Categories
نان فکشن

سپیس کے ذرات (تحریر: کارلو رویلی، ترجمہ: فصی ملک، زاہد امروز)

پانچواں سبق: سپیس کے ذرات
کارلو رویلی
ترجمہ: زاہد امروز، فصی ملک

اسی سلسلے کے مزید اسباق پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

ابہام، مایوسی اورکچھ سوالوں کے نامکمّل جوابات کے باوجود وہ طبیعیات جو میں نے ابھی تک یہاں بیان کی ہے،ماضی میں کائنات کے بارے پیش کی گئیں تمام وضاحتوں سے بہتر ہے۔ طبیعیات باقی نظریات کی نسبت کائنات کی بہتر تشریح کرتی ہے. لہٰذا ہمیں کافی حد تک مطمئن ہونا چاہیے۔ لیکن ہم نہیں ہیں۔

طبیعی دنیا کے متعلق ہماری تفہیم کی بنیادوں میں ایک متناقضہ (Paradox) موجود ہے۔ بیسویں صدی نے ہمیں دو علمی گوہر”عمومی اضافیت” (General Relativity)اور”کوانٹم میکانیات” (Quantum Mechanics) فراہم کیے ہیں جن کے متعلق میں نے پچھلے اسباق میں بات کی. آئن شٹائن کی “عمومی اضافیت”کی بنیاد پر کونیات(Cosmology)، فلکیات (Astrophysics)، تجاذبی امواج (Gravitational waves)، بلیک ہولز (Black holes)اور بہت سے دوسرے علوم تشکیل پائے جب کہ “کوانٹم میکانیات” نے جوہری طبیعیات(Atomic Physics)، نیوکلیائی طبیعیات(Nuclear Physics)، مادے کے اساسی ذرات (Elementary Particles) کی طبیعیات، ٹھوس اجسام کی طبیعیات(Condensed Matter Physics) اور بہت ساری دوسری شاخوں کو نظریاتی بنیاد فراہم کی۔ ان علوم نے ہمارے طرزِ زندگی کو بدل دیا اور یہی دونوں نظریات موجودہ ٹیکنالوجی کی بنیاد ہیں۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ دونوں نظریات کم از کم اپنی موجودہ شکل میں مکمل طور پر درست نہیں ہو سکتے۔ کیوں کہ یہ دونوں نظریات اپنی اساس میں ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔

اگرایک طالب علم صبح کوعمومی اضافیت اور سہ پہر میں کوانٹم میکانیات کے لیکچر سن رہا ہو اور دونوں لیکچر سننے کے بعد یہ کہے کہ اس کے پروفیسر بے وقوف ہیں یا انہوں نے گزشتہ ایک صدی سے ایک دوسرے سے تبادلہ خیال نہیں کیا تواس کو یہ کہنے پر معاف کیا جا سکتا ہے۔ صبح والےعمومی اضافیت کے لیکچرمیں دنیا ایک منحنی خلا ہے جہاں ہر شئے متسلسل ہے جب کہ سہ پہر کے لیکچر کے مطابق دنیا ایک ہموارخلا ہے جہاں توانائی کے قدریے یا کوانٹا جستیں بھرتے ہیں۔

متناقضہ یہ ہے کہ دونوں نظریات کی فلسفیانہ توجیہات ایک دوسرے سے متصادم ہونے کے باوجود یہ درست کام کرتے ہیں۔ قدرت ہمارے ساتھ اس بوڑھے پادری سا برتاؤ کررہی ہے جس کے پاس دو لوگ ایک مسئلے کا حل نکلوانے جاتے ہیں۔ وہ پہلے کی بات سنتا ہے اور کہتا ہے آپ صحیح کہتے ہیں۔ دوسرا شخص اصرار کرتا ہے کہ اس کو بھی سنا جائے۔ پادری اس کو سنتا ہےاورکہتا ہے آپ بھی صحیح کہتے ہیں۔ ساتھ والے کمرے میں موجود پادری کی بیوی جب یہ بات سنتی ہے تو پکارتی ہے “لیکن یہ دونوں بیک وقت ٹھیک نہیں ہو سکتے”۔ پادری اس کی بات سنتا ہے اور فیصلہ سنانے سے پہلے سر ہلا کر کہتا ہے “آپ بھی صحیح کہتی ہیں”۔

پانچ برِاعظموں پرموجود طبیعیات دانوں کا ایک گروہ بڑی محنت سے اس مسئلے کو حل کرنے میں مصروف ہے۔ طبیعیات کی یہ شاخ کوانٹمی تجاذب (Quantum Gravity) کہلاتی ہے۔ اس کا مقصد ایک ایسے نظریے کی تلاش ہے جو ایسی مساواتوں کے سیٹ (Set) پرمشتمل ہو کہ دنیا کی ایک جامع تصویر پیش کرے۔ جس کی وجہ سے طبیعیات کی موجودہ شقاق دماغی (Schizophrenia) کو ختم کیا جا سکے۔

طبیعیات میں ایسا پہلی دفعہ نہیں ہوا جہاں دو انتہائی کامیاب لیکن متصادم نظریات موجود ہوں۔ ماضی میں امتزاج کی کوشش نے دنیا کے متعلق ہمارے ادراک کو ایک نئی فہم سے نوازہ ہے۔ نیوٹن نے گلیلیو (Galileo)کی بتائی ہوئی مکافی اشکال (Parabolas) اور کیپلر(Kepler) کی پیش کردہ بیضوی اشکال (Ellipses)کو یکجا کرکے کائنات میں موجود ہمہ گیر تجاذب یا قوّتِ کشش (Gravity) کو دریافت کیا۔ میکسویل (Maxwell) نے برقی اور مقناطیسی قوّتوں کو یکجا کر کے برقناطیسیت کی مساواتیں دریافت کیں۔ آئن شٹائن نے میکانیات اور برقناطیسیت میں ایک ظاہری تضاد حل کرنے کی کوشش میں نظریہ اضافیت دریافت کیا۔ کسی طبیعیات دان کے لئے دو کامیاب نظریات میں تضاد کی شناخت کر لینا انتہائی خوش کن لمحہ ہوتا ہے۔ ایک سائنس دان کے لیے یہ بہت شاندار موقع ہوتا ہے۔ اب طبیعیات دانوں کو یہ مسئلہ درپیش ہے کہ کیا اس طبعی دنیا کے متعلق کوئی ایسا نظریاتی ڈھانچہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جو ان دونوں نظریات (کوانٹم میکانیات اورعمومی اضافیت) کے ساتھ منطبق ہو؟

یہاں علم اورانسانی فہم کی سرحدوں سے آگے سائنس اور بھی خوبصورت ہو جاتی ہے۔ یہ وجدان اور سعی کے نوزائیدہ تصورات کی بھٹی میں دمکتی ہے۔ عقلی جرّات اور جوش کے ان نامعلوم راستوں پر جو اپنائے اور پھر چھوڑ دیے گئے۔ ان تصورات کو عدم سے وجود میں لانے کی کوششں میں جو ابھی تک عالمِ خیال میں بھی پوری طرح نمو پزیر نہیں ہوئے۔

بیس سال پہلےان علمی تصورات کے گرد کہر کافی گہرا تھا۔ اب راستے قدرے نمایاں ہو گئے ہیں جس سے نئے ولولے اور رجائیت نے جنم لیا ہے۔ چونکہ یہ راستے ایک سے زیادہ ہیں لہٰذا یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسئلے کو حل کر لیا گیا ہے۔ زیادہ راستے تنازعات کو جنم دیتے ہیں۔ لیکن یہ علمی بحث صحت مند ہے۔ جب تک دھند مکمل طور پر چھٹ نہیں جاتی، تنقید اورمتبادل نظریات کا ہونا اچھا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی ٹھوس کوششوں میں ایک نظریہ لوپ کوانٹم گریوٹی (Loop Quantum Gravity) کہلاتا ہے جس کو مختلف ملکوں میں موجود طبیعیات کے بہت سے محققین نے اپنایا ہے۔

لوپ کوانٹم گریوٹی عمومی اضافیت اور کوانٹم میکانیات کو یکجا کرنے کی ایک سعی ہے۔ یہ ایک محتاط کوشش ہے کیوں کہ یہ ان مفروضوں کو استعمال کرتی ہے جو پہلے سے دونوں نظریات میں موجود ہیں. ان کو ہم آہنگی پیدا کرنے کی خاطر مناسب طریقے سے دوبارہ لکھا گیا ہے۔ اس سے بنیادی (Radical) نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ ہمیں حقیقت کو دیکھنے کی مزید عمیق ترمیم فراہم کرتے ہیں۔

اصل میں لوپ کوانٹم گریوٹی کا تصورنہایت سادہ ہے۔ عمومی اضافیت ہمیں بتاتی ہے کہ سپیس (Space) کوئی جامد ڈبہ نما چیزنہیں بلکہ ایک متحرک شئے ہے۔ ایک بہت بڑے گھونگھے کے خول جیسی شئے جس میں ہم موجود ہیں۔ ایک ایسا خول جس کو دبایا اور مروڑا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب کوانٹم میکانیات نے ہمیں بتایا ہے کہ اس طرح کا ہرمیدان (Field) کوانٹا (Quanta) کا بنا ہوتا ہے اور اس کی ساخت شفاف ذروں کی سی ہوتی ہے۔اس سے فوری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ طبعی سپیس بھی کوانٹا یعنی نہایت چھوٹے ذروں سے مل کر بنی ہے۔

لوپ کوانٹم گریوٹی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہے کہ سپیس یا مکاں درحقیقت متسلسل نہیں ہے۔ یہ لامتناہی طور پرناقابلِ تقسیم نہیں ہے بلکہ جس طرح روشنی چھوٹے ذرّوں (فوٹون) سے مل کر بنی ہے، اسی طرح سپیس بھی ذرّوں یا ایٹموں سے بنی ہے۔ سپیس کے یہ ذرّے نہایت ہی چھوٹے ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹےایٹم کے مرکزے سے بھی اربوں ارب گنا چھوٹے۔ یہ نظریہ سپیس کے ان ایٹموں کو ریاضیاتی شکل میں بیان کرتا ہے اور وہ مساواتیں فراہم کرتا ہے جو ان کے ارتقاء کے متعلق معلومات دیتی ہیں۔ سپیس کے یہ ذرّے لوپ کوانٹم گریوٹی کی ریاضیاتی زبان میں چھلّے یا کڑیاں (Loops or Rings) کہلاتے ہیں کیوں کہ یہ آپس میں منسلک ہوکر تعلقات کا ایک ایسا جال (Network) بُنتے ہیں جو سپیس کے تار و پود یا ساخت وضح کرتا ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بہت بڑی زنجیر کی کڑیاں آپس میں مربوط طریقے سے بُنی ہوتی ہیں۔

سپیس کے یہ کوانٹا کہاں ہیں؟ کہیں بھی نہیں۔ یہ سپیس میں نہیں ہیں کیوں کہ یہ بذات خود سپیس ہیں۔ سپیس تجاذب کے ذرّات (Quanta of Gravity) کے آپس میں جُڑنے سے بنتی ہے۔ ایک مرتبہ پھر دنیا حقیقی اجسام پر مشتمل ہونے کی بجائے ان اجسام کے محض تعاملات کا مجموعہ لگتی ہے۔

اس نظریے کا ایک دوسرا نتیجہ بھی ہے جو زیادہ بنیادی ہے۔ جس طرح (کوانٹم میکانیات) میں ایک متسلسل سپیس جس میں اجسام موجود ہیں، کا تصور ختم ہو جاتا ہے، ایسے ہی ایک بنیادی اور ابدی وقت جو کائنات میں باقی اشیاء سے بے خبر مسلسل بہتا رہتا ہے، کا تصور بھی ختم ہو جاتا ہے۔ وہ مساواتیں جو سپیس اور مادہ کے ذرّوں کی ماہیت بیان کرتی ہیں ان میں متغّیر وقت (Variable Time) کا تصور موجود نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر چیز ساکت اور غیر متغیّر ہے۔ اس کے برعکس اس کا مطلب یہ ہے کہ تغّیر ہر جگہ موجود ہے لیکن فطرت کے بنیادی مظاہراوراعمال کو وقت یا لمحات کے مشترکہ تواتر میں ترتیب نہیں دیا جاسکتا۔ سپیس کے ذرّوں کے نہایت چھوٹے(کوانٹمی) پیمانوں کی سطح پر فطرت کا رقص آرکیسٹرا کی طرح کسی موسیقار کی چھڑی کے یکسر ردھم کی مانند مخصوص اصول کے طابع نہیں ہوتا بلکہ ہرعمل اپنے ہی ردھم میں ایک دوسرے سے آزادانہ رقص کرتا ہے۔ دنیا میں وقت کا گزرنا داخلی عمل ہے۔ وقت کوئی معروضی و خارجی حقیقت نہیں بلکہ یہ دنیا میں ان کوانٹمی حوادث کے باہمی تعاملات کی بدولت وقوع پذیر ہوتا ہے جن سے دنیا بنی ہے اور وہ بذات خود وقت کا منبع ہیں۔

دنیا کا جو تصور لوپ کوانٹم گریوٹی کا نظریہ پیش کرتا ہے، وہ اُس دینا کو ہماری ظاہری دنیا سے مزید بے گانہ کر دیتی ہے جس میں ہم رہتے ہیں۔ اُس دنیا میں ایسے مکاں کا وجود نہیں ہے جس میں ہماری دنیا موجود ہے اور اُس میں ایسی کوئی زمین موجود نہیں ہے جس میں حادثات وقوع پذیر ہوتے ہوں۔ اُس میں صرف وہ بنیادی عوامل ہیں جس میں سپیس اور مادہ کے کوانٹا مسلسل آپس میں تعامل کرتے ہیں۔ اس زماں و مکاں کا فریب جو ہمارے اردگرد موجود ہے انہی بنیادی عوامل کا مبہم سا مظہر ہے۔ بالکل ایسے ہی جیسے ایک بظاہر شفاف اور شانت پہاڑی ندی حقیقت میں پانی کے بہت سارے چھوٹے چھوٹے سالموں (Molecules) کی مسلسل حرکت کا مجموعہ ہوتی ہے۔

اگرایک انتہائی طاقتورمحدب عدسے کی مدد سے دیکھا جائے تو سپیس کی ذراتی ساخت ہمیں نیچے دی گئی تصویر کی طرح دکھائی دے گی۔

کیا اس نظریے کو تجرباتی طور پر ثابت کرنا ممکن ہے؟ ہم سوچ رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم ابھی تک کوئی تجرباتی تصدیق نہیں ملی۔ بہرحال اس کے لیے بہت سی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

ان میں سے ایک تجرباتی کاوشں بلیک ہول کے مشاہدے سے اخذ کی گئی ہے۔ اب ہم بلیک ہولز کو دیکھ سکتے ہیں جو ستاروں کے انہدام سے بنتے ہیں۔ اپنے ہی وزن کے زیرِاثر ستاروں کا مادہ منہدم ہوکر ہماری نظر سے اوجھل ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ کہاں غائب ہو جاتا ہے؟ اگر لوپ کوانٹم گریوٹی کا نظریہ درست مان لیا جائے تو اس کے مطابق مادہ منہدم ہو کر ایک لامتناہی چھوٹے نقطے میں مدغم نہیں ہوسکتا کیوں کہ ایسا کوئی نقطہ وجود نہیں رکھتا۔ بلکہ سپیس کے صرف متناہی حصے وجود رکھتے ہیں۔ اپنے ہی وزن کے زیرِ اثر منہدم ہو کر کسی ستارے کی کثافت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہاں کوانٹم میکانیات توازن پیدا کرنےکے لیے ایک متبادل دباؤ لگاتی ہے۔

کسی ستارے کی زندگی کی فرضی آخری حالت میں جب وہ منہدم ہو رہا ہو، زماں و مکاں کا کوانٹمی اتارچڑھاؤ مادے کے وزن کو توازن فراہم کرتا ہے۔ انہدام پذیرستارے کی یہ حالت “پلانک ستارہ” (Planck star) کہلاتی ہے۔ اگرآج سورج دہکنا بند کردے اور بلیک ہول میں بدلنے لگے تو اس کا قطرسکڑ کر محض دیڑھ کلومیٹر رہ جائے گا۔ اس بلیک ہول کے اندر سورج کا مادہ مسلسل منہدم ہوتا رہے گا اور بالآخریہ ایک پلانک ستارہ بن جائے گا۔ تب اس کا سائزتقریباً ایک ایٹم کے برابر ہوگا۔ سورج کا تمام مادہ ایک ایٹم کے حجم میں منجمد ہوجائے گا۔ ایک پلانک ستارہ مادہ کی اس شدید ترین منجمد حالت پر مشتمل ہوتا ہے۔

پلانک ستارہ مستحکم نہیں ہوتا۔ جب اس کو آخری حد تک دبایا جاتا ہے تو یہ رّدعمل میں پھر سے پھیلنا شروع کردیتا ہے۔ یہ پھیلاؤ اس بلیک ہول کو پھٹنے کی حد تک لے جاتا ہے۔ اگرایک فرضی مشاہد پلانک ستارے کے اندر بلیک ہول میں بیٹھا ہو تو اس کے لیے یہ پھیلاؤ نہایت تیزرفتاری سے واقع ہوگا۔ لیکن اس مشاہد کے لیے وقت اس رفتار سے نہیں گزرے گا جس رفتار سے بلیک ہول سے باہر موجود شخص کے لئے گزرتا ہے۔

جس طرح نظریہ عمومی اضافیت کی منطق کے مطابق کسی اونچے پہاڑ پر بیٹھے ہوئے شخص کے لیے وقت سطح سمندر پر بیٹھے شخص کی نسبت زیادہ تیزگزرتا ہے اسی طرح ہمارے اور بلیک ہول کے اندرموجود مشاہد کے لیے بھی وقت ایک سا نہیں گزرے گا۔ اس مشاہد کے لیے جو بلیک ہول میں بیٹھا ہے، طبیعیات کی شدید شرائط کی وجہ سے وقت کا فرق بہت زیادہ ہوگا اور بلیک ہول پر بیٹھے مشاہد کے لیے جو تیز پھیلاؤ ہے وہ بلیک ہول سے باہر موجود مشاہد کے لیےایک طویل دورانیے پر محیط ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بلیک ہول لمبےعرصے تک ایک سی حالت میں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک بلیک ہول دراصل انتہائی سست رفتاری سے پھیلتا ہوا ستارہ ہے۔

ممکن ہے کہ بلیک ہول قدرت کی بھٹی میں کائنات کے ابتدائی لمحات میں بنے ہوں اوران میں سے کچھ اب پھٹ رہے ہوں۔ اگریہ درست ہے تو بلیک ہول کے پھٹنے کے وقت جوانتہائی توانائی فلکی لہروں کی شکل میں خارج ہوتی ہے، شاید ہم ان کا مشاہدہ کرسکیں۔ اس سے ہمیں کوانٹم گریوٹی کی مدد سے بیان کیے جانے والے مظاہرکا بلاواسطہ مشاہدہ کرنےاوران کے اثرات کو ماپنے میں مدد ملے گی۔ یہ ایک جرّات مند خیال ہے۔ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔ مثلاً یہ بھی ممکن ہے کہ ابتدائی کائنات میں اتنے بلیک ہول نہ بنے ہوں کہ ہم ان کے دھماکوں کا مشاہدہ کرسکیں۔ لیکن ان کے اشاروں کی کھوج لگانے کے لیے تجرباتی تحقیق شروع ہو گئی ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ اس کا کیا نتیجہ آتا ہے۔

اس نظریے کا ایک اورانتہائی شاندار نتیجہ کائنات کی ابتدا کے متعلق ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس نظریے کی مدد سے ہم اپنے سیارے کی طبعی تاریخ کواس کی ابتدا تک تشکیل دے سکتے ہیں جب وہ اپنے حجم میں بہت چھوٹا تھا۔ لیکن اس سے پہلے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟ دلچسپ امر یہ ہے کہ لوپ کوانٹم گریوٹی کی مساواتیں ہمیں تشکیلِ تاریخ میں اس سے بھی پیچھے تک جانے میں مدد دیتی ہیں۔

اس سے ہم یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ جب کائنات بہت زیادہ کثیف ہوتی ہے تو کوانٹم نظریے کے مطابق اس میں ایک مخالف قوت پیدا ہوتی ہے۔ نتیجتاً ہمیں یہ کہنا چاہیے کہ انفجارِعظیم یعنی بگ بینگ اصل میں زقندِعظیم یا بگ باؤنس تھا۔ ممکن ہے کہ ہماری کائنات ایک پہلے سے موجود کائنات کے رّدعمل میں وجود میں آئی ہو جو اپنے ہی وزن کے تحت سپیس میں ایک نہایت چھوٹے نقطے میں سکڑی ہو اور پھراس نے پھیلنا شروع کر دیا ہو جسے آج ہم پھیلتی ہوئی کائنات کی صورت میں دیکھتے ہیں۔

اپنی ابتدا میں جب کائنات ایک نقطے میں سمائی ہوئی تھی، زقند (باؤنس) یا پھیلاؤ کا یہ لمحہ کوانٹم گریوٹی کا دور تھا۔ وہاں زماں و مکاں کا وجود ختم ہو جاتا ہے اور دنیا امکانات کے دھندلے بادلوں میں تحلیل ہو جاتی ہے جسے ریاضی کی مساواتیں بیان کر سکتی ہیں۔ کائنات کی جو تصویر ہم نے پانچویں باب میں پیش کی تھی زقندِ عظیم کے تصور کے بعد اس کی حتمی شکل یوں بنتی ہے۔

طبیعیات ایسے درکھولتی ہےجس میں ہم کائنات میں بہت دورتک دیکھ سکتے ہیں۔ ہم جوکچھ دیکھتے ہیں وہ ہمیں حیران کرتا ہے۔ ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم تعصبات سے بھرے ہوئے ہیں اور ہماری دنیا کی جبّلی تصویر نامکمل، رجعتی اور ناموافق ہے۔ ہم نے جانا ہے کہ زمین چپٹی اور ہموار نہیں ہے اور نہ ہی یہ ساکن ہے۔ آج جب ہم کائنات کو زیادہ واضح طور پر گہرائی اورعمیقیت میں دیکھتے ہیں تو یہ مسلسل تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔ ہم نے بیسویں صدی میں طبعی دنیا کے بارے میں جو کچھ دریافت کیا ہے اگر ہم اس کو یکجا کریں توعلمی اشارے ہمیں مادہ اور زماں و مکاں کے بارے میں ہمارے جبّلی فہم سے بھی زیادہ کسی عمیق چیز کی طرف لے جاتے ہیں۔ لوپ کوانٹم گریوٹی ان اشاروں اورعقلی نشانیوں کا ادراک حاصل کرنے اور مزید گہرائی تک دیکھنے کی ہی کاوش ہے۔

Categories
نان فکشن

ہگز بوزان اور عبدالسلام

تحریر: ڈاکٹر عقیل احمد
مترجم: فصی ملک

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قدرت کی چار بنیادی قوتیں، برقناطیسی قوت، نحیف نیوکلیائی قوت، قوی نیوکلیائی قوت، اور کششِ ثقل، ہیں۔برقناطیسیت کا مشاہدہ روز مرہ کی زندگی میں کیا جا سکتا ہے،جیسا کہ آسمانی بجلی(Lightening) ایک قدرتی عمل ہے۔نحیف نیوکلیائی قوت کا اظہار تابکاری، جس کو سرطان کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، میں ہوتا ہے۔دوسری جانب قوی نیوکلیائی قوت جوہری مرکزہ(اولیے اور تعدیلیے) کو اکٹھا رکھنے کی موجب ہے۔ جب کہ کششِ ثقل کا مشاہدہ روز مرہ کی زندگی میں کیاجاتا ہے، مثال کے طور پر،نظامِ شمسی کے ستارے کششِ ثقل کی وجہ سے ہی سورج کے گرد گھومتے ہیں۔

اس چیز کا جائزہ لینا نہایت اہم ہے کہ برقناطیسیت اور کششِ ثقل طویل حدودی(long range) قوتیں ہیں، یعنی ان کا اثر طویل فاصلوں پر بھی ہوتا ہے۔جب کہ نحیف اور قوی نیوکلیائی قوتوں کا اظہار بہت کم فاصلوں پر ہوتا ہے، جیسا کہ جوہر کے مرکزہ کے اندر، جس کا سائز 10-15 میٹر ہوتا ہے۔کششِ ثقل باقی تینوں قوتوں کی نسبت کمزور ہے اور اپنا اظہار بھاری اجسام پر کرتی ہے۔چونکہ بنیادی ذرات، جیسا کہ برقیے اور کوارکس( جن سے مل کر اولیے اور تعدیلیے بنے ہوتے ہیں) بہت چھوٹے ہوتے ہیں اس لیے یہ باقی تین قوتوں کی نسبت کششِ ثقل کا اثر کم محسوس کرتے ہیں۔اس لیے طبیعیات دان بنیادی ذرات کی خصوصیات کے مطالعے میں عمومی طور پر کششِ ثقل کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔لہٰذا ہمارے پاس تین قوتیں باقی بچتی ہیں، برقناطیسیت اور قوی اور نحیف نیوکلیائی قوتیں۔

تمام قوتیں جو اوپر بیان کی گئی ہیں ذرات کے درمیان قوت بردار ذرات (force carrier particles)سے عمل کرتی ہیں، یہ قوت بردار ذرات گیج بوزانزgauge bosons) ) کہلاتے ہیں۔مثال کے طور پر دو برقیوں کے درمیان برقناطیسی قوت ضیائیوں(photons) کے ذریعے عمل کرتی ہے۔اس مظہر کوبیڈمنٹن(badminton)کے کھیل سے آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ بیڈ منٹن کے دو کھلاڑیوں کے درمیان قوت چِڑی(shuttlecock) کے ذریعے پہنچتی ہے، بالکل اسی طرح بنیادی قوتیں گیج بوزانز کے ذریعے پہنچتی ہیں۔چناچہ بنیادی قوتیں چار قسم کی ہیں اس لیے گیج بوزانز بھی چار مختلف اقسام کے ہیں اور ہر قوت کی نوعیت پر منحصر کرتے ہوے ان کی خصوصیات بھی مختلف ہیں۔ہمارے مقصد کے لیے، جو کہ ہگزمیدان/بوزان کو سمجھنا ہے، صرف دو قوتیں، برقناطیسیت اور نحیف نیوکلیائی قوت، اہم ہیں۔

جیسا کہ ہم نے واضح کیا ہے کہ برقناطیسیت ایک طویل حدودی قوت ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کو دو بار شدہ اجسام(جیسا کے دو برقیے)کے درمیان تب بھی محسوس کیا جا سکتا ہے جب ان کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہو۔اس لیے چِڑی (ضیائیوں) کو بے کمیت ہونا چاہیے۔اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ برقناطیسیت طویل حدودی قوت ہے کیوں کہ اس کے قوت بردار ذرات( ضیایئے) بے کمیت ہیں۔ اب ہم نحیف نیوکلیائی قوت کو فرض کرتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ یہ بہت کم فاصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے، مثال کے طور پر جوہری مرکزہ کے سائز تک، جو کہ 10-15 میٹر ہے۔چڑی کی تمثیل سے اب آپ اس پہیلی کا جواب دے سکتے ہیں کہ نحیف نیوکلیائی قوت اتنی قریب حدودی کیوں ہے؟جواب بالکل آسان ہے، اگر ہم چِڑ ی (قوت بردار ذرات) کو بہت زیادہ وزنی بنا دیتے ہیں تو وہ بہت کم فاصلہ طے کرے گی۔لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ نحیف نیوکلیائی قوت کے قوت بردار ذرات “گیج بوزانز” وزنی ہیں اس لیے یہ قریب حدودی ہے۔یہ گیج بوزانز W+ اور W- کہلاتے ہیں جب کہ ± ان بوزانز کے اوپر برقی بار کو ظاہر کرتا ہے۔

ذراتی طبیعیات میں ایک بہت ہی اہم اصول ہائے تشاکل (گلوبل/گیج) (global/gauge symmetries)ہے۔ہائے تشاکل (گلوبل) عمومی طور پر بہت گنجلک ہے مگر اس کی توضیح آسان طریقے سے کرنے کے لیے ہم گردشی تشاکل (rotational symmetry) کی مثال لیتے ہیں۔مثال کے طور پر اگر ہم ایک کُرے (sphere)کو لیتے ہیں(جیسا کہ فٹ بال) اور اسے کسی بھی سمت میں گردش دیتے ہیں تو یہ بالکل ایسے ہی دکھے گا جیسا کہ گردش دینے سے پہلے تھا۔اس لیے ہم کہ سکتے ہیں کہ کُرہ گردش کے تحت تشاکل پذیر یا تشاکلی(symmetric) ہے۔ذراتی طبیعیات کی زبان میں ہم اس کو یوں کہتے ہیں کہ یہ جسم(کُرہ) کچھ تحویلات(گردش) کے تحت غیر متغیر(invariant) ہے۔اگر ایک نظریہ کچھ تحویلات کے تحت غیر متغیر(تشاکل پذیر) ہے تو اسکا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر اس نظریےکو تحول پذیر(transform) کیا جائے(جیسا کہ گردش دینا) تو یہ ہمیں بالکل وہی نتائج دے گا۔

اگر ہمارے پاس کسی نظریے میں گیج تشاکل موجود ہو تو ہمیں مطلوب یہ ہوتا ہے کہ یہ نظریہ کچھ خاص گیج تحویلات کے تحت گیج متغیر یا گیج تشاکلی(gauge symmetric) ہو۔یہ پتا چلا ہے کہ وہ تمام نظریات جن کے قوت بردار ذرات(gauge bosons) بے کمیت ہیں، کچھ خاص گیج تحویلات کے تحت گیج غیر متغیر(gauge invariant) ہوتے ہیں، جیسا کہ برقنا طیسیت۔جب کہ وہ نظریات جن کے قوت بردار ذرات وزنی ہوتے ہیں وہ گیج غیر متغیر نہیں ہوتے، جیسا کہ نحیف نیوکلیائی قوت۔یہ 1950 اور 1960 کے اوائل میں نظری طبیعیات دانوں کے لیے ایک بہت بڑی پہیلی رہی ہے کہ کیسے نحیف نظریے، جس کے ذرات گیج متغیر ہوتے ہیں، کو گیج غیر متغیر بنایا جائے۔

چونکہ وزنی گیج بوزانز والے نظریات گیج غیر متغیر نہیں ہوتے، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ تشاکل ٹوٹ چکا ہے(symmetry is broken)۔اس وقت کے نظری طبیعیات دانوں خاص کر نامبو اور گولڈ سٹون نے گلوبل تشاکلی نظریات پر ٹوٹے تشاکل(broken symmetry) کا آزادانہ مطالعہ کیا (ایک گلوبل تشاکل کو گیج میدا ن کے تعارف سے گیج تشاکل کے مقام پر ترقی دی جا سکتی ہے)۔گولڈ سٹون نے ایک قضیے(theorem) کی بنیاد رکھی کہ اگر ایک گلوبل تشاکل یک لخت ٹوٹے تو ہمارے پاس بے کمیت عددیے(massless scalars) ہونے چاہیے (جن کی غزل (spin) صفر اور مکان میں کوئی خاص سمت نہیں ہوتی)۔ ایک سال بعد گولڈ سٹون، عبدالسلام اور وائن برگ نے گولڈ سٹون کے قضیے کو ثابت کیا کہ ٹوٹے تشاکل بے کمیت عددی ذرات کو جنم دیتے ہیں جو کہ گولڈ سٹون بوزانز کہلاتے ہیں۔ یہ اس وقت ایک بہت شاندار نتیجہ تھا۔لیکن ابھی بھی یہ اس مسلے کو حل نہیں کرتا کہ بے کمیت گیج بوزانز کو کمیت کیسے دی جائے۔

1964 میں اینگلرٹ اور براوٹ نے اپنا بہت اہم تحقیقی مقالہ لکھا، جس کو کچھ ہی ہفتے بعد ہگز نے بھی آزادانہ طور پر حاصل کیا۔اپنے ان مقالوں میں انہوں نے دکھایا کہ اگر تشاکل یک لخت ٹوٹتا ہے تو بے کمیت گیج بوزانز گولڈ سٹون بوزانز کو تناول فرما کر کمیت حاصل کر لیتے ہیں۔یہ بے کمیت گیج بو زانز کو کمیت دینے والے شاندار مسلے کو حل کرتا ہے۔تشاکل کے یک لخت ٹوٹنے کے تصور کو اب براوٹ-اینگلرٹ- ہگز میکانزم (BEH mechanism) یا پھر صرف ہگز میکانزم کہا جاتا ہے۔اینگلرٹ اور ہگز کو 2012 میں فزکس کے نوبل انعام سے نوازہ گیا (بدقسمتی سے براوٹ 2011 میں وفات پا گیا اور انعام میں اپنا حصہ حاصل نہ کر سکا)۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا بہت اہم ہے کہ براوٹ، اینگلرٹ اور ہگز کے پیپر کے کچھ ہی ہفتے بعد امپیریل کالج میں موجود پروفیسرعبدالسلام کے گروپ (گُرالنک، ہیجن، کبل) نے بھی یہی نتائج آزادانہ طور پر حاصل کیے اور ان کا پیپر اپنے مضمرات میں زیادہ تفصیلی تھا۔ان کے اس شاندار کام کے اعتراف میں 2010 میں براوٹ، اینگلرٹ، ہگز، ہیجن، کبل اور گُرالنک کو امیریکن فزیکل سوسائٹی کی طرف سے جے جے سکورائی انعام برائے ذراتی نظری طبیعیات سے نوازا گیا۔

گیج بوزانز کو کمیت دینے والے ہگز میکانزم کا اجراع ہونے کے بعد 1967 میں عبدالسلام اور سٹیون وائن برگ نے آزادانہ طور پر ایک ایسا ماڈل پیش کیا جو نحیف نیوکلیائی قوت اور برقناطیسی قوت کو یکجا کرتا تھا۔سلا م نے اس نظریے کو نحیف برقی نظریے (electroweak theory) کا نام دیا۔جو کہ ا ب قوی نیوکلیائی قوت کی شمولیت کے بعد ذراتی طبیعیات کے میعاری نمونے (standard model)کے طور پر جانا جاتا ہے۔نحیف برقی نظریے میں سلام اور وائن برگ نے واضح طور پر ہگز میکانزم کو استعمال کرتے ہوے نحیف نیوکلیائی قوت کے قوت برداروں کی کمیتوں کا حساب لگایا، چونکہ یہ ایک قریب حدودی قوت ہے جب کہ برقناطیسی قوت کے قوت برداروں کو بے کمیت رکھا گیا کیوں کہ یہ ایک طویل حدودی قوت ہے۔ میعاری نمونے میں نہ صرف گیج بوزانز اپنی کمیت ہگز میکانزم کے ذریعے حاصل کرتے ہیں بلکہ دوسرے تمام وزنی ذرات جیسا کہ برقیے اور کوارکس اپنی کمیت ہگز میدان کے ذریعے حاصل کرتے ہیں جو کہ سپیس میں برابر پھیلا ہوا ہے۔سلام-وائن برگ کا نظریہ( نحیف برقی نظریہ) ذراتی طبیعیات کے کامیاب ترین نظریات میں سے ایک ہے۔ ہگز میدان اور اس کے متعلقہ ہگز ذرے کے علاوہ اس کی بہت ساری اہم پیشین گوئیاں ہیں۔نظریے نے ایک نئی قسم کے قوت برداروں کی پیشین گوئی کی جس کی ضیائیے کی طرح کوئی بار نہیں لیکن W بوزانز کی طرح کمیت تھی۔ یہ Z بوزان کہلاتا ہے۔ 1970 کے اوائل میں ذرہ Z بوزان اور اس کا متعلقہ قوت بردار رو (force carrier current)سرن (CERN) میں دریافت کر لیا گیا۔نتیجتاً 1979 میں پاکستان کے عبدالسلام اور امریکہ کے سٹیون وائن برگ اور شیلڈن گلیشو کو فزکس کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔

میعاری نمونے کا آخری گمشدہ ٹکرا،ہگز بوزان،بالاخر اپنی پیشین گوئی کے پچاس سال بعد 4 جولائی 2012 کو عظیم ثقیلہ تصادم گر (Large hadron collider) میں سرن کے مقام پر دریافت کر لیا گیا۔سرن فرانس اور سوٹزرلینڈ کی سرحد پر موجود 27 کلومیٹر لمبی ایک زیرِ زمین مشین ہے۔مشاہد شدہ ذرے کی خصوصیات کا جائزہ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے لیا اور یہ دیکھا گیا کہ اس کی خصوصیات بالکل ایسی ہی ہیں جس کی پیشین گوئی سلام۔وائن برگ نظریہ یا میعاری نمونہ کرتا ہے۔ہگز بوزان کی دریافت نظری طبیعیات کے لیے بہت بڑی جیت ہے اور اس کی دریافت کے ساتھ میعاری نمونہ اب مکمل ہو چکا ہے اور موجودہ دن تک سب سے کامیاب نظریہ ہے۔ ذراتی طبیعیات کے میعاری نمونے نے تقریباً طبیعیات میں 15 نوبل انعامات جیتے ہیں اور آخری انعام اس سال (2012 میں) میں اینگلرٹ اور ہگز کو BEH میکانزم (ہگز میکانزم) پر دیا گیا۔

بحث سمیٹتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ عبدالسلام نے کائنات کے متعلق ہماری موجودہ فہم کو حاصل کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔عبدالسلام گزشتہ صدی کا ایک عظیم سائنسدان ہی نہیں تھا بلکہ تیسری دنیا میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترویج کے لیے ان کی خدمات کا کوئی ثانی نہیں ہے۔وہ سائنسی اکادمی برائے تیسری دینا(TWAS) اور عبدالسلام بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعیات (ICTP)، جو کہ اٹلی کے شہر ٹریسٹے میں موجود ہے،کے بانی ہیں۔ عبدالسلام بین الاقوامی مرکز برائے نظری طبیعیات دنیا کے صفِ اول کے اداروں میں شامل ہے جہاں تیسری دنیا کے ممالک سے طالب علم اور سائنسدان طبیعیات میں ہونے والی جدید تحقیق سے فیض یاب ہونے آتے ہیں۔ہم اس مضمون کا خاتمہ عبدالسلام کے مندرجہ ذیل قول کیساتھ کرتے ہیں ” سائنسی سوچ تمام انسانیت کا مشترکہ اثاثہ ہے”۔