور محض گالیوں کے تیر چلا کر رانجھا راضی کر لیا۔ ننانوے برس کے اس بابے پر شاید ہی کسی نے گولی چلائی ہو، یہی بابا اگر پاکستان میں ہوتا اور وہی کچھ لکھتا جو اس نے ہندوستان میں بیٹھ کر لکھا تو یقین جانئے سردار جی ننانوے برس تو دور کی بات ، شاید نو ماہ بھی زندہ نہ رہ پاتے۔

حیرت ہے کہ رضا نے آخر ایسا کیا کہہ دیا تھا کہ جس کے بعد ‘نامعلوم’ افراد کے پاس ان کی جان لینے کے سوا کوئی چارہ باقی نہ رہا۔ میں ذاتی طور پر رضا کی حالیہ تمام تحریریں اور ٹاک شوز کا جائزہ لے چکا ہو، یقین جانیں کوئی قابل اعتراض نقطہ ہاتھ نہیں آیا، ابھی تک ان کی صرف خیریت ہی دریافت کر سکا ہوں، ملاقات ابھی باقی ہے۔ جس کا مقصد ان کی خیریت دریافت کرنا نہیں بلکہ یہ جاننا ہو گا کہ بھیا، آف دی ریکارڈ ہی بتلا دو کہ آخر آپ جناب نے ایسا کونسا پاپ کیا تھا کہ آپ کی تواضع دلائل کی بجائے بندوق سے کرنے کی کوشش کی گئی۔ مجھے امید ہے رضا ایک اچھے دوست کی طرح اس راز سے پردہ ضرور اٹھائیں گے۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ میں اس راز کو راز ہی رکھوں گا اور ایسے کسی کبیرہ گناہ کا مرتکب نہ ہونے کی حتی الوسع سعی تا دم مرگ جاری رکھوں گا جو رضا سے سر زد ہوا۔ البتہ رضا رومی کو مولانا روم کا کہا ضرور سناؤں گا۔
بر زمیں گر نیم گز راہے بود
آدمی بے وہم ایمن می رود

رہا معاملہ مصطفی کا تو مصطفی کے لیے یقینا مصطفیﷺ ہی کافی ہیں۔ کیونکہ دین اسلام کی تعلیمات تو یہی کہتی ہیں کہ جس نے ایک بے گناہ انسان کو قتل کیا گویا اس نے پوری انسانیت کا قتل کیا۔
حضرت روم نے کہا تھا “اپنی آواز کی بجائے اپنے دلائل کو بلند کیجیے، پھول بادل کے گرجنے سے نہیں، بادل کے برسنے سے اگتے ہیں”۔

Categories
نقطۂ نظر

“آپ کریں تو ڈانس، ہم کریں تو۔۔۔”

ajmal-jami
ہائے ہائے! قربان جائیے مولانا کی ادا کے،ان کے پاس ہر بار بجانے کو نئی ڈفلی اور نیا راگ ہوتا ہے؛ کبھی اپوزیشن کی بھیرویں تو کبھی اقتدار کا درباری، دکھانے کو اور بیچنے کو ان کے پاس ہر بازار کا سودا ہے۔عورت کی حکمرانی کے خلاف رہتے ہوئے بھی کشمیر کمیٹی کی چیئر پرسن شپ پانی ہو یا امریکہ مخالفت کے نعروں کے شور میں امریکہ کی مدد سے وزارت ِ عظمیٰ پانے کی خواہش کرنا ہو، سرکار دربار میں پذیرائی کا کون سا ہنر ہے جو مولانا کو نہیں آتا۔اوراب کی بار پختونخواہ کی حکومت پر اعتراض کرتے کرتے مغرب کے ایجنڈے کی بھی خبر دے گئے۔ قبلہ مولانا نے فرمایا،”اسلام آباد سے جینز پہنے ہوئے این جی اوز کی خواتین، نوجوان خواتین آپ کے صوبے میں آکر آپ کی فائلیں تیار کرتی ہیں۔” فقیر مسلسل عالم استغراق میں ہے، جب سے مولانا کے لبوں سے پھول کھِلے، سمجھ بوجھ جواب دے گئی، وارفتگی ہے کہ دیوانگی کی حد تک، بس اتنی سی سمجھ باقی ہے کہ جس سے مولانا کے بیان کا پوسٹ مارٹم کیا جا سکے؛ تو پھر آئیے کارِ خیر میں حصہ بقدر جثہ ڈالتے جائیے:
نہیں معلوم کہ آپ جناب کو شکایت کس سے تھی اسلام آباد سےیااین جی اوز سے؟ خواتین سے ، نوجوان خواتین سے یا پھر این جی اوز کی نوجوان خواتین سے ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ انہیں اعتراض خواتین کے خصوصاً این جی اوز کی خواتین کے جینز پہننے پر ہو۔

ویسے حضرت آپ کب تک ‘اسلام’ کے نام پر ایسے اوچھے بیانات اُچھال کر معاشرتی انتشار پیدا کرتے رہیں گے؟ میں نے آج تک آپ جناب کے منہ سے کسی جلسے میں اخلاقیات، سماجیات یا اسلام کی رو سے اقلیتی اور بالخصوص انسانی حقو ق کی بات نہیں سنی۔ حتٰی کہ ‘شانِ اسلام’ جیسی کانفرنسز میں بھی آپ جناب ہمیشہ ‘سیاسیات’ کے موضوع پر ہی بات کرتے پائے گئے ہیں، یعنی حد ہے۔

ویسے حضرت آپ کب تک ‘اسلام’ کے نام پر ایسے اوچھے بیانات اُچھال کر معاشرتی انتشار پیدا کرتے رہیں گے؟ میں نے آج تک آپ جناب کے منہ سے کسی جلسے میں اخلاقیات، سماجیات یا اسلام کی رو سے اقلیتی اور بالخصوص انسانی حقو ق کی بات نہیں سنی۔ حتٰی کہ ‘شانِ اسلام’ جیسی کانفرنسز میں بھی آپ جناب ہمیشہ ‘سیاسیات’ کے موضوع پر ہی بات کرتے پائے گئے ہیں، یعنی حد ہے۔
آپ جناب کی کرشماتی شخصیت کے تقریبا ًتمام پہلو اہل وطن پر ‘روزِ روشن ‘ کی طرح خوب عیاں ہیں، لیکن بادشاہ گری کے کھیل سے واقفیت کا یہ عالم ہے کہ آپ اور آپ کی سیاسی جماعت بھلے اپوزیشن میں ہوں یا حکومتی اتحاد کا دم چھلا ہوں، کمال یہ ہے کہ ہر حیثیت میں کچھ ایسے ‘چھو منتر ‘ پھونکتے ہیں کہ جس سے ہزاروں کنال اراضی، پرمٹ اور وزارتیں آپ کے ‘عقد’ میں ‘انتقال’ کر جاتی ہے۔ مثال کے طور پر 2006 میں جب سید پرویز مشرف مسند اقتدار پر براجمان تھے تو مولانا اور ان کے رفقا چھ ہزار کنال زمین اپنے نام کروا بیٹھے نہیں معلوم کیسے اور کیونکر! مزید تفصیل کے لیے لنک دستیاب ہے:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=18207&Cat=13&dt=11/7/2008
اس سے پہلے 2004 میں سید پرویز مشرف ، مولانا اور ان کی جماعت کے اس وقت کے وزیر اعلی اکرم خان درانی کو بارہ سو کنال ‘فوجی ‘ اراضی بھی ‘ہدیہ’ کے طور پر پیش کر چکے تھے، اب ہماری ناقص عقل بھلا کیسے یہ گتھی سلجھا سکتی ہے کہ ‘ملٹری لینڈ’ مولانا کی خدمت اقدس میں تہتر کے آئین کے کس تناظر میں پیش کی گئی حالانکہ مولانا تو تب بھی ‘اپوزیشن’ میں ہی تھے، لیجیے !مذکورہ خبر لنک کی صورت میں پیش کیے دیتے ہیں ملاحظہ ہو:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=18118&Cat=13&dt=11/2/2008
اور ابھی موجودہ حکومت سے آٹھ ماہ کی دوری کے بعد تین وزارتیں پا گئے۔
اور رہی بات ‘جینز’ اور’جینز پہننے والیوں’ کی تو نہ جانے بعد مدت مولانا کو جینز پہننے والیوں سے اس قدر ‘خفگی’ کیوں ہوئی، حالانکہ این پیٹرسن (پاکستان میں امریکی سفیر رہ چکی ہیں) بھی کسی زمانے میں جینز پہنا کرتی تھیں، بطور سفارتکار عموما ًپتلون پہنتی تھیں، جو بظاہر جینز سے زیادہ مختلف لباس نہیں۔ اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ نا چیز نے این پیٹرسن کا تذکرہ کس کارن چھیڑ دیا؟تو جناب گذارش ہے کہ حضرت مولانا بڑے مان اور خلوص سے محترمہ این پیٹرسن اور دیگر تمام امریکی سفارتکاروں سے ملا کرتے تھے اور آج کل بھی ملتے ہیں یہی نہیں بلکہ یہ حضرت تو وزیر اعظم بننے کے لیے سر کے بل چلنے کوبھی تیار تھے اور یہی وجہ ہے کہ ‘جینز’ اور پتلون پہننے والی امریکی سفیر سے مولانا نے ‘وزیر اعظم’ بننے کی معصوم سی خواہش کا اظہار بھی کر دیا تھا وکی لیکس کے انکشافات اس رام کہانی سے کچھ یوں پردہ اٹھاتے ہیں:-
http://www.thenews.com.pk/TodaysPrintDetail.aspx?ID=2507&Cat=13
نمونے کے طور پر یہ لنک بھی اوپن کرنے کی زحمت ضرور کیجیے گا:-
http://www.theguardian.com/world/us-embassy-cables-documents/148390?guni=Article%3Ain+body+link–

بی بی شہید کے دوسرے دور حکومت کے دوران حضرت مولانا فضل الرحمان ذاتی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ‘ڈیزل کوٹہ’ کے حصول میں بھی سب سے نمایاں رہے، ، یہ اور بات ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب آپ جناب نے ‘خاتون’ وزیر اعظم کی حکومت میں ‘وزارت’ کو ٹھکرا دیا تھا۔

مولانا فضل الرحمان کے ‘جینز’ پر حالیہ بیان سے یوں لگا جیسے مولانا مغربی لباس سے خاصے نالاں ہیں، لیکن دوسری جانب جے یو آئی کے ‘ترجمان’ جون اچکزئی، معاف کیجیے گا جان اچکزئی اکثر و بیشتر مکمل مغربی لباس زیب تن کیے ٹی وی سکرینوں پر جلوہ گر ہوتے ہیں تو مولاناکیا یہ کھلا تضاد نہیں؟
مولانا کے تھیلے میں شعبدوں کو کوئی کمی نہیں ۔ابھی چند ہفتے پہلے کی ہی تو بات ہے کہ حضرت مولانا نے بابنگ ِ دہل فرمایا کہ “امریکا اگر کسی کتے کو بھی مارے گا تو اسے شہید کہوں گا”۔ حضرت کی اس انوکھی منطق پر ناچیز نے ‘مولانا کے نام ایک پریم پتر’ لکھا ، ، جسے پڑھنے کے بعد آپ جناب کے چاہنے والوں نے ‘فقیر’ کو خوب لتاڑا ۔ قارئین سے التماس ہے کہ اس تحریر کو ‘پریم پتر’ کے ساتھ ملا کر پڑھا جاوےتاکہ حضرت کے’سنہرےاقوال’ سمجھنے میں آسانی رہے۔ لنک پیش خدمت ہے۔۔
https://laaltain.pk/مولانا کے نام ایک پریم پتر
مزید بھی سن لیجیے! بی بی شہید کے دوسرے دور حکومت کے دوران حضرت مولانا فضل الرحمان ذاتی دلچسپی کے دیگر امور کے ساتھ ساتھ ‘ڈیزل کوٹہ’ کے حصول میں بھی سب سے نمایاں رہے، ، یہ اور بات ہے کہ ایک ایسا وقت بھی تھا جب آپ جناب نے ‘خاتون’ وزیر اعظم کی حکومت میں ‘وزارت’ کو ٹھکرا دیا تھا، ڈیزل کوٹہ اور کشمیر کمیٹی کے معاملات کی کہانی خاصی طویل ہےلہذا یہ کہانی پھر سہی!
فی الحال تو ایک جملے نے جینا حرام کر رکھا ہےیعنی؛
“آپ کریں تو ڈانس ،ہم کریں تو۔۔۔”

Categories
نقطۂ نظر

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے۔۔۔! ۔

ajmal-jami-innerرنگ ۔۔! رنگ آنکھ کی کی پہچان ہیں۔رنگ نظر کا ایقان ہیں۔رنگ باتیں کرتے ہیں۔رنگ ،رنگ بھرتے ہیں۔رنگ تخیل ہیں۔رنگ حقیقت ہیں۔رنگ دُنیا کی سب سے بڑی سچائی ہیں۔ ۔
رضا کار اُستاد نے پوچھا!بیٹا آپ کیا پڑھنا چاہتے ہو؟۔
حمزہ بولا!مجھے کچھ نہیں پڑھنا۔۔۔آپ بس رنگ بھرنا سکھا دیجیئے۔۔
ماروی (استاد )کے لئے یہ قدرے انوکھا جواب تھا۔عموماً بچے آٹھ دس سال کی عمر میں کافی کچھ سیکھنا چاہتے ہیں۔لیکن حمزہ کی بے پرواہی،عمومی کاموں سے اجتناب اور طبیعت کی سنجیدگی یہ بتاتی تھی کہ اس بچے کا مزاج خاصا مختلف ہے۔صبح سویرے نرسیں وقت پر دوا دے جاتیں،کھانے کا انتظام بھی معقول ہو جاتا،، ،اکثر و بیشتر تکلیف دہ ٹیکے بھی لگتے اور پھر سر شام ہی حمزہ اپنی ماں کے ساتھ بستر پر آرام کرتا ۔ایک دن کسی خاص جنون سے ہانکے ہوئے کچھ لوگ ادھر آنکلے جنہوں نے سب بچوں کو بتایا کہ وہ انہیں پڑھنا لکھنا سکھائیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ کھیل کود کے لئے بھی تمام سامان مہیا کیا جائے گا۔یہ سُنتے ہی درجنوں چہرے کھِل اُٹھے۔رنگ برنگے کھلونے ،کاپیاں،کتابیں اور پنسلیں دیکھ کر بچوں کے چہرے ایسے تھے جیسے بہار کی آمد بھانپتے ہی بُلبُل چہک اُٹھے۔
یہ چند ایک جنونی لوگ ہر بچے کے پاس گئے اور پوچھا”آپ کیا لینا پسند کرو گے؟کتاب ،کاپی،بلّا گیند یا کچھ اور؟”ہر بچے نے اپنے مزاج کے مطابق اپنی اپنی پسند کا انتخاب کیا۔انہی میں سے ایک ماروی بھی تھی،حمزہ کے قریب آتے ہی اُس نے پوچھا بیٹا!آپ کیا لو گے؟حمزہ نے بِنا کسی توقف پُر اعتماد لہجے میں صرف ایک جملہ کہا”مجھے صرف رنگ دے دیں”۔ماروی نے رنگوں کا ڈبہ تو اُسے ضرور دیا لیکن ایک چھوٹے بچے کے چہرے پراس قدر سنجیدگی،انتہائی مختلف اور مختصر جواب نے ماروی کو قدرے چُونکا ضرور دیا۔اگلے دن جب یہ لوگ دوبارہ آئے تو انہوں نے بچوں کے گروپس بنا کر انہیں پڑھنے لکھنے اور مختلف کھیلوں میں مصروف کر لیا۔ماروی نے بخوبی محسوس کیا کہ تمام بچے بڑے جوش و خروش اور انہماک سے اس ایکسر سائز میں محو ہیں لیکن حمزہ اپنے بیڈ پررنگ ہاتھ میں تھامے بدستور خاموشی سے لیٹا ہے۔وہ حمزہ کی جانب گئی اور پوچھا”بیٹا ! آپ پڑھ لکھ رہے ہو اور نہ ہی کسی کھیل میں مصروف ہو خیریت تو ہے؟”حمزہ بولا”مجھے صرف رنگ بھرنا سکھا دیں۔۔۔! مجھے اور کچھ بھی نہیں سیکھنا”۔

ہر بچے نے اپنے مزاج کے مطابق اپنی اپنی پسند کا انتخاب کیا۔انہی میں سے ایک ماروی بھی تھی،حمزہ کے قریب آتے ہی اُس نے پوچھا بیٹا!آپ کیا لو گے؟حمزہ نے بِنا کسی توقف پُر اعتماد لہجے میں صرف ایک جملہ کہا”مجھے صرف رنگ دے دیں

ایک لمحہ فیصلے کے لئے کافی ہوتا ہے وگرنہ عمر بھر کی ریاضت بھی رایئگاں ٹھہرتی ہے۔۔ماروی نے اُس “لمحہ موجود”میں فیصلہ کر لیا کہ وہ حمزہ کو خود رنگ بھرنا سکھائے گی اور یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ آخر یہ بچہ اس قدر مختلف کیوں ہے۔ماروی ایک سرکاری یونیورسٹی کے شعبہء فائن آرٹس کی طالبہ تھی۔کلاسوں سے فراغت کے بعد ماروی اور اُس کے چند سر پھرے دوست روزانہ حمزہ اور اس جیسے دیگر بچوں کو دو چار گھنٹوں کا وقت ضرور دیا کرتے تھے۔ ۔فائن آرٹس سے تعلق ہونے کی بِنا پر ماروی کے لئے حمزہ کو رنگوں سے متعارف کروانا قطعا مشکل نہ تھا۔لہذا وہ دس سالہ حمزہ کو رنگوں کی زبان سکھانے لگی۔الغرض یہ کہ حمزہ اب ڈرائنگ شیٹ پر رنگوں کی زُبان بولنے لگ گیا۔۔وہ دن کا اکثر وقت شیٹ نما کینوس پر رنگ بکھیرتا۔رنگ بھرتے ہوئے حمزہ کا چہر ہ ایک خاص قسم کی روشنی سے روشن ہو جاتا۔۔اس کی آنکھوں میں ایک طمانیت امڈ آتی ،، اسی روشنی اور طمانیت کا راز ماروی جاننا چاہتی تھی۔
دن بھر حمزہ رنگوں کے ساتھ کھیلتا اور رات بھر اُس کی ماں اس کے سرہانے بیٹھی رہتی۔حمزہ رات بھر ماں کو سونے نہ دیتا ۔وہ کہتا کہ “ماں! بس میری آنکھوں میں دیکھتی رہو” اور اس کی ماں نم آنکھوں سے بیٹے کو بس تکتی رہتی۔۔۔ کیونکہ ایک ڈر تھا جو حمزہ کی ماں کو سونے نہیں دیتا تھا ۔۔ تابش صاحب نے کہا تھا
ایک مدت سے میری ماں نہیں سوئی تابش
میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

رضا کار استاد ماروی کو جب پتہ چلا کہ اصل معاملہ کیا ہے تو وہ اپنی یونیورسٹی سے اسی وقت بھاگ دوڑی۔کینسر وارڈ میں داخل ہوتے ہی وہ حمزہ کے بستر کی جانب لپکی جہاں حمزہ مدتوں بعد سو رہا تھا۔۔وہ ناممکن کو ممکن کر چکا تھا۔۔
حمزہ کو آنکھوں کا کینسر تھا۔ڈاکٹرز کہہ چُکے تھے کہ بینائی جاتی رہے گی اور۔ زندہ رہنے کی خاطر۔۔!! پہلے ایک آنکھ نکلے گی اور اُس کے بعد اسی طرح دوسری بھی نکالناپڑے گی۔۔۔ سانسوں کا ربط بحال رکھنے کے لیے شاید میڈیکل سائنس کے پاس یہی ایک واحد حل تھا۔۔ حمزہ فطرتا سمجھدار واقع ہوا تھا اور وہ کسی بھی ایسے وقت کے آنے سے پہلے رنگ بھرنا چاہتا تھا۔ وقت کم تھا اور حمزہ کو بینائی کھو جانے سے ڈر لگتا تھا۔۔اس سے پہلے کہ بینائی جاتی رہتی حمزہ اپنے لا شعور میں تمام رنگ بھر چُکا تھا۔وہ اپنی ماں کا چہرہ بھی اپنی آنکھوں میں خوب اچھی طرح سے سمو چُکا تھا۔”ہارے بھی تو بازی مات نہیں “کے مصداق اب اُسے کوئی ڈر نہ تھا۔اسے ماں کا چہرہ بھی ہو بہو یاد تھا اور دُنیا جن رنگوں سے تعبیر کی جاتی ہے وہ رنگ بھی اَز بر تھے۔۔ ماروی کو رنج تھا کہ وہ چاہ کر بھی حمزہ کے لئے کچھ نہیں کر سکتی تھی۔لیکن اصل میں وہ حمزہ کے لئے نا ممکن کو ممکن کر چُکی تھی۔وہ ۔۔۔جو دُنیا کا کوئی بھی ڈاکٹر کرنے سے قاصر تھا ۔۔ماروی وہ کام کر چُکی تھی۔۔۔! وہ حمزہ کے لاشعور میں تمام رنگ بھر چکی تھی۔۔ شاید ماروی کے اندر بھی ہیلن کیلر کی سی روح اتر آئی تھی جس نے حمزہ کو تمام رنگوں سے مکمل طور پر آشکار کر دیا تھا۔ لیکن کیا کیجئے کہ زندگی کبھی رُکتی نہیں۔۔ چلتی رہتی ہے ۔ کیونکہ ہر مدار کا اپنا دائرہ کارہوتا ہے ۔۔حمزہ کی بینائی اور سانسیں اپنی مدت پوری کر چُکی تھیں ۔۔
ماروی اب بھی رنگوں کے نجانے کتنے قِصے کینوس پر اُتارتی ہے ۔۔ اس کے رنگ باتیں کرتے ہیں، اور ان باتوں سے خوشبو آتی ہے ۔۔ لیکن اس کے ہاں کہانیاں کہتے خواب بُنتے رنگوں میں جو ایک رنگ سب سے نمایاں ہے وہ رنگ” حمزہ رنگ “ہے۔۔!!