Categories
نقطۂ نظر

انقلاب؛ کب، کیوں اور کیسے؟

ایک جانب جہاں معاشرے کی اکثریت سیاست سے بیزار، بدظن اور لاتعلق ہو چکی ہے وہیں ایک متضاد کیفیت یہ ہے کہ تقریباً ہر فرد اس بات سے متفق ہے کہ اس معاشرے کو تبدیل ہونا چاہیئے۔
“انقلاب کب آئے گا؟ کشمیر کا مسئلہ کب حل ہو گا؟ تبدیلی کیوں نہیں آتی؟ نصف صدی سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے اب تک کچھ بھی نہیں بدلا، آگے بھی کچھ نہیں بدلے گا ۔” اس قسم کی گفتگو اور تبصرے زبان زد عام ہیں۔ عام آدمی ہی نہیں بلکہ آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کرنے والے کارکنان اور قائدین بھی نجی محفلوں میں اسی قسم کی گفتگو کرتے پائے جاتے ہیں۔ کسی حد تک یہ بات درست بھی ہے کہ آزادی اور انقلاب کی جدوجہد کسی نہ کسی شکل میں سات دہائیوں سے جاری ہے پھر بھی آج یہ جدوجہد (بظاہر) منزل سے کوسوں دور نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ صرف ایسی سیاست کو کار آمد سمجھا جاتا ہے جس کے ذریعے فوری ذاتی یا اپنے حامیان کے مقاصد یا مفادات کا حصول ممکن ہو۔ مفاد پرستی اور موقع پر ستی سیاست میں کامیابی کے رہنما اصول بن چکے۔ نظریاتی اور انقلابی سیاست پہلے تو ناپید ہوئی، اور چند دیوانے جو ابھی تک اس قسم کی سیاسی جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں انہیں پاگل سمجھا جاتا ہے۔ حقیقی آزادی اور انقلاب کی بات کرنے والے کو خیالوں کی جنت میں رہنے والا ایسا فرد سمجھا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور تک کوئی تعلق نہ ہو۔

 

ایک جانب جہاں معاشرے کی اکثریت سیاست سے بیزار، بدظن اور لاتعلق ہو چکی ہے وہیں ایک متضاد کیفیت یہ ہے کہ تقریباً ہر فرد اس بات سے متفق ہے کہ اس معاشرے کو تبدیل ہونا چاہیئے۔ مہنگائی، بےروزگاری، غربت، لوڈشیڈنگ، تعلیم اور علاج کا مہنگا ہوتا ہوا کاروبار، اور حکمرانوں کی لوٹ مار جیسے بے شمار مسائل ہیں جن کے خاتمے کی خواہش سب کے ذہنوں میں موجود ہے لیکن ان مسائل کے خاتمے کی عملی جدوجہد میں شمولیت اختیار کرنے کے سوال پر لوگوں اور نوجوانوں کی اکثریت بے عملی کا رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ تبدیلی کی عملی جدوجہد میں شمولیت جتنی کم ہے، تبدیلی کی خواہش اور ضرورت اتنی ہی بڑھتی جا رہی ہے۔ سیاست سے عمومی بے زاری کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اب تک جن طریقوں سے یہ جدوجہد کی جاتی رہی، ان طریقوں کے غلط ہونے کی وجہ سے مسلسل ناکامیوں نے لوگوں کو سیاست سے دور کر دیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ مروجہ سیاست میں تبدیلی اور انقلاب کے نعروں پر لوگوں کو مسلسل دھوکے دئیے گئے ہیں، چہرے بدل بدل کر غداریاں کی گئیں اور ذاتی مفادات کے حصول کے لیے لوگوں کو استعمال کیا گیا اس لیے کسی حد تک نوجوانوں اور عام لوگوں کا سیاست سے نفرت اور بیزاری کا رویہ جائز اور بجا ہے۔ لیکن سیاست سے دوری اختیار کرنے کے باوجود تبدیلی کی خواہش اور ضرورت نہ صرف اپنی جگہ موجود ہے بلکہ مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔

 

یہ سوال درست ہے کہ اب تک اتنی طویل مدت جدوجہد کے باوجود کوئی تبدیلی کیوں نہیں آسکی؟ لیکن اس سوال کا درست جواب تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے ناکہ ا س سے یہ نتائج اخذکرنا کہ اگر اب تک تبدیلی نہیں آئی تو آگے بھی نہیں آ سکتی۔
اچھی تعلیم، معیاری صحت کی سہولیات اور روزگار کے حصول میں مشکلات، معاشی ناآسودگی اور اس سے پیدا ہونے والی ذاتی اور خانگی پریشانیاں، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی اور قدرتی آفات کی صورت میں ناکافی امداد سمیت ہر قسم کے مسائل کا تعلق سیاست سے ہے۔ اس لیے سیاست سے بیزاری اور نفرت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یوں یہ مسائل ختم ہو جائیں گے یا تمام لوگوں اور نوجوانوں کو کبھی بھی سیاست میں دوبارہ دلچسپی لینے اور مداخلت کرنے کی ضرورت ہی نہیں پیش آئے گی۔ عام لوگوں اور نوجوانوں کی مروجہ سیاست سے نفرت جائز اوردرست ہے، چونکہ یہ سیاست چند بڑے لوگوں کا کاروبار بن چکی ہے۔ مروجہ سیاست عام لوگوں سے اس قدر لاتعلق ہے کہ اس سے بیزاری لوگوں کے پسماندہ شعور کی بجائے بلند شعوری معیار اور سمجھ بوجھ کی عکاس ہے۔ لیکن اہم نکتہ یہ ہے کہ مروجہ سیاست کے مزاج سے بیزاری اور لاتعلقی کافی نہیں بلکہ اس مفاد پرستانہ سیاست کے خلاف سیاست میں متحرک ہو کر ہی اس کا خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ دوسرا اہم نکتہ یہ ہے کہ سیاست سے مکمل لاتعلقی حکمرانوں کے مختلف دھڑوں کو مکمل چھوٹ دینے کے مترادف ہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کرنے کی بجائے ہمارے وسائل کی سر عام لوٹ مار کرتے رہیں اور ہم محض تماشائی بنے رہیں، بے بس اور لاچارتماشائی جو کچھ بھی نہیں کر سکتے۔ یہ سوال درست ہے کہ اب تک اتنی طویل مدت جدوجہد کے باوجود کوئی تبدیلی کیوں نہیں آسکی؟ لیکن اس سوال کا درست جواب تلاش کرنا زیادہ ضروری ہے ناکہ ا س سے یہ نتائج اخذ کرنا کہ اگر اب تک تبدیلی نہیں آئی تو آگے بھی نہیں آ سکتی۔

 

اگر اب تک تبدیلی نہ آسکنے سے یہ نتیجہ اخذ کیا جائے کہ آئندہ بھی تبدیلی نہیں آئے گی تو ہم مایوس، شکست خوردہ، ناکام اور مزید بے اختیار ہو جائیں گے اور ہمارے حکمران بھی ایسا ہی چاہتے ہیں۔ اب تک جن نظریات اور طریقوں کے ذریعے تبدیلی کی جدوجہد کی گئی ہے اگر ان نظریات اور طریقوں کے ذریعے تبدیلی کا حصول ممکن نہیں ہو سکا تو بھی یہ جدوجہد رائیگاں نہیں گئی بلکہ اس کے ذریعے ہم تک عملی جدوجہد کے یہ اسبا ق پہنچے ہیں کہ ان نظریات میں کیا خامیاں اور کمزوریاں ہیں۔ ہم ان تجربات سے اسباق سیکھتے ہوئے اپنی جدوجہد کو زیادہ درست بنیادوں پر استوار کر سکتے ہیں۔ اس کے لیے تاریخ سے ہزاروں مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن سب سے دلچسپ مثال علم کیمیا کی تاریخ میں ہے۔ قرون وسطیٰ اور اس سے پہلے کے ادوار میں کئی صدیوں تک پارس پتھر دریافت کرنا اور کم قیمت دھاتوں کو سونے میں تبدیل کرنے کا طریقہ معلوم کرنا ‘الکیمیا’ کا واحد مقصد رہا۔ اس پتھر کے ساتھ ایسی خصوصیات منسوب کی گئی تھیں کہ یہ ہر دھات کو سونے میں تبدیل کر دے گا۔ کئی صدیوں تک بے شمار تجربات کیے جاتے رہے اور صدیوں کی لاحاصل تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ ایسا کر نا ممکن نہیں لیکن اس کی دریافت کی خاطر جو تحقیق کی گئی اس کے ذریعے دھاتوں کی خصوصیات جاننا ممکن ہوا اور ان کی کیمیائی ساخت کے بارے میں بے شمار معلومات جمع کی گئیں جو جدید علم کیمیا کی بنیاد بنیں۔ یوں ایک ناممکن کے حصول کی بظاہر غیر ضروری جدوجہد اپنی ناکامی کے باوجود اگلی نسلوں کے لیے سائنس کی ایک انتہائی اہم شاخ اور شعبے کے قیام کے بنیادی لوازم فراہم کر گئی۔ اسی طرح ماضی کی تمام ناکام جدوجہدیں رائیگاں نہیں ہوتیں بلکہ مستقبل کی کامیاب جدوجہد کے لیے اسباق اور بنیادیں فراہم کر جاتی ہیں۔ ہم انقلاب اور تبدیلی کے اب تک نہ آنے سے دو قسم کے نتائج اخذکر سکتے ہیں، ایک مایوسی اور ناکامی کا اور دوسرا ان کوششوں کے تنقیدی تجزیے سے مزید جدوجہد کے لیے خام مال اور نظریات اخذ کرتے ہوئے کوشش جاری رکھنے کا۔

 

ہم انقلاب اور تبدیلی کے اب تک نہ آنے سے دو قسم کے نتائج اخذ کر سکتے ہیں، ایک مایوسی اور ناکامی کا اور دوسرا ان کوششوں کے تنقیدی تجزیے سے مزید جدوجہد کے لیے خام مال اور نظریات اخذ کرتے ہوئے کوشش جاری رکھنے کا۔
اگر ہم تبدیلی کی جدوجہد کو درست بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے متحرک ہوں گے تو ہم نہ صرف اب تک تبدیلی کے نہ آسکنے کی سائنسی وجوہ کا کھوج لگانے میں کامیاب ہوں گے بلکہ اس سوال کا بھی درست سائنسی جواب بھی ڈھونڈ نکالیں گے کہ انقلاب کب اور کیسے آئے گا؟ جس معاشرے میں ہم نے جنم لیا ہے یہ ہمیں پہلے سے بنا بنایا اور تاریخی ارتقاء کے ذریعے نشو ونما پا کر موجود ہ مرحلے پر اس کیفیت میں ملا ہے۔ ہم اس کے مستقبل کے بارے میں درست طور پر صرف اس بنیاد پر سمجھ بوجھ حاصل کر سکتے ہیں جب ہم سماجی ارتقاء اور تاریخ کے ان بنیادی قوانین کو جاننے کی کوشش کریں گے جن کے تابع سماج ترقی کرتا ہے۔ انہیں قوانین کے ذریعے ہم یہ سمجھ سکتے ہیں کہ سماج میں تبدیلی کیسے، کب اور کیوں کر جنم لیتی ہے اور ہم اس میں کیا کردار ادا کر سکتے ہیں؟ عموماً کسی بھی معاشرے میں انقلابی تحریکیں روز روز نہیں جنم لیا کرتیں بلکہ ہر معاشرے میں طویل عرصہ تک بظاہر جمود اور معمول حاوی رہتا ہے۔ کئی دہائیوں تک سماج معمول کے ارتقائی مراحل سے گزرتا رہتا ہے جس کے دوران چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جنہیں مقداری تبدیلیاں کہا جاتا ہے۔ یہ مقداری تبدیلیاں مجتمع ہو کر ایک خاص مرحلے پر ایک معیاری تبدیلی یعنی انقلاب یا دھماکہ خیز تبدیلی کو جنم دیتی ہیں۔ اس لیے جب تک اس معیاری تبدیلی کے مرحلے کا آغاز نہیں ہوجاتا ہر سماج بظاہر ایسے ہی دکھائی دے رہا ہوتا ہے جیسے کچھ بھی تبدیل نہیں ہو رہا۔ ایسے ہی جمود کے ادوار ہوتے ہیں جیسا کہ اس وقت ہمارے معاشرے کا ہے جس میں وہ تمام افراد جو سماجی تبدیلی کے بنیادی قوانین سے بے بہرہ ہوتے ہیں وہ یہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں کہ کوئی تبدیلی نہیں آسکتی۔ در حقیقت تبدیلی کائنات کا سب سے بنیادی قانون ہے۔ اس کائنات کی ہر چیز ہر لمحہ تبدیل ہو رہی ہے۔ تبدیلی کے دو مراحل ہیں، پہلا مقداری تبدیلی کا جس کے دوران تبدیلی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدل رہا، اور دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک معیاری تبدیلی کو جنم دیتی ہیں جسے انقلاب کہا جاتا ہے۔

 

تبدیلی کے دو مراحل ہیں، پہلا مقداری تبدیلی کا جس کے دوران تبدیلی اتنی چھوٹی ہوتی ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ کچھ بھی نہیں بدل رہا، اور دوسرا مرحلہ وہ ہوتا ہے جب یہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں ایک معیاری تبدیلی کو جنم دیتی ہیں جسے انقلاب کہا جاتا ہے۔
ہم اگر آج کی دنیا سے مثالیں پیش کریں تو مصر میں 59سال تک کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ حسنی مبارک کی حکومت بظاہر بہت طاقتور نظر آرہی تھی لیکن 59سال بعد فروری 2011ء میں چند نوجوانوں کے احتجاجی مظاہرے نے اتنی بڑی تحریک کو جنم دیا جس نے حسنی مبارک کا تختہ الٹ دیا۔ 59سال میں جو کچھ نہیں ہوا تھا وہ 2011ء میں ہو گیا لیکن یہ بھی تبدیلی کا مکمل عمل نہیں تھا چونکہ حقیقی تبدیلی محض کسی انقلابی تحریک کے ابھار کے ذریعے ممکن نہیں ہوتی۔ انقلابی تحریک کو اگر درست نظریات، پروگرام اور راہنمائی فراہم کرنے والی انقلابی تنظیم میسر آجائے تب اس انقلابی تحریک کی طاقت سے صرف حکمرانوں کے تخت نہیں گرائے جاتے بلکہ اس کے ساتھ حکمرانوں کے نظام کو بھی اکھاڑ کر پھینکا جاسکتا ہے۔ اکتوبر 1917 کے سوویت انقلاب کے معمار لیون ٹراٹسکی نے لکھا تھا “ایک انقلاب کی سب سے بنیادی اور ناقابل تردید خصوصیت عوام کی اکثریت کی تاریخی عمل میں پرزور اور فیصلہ کن مداخلت ہوتی ہے”۔

 

آج دنیا بھرمیں انقلابی تحریکیں ابھر رہی ہیں، ان تحریکوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے انقلابی نظریات پر مبنی ایک انقلابی تنظیم تعمیر کرنا ہو گی جو اس استحصالی نظام کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک سکے۔ چونکہ انقلابی تحریکیں اگر نظام کو تبدیل کرنے میں ناکام رہتی ہیں تو پھر رد انقلاب ان معاشروں کو برباد ی سے دوچار کر دیا کرتے ہیں۔ تحریکیں سماجی قوانین کے تابع ابھرتی ہیں لیکن ان کو کامیابی سے ہمکنار کرنا باشعور انقلابیوں کا فریضہ ہوتا ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

تبدیلی کیوں نہیں آتی

تبدیلی آنے میں اتنا وقت کیوں لگتاہے؟ جو تبدیلی کا نعرہ لگاتے تھکتے نہیں تھے وہ آج خود کیوں تبدیل ہو گئے؟ کیا تبدیلی کے لیے جو راستہ انہوں نے چنا وہ غلط تھا؟ وہ لوگ توقعات پر پورا اترنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکے؟ پھر سوال اٹھتا ہے کیا تبدیلی خود بخود آجاتی ہے یا اس تبدیلی کے لیے خود کو کسی راستے پر ڈالنا پڑتا ہے؟ کیا تبدیلی کے لیے صرف تبدیلی کی راہ دیکھنا کافی ہے؟ ملا کو مسجد میں تبدیلی کا نعرہ لگاتے سنا، سیاستدان کو انقلاب کا نعرہ لگاتے سنا، جج کو منصف ہونے کا دعویدار ہوتے دیکھ لیا۔ میڈیا کو معاشرتی سدھار کی صدا لگاتے دیکھا۔۔۔۔ نعرہ لگانے والے تو توانا ہوتے گئے مگر معاشرے میں تبدیلی کے کوئی آثار کہیں دکھائی نہیں دیئے۔

 

چلتے جنازے میں روح پھونکنے کے لیے سیلفیوں کا سلسلہ چل نکلا ۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا، پھر سیلفی ہی وقت کا تقاضا بن گئی، شہرت حاصل کرنی ہے تو معروف افراد کے ساتھ سیلفی بنوا کر اس بھیڑ میں شامل ہو جاو۔ معاشرہ سیلفیوں کے سہارے زندہ رہنے کا نیا ڈھنگ سیکھنے لگاہے۔ اب تیری سیلفی میری سیلفی۔ بینا کی سیلفی بخشو کی سیلفی کے نعرے بلند ہو نے لگے۔
گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ معاشرے میں جہاں نئے مسائل نے جنم لیا وہیں معاشرے کو مسائل کی دلدل سے نکالنے کے کئی دعویدار بھی سامنے آئے۔ ہر دعویدار کے پاس اپنا منجن اور اپنا چورن تھا، ایک آیا اور اپنی دکان بڑھا کر چلتا بنا اور اس کی جگہ دوسرا آ گیا۔ ان کے آنے جانے نے ہمیں کئی راستوں کا مسافر بنا دیا، ایسا بھٹکا ہو امسافر جسے شاید ہی کوئی منزل نصیب ہو۔ عوام خود ایک بہت بڑی طاقت تھے مگر مختلف قومیتوں، علاقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے۔ اجتماعی مفادات کو دفنا کر انہیں انفرادی مفادات کی راہ پر ڈال دیا گیا۔ منافقت، عداوت، بغض اور موقع پرستی کی سیاست رائج ہو گئی۔ پورے ملک میں سینکڑوں سیاسی جماعتیں اگ آئیں۔ معاشرے میں تبدیلی لانے کے لیے مختلف ایجنڈے آزمائے گئے ہر ایک نے اپنے جھنڈے تلے تفریق پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی یہی وجہ ہے کہ پوری قوم ریوڑوں کی طرح ہانکی جاتی رہی۔ اس نے کبھی پوچھنے کی زحمت نہیں کی، کبھی جستجو کا جوہر نہیں آزمایا، یہ نہیں جانا کہ کاروان کا رخ کہاں ہے اور ہمارا انجام کیا ہوگا۔ بس ہم چلتے گئے۔
پوری قوم کی مثال اس مجرم کی سی ہے جسے بادشاہ نے پیشکش کی کہ سو کوڑے کھاؤ گے یا سو پیاز۔ مجرم کبھی پیاز کھاتا گیا تو کبھی کوڑے۔ حتیٰ کہ سو کوڑے بھی کھا گیا اور سو کلو پیاز بھی کھا گیا۔

 

معاشرے میں بہتری کیوں نہیں آتی یا معاشرہ تبدیل ہونے کا نام کیوں نہیں لیتا۔ معاشرتی بے حسی ماپنے کے لیے بہت سی تنظیمیں منظر عام پر آ گئیں۔ شعور و آگاہی پر زور دینے کے لیے پروگرام منعقد کیے جانے لگے۔ یہ پروگرام اتنے بڑھ گئے کہ ان پروگراموں کو سننے کے لیے جب سامع میسر نہیں آئے تو کرسیوں پر پراسرار روحوں کو قابض کیا گیا۔ پھر بولنے کے لیے لمبی تقاریر کرنے والے مقررین کو مدعو کیا گیا۔ روحیں خوب محظوظ ہوئیں۔ مقررین خوب بولتے گئے۔ فوٹو سیشن کا سلسلہ چل نکلا۔تماشے لگتے رہے اور تماشائی بنتے گئے۔چلتے جنازے میں روح پھونکنے کے لیے سیلفیوں کا سلسلہ چل نکلا ۔۔۔۔ بس پھر کیا تھا، پھر سیلفی ہی وقت کا تقاضا بن گئی، شہرت حاصل کرنی ہے تو معروف افراد کے ساتھ سیلفی بنوا کر اس بھیڑ میں شامل ہو جاو۔ معاشرہ سیلفیوں کے سہارے زندہ رہنے کا نیا ڈھنگ سیکھنے لگاہے۔ اب تیری سیلفی میری سیلفی۔ بینا کی سیلفی بخشو کی سیلفی کے نعرے بلند ہونے لگے۔ ایک مرتبہ پھر معاشرہ مصروف دکھائی دینے لگا۔ جس کے پاس کھانے کے پیسے نہیں تھے اس نے اوورکوٹ کے نوجوان کی مانند بیش قیمت موبائل خرید کر یا لوٹ کر اپنے آپ کو اس دوڑ میں شامل رکھنے کی بھرپور کوشش کی۔

 

عام آدمی نے تبدیلی چاہی تو سیاستدانوں کے روپ میں بھانت بھانت کے رہنما میدان میں آگئے، سماجی ادارے وجود میں آگئے، ٹھیکداری نظام متعارف کرایا گیا، میڈیا بھی آگیا لیکن معاشرہ آج بھی اتنا ہی پسماندہ ہے۔
سماج سدھار کے لیے میڈیا بھی پیچھے نہ رہا۔ عوام کو محظوظ کرنے کے لیے بریکنگ نیوز کا مجرا شروع کیا گیا۔ معاشرہ چیختا رہا چلاتا رہا، خبریں اپنے ہوش و حواس میں یہ کہہ کہہ کر دم توڑ گئیں کہ ہم وجود رکھتی ہیں لیکن کیمرے نے ان کی طرف دیکھنا گوارا نہیں کیا۔ میڈیا ورکرز کو دو وقت کی روٹی کے لیے تگ و دو کرتے ہوئے دیکھا جبکہ میڈیا مالکان کو شاہ خرچ اور عیاش پرست ہوتے دیکھا۔ معاشرے کو سسکتے ہوئے دیکھا۔ جس کو نہ ملی درد کی دوا اس کی تعزیت کے لیے لاکھوں روپے خرچ کرتے دیکھا۔ سماج کو عجیب ڈھنگوں میں سجتے، سنورتے اور بکھرتے دیکھا۔ میرے الفاظ بس میرے اندر گمشدہ ستاروں کی طرح گردش کرتے رہے۔ خود کو بت بنتے دیکھا۔ سماج کو مرتے دیکھا۔ اس کی لاش اٹھاتے دیکھا۔ جنازے میں شرکاء کو ہنستے اور تبصرے کرتے سنا۔۔۔۔

 

تبدیلی کا نعرہ سیاستدانوں نے لگایا، افسر شاہی نے لگایا، ملا نے لگایا، سماج کے ٹھیکداروں نے لگایا۔۔۔۔ معاشرہ کیوں نہیں بدلا اور کیوں بدلنے کا نام نہیں لیتا؟

 

دراصل آج تک تبدیلی کے جو نعرے لگائے گئے اس میں بہت کشش تھی لیکن کھوکھلے نعرے اور جھوٹے وعدے عام آدمی کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لا سکے۔ عام آدمی نے تبدیلی چاہی تو سیاستدانوں کے روپ میں بھانت بھانت کے رہنما میدان میں آگئے، سماجی ادارے وجود میں آگئے، ٹھیکداری نظام متعارف کرایا گیا، میڈیا بھی آگیا لیکن معاشرہ آج بھی اتنا ہی پسماندہ ہے۔ غریب اپنی بھوک و افلاس کا رونا روتا رہا۔ اور وہ تھے کہ یہ سمجھاتے رہے اور پروگرام پر پروگرام کرتے رہے کہ بھوک کھانے سے نہیں باتوں سے مٹتی ہے بھوکا آدمی اپنی بھوک باتیں سنتے سنتے مٹاتا رہا۔ اور صاحبان ثروت بلندیاں طے کرتے گئے اور منزلین پاتے گئے۔ قلم اور کاغذ ان کے احسانات کے بوجھ تلے اتنے دب گئے کہ نہ قلم رہا نہ سیاہی رہی اور نہ ہی کاغذ رہا۔۔ پھر انسانوں کی چیخیں فضاؤں میں گونجنے لگیں، منصف میدانوں میں کود گئے، ترازو قائم کیا گیا مگر ترازو کبھی جھک گیا تو کبھی بک گیا۔

 

آج سماج متزلزل ہوچکا ہے۔ ہر طرف دیوانگی کے آثار ہیں۔ سماج اپنی بساط پر ہی پٹ گیا ہے۔ ہم ہر ایک کو گلے لگاتے ہیں، رونے کی کوشش کرتے ہیں سسکیاں بھرتے ہیں، دم گھٹنے لگتا ہے۔۔۔۔ نہ جانے کب سانس نکل جائے اور ہم لاش بن جائیں۔۔۔ نئی نسلیں اٹھیں گی اس پر بین کرتی ہوئی، تماشے لگاتی ہوئی کیوں کہ اب یہاں مردے کو دفنایا نہیں جاتا اس کے ساتھ سیلفیاں لی جاتی ہیں، پھر نئی راہیں تلاش کی جاتی ہیں اور سمتیں مختلف رہتی ہیں۔ دل تو چاہتا ہے مرنےسے پہلے میں بھی تبدیلی کا نعرہ لگاؤں لیکن رات کافی ہو چکی ہے۔ گہری نیند اور خراٹوں کی آواز سے میرا یہ نعرہ کہیں گم نہ ہوجائے۔
Categories
نقطۂ نظر

Social Media for Change

Umair Vahidy

socialmediaforchange

The dynamism of our current world is perhaps best exemplified by the Internet, with its seemingly unlimited potential to present the interactions, thoughts, ideas, movements and marvels that this world and its people offer. The ‘cyber world’ – as it has come to be known – is one of the greatest inventions of our time, where a kind of parallel digital universe has been created to co-exist alongside our physical world.

And with this has come a fundamental shift in the way we communicate. Not only have ssocial networking sites, blogs, podcasts, wikis, video sharing sites, web applications and their like transformed our communication landscape, but are now increasingly impacting the social and political dynamics of our countries. In 2009, a series of mass protests in the Eastern European country of Moldova – coordinated through text message, Facebook and Twitter – resulted in a loss of power for the ruling Communist Party. And more recently we have seen how the uprisings in the Middle East have been propelled by social media interaction and youth mobilization. The really amazing thing is that nobody involved in the development of these various social media applications could have foreseen how these inventions would go on to become such groundbreaking tools for social change.

Authoritarian governments repress communication among their citizens because they fear (correctly) that a well-informed and better-coordinated public would constrain their ability to act with impunity and without oversight.

Authoritarian governments repress communication among their citizens because they fear (correctly) that a well-informed and better-coordinated public would constrain their ability to act with impunity and without oversight. But while such regimes are busy trying to curb access to these tools, their influence around the world is only getting stronger. China leads the pack when it comes to restricting the functions of online media through massive firewalls and intrusive software. The Chinese government employs thousands of paid commentators who pose as ordinary web users and infiltrate chat rooms and other online forums to counter any criticism of the government. Known derisively as “50 Cent Party” members (as they are usually paid 50 Chinese “cents” per post) these ‘shapers’ of public opinion sustain the government’s online propaganda efforts.

However, the huge numbers of people recruited into the “50 Cent Party” actually bear testament to the power of social media, showing us that even in the face of strict censorship policies, the government has been unable to put an embargo on online media and has instead had to resort to using the same social media platform to counter criticism. Therefore, regardless of the most stringent of censorship policies, the expression of honest public opinion on the internet cannot be curbed entirely, because social media applications are available in so many different forms and because they are inexpensive and widely accessible.

Regardless of the most stringent of censorship policies, the expression of honest public opinion on the internet cannot be curbed entirely, because social media applications are available in so many different forms and because they are inexpensive and widely accessible.

The explosion of new online media is also transforming journalism. Not only is it empowering media professionals but is also allowing amateur journalists and citizen media to reach out to a large and broad audience without the help of any sophisticated resources. In Tunisia’s recent Jasmine Revolution protesters used blogs, Facebook, Twitter, WikiLeaks documents, YouTube and other methods to mobilize and report on what was going on in the face of a media crackdown. The Internet was the largest source of news about the protests, and much of it has been provided by the demonstrators themselves, despite Tunisia’s strict internet censorship policies.

Throughout world history, revolutions have broken out and repressive regimes have been challenged by the masses. But these dramatic events did not take place overnight; it usually took years for public opinion to mobilize and enable public action against oppression. Now the dynamics of “change” are changing themselves.

This modern, enhanced capability to communicate, coordinate and mobilize masses towards a common objective has deeply impacted the collective conscience of nations. A regular teenager today who writes a blog, networks on Facebook, and exchanges thoughts on Twitter, can actually act as a unit for collective change. Social media has played a huge role in the Egyptian uprising and the successful ouster of the 30 year-old dictatorial regime of Hosni Mubarak. Facebook pages recording incidents of police torture and other forms of oppression, coupled with tweets and extensive blog coverage, mobilized Egypt’s tech-savvy youth into a thoroughly modern form of political action never before witnessed by the world. The reverberations of Egypt’s Revolution 2.0 are now being felt in neighboring countries with autocratic regimes, such as Yemen, Bahrain and Libya.

A regular teenager today who writes a blog, networks on Facebook, and exchanges thoughts on Twitter, can actually act as a unit for collective change.

But even before the “Facebook Revolutions” of 2011, social media has been used very effectively to engage the masses in awareness programs and mobilization towards peaceful change. On February 4, 2008 hundreds of thousands of protesters gathered in Columbian cities and around the world to decry the Revolutionary Armed Forces of Columbia (FARC), an ultra-leftist rebel group. The main source which sparked this uprising was a simple Facebook page called “One Million Voices Against FARC” set up by Oscar Morales, a well-known activist and web developer. Morales also helped mobilize the largest-ever global anti-terrorism demonstration, with over 12 million participants in 200 cities. In his recent visit to Pakistan for the launch of Khudi, a counter-extremism social movement, Morales told the audience that he can relate to Pakistan’s dilemma of being perceived as a dangerous and problem-ridden country but that despite all these issues, Pakistani youth can still voice their opinions very effectively through social media.

During Pakistan’s State of Emergency in November-December 2007, President Musharraf cracked down on major news channels such as Geo TV, ARY and even international outlets such as BBC. The ban on traditional media outlets allowed for the rise of social media as a viable alternative for information dissemination and mobilization of protestors. Students turned to the Internet to register their opposition to the Emergency, predominantly using blogs and Facebook to denounce Musharraf’s action and to organize flash protests.

It has also been argued that social media can contribute to the spread of negative ideas and hate speech due its inherently uncontrolled and global nature. While regulations and restrictions do exist with regards to hate speech, incitement to violence and targeted attacks on individuals in cyber media, the issue is murkier when it comes to cultural sensitivities. Susan Gordon from Facebook Causes discussed this issue at the International Youth Conference & Festival 2010 in Islamabad, where she argued that censorship won’t work in any case. It is important to realize that a policy of free speech in the social media sphere can only lead to a better understanding of different, complex situations. Moreover, the issues related to cultural sensitivities are quite relative in nature and we should never try to streamline such difficult topics through strict, wide-sweeping censorship policies.

It is important to realize that a policy of free speech in the social media sphere can only lead to a better understanding of different, complex situations. Moreover, the issues related to cultural sensitivities are quite relative in nature and we should never try to streamline such difficult topics through strict, wide-sweeping censorship policies.

Despite the challenges mentioned above, it is clear that the dynamic and resourceful tools of today’s online media help us cope with the multifarious challenges of the 21st century. Through the growing popularity of social media, the communication landscape is becoming more participatory: the networked population of today continues to acquire greater access to information, more opportunities to engage in public speech, and an enhanced ability to undertake collective action. It is high time that we, as the youth of a developing country, keep ourselves updated on these new developments which can be used to further empower ourselves.

SOCIAL MEDIA TOOLS FOR YOU:
Blogging:

“Blog is an abbreviated version of the term ‘weblog’ which is a term used to describe websites than maintain an ongoing chronicle of information. A blog features diary-type commentary and links to articles on other Web sites, usually presented as a list of entries in reverse chronological order. Blogs range from the personal to the political, and can focus on one narrow subject – such as web design, sports or mobile technology – or a whole range of eclectic issues. And others are more like personal journals, presenting the author’s daily life and thoughts.”
– WordPress.org.

Blogging can be considered as one of the easiest ways to express oneself on online media. To be a blogger, you don’t need to be tech-savvy since WordPress, Blogspot and many other websites not only provide free hosting services but also provide convenient tools to help new bloggers design their entire blog without have to learn complex html coding. A great number of bloggers have become opinion-makers for their internet audience, often fostering debate on taboo topics. Bloggers have various tools which allow them to connect with each other and help reach out to their target audience.
Podcasting

Podcasting is a very simple alternative to radio broadcasting, which basically involves making audio content available online using RSS Feed. Podcasters give listeners more control over what they listen to and when, as they can download content on demand, determine what they want to listen to and save archives to access at a later stage. Podcasting also gives far more options in terms of content and programming than radio does. Podcasting can cover just about any topic and is particularly useful for promoting or sharing music, educational and informational materials, discussions and commentaries and for generally sharing a personal opinion with a large audience. As someone described, “While blogs have turned many bloggers into journalists, podcasting has the potential to turn podcasters into radio personalities.” It is easy to get started on podcasting yourself as all it involves is recording your content and producing audio files and then publishing them online using RSS feeds, all of which can be done using free software. These podcasts can then be uploaded to a website and downloaded onto listeners’ computers, iPods and mp3 players.

Vlogging:

Video blogging (or Vlogging) is a form of blogging for which the medium is video. Entries often combine embedded video or a video link with supporting text, images, and other metadata. These videos can be recorded in one take or cut into multiple parts. Youtube is a very powerful tool for Vlogging as it allows individuals to share their video content on the main website as well as embed videos on blogs and websites. Vlogging is now becoming a major tool for sharing information and is playing a significant role in citizen media. Many amateur journalists, documentary filmmakers, human rights activists, NGOs, and social commentators have their own channels on Youtube and other video uploading websites. Not only do they have a following of millions of people but they have the ability to reach a very diverse audience all over the world with almost zero resources. As Susan Gordon from Facebook Causes said during the International Youth Conference and Festival 2010, “If every human rights activist had a video camera, it would have changed the world.”

To have your own video blog all you need is a camcorder and a computer with video editing software. Popular video editing programs for Vloggers include iMovie, Final Cut Pro, and Windows Movie Maker. Once you have made your Vlog, you will need to host it on a site (such as Youtube or Vimeo) and share it with the world.

Twitter:

Twitter offers free social networking and microblogging services, allowing its users to send and read messages called tweets. Each tweet is a short burst of information, up to 140 characters displayed. Users can choose which tweets to subscribe to (referred to as ‘following’ in the Twitter lingo). Tweets are publicly visible by default but senders can restrict message delivery to just their followers. Twitter is a very efficient, real-time information sharing tool in the social media sphere. Its simplicity and accessibility have made it a powerful tool for protests and campaigns, particularly in Egypt, Tunisia and Iran.