Categories
شاعری

یہ شام بکھر جائے گی (ابرار احمد)

ہمیں معلوم ہے
یہ شام بکھر جاے گی
اور یہ رنگ۔۔۔۔ کسی گوشہ بے نام میں کھو جائیں گے
یہ زمیں دیکھتی رہ جاے گی.. قدموں کے نشاں
اور یہ قافلہ۔۔۔۔۔
ہستی کی گزرگاہوں سے
کسی انجان جزیرے کو نکل جاے گا

جس جگہ آج
تماشائے طلب سے ہے جواں
محفل رنگ و مستی
کل یہاں، ماتم یک شہر نگاراں ہو گا

آج جن رستوں پہ
موہوم تمنا کے درختوں کے تلے
ہم رکا کرتے ہیں, ہنستے ہیں
گزر جاتے ہیں
ان پہ ٹوٹے ہوئے پتوں میں ہوا ٹھہرے گی

آج ۔۔۔ جس موڑ پہ، ہم تم سے ملا کرتے ہیں
اس پہ کیا جانیے
کل کون رکے گا آ کر ۔۔۔۔۔

آج اس شور میں شامل ہے
جن آوازوں کی دل دوز مہک
کل یہ مہکار اتر جاے گی, خوابوں میں کہیں ۔۔۔۔

گھومتے گھومتے تھک جائیں گے
ہم — فراموش زمانے کے ستاروں کی طرح
ارض موجود کی سرحد پہ
بکھر جائیں گے ۔۔۔۔۔۔۔

اور کچھ دیر، ہماری آواز
تم سنو گے تو ٹھہر جاؤ گے
دو گھڑی
رک کے گزر جاؤ گے، چلتے چلتے

اور سہمے ہوئے چوباروں میں
انہی رستوں، انہی بازاروں میں
ہنسنے والوں کے
نئے قافلے آ جائیں گے !
Image: Hasan Abdali

Categories
شاعری

میں نے ایک گھر بنایا ہے

پہلے ۔۔۔میں رنگین شیشوں اور گھنیرے کمروں والے
اس گھر میں رہتا تھا
جسے میرے باپ نے تعمیر کیا
محبت کی گلیوں میں آباد وہ گھر
ہمیں در بدری اور دھوپ سے بچا نہ پایا
لیکن — کبھی نہ ختم ہونے والی مسافرت میں
اس گھر کی خوشبو
ہمیشہ میری سانسوں میں چلتی رہی
میں بہت سے گھروں میں رہا
ایک تعلق بھری مغایرت کے ساتھ
وہ کمرہ نما گھر
جس کی اداس شاموں میں دھول اڑا کرتی تھی
اور صحرائی میدانوں کی گرم جوش ہوا
دل میں بے چینی بھر دیتی تھی
جس کی خاموشی میں
دوستوں، دور افتادہ یادوں
اور آنے والے دنوں کی صورت گری سے
رونق لگی رہتی تھی
ایک اجنبی پہاڑ پر وہ خیمہ
جو ایک پر شور دریا کے کنارے
تیز ہواؤں کی زد پر ساری رات پھڑکتا تھا
جہاں پتروماکس کی روشنی میں
میں نے ” وار اینڈ پیس ” کا مطلب جانا
اور کتابوں سے باہر کی دنیا کو دیکھا
پر کیف خوابوں جیسا وہ گھر
جس کے اطراف میں بہت بارش ہوتی اور
بہت مہمان آتے تھے
زندہ دل لوگوں اور گھروں کے درمیان کا وہ گھر
جہاں پارک کی روش پر ٹہلتے ہوئے
ہنستے کھیلتے، ایک عمر بیت گئی
اور ایک گھر
جو ان گھروں سے پرے
میرے خیالوں ہی میں بنا رہا
گھر ہوتا ہے، رہنے والوں کے لیے
اور یہاں قیام کس کو ہے؟
ویسے بھی کچھ لوگوں کا گھر نہیں ہوتا
یا پھر وہ گھروں کے نہیں ہوتے
میں نے اب
ادھر ادھر سے اینٹیں جمع کر کے
ایک خوب صورت گھر تعمیر کیا ہے
ایک چھت جو انھیں دھوپ اور آندھی سے بچا سکے
اپنے بچوں کے لیے
ان کی روشن آنکھوں کے خوابوں کی رہایش گاہ —–
لیکن میرا تو ایسا سایہ بھی نہیں
جہاں وہ تا دیر قیام کر سکیں
پھر بھی
زندگی کے گلی کوچوں سے گزرتے ہوئے
اجنبی زمینوں پر نئے گھر بناتے ہوئے
اس گھر کی خوشبو
اور میرے تھکے ماندے خوابوں کی چاپ
ہمیشہ ان کے ساتھ ساتھ چلے گی
موجود اور معدوم کے
کناروں تک
Image: Peterio

Categories
شاعری

اگر مجھے

اگر مجھے
اگر مجھے خواب ہی دیکھنا تھے
تو میں خواب دیکھتا
آزادی اور محبت کی سمت کھلنے والی کھڑکیوں
اور کشادہ آنگنوں کے
میں نے کیوں بند دروازوں کے خواب دیکھے
اگر مجھے جاگنا ہی تھا
تو میں جاگ اٹھتا، کسی بادلوں بھری صبح میں
تمہارا ہاتھ تھامے ہوے
میں نے کیوں شک اور دکھ سے بھرے
اس گھر میں آنکھ کھول دی

اگر مجھے بکھرنا ہی تھا
تو میں بکھرتا
سمندر کے سینے پر
یا پھر تمھارے قدموں میں
میں نے کیوں
ان بے اماں راستوں میں
اپنی مٹی خراب کی

اگر مجھے انتظار ہی کرنا تھا
تو میں انتظار کرتا
اس کا ، جو راستے ڈھونڈتا میری طرف آنے کے
میں کیوں آنکھوں میں چراغ لیے
اس رہگزر پر بیٹھا رہا
جہاں سے کوئی نہیں گزرتا

اگر مجھے دوڑنا ہی تھا
تو میں دوڑتا چلا جاتا
کسی بھی نا ہموار سڑک پر، آنکھیں بند کیے ہوے
میں کیوں ان دیکھے بھالے راستوں پر
ٹھوکریں کھاتا پھرا

اگر مجھے رکنا ہی تھا تو میں رک جاتا
کسی بھی جھیل کے کنارے، اجنبی آسمان کے نیچے
میں کیوں بیٹھ گیا
دنوں کی بےکیفی اور اکتاہٹ کی دہلیز پر

اگر مجھے سونا ہی تھا
تو میں سو رہتا یہیں کہیں، اس بستر پر
یا اپنے مضافات میں کہیں
میں کیوں سو گیا، بے خوابی اور اذیت کے پتھر پر
سر رکھ کر ———-

اور اگر مجھے اتنے بہت سے کام کرنا ہی تھے
تو میں اس دوڑ میں بھی شامل ہو جاتا
یا پھر —– دیواروں سے ہی ٹکرا جاتا
انہیں توڑتے ہوئے !
Categories
شاعری

آنکھ بھر اندھیرا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

آنکھ بھر اندھیرا

[/vc_column_text][vc_column_text]

چمکتی ہیں آنکھیں
بہت خوب صورت ہے بچہ
وہ جن بازوؤں میں
مچلتا ہے، لو دے رہے ہیں
چہکنے لگے ہیں پرندے
درختوں میں پتے بھی ہلنے لگے ہیں
کہ لہراتے رنگوں میں
عورت کے اندر سے بہتی ہوئی روشنی میں
دمکنے لگی ہے یہ دنیا۔۔۔۔
وہ بچہ۔۔۔۔۔ اسے دیکھے جاتا ہے
ہنستے، ہمکتے ہوئے
اس کی جانب لپکنے کو تیار۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عورت بھی کچھ
زیر لب گنگنانے لگی ہے
لجاتے ہوئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کسی سر خوشی میں
بڑھاتا ہے وہ ہاتھ اپنے
تو بچہ۔۔۔۔۔۔ اچانک پلٹتا ہے
اور ماں کے سینے میں چھپتا ہے
عورت سڑک پار کرتی ہے
تیزی سے، گھبرا کے
چلتی چلی جا رہی ہے

 

ادھر کوئی دیوار گرتی ہے
شاعر کے دل میں
وہیں بیٹھ جاتا ہے
اور جوڑتا ہے یہ منظر
اندھیرے سے بھرتی ہوئی آنکھ میں !

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]