Categories
نان فکشن

ہندوستانی الاصل اساطیر اور علامات

قبل اس کےکہ ہم اردو ادب کی اساطیری بنیادوں اور علامتی لفظیات پر گفتگو کریں مناسب یہ معلوم ہوتا ہےکہ ہم اسطور اور علامت کے مفہوم کو سمجھ لیں ۔ بالعموم اسطور سے ایسی کہانی مراد لی جاتی ہے جو سائنٹیفک مفہوم میں صد فی صد صداقت پر مبنی نہیں ہو تی ہے ۔ اس میں اشخاص و کردار اور اعمال طبیعی دنیا سے مختلف ہوتے ہیں ، جنہیں غیر فطری یا نا رسائی کو تسلیم کرتے ہوئے مابعد الطبیعی انسان اور مخلوق کا نام دیا جاتا ہے ۔ اسطور کا سروکار ہمیشہ تخلیق سے ہوتا ہےاور یہ شئے کے وجو کی تعبیر پیش کرتا ہے ، اسطور احساس و تصور کا مرکب ہوتا ہے ، بہتیرے اساطیر اور نیم اساطیر طبیعی سر گرمی اور سماوی ، فوق الفطری طاقتوں کی تعبیرات و تشریحات ہیں ۔ Dictionary of Literary term and Literary theoryکے مصنفین نے اس لفظ کے مختلف زبانوں میں الگ الگ مفاہیم کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا ہے کہ فی الوقت اسطور افسانویت کی شناخت کی طرف مائل ہوتا ہے ، ایک ایسی افسانویت کی تر سیل اسطور سے ہوتی ہے جو نفسیاتی حقیقت کی حیثیت رکھتا ہے ۔(1)

اسطور فی الواقع ما بعد الطبیعی دنیا ، کائناتی نیرنگی و بوقلمونی اور انسانی نفسیات کی پیچیدگی کو سمجھنے اور سمجھانے کی تخیلی اور سری کاوش ہے ۔ بعض ناقدین اور مفکرین نے اسطور اور فطرت کو باہم مربوط کر کے دیکھنے کی سعی کی ہے ۔ تاریخی اسطوریت کے متبادل کے طور پر اساطیر کو کائنات اور ہمارے اطراف جاری سر گرمی کی تمثیل خیال کیا جاتا ہے ، اساطیر تاریخ تو نہیں ، البتہ طبیعی تاریخ ضرور ہے ، سارے استعارے قدیم عہد کی طبیعات کی حیثیت رکھتے ہیں ،ہندوستانی صنمیات کا مطالعہ اس نتیجے تک لے جاتا ہے ۔ انسانی گروہ کے اجتماعی لاشعور نے خالق کے عرفان و ادراک کو حاصل کرنے کی جس نوع کی تخیلی سر گر می پر انہیں آمادہ کیا اس سر گرمی نے انہیں دیوی دیوتاوں تک رسائی بخشی ۔ بہتیرے ایسے دیوی اور دیوتا ہیں جو مظاہر فطرت کے الگ الگ مظہر پر فائز ہیں ۔کئی ایسے ہیں جو فلکیات اور نجوم سے وا بستہ ہیں اور ان کا رشتہ سیاروں اور برو جی جھرمٹوں سے مربوط ہے ۔ دھرتی ماتا ، چندر ما ، سوریہ دیوتا وغیرہ کا ہندوستانی سیاق ہو یا پھر یونانی اساطیری علائم ۔ یہ سب فطرت کی تفہیم و تعبیر کی سعی معلوم ہوتے ہیں ۔

انسانی تاریخ میں زندگی وجود ، انسان اور کائنات کے ادراک کے لئے کی جانے والی کوششوں نے جن اساطیر کو جنم دیا ہے ۔ وہ اپنے آپ میں نہ صرف متنوع اور مختلف ہیں بلکہ کائنات میں موجود پیچ کی طرح پیچدار اور گہرائی کی طرح عمیق ہیں ۔ یہ ہماری ذہنی سر گرمی اور تخیلی کار کر دگی کو ایک وسیع علاقہ عطا کرتی ہے ۔ ان علاقوں اور خطوں کی سیر کرنے کے بعد تخیل و حاسہ ، زر خیزی وشادابی کے ساتھ اسرار و رموز کا بیش بہا خزانہ لے کےواپس پلٹتا ہے ۔ زندگی اور موت ، روشنی اور تاریکی اور نور و نار کی کشمکش سے جو تصادم جنم لیتا ہے اور فکرو نظر کی سطح پر جو گھمسان بپا ہوتا ہے ، اساطیر اس وجودی مسئلے کی تفہیم میں تخیل کی رہ نمائی اور رہبری کا فرض بھی انجام دیتے ہیں اور اس طرح وہ غیر منطقی قصے نہ رہ کر عرفان و ادراک ، اسرار رموز اور انکشاف و ذات و کائنات کا بیش قیمت خزینہ اور از حد مفید وسیلہ بن جاتے ہیں ۔ ادب میں اساطیر کا استعمال چاہے وہ تمثیلا ت کی شکل میں یا علامتی پیرائے میں ہوں ، ایک طرف ہماری ذہنی دنیا کو ماضی سے مربوط کر کے اس کی بازیافت کی راہ سجھاتا ہے اور اساطیر کی نئی معنویت و جدید تعبیر کی راہ ہموار کرتا ہے ، تو دوسری طرف معنی کی توسیع کرتے ہوئے انسان کی اجتماعی لا شعور کی سر گرمی اور اس کے تسلسل کو دریافت کرتا ہے ۔

شکیل الرحمان اسطور کی اہمیت پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں

“فنون میں نفسیاتی تجربو ں کا سفر نہ جانے کب سے جاری ہے تخلیقی فنکاروں نے متھ کےدلکش معنی خیز تجربوں کو نفسیاتی صورتیں دی ہیں ۔رومانیت کے اصول سے آشنا کیا ہے ۔انہیں ڈرامائ پیکروں میں ڈھالا ہے اور اکثر استعاروں میں جلوہ گر کیا ہے ۔اساطیر کا مطالعہ بنیادی طور پر معصوم پراسرار اور حیرت انگیز قدیم اور قدیم تر انسانی تجربوں کی نفسیات کا مطالعہ ہے”

ہندو صنمیات میں خداوں کی تشکیل اس طور پر کی گئی ہے کہ کائنات میں تخریب و تعمیر کا علاحدہ علاحدہ عمل ایک ایک دیوتا سے مخصوص ہے ۔ہندوستانی اساطیر کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سےے بیشتر کردار مرتکز ہیں ہر کردار یا تو مظاہر فطرت میں سے کسی مظہر سے وابستہ ہے یا پھر انسانی صفات میں سے کسی ایسی صفت سے متصف ہے جو ناقابل تسخیراور محیر العقول ہے ۔کئی اسطور ایسے ہیں جو حیوانات اور دریاوں سے وابستہ ہیں ۔اردو ادب میں بیانیہ شاعری بالخصوص مثنوی میں اساطیر کا تفصیلی بیان ملتا ہے ۔غزلیہ شاعری میں اساطیر کا استعمال تلمیحات کی صورت میں ہوا ہے ۔اسطور جب تلمیح میں مبدل ہوتا ہے یا علامت کا روپ دھارن کرتا تو اس صور ت میں قاری کی علمیت سے وسعت و گیرائی کا تقاضا کرتا ہے تلمیح میں بسا اوقات اسطور کا کوئی ایک جزء ہی کار آمد ہوتا ہے ۔اس لئےاسطور کی تلمیحی صورت پورے اسطور کو یاد داشت میں محفوظ رکھنے اور اس کے ہر کردار و وقوعے کو ذہن میں مستحضر کرنے کا تقاضا کرتی ہے ۔اردو شاعری میں جو اسطوری تلمیحات استعمال میں لائی گئی ہیں ان میں سے وافر حصہ ان اساطیر کا ہے جو ہندوستانی تہذیب و تاریخ میں پیوست ہیں اور ادب میں ان کے استعمال سے تمدن و تہذیب اور ذہنی و تخیلی سر گرمی کے مختلف اساطیری روپ اپنے خصائص و اعمال سمیت سامنے آگئے ہیں ۔تہذیب و کلچر کی باہمی آویزش کس طرح ہوئ ہماری تخلیقی سرگرمی کا تخییلی گراف کیا رہا ،وہ کن کن جہتوں میں رہ نورد شوق بن کر پھرتا رہا ہے ،دھرتی سے ہمارا کیا تعلق ہے کہ وہ ماتا سمان بن کر دھرتی ماتا کا روپ دھارن کئےہوئے ۔عورت دیویوں کی صورت مختلف روپوں میں کیوں کر جلوہ گر ہے ۔مرد دیوتائوں کے پیرہن میں کیا کیا شکلیں اختیار کئے ہوئے ہے ،ہماری تہذیبی بنت میں شامل اسطوری عناصر کا قوام کہاں اور کیسے تیار ہوا ہے ؟اسطوری تلمیحات ان تمام پہلووں کی نقد کشائی کرتی دکھائی دیتی ہیں ۔

ہندوستانی اساطیر و دیومالا کی ایک بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ ہماری قدیم تہذیب و تاریخ کا بنیادی متن تصور کئے جاتے ہیں ۔ان سے آستھا وعقائد کی وابستگی ان کو مذہبی حیثیت بھی دیتی ہے ۔مختلف مذہبی رسوم اور تہواروں کا ان اساطیری قصوں سے رشتہ انہیں ایک خاص تہذیبی و ثقافتی سیاق بھی عطا کرتا ہے ۔اس طرح ہمارے قدیم ادب یعنی وید پران رامائن اور گیتا وغیرہ سے ماخوذ اساطیر اپنے سروکاروں کے لحاظ سے مختلف ابعاد کے حامل ہوجاتے ہیں ۔ہماری تخلیقی و تخییلی دنیا نے کس طرح اساطیر سے خود کو منسلک کیا اور اسطوری تلمیحات میں اردو غزل کی حسیات میں ہندوستانی ذہن و تہذیب کو کس انداز سے پیوست کیا اس کا اندازہ درج ذیل مثالوں سے کیا جا سکتا ہے ۔

گرچہ لچھمن ترا ہے رام ولے
اے صنم تو کسی کا رام نہیں
(ولی)

نین راون ہیں ارجن بال
پلکیں بھنویں دھنک بھیم کی
(سراج )

آتش عشق نے راون کو مارا
گرچہ لنکا سا تھا اس دیو کا گھر پانی میں
(میر )

ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو
زندگی ہے کہ رام کا بن باس
(فراق)

ہندوستانی صنمیات کے دوسرے کرداروں میں بھی اسطوری تلمیحات کے طور پر غزل کے مصرعوں نے جگہ پائی ہے ۔کرشن جن کا تصور رادھا اور گوپیوں سے بندھا ہوا ہے اور جو وشنو کے آٹھویں اوتار کے روپ میں ہندوستانی اساطیر کا ررومانی کردار ہے،اس کا سانولا پن اور بانسری بجانے کی کلا بھی اس کی ایک خاص شناخت ہے کہ گوپیوں کے اس پر ریجھنے میں بانسری اور سانولے پن کا بھی رول ہے ۔اس کردار کی ایک حیثیت امن دوت کی بھی ہے ۔۔مہادیو جو تباہی و بربادی کا دیوتا ہے اور اسی طرح دوسرے اسطوری کردار جیسے گنیش کالی اوشا،مدن ،کام دیو یہ سارے کردار مابعد الطبیعی دنیا سے وابستہ اور خدائی نظام کے کل پرزے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ان کا ذکر غزلیہ شاعری میں کس انداز سے ہوا ہے دیکھیں :

ہے خال یوں تمہارے ذقن کے اندر
سانولے تن پہ قبا ہے جو تیرے بھاری ہے
جس روپ ہو کنہیا آب جمن کے اندر
لالہ کہتا ہے چمن میں کہ یہ گردھاری ہے
(امانت )

ع: رادھکا کو چین کیا آوے کنہیا جی بغیر
(انشا)

مہادیو جو اترے کیلاش سے اپنی جٹا کھولے
تو شاید بن سکے اس جوگ کے بیراگ کا جوڑا
(انشاء)

مہ جبیں یہ لگائے کیوں ٹیکا
ماہ میں کام کیا ہے دیوی کا
(ولی)

یہ سینہ کہ سنگیت پچھلے پہر کا
وہ چہرہ کہ اوشا پشیماں پشیماں
(فراق)

مدھ کی کٹوریوں میں وہ امرت گھلا ہوا
جس کا ہے کام دیو بھی پیاسا غضب غضب
(اثر لکھنوی )

اسطوری لفظیات علائم کاروپ دھار کر ہماری جدید نظم میں بھی جلوہ گر ہوئی ہیں ۔یہاں اساطیر فقط اسطورنہ رہ کر ارضیت اورمقامیت کاپہلو اختیار کرگئےہیں۔ان سے وابستہ حسیات فرد کے احساس کی شدت کے طور پر نمایاں ہوئی ہیں۔مختلف تخلیق کار ایک ہی اسطور کو مختلف معانی ومفاہیم عطا کرتے ہیں جس سے اجتماعی لاشعور کے تصورکی شہادتیں فراہم ہوتی ہیں۔اور ایک طرح سے تخلیقی ذہن اپنے ثقافتی ونسلی سرمایے کی طرف مراجعت کرتا ہوامعلوم ہوتاہے۔تخلیقات میں روشن اساطیر کی وضع سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہےکہ یہ ہماری ارضیت میں کس قدر گہرے پیوست ہیں۔اور یہ خاص ماحولیاتی دائرہ کے انسانی وجود کالازمی جزء بن گئے ہیں۔اس بات کی تصدیق چند نظم نگاروں کے نمونوں سے کی جاسکتی ہے۔میرا جی اس طرز کے سرخیل کہے جاسکتے ہیں ۔ان کے یہاں ارضیت کی طرف مراجعت ،دھرتی سے لگاو کی وہ صفات موجودہیں جس کی بناپر وزیر آغا نے ان کی شاعری کو دھرتی پوجاکی مثال کہاہے۔

تو پاربتی میں شوشنکر
لیکن یہ پہلے جنم کی ہیں باتیں ساری
اب تو ہے وہی دیوی لیکن صورت بدلی ،سیرت بدلی
اور بدلی حالت جیون کی
اور میں ہوں ایک پجاری بے بس تنہا مندر سے باہر
اب تجھ میں روپ نہیں پہلا ،اب مجھ میں پریم نہیں پہلا
وہ روپ کہانی تھی بیتی ،وہ پریم فسانہ تھا بھولا
تو اور میں دونوں ایک ہی قدرت کے تھے مظاہر ،اب روپوش ہوئے
دوموسم تھے مل کر گزرتے ،دو نغمے تھے خاموش ہوئے
اب پہلی بات نہیں باقی
میں متوالا تھا تو ساقی
تو پاربتی میں شو شنکر
لیکن افسوس یہ پہلے جنم کی ہیں باتیں ساری
میں شو شنکر تو پاربتی

میرا جی کے اثر سے دوسرے نظم نگاروں نے بھی ہندوستانی اساطیر کو اپنی نطموں کا حصہ بناتے ہوئے تخلیقی کاوشیں پیش کیں ۔اس ذیل میں قیوم نظر کی نظم بہار نو ،شاد امرت سری کی نظم سمے کا دکھ ،سلام مچھلی شہری کی نظم پوجا ،مختارصدیقی کی نظم خیال چھایا ،عرش صدیقی کی نظم اے جادو گر ،قاضی سلیم کی نظم سنجوگ قابل ذکر اور لائق نظر ہیں ۔

اردو کی داستانوں میں ہندوستانی اساطیر کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔مادھو نل کام کندلا ،بیتال پچیسی اور سنگھاسن بتیسی کے متون میں دیو مالائی فضا اور اساطیری ماحول ملتا ہے ۔ان داستانوں میں ویدک عہد کی تہذیب و ثقافت اور علائم و استعارات جا بجا ملتے ہیں ۔رانی کیتکی کی کہانی اور باغ ارم بھی اس حوالہ سے اہم ہیں ۔مذہبی عقائد طلسماتی دنیا اور دیومالائی عناصر کے فنکارانہ استعمال میں ان داستانوں کو پر اسرار جہان معانی میں تبدیل کر دیا ہے ۔چونکہ اساطیرفقط علائم نہیں ہوتے بلکہ کہانی کی شکل میں ہوتے ہیں اور نفسیاتی عوامل و ما فوق الفطرت حقائق کی تعبیر ہوا کرتے ہیں اس لئے داستان ،ناول اور افسانے میں ان کے جوہر زیادہ کھلتے ہیں ۔اس کے بعد مثنوی اور نظم کی دنیا بھی اپنے اندر اساطیر کو سلیقے سے برتنے کا ملکہ و وسعت رکھتی ہے ۔جبکہ غزل کی شاعری اساطیری کرداروں کے خصائص کو جستہ جستہ اور جزوی طور پر بروئے کار لاتی ہے اور پورے اسطور کو ذہن میں متحرک کرتی ہے ۔اس لحاظ سے دیکھیں تو اساطیر کا فنکارانہ اور تخلیقی استعمال افسانوی بیانئیے اور فکشن میں زیادہ بہتر طریقےسے ہو سکتا ہے ۔

جدید افسانہ بھی اس لحاظ سے قابل قدر اور لائق تحسین ہے کہ اس میں بھی ہندوستانی اساطیر اور دیو مالائی علامات کا احیا ہوا وہ تمثیلات کہ جو بالخصوص ہندستانی الاصل اساطیر پر مبنی ہیں ان کے استعمال سے کہانیوں اور قصوں کو نئے معانیاتی جہات میسر ہوئے اور ان اساطیر کو عصری حسیت اور انسلاک مقدر ہوا ،نیز ہم عصر زندگی میں ان کی اہمیت اور سروکاروں کے پہلو روشن ہوئے ۔اسطور کو تخلیقی توانائی میں تبدیل کرنے والوں میں پہلا نام راجیندر سنگھ بیدی کا ہے ۔انہوں نے گرہن اپنے دکھ مجھے دے دو ،بھولا ،اور ایک چادر میلی سی جیسی تخلیقات میں اساطیر کو استعمال کیا ۔ہم عصر زندگی میں اساطیر کی اہمیت اور روز مرہ کے معمولات میں دیو مالائی عناصر کی کارفرمائ کو حسن و خوبی کے ساتھ اجاگر کیا ۔یہاں بیدی کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ افسانہ کردار ،فضا یا پلاٹ کے مختلف گوشوں میں کہیں نہ کہیں اسطور کو اس طرح کھپاتے ہیں کہ وہ لفظ بھر رہتے ہوئے بھی جہان معانی کو اپنے اندر سمیٹ لیتے ہیں ۔ہندوستانی اساطیر کے فنکارانہ استعمال میں کمال مہارت کا مظاہرہ کرنے میں ایک اور نام انتظار حسین کا ہے ۔جنہوں نے بودھی جاتک کتھا اور دیو مالا کے زیر اثر کہانیاں تخلیق کیں ۔اور پرانے عقائد و رسوم کو اپنے ارد گرد عمل پیرا دیکھا ۔بطور مثال ان کا افسانہ مور نامہ کو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ وہ کس طرح زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو کر اشوتھاما راوی کا پیچھا کرتا ہے کہ راوی کو مور نامہ لکھنے کا پرسکون لمحہ تک میسر نہیں آتا ۔

قصہ مختصر یہ کہ اردو کے حصے میں ہندوستانی اساطیر و علامات کا وافر ذخیرہ آیا جو تخلیقی بنت میں شامل ہو کر ادراک و عرفان کا وسیلہ بنا۔یہ اساطیر و علائم لفظ واحد کی سطح پر بھی عمل پیرا رہے اور تمثیل و حکایت کی سطح پر بھی ۔لیکن بنیادی سوال یہ ہے کہ ہمارا ادبی مذاق ذہنی مدار اور لفظیاتی تجوری ان اساطیر کو محفوظ اور مستحضر رکھنے میں کامیاب ہے یا نہیں ۔تلفظ ،تحریر اور معنی کی مختلف سطحوں پر ان اساطیر سے ہم عصر نسل کا رویہ کیا ہے ؟ہمارے یہاں قرات و پڑھت کا جو معیار و رفتار ہے اور لفظیا ت کی کھپت کا جو طور ہے اس کی نو عیت کیا ہے ۔لفظیات کو رائج کرنے اور عام محاورے میں انہیں باقی رکھنے کے ذرائع کیا ہیں ۔اساطیر و علائم کی صورت میں ہمارا جو بیش بہا ذخیرہ ہے اسے لفظیاتی سرمائے اور روز مرہ کا حصہ کس طرح بنایا جائے کی زبان سے شناسائی رکھنے والے ان کی ادائیگی اور با معنی ادائیگی پر قادر ہو سکیں ؟یہ ہمارا آج کا اہم سوال ہے ۔

Image: M. F. Hussain

Categories
فکشن

راجا ہریش چندر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

پرانے زمانے کی بات ہے اجودھیا میں راجا ہریش چندر راج کرتے تھے۔ وہ سچ بولنے، خیرات دینے اور اپنی رعایا کا خیال رکھنے میں مشہور تھے۔ ان کے راج میں کوئی بھوکا ننگا نہیں تھا اور تمام رعایا سُکھ چین سے رہتی تھی۔ ایک دن دیوتاوں کی محفل میں بڑے بڑے رشی منی جمع تھے۔ اِندر نے پوچھا، آج کل سب سے نیک نام راجا کون ہے؟

 

ایک دن دیوتاوں کی محفل میں بڑے بڑے رشی منی جمع تھے۔ اِندر نے پوچھا، آج کل سب سے نیک نام راجا کون ہے؟
وِششٹھ جی نے کہا، ‘اس وقت روئے زمین پر ہریش چندر جیسا دان کرنے اور سچ بولنے والا راجا نہیں۔ وِششٹھ جی کی تائید نارد منی اور کئی دوسرے منیوں نے بھی کی مگر وشوا متر خاموش بیٹھے رہے۔ ان میں اور وِششٹھ میں کچھ لگتی تھی۔ کہنے لگے،’میں ہریش چندر کو خوب جانتا ہوں، وہ نہ تو دان ہی دے سکتا ہے، نہ سچائی کی کسوٹی ہی پر پورا اتر سکتا ہے۔ یقین نہ ہو تو امتحان لے کر دیکھ لو۔’

 

چنانچہ وشوا متر نے راجا ہریش چندر کو نیچا دکھانے کی ایک ترکیب سوچی۔ ایک دن شکار کھیلتے کھیلتے ہریش چندر ایک گھنے جنگل میں اکیلے جا نکلے۔ وشوا متر نے برہمن کا بھیس بدلا اور وہاں پہنچ گئے۔ کہنے لگے “مہاراج یہاں پاس ہی بڑا پوتر تیرتھ ہے، اشنان کر کے دان پُن کیجیے۔ میں آپ کو ایودھیا کا راستہ بھی بتا دوں گا۔”

 

اشنان سے فارغ ہونے کے بعد ہریش چندر نے پوچھا، “برہمن دیوتا جس چیز کی ضرورت ہو مانگ لیجیے۔”

 

برہمن نے کہا “میرے بیٹے کی شادی ہے۔ کچھ روپیہ مل جائے تو بڑی عنایت ہو۔”

 

برہمن نے ہریش چندر کو اپنے بیٹے اور بہو سے بھی ملایا، اور راجا کی موجودگی میں شادی کی رسم ادا کر دی۔ ہریش چندر دیدی میں بیٹھے تھے جب دان کا وقت آیا تو انہوں نے کہا “آپ جو چاہیں مانگ لیں۔”

 

اس پر برہمن نے کہا “مہاراج اگر آپ میرے بیٹے کو اپنا پورا راج دان کر دیں تو ہم آپ کا احسان کبھی نہیں بھول سکیں گے”۔

 

ہریش چندر نے بغیر تامل کے اس کا اقرار کر لیا۔ تب برہمن نے کہا، “مہاراج! آپ جیسا سخی راجا اس روئے زمین پر دوسرا نہیں۔ منہ مانگا دان تو آپ نے دے دیا، اب اس کی دکھشنا بھی تو دیجیے۔ جتنا بڑا دان آپ نے دیا ہے، دکھشنا بھی اتنی ہی بڑی ہونی چاہیے۔ دکھشنا کے بغیر تو دان بے کار ہے”۔

 

راجا نے پوچھا “مہربانی کر کے بتائیے، کتنی دکھشنا دینی ہو گی”۔

 

وشوا متر نے کہا “ڈھائی من سونا کافی ہے”۔ راجا نے سر جھکا کر وعدہ کر لیا۔

 

یہ سب راج پاٹ آپ کو سونپ رہا ہوں۔ میں آج ہی کہیں اور چلا جاوں گا۔ یہ راج چھوڑنے کے بعد میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ حیران ہوں کہ آپ کو ڈھائی من سونا کہاں سے دوں۔
اتنے میں راجا کے سپاہی انہیں ڈھونڈتے ڈھونڈتے جنگل آ نکلے۔ برہمن غائب ہو گیا۔ اب راجا کو دھیان آیا کہ میں نے تو سارا راج پاٹ دان دے دیا۔ ضرور اس برہمن کے سوال کے پیچھے کوئی گہری بات ہے۔ محل پہنچنے پر راجا کو پریشان دیکھ کر رانی شِویا نے وجہ پوچھی۔ راجا نے ساری بات بتا دی۔ سوچتے سوچتے اور کروٹیں بدلتے بدلتے ساری رات گزر گئی۔ صبح پوجا پاٹھ کر کے اٹھے ہی تھے کہ وشوا متر اسی برہمن کے بھیس میں پھر آ پہنچا۔

 

راجا نے کہا “یہ سب راج پاٹ آپ کو سونپ رہا ہوں۔ میں آج ہی کہیں اور چلا جاوں گا۔ یہ راج چھوڑنے کے بعد میرے پاس پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ حیران ہوں کہ آپ کو ڈھائی من سونا کہاں سے دوں۔ تھوڑی سی مہلت دیجیے۔ جیسے ہی انتظام ہو جائے گا میں دکھشنا بھی دے دوں گا”۔ یہ کہہ کر ہریش چندر رانی شِویا اور بیٹے روہتاس کے ساتھ محل سے باہر آئے۔ لوگوں کو راجا کے جانے کا بہت دکھ ہوا لیکن وہ کر بھی کیا سکتے تھے۔ اب ہریش چندر گاوں گاوں شہر شہر بھٹکنے لگے۔ جب برہمن کا اصرار بڑھا تو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ بنارس جا کر خود کو بیچ دیں گے؛ اور اس طرح جو کچھ بھی ملے گا، برہمن کی دکھشنا دیں گے۔ اس پر رانی نے روتے ہوئے کہا:

 

“میں آپ کو اپنا آپ کبھی نہ بیچنے دوں گی۔ میں ہزار بار قربان ہونے کو تیار ہوں۔ کیوں نہ آپ مجھے کسی امیر کے ہاتھ بیچ دیں، گھر کے کام کاج کے لیے داسی کی ضرورت سبھی کو ہوتی ہے”۔

 

رانی کی بات سن کر ہریش چندر غش کھا کر گر پڑے۔ جب ہوش میں آئے تو زار زار رونے لگے اور کہنے لگے: “رانی میرے جیتے جی ایسا نہ ہو گا”۔

 

کل کے راجا اور رانی اب بھکاریوں کی طرح مارے مارے پھرنے لگے۔ ان کا بیٹا روہتاس بھی کئی دنوں کا بھوکا پیاسا تھا۔ اس بے چارے کو کیا پتا کہ اس کے والدین پر کیا مصیبت ٹوٹی ہے۔ اگلے دن وشوا متر پھر آ نکلے۔ کافی دیر بحث و تکرار ہوتی رہی۔ آخر رانی کے کہنے پر راجا ہریش چندر نے کہا: “اچھا تو ایسا ہی سہی۔ اپنے وعدے کو نبھانے کے لیے وہ کام بھی کروں گا جو ذلیل سے ذلیل آدمی بھی نہیں کر سکتا”۔

 

چناچہ وہ بنارس کے سب سے بارونق چوراہے پر جا کھڑے ہوئے اور رُندھے ہوئے گلے سے اونچی آواز میں کہنے لگے: “لوگو! میں اپنی جان سے بھی پیاری بیوی کو بیچ رہا ہوں۔ گھر کے کام کے لیے جس کو داسی کی ضرورت ہو، جلدی سے اس کے دام لگائے۔ اس مصیبت میں میری جان نکلنے سے پہلے سودا طے کر لو”۔

 

آپ اس بچے کو بھی خرید لیجیے، نہیں تو میرا خریدنا بھی بے کار ہے۔ میں اس کی ماں ہوں، اس کے بغیر نہیں جی سکتی۔
وشوا متر اب ایک بوڑھے شخص کے بھیس میں نمودار ہوئے اور رانی کو چند سونے کی مہروں کے بدلے خرید لیا۔ جب بوڑھا رانی کو گھسیٹ کر لے جانے لگا تو رانی نے کہا “مجھے ایک بار اپنے پیارے بیٹے کو گلے سے لگا لینے دو۔ کون جانے پھر اسے دیکھ بھی سکوں گی یا نہیں”۔

 

بیٹا ماں سے لپٹ گیا۔ جب بوڑھے نے دیکھا کہ بیٹا ماں کو چھوڑتا ہی نہیں، تو اس نے معصوم بچے کے منہ پر طمانچہ جڑ دیا اور کھینچ کر ماں سے الگ کر دیا۔ ماں کی آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگے۔ رانی نے بوڑھے سے کہا “آپ اس بچے کو بھی خرید لیجیے، نہیں تو میرا خریدنا بھی بے کار ہے۔ میں اس کی ماں ہوں، اس کے بغیر نہیں جی سکتی۔ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی۔ یہ میری آنکھوں کے سامنے رہے گا تو میں آپ کی سیوا اچھی طرح کر سکوں گی”۔

 

بوڑھے نے بچے کو بھی خرید لیا۔ رانی نے ہریش چندر کو پرنام کیا اور آنسو بہاتی ہوئی بولی “اے بھگوان، اگر میں نے کبھی غریبوں اور محتاجوں کی کچھ بھی مدد کی ہو، اگر میں نے دنیا میں کوئی بھی نیک کام کیا ہو یا اگر میں نے برہمنوں کی کچھ بھی خدمت کی ہو تو میرا پتی مجھے واپس مل جائے”۔

 

ہریش چندر اپنی بے بسی پر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ان کے ہاتھ پاوں جواب دے گئے۔ درخت کی چھاوں اسے چھوڑ کر کہیں نہیں جاتی، پھر رانی انہیں چھوڑ کر کیسے چلی گئی۔ انہیں یقین نہیں آتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، یا انہیں کن برے کرموں کا پھل مل رہا ہے۔ انہیں راج پاٹ اور جلا وطنی کا ذرا بھی افسوس نہ تھا لیکن بیوی اور بچے کی جدائی کو وہ کیسے برداشت کریں گے؟ انہیں وہ منظر کبھی بھی نہیں بھولتا تھا جب رخصت ہوتے وقت رانی اور بچہ مڑ مڑ کر ہریش چندر کی طرف دیکھتے تھے اور بوڑھا انہیں کوڑے مار مار کر آگے کی طرف گھسیٹتا تھا۔

 

تھوڑی دیر میں برہمن اپنی دکھشنا لینے پہنچ گیا۔ ہریش چندر نے اس کے پاوں چھوئے اور جو مہریں بیوی اور بچے کے بیچنے سے ملی تھیں، اسے دے دیں۔ وشوا متر نے کہا، “پہلے یہ بتاو کہ یہ مہریں تم نے کیسے حاصل کیں۔ کیا یہ تمہاری کمائی کی ہیں؟”

 

ہریش چندر بولے “یہ معلوم کر کے آپ کیا کریں گے۔ ان کی کہانی بہت دردناک ہے۔ میں نے اپنی بیوی اور بچے کو بیچ کر یہ مہریں حاصل کی ہیں۔ آپ انہیں قبول کیجیے”۔

 

سورج غروب ہونے سے پہلے ہریش چندر اپنے آپ کو بیچنے کے لیے چوک میں پہنچ گئے اور اپنی بولی لگوانے لگے۔
لیکن وشوا متر اتنی مہروں سے خوش نہ ہوئے اور بولے: “یہ تو بہت کم ہیں۔ مجھے پورا روپیہ چاہیئے اور آج سورج غروب ہونے سے پہلے چاہیے۔ میں اور انتظار نہیں کر سکتا۔ نہیں دے سکتے تو صاف صاف منع کر دو”۔

 

ہریش چندر بولے “مہاراج، دوں گا اور ضرور دوں گا۔ تھوڑا سا وقت اور دیجیے”۔

 

چنانچہ سورج غروب ہونے سے پہلے ہریش چندر اپنے آپ کو بیچنے کے لیے چوک میں پہنچ گئے اور اپنی بولی لگوانے لگے۔ کچھ دیر میں دھرم راج۔ چنڈال کے بھیس میں وہاں پہنچا۔ کالا رنگ، بڑے بڑے باہر نکلے ہوئے پیلے دانت، بھیانک شکل، سارے جسم سے بدبو آ رہی تھی۔ چنڈال نے کہا:

 

“مجھے ایک خدمت گار کی ضرورت ہے۔ میں چنڈال ہوں۔ میرا کام مردے کا کفن لینا ہے۔ یہی تمہیں بھی کرنا ہو گا۔ بولو، منظور ہے؟”

 

ہریش چندر پہلے ہی دکھوں کی مار سے بے حال ہو رہے تھے۔ بھیانک چنڈا کو دیکھ کر ان کی روح تک لرز گئی۔ لیکن کوئی اور خریدار بھی نہیں تھا اور سورج بھی ڈوبنے والا تھا۔ ہریش چندر نے ذرا سی دیر کے لیے سوچا کہ میں سورج بنسی کھتری خاندان سے ہوں، چنڈال کی غلامی کیسے کروں گا؟ لیکن وعدہ خلافی سے تو چنڈال کی غلامی ہی اچھی۔ اتنے میں وشوا متر آ پہنچے۔ ہریش چندر نے چنڈال کے سامنے سر جھکا دیا اور روپیہ لے کر وشوا متر کے قدموں میں رکھ دیا۔

 

چنڈال نے شمشان کا کام ہریش چندر کو سونپ دیا اور کہا “خبردار جو شمشان میں بغیر کفن کے کوئی بھی مردہ جلنے دیا۔ دن رات یہیں رہنا ہو گا۔ ذرا بھی غلطی کی تو کھال کھینچ لوں گا”۔

 

جب کافی رات گئے شِویا اکیلی اپنے بیٹے کی لاش کے پاس پہنچی اور زور زور سے بین کرنے لگی تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ کوئی بچے مارنے والی ڈائن ہے۔
کاشی کا یہ شمشان بہت خوفناک تھا۔ گنگا کنارے ہونے کی وجہ سے دور دور کے مرنے والوں کی لاشیں یہاں لائی جاتی تھیں۔ ہریش چندر ہر وقت وہیں لٹھ لیے چکر لگاتے رہتے۔ نہ دن کو چین تھا نہ رات کو آرام۔

 

ادھر ایک اور مصیبت ٹوٹی۔ ایک دن روہتاس اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے کے بعد گھر واپس آ رہا تھا کہ اچانک اسے ایک کالے ناگ نے ڈس لیا۔ بچوں نے آ کر اس کی موت کی خبر اس کی ماں کو سنائی۔ وہ بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ ہوش آنے پر اس نے اپنے مالک سے اپنے بیٹے کی لاش لانے کی اجازت مانگی تو اس نے کہا، پہلے گھر کا کام کاج ختم کر لو، پھر جا کر لاش کو دیکھ لینا۔

 

جب کافی رات گئے شِویا اکیلی اپنے بیٹے کی لاش کے پاس پہنچی اور زور زور سے بین کرنے لگی تو لوگوں نے سمجھا کہ یہ کوئی بچے مارنے والی ڈائن ہے۔ لوگ اسے گھسیٹتے ہوئے چنڈال کے پاس لے گئے اور کہا کہ اس بچے مار کر کھانے والی ڈائن کو قتل کر دیا جائے۔ چنڈال نے رسی باندھ کر شویا کو خوب پیٹا پھر ہریش چندر کو بلا کر حکم دیا کہ “تلوار سے اس کا سر اڑا دو”۔

 

ہریش چندر ایک عورت کے قتل کا کلنک اپنے ماتھے پر نہیں لینا چاہتے تھے، انہوں نے کہا “یہ کام مجھ سے نہیں ہو سکے گا”۔

 

چنڈال نے کہا “ڈرو مت، تلوار نکالو اور اس کا سر الگ کر دو۔ یہ پاپ نہیں پُن ہے”۔

 

رات کے اندھیرے میں نہ ہریش چندر نے شِویا کو پہچانا اور نہ شِویا نے ہریش چندر کو۔ جب شِویا نے نجات کی کوئی صورت نہ دیکھی تو بولی: “میرے ہاتھوں میں میرے ہی بیٹے کی لاش ہے۔ پہلے مجھے اسے جلا لینے دو پھر شوق سے مجھے مار ڈالنا”۔

 

اب بھی دونوں ایک دوسرے کو نہیں پہچان سکے۔ لیکن جب شِویا نے روتے روتے روہتاس کا نام لیا تو ہریش چندر پر جیسے بجلی گر پڑی۔ وہ وہرتاس کی لاش کو سینے سے لگا کر زور زور سے رونے لگے۔ لمحے بھر کو شِویا اپنے بیٹے کا صدمہ بھول گئی لیکن ہریش چندر کو چنڈال کا کام کرتے دیکھ کر اس کا کلیجہ پھٹ گیا۔ “اے بھگوان! جو کچھ میں دیکھ رہی ہوں وہ خواب ہے یا حقیقت؟ اگر حقیقت ہے تو دنیا میں دھرم کرم اور نیک کاموں کا پھل کیا ہے؟”

 

اب بچے کی لاش جلانے کے لیے ہریش چندر نے کہا کہ چنڈال کا حکم ہے کہ بغیر کفن لیے کسی کو بھی مردہ نہ جلانے دیا جائے۔ تمہیں بھی کہیں نہ کہیں سے کفن لانا ہوگا۔ شِویا نے کہا “سوامی اگر آپ چنڈال کے داس ہیں تو میں بھی کسی کی داسی ہوں۔ بیٹا جیسا میرا ہے ویسا ہی آپ کا بھی ہے۔ اس لاش کو جلانا آپ کا فرض ہے۔ میں کفن نہیں دے سکتی یہ آپ کو معلوم ہے۔”

 

اس وقت آسمان سے امرت کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور روہتاس زندہ ہو اٹھا۔ ہریش چندر اور شِویا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔
ہریش چندر کا دل غم سے پھٹا جا رہا تھا۔ جس دھرم کو بچانے کے لیے انہوں نے اتنی مصیبتیں اٹھائی تھیں، وہی دھرم ان کے راستے میں روکاوٹ بن رہا تھا۔

 

“کچھ بھی ہو، کہیں سے بھی لاو۔ میں کفن لیے بغیر لاش نہیں جلانے دوں گا”۔

 

تب رانی نے اپنی دھوتی کا آدھا حصہ پھاڑ کر کفن کے طور پر دے دیا اور باقی حصے سے جیسے تیسے اپنے بدن کو ڈھانپ لیا۔ جب چِتا جلنے کو تھی تو شِویا نے کہا “اب آپ چاہیں تو اپنے مالک کے حکم کے مطابق میری گردن اڑا دیں”۔
ہریش چندر کی قوت برداشت جواب دے رہی تھی۔ انہوں نے کہا “یہ مجھ سے نہ ہو گا۔ میں بھی اسی چتا میں کود کر خود کشی کر لوں گا”۔ یہ کہتے ہوئے وہ چتا میں کودنے کے لیے آگے بڑھے۔

 

اتنے میں کیا دیکھتے ہیں کہ آسمان سے پھولوں کی بارش ہونے لگی، اور سبھی بڑے بڑے دیوتا دھرتی پر اتر آئے۔ دھرم راج بولے “مبارک ہو ہریش چندر! تم ہر آزمائش میں پورے اترے۔ فرض کی ادائیگی اور سچائی میں تم سے کوئی بازی نہیں لے جا سکتا”۔ اِندر نے کہا: “ہریش چندر، سچ کو نہ چھوڑنے سے تم نے تینوں دنیاوں پر فتح پا لی”۔
اس وقت آسمان سے امرت کی بوندیں ٹپکنے لگیں اور روہتاس زندہ ہو اٹھا۔ ہریش چندر اور شِویا کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ انہوں نے سب دیوتاوں کو پرنام کیا اور روہتاس کو چھاتی سے لگا کر پیار کرنے لگے۔

 

ایودھیا لوٹ آنے کے بعد پھر سے راجا ہریش چندر کے نام کا ڈنکا بجنے لگا، اور وہ اپنی رعایا کے دلوں پر راج کرنے لگے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

سچا رشتہ

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

پرانے زمانے میں شور سین دیش میں چتر کیتو نامی ایک مشہور راجا تھا۔ علم و دانش، جرات و شجاعت اور جودوسخا میں ان کا جواب نہیں تھا۔ رعایا انہیں دل و جان سے چاہتی تھی۔ دیش کے اندر یا باہر ان کا کوئی دشمن نہیں تھا۔ ان کی بہت سی رانیاں تھیں، ایک سے بڑھ کر ایک خوب صورت۔ عیش و عشرت کے سبھی سامان تھے لیکن راجا پھر بھی فکر مند رہتے تھے۔ ان کے کوئی اولاد نہ تھی اور راجا کو کھٹکا لگا رہتا تھا کہ ان کے بعد ان کے خاندان کا نام مٹ جائے گا۔

 

ارے راجا! کیا تم نے سوچا جس کے لیے تم اس قدر دکھی ہو، وہ کون ہے؟ اس جنم سے پہلے وہ تمہارا کیا تھا، اور اگلے جنم میں کیا ہو گا؟
ایک دن خدا رسیدہ رشی انگِرا ان کے ہاں آئے۔ راجا نے ان کا سواگت کیا اور موقع پا کر دکھ بھرے لہجے میں اپنی آرزو کا اظہار کر دیا۔ رشی نے تھوڑی دیر سوچنے کے بعد ایک خاص یگیہ کی صلاح دی، اور کہا کہ یگیہ کا کھانا فلاں رانی کو کھلا دیا جائے۔

 

رِشی کی صلاح پر عمل کیا گیا۔ کوئی سال بھر بعد اس رانی سے چاند سا بیٹا پیدا ہوا۔ راجا کی خوشی کا ٹھکانا نہ رہا۔ دیش بھر میں خوشی کے شادیانے بجائے جانے لگے۔ راجا قدرتی طور پر اب اس رانی کو زیادہ چاہنے لگے۔ دوسری رانیوں کو یہ بات پسند نہ آئی اور وہ حسد کی آگ میں جلنے لگیں۔ وہ بچے اور اس کی ماں کو نقصان پہنچانے کی تدبیریں سوچنے لگیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے سازش کر کے بچے کو زہر دے دیا اور بچہ مر گیا۔

 

بچے کی موت سے راجا کو سخت صدمہ ہوا۔ پورے ملک میں کہرام مچ گیا۔ نارُد منی کو جب پتہ لگا تو وہ انگِرا رشی کے ساتھ وہاں پہنچے اور راجا کو بے حال دیکھ کر کہنے لگے:

 

“ارے راجا! کیا تم نے سوچا جس کے لیے تم اس قدر دکھی ہو، وہ کون ہے؟ اس جنم سے پہلے وہ تمہارا کیا تھا، اور اگلے جنم میں کیا ہو گا؟ دنیا کے سبھی جاندار موت کے سنجوگ سے ملتے اور بچھڑتے ہیں۔ باپ بیٹے کا رشتہ کیا ہے؟ کیا یہ رشتہ صرف نام کا نہیں؟ جسم سے نہ تو جن پہلے تھا، اور نہ اس کے بعد رہے گا، لہٰذا تمہارا دکھی ہونا اور رونا کیا معنی رکھتا ہے؟”

 

نارد جی کی باتیں سن کر راجا حیران رہ گئی۔ آنسو پونچھتے ہوئے بولے “نا سمجھ انسان رشتوں کے دکھ میں گرفتار ہے۔ دکھ کے اس ساگر سے پار اترنے کی کوئی تدبیر بتائیے۔”

 

یہ کس کس جنم میں میرے ماں باپ تھے۔ میں تو اپنے عمل کی سزا اور جزا کے لیے کبھی دیوتا ہوں کبھی انسان، کبھی چوپایہ، کبھی پرندہ۔ طرح طرح کے جسموں میں نہ جانے کتنے یگوں سے بھٹک رہا ہوں۔
نارد جی رشی انگِرا کی طرف دیکھا۔ انہوں نے کہا ” تمہیں بیٹا حاصل کرنے کی تدبیر میں نے ہی بتائی تھی۔ اس وقت تمہارے ذہن پر لاعلمی کا پردہ پڑا ہوا تھا۔ تم بیٹے کے ارمان میں گھلے جا رہے تھے۔ سو میں اس ارمان کا پورا کرنا ہی مناسب سمجھا۔ اب تم بیٹے کو پانے کی خوشی اور اس کے بچھڑنے کے غم دونوں سے گزر چکے ہو۔ یہی حال ہر چیز، مال و دولت، تخت و تاج اور رشتے ناتوں کا ہے۔ ان میں سے کوئی چیز کسی بھی وقت جدا ہو سکتی ہے۔ ان سے دل لگانا ہی دکھ، رنج اور خوف کا باعث ہے۔ چیزوں اور رشتوں کی خواہش کو ترک کر کے گیان یعنی معرفت کا راستہ اپنانا چاہیے۔”

 

اس پر بھی جب راجا کے آنسو نہ رکے تو نارد جی نے بچے کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اپنی روحانی طاقت سے اس میں پھر سے جان ڈال دی۔ نارد جی نے بچے کی روح سے مخاطب ہو کر کہا، “جیو آتما! تمہارے ماں باپ تمہارے لیے دکھی ہو رہے ہیں۔ تم ان کے پاس کیوں نہیں رہ جاتے؟”

 

بچے کی روح نے جواب دیا “یہ کس کس جنم میں میرے ماں باپ تھے۔ میں تو اپنے عمل کی سزا اور جزا کے لیے کبھی دیوتا ہوں کبھی انسان، کبھی چوپایہ، کبھی پرندہ۔ طرح طرح کے جسموں میں نہ جانے کتنے یگوں سے بھٹک رہا ہوں۔ ماں، باپ، دوست، دشمن، بیوی، بچے سب رشتوں کے بندھن ہیں جو جسم سے پیدا ہوتے ہیں اور جسم کی موت کے ساتھ ختم ہو جاتے ہیں۔ یہ لوگ مجھے بیٹا سمجھ کر روتے ہیں، دشمن سمجھ کر میری موت سے خوش کیوں نہیں ہوتے۔ جیو آتما آج یہاں ہے، کل وہاں۔ یہ آوا گن کا چکر ہے۔ رشتوں کی بناء پر کیسی خوشی کیسا غم۔ روح کے لیے نہ کوئی اپنا ہے نہ پرایا۔ اس کی نظر میں دوست دشمن سب برابر ہیں سچا رشتہ جسم کا نہیں روح کا ہے”۔

 

یہ کہہ کر بچے کی روح رخصت ہو گئی اور جسم پھر ٹھنڈا پڑ گیا۔ راجا کے دل کا بوجھ کم ہوا اور رانیاں اپنے کیے پر پچھتانے لگیں۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

راجا شوی اور کبوتر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

پرانے زمانے میں شوی نامی ایک راجا تھے، بہت ہی نیک اور رحم دل۔ ان کے عدل و انصاف کا دور دور تک شہرہ تھا۔ ایک دن وہ عبادت کرنے کے لیے بیٹھنے ہی والے تھے کہ ایک کبوتر ان کی گود میں آکر دبک گیا۔ کبوتر کی گردن اور پیٹھ پر زخم تھے جن سے خون بہہ رہا تھا۔ کبوتر کے پرنُچے ہوئے تھے اور اس کی چونچ کھلی ہوئی تھی۔ وہ زور زور سے سانس لے رہا تھا۔

 

راجا شوی اسے پیار سے سہلانے لگے۔انہوں نے پانی منگوا کر اسے پلایا۔اتنے میں ایک باز تیزی سے نیچے اترا۔ کبوتر اور بھی دبک گیا اور کانپنے لگا۔

 

مجھے اور میرے بچوں کو بھوکا رکھ کر دھرم نبھانا بے معنی ہے۔پرندوں کو مارکر کھانا میرا بھی دھرم ہے۔سچا دھرم وہی ہے جو دوسروں کے دھرم میں رکاوٹ نہ ڈالے۔
باز کی آنکھوں سے خون ٹپک رہا تھا۔ اس کی چونچ تیکھی تھی اور خوفناک پنجے مڑے ہوئے تھے۔ باز کو اترتے دیکھ کر راجا شوی کبوتر کے زخمی ہونے کا سبب سمجھ گئے۔

 

باز نے بیٹھتے ہی کہا۔”مہاراج! اس کبوتر پر میرا حق ہے۔ مجھے دے دیجیے۔”

 

راجا شوی کچھ سوچ کر بولے۔ “تم پکڑ لیتے تو تمہارا ہوتا لیکن اب تو یہ میری پناہ میں آچکا ہے۔پناہ میں آئے ہوئے کی حفاظت کرنا راجا کا فرض ہے۔”

 

باز بولا۔”لیکن حق دار کو اس کا حق دلانا بھی راجا کا فرض ہے۔میں پرندوں کا شکار کرکے ہی زندہ رہ سکتا ہوں۔میں بھوکا ہوں، میرے بچے بھوکے ہیں۔آپ اسے مجھ سے چھیں لیں گے تو ہم سب بھوکے رہیں گے، اور گناہ آپ کے سر جائے گا۔”

 

کبوتر باز کی باتیں سن کر مارے ڈر کے دبکا ہوا تھا۔راجا نے کبوتر کی پیٹھ سہلاتے ہوئے کہا۔ “جو تم کہتے ہو سب ٹھیک ہے۔ لیکن میں مجبور ہوں، پناہ میں آنے والے کی حفاظت کرنا میرا دھرم ہے۔”

 

باز نے کہا۔ “مجھے اور میرے بچوں کو بھوکا رکھ کر دھرم نبھانا بے معنی ہے۔پرندوں کو مارکر کھانا میرا بھی دھرم ہے۔سچا دھرم وہی ہے جو دوسروں کے دھرم میں رکاوٹ نہ ڈالے۔”

 

راجا شوی بولے۔”تمہیں اپنے اور اپنے بچوں کے کھانے کے لیے جو چاہیے، مجھ سے لے لو، لیکن اس کبوتر کی جان بخش دو۔”

 

باز بولا۔ “نہیں مہاراج! مجھے تو کبوتر ہی چاہیے کیونکہ میں نے اسے شکار کیا ہے۔”

 

راجا نے کہا۔”آج تک تم نے کتنے ہی پرندوں کو مار کر کھایا ہوگا، کسی راجا نے تمہیں نہیں روکا ہوگا۔ لیکن یہ کبوتر چونکہ میری پناہ میں آچکا ہے، میں اسے بچانے کے لیے اپنا راج تک دینے کو تیار ہوں۔”

 

باز “مہاراج! آپ کا راج میرے کس کام کا۔آپ میرا شکار ہی مجھے دے دیجیے۔میرے گھر والے میری راہ تک رہے ہوں گے۔”
اب کی بار راجا نے کچھ سختی کے ساتھ کہا۔”میں کہہ جو چکا ہوں کہ یہ کبوتر نہیں مل سکتا، اس کے بدلے جو چاہو لے لو۔کھتری کا فرض ہے کہ وہ جان دے کر بھی پناہ میں آنے والے کی حفاظت کرے۔”

 

“مہاراج آپ کھتری ہیں، لیکن اس کی سزا مجھے کیوں دینا چاہتے ہیں۔کیا آپ کا کھتری دھرم محض ایک کبوتر کے لیے ہے؟”باز نے پوچھا۔

 

راجا۔”شاید تم نہیں سمجھ سکتے۔بات صرف کبوتر کی نہیں، اصول کی ہے۔کبوتر میری پناہ میں آیا ہوا ایک جاندار ہے۔ میں اس کے بدلے ہر چیز دے سکتا ہوں، لیکن اس کو نہیں دے سکتا۔”

 

باز۔”تو اس کے لیے آپ بڑی سے بڑی قربانی دینے کو بھی تیار ہیں۔”

 

راجا۔ “کہہ جو دیا، اس کے بدلے جو چاہو، مانگ لو۔”

 

وہ جسم کے ایک حصے کے بعد دوسرا حصہ کاٹتے گئے لیکن گوشت والا پلڑا نہ جھکنا تھا نہ جھکا، کبوتر والا پلڑا ہی بھاری رہا جب راجا شوی نے دیکھا کہ اس طرح کام نہیں چلے گا تو وہ خود ہی اٹھ کر ترازو کے پلڑے میں بیٹھ گئے۔
باز۔ “اچھا تو اس کے وزن کے برابر اپنا گوشت کاٹ کر دے دیجیے۔”

 

مسئلے کا حل سامنے آجانے سے راجا شوی کو اطمینان ہوا۔ انہوں نے کہا۔ “میں اپنا پورا جسم تمہارے حوالے کرتا ہوں، جس طرح چاہو تم اسے کھاسکتے ہو۔”

 

“نہیں مہاراج، میرا حق صرف کبوتر کے وزن کے برابر گوشت پر ہے۔ میں صرف اتنا ہی گوشت لوں گا، نہ کم نہ زیادہ۔” باز نے جواب دیا۔

 

راجا نے فورا خادموں کو حکم دیا کہ ترازو اور چھری لائیں۔ راجا نے ترازو کے ایک پلڑے میں کبوتر کو رکھا اور دوسرے میں چھری سے کاٹ کاٹ کر اپنا گوشت ڈالنے لگے۔ لیکن وہ جتنا گوشت ڈالتے گئے، کبوتر والا پلڑا جوں کا توں بھاری ہی رہا۔ وہ جسم کے ایک حصے کے بعد دوسرا حصہ کاٹتے گئے لیکن گوشت والا پلڑا نہ جھکنا تھا نہ جھکا، کبوتر والا پلڑا ہی بھاری رہا جب راجا شوی نے دیکھا کہ اس طرح کام نہیں چلے گا تو وہ خود ہی اٹھ کر ترازو کے پلڑے میں بیٹھ گئے۔

 

راجا کا گوشت کاٹ کر پلڑے میں ڈالا گیا، وزن پورا نہ ہونے پر راجا خود ترازو میں بیٹھ گئے
راجا کا گوشت کاٹ کر پلڑے میں ڈالا گیا، وزن پورا نہ ہونے پر راجا خود ترازو میں بیٹھ گئے
عین اسی وقت باز اور کبوتر غائب ہوگئے اور آسمان سے پھولوں کی بارش ہونے لگی۔ راجا کی انصاف پروری پر دیوتا خوشیاں منارہے تھے۔ دوسرے ہی لمحے وہاں دو دیوتا ظاہر ہوئے۔ ایک اندر تھے اور دوسرے اگنی۔ راجا شوی کی آزمائش کے لیے ایک باز بنا تھا دوسرا کبوتر۔ دونوں نے اپنی اصلیت ظاہر کی، اور راجا کی انصاف پروری پر ان کو مبارکباد دی۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

دروپدی کا سوئمبر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

دروپیدی کے سوئمبر کا دن مقررکیا گیا اور چاروں طرف اعلان کروادیا گیا۔ ان دنوں پانڈو اپنی ماں کنتی کے ساتھ بھیس بدل کر رہ رہے تھے۔ انہوں نے بھی دروپدی کے سوئمبر کا اعلان سنا، اور سوئمبر میں جانے کا ارادہ کیا۔
دروپدی، پانچال کے راجا دروپد کی بیٹی تھی۔ اس کے حسن اور خوبی کا شہرہ دور دور تک تھا۔ کئی راج کمار اس سے شادی کرنے کے آرزو مند تھے۔ لیکن راجا دروپد کو سوائےارجن کے کوئی نہیں جچتا تھا۔ انہوں نے دل ہی دل میں طے کرلیا تھا کہ دروپدی کی شادی ارجن سے ہوگی۔ لیکن جب انہوں نے وارناوت کے محل میں آگ لگنے اور اس میں پانڈوؤں کے جل مرنے کی خبر سنی تو انہیں بہت دکھ ہوا۔ ادھر دروپدی کی شادی کے لیے کئی راج کماروں کے پیغام آرہے تھے۔ مناسب بر(شوہر) چننا مشکل ہوگیا تھا۔ آخر راجا دروپد نے سوئمبر رچانے کا فیصلہ کیا۔
دروپیدی کے سوئمبر کا دن مقررکیا گیا اور چاروں طرف اعلان کروادیا گیا۔ ان دنوں پانڈو اپنی ماں کنتی کے ساتھ بھیس بدل کر رہ رہے تھے۔ انہوں نے بھی دروپدی کے سوئمبر کا اعلان سنا، اور سوئمبر میں جانے کا ارادہ کیا۔ پانچوں بھائی اپنی ماں کے ساتھ پانچال پہنچے۔

 

سوئمبر کی تیاریاں خوب زور شور سے جاری تھیں۔ دور دور کے راج کمار پانچال پہنچ رہے تھے۔ سوئمبر کے دن پانڈووں نے برہمنوں کا بھیس بدلا اور چپ چاپ سب سے پیچھے جا کر بیٹھ گئے۔ بڑے بڑے نامی سورما اور راجا، مہاراجا آئے ہوئے تھے۔ کورو بھی پہنچے ہوئے تھے۔ ہر شخص خود کو بہت خوب صورت اور بہادر سمجھ رہا تھا،اور اسی خیال میں تھا کہ دروپدی اسی کے گلے میں جے مالا ڈالے گی۔

 

منڈپ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سب لوگوں کی نظریں اسی دروازے کی طرف تھیں جس سے دروپدی داخل ہونے والی تھی۔ سہیلیوں کے ساتھ دروپدی منڈپ میں آئی۔ اس کی خوب صورتی دیکھ کر لوگ دنگ رہ گئے۔ انہوں نے جیسا سنا تھا، دروپدی کو اس سے بھی بڑھ کر پایا۔ راجا دروپد تخت پر براجمان تھے۔ بیچوں بیچ ایک بہت اونچا بانس گڑا ہوا تھا۔ اس کے اوپر ایک چکر گھوم رہا تھا، جس میں ایک مچھلی لٹکی ہوئی تھی۔ نیچے پانی سے بھرا ہوا ایک بڑا برتن رکھا تھا۔ شرط یہ تھی، کہ جو شخص پانی میں مچھلی کا عکس دیکھتے ہوئے مچھلی کی بائیں آنکھ میں تیر مارے گا، دروپدی کی شادی اسی سے ہوگی۔

 

ارجن دروپدی کے سوئمبر میں تیر چلاتے ہوئے
ارجن دروپدی کے سوئمبر میں تیر چلاتے ہوئے
بڑی مشکل شرط تھی۔ باری باری راج کمار اٹھتے اور کمان پر تیر رکھ کر پانی میں دیکھتے ہوئے مچھلی کی آنکھ کو چھیدنے کی کوشش کرتے، لیکن کسی کا بھی تیر نشانے پر نہ بیٹھتا، یا تو دور سے نکل جاتا یا پاس سے۔ قسمت آزمائی کرنے کے لیے ہر شخص اٹھتا، لیکن مجبور ہو کر، اپنی جگہ بیٹھ جاتا۔ مچھلی چکر میں جوں کی توں گھوم رہی تھی۔ راجا دروپد نے جب یہ حالت دیکھی تو بہت دکھی ہوئے۔ وہ حیران تھے کہ بہادروں کی اس محفل میں کوئی بھی ایسا نہیں جو اس شرط کو پورا کرسکے۔ اتنے میں انہوں نے دیکھا کہ ایک خوبرو برہمن نوجوان چلا آرہا ہے۔ اس نے بغیر کچھ کہے کمان اٹھائی، پانی میں تاک کر نشانہ باندھا اور زن سے تیر چلا دیا۔ تیر بجلی کی طرح لپکا اور مچھلی کی آنکھ سے پار ہوگیا۔

 

دروپدی خوشی سے پھولی نہیں سمائی۔ فوراً آگے بڑھ کر اس نے نوجوان کے گلے میں جے مالا ڈال دی۔ سوئمبر میں آئے ہوئے راج کمار غصے سے لال پیلے ہونے لگے۔ انہوں نے اعتراض کیا: “دروپدی کی شادی کھتری راج کمار سے ہونی چاہیے، برہمن سے نہیں”۔

 

شرط یہ تھی، کہ جو شخص پانی میں مچھلی کا عکس دیکھتے ہوئے مچھلی کی بائیں آنکھ میں تیر مارے گا، دروپدی کی شادی اسی سے ہوگی۔
محفل میں کھلبلی مچ گئی۔ کچھ لوگوں نے لڑنے مرنے کے لیے اپنی تلواریں سونت لیں، لیکن بزرگوں نے بیچ بچائو کرادیا اور سمجھانے لگے۔ “اس میں ناانصافی کی کوئی بات نہیں۔ برہمن نوجوان نے سوئمبر کی شرط کو پورا کیا ہے، اس لیے وہی دروپدی سے شادی کرنے کا حق دار ہے۔”

 

چنانچہ دروپدی کی شادی اس برہمن نوجوان سے کردی گئی۔ پانچوں پانڈو دروپدی کے ساتھ گھر لوٹے جہاں ان کی ماں کنتی انتظار کررہی تھی۔ جب گھر پہنچے تو رات ہوچکی تھی۔ ارجن کو مذاق سوجھا۔ اس نے باہر ہی سے ماں کو بتایا: “ماں، ماں،دیکھو!آج میں کیسا عمدہ انعام جیتا ہے”۔

 

کنتی نے وہیں سے جواب دیا: “خوشی کی بات ہے بیٹا۔جو ملا ہے، اپنے بھائیوں کے ساتھ مل بانٹ لو”۔
پانڈووں نے یہ سنا تو حیران رہ گئے کہ ماں نے غلطی سے یہ کیا کہہ دیا؟ کنتی نے باہر آکر دروپدی کو دیکھا تو حیران رہ گئی۔ لیکن منہ سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر لوٹایا نہیں جاسکتا۔
کنتی نے پانچوں بیٹوں سے کہا: “جو بات زبان سے نکل گئ ہے پوری ہوگی۔ دروپدی تم پانچوں کی پتنی ہوگی اور اس کی رکھشا تم پانچوں پر فرض ہے”۔

 

راجا دروپد سوئمبر سے خوش نہیں تھے۔ وہ جاننا چاہتے تھے کہ وہ برہمن نوجوان کون ہے؟ کیا وہ سچ مچ برہمن ہے؟ لیکن اس میں راج کماروں جیسی آن بان کہاں سے آگئی؟ اگر وہ سچ مچ برہمن ہے، تو ایسی تیر اندازی کہاں سے سیکھی؟

 

کنتی نے پانچوں بیٹوں سے کہا: “جو بات زبان سے نکل گئ ہے پوری ہوگی۔ دروپدی تم پانچوں کی پتنی ہوگی اور اس کی رکھشا تم پانچوں پر فرض ہے”۔
شاید برہمن کے بھیس میں کھتری ہو۔ طرح طرح کے شبہات راجا دروپد کے دل میں اٹھ رہے تھے۔
آخر انہوں نے ایک خدمت گار کو برہمن کا پتہ لگانے کے لیے بھیجا۔ خدمت گار پوچھتا پوچھتا پانڈووں کے ٹھکانے پر پہنچا اور رازداری سے اس نے ساری باتوں کا پتہ چلالیا۔ لوٹ کر اس نے راجا دروپد کو بتایا کہ وہ پانچوں برہمن اصل میں پانچوں پانڈو ہیں، اور جس برہمن نوجوان نے سوئمبر جیتا ہے، اور جس سے دروپدی کی شادی ہوئی ہے، وہ ارجن ہے۔ راجا دروپد کی خوشی کا ٹھکانہ نہ رہا۔ وہ سمجھ گئے کہ پانڈووں کی موت کی خبر جھوٹی تھی۔کہنے لگے: “مجھے معلوم تھا، تیراندازی کا ایسا کمال ارجن کے سوا کسی میں نہیں”۔

 

راجا دروپد نے پانڈووں کو بلانے کے لیے آدمی بھیجے، لیکن ساتھ ہی ہدایت کردی کہ پانڈووں کو پتہ نہ چلے کہ راجا دروپد کو ان کے راز کا پتہ چل گیا ہے۔ جب سادھووں کے بھیس میں پانچوں پانڈو راجا کے محل میں پہنچے تو راجا نے آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔ پھر ان سے پوچھا کہ وہ سچ سچ بتائیں کہ وہ کون ہیں۔ یدھشٹر نے راجا دروپد کو سارا قصہ سنایا اور سب کا تعارف کرایا۔

 

رفتہ رفتہ یہ خبر ہستنا پور بھی پہنچی کہ پانڈو زندہ ہیں۔ لوگوں نے بہت خوشیاں منائیں۔ ودُر، بھیشم اور درونا آچاریہ کی رائے سے دھرت راشٹر نے پانڈووں کو گھر واپس بلانے کے لیے آدمی بھیجے۔

 

پانڈووں کے گھر لوٹنے پر کورووں اور پانڈووں میں سمجھوتا کرادیا گیا۔ راج کو دو حصوں میں بانٹا گیا۔ ایک حصۃ کورووں کو اور دوسرا پانڈووں کو دیا گیا۔ کورووں کی راجدھانی ہستنا پور قرار پائی اور پانڈووں کی اندر پرستھ، جو آج کی دہلی ہے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

بَکاسُر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

کورووں کے بنائے ہوئے لاکھ کے گھر سے بچ نکلنے کے بعد پانچوں پانڈو اپنی ماں کُنتی کے ساتھ بھیس بدل کر گاؤں گاؤں گھومنے لگے۔ گھومتے گھومتے ایک دن وہ ‘چکر’ نامی ایک گاؤں میں پہنچے اور رات گزارنے کے لیے ایک برہمن کے گھر ٹھہرے۔ برہمن اور اس کی بیوی نے ان کی بہت آؤ بھگت کی۔

 

یہاں پاس ہی پہاڑی کے دوسری طرف ایک راکشس رہتا ہے۔ بڑا ہی بھیانک اور ہیبت ناک۔ اس کا نام ‘بَک’ ہے۔ کچھ مدت پہلے وہ پہاڑی سے اُتر کر گاؤں میں آیا کرتا تھا ، اور آدمی، عورت، مویشی جو ہاتھ لگتا، اٹھا لے جاتا اور مار کر کھاجاتا۔
تھوڑی ہی دیر میں کُنتی نے بھانپ لیا کہ برہمن اور اُس کی بیوی بہت دکھی ہیں۔ کُنتی نے برہمنی سے اس کا سبب پوچھا تو ٹپ ٹپ اس کی آنکھوں سے آنسو گرنے لگے۔ کُنتی کے اصرار پر اُس نے کہا۔ “اپنے دکھ درد سے آپ کو کیوں پریشان کروں مہمانوں کو پریشان کرنا ہمارا دھرم نہیں۔”

 

کُنتی نے کہا۔ “تو ہمارا بھی یہ دھرم نہںے کہ ہم آپ کو دکھی دیکھیں، اور آپ کی مدد نہ کریں۔”

 

کچھ دیر تو برہمن کی بیوی چپ رہی۔ پھر روتی ہوئے بولی۔ “ہماری کہانی بہت دکھ بھری ہے۔یہاں پاس ہی پہاڑی کے دوسری طرف ایک راکشس رہتا ہے۔ بڑا ہی بھیانک اور ہیبت ناک۔ اس کا نام ‘بَک’ ہے۔ کچھ مدت پہلے وہ پہاڑی سے اُتر کر گاؤں میں آیا کرتا تھا، اور آدمی، عورت، مویشی جو ہاتھ لگتا، اٹھا لے جاتا اور مار کر کھا جاتا۔ ہمارے راجا نے فوج لے کر راکشس پر حملہ کیا، اور اس کو مارنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر بکاسُر بہت ہی طاقت ور ہے۔ اس نے ہماری فوج کے چھکے چھڑا دیے۔ راجا ملک چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اب وہ خوں خوار راکشس ہے اور اس گاؤں کے بے بس لوگ۔ سب نے مل کر راکشس سے سمجھوتا کر لیا ہے کہ ہر روز کھانے سے بھری ہوئی ایک گاڑی، دو بیل اور ایک آدمی راکشس کے کھانے کے لیے بھیجے جائیں گے۔ ہمارے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ راکشس کا کھانا لے جانے کے لیے باری باری ہر گھر سے ایک آدمی بھیجنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے کل ہماری باری ہے۔ ہمارے گھر میں صرف تین آدمی ہیں۔ میں، میرے پتی اور ہمارا اکلوتا بیٹا۔ میں کہتی ہوں کہ میں راکشس کے پاس جاؤں گی، میرے پتی کہتے ہیں کہ وہ جائیں گے اور بیٹا کہتا ہے کہ وہ جائے گا۔” یہ کہہ کر برہمن کی بیوی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔

 

سب نے مل کر راکشس سے سمجھوتا کر لیا ہے کہ ہر روز کھانے سے بھری ہوئی ایک گاڑی، دو بیل اور ایک آدمی راکشس کے کھانے کے لیے بھیجے جائیں گے۔
کُنتی نے برہمن کی بیوی کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا۔ “تمہارے تو صرف ایک بیٹا ہے، مگر میرے پانچ بیٹے ہیں۔ کل راکشس کے پاس تمہارا بیٹا نہیں، میرا بیٹا جائے گا۔”

 

“نہیں، نہیں، ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا۔” برہمن کی بیوی نے زارو قطار روتے ہوئے کہا۔ “آپ ہمارے مہمان ہیں۔ اپنی خاطر ہم آپ کو مصیبت میں نہیں ڈال سکتے۔ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔”

 

اس کے بعد کُنتی نے اپنے پانچوں بیٹوں کو بلایا اور برہمنی کی بپتا سنائی۔ پھر بولی: “میرا خیال ہے کل کھانے کی گاڑی کے ساتھ بھیم کو بھیجنا چاہیئے۔”

 

“مجھے؟” بھیم نے کہا “اچھا تو ماں! گویا آپ مجھ سے پیار نہیں کرتیں اور چاہتی ہیں کہ راکشس مجھے کھا جائے۔”
یہ سُن کر برہمن کی بیوی اور بھی پریشان ہوگئی اور کہنے لگی: “میں آپ کے بیٹے کو ہرگز نہیں جانے دوں گی۔”
اس پر بھیم ہنسنے لگا اور بولا: “میں تو یونہی کہہ رہا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ میں خود اس راکشس کو دیکھنا چاہتا ہوں مجھے راکشسوں سے مقابلہ کرنے اور انہیں جان سے مارنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔ مجھے تو ایسے موقعوں کا انتظار رہتا ہے۔”

 

کُنتی نے برہمنی اور برہمن کو سمجھایا کہ بھیم کو راکشس کے پاس جانے دیا جائے، کیونکہ وہ اس کا خاتمہ کرکے لوٹے گا۔ کُنتی کے لاکھ سمجھانے پر بھی گاؤں کے لوگوں کو یقین نہیں آتا تھا کہ بھیم راکشس کو مار ڈالے گا۔
بھیم نے فرمائش کی کہ کھانا بہت عمدہ اور بہت سا بنایا جائے تاکہ راکشس کو دینے سے پہلے وہ خود بھی پیٹ بھر کر کھا سکے۔

 

دوسرے دن پُو پھٹے بھیم کھانے کی گاڑی لیے، راکشس کی پہاڑی کی طرف روانہ ہوگیا۔ راستہ بہت لمبا تھا۔ بھیم مزے مزے سے چلتا ہوا راکشس کے ٹھکانے پر پہنچا۔ اُسے آہستہ آہستہ آتے دیکھ کر راکشس آگ بگولا ہوگیا، اور دور ہی سے کڑک کر بولا۔ “ٹھہرو! اتنی دیر سے آنے کا ابھی مزا چکھاتا ہوں۔”

 

سچ تو یہ ہے کہ میں خود اس راکشس کو دیکھنا چاہتا ہوں مجھے راکشسوں سے مقابلہ کرنے اور انہیں جان سے مارنے میں بڑا مزہ آتا ہے۔ مجھے تو ایسے موقعوں کا انتظار رہتا ہے۔
بھیم رک گیا۔ اس نے کھانے کی چیزیں نکالیں، اور ٹھاٹھ سے خود ہی کھانے لگا۔ یہ دیکھ کر راکشس کا پارہ اور بھی چڑھ گیا۔ بھیم نے وہیں سے کہا۔ “خفا کیوں ہوتے ہو۔تمہارا ہی کام ہلکا کررہا ہوں۔پہلے میں جی بھر کر کھالوں پھر تم مجھے کھانے سمیت کھالینا، بے کار چیختے کیوں ہو؟”

 

بھیم کی باتیں سن کر بَکاسُر غصے سے پاگل ہو رہا تھا۔ اُس نے ایک چٹان کو اٹھایا اور بھیم کو مارنے کے لیے لپکا۔ بھیم نے بھی ایک بڑے درخت کو جڑسے اکھاڑ لیا اور تن کر کھڑا ہو گیا۔ دونوں ایک دوسرے پر وار کرنے لگے۔ بہت دیر تک لڑائی ہوتی رہی۔ راکشس بڑا خوں خوار تھا۔ بھیم بھی طاقت میں کم نہ تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں بھیم نے ایسا بھرپور وار کیا کہ راکشس ڈھیر ہو گیا۔ زمین پر گرا ہوا راکشس ایسا دکھائی دیتا تھا جیسے کوئی پہاڑی لڑھک گئی ہو۔

 

شام ہونے سے پہلے بھیم گاؤں لوٹ آیا۔ سارے گاؤں نے مل کر اس کا استقبال کیا اور خوشی کے شادیانے بجائے۔

Image: M. F. Hussain

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

لاکھ کا گھر

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

مہابھارت دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں سے ہے۔ اس میں کورووں اور پانڈووں کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ پانڈو دراصل ہستنا پور کے راجا کا نام تھا۔ان کے پانچ بیٹے تھے۔ یدھشٹر، بھیم، ارجن، نَکُل اور سہدیو۔ یہ پانچوں بھائی بھی پانڈو کہلاتے تھے۔ ان کے چچا دھرت راشٹر کے سو بیٹے تھے جو کورو کہلاتے تھے۔ دھرت راشٹر پیدائش سے اندھے تھے۔ اگرچہ حکومت کے حق دار تو وہی تھے لیکن اندھے ہونے کی وجہ سے وہ راج پاٹ نہیں سنبھال سکتے تھے اس لیے ان کے چھوٹے بھائی پانڈو کو راجا بنایا گیا تھا۔

 

دھرت راشٹر پیدائش سے اندھے تھے۔ اگرچہ حکومت کے حق دار تو وہی تھے لیکن اندھے ہونے کی وجہ سے وہ راج پاٹ نہیں سنبھال سکتے تھے اس لیے ان کے چھوٹے بھائی پانڈو کو راجا بنایا گیا تھا۔
پانڈو اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتے تھے اور عایا بھی انہیں دل و جان سے چاہتی تھی، لیکن جلد ہہی ان کا انتقال ہوگیا۔ چونکہ اُن کے بیٹے یعنی پانچوں پانڈو بھائی ابھی چھوٹے تھے، اس لیے مجبوراً دھرت راشٹر کو راج پاٹ کی ذمہ داری سنبھالنی پڑی۔ دھرت راشٹر کے بیٹوں کو یہ خطرہ تھا کہ جیسے ہی پانڈو بھائی بڑے ہوجائیں گے، دھرت راشٹر راج پاٹ انہیں سونپ دیں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ دھرت راشٹر کے بیٹے ہونے کے ناتے راج انہیں کو ملے۔ اس طرح شروع ہی سے کورو حسد کی آگ میں جلنے لگے، اور کسی نہ کسی طرح پانڈووں کو اپنے راستے سے ہٹانے کی ترکیبیں سوچنے لگے۔ ان کے دل میں نفرت کی آگ روز بروز بھڑکنے لگی۔

 

پانچوں پانڈو بھائی بہادر تھے اور خوب صورت بھی۔ سارے ملک میں ان کے کارناموں کا شہرہ تھا۔ اکثر کورووں سے ان کی جھڑپ ہوجاتی لیکن ہر بار پلہ پانڈووں ہی کا بھاری رہتا۔ کورووں میں دُریودھن سب سے بڑا تھا۔ گُرز چلانے میں اس کا جواب نہ تھا۔ اس کا مقابلہ اکثر بھیم سے ہوتا جو پانڈوووں میں سب سے بہادر تھا۔ لیکن دریودھن کو بھیم سے ہمیشہ مات کھانی پڑتی۔

 

جب ولی عہد مقرر کرنے کا وقت آیا تو دھرت راشٹر نے سب کے مشورے پانڈووں میں سب سے بڑے بھائی یدھشٹر کو راجا بنانے کا فیصلہ کیا۔ کورووں کو یہ ہرگز منظور نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ راج کا حق انہیں کو دیا جائے۔ اس حق کو پانے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کو تیار تھے۔ انہوں نے اپنے ماما شکنی سے مشورہ کیا۔ وہ بھی پانڈووں سے بہت جلتا تھا اور بڑا کینہ پرور تھا۔ سب مل کر دھرت راشٹر کے پاس گئے اور اس بات پراصرار کرنے لگے کہ دریوددھن کو ولی عہد بنایا جائے۔

 

جب ولی عہد مقرر کرنے کا وقت آیا تو دھرت راشٹر نے سب کے مشورے پانڈووں میں سب سے بڑے بھائی یدھشٹر کو راجا بنانے کا فیصلہ کیا۔ کورووں کو یہ ہرگز منظور نہ تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ راج کا حق انہیں کو دیا جائے۔
دُریودھن نے کہا: “پتاجی آپ راجا ہیں۔ راجا کو ولی عہد چُننے کا حق ہے۔ یہ صحیح ہے کہ رعایا یدھشٹر کو چاہتی ہے، لیکن کیا ضروری ہے کہ اس معاملے میں آپ رعایا سے رائے لیں۔ اگر یدھشٹر راجا بن گئے تو ہماری حالت ان کے ملازموں جیسی ہوگی۔ ایسی زندگی سے تو موت بہتر ہے۔”

 

دھرت راشٹر نے سوچ کر کہا: “جو کچھ تم کہتے ہو، ٹھیک ہے لیکن یدھشٹر بہت لائق اور نیک دل ہے۔ رعایا اس کو بہت چاہتی ہے۔ میں بے انصافی نہیں کرسکتا۔”

 

دُریودھن نے کہا: “آپ ناحق فکر کرتے ہیں۔ ہمارے سپہ سالار اور گُرو شکنی ہمارے ساتھ ہیں۔ آپ پانڈووں کو کچھ دنوں کے لیے کہیں باہر بھیج دیجیے۔ جب وہ یہاں نہیں ہوں گے تو ہم رعایا کو اپنا ہم نوا بنالیں گے۔”
اگرچہ دھرت راشٹر نہیں چاہتے تھے،لیکن بیٹوں کے اصرار پر آخر یہ فیصلہ کرنا پڑا کہ پانڈو بھائیوں کو یہ کہہ کر وارنادت بھیج دیا جائے کہ وہاں کے لوگوں کی بہت خواہش ہے کہ وہ وہاں جائیں۔ پانڈووں کو جب فوری طور پر وارنادت چلے جانے کا حکم ملا تو انہیں کھٹک گیا کہ کچھ دال میں کالا ہے، لیکن دھرت راشٹر کے حکم کو ٹالا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ادھر دریودھن کی چال یہ تھی کہ پانڈو پھر ہستنا پور لوٹ کر نہ آئیں، اور انہیں وہیں باہر ہی باہر مردادیا جائے۔

 

دریودھن کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے اپنے آدمی وارنادت بھیجے اور انہیں حکم دیا کہ وہاں پانڈووں کے لیے لاکھ کا ایک گھر بنائیں۔ اس کی دیواروں کو اس طرح رنگا جائے کہ کسی کو بھی شک نہ گزرے۔ پانڈووں کے آنے کے بعد موقع دیکھ کر محل میں آگ لگادی جائے گی۔ لاکھ کا محل پل بھر میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اور پانڈو بھی اس کے ساتھ ہی بھسم ہوجائیں گے۔

 

پانڈووں کے آنے کے بعد موقع دیکھ کر محل میں آگ لگادی جائے گی۔ لاکھ کا محل پل بھر میں جل کر راکھ ہوجائے گا، اور پانڈو بھی اس کے ساتھ ہی بھسم ہوجائیں گے۔
چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے وارناوت میں لاکھ کا محل تیار کردیا گیا، پانڈو جب اپنی ماں کُنتی کے ساتھ وارناوت کے لیے روانہ ہوئے تو ان کے چچا وِدُر نے جو بڑے وِدوان اور دوراندیش تھے، پانڈووں کو خبردار کیا اور بتایا کہ اپنا خیال رکھیں کیونکہ کورو سازشوں میں مصروف ہیں۔

 

وارناوت میں لوگوں نے پانڈووں کا خوب سواگت کیا۔ انہیں لاکھ کے محل میں ٹھہرایا گیا۔ انہوں نے محل کی بہت تعریف کی، لیکن دل ہی دل میں سمجھ گئے کہ اس میں کچھ راز ہے۔ تھوڑے ہی دنوں میں وِدُر نے اپنے ایک خاص آدمی کو پانڈووں کی مدد کے لیے بھیجا۔ اس نے پانڈووں کو رائے دی کہ خطرے کے وقت محل سے باہر نکلنے کے لیے ایک سرنگ کھودنی چاہیے۔ چنانچہ راتوں رات ایک سرنگ کھودی گئی۔

 

پانچوں پانڈودن بھر شکار کھیلتے اور رات کو چوکنے رہتے۔ دریودھن کا دربان پروَچن موقع کی تاڑ میں رہتا۔ پانڈووں میں بھیم سب سے زیادہ طاقت ور اور ارجن سب سے زیادہ عقل مند تھا۔ پروَچن ان دونوں پر خاص طور سے نظر رکھتا۔ اس طرح لاکھ کے محل میں رہتے رہتے کئی مہینے گزر گئے، لیکن پَروچن کو محل میں آگ لگانے کا موقع نہ ملا۔ آخر پانڈووں نے فیصلہ کیا کہ محل چھوڑ دینے ہی میں بہتر ہی ہے۔ چنانچہ ایک رات موقع پاکر انہوں نے محل میں آگ لگادی، اور خود سرنگ کے راستے سے نکل گئے۔ پل بھر میں لاکھ کا محل جل کر راکھ ہوگیا، اور اس کے ساتھ پَروچن بھی جو گہری نیند سو رہا تھا، جل مرا۔

 

محل جل گیا تو لوگوں نے سمجھا کہ پانڈو اپنی کُنتی کے ساتھ جل کر راکھ ہوگئے ہیں۔ سب کو بہت دکھ ہوا۔ پانڈووں کے جل کر مرجانے کی خبر جب ہستنا پور پہنچی تو دھرت راشٹر بے ہوش ہوگئے۔ کورووں نے بھی جھوٹ موٹ کا دُکھ ظاہر کیا۔ اگرچہ دل ہی دل میں وہ بہت خوش تھے۔

 

لاکھ کے محل سے بچ کر پانڈو اپنی ماں کُنتی کے ساتھ سُرنگ سے ہوتے ہوئے ایک جنگل میں جا نکلے۔ وہاں جا کر انہوں نے بھیس بدل لیا اور فیصلہ کیا کہ جب تک ہستناپور واپسی نہیں ہوتی، بھیس بدل کر رہنے ہی میں بھلائی ہے۔

Image: M. F. Hussain

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

لَو اور کُش

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

بہرحال تھوڑی دیر میں گھوڑے کے پیچھے آنے والی فوج بھی وہاں پہنچ گئی۔ فون کے سپہ سالار نے لَو اور کُش کو گھوڑا چھوڑدینے کو کہا۔ دونوں نے نڈر ہو کر جواب دیا۔ ‘یہ گھوڑا ہمیں پسند ہے، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔’
رام چندر جی بن باس سے واپس آنے کے بعد ایودھیا میں پھر سے راج کرنے لگے۔ حق و انصاف کا بول بالا ہوا اور ہر طرف خوش حالی اور ترقی کے آثار نظر آنے لگے۔ رام چندر جی ہر لحاظ سے ایک مثالی راجا تھے۔ ‘رام راج’ آج تک مشہور ہے۔ رام چندر جی جنتا کی ہر خوشی کو پورا کرتے تھے اور لوگوں کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ ایک دن انہوں نے ایک دھوبی کو غصے میں اپنی بیوی کو یہ کہتے ہوئے سنا: ‘میں رام چندر نہیں کہ کسی دوسرے کے گھر ٹھہری ہوئی اپنی بیوی کو واپس رکھ لوں۔’ یہ سن کر انہیں سخت دکھ ہوا۔ رام چندر جی سیتا جی کو بے حد چاہتے تھے۔ سیتا جی عصمت اور پاکیزگی کی قسم کھائی جاسکتی تھی۔ وہ اس کے ثبوت میں اگنی پریکشا یعنی آگ میں جلنے کی آزمائش سے بھی کامیاب گزری تھیں، لیکن رام چندر جی کے دل میں دھوبی کی بات کانٹا بن کر کھٹکنے لگی۔ وہ گہری فکر میں ڈوب گئے۔ سیتا جی سچائی اور صداقت کی دیوی تھیں۔ پھر بھی دل کڑا کر کے رام چندر جی نے یہی فیصلہ کیا کہ سیتا جی کو کسی آشرم میں بھیج دینا چاہیے۔ سیتا جی ان دنوں امید سے تھیں، اس لیے انہیں گھر سے باہر بھیجنا بہت مشکل تھا۔ پھر بھی رام چندر جی نے دل پر پتھر رکھ کے سیتا جی کے ایودھیا سے چلے جانے کا انتظام کردیا۔

 

سیتا جی، رشی بالمیک کے آشرم میں رہنے لگیں۔ یہیں ان کے دو جڑواں بیٹے لوَ اور کُش پیدا ہوئے۔ بالمیک جی نے ان کی پرورش کی اور ان کی تعلیم و تربیت کرکے انہیں ویدوں اور شاستروں کے علم اور تیر اندازی میں ماہر بنادیا۔ کچھ مدت کے بعد رام چندر جی نے چکرورتی راجا کا درجہ حاصل کرنے کے لیے اشو میدھ یگیہ کیا۔ اس میں رسم کے مطابق ایک گھوڑا چھوڑا جاتا تھا جو ملک کے چاروں اطراف میں سفر کرتا تھا۔ وہ اگر بغیر کسی روک ٹوک کے واپس آجاتا تو سمجھا جاتا تھا کہ بادشاہ کی طاقت اور اختیار کو سب نے تسلیم کرلیا ورنہ اس کے پکڑے جانے کا مطلب یہ ہوتا کہ کوئی دشمن بادشاہ کو چیلنج کرنا چاہتا ہے۔ اتفاق سے رام چندر جی کے اشو میدھ یگیہ کا گھوڑا بالمیکی آشرم میں جا نکلا۔ لو اور کُش کو یہ خوب صورت گھوڑا بہت پسند آیا۔انہوں نے اسے پکڑ کر درخت سے باندھ دیا۔ انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس گھوڑے کو پکڑنا مصیبت کو مول لینا ہے۔ بہرحال تھوڑی دیر میں گھوڑے کے پیچھے آنے والی فوج بھی وہاں پہنچ گئی۔ فون کے سپہ سالار نے لَو اور کُش کو گھوڑا چھوڑدینے کو کہا۔ دونوں نے نڈر ہو کر جواب دیا۔ ‘یہ گھوڑا ہمیں پسند ہے، ہم اسے نہیں چھوڑیں گے۔’

 

لَو اور کُش تھے تو لڑکے سے، لیکن اول تو رام چندر جی کے بیٹے تھے، دوسرے تیر اندازی کے گُر انہوں نے رشی بالمیک سے سیکھے تھے۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں فوج کے پاوں اکھڑ گئے۔
دونوں طرف سے تیر چلنے لگے۔ لَو اور کُش تھے تو لڑکے سے، لیکن اول تو رام چندر جی کے بیٹے تھے، دوسرے تیر اندازی کے گُر انہوں نے رشی بالمیک سے سیکھے تھے۔ چنانچہ تھوڑی ہی دیر میں فوج کے پاوں اکھڑ گئے۔ فوج کے پاوں اکھڑ گئے۔فوج کے سپہ سالار نے شتروگھن سے شکایت کی۔شتروگھن خود آئے، لیکن وہ بھی زیادہ دیر نہ ٹک سکے۔آخر کار رام چندر جی کو خبر کی گئی۔ انہوں نے لکشمن کو حکم دیا کہ دونوں راجکماروں کو پکڑ کر دربار میں لایا جائے۔بعد میں بھرت بھی لکشمن کی مدد کو بھیجے گئے۔انہوں نے بالمیکی جی کو بیچ میں ڈالا اور دونوں راج کماروں کو سمجھا بجھا کر رام چندر جی کے پاس لے آئے۔ رام چندر جی نے جب ان کے ماں باپ کا نام پتہ پوچھا اور جب انہیں معلوم ہوا کہ یہ انہیں کے بیٹے ہیں تو ان کی حیرت کا ٹھکانا نہ رہا۔ وہ بے سدھ سے ہوگئے، اور تیر کمان ان کے ہاتھ سے گر گیا۔بالمیکی جی سیتا جی کو لے کر آئے اور رام چندر جی سے گزارش کی کہ اب وہ سیتا جی کو اپنے ساتھ رکھیں۔رام چندر جی نے کہا۔’مہاراج! جس کو ایک بار تیاگ چکا اسے واپس کیسے لے سکتا ہوں؟’

 

یہ سن کر سیتا جی کا کلیجہ جیسے پھٹ گیا، سر جھکا کر روتے ہوئے بولیں۔’بس اب اور نہیں سہا جاتا۔اے دھرتی ماں! اے دھرتی ماں! اگر میں سچی اور پاک دامن ہوں تو مجھے اپنی گود میں لے لے۔’

 

دیکھتے ہی دیکھتے زمین پھٹ گئی اور سیتا جی اس میں سماگئیں۔ رام چندر جی نے لَو اور کُش کو سینے سے لگایا اور انہیں ایودھیا لے آئے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

راجا دشرتھ اور کیکئی

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

راجا دشرتھ پرانے زمانے میں ایودھیا کے مشہور راجا گزرے ہیں۔ وہ ہمیشہ سچ بولنے والے والے، قول کے پکے اور بات کے دھنی تھے۔ان کی تین رانیاں تھیں کوشلیا، کیکئی اور سمترا۔ راجا ان تینوں کو یکساں چاہتے تھے۔کیکئی ان میں ذرا دلیر اور نڈر تھی۔ایک دفعہ کا ذکر ہے دیوتاؤں اور راکشسوں میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ دیوتاؤں نے راجا دشرتھ سے مدد مانگی۔ دشرتھ جب اپنی فوج کے ساتھ کوچ کی تیاری کرنے لگے تو کیکئی نے جو ہمت اور حوصلے سے کام لینے میں مشہور تھی، ساتھ چلنے پر اصرار کیا، راجا دشرتھ اس کی بات ٹال نہ سکے۔
ایک دن جب گھمسان کا رن پڑ رہا تھا تو اچانک راجا دشرتھ کے رتھ کا دھُرا ٹوٹ گیا۔ ممکن تھا کہ دشمن کے سپاہی راجا کے دستے کو آلیں اور راجا کی زندگی خطرے میں پڑجائے۔ اس نازک موقع پر کیکئی نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اپنی جان کی بازی لگا دی اور کچھ اس طریقے سے ٹوٹے ہوئے دُھرے اور پہیے کو سنبھالا کہ رتھ گرتے گرتے بچ گیا۔ سپاہیوں کے حوصلے بڑھ گئے، اور فتح راجا دشرتھ کی ہوئی۔ راجا دشرتھ نے رانی کی بہادری اور ہوش مندی سے خوش ہو کر اسے کوئی سی مراد مانگنے کو کہا۔کیکئی نے جواب دیا:

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے دیوتاؤں اور راکشسوں میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔ دیوتاؤں نے راجا دشرتھ سے مدد مانگی۔ دشرتھ جب اپنی فوج کے ساتھ کوچ کی تیاری کرنے لگے تو کیکئی نے جو ہمت اور حوصلے سے کام لینے میں مشہور تھی، ساتھ چلنے پر اصرار کیا، راجا دشرتھ اس کی بات ٹال نہ سکے۔
‘آپ کی مہربانی سے میرے پاس سب کچھ ہے۔ پھر بھی اگر کسی چیز کی ضرورت ہوئی تو عرض کروں گی۔’

 

کئی سال گزر گئے۔ یہ واقعہ آیا گیا ہوگیا۔ راجا دشرتھ کے چار بیٹے تھے۔ کوشلیا سے رام چندر، کیکئی سے بھرت اور سمترا سے لکشمن اور شترو گھن۔ یوں تو راجا دشرتھ سب بیٹوں کو ایک سا چاہتے تھے لیکن رام چندر کو ان کی نیکی، راستی، سچائی، بلند ہمتی اور ہر دل عزیزی کی وجہ سے سب سے زیادہ چاہتے تھے۔ جب راجا دشرتھ بوڑھے ہونے لگے تو انہوں نے رام چندر جی کو اپنا جانشین بنانے کا ارادہ ظاہر کیا، اور جشن کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔

 

کیکئی کی منہ مانگی مراد پوری کرنے والی بات یوں تو سب بھول گئے تھے لیکن کیکئی کی کنیز منتھرا کو سارا واقعہ یاد تھا۔ اس نے موقع دیکھ کر کیکئی کو بھڑکانا شروع کیا کہ جب اس کا اپنا بیٹا بھرت موجود ہے تو رام چندر کو تخت و تاج کا وارث کیوں بنایا جائے۔ پہلے تو کیکئی پر ان باتوں کا کچھ اثر نہ ہوا لیکن ہوتے ہوتے وہ منتھرا کے جھانسے میں آگئی کہ اگر واقعی رام چندر راجا بن گئے تو بھرت کہیں کے بھی نہ رہیں گے۔ کیکئی نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور ماتمی لباس پہن کر اصرار کرنے لگی کہ کئی سال پہلے راجا دشرتھ نے منہ مانگی مراد پوری کرنے کا جو وعدہ کیا تھا، وہ پورا کیا جائے۔ کیکئی نے مانگ پیش کی کہ رام چندر جی کے بجائے اس کے اپنے بیٹے بھرت کو راج پاٹ دیا جائے اور رام چندر جی کو چودہ برس کا بن باس دے کر ایودھیا سے باہر بھیج دیا جائے۔ راجا دشرتھ نے بہت ہاتھ پاؤں مارے لیکن ان کی ایک نہ چلی، کیکئی پر منتھرا کی باتوں کا جادو چل چکا تھا۔ راجا دشرتھ قول تو دے ہی چکے تھے۔ اب سوائے کیکئی کی فرمائش پوری کرنے کے کوئی چارہ نہ تھا۔

 

رام چندر جی اپنے ماں باپ کے انتہائی فرماں بردار بیٹے تھے۔ انہیں جب یہ معلوم ہوا تو انہوں نے خود اپنے حق سے دستبردار ہونے کی پیش کش کی اور بن باس پر روانہ ہونے کی تیاری کرنے لگے۔ ان کی شریک حیات، سیتا اور چھوٹے بھائی لکشمن نے بھی ساتھ چلنے پر اصرار کیا۔ چنانچہ تینوں اپنے ماں باپ اور ایودھیا کے لوگوں سے رخصت ہو کر بن باس کو روانہ ہوگئے۔

 

راجا دشرتھ نے قول تو پورا کر دکھایا، لیکن اس صدمے کی تاب نہ لا سکے، اور تھوڑی مدت میں اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔ مشہور ہے:

 

کیکئی نے مانگ پیش کی کہ رام چندر جی کے بجائے اس کے اپنے بیٹے بھرت کو راج پاٹ دیا جائے اور رام چندر جی کو چودہ برس کا بن باس دے کر ایودھیا سے باہر بھیج دیا جائے۔
رگھو کُل ریت یہی چلی آئی
پران جائیں پر بچن نہ جائی

 

جنگلوں میں رام چندر جی، لکشمن اور سیتا جی کو طرح طرح کی آفتوں سے پالا پڑا، اور بڑے بڑے دکھ جھیلنے پڑے۔ سیتا جی کو راکشسوں کا سردار راون اٹھا کر لے گیا۔ وہ بہت طاقت ور اور جنگ جو تھا اور اس سے مقابلہ آسان نہ تھا۔ راون سے جنگ ہوئی جس میں وہ مارا گیا، اور فتح کے بعد چودہ سال کی میعاد پوری ہونے پر رام چندر جی لکشمن اور سیتا جی کے ہمراہ ایودھیا لوٹ آئے۔ان کی غیر حاضری میں ان کے بھائی بھرت نے بھی انتہائی احترام اور اطاعت شعاری کا ثبوت دیا اور خود راج کرنے کی بجائے رام چندر جی کی کھڑاؤں لے کر ان کے نام سے حکومت کے کام کی دیکھ بھال کرتے رہے۔ بن باس کی مدت پوری کرنے کے بعد ایودھیا کے لوگوں نے بہت خوشیاں منائیں۔ ہندوؤں میں دسہرے کا تہوار رام چندر جی کی راون پر یعنی نیکی کی بدی پر فتح کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح دیوالی کے تہوار کا تعلق بھی ایودھیا میں رام چندر جی کی واپسی سے بتایا جاتا ہے۔ پورے شہر کو سجایا گیا تھا اور گھر گھر میں چراغاں کیا گیا تھا۔ رام چندر جی کو اعلیٰ ترین انسانی اوصاف کا حامل بتایا گیا ہے۔ شجاعت، اولوالعزمی ، بلند ہمتی، ذہانت و فراست، صدق و صفا، عدل و مروت، جود و سخا اور مہرو وفا میں وہ اپنی نظیر آپ تھے۔ پرانوں میں انہیں وشنو کا نواں اور آخری اوتار مانا گیا ہے۔ مہا رشی بالمیکی نے انہیں کی زندگی کی کہانی کو سنسکرت میں ‘رامائن’ کے نام سے لکھا اور ہندی میں تلسی داس نے اسے ‘رام چرت مانس’ کے نام سے پیش کیا۔ مذہبی طور پر تو یہ کتابیں مقبول ہیں ہی، ادبی اعتبار سے بھی ان کا مرتبہ بہت بلند ہے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

شو جی کا بیاہ

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
شو جی کی ہر بات نرالی ہے۔ ان کی شادی کا واقعہ بھی بہت دل چسپ ہے۔ ان کی بیوی کا نام بھوانی تھا۔ وہ پرجا پتی دکش کی بیٹی تھیں۔ ایک دن برہما جی کی محفل میں سب دیوتا موجود تھے۔ اتفاق سے پرجا پتی دکش بھی وہاں آنکلے۔ سب نے اٹھ کر ان کا خیر مقدم کیا، لیکن شو جی برہما کے دھیان میں کچھ ایسے مگن تھے کہ وہ دکش کا خاطر خواہ احترام نہ کرسکے۔ دکش یہ دیکھ کر آپے سے باہر ہوگیا اور شو جی سے بولا:

 

‘تم دیوتاوں کے دیوتا یعنی مہادیو کہے جاتے ہو۔ تمہارے گیانی اور تپسوی ہونے میں بھی شک نہیں، لیکن تم مغرور اور بے ادب ہو۔ تمہارا برتاو بھی ان جیسا ہے، میں نے بھوانی کی شادی تم جیسے بے ادب شخص سے کرکے سخت غلطی کی ہے۔’

 

جب آہوتی دینے کا وقت آیا تو سب دیوتاوں کے نام کی آہوتی دی گئی، لیکن شو جی کا نام کسی نے نہیں لیا۔ یہ دیکھ کر بھوانی کو اتنی تکلیف ہوئی کہ وہ سب کے سامنے یگیہ کی آگ میں کود پڑی اور پیشتر اس کے کہ کوئی اسے بچائے، وہ جل کر راکھ ہوگئی۔
شو جی کو اس طرح کوسنے کے بعد پرجا پتی دکش نے کہا کہ آج سے کسی بھی یگیہ میں شو جی کو دعوت نہ دی جائے۔ میں اپنے گھر پر سبھی دیوتائوں، رشیوں اور منیوں کو بلاوں گا، لیکن مہادیو کو بلانا تو درکنار، ان کا حصہ بھی نہ رکھا جائے گا۔

 

جب بھوانی کو معلوم ہوا کہ اس کے باپ نے ایک بہت بڑے یگیہ کا اہتمام کیا ہے لیکن اسے اور اس کے پتی کو نہیں بلایا تو اسے بہت رنج ہوا۔ ‘آپ نہ جائیں لیکن بیٹی کو تو بن بلائے بھی جانا چاہیئے۔ چنانچہ میں اکیلی ہی جاوں گی۔‘ بھوانی جب اپنے باپ کے ہاں پہنچی تو دکش نے اسے دیکھتے ہی منہ پھیر لیا اور اس سے بات تک نہ کی۔ باپ کےاس برتاو سے بھوانی کو بہت صدمہ ہوا۔ یگیہ میں آئے ہوئے سب لوگوں نے حتیٰ کہ بہنوں اور بھائیوں نے بھی بھوانی سے بات کرنا پسند نہ کی۔ جب آہوتی دینے کا وقت آیا تو سب دیوتاوں کے نام کی آہوتی دی گئی، لیکن شو جی کا نام کسی نے نہیں لیا۔ یہ دیکھ کر بھوانی کو اتنی تکلیف ہوئی کہ وہ سب کے سامنے یگیہ کی آگ میں کود پڑی اور پیشتر اس کے کہ کوئی اسے بچائے، وہ جل کر راکھ ہوگئی۔ چاروں طرف کہرام مچ گیا۔ بھوانی نے آگ میں کودنے سے پہلے دل ہی دل میں شو جی کو یاد کیا اور دعا مانگی۔ ‘اگر اسے پھر عورت کا جنم ملے تو اس کی شادی شو جی ہی سے ہو اور اسے انہیں کی خدمت کا موقع ملے۔’ اس واقعہ کے بعد سے بھوانی کو ’ستی بھوانی‘ کہہ کر یاد کیا جانے لگا۔

 

ستی نے اس کے بعد ہمالیہ کے گھر میں جنم لیا اور پاروتی کے نام سے موسوم ہوئی۔ اس کے ماں باپ نے اس کی تعلیم و تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ جب بڑی ہوئی تو ہمالیہ نے پاروتی سے پوچھا۔ ‘بیٹی تم اب شادی کے لائق ہوگئی ہو۔ بتاو کس کے ساتھ شادی کرنا پسند کروگی۔’ پاروتی کو اپنے پچھلے جنم کی باتیں یاد تھیں۔ اس کے دل میں شو جی بسے ہوئے تھے۔ اس نے کہا: ‘پتا جی، میں شو جی کے ساتھ بیاہ کرنا چاہوں گی۔’ اس پر ہمالیہ نے کہا: ‘بیٹی! شو جی ترلوکی(تینوں دنیاوں)کے مالک اور تمام دیوتاوں کے دیوتا ہیں۔ہم غریبوں کا ان سے کیا رشتہ؟’

 

باپ کا یہ جواب سن کر پاروتی نے اس دن سے شو جی کی عبادت شروع کردی۔ ایک نارد جی کا ادھر سے گزر ہوا۔ پاروتی کی آزمائش کے لیے انہوں نے پوچھا۔ ‘اے پاروتی، تم تو بڑی بے سمجھ ہو۔ شو جی تو ہر وقت سانپ اور بچھو لٹکائے رہتے ہیں۔ بھوتوں اور پربتوں سے ان کا رشتہ ہے۔ جنگلوں، پہاڑوں اور ویرانوں میں ان کا بسیرا ہے۔ بھلا ایسے شخص سے تم کیوں شادی کرنا چاہتی ہو؟’

 

’اے پاروتی، تم تو بڑی بے سمجھ ہو۔ شو جی تو ہر وقت سانپ اور بچھو لٹکائے رہتے ہیں۔ بھوتوں اور پربتوں سے ان کا رشتہ ہے۔ جنگلوں، پہاڑوں اور ویرانوں میں ان کا بسیرا ہے۔ بھلا ایسے شخص سے تم کیوں شادی کرنا چاہتی ہو؟‘
پاروتی نے جواب دیا۔ ‘آپ چاہے کچھ کہیں اور وہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں، میرے دل میں تو وہی سمائے ہوئے ہیں۔’ نارد جی نے پھر کہا: ‘اگر دیوتا ہی سے شادی کرنا منظور ہے تو دیوتا تو دوسرے بھی بہت سے ہیں۔ اندر ہیں، گندھرو ہیں،کبیر ہیں، ورن ہیں۔ ان میں سے جس سے بھی شادی کروگی، تمہیں ہر طرح کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔‘
‘مجھے نعمتوں سے کیا کام۔ میرے دل میں تو بس شو جی بسے ہوئے ہیں۔’ پاروتی نے کہا۔

 

یہ سن کر نارد بہت خوش ہوئے اور پاروتی کے حق میں دعائے خیر کرتے ہوئے وہاں سے چلے گئے۔ وہاں سے سیدھے شو جی کے پاس پہنچے اور انہیں پاروتی کی عجیب و غریب محبت اور ثابت قدمی کا حال سنایا۔ شو جی کو بے حد خوشی ہوئی۔ انہوں نے سپت رشیوں کو بلوایا اور ان کے ذریعہ ہمالیہ کے گھر شادی کا پیغام بھجوایا۔ برہمنوں سے شبھ دن اور شبھ گھڑی پوچھ کر شادی کا وقت مقرر کر دیا گیا۔ دیوی دیوتا شادی کی تیاریاں کرنے لگے آسمان سے پھولوں کی بارش ہونے لگی اور اپسرائیں ناچنے اور منگل گانے لگیں۔

 

شو جی نے شادی کے دن بھی اپنی ہیت کذائی کو نہیں بدلا۔ وہی سانپوں کے کنڈل، لمبی لمبی جٹائیں، بدن پر راکھ ملی ہوئی، شیر کی کھال، ماتھے پر چاند، سر سے گنگا نکلتی ہوئی، گلے میں کھوپڑیوں کی مالا، گردن زہر سے نیلی، ایک ہاتھ میں ترشول دوسرے میں ڈمرو لیے شو جی بیل پر سوار ہوگئے۔ ڈھول اور شہنائیاں بجنے لگیں۔ شو جی کی یہ حالت دیکھ کر آسمان کی پریاں ہنسنے لگیں کہ ایسے عجیب دولہا کی دلہن بھی کیا خوب ہوگی۔

 

شو جی نے شادی کے دن بھی اپنی ہیت کذائی کو نہیں بدلا۔ وہی سانپوں کے کنڈل، لمبی لمبی جٹائیں، بدن پر راکھ ملی ہوئی، شیر کی کھال، ماتھے پر چاند، سر سے گنگا نکلتی ہوئی، گلے میں کھوپڑیوں کی مالا، گردن زہر سے نیلی، ایک ہاتھ میں ترشول دوسرے میں ڈمرو لیے شو جی بیل پر سوار ہوگئے۔
وشنو اور برہما اور کئی دوسرے دیوتا بھی برات میں شریک تھے، لیکن سب کی نظر شو جی پر تھی۔ ایسی بارات آج تک کسی دیوتا کی نہ دیکھی گئی تھی۔ شو جی کے پیچھے پیچھے ان کے تمام پیرو تھے۔ طرح طرح کے بھوت اور ارواح، بھیانک صورتیں، ڈراونے چہرے، کوئی ٹیڑھا تھا کوئی بھدا۔ ہڈیوں کے زیور ، سانپوں اور بچھوئوں کے کنڈل، کوئی گدھے پر سوار چلا جارہا تھا تو کوئی بھالو پر۔ طرح طرح کے جانور اچھلتے کودتے اور ناچتے ہوئے پیچھے چلے جارہے تھے۔ اس دلچسپ منظر کی وجہ سے شو جی کی بارات آج تک مشہور ہے۔ بارات کی یہ حالت دیکھ کر ہمالیہ اور ان کی بیوی مینا کو سخت حیرت ہوئی۔ لوگ طرح طرح کی پھبتیاں کس رہے تھے اور مارے ہنسی کے لوٹ پوٹ ہورہے تھے۔ پاروتی کی ماں نے شو جی کا یہ رنگ ڈھنگ دیکھا تو چیخ مار کر گر پڑیں اور بے ہوش ہو گئیں۔ عورتوں نے بھاگ کر اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کرلیے۔ لوگوں نے پاروتی کو سمجھایا کہ شو جی شکل سے بالکل بھوت معلوم ہوتے ہیں، ان کے ساتھ وہ کیسے خوش رہ سکے گی۔ لیکن پاروتی کی عقیدت اور محبت میں کوئی کمی نہ آئی اس وقت نارد جی اور سپت رشی بھی وہاں آپہنچے اور پاروتی کے پچھلے جنم کی بات سنا کر سب کو سمجھایا۔ چنانچہ ویدوں کے مطابق شادی کی رسمیں پوری کی گئیں، اور شو جی کی رفیقۂ حیات کی حیثیت سے سبھی دیوتائوں نے پاروتی جی کو پرنام کیا اور ان کی جے جے کار کے نعرے لگائے۔ عین اسی وقت آسمان سے پھولوں کی بارش ہونے لگی اور شہنائی کی سریلی تانوں سے ساری دھرتی گونج اٹھی۔

 

شو جی کی بارات کا ایک منظر
شو جی کی بارات کا ایک منظر
کہتے ہیں کہ پاروتی شو جی کی ازلی اور ابدی رفیقۂ حیات ہیں۔ ان کے کئی جنم اور کئی نام ہیں۔ بھوانی، ستی، کالی، درگا، ماتا، دیوی، اما، گوری، پاروتی، وغیرہ۔ ہر جنم میں ان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ شو جی کے ساتھ بیاہی جائیں۔ شو جی کے گلے کی مالا پاروتی کی لازوال محبت ہی کی بے مثال نشانی ہے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

گنیش

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

مزید ہندوستانی کہانیاں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
دوسری روایت یوں ہے کہ ایک دن پاروتی اشنان کر رہی تھیں۔ انہوں نے گنیش جی سے کہا کہ دروازے پر رہیں اور اند کسی کو نہ آنے دیں۔ اتنے میں شو جی آئے اور اندر جانا چاہا۔ گنیش نے انہیں ٹوکا۔ غصے میں انہوں نے گنیش کا سر اڑادیا۔
گنیش جی کو بہت مبارک خیال کیا جاتا ہے۔ وہ شو جی اور پاروتی کے بیٹے ہیں۔ گنیش کامطلب ہے ’گنوں کی ایش‘ یعنی کئی دیوتاؤں کے دیوتا۔ عام روایتوں کے مطابق انہیں عقل و دانش کا دیوتا کہا جاتا ہے، جو رکاوٹوں کو دور کرتا ہے۔ چنانچہ اکثر ہرکام کی ابتدا ’شری گنیشایہ نمہ’ کہہ کر یعنی گنیش جی کا نام لے کر کی جاتی ہے۔ کتابوں کا آغاز بھی گنیش جی کے نام سے کیا جاتا ہے۔روایت ہے کہ مہابھارت کا پہلا نسخہ ویاس جی کے بولنے پر گنیش جی نے لکھا تھا۔ شکل و صورت کے اعتبار سے بھی گنیش جی بہت دل چسپ ہیں۔ ناٹا قد، موٹا بدن، سنہرا رنگ، توندنکلی ہوئی، چار گول ہاتھ، ہاتھی کا سر اور انسان کا دھڑ۔ گنیش جی کے ایک ہاتھ میں شنکھ، دوسرے میں چکر تیسرے میں گرز اور چوتھے میں کنول کا پھول ہوتا ہے۔ اکثر یہ چوہے پر سوار ہوتے ہیں یا چوہے ان کی خدمت میں حاضر رہتے ہیں۔ ان کے ہاتھی کے سر اور انسان کے جسم کے بارے میں کئی کہانیاں مشہور ہیں۔ ایک یوں ہے کہ ان کی ماں پاروتی ایک بار انہیں اکیلا چھوڑ کر کہیں کام سے گئیں کہ سنیچر کی ایک نظر بچے کو جلا کر رکھ دے گی۔ چنانچہ یہی ہوا اور بچے کا سر راکھ کا ڈھیر ہوگیا۔ پاروتی نے برہما سے شکایت کی۔انہوں نے کہا۔ ‘جو ہونا تھا، وہ تو ہو گیا۔اب راستے میں جو بھی جاندار سب سے پہلے ملے، اس کا سر کاٹ کر گنیش جی کے لگادو۔’ پاروتی کو سب سے پہلے ہاتھی دکھائی دیا۔ چنانچہ اسی کا سر کاٹ کر گنیش جی کے لگادیا گیا۔ دوسری روایت یوں ہے کہ ایک دن پاروتی اشنان کر رہی تھیں۔ انہوں نے گنیش جی سے کہا کہ دروازے پر رہیں اور اند کسی کو نہ آنے دیں۔ اتنے میں شو جی آئے اور اندر جانا چاہا۔ گنیش نے انہیں ٹوکا۔ غصے میں انہوں نے گنیش کا سر اڑادیا۔ بعد میں پاروتی کو راضی کرنے کے لیے انہوں نے ایک ہاتھی کا سر کاٹا جو انہیں سب سے پہلے نظر آیا اور گنیش جی کے لگادیا۔ ایک اور روایت یوں ہے کہ شو جی نے سورج کے بیٹے ادتیہ کو ایک بار غلطی سے قتل کردیا جسے بعد میں زندہ کرنا پڑا۔ اس غلطی کی سزا کے طور شو جی کو بد دعا دی گئی کہ ان کے بیٹے کا سر جاتا رہے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بعد میں اندر کے ہاتھی کا سر کاٹ کے گنیش کے لگادیا گیا۔گنیش جی کے ایک دانت کے بارے میں روایت ہے کہ ایک بار مشہور جانباز بہادر پرشو رام، کیلاش (ہمالیہ) پر شو جی سے ملنے گئے۔ شو جی سو رہے تھے۔اس لیے گنیش نے انہیں دروازے پر روکا۔ دونوں میں جھگڑا شروع ہوگیا۔ گنیش نے پرشو رام کو اپنی سونڈ سے اٹھا کر دے مارا۔ انہوں نے جواباً اپنی کلہاڑی گنیش جی پر پھینکی جو دراصل شو جی ہی کی دی ہوئی تھی۔ اپنے باپ کے ہتھیار کو سر جھکاکر قبول کرنے کے لیے گنیش جی نے جونہی سونڈ نیچی کی، کلہاڑی دانت پر آکر لگی اور گنیش جی کا ایک دانت جاتا رہا۔ گنیش جی کو گجانند وردوئی دیہا یعنی ہاتھیوں کے سرتاج اور دو جسموں والا بھی کہتے ہیں۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
نان فکشن

ستیہ وان ساوتری

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

پرانے زمانے کی بات ہے، کشمیر کے جنوبی حصے میں مدر نامی ایک دیش تھا جہاں راجا اشو پتی حکومت کرتے تھے۔ ان کی ایک بیٹی تھی جس کا نام ساوتری تھا۔ ساوتری سیرت اور صورت کی خوبیوں سے مالا مال تھی۔ اس کے حسن کا دور دور تک شہرہ تھا۔ راجا اشو پتی چاہتے تھے کہ ساوتری کو شوہر بھی ایسا ملے جس کی خوبیاں بے مثال ہوں، لیکن ایسا شخص ڈھونڈنا آسان نہ تھا۔ کچھ دنوں کے بعد راجا نے ساوتری کو اپنی سہیلیوں کے ساتھ ایک وزیر کی نگرانی میں ملک کا دورہ کرنے کے لیے بھیجا۔ ساتھ ہی ہدایت کی کہ اگر ساوتری اپنا شوہر منتخب کرنا چاہے تو اس کی اجازت ہے۔

 

ساوتری رتھ رکوا کر یہ دلکش منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ وہاں سے ایک نوجوان گزرا۔ نوجوان کا جسم تپسیا کے اثر سے کندن کی طرح دمک رہا تھا۔ ساوتری نے وزیر سے کہا آج پڑاؤ یہیں پر ڈالا جائے۔
کافی مدت کی سیر و سیاحت کے بعد ایک دن ساوتری اور اس کی سہیلیوں کا گزر ایک بہت ہی سہانے جنگل سے ہوا۔ ہر طرف اونچے اونچے پیڑ تھے اور ہریالی ہی ہریالی تھی۔ ساوتری رتھ رکوا کر یہ دلکش منظر دیکھ ہی رہی تھی کہ وہاں سے ایک نوجوان گزرا۔ نوجوان کا جسم تپسیا کے اثر سے کندن کی طرح دمک رہا تھا۔ ساوتری نے وزیر سے کہا آج پڑاؤ یہیں پر ڈالا جائے۔

 

وہ نوجوان وہیں پاس ہی آشرم میں رہتا تھا۔ اس کا نام ستیہ وان تھا۔ اس کے پتا شالودیش کے راجا تھے، لیکن آنکھیں جاتی رہی تھیں، اب آشرم میں عبادت کررہے تھے۔ ستیہ وان انہیں کی خدمت میں لگا ہوا تھا۔ ساوتری اور اس کی سہیلیوں سے متعارف ہونے کے بعد وہ انہیں اپنے ماں باپ سے ملانے کے لیے آشرم لے گیا۔

 

ساوتری کو ستیہ وان کی طرف متوجہ دیکھ کر وزیر نے ستیہ وان کے باپ سے ساوتری کے دورے کا مقصد بیان کیا۔ انہیں اور کیا چاہیے تھا۔ انہوں نے ساوتری سے پوچھا کہ کیا وہ ان کی بہو بننا پسند کرے گی۔ ساوتری کے دل کی مراد بر آئی۔ وہ ہاں کرکے اگلے دن وزیر اور سہیلیوں کے ساتھ راج دھانی واپس روانہ ہوگئی۔

 

گھر پہنچ کر وزیر نے راجا کو پوری بات سے آگاہ کیا۔ راجا اور رانی کو یہ معلوم کرکے بے حد خوشی ہوئی کہ ساوتری کو اپنے پسند کا شوہر مل گیا ہے۔ اتفاق سے اس وقت نارد منی وہاں آپہنچے۔ راجا نے ان کا خیر مقدم کیا اور ساوتری اور ستیہ وان کی شادی کی تجویز کا احوال کہہ سنایا۔ نارد منی سوچ میں پڑگئے۔ راجا کے بار بار اصرار کرنے پر وہ صرف اتنا بولے: “یہ آپ نے کیا کیا۔ ستیہ وان تو صرف ایک سال اور زندہ رہے گا۔”

 

ساوتری کے ماں باپ یہ سن کر بہت دکھی ہوئے۔ انہوں نے اپنی بیٹی کو بار بار سمجھایا کہ اس شادی سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ زندگی بھر بیوہ رہنا پڑے گا۔ لیکن ساوتری اپنے فیصلے پر اٹل رہی۔ “جب میں انہیں شوہر کی نظر سے دیکھ چکی ہوں تو چاہے وہ زندہ رہیں یا نہیں، میرے پتی وہی ہیں، میں اپنا فیصلہ نہیں بدل سکتی۔” چنانچہ ساوتری اور ستیہ وان کی شادی ہوگئی۔

 

راجا نے ان کا خیر مقدم کیا اور ساوتری اور ستیہ وان کی شادی کی تجویز کا احوال کہہ سنایا۔ نارد منی سوچ میں پڑگئے۔ راجا کے بار بار اصرار کرنے پر وہ صرف اتنا بولے: “یہ آپ نے کیا کیا۔ ستیہ وان تو صرف ایک سال اور زندہ رہے گا۔”
ساوتری ستیہ وان کے ساتھ آشرم میں رہنے لگی۔ اس نے شاہی لباس اور خوب صورت زیور اتار دیے اور آشرم کی سادگی اختیار کرلی۔ وہ دن رات اپنے شوہر اور ساس سسر کی خدمت میں لگی رہتی۔ اس کی لگن اور ایثار دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ وہ کوئی شہزادی ہے۔ جب جب اسے گھر کے کام کاج سے فرصت ملتی تو و ہ اپنے پتی کی درازیِ عمر کے لیے بھگوان سے پرارتھنا کرتی۔

 

ساوتری کے دل میں ناردمنی کی پیشین گوئی تیر کی طرح گڑی ہوئی تھی۔ جیسے جیسے دن گزرتے گئے، ساوتری کی پریشانی بھی بڑھتی گئی۔ ستیہ وان کی زندگی کے جب صرف تین دن باقی رہ گئحے تو ساوتری نے کھانا پینا چھوڑ دیا، اور ہر وقت اپنے پتی کی زندگی کے لیے دعائیں مانگنے لگی۔ تیسرے دن جب ستیہ وان جلانے کی لکڑیاں کاٹنے کے لیے چلا تو ساوتری بھی ساتھ ہولی۔ ستیہ وان کے بار بار کہنے پر بھی کہ تین دن سے اس نے کچھ نہیں کھایا اور بہت کمزور ہوگئی ہے، وہ نہ مانی اور اس کے ساتھ چلتی رہی۔

 

ستیہ وان ایک درخت پر چڑھا اور تھوڑی سی دیر میں اس نے بہت سی لکڑیاں کاٹ کر گرادیں۔ پیڑ سے نیچے اترا تو اس کا سر چکرارہا تھا۔ ساوتری نے اسے سہارا دیتے ہوئے لٹادیا۔ اور اس کاس ر اپنی گود میں رکھ لیا۔ ستیہ وان کی بے چینی بڑھنے لگی۔ ساوتری کی طرف اس نے محبت بھری نظروں سے دیکھ کر کچھ کہنے کی کوشش کی لیکن اس کی زبان کام نہ کرسکی اور اس کی آنکھیں بند ہوگئیں۔ ساوتری کو ایسا محسوس ہوا کہ کوئی خوفناک پرچھائیں اس کے سامنے کھڑی ہے۔ ہمت باندھ کر ساوتری نے پوچھا۔”تم کون ہو۔”

 

“میں یم راج ہوں، موت کا فرشتہ۔” جواب ملا۔ “ستیہ وان کی جان لینے آیا ہوں۔اس کی عمر ختم ہوچکی ہے۔”
اتنا کہہ کر یم راج نے ستیہ وان کی روح قبض کی اور چل دیا۔ ساوتری نے اپنے شوہر کی لاش کو زمین پر رکھ دیا اور یم راج کے پیچھ پیچھ چلنے لگی۔ یم راج نے پلٹ کر دیکھا تو ساوتری چلی آرہی تھی۔ یم راج نے کہا۔ “تم کہاں آرہی ہو۔ جس کی عمر ختم ہوجاتی ہے، صرف وہی میرے ساتھ آتا ہے۔ جس کی عمر ابھی باقی ہو اسے میرے ساتھ آنے کی اجازت نہیں۔ تم لوٹ جاؤ۔”

 

یہ کہہ کر یم راج آگے بڑھ گیا۔ کچھ دور جا کر اس نے پھر مڑ کر دیکھا تو ساوتری سایے کی طرح اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ یم راج نے کہا۔ “تم بے کار میرا پیچھا کررہی ہو، قدرت کے اصول اٹل ہیں۔ تم جانتی ہو کہ ستیہ وان کی زندگی ختم ہوچکی ہے۔ بہرحال پتی سے تمہارا لگاؤ دیکھ کر میں بہت خوش ہوں۔ ستیہ وان کی زندگی کے علاوہ جو مراد مانگنا چاہو ، مانگ سکتی ہو۔”

 

یہ کہہ کر یم راج آگے بڑھ گیا۔ کچھ دور جا کر اس نے پھر مڑ کر دیکھا تو ساوتری سایے کی طرح اس کا تعاقب کر رہی تھی۔ یم راج نے کہا۔
ساوتری نے کچھ سوچ کر کہا۔ “مہاراج مجھے وردان دیجیے کہ میرے سسر کی آنکھوں میں پھر سے روشنی آجائے اور ان کا کھویا ہوا راج بھی مل جائے۔”

 

یم راج نے کہا۔ “ایسا ہی ہوگا۔” اور وہ آگے چل دیا۔

 

ساوتری پھر بھی پیچھے چلتی رہی۔یم راج کو اس کے عزم و استقلال پر بہت حیرت ہوئی۔ اس نے ساوتری کو بار بار سمجھایا، لیکن وہ نہ مانی۔ اس پر اس نے ساوتری کی ایک اور مراد پوری کرنے کی پیش کش کی۔

 

ساوتری نے کہا۔ “میرے پتا کے ہاں بیٹا پیدا ہو۔”

 

یم راج نے کہا۔ “چلو یہ بھی سہی۔” اور آگے بڑھ گیا۔

 

کچھ دور جا کر یم راج نے پھر پیچھے مڑ کر دیکھا تو ساوتری اب بھی پیچھے چلی آرہی تھی۔ اب کی وہ غصے سے بولا۔”تم ناحق میرا پیچھا کررہی ہو۔ اس مادی جسم کو لے کر کوئی بھی میرے ساتھ نہیں جاسکتا۔ لوٹ جاؤ۔” ساوتری بولی۔ “میں اپنے پتی کی جان کو چھوڑ کر ہرگز نہیں جاسکتی۔”

 

یم راج چکرا گیا۔ سوچنے لگا یہ کیسی عورت ہے، سمجھ میں نہیں آتا، کیا کیا جائے۔ تھوڑی دیر بعد بولا۔ “تمہارے پتی کی موت تو قسمت میں لکھی تھی۔ اس کو تو کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ البتہ تم ایک مراد اور مانگ سکتی ہو، اس کے بعد واپس لوٹ جاؤ۔”

 

کچھ سوچ کر ساوتری نے کہا۔ “اچھا تو مہاراج! یہ وردان دیجیے کہ میرے بطن سے اولاد پیدا ہو۔” یم راج نے جان چھڑاتے ہوئے کہا۔ “ایسا ہی ہوگا۔” اور یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گیا۔ لیکن ساوتری پھر بھی نہیں لوٹی اور پیچھے پیچھے چلتی رہی۔ اب کہ یم راج کے غصے کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ چیخ کر اس نے کہا۔

 

“اگر اب بھی تم نہیں لوٹو گی تو مجھے تم کو شراپ(بد دعا)دینا پڑ ے گا۔”

 

“تمہارے پتی کی موت تو قسمت میں لکھی تھی۔ اس کو تو کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ البتہ تم ایک مراد اور مانگ سکتی ہو، اس کے بعد واپس لوٹ جاؤ۔”
ساوتری نے نرمی سے کہا۔ “مہاراج، بددعا کیوں، آپ تو مجھے اولاد کا وردان دے چکے۔ لیکن میرے پتی کو ساتھ لیے جارہے ہیں تو یہ وردان پورا کیسے ہوگا۔ اولاد تو تبھی ہوگی جب میرا پتی میرے پاس ہوگا۔”

 

یم راج لا جواب ہوگیا۔ بالآخر موت کے فرشتے کو ستی کی شکتی کے سامنے سر جھکانا ہی پڑا۔ یم راج نے کہا۔ “ساوتری تمہارے استقلال اور تمہاری محبت نے قسمت کے لکھے کو بدل دیا۔ میں تمہارے تقدس، پاکیزگی اور آہنی عزم اور ارادے کے سامنے سر جھکاتا ہوں، اور ستیہ وان کی روح واپس کرتا ہوں۔”

 

ساوتری واپس لوٹ آئی۔ جب اس پیڑ کے پاس پہنچی، جہاں ستیہ وان کا مردہ جسم چھوڑگئی تھی تو اس نے دیکھا کہ ستیہ وان بے چینی سے اس کا انتظار کر رہا تھا۔

 

ساوتری کی وفا شعاری، پاکیزگی اور خدمت و ایثار کے آج تک گن گائے جاتے ہیں، اور اسے آدرش عورت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

نل دمینتی

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

دیوتاؤں کو پہلے سے معلوم تھا کہ دمینتی نل کو چاہتی ہے، چنانچہ سوئمبر میں چاروں دیوتاؤں نے نل کی شکل اختیار کرلی۔
ہزاروں سال پہلے کا ذکر ہے، وسطی ہندوستان میں نِشدھ نام کی ایک ریاست تھی، جس پر راجا نل کی حکومت تھی۔ نل نہایت حسین اور تنو مند تھا، اور بہادری اور دلیری میں اپنا جواب نہیں رکھتا تھا۔ اسپ شناسی کا بھی ماہر تھا، اور رتھ ہوا سے بھی تیز چلا سکتا تھا۔ لیکن اسے چوسر بازی اور جوا کھیلنے کی بری عادت تھی۔ دمینتی ودربھ یعنی بیدر کے راجا بھیم کی اکلوتی بیٹی تھی جس کے حسن اور خوبی کا دور دور تک شہرہ تھا۔ نل اور دمینتی ایک دوسرے کی تعریف سن کر دل ہی دل میں ایک دوسرے کو چاہنے لگے۔ حسن اتفاق سے ایک بار نل کے ہاتھ ایک ایسا ہنس لگا، جس نے جا کر دمینتی کو بتایا کہ نل کے دل میں اس کے لیے کتنی عزت ہے۔ دمینتی تو پہلے ہی نل کو چاہتی تھی، چنانچہ اس نے عہد کرلیا کہ اگر وہ شادی کرے گی تو راجا نل ہی سے کرے گی۔ راجا بھیم نے فیصلہ کیا کہ دمینتی سوئمبر کے ذریعے اپنے شوہر کا انتخاب کرے گی۔ سینکڑوں راجے، مہا راجے اور کنور قسمت آزمائی کے لیے بیدر پہنچے ۔ نل بھی ان میں سے ایک تھا۔ چار دیوتا اگنی، اندر، ورُن اور یم بھی اس سوئمبر میں شرکت کی غرض سے آئے۔ راستے میں نل سے ان کی مڈ بھیڑ ہوگئی۔ انہوں نے نل سے صاف صاف کہہ دیا کہ وہ دمینتی کو بتادے کہ دمینتی ان چاروں میں سے کسی ایک کو شوہر چن لے، ورنہ ہنگامہ ہوجائے گا۔

 

دیوتاؤں کو پہلے سے معلوم تھا کہ دمینتی نل کو چاہتی ہے، چنانچہ سوئمبر میں چاروں دیوتاؤں نے نل کی شکل اختیار کرلی۔ دمینتی ایک کے بجائے پانچ نل دیکھ کر بہت حیران ہوئی۔ اس نے سوچا ہو نہ ہو اس میں دیوتاؤں کی شرارت ہے لیکن اصلی نل کو پہچاننے میں اسے دیر نہ لگی۔ چنانچہ اس نے انتخاب کی جے مالا اصلی نل کے گلے میں ڈال دی۔ کالی دیوتا سوئمبر میں ذرا دیر سے پہنچا تھا۔ نل کی کامیابی پر وہ بھی حسد کی آگ میں جل رہا تھا۔ چنانچہ سب دیوتاؤں نے مل کر نل سے بدلہ لینے کی ٹھانی۔

 

شادی کے بعد نل اور دمینتی نشدھ میں بڑے مزے سے زندگی بسر کرنے لگے۔ ان کے ایک لڑکا اندر سین اور ایک لڑکی اندرا پیدا ہوئی۔ اس طرح کئی سال گزر گئے۔ ایک دن نل کی غفلت سے حاسد دیوتا کالی کو نل کے حواس پر قابو پانے کا موقع مل گیا، اور نل نے اپنے چچیرے بھائی پشکر سے چوسر کھیلنے کا فیصلہ کیا۔ نل اگرچہ چوسر کا ماہر تھا اور اسے اعتماد تھا کہ جیت اسی کی ہوگی۔ لیکن چوسر پر کالی کا اثر تھا۔ نل کو مات پر مات ہوئی۔ پُشکر چونکہ نل سے جلتا تھا، وہ نل کی ہر چیز ہتھیانے پر تلا ہوا تھا۔ نل بازی ہارتا گیا، حتیٰ کہ تخت و تاج اور مال و دولت ہر چیز ہار گیا۔ نل نے حکومت کا کام پشکر کو سونپ دیا۔ راج پاٹ پر قابض ہوجانے کے بعد پشکر نے اعلان کیا کہ کوئی شخص نل کو پناہ نہ دے۔ غرض نل کے لیے سوائے نشدھ چھوڑنے کے چارہ نہ تھا۔ دمینتی نے بھی ساتھ دیا اور دونوں نشدھ سے نکل کھڑے ہوئے۔

 

ہنس نے دمینتی کو راجا نل کی پسندیدگی سے آگاہ کیا
ہنس نے دمینتی کو راجا نل کی پسندیدگی سے آگاہ کیا
نل اور دمینتی جنگلوں میں رہنے لگے۔ سارا سارا دن سفر کرتے اور جہاں رات پڑتی، سو رہتے۔ پرندوں کا شکار کرکے پیٹ کی آگ بجھاتے۔ ایک دن جب نل نے پرندے پکڑنے کے لیے ان پر چادر پھینکی تو پرندے چادر لے کر اُڑ گئے۔ اب نل کے پاس تن ڈھانپنے کو بھی کچھ نہ رہا۔ دیوتا نل کو دُکھ پہنچانے پر تلے ہوئے تھے۔ نل سے دمینتی کی پریشانی نہیں دیکھی جاتی تھی۔ وہ بہت سوچتا کہ کسی طرح دمینتی کو اس کے مائیکے بھیج دے۔ آخر ایک دن اس نے دمینتی سے کہا۔

 

“راج پاٹ سب چھوٹ گیا۔ اب میرے پاس رہ ہی کیا گیا ہے، دکھ ہی دکھ۔ میں چاہتا ہوں تم اپنے ماں باپ کے پاس چلی جاؤ اور مصیبت کے یہ دن وہیں گزار دو۔”

 

دمینتی نے کہا۔ “ہرگز نہیں۔ کتنے ہی دکھ کیوں نہ آئیں، میں آپ کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی، جس حالت میں آپ رہیں گے، میں بھی آپ کے ساتھ رہوں گی۔”

 

نل کی عقل پر حاسد دیوتاؤں کی وجہ سے جنون کا غلبہ تو تھا ہی، اس نے طے کر لیا کہ وہ دمینتی کو چھوڑ دے گا تاکہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی جائے۔ چنانچہ ایک رات موقع پا کر اس نے سوتے میں دمینتی کو اکیلا چھوڑ دیا۔ دمینتی کی آدھی ساڑی پھاڑ کر اپنے تن کو ڈھانپا اور راتوں رات کہیں سے کہیں نکل گیا۔ کچھ مدت کے بعد ایک دن جنگل میں اسے ایک آواز نے چونکا دیا۔ “بچاؤ بچاؤ” نل نے دیکھا، جھاڑیوں کے ایک جھنڈ میں آگ لگی ہوئی ہے اور ایک اجگر آگ میں گھرا ہوا ہے۔ نل نے آگ میں کود کر بڑی بہادری سے اجگر کی جان بچائی۔ اجگر نے کہا تم نے مجھ پر احسان کیا ہے۔ اس کے بدلے میں تمہاری شکل تبدیل کیے دیتا ہوں تاکہ جب تک تمہارے بُرے دن نہیں پھرتے، تمہیں کوئی پہچان نہ سکے۔ جب تمہاری قسمت ٹھیک ہوجائے گی تو زہر کا اثر خودبخود جاتا رہے گا۔ یہ کہتے ہی اجگر نے نل کو ڈس لیا جس سے نل کا رنگ کالا پڑگیا اور شکل بونے کی سی ہوگئی۔ اجگر نے نل کو بتایا۔

 

دمینتی کے سوئمبر کا منظر
دمینتی کے سوئمبر کا منظر
“ایودھیا کا راجا رِتو پُرن پانسہ کھیلنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، اگر تمہیں اس کھیل پر عبور حاصل کرنا ہو تو اس کے پاس چلے جاؤ۔ اس کے بعد ہی تم اپنے بھائی پشکر سے جیت سکو گے۔”

 

نل کی عقل پر حاسد دیوتاؤں کی وجہ سے جنون کا غلبہ تو تھا ہی، اس نے طے کر لیا کہ وہ دمینتی کو چھوڑ دے گا تاکہ وہ اپنے ماں باپ کے گھر چلی جائے۔
چنانچہ نل نے ایسا ہی کیا۔ وہاں سے سیدھا ایودھیا پہنچا، اور راجا رتو پرن کے ہاں رتھ بان کی حیثیت سے ملازم ہوگیا۔ ادھر جب دمینتی کی آنکھ کھلی تو نل کو نہ پاکر وہ بہت گھبرائی۔ “نل”،”نل” پکارتی ہوئی وہ دیوانوں کی طرح بھٹکنے لگی۔ ایک دن خوں خوار اژدہے نے دمینتی کو اپنے شکنجے میں جکڑ لیا۔ اتفاق سے ایک شکاری وہاں آنکلا جس نے دمینتی کی جان بچائی وہ دمینتی کے حسن پر فریفتہ ہوگیااور اسے پکڑنے لگا۔ دمینتی نے بد دعا دی۔ شکاری غیبی آگ کی لپٹوں میں گھر گیا اور جل کر راکھ ہو گیا۔ اسی طرح ایک کے بعد ایک کئی مصیبتوں کا سامنا کرتی ہوئی دمینتی ایک دن ایک ندی کے کنارے پہنچی۔ وہاں اسے بیوپاریوں کا گروہ ملا۔ دمینتی ایک ایک سے نل کے بارے میں پوچھتی لیکن کوئی کچھ نہ بتا سکا۔ اسی اثنا میں ہاتھیوں کے ایک جھنڈ نے بیوپاریوں پر حملہ کیا اور ان کا سامان برباد کردیا۔ انہوں نے سوچا، ہو نہ ہو، دمینتی ہی اس ساری بد نصیبی کا سبب ہے۔ انہوں نے دمینتی کو مارڈالنے کا فیصلہ کیا۔ دمینتی نے بڑی مشکل سے جان بچائی۔ نل کو ڈھونڈتے ڈھونڈتے وہ وپر پور پہنچی۔ یہاں کی رانی نے یہ دیکھ کر کہ دمینتی کسی اچھے گھرانے کی معلوم ہوتی ہے، اس کو مشاطہ کا کام سونپ دیا۔ دمینتی کی اصلیت پر پردہ پڑا ہوا تھا، تاہم وہاں کے لوگ بہت جلد اس کی سوجھ بوجھ اور سلیقہ شعاری کے قائل ہوگئے اور اس کی عزت کرنے لگے۔ دمینتی کی اصلیت بہت دنوں تک راز نہ رہ سکی۔ ایک کندن پور کے وزیر نے، جو کسی کام سے ویر پور آیا ہو ا تھا، دمینتی کو پہچان لیا۔ اس نے بتایا کہ وہ دمینتی ہی کی کھوج میں نکلا ہوا ہے۔ چنانچہ وہ دمینتی کو اس کے مائکے کندن پور لے گیا۔

 

نل نے دمینتی کو سوتے میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا
نل نے دمینتی کو سوتے میں چھوڑنے کا فیصلہ کیا
دمینتی کو ڈھونڈ چکنے کے بعد اب وزیر نل کی تلاش میں نکلا۔ جگہ جگہ گھومتا ہوا وہ ایودھیا میں راجا رتو پرن کے دربار میں پہنچا۔ یہاں اس نے تمام درباریوں سے ایک پہیلی پوچھی، جس کا صحیح جواب صرف نل ہی دے سکتا تھا۔ جب کسی درباری کو اس کا جواب نہ سوجھا تو رتھ بان سے پوچھا گیا۔ رتھ بان کے روپ میں دراصل راجا نل ہی تو تھا۔ اس نے راجا کی اجازت سے پہیلی کا صحیح جواب بتا دیا۔

 

وزیر نے کندن پور آکر سارا ماجرا دمینتی کو سنایا۔ دمینتی نے کہا، وہ رتھ بان خواہ کتنا ہی بونا اور کالا کیوں نہ ہو، راجا نل ہی ہے۔ اس کو کسی طرح یہاں بلا کر حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔ چنانچہ وزیر کو ایک ترکیب سوجھی۔ اس نے راجا رِتو پرن کو دمینتی کے سوئمبر کی جھوٹی خبر پر بلا بھیجا۔ وقت اتنا تھوڑا تھا کہ پورے ملک میں سوائے نل کے اس قدر تیز رتھ چلانے والا دوسرا کوئی نہ تھا جو رتو پرن کو رات رات میں ودربھ پہنچا دے۔
نل نے اس کمال سے رتھ چلایا کہ گھوڑے ہوا سے باتیں کرنے لگے۔ رِتو پرن نل کی مہارت سے بہت خوش ہوا۔ وہ خود ریاضی اور چوسر میں غیر معمولی دسترس رکھتا تھا۔ باتیں ہونے لگیں۔ نل نے رِتو پرن رتھ بانی کے اعلیٰ گُر بتائے اور اس کے بدلے میں رِتو پرن نے چوسر کھیلنے کی باریکیوں اور نکتوں سے آگاہ کیا۔ نل نے رتو پرن کو صبح ہونے سے پہلے ہی ودربھ پہنچا دیا۔ یہ دیکھ کر دمینتی کا شبہ اور بھی گہرا ہوگیا، لیکن نل ابھی بونے کی شکل میں تھا۔ دمینتی نے اس کی اصلیت کا یقین کرنے کے لیے چند اور آزمائشیں کیں، اور بالآخر نل کا پکایا ہوا کھانا چکھنے کے بعد اس کا گمان یقین میں بدل گیا۔ نل پہچانا گیا۔ اس نے دمینتی سے پوچھا۔ “کیا تم واقعی دوسری شادی کرنا چاہتی ہو۔” دمینتی نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “مہاراج! یہ تو آپ کو یہاں بلانے کا بہانہ تھا۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ اتنے تھوڑے وقت میں ایودھیا سے ودربھ سوائے آپ کے کوئی نہیں پہنچ سکتا تھا۔”

 

دمینتی کے اذدھے کی جکڑ میں آنے کا منظر
دمینتی کے اژدھے کی جکڑ میں آنے کا منظر
نل بہت خوش ہوا۔ زہر کا اثر خودبخود جاتا رہا۔ نل کو اپنی بدشکلی سے نجات ملی اور وہ اپنی اصلی حالت پر آگیا۔ دمینتی کے پتا، راجا بھیم نے نل کی جمیعت میں ایک بھاری لشکر روانہ کیا تاکہ وہ اپنے غاصب بھائی پشکر سے اپنی سلطنت واپس حاصل کرسکے۔ نشدھ پہنچ کر نل نے پشکر کو پھر سے چوسر کھیلنے کی دعوت دی۔ اب تو نل راجا رتو پرن سے سارے گر سیکھ چکا تھا، چنانچہ جیت گیا۔ پُشکر کو اپنے کیے پر بہت افسوس ہوا۔ نل نے اس کو معاف کر دیا اور اس کے ساتھ خلوص و محبت کا برتاؤ کیا۔ اُجڑا چمن شاداب ہوا اور نل اور دمینتی پھر سے نشدھ پر حکمرانی کرنے لگے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

شکنتلا

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

راجا دشینت کو شکار کھیلنے کا بے حد شوق تھا۔ ایک بار گرمیوں میں شکار کھیلتے کھیلتے وہ اپنے ساتھیوں سے بچھڑ کر بہت دور جا نکلا۔ راستے میں ایک بے حد خوب صورت ہرن دکھائی دیا۔ راجا ہرن پر تیر چلانا ہی چاہتا تھا کہ ایک رشی کی آواز نے اسے چونکادیا۔ پاس آکر رشی نے بتایا کہ وہ ان کے آشرم کا پالتو ہرن ہے، اس لیے کسی کو اسے مارنے کی اجازت نہیں۔ رشی، دشینت کو اپنے ساتھ آشرم لے گئے۔ وہاں درختوں کے نیچے تین جوان لڑکیاں پھولوں کو پانی دے رہی تھیں۔ ان میں سے ایک شکنتلا بھی تھی۔

 

راجا دشینت شکار کھیلتے ہوئے راستہ بھٹکا اور تقدیر اسے شکنتلا تک لے آئی
راجا دشینت شکار کھیلتے ہوئے راستہ بھٹکا اور تقدیر اسے شکنتلا تک لے آئی
شکنتلا کنو رشی کی کٹیا میں رہتی تھی۔ وہ وشوا متر کی بیٹی تھی اور اندر لوک کی مشہور اپسرا مینکا کے بطن سے تھی۔ اس کی پیدائش کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ رشی وشوامتر نے اتنی ریاضت کی کہ راجا اندر کو اپنے تخت کے چھن جانے کا خطرہ لاحق ہوگیا۔ وشوامتر کی ریاضت کو ناکام بنانے کے لیے اندر لوک کی سب سے خوب صورت اپسرا مینکا کو بھیجا گیا۔ یہ تدبیر کارگر ثابت ہوئی، اور وشوامتر اور مینکا کے ملن کے نتیجے کے طور پر شکنتلا پیدا ہوئی ہے جسے پیدائش کے بعد مینکا نے جنگل میں چھوڑ دیا۔ وہاں سے اس کو کنو رشی اپنے آشرم میں اٹھا لائے اور پال پوس کر بڑا کیا۔

 

شکنتلا کے آسمانی حسن کو دیکھتے ہی دشینت کے دل پر عجیب سا اثر ہوا، اور اس کا صبر و قرار جاتا رہا۔ جان پہچان ہونے کے بعد دشینت نے شکنتلا سے گندھرو بیاہ کی درخواست کی، جو دونوں کے راضی ہونے پر بغیر برہمنی رسموں کے فوراً کیا جاسکتا ہے۔ شکنتلا نے اس شرط پر یہ درخواست منظور کرلی کہ شکنتلا ہی کی اولاد تخت و تاج کی وارث ہوگی۔ دشینت نے وعدہ کیا کہ ایسا ہی ہوگا۔ آشرم سے رخصت ہونے سے پہلے راجا نے یقین دلایا کہ وہ بہت جلد شکنتلا کو محل میں بلوا لے گا۔

 

دُرواسا رشی شکنتلا کو شراپ دیتے ہوئے
دُرواسا رشی شکنتلا کو شراپ دیتے ہوئے
راجا کے چلے جانے کے بعد بہت دن گزرگئے لیکن راجدھانی سے کوئی شکنتلا کو لینے نہ آیا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا گیا شکنتلا کی پریشانی بڑھتی گئی۔ اس کو نہ کھانے کی سدھ رہی نہ پینے کا ہوش۔ وہ دن رات دشینت کی یاد میں کھوئی رہتی۔ ایک دن دُرواسا رشی کنو سے ملنے آئے۔ کنو گھر پر نہیں تھے۔ شکنتلا کو دُرواسا کی پذیرائی کا مطلق خیال نہ رہا۔ وہ انہیں آسن پر بیٹھنے کو بھی نہ کہہ سکی۔ اس بے ادبی پر دُرواسا نے شراپ یعنی بد دعا دی کہ اے لڑکی، جس شخص کے خیال میں تو اس قدر کھوئی ہوئی ہے ،وہ تجھے بھول جائے اور تیرے یاد دلانے پر بھی وہ تجھے نہ پہچانے۔ بعد میں شکنتلا کی سہیلیوں نے دُرواسا رشی کو شکنتلا کی بپتا سنائی اور منت سماجت کی کہ وہ اس بد دعا کو واپس لے لیں یا اس کے اثر کو کم کردیں۔ اس پر دُرواسا نے اپنی بد دعا کے اثر کو کم کرنے کے لیے کہا کہ دشینت اپنی دی ہوئی نشانی دکھانے پر شکنتلا کو پہچان لے گا۔ شکنتلا کی سہیلیوں نے اس بد دعا کا ذکر کسی سے نہیں کیا۔ ان کا خیال تھا کہ شکنتلا کے پاس راجا کی انگوٹھی ہے، اسے دکھانے پر راجا اسے ضرور پہچان لے گا اور بد دعا کا اثر ٹل جائے گا۔

 

تھوڑے دنوں میں شکنتلا کو معلوم ہوا کہ وہ ماں بننے والی ہے۔ اُدھر دُرواسا رشی کی بد دعا کے اثر سے دشینت، شکنتلا کو بالکل بھول چکا تھا۔ کنو رشی جب یاترا سے واپس آئے تو انہیں شکنتلا کے گندھرو بیاہ کا حال معلوم ہوا۔ جب کئی ماہ تک راجا کی طرف سے کوئی شکنتلا کو لینے نہیں آیا تو انہوں نے شکنتلا کو خود راجا کے پاس بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ شکنتلا کو گھر گرہستی کی ضروری باتیں سمجھائیں اور آشرم کے دو ملازموں کے ساتھ رخصت کردیا۔
راستے میں ایک مقدس جگہ شکنتلا نے اشنان کیا۔ بد قسمتی سے نہاتے میں ایک انگوٹھی پانی میں گر گئی، اور بہت ڈھونڈنے پر بھی نہ ملی۔ کئی دنوں کی مسافت کے بعد تھکی ہاری شکنتلا جب دربار میں پہنچی تو راجا اسے پہچان نہ سکا۔ شکنتلا انتہائی دُکھ اور بے سرو سامانی کی حالت میں دربار سے نکل آئی۔ جب شکنتلا کی اس ناقدری کی اطلاع مینکا کو اندر لوک میں ہوئی تو وہ فوراً زمین پر اتری اور شکنتلا کو اپنے ساتھ ایک محفوظ آشرم میں لے گئی۔ کچھ مدت کے بعد بیٹا پیدا ہوا جس کا نام بھرت رکھا گیا۔

 

راجہ دشینت اور شکنتلا کا بیٹا بھرت جو آگے چل کر ہندوستان کا حکمران بنا
راجہ دشینت اور شکنتلا کا بیٹا بھرت جو آگے چل کر ہندوستان کا حکمران بنا
اتفاق سے شکنتلا کی انگوٹھی چند مہینوں بعد ایک ماہی گیر کو مچھلی کے پیٹ سے ملی۔ وہ اسے بیچنے کے لیے بازار میں لایا تو راجا کی انگوٹھی چرانے کے الزام میں پولیس نے اسے پکڑ لیا، معاملہ دربار تک پہنچا۔ راجا نے جیسے ہی انگوٹھی دیکھی، اس کو کنو رشی کے آشرم میں گزرا ہوا وقت اور شکنتلا سے گندھرو بیاہ یاد آگیا اور وہ شکنتلا کی یاد میں بے قرار ہو اٹھا۔ ہر طرف شکنتلا کی تلاش میں آدمی دوڑائے گئے، لیکن شکنتلا کا کہیں پتہ نہ چلا۔
کچھ مدت بعد جب دشینت اور اس کے سپاہی ایک مہم سے لوٹ رہے تھے تو انہوں نے ہیم کوٹ پہاڑی پر ایک رشی کے آشرم کے قریب پڑاؤ ڈالا۔ راجا جب رشی سے ملنے کے لیے جا رہا تھا تو راستے میں اسے ایک لڑکا دکھائی دیا، جو کھیل ہی کھیل میں شیر کے بچے کا منہ کھولے اس کے دانت گننے کی کوشش کررہا تھا۔ لمباقد، چھریرا ڈیل، چہرے پر چمک۔ راجا کو اپنا دل کھچتا ہوا محسوس ہوا۔ تھوڑی دیر میں وہ اس لڑکے سے گھل مل کر باتیں کرنے لگا۔ معلوم ہوا کہ اس کی ماں کا نام شکنتلا ہے اور اس کے باپ نے اسے اور اس کی ماں کو چھوڑ رکھا ہے۔ مارے خوشی کے دشینت کے آنسو بہنے لگے۔ بھاگا بھاگا آشرم میں گیا اور شکنتلا سے اپنی بھول کی معافی مانگی۔

 

شکنتلا کو مہارانی کا درجہ دیا گیا۔ شکنتلا نے اپنے بیٹے کانام بھرت رکھا تھا۔ یہی بھرت دشینت کے بعد اس کا جانشین ہوا، اور اسی بھرت کی رعایت سے ہندوستان کا نام بھارت ورش مشہور ہوا۔ بھرت کی اولاد نے صدیوں ہندوستان پر حکومت کی اور مہابھارت میں انہیں حکمرانوں کے کارنامے بیان کیے گئے ہیں۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔
Categories
فکشن

اُروَشی

[blockquote style=”3″]

پران ہندوستانی دیو مالا اور اساطیر کے قدیم ترین مجموعے ہیں۔ ہندوستانی ذہن و مزاج کی، آریائی اور دراوڑی عقائد اور نظریات کے ادغام کی، اور قدیم ترین قبل تاریخ زمانے کی جیسی ترجمانی پرانوں کے ذریعے ہوتی ہے، کسی اور ذریعے سے ممکن نہیں۔ یہ الہامی کتابوں سے بھی زیادہ مقبول اور ہر دل عزیز ہیں۔ مشہور رزمیہ نظموں رامائن اور مہابھارت کو بھی لوک کتھاؤں کے مآخذ کے اعتبار سے اسی زمرے میں شامل کیا جاتا ہے۔ ان میں اس برصغیر میں نسل انسانی کے ارتقا کی داستان اور اس کے اجتماعی لاشعور کے اولین نقوش کچھ اس طرح محفوظ ہوگئے ہیں کہ ان کو جانے اور سمجھے بغیر ہندوستان کی روح کی گہرائیوں تک پہنچنا مشکل ہے۔
تاریخی اعتبار سے پران ہندو مذہب کے ارتقا کی اس منزل کی ترجمانی کرتے ہیں، جب بدھ مت سے مقابلے کے لیے ہندو مذہب تجدید اور احیا کے دور سے گزر رہا تھا۔ اس سے پہلے ویدوں کی رسوم پرستی اور برہمنیت کے خلاف ردعمل کے طور پر بدھ مت اپنی سادگی، معاشرتی عدل اور عملی روح کی وجہ سے قبول عام حاصل کرچکا تھا۔ لیکن بدھ مت میں خدا کا تصور نہیں تھا۔ اپنشدوں کا برہمہ (مصدر ہستی)کا تصور بھی انتہائی تجریدی اور فلسفیانہ ہونے کی وجہ سے عوام کی دسترس سے باہر تھا۔ ہندو مذہب نے اس کمی کو اوتاروں کے آسانی سے دل نشین ہونے والے عقیدے سے پورا کیا اور رام اور کرشن جیسے مثالی کرداروں کو پیش کرکے عوام کے دلوں کو کھینچنا شروع کردیا۔ یہ انہیں کی شخصیت کا فیض تھا کہ ہندو مذہب کو پھرسے فروغ حاصل ہوا۔ پران اسی دور تجدید کی یادگار ہیں، اور انہیں نے ایک بار پھر مذہب کو عوام کے دل کی دھڑکنوں کا رازدار بنایا۔
پرانوں کی کہانیوں میں برہما، وشنو، شو، پاروتی، اُما، درگا، لکشمی کے علاوہ دیوی دیوتاؤں اور رشیوں منیوں کے سینکڑوں کردار ایسے ہیں جو بار بار رونما ہوتے ہیں، ورُن، اگنی، اِندر، مارکنڈے، نارد، دُرواسا، سرسوتی، اوشا، ستیہ، ویاس، مارتنڈ، منو، مینکا، اُروشی، کَپِلا، راہو، کیتو،کام، کالندی، دکش، کادمبری، ہوتری، ماروتی، اشونی وغیرہ۔ ان میں سے کچھ تو انسانی کردار ہیں جو ایک بار سامنے آکر ختم ہوجاتے ہیں لیکن کچھ آسمانی کردار ہیں جو وقت کے محور پر ہمیشہ زندہ ہیں، اور جو کسی بھی یُگ یا کلپ میں رونما ہوسکتے ہیں۔ آسمانی اور زمینی کرداروں کے اس باہمی عمل سے ان کہانیوں کا تانا بانا تیار ہوتا ہے۔ ان کرداروں کی تاریخی حیثیت سے سروکار نہیں۔ اصل چیز ان کی معنویت ہے۔ ان کی تکرار سے ان سے منسوب صفات واضح طور پر سامنے آجاتی ہے۔ ہر کردار رمز ہے، علامت ہے، کسی تصور یا کسی قدر کی، جس کے ذریعے ذہن انسانی اپنے عالم طفولیت میں بدی اور نیکی کی طاقتوں کی حشر خیز کشمکش کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
(گوپی چند نارنگ)

[/blockquote]

پرانے زمانے میں پُروروا نامی ایک مشہور راجا گزرا ہے۔ماں کی طرف سے اس کا رشتہ سورج بنسی خاندان سے اور باپ کی طرف سے چندر بنسی خاندان سے تھا، چنانچہ اس میں دونوں اعلیٰ خاندانوں کی خوبیاں جمع ہوگئی تھیں۔پروروا اس قدر بہادر اور دلیر تھا کہ راجا اندر بھی اکثر مہموں کو سر کرنے میں اس سے مدد لیتے تھے۔

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ نر اور نارائن دو رشی سخت ریاضت کر رہے تھے۔ راجا اندر کو ان سے خطرہ پیدا ہوگیا اور انہوں نے ان کی ریاضت مںے رخنہ ڈالنے کے لیے عشق و محبت کے دیوتا “کام” کو بسنت اور کئی دوسری اپسراؤں کے ساتھ بھیجا۔ رشی بڑے دور اندیش تھے۔ وہ راجا اندر کا ارادہ بھانپ گئے اور اپسراؤں کے سامنے انہوں نے ایک پھول اٹھا کر اپنی ران پر رکھ لیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ پھول ایک ایسی خوبصورت پری کی شکل میں تبدیل ہوگیا کہ راجا اندر کی پریاں بھی اسے دیکھ کر شرما گئیں۔ اس حسین و جمیل پری کا نام اُروَشی رکھا گیا اور رشیوں نے احتراماً اسے راجا اندر کی خدمت میں بھیج دیا۔

 

اندر لوک میں اُروَشی بہت جلد سب کی توجہ کا مرکز بن گئی خود راجا اِندر بھی اس کی تعریف کرتے تھے لیکن بدقسمتی سے ایک دن گھومتے گھومتے وہ رشی متراورُن کے آشرم میں جا نکلی، اور ان کی عبادت میں خلل انداز ہوئی۔ رشی نے غضب ناک ہو کر بد دعا دی کہ اُروشی تمام آسمانی مسرتوں سے محروم ہو کر انسان کی صحبت میں رہے۔

 

اروشی نے تین شرطیں رکھیں۔ اول یہ کہ میں دنیا کی تمام لذتیں چکھنا چاہتی ہوں۔ میرے کھانے میں ہر روز کوئی نئی چیز ہونی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ میرے مینڈھے مجھے جان سے پیارے ہیں، یہ میرے ساتھ رہیں گے۔ تیسرے یہ کہ راجا کا برہنہ جسم میری نظر میں کبھی نہ آئے۔
اس بد دعا کے اثر سے اروشی زمین پر اتار دی گئی۔ گندھرووں) نیم دیوتا( نے اس کے لیے دو مینڈھے درختوں سے باندھ دیئے۔ یہاں اس کی ملاقات راجا پُروروا سے ہوئی، جو اسے دیکھتے ہی اس پر فریفتہ ہوگیا اور خواہش ظاہر کی کہ اُروَشی اس کے ساتھ رہے۔ اروشی نے تین شرطیں رکھیں۔ اول یہ کہ میں دنیا کی تمام لذتیں چکھنا چاہتی ہوں۔ میرے کھانے میں ہر روز کوئی نئی چیز ہونی چاہیے۔ دوسرے یہ کہ میرے مینڈھے مجھے جان سے پیارے ہیں، یہ میرے ساتھ رہیں گے۔ تیسرے یہ کہ راجا کا برہنہ جسم میری نظر میں کبھی نہ آئے۔ راجا نے اروشی کی تینوں شرطیں مان لیں اور دونوں ساتھ رہنے لگے۔ راجا اُروَشی کے عشق میں اس قدر محو ہوگیا کہ اسے وقت کا بھی احساس نہ رہا۔

 

جب کئی برس گزر گئے تو اندر لوک کی محفلوں میں اروشی کی کمی محسوس کی جانے لگی۔ خود راجا اندر اروشی کا رقص دیکھنے کے لیے بے تاب ہوگئے۔ چنانچہ مشورہ دیا گیا کہ مترا ورن نے اروشی کو انسان کی صحبت میں رہنے کی جو بد دعا دی تھی وہ تو پوری ہو ہی چکی، اب کسی نہ کسی طرح اروشی کو آسمان پر واپس لانا چاہیے۔ چنانچہ گندھروں کو حکم دیا گیا کہ وہ راتوں رات دونوں مینڈھوں کو محل سے بھگا لائیں۔

 

مینڈھے اُروَشی کے پلنگ سے بندھے رہتے تھے۔ جب گندھرو انہیں کھول کر لے جانے لگے تو اُروشی کی آنکھ کھل گئی۔ وہ ہڑبڑا کر اٹھی اور مدد کے لیے راجا کو آواز دی۔ راجا اندھیرے میں لباس کی پروا کیے بغیر گندھروں کے پیچھے بھاگا۔ عین اسی وقت زور سے بادل گرجا اور بجلی چمکنے لگی۔ بجلی کی چمک میں اُروَشی کی نظر جونہی راجا کے برہنہ جسم پر پڑی۔ قسم ٹوٹ گئی اور اُروشی نظروں سے غائب ہوگئی۔

 

اُروَشی کے اس طرح اچانک چلے جانے سے راجا کو بڑا صدمہ ہوا۔ وہ اُروشی کے عشق میں دیوانہ ہوچکا تھا۔ کئی برسوں تک جنگلوں میں مارا مارا پھرنے کے بعد ایک دن وہ کوروکشیتر میں سرسوتی جھیل کے کنارے بیٹھا تھا کہ اتفاق سے کچھ پریاں آسمان سے اتریں۔ ان میں اُروَشی اور اس کی سہیلی تلوتما بھی تھی۔ اروشی نے اگرچہ راجا کو پہچان لیا، لیکن اس سے بولنے کی روادار نہ ہوئی۔ آخر جب تلو تما نے اصرار کیا تو دونوں راجا کے پاس آئیں، اُروشی کو دیکھتے ہی گویا راجا کی جان میں جان آگئی۔ گڑگڑا کر کہنے لگا کہ اب مجھے چھوڑ کر کبھی نہ جانا۔

 

اُروشی کے جانے اور راجہ کے منت کرنے کا منظر
اُروشی کے جانے اور راجہ کے منت کرنے کا منظر
اُروشی نے جواب دیا۔ ‘اے راجا! تم اپنی خواہشات نفسانی سے بے بس ہو کر بھکاریوں کی طرح میرے سامنے گڑگڑاتے ہو۔ اسی لیے تم نے راج پاٹ اور سلطنت سے منہ موڑا اور مارے مارے پھرتے ہو۔ مرد کو چاہیے کہ عورت کو کبھی اپنی کمزوری نہ بنائے۔ تمہیں اپنے حواس پر قابو پانا چاہیے۔ عورت کو اپنے آرام اور مزے سے مطلب ہوتا ہے۔ جب تک میں تمہارے ساتھ تھی، اور مجھے تم سے سکھ پہنچتا تھا، اس وقت تک تمہاری محبت کا دم بھرتی تھی۔ اب میرا تمہارا ساتھ نہیں۔ مجھے بھول جاؤ۔’

 

اس نصیحت کا راجا پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ اسی طرح گڑگڑاتا رہا۔ اُروَشی نے اس کی ایک نہ سنی، لیکن جاتے جاتے اتنا وعدہ کرگئی کہ اگر وہ راج پاٹ کے کام کاج میں دلچسپی لے گا اور اپنی ذمہ داری نبھائے گا تو وہ سال میں ایک بار اس کے پاس ضرور آجایا کرے گی۔

 

اُروَشی سال میں ایک رات کے لیے آسمان سے اترتی اور راجا کے پاس رہتی۔ اس طرح دونوں کے چھ بیٹے پیدا ہوئے جن میں سب سے بڑے کا نام آیو (عمر ) رکھا گیا۔

 

راجا کی گہری اور سچی لگن سے خوش ہو کر دیوتاؤں نے اسے مقدس آگ کا ایک برتن دیا اور یگیہ کرنے کا طریقہ بھی بتایا تاکہ اپنی ریاضت سے وہ دیوتا کا مرتبہ حاصل کرسکے۔ ایک دن وہ اروشی کی یاد میں کھویا ہوا تھا کہ اس نے دیکھا کہ جہاں مقدس آگ رکھی تھی وہاں دو درخت اُگ آئے ہیں۔ ایک پیپل کا اور دوسرا شمی کا۔ راجا نے ان کی ٹہنیوں سے آگ جلا جلا کر کئی یگیہ اور ہون کیے۔ بالآخر اسے آسمان پر جانے کی اجازت مل گئی، جہاں وہ ہمیشہ اروشی کے ساتھ رہنے لگا۔

 

یہ دنیا عجیب و غریب جگہ ہے۔ یہاں انسان کو جو سکھ اور لذتیں حاصل ہیں، دیوتا(فرشتے) بھی ان کو ترستے ہیں۔ انسان کی صحبت اور زمینی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے اروشی بار بار زمین پر اترتی تھی، جبکہ زمین پر رہنے والے انسان یعنی پُروروا کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ وہ عروج حاصل کرکے دیوتا بن جائے اور آسمان پر بلند منصب پائے۔ پُرورواکو وکرم بھی کہتے تھے۔ سنسکرت میں کالی داس نے اس قصے کو ’وکرم اروشی‘ کے نام سے لکھا اور ہندی میں رام دھاری سنگھ دِ نکر نے اس کہانی کو ’اُروَشی‘ کے نام سے دوبارہ لکھا۔ پرانوں کی کتھاؤں میں یہ کہانی بے حد ہر دلعزیز رہی ہے۔

 

(ماخوذ از پرانوں کی کہانیاں، مرتبہ گوپی چند نارنگ)

 

لالٹین پر ہندوستانی کہانیوں کا یہ سلسلہ تصنیف حیدر (ادبی دنیا) کے تعاون سے پیش کیا جا رہا ہے۔