Categories
شاعری

سوختہ جسم کا لباس

سوختہ جسم کا لباس
لباس جل کر مرے بدن پر چپک گیا ہے
جلی ہتھیلی کی پشت سے ٗ بھولے بھٹکے شعلے
کہیں سے جو سر اُٹھا کے باہر
کو جھول جاتے ہیں ٗ اُن کو خود ہی دبا رہا ہوں
الاؤ سے باہر آکے
دہشت زدہ نگاہوں سے دیکھتا ہوں
کہیں سے اب ایمبولینس آئے گی میری جانب
کوئی مسیحا نفس سنبھالے گا آگے بڑھ کر
مگر یہاں تو
کوئی مسیحا نفس نہیں ہے
بدن سے چمٹی قبا کو خود ہی
بچی کھچی انگلیوں کی پوروں
سے چھو کے محسوس کر رہا ہوں
کہ جسم ہے یا جلا ہوا پیرہن ہے میرا
جو میری مٹی میں دھنس رہا ہے
اذیّتوں کی گواہی دیتا ہے خلیہ خلیہ
جکڑ گیا ہوں میں اِس کی پرتوں میں ٗ چاہتا ہوں
کہ کھینچ ڈالوں ٗ اُتار پھینکوں اِسے مگر اب
اِسے اتاروں
تو کھال میری ہی کھینچ لے گا
بچی کھچی انگلیوں کی پوروں سے ٗ ناخنوں سے
کریدنا بس میں اب نہیں ہے
جو پیرہن تھا
وہ پیرہن اب مرا قفس ہے
جو پیرہن تھا
وہ پیرہن اب مرا بدن ہے
Categories
شاعری

آخری موسم

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

[/vc_column_text][vc_column_text]

ہُو کا عالم
کہرے کی بے زار ردائیں
سینے میں در آتی خُنکی
دُھند کے بوجھل پن میں گم
خاموشی کا مٹیالا چہرہ
وقفے وقفے سے سسکی لیتا
سںّاٹا سانسوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے اُکتاہٹ کی سیلن
تہہ کے سینے سے سائے کی ہم آغوشی
اس پاتال میں زینہ زینہ منزل منزل
بھاری قدموں سے اُترو تو
موت کی پیلی آنکھیں
کھا جانے والی نظروں سے چہرے کو تکتی ہیں
جھانکتی آنکھوں کے زخمی پَٹ
کُہر سے بھر جاتے ہیں
فرش سے چپکا، آنے والے کو دیکھے تو
روشنی کے معدوم اعلان سے بھی
آنکھیں چُندھیا جاتی ہیں
پلکیں کھولتا ہے تو خنکی بھر جاتی ہے
زینے سے آنے والے کی صورت
دھُند میں کھو جاتی ہے
یخ بستہ سانسوں کے سنّاٹے کا منتر
چُپ کا جادو کرتے کرتے سو جاتا ہے
ہُو کا عالم اور بھی گہرا ہوجاتا ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

غلام گردش

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

غلام گردش

[/vc_column_text][vc_column_text]

خوشی!
عدم کے کسی جھروکے کی اوٹ سے جھانکتی نظر کا فریب کوئی
طویل بے رحم راستوں پر سراب کوئی
تمام شب جگنوؤں کو چُننے کا خواب کوئی
خوشی!
مسلسل وہ چند لمحوں کو سانس لیتا حباب کوئی
اداس تاروں کو چھیڑتی انگلیوں کے زخموں سے اٹھتے سُر کے
خیال میں گم رباب کوئی
خوشی!
وہ انصاف کے جزیروں سے دور اک بے نشان ساحل
ابھرتی موجوں پہ غرق ہونے کی داستانیں
نہ دسترس میں کوئی جزیرہ ٗ نہ کوئی ساحل
یہ عدل ٗ انصاف اور توازن
یہ بند مٹھی سے ذرّہ ذرّہ پھسلتی مٹّی
گمان کی اک منڈیر پر کچھ نشان ٗ عنقا کے بیٹھنے کا فریب جیسے
کسی کنارے ٗ ترازو تھامے مجسّمے کی سفید آنکھوں پہ معنویّت کی کالی پٹّی
وہی سیاہی ٗ اندھیرے کا ہے جو پیش خیمہ
وہ سنگ آنکھیں ٗ کہ جن میں پُتلی کبھی نہیں تھی
وہ جس کی تہ میں
کسی کرن کا گزر نہیں ہے
یہ منصفی کیا
خوشی ہے کیا
کچھ خبر نہیں ہے

Image: Jonathan G. Keller
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میری آنکھوں سے دیکھو

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میری آنکھوں سے دیکھو

[/vc_column_text][vc_column_text]

اک روز اپنے آپ کو میں نے
خلا کی وسعتوں سے جھانک کر دیکھا
تو وحشت میں پلٹ آیا
کہیں پر ‘دور’ اک نقطہ سا روشن تھا
کہ جس میں غور سے دیکھیں تو اک ذرّہ دکھائی دے
زمیں کہیے ‘زماں کہیے’ کہ اپنا آسماں کہیے
سبھی کچھ اُس میں گم پایا
!وہ اک ذرّہ
کہ جس کی وُسعتوں کو بانٹ کر ہم نے
کئی خطّے بنا ڈالے
ہر اک خطّے میں ہم نے سرحدیں بھی خوب کھینچی ہیں
سو اک سرحد کے اندر بھی کئی ٹکڑے نظر آئے
کہ جن ٹکڑوں کے ٹکڑوں میں کہیں اک شہر بستا ہے
کہ جس کے ایک ٹکڑے میں کہیں کوئی محلہ ہے
کہیں اُس کے کسی حصّے میں اک چھوٹا سا گھر ہو گا
اور اُس گھر کے کسی کمرے کے کونے میں
کوئی اپنی حقیقت لکھ رہا ہو گا

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پرندے کے پیر پر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پرندے کے پیر پر

[/vc_column_text][vc_column_text]

اک اندیشہ چپکا ہوا ہے
پلکوں کو یوں جکڑے ہوئے ہے
جیسے آنکھوں میں سوزش ہو
کوئی علامت ہو آشوب کی
وہ سیّال ہو جس کے شر سے
آنکھیں مَلناٗ کھولنا مشکل تر ہو جائے۔۔۔
بس پلکوں کی درزوں سے کچھ روشنی باہر کی آتی ہے
ناکافی ہے۔۔۔
پھر بھی ناکافی منظر نے
دل کو تھپکی دے رکھی ہے
“سب اچھا ہے
اس کو اچھا ہی رہنے دو
باہر کی چبھتی کرنوں کو
آنا ہو تو آ جائیں گی
اندیشے کا مادّہ آنکھیں کھولنے سے جو روک رہا ہے
روکے رکھو
خواب سہیٗ پر خواب نہ توڑو
جب تک یہ ناکافی منظر دیکھ سکو
بس دیکھتے جاؤ”

 

اندیشہ لیکن آنکھوں میں گھس کر دہرائے جاتا ہے
“منظر بدلا تو کیا ہو گا
خواب ہوا تو
ٹوٹ کے اور بھی کرچیں آنکھوں میں بھر دے گا
خواب نہیں تو
دھو لینے پر شاید سوزش بڑھ جائے گی”

 

اندیشہ اب تک چپکا ہے
آنکھیں اب بھی بند نہیں ہیں
منظر اب بھی ناکافی ہے
خواب حقیقت جانے کیا ہے
سوزش تو بڑھتی جاتی ہے
اندیشہٗ آشوب کا چیلا
دھیرے دھیرے آنکھوں کو بھرتا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Image: Outburst of fear by Paul Klee
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]