Categories
نان فکشن

وبا کے دنوں کا خواب – تالیف حیدر

میں جانتا ہوں کہ انسان اپنی زندگی میں بہت ساری باتوں کے متعلق سوچتا ہے اس خواہش کے ساتھ کہ کاش وہ سچ ہو جائیں، لیکن ان میں سے اکثر سچ نہیں ہوتیں، اس کے باجود انسان خواب دیکھتا ہے اور اس خیال کو اپنے ذہن سے کبھی نکال نہیں پاتا ہے کہ اس کی سوچی ہوئی باتیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ یقیناً میں بھی کچھ اسی کیفیت میں ہوں، اس لمحے جب میں سو چنے پہ مجبور ہوں کہ میرا یہ خواب جسے میں اس وبا کے دوران دیکھ رہا ہوں و ہ کیوں کر سچ ہو گا۔ہم اور آپ ان دنوں اپنے گھر وں میں ہیں، دنیا کے زیادہ تر لوگ خواہ وہ امیر ہو یا غریب ایک انجان سی بیماری سے ڈرے ہوئے ہیں۔ موت اور بیماری کا ڈر جو ہمیں ایک کونے میں سمیٹے دے رہا ہے۔ لوگوں سے، انسانوں سے اور اپنوں تک سے دور کر رہا ہے۔ اس لیے ہم اس وبا کو ایک وحشت بھر ی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اس کے ختم ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ زندگی جو ابھی چند مہینوں پہلے بالکل معمول پہ چل رہی تھی کاش پھر سے ویسی ہی ہو جائے۔ لیکن ابھی ہمارے ہاتھ میں کچھ نہیں ہے سوائے اس خیال کے کہ زندگی دوبارہ ڈھرے پہ لانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ میرا خواب اسی ڈھرے سے جڑا ہوا ہے۔

آپ کو شائد کچھ اچھا نہ لگے لیکن میں ان دنوں ایک مصیبت میں مبتلا ہوں کہ میں دوبارہ وہ اپنی ماضی والی زندگی چاہتا بھی ہوں یا نہیں۔ بے شک مجھے ابھی نہیں معلوم کہ یہ وبا کتنی پھیلے گی یا ہم اس کا کوئی کار گر علاج کب تک تلاش کر پائیں گے، میں خود جو اس وقت اپنے خواب کی باتیں کر رہا ہوں وبا کے شکنجے سے محفوظ رہوں گا یا نہیں، اس خواہش کے ساتھ سانس لے رہا ہوں کہ مجھے اپنی ما قبل وبا والی زندگی میں نہیں لوٹنا۔ بے شک سب معمول پہ آ بھی جائے تو مجھے اپنی زندگی کو ایک نئے طرز سے دوبارہ شروع کرنا ہے، میں اس خیال کے ساتھ خود کو نہ جانے کیوں بہت مسرور پاتا ہوں کہ شائد یہ وبا جو ہماری جانوں سے کھیل رہی ہے، جس کے باعث ہزاروں زندگیوں کے چراغ گل ہو گئے ہیں اور لگاتار ہو رہے ہیں، ہمیں کچھ سکھا رہی ہے، یہ کسی میڈیا کے اینکر کا چیختا ہوا جملہ نہیں ہے، بلکہ ایک احساس ہے جسے ہمیں اپنے اندرون میں محسوس کرنا چاہئے۔

کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ وبا پوری دنیا میں کئی برسوں بعد اس خیال کو پیدا کرنے میں کامیاب ہوئی ہے کہ ہم ایک دوسرے سے کس حد تک جڑے ہوئے ہیں۔ انسانیت ایک دوسرے سے کتنی وابستہ ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ اس بیماری کا کوئی پہلو مسرت بخش اور اچھا نہیں گردانہ جا سکتا، لیکن اسے ایک نظریے کےطور پہ دیکھنے کی کوشش کی جائے تو ہمیں اندازہ ہو گا کہ ہم نے آخری بار کب اس بات پہ اپنے اندر کوئی تحرک محسوس کیا تھا جب ہم سے ہزاروں کوس دور بیٹھا ہوا کوئی شخص کسی بیماری سے مرا تھا۔ یہ موتیں جو ہمیں آئے دن میڈیا سے سننے کو ملتی ہیں یا وہ لوگ جن کے بارے میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس انجانی وبا کا شکار ہو گئے ہیں تو ہم اندر سے دہل جاتے ہیں، وہ بھی صرف یہ سوچ کر نہیں کہ یہ کسی طرح اس شخص سے ہم تک نہ پہنچ جائے بلکہ یہ سوچ کر کہ یہ اس شخص کو اور اس کے اطراف کے لوگوں کو کتنا پریشانی میں مبتلا کرے گی۔ بہت سے لوگ اس بات پہ معترض ہو سکتے ہیں کہ یہ بیماری کسی کی کوتاہی اور لا پروائی سے پھیلی ہے، بہت سے اس بات سے بھی دکھی ہو سکتے ہیں کہ یہ حکومتوں کی چشم پوشی کا صلا ہے، لیکن جب ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ وبا ہر حال میں دھیرے دھیرے اپنے پاوں پھیلا رہی ہے تو ہمیں یہ خیال نہیں آتا کہ یہ فلاں کو نقصان پہنچائے اور فلاں کو نہیں۔ ہم اور آپ نفرت کی جس عالمی منڈی میں بیٹھیے سیاست کی کٹھ پتلی بنے ہوئے ہیں اور جس کے باعث تقسیم اور انتشار ہمارے ذہنوں میں گھر کرتا چلا جا رہا ہے اس وبا نے اسے ختم کرنے کا سامان مہیہ کیا ہے۔ یقیناً یہ انسانوں کا لہو پی رہی ہے، لیکن ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ پوری دنیا اس وقت ایک ایسے انتشار کے عالم میں مبتلا ہے کہ خود ایک دوسرے کی جان کی دشمن بنی ہوئی ہے۔ امریکہ اور ایران میں موتوں کی خبر جب ایک ساتھ آتی ہے یا پاکستان اور ہندوستان میں اس بیماری کے متاثریں کا گراف ہمیں نظر آتا ہے تو ہم یکساں طور پہ مغموم ہوتے ہیں۔ حالاں کہ اس امر کی تحقیق جاری ہے کہ آخر یہ وبا چین کی وجہ سے پھیلی یا کسی اور ملک کی وجہ سے، اس کو پیدا کرنے والا کوئی تکنیکی ہتھیار بنا رہا تھا یا سپر پاور بننے کی کوشش کر رہا تھا، لیکن ان سب باتوں کے درمیان ہمیں اس بات پہ بھی غور کرنا چاہیے کہ یہ وبا جتنے لوگوں کی جانیں لے رہی ہے اس سے ہم ایک نئی زندگی کی جانب اپنا سفر شروع کریں، جو لوگ اس وبا سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں ہمیں ان کی موت کو ضائع نہیں ہونے دینا چاہئے، ان کی موت خواہ کسی تکنیکی ہتھیار کی سیاسی سازش کے تحت ہوئی ہو یا ایک انجانی وبا کے اصل اسباب کی بنا پہ ہمیں انہیں ان شہدا میں گنا چاہیے جنہوں نے زندگی کے دھارے کو تبدیل کرنے کا کام انجام دیا ہو۔ میرا خواب جس کے تحت میں اپنی ماضی کی زندگی میں نہیں لوٹنا چاہتا اسی خیال سے جڑا ہوا ہے کہ ہم اس نفرت اور حرص بھرے ماحول میں دوبارہ کیوں لوٹیں جہاں سے زندگی کے اس موڑ پہ پہنچ کر ہمیں یعنی تمام انسانیت کو ایک انجانے خوف سے گزرنا پڑ رہا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں میں بند ہو کر اپنے مستقبل پہ غور کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے، خواہ وہ کوئی حکومتی ادارے کا بڑا افسر ہو یا کسی ذاتی کمپنی کا سربراہ، کسی نجی دکان کا مالک ہو یا چار پیسوں پہ گزارا کرنے والا کوئی مزدور۔ ہم سب کو یہ سوچنے کا موقع نصیب ہوا ہے کہ زندگی کے تبدیل کرنے کا راستہ کیا ہوتا ہے۔ ہم سب ایک سی مصیبت میں ہیں اور یہ ایک سی مصیبت ہمیں ایک کرنے میں کوشاں ہے، تو کیا ہم اس امر کی جانب قدم نہیں بھڑانا چاہیں گے جس سے دوریاں اور نفرتیں جو ہمارے اطراف میں خود غرضی کے باعث گھلی ہوئی ہیں انہیں سینیٹائز کر دیا جائے، قومی اور ملی، مفاد، ملکی اور غیر ملکی تعصب،مذہبی اور غیر مذہبی حرکات و سکنات سے آگے نکل کر ہم ایک نئی دنیا کو تشکیل دینے کی جانب قدم بڑھائیں۔

میں اپنے ماضی کی طرف نہیں لوٹنا چاہتا، اس لیے کیوں کہ میں جس ماحول میں سانس لیتا رہا ہوں وہاں مجھے سیاسی الجھنوں کا شکار ہونا پڑا ہے، مذہبی جھگڑوں کا قہر جھیلنا پڑا ہے، بے روز گاری کی مار، حقارت کی نظریں، اونچ نیچ کی بپتا، رنگ، نسل کی تقسیم اور اسی نوع کے بے شمار عذاب برداشت کرنے پڑے ہیں۔ ان دنوں جو میں اپنے کمرے میں قید ہوں تو اس بات پہ میرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ آتی ہے کہ فی الحال ہی سہی کوئی مذہبی دنگا نہیں ہو رہا ہے، جز وقتی ہی سہی لیکن پڑوسی ممالک سے نفرت کی آگ نہیں بھڑک رہی ہے۔ کچھ دیر کے لیے ہی سہی ہم لوگوں کے بھوکے پیٹوں کے متعلق سوچ رہے ہیں، مزدوروں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھانے کے بجائے ان کی مدد کرنے میں کوشاں ہیں۔ میں اس ماضی میں نہ لوٹنے کا خواب اس لیے دیکھ رہا ہوں کیوں کہ میں نے وہاں لوگوں کو بھوک سے بلبلاتے دیکھا ہے اور اس تجربے سے گزرا ہوں کہ ان سے ایک روٹی کو پوچھنے والا کوئی نہ تھا، میں نے اس زندگی میں لوگوں کے چہروں پہ اپنے جیسے دکھنے والے انسانوں کے لیے نفرت دیکھی ہے، اتنی زیادہ کہ جس میں برداشت کا شائبہ تک موجود نہ تھا، میں نے جھوٹے نعرے اور کھوکھلے وعدے دیکھے ہیں، عورتوں پہ ہونے والے مظالم اور بچوں کی لاشوں کے کاروبار دیکھے ہیں۔ میں آج جب اپنی بالکنی پہ کھڑا ہوتا ہوں یا اپنی چھت پہ تنہا ٹہلتا ہوں تو اس بات پہ غور کرتا ہوں کہ اگر یہ وبا چند روز بعد چلی بھی گئی یا ہم نے اس سے لڑنے کا کوئی ہتھیار بنا بھی لیا تو کیا ہوگا۔ ہم دوبارہ اپنی وحشیانہ اور لالچی حرکتوں کے ساتھ سڑکوں پہ اتر آئیں گے۔ حکومتیں لالچ اور مذہب کا کاروبار شروع کر دے گیں۔ لوگوں کے چیخ پکار سے ہوا آلودہ ہونے لگے گی۔ انسانی حقوق کی پامالی کا مظاہرہ ہونے لگے گا اور اسے عوام پہ ظاہر کرنے کے لیے لوگ راستوں پہ بھیڑ لگا کر جمع ہو جائیں گے۔ حفاظتی دستے اپنی طاقت کا غلط استعمال کریں گے۔ جوان لڑکیوں کی عزت پامال ہوگی اور کمزور وں کو ان کی تہذیب اور ماننیتاوں کے لیے مورد الزام ٹھہرا کر سر عام قتل کیا جائے گا۔ انسان سے زیادہ جانوروں کو اہمیت دی جائے گی۔ پڑوسی پڑوسی پہ چیخے گا، شناخت کے مسائل پھر سر اٹھائیں گے اور انسان بندوق کی نال کو سیدھا کر کے اپنی ناجائز خواہشیں پوری کرتا پھرے گا۔ پھر غریبوں کے بارے میں کون سوچے گا۔ مزدوروں کی دو وقت کی روٹی کی ذمہ داری حکومت کیوں لے گی۔ امیر اپنے گھروں میں کام کرنے والوں کی تنخواہوں کے عوض میں انہیں چھٹیاں کیوں دیں گے۔ یقیناً اس وقت زندگی کا پہیا بالکل دھیما پڑ گیا ہے، لوگ اپنے کاموں پہ نہیں جا پا رہے ہیں، طرح طرح کی مصیبتوں کے شکار ہو رہے ہیں، معاشی نظام متاثر ہوتا چلا جا رہا ہے اور یہ سب کچھ بہت دیر تک نہیں چل سکتا۔ یہ وبا خواہ کتنے ہی ہزاروں لوگوں کی جانیں کیوں نہ لے لے، زندگی کو دوبارہ اپنے ٹریک پہ آنا ہے اور وہ یقیناً آ کر رہے گی، لیکن اگر ہم ذرا غور کریں اور اس امر کی جانب ایک قدم پڑھائیں کہ وہ ٹریک جس پہ دوبارہ زندگی کا پہیا دوڑے گا اس کا سفر ظلم و استبداد، حرص و طمع کی طرف نہ ہو کر انسانیت کی طرف ہو تو کتنا بہتر ہے۔ ایسی انسانیت جو بالکل اس وبا کی طرح انوکھی ہو، جس سے ہم اب تک بالکل انجان ہیں اور جس کا کوئی لائحہ عمل بھی ابھی ہمارے پاس نہیں ہے، لیکن اگر ہم عزم کریں اور دوبارہ اس گھناونی دنیا کی طرف نہ لوٹنے کی سعی کو اپنا لکش بنا لیں تو مجھے یقین ہے کہ جس طرح بارہ مہینے میں ہم اس وبا کی ویکسین بنا سکتے ہیں اسی طرح کوئی نہ کوئی نئی انسانیت کا لائحہ عمل بھی ضرورتیار کر ہی لیں گے۔

Categories
نان فکشن

وبا

حملے کی خبر کے فوراً بعد سرکار نے اعلان کیا کہ جنازوں کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کو جواب دیا جا سکے، ہم نے اپنے گھروں سے رسیاں، صلیبیں اور خنجر چندے میں دیے۔ ہم نے مطالبہ کیا کہ دشمن لاشوں کی ضرورت ہے کیوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کی لاشیں اب بہت زیادہ دلچسپ نہیں لگتیں اس لیے ضروری ہے کہ دشمن کے لاشے مہیا کی جائیں تاکہ منہ کا ذائقہ بدلا جا سکے۔ اس مطالبہ کی وبا بہت تیزی سے پھیلی، آن کی آن میں چوراہوں کو پھانسی گھاٹوں میں بدلا گیا اور دشمن کو پھانسی دینے کے لیے قطاروں میں قیدخانوں سے گھسیٹ کر لایا گیا۔ بارود کے زور پر دھماکے سے اڑائے گئے کھنڈروں کو عبادت گاہوں میں تبدیل کیا گیا اور خون بہانے کی قدیم رسم کی تیاری کی گئی۔ نعرے بلند کیے گئے اور کہا گیا کہ قاتلوں کوڈھونڈا جائے، چوں کہ ان کے چہروں سے انہیں پہچاننا بہت آسان تھا وہ شکل اور حلیہ سے سب میں ممتاز دکھائی دیتے تھے اس لیے باآسانی انہیں پہچان لیا گیا ۔ انہیں پہچانا گیا، ہانکا گیا اور چوراہوں پر لٹکایا گیا۔ ان کے بہائے ہوئے خون میں ہمارا بہایا ہوا خون شامل ہوا اور ہم نے فتح کا جشن منایا۔
ہم نے مطالبہ کیا کہ دشمن لاشوں کی ضرورت ہے کیوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کی لاشیں اب بہت زیادہ دلچسپ نہیں لگتیں اس لیے ضروری ہے کہ دشمن کے لاشے مہیا کی جائیں تاکہ منہ کا ذائقہ بدلا جا سکے۔
ہمیں بتایا گیا کہ دشمن جب حملہ آور ہوتا تھا تو وہ خدا کی بڑائی کے نعرے بلند کرتے حملہ آور ہوتا تھا، ہم نے خبروں میں پڑھا کہ وہ ہمارے خدا کو نہیں مانتے مکروہ ہیں اور غلیظ ہیں، یہ بھی بتایا گیا کہ وہ ہمیں مارنے کے بعد ہمارے لاشے گھسیٹتے ہیں اور نعرے بلند کرتے ہیں۔ ہم سنتے آئے تھے کہ ان کے منہ کو ہمارے خون کا چسکا لگ چکا ہے اس لیے وہ اب اسی انجام کے قابل ہیں کہ ان کا خون بہایا جائے۔ ہم نے بارہا دشمن کو خون بہاتے، لاشیں گراتے دیکھا تھا اور ہمیں خوف تھا کہ ایک نہ ایک روز وہ ہم میں سے ہر ایک کو دھمکائیں گے،مار ڈالیں گے، خون چوسیں گے اور ہمارے لاشے گلے میں لٹکا کر ایک دوسرے کے سامنے فخر کیا کریں گے۔
ہمیں ڈر تھا کیوں کہ ہم انہیں جانتے نہیں تھے اور ہم میں سے اکثر ان کا نام لینے سے ڈرتے تھے۔ ہم کونوں کھدروں میں چھپ کر بھی محفوظ نہیں تھے۔ ہماری چیخیں معدوم ہورہی تھیں اور ہمیں ہر بندوق سے ڈر لگنے لگا تھا اگرچہ وہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتی تب بھی ۔ مگر دشمن دندنا رہا تھا، وہ اپنے چہرے ڈھانپ کر جب جہاں چاہتا ہمیں بندوق کی نوک پر روک لیتا تھا، ہمارے ذہن ٹٹولتا، ہماری جیبیں سونگھتا اور ہماری جلد الٹا کر دیکھتا تھا اور اگر کہیں روشنی کی ذرا سی بھی کرن دکھائی دیتی، کوئی جگنو زندہ یا مردہ جلتا بجھتا نظر آجا تا یا خوشبو کا کوئی جھونکا ان کے نتھنوں کو چھو جاتا توان کی آوازیں غضب ناک ہو جاتیں، ان کی باچھوں سے رال ٹپکنے لگتی، وہ غرانے لگتے، وہ ہمیں دھوئیں میں لپیٹ دیتے اورہمیں آگ میں جھونک دیتے اور ہماری موت کو مشتہر کرتے۔
ہم سرگوشیاں کیا کرتے تھے کہ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ کوئی کوئلے نگل کرآگ کیسے اگل سکتا ہے؟ کوئی پیڑ کاٹ کر پنجرے کیسے بنا سکتا ہے؟کوئی دریا میں خون ملا کر دلدلیں کیسے پھیلا سکتا ہے؟ کوئی برتنوں کو تلواروں میں کیسے ڈھال سکتا ہے؟ کوئی خدا کے سوا موت کیسے بانٹ سکتا ہے؟ ہم پوچھا کرتے تھے کہ کوئی خوب نوچ کر وہ آسیب کیسے تیار کرسکتا ہے جو خود کو دھماکے سے اڑا سکتے ہیں؟ ہم نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ کوئی ہمارے پر کاٹے اور ہماری گردنوں پر سوار ہو کر ہماری بستیوں کی رونق قبض کر لے؟کیا کوئی منطق، عقل اور شعور کے گلے میں پٹے ڈال کر محض اندھے عقیدے کو سجدے کر سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کتابوں میں لکھا ہوا ہو کہ پرندوں کے اڑنے اور بچوں کے ہنسنے پر پابندی لگا دو؟ کیا کیا آسمانوں سے ایسا حکم بھی آ سکتا ہے کہ حسن کو گہنا دو اور گیتوں کا گلا گھونٹ دو؟ کیا ان کے کلمے میں جو خدا ہے وہ زندگی کی بجائے موت کا خدا ہے؟ ہمیں یقین نہیں تھا کہ قتل کرنے والوں کے چہرے مقتولوں جیسے ہی ہوتے ہیں اور ان کے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ ہم نہیں مانتے تھے کہ وہ ہم جیسے ہیں۔
ہم سرگوشیاں کیا کرتے تھے کہ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ کوئی کوئلے نگل کرآگ کیسے اگل سکتا ہے؟ کوئی پیڑ کاٹ کر پنجرے کیسے بنا سکتا ہے؟کوئی دریا میں خون ملا کر دلدلیں کیسے پھیلا سکتا ہے؟
مگر اس روز سب بدل گیا۔حملے کی خبر آئی اور ہم سب اپنے اپنے کونے کھدروں سے نکل آئے، ہم نے اپنے سہمے ہوئے چہرے الٹ دیے، اپنی خشک آنکھوں کوآگ لگا دی ہماری آوازوں کے گیدڑ اور کتے چنگھاڑنے اور بھونکنے لگے تو ہم نے ان کی رسیاں ڈھیلی کر دیں، انہوں نے ہر بحث ہر مکالمے کو کاٹا اور کاٹ کر باولا کر دیا۔ہم نے آپنے ہاتھوں کی دھاریں آبدار کیں اور ان کی نوکیں زہر میں بھجا کر ہر دیوار اور ہر چہرے کو نوچ ڈالا۔ ہم نے اپنے تلووں میں نعلیں گڑیں اور شہروں میں گشت کی۔ ہم نے دشمن کو ہر ناکے ہر چوکی پر روکا، ان کے ذہن ٹٹولے، ان کی جیبیں سونگھیں، ان کی جلد کو الٹا کر دیکھااور اگر کہیں اندھیرے کی ہلکی سی پرچھائی بھی دکھائی دی، کوئی مکڑی زندہ یا مردہ جال اگلتی نظر آئی یا بدبو کا کوئی لپکا ہمارے نتھنوں کو چھو بھی گیا تو ہماری آوازیں غضب ناک ہو گئیں، ہماری باچھوں سے رال ٹپکنے لگی، ہم غرائے اور انہیں دھوئیں میں لپیٹ کر آگ میں جھونک دیا اور ان کی موت کو مشتہر کیا۔
حملے کی خبر آئی اور وبا پھیل گئی، وبا پھیلی تو ہم اسی صف میں کھڑے تھے جس کے خلاف ہم لڑنے کو نکلے تھے۔ہماری شکلیں، ہمارے لہجے اور ہمارے جسم ان جیسے کرخت اور کھردرے ہو چکے تھے اور ہم نے ان سے مختلف ہونے، سوچنے اور دہشت کو شکست دینے کا موقع گنوادیا تھا۔
حملے کی خبر آئی اور وبا پھیل گئی۔ وبا پھیلی اور ہمارے منہ کو خون کا چسکا لگ گیا، ہم نے باربار دشمن کا خون بہایااس سے زیادہ جتنا کہ ضروری تھا، ہم نے لاشے دیکھے اس سے زیادہ جتنے کے دفنائے جا سکتے تھے، ہم نے بارود سے عمارتیں کھنڈر کیں اس سے زیادہ کہ جتنی درکار تھیں۔ ہم نے دیکھا کہ ہم نے منطق، عقل اور شعور کے پیروں میں بیڑیاں ڈالیں اور سوالوں کو ہتھکڑیاں لگا دیں۔ہم نے دیکھا کہ ہمارے اور ان کے چہرے ایک جیسے ہیں اور خون کا رنگ سرخ ہے۔ پھانسی کے پھندے اتنے ہی تکلیف دہ ہیں جتنے بندوقوں کے دہانے، ہم نے جان لیا کہ ہماری کتابوں میں بھی پھانسیاں دینے کا جواز ہے۔ آسمانوں سے اترنے والی خاموشی کے جواب میں ہم نے جو نعرے بلند کیے ان کی گونج سے بھی کئی روحیں اندھی ہوکر اندھیرے گڑھوں میں جا گری ہیں۔ ہم جیتے اور اور جت کر ان جیسے ہو گئے، ہم نے ان کو مار کر وہی کیا جو وہ ہم سے کرانا چاہتے تھے، ہم ان کو شکست دے کر ان کے عقیدے سے ہار گئے،ان کے لہجے میں انہیں جواب دیتے ہم اپنی زبان کے سب لفظ بھلا بیٹھے۔حملہ کی خبر آئی اور وبا پھیل گئی، وبا پھیلی تو ہم اسی صف میں کھڑے تھے جس کے خلاف ہم لڑنے کو نکلے تھے۔ہماری شکلیں، ہمارے لہجے اور ہمارے جسم ان جیسے کرخت اور کھردرے ہو چکے تھے اور ہم نے ان سے مختلف ہونے، سوچنے اور دہشت کو شکست دینے کا موقع گنوادیا تھا۔