Categories
فکشن

قینچی چپل-آخری قسط

گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

 

آٹو مین، آئی ایم سوری یار تمہیں اس وقت جگایا ہے۔۔۔ دراصل ایک کَٹا کُھل گیا ہے” غازی صاحب نے اُس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی دوستانہ انداز میں کہا۔ “کَٹا کُھلنے” کا محاورہ فوجی زبان کب استعمال ہوتا ہے، عثمان کو اس کا اندازہ تھا۔

 

“That’s OK sir”اُس نے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ وہ ابھی تک جاگ رہا تھا اور ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ اس نے کتاب بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی اور پانی کی بوتل اُٹھا کے مُنہ سے لگا لی۔ غازی صاحب نے سائیڈ ٹیبل سے کتاب اُٹھا کے دیکھی۔

 

عجیب آدمی ہو یار، یہی بہت زیادہ کتابیں پڑھنے کی عادت نے تو تمہارا دماغ خراب کیا ہے”غازی صاحب نے بالکل ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔
“کون سی کتاب پڑھ رہے ہو؟ Tragedy of Errors ۔۔۔ یہ وہی ہے ناں جو اکہتر کی شکست پہ لکھی ہے ایک جرنیل نے؟؟ کمال ۔۔۔متین الدین صاحب نے؟ عجیب آدمی ہو یار، یہی بہت زیادہ کتابیں پڑھنے کی عادت نے تو تمہارا دماغ خراب کیا ہے”غازی صاحب نے بالکل ہلکے پھلکے انداز میں کہا۔ اسی اثناء میں عثمان نے پانی پی کر اپنے ٹریک سوٹ کا جمپر پہن لیا تھا۔

 

“عثمان بچے، چل، بابانیچے کھڑا ہے، تُم بھی چلو ایڈمرل سعید صاحب سے ملوانا ہے تمہیں” غازی صاحب نے آہستہ سے اُسے بتایا ۔

 

“ہیں؟” عثمان چونک گیا۔

 

“جی، وہ تمہیں دیکھنا چاہتے ہیں، وہ لیفٹیننٹ کمانڈر شہاب کو انکار کر کے تمہیں اپنی بیٹی کا رشتہ دینے کا سوچ رہے ہیں” لیفٹیننٹ کمانڈر غازی نے مصنوعی ناگواری سے، ایک اصلی گھونسا عثمان کی پیٹھ پہ مارتے ہوئے کہا اور دونوں ہنس پڑے۔

 

“یار لگتا ہے تمہارا پتہ کٹ گیا ہے۔آج جو بھاشن تُم نے وہاں بَک دیئے ہیں ناں، چوتیے۔۔۔ کیا کہوں تمہیں، اپنے پاوں پہ کلہاڑی چلا دی ظالم۔۔۔”غازی صاحب نے سرگوشی سی کی۔

 

“مطلب۔۔۔ ” عثمان نے کہا تو غازی صاحب نے بات کاٹ دی۔

 

“یار چینج رہنے دو، بس بوٹ پہنو اور چلو۔۔۔ اب کے وہاں کوئی بکواس مت کرنا۔ شائد تُمہیں واحد آپشن دی جانے والی ہے اور اسے غنیمت جانو” غازی صاحب کہتے ہوئے دروازے میں آکھڑے ہوئے۔ عثمان کو اپنے جسم میں سوئیاں چبھتی محسوس ہوئیں۔ اس نے تیزی سے جوگر پہنے، اپنا بٹوہ اور موبائل فون اٹھایا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔

 

“السلام علیکم سر” اُس نے ہلکی سی ایڑی اُٹھا کر دروازے کے سامنے کھڑے ہو کر واہلہ صاحب کو سلام کیا۔

 

“والسلام، بیٹھو عثمان”کمانڈر واہلہ نے جواب دیا۔ وہ ڈارائیونگ سیٹ کے ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھ گیا، غازی صاحب پچھلی سیٹ پر کمانڈر واہلہ کے ساتھ بیٹھ گئے۔

 

ایڈمرل سعیداللہ کے بنگلے کا یہ وسیع بیڈ روم بہت سادگی سے سجایا گیا تھا۔ پنکھا آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ ڈرائینگ روم کا ایئر کنڈیشنر حال ہی میں اتروا دیا گیا تھا۔
“تُم سو گئے تھے؟”کمانڈر واہلہ نے پوچھا۔

 

“نہیں سر، جاگ رہا تھا”عثمان نے پیچھے مُڑ کر جواب دیا۔ تھوڑی ہی دیر میں گاڑی شاہراہِ فیصل پر رواں دواں تھی۔ تمام سفر خاموشی سے گُزرا۔

 

“آو حنیف۔۔۔ یار چند منٹ پہلے ہی تمہارا نتظار کر کر کے میں نے بالآخر کافی پی ہی لی، اب میں ‘صُلاح’ تک نہیں ماروں گا”ایڈمرل سعیداللہ نے گرمجوشی سے کمانڈر حنیف واہلہ سے مصافحہ کرتے ہوئے مذاق کے انداز میں کہا تو دونوں افسران ہنس دیئے۔ عثمان بمشکل مسکرا سکا۔

 

ایڈمرل سعیداللہ کے بنگلے کا یہ وسیع بیڈ روم بہت سادگی سے سجایا گیا تھا۔ پنکھا آہستہ آہستہ چل رہا تھا۔ ڈرائینگ روم کا ایئر کنڈیشنر حال ہی میں اتروا دیا گیا تھا۔ حالیہ لوڈ شیڈنگ کے بحران کی وجہ سے ایڈمرل موصوف نے اپنے دفتر اور بنگلے کے نسبتاً غیر ضروری ایئر کنڈیشنر اُتروا دیئے تھے اور اپنے ماتحت کمانڈروں کو بھی یہی حکم دیا تھا کہ وہ بجلی بچائیں۔ وہ چاروں صوفوں پر بیٹھ گئے۔ ایڈمرل صاحب نے سر پر نماز کی ٹوپی پہن رکھی تھی جسے اُتار کر انہوں نے لپیٹا، میز پر رکھا اور لمبی سی سانس لی، ساتھ ہی کوئی دُعا پڑھی جسے کم از کم عثمان نہ سمجھ سکا۔

 

“لیفٹیننٹ عثمان۔۔۔؟” ایڈمرل صاحب نے عثمان کو مخاطب کیا۔

 

“سر۔۔۔ عثمان علی جدون۔۔۔ ” عثمان نے اپنا پورا نام بتایا۔

 

عثمان بیٹا، میرے پاس طویل مباحث کا وقت نہیں۔ تمہیں کچھ بتانا تھا۔ ملٹری جسٹس کی اصطلاح اتنی ہی بے تُکی ہے جتنی ملٹری میوزک کی۔
“عثمان بیٹا، میرے پاس طویل مباحث کا وقت نہیں۔ تمہیں کچھ بتانا تھا۔ ملٹری جسٹس کی اصطلاح اتنی ہی بے تُکی ہے جتنی ملٹری میوزک کی۔۔۔ لہٰذا یہ مت سمجھو کہ تم بورڈ آف انکوائری کی بجائے دفع تیس کے مجسٹریٹ کی بارگاہ میں پیش ہو رہے ہو۔ باقی احوال تمہارے سامنے ہیں اور مدعایہ ہے کہ تمہارا کورٹ مارشل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ یا تمہاری آسانی کے لئے یہ کہ تمہارا کورٹ مارشل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔۔۔” ایڈمرل صاحب نے صاف آواز اور شستہ لہجے کی اُردومیں بات کا آغاز کیا۔ اسی اثناء میں اسٹیوارڈ کافی کے پانچ مگ لے کر آگیا اور ایڈمرل صاحب لحظہ بھر کو خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد کچھ دیر تک تو عثمان کو سمجھ نہ آئی کہ کمرے میں کیا باتیں ہو رہی ہیں۔ اس کے کان ایک لمحے کا سائیں سائیں کرنے لگے۔ شائد کافی کے بارے میں کچھ باتیں ہو رہی تھیں۔

 

” تو بیٹا تُم فوجی افسر ہو، تمہیں ان باتوں کا خود اندازہ ہونا چاہیئے کہ اس سوسائٹی میں جرنیلوں اور کمانڈروں کی ماتحتی کے تقاضوں کا خیال رکھنا ہر شے پر مقدم ہوتا ہے۔۔۔ اس کے علاوہ جَٹ لینڈ اور مڈوے میں لڑنے والے نیول افسر مر گئے لہٰذا پوری فوج کو تمہارے رومانس کے مطابق ماحول میں نہیں ڈھالا جاسکتا۔ تمہارا روشن خیالی کا کیڑا اپنی جگہ لیکن برخوردار، ہم تیسری دُنیا کا ایک مُلک ہیں، جہاں لبرل سیکیولر دانشور اور یہ پیس ایکٹی وسٹ لوگ کچھ بھی چیختے رہیں، جنگیں ہوتی رہیں گی کہ یہ جرنیلوں اور سیاستدانوں کی ضرورت بھی ہیں اور معاش بھی، لہٰذا سپاہ کو لڑانے کے لئے ہمیں جو محرک مناسب لگے گا، ہم استعمال کریں گے۔ اب تُم ایڈمرل جیکی فشر کے نہیں ایڈمرل سعید اللہ کے ماتحت ہو اور ایڈمرل سعیداللہ کا کہنا ہے کہ تُم اُس کے ناپسندیدہ افسر ہو اور وہ تمہاری فائل بند کرکے ہیڈکوارٹر بھجوانا چاہتا ہے۔ عثمان، یہ فوج کی افسری ہے، یہاں انصاف اس طرح ہوتا ہے کہ تم نے ایک سیلر کی ڈاڑھی کا مذاق اُڑایا اور تُم بورڈ آف انکوائری کے سامنے کھڑے ہونے والے ہو۔ اور ناانصافی اس طرح ہوتی ہے کہ تمہارے نیول کیریئر کے ختم کرنے کا فیصلہ میرے ذہنِ رسا نے اسی بنیاد پر کر دیا ہے” ایڈمرل صاحب نے بڑی روانی سے کہا لیکن عثمان کو یوں لگا کہ وہ کوئی ناگوار خواب دیکھ رہا ہے۔

 

“سر آپ اپنا آخری جملہ دُہرائیں گے پلیز؟؟” عثمان نے بمشکل، تھوک نگلتے ہوئے کہا۔

 

“جی بیٹا، تُم جس صورت حال میں ہو، میں تمہارے اس سوال کا نسبتاًواضح الفاظ میں بھی دینے کو تیار ہوں۔۔۔ میں تم سے سب کچھ کھل کے کہوں گا” ایڈمرل صاحب نے پہلو بدلا۔

 

“عثمان، تمہارا کورٹ مارشل ہو گا اور میں اس کے نتائج کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ اس کا دوسرا مطلب ہے کہ تم اپنا resign پیش کر دو تو میں تُم سے وعدہ کرسکتا ہوں کہ تمہیں سروس سے باعزت چلے جانے کا موقع مل جائے گا اور یہ رسوم و رواج کی رو سے تمہارا حق بھی ہے”ایڈمرل صاحب نے کافی کا مگ چہرے کے قریب لا کر کہا۔ عثمان نے اپنا مگ میز پر رکھ دیا۔

 

عثمان سے اُنہوں نے باقاعدہ معانقہ کیا۔ اُن سے عطر کی خوشبو آرہی تھی جو عثمان کو بلاوجہ ناگوار لگی۔ واپس یونٹ تک کا سفر خاموشی- بلکہ گھمبیر خاموشی میں گزرا۔
“You are a hard man sir…merely politician”عثمان دھیمی سی آواز میں منمنایا جسے کوئی سمجھ نہ سکا۔ لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی اور کمانڈر واہلہ نے اس کی طرف متجسس نظروں سے دیکھا۔

 

“Affirmative Sir” عثمان نے واضح آواز میں، فیصلہ کن انداز میں کہا۔ اُسے اپنے اندرسے چھناکے کی آواز سے آئی جیسے وہ اندر سے ٹوٹ گیا ہو۔ اس کے بعد کچھ دیر تک کمرے میں خاموشی رہی۔

 

“عثمان” ایڈمرل صاحب نے خاموشی توڑی۔
A soldier comes across such ironies in his life, so compose yourself and keep your pecker up!

اُنہوں نے کافی کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے بہت مصنوعی انداز میں کہا۔ اس کے بعد پھر خاموشی سی چھا گئی۔
“ویل جنٹلمین، فی امان اللہ۔۔۔اور۔۔۔” ایڈمرل صاحب نے اُٹھ کر ایک نامکمل سا جملہ بولا اور کمانڈر حنیف واہلہ کی طرف مصافحے کا ہاتھ بڑھا دیا۔

 

پھر عدیل غازی صاحب اور پھر لیفٹیننٹ کمانڈر خان بیگ سے ہاتھ ملایا۔ عثمان سے اُنہوں نے باقاعدہ معانقہ کیا۔ اُن سے عطر کی خوشبو آرہی تھی جو عثمان کو بلاوجہ ناگوار لگی۔ واپس یونٹ تک کا سفر خاموشی- بلکہ گھمبیر خاموشی میں گزرا۔ اُس رات وہ سحردم تک جاگا۔ کبھی اُس کا ذہن بالکل خالی ہو چکا ہوتا تو کسی لمحے اچانک سوچوں کی یلغار ہوتی۔اسی کشمکش میں اس کی آنکھ لگ گئی۔

 

چند روز بعد بورڈ آف انکوائری کے نتائج (Findings) سامنے لائے گئے جن میں عثمان کے خلاف پیشہ ورانہ غفلت کا الزام بھی تھا اور اس کے غیر معاشرتی یا “Antisocial”رویّوں کی شکایات بھی باتفصیل تھیں۔ ساتھ ہی عثمان نے اپنا استعفیٰ نیول سیکرٹری کو بھجوا دیا۔ ادھر پیٹی افسر خان زمان کے لئے چیف آف نیول اسٹاف کی تعریفی سند، پیٹی افسر سلیم اللہ مروت کے لئے تمغہء بسالت اور گلفام مسیح کے نام سے یونٹ سے شاہراہِ فیصل تک جانے والی سڑک کا نام منسوب کرنے کی سفارشات بھی مرتب ہو گئیں۔ نیول سیکرٹری کی طرف سے استعفے کی منظوری کے احکامات آئے تو چند روز میں ہی عثمان نے وردی اُتار دی اوروہ چند روز انتہائی غیر متوقع طور پر خاموشی سے گزر گئے۔ یونٹ کے اکثر چیف پیٹی افسران اور تمام افسران اسے فرداً فرداً ملے اور سب نے اس کے کیرئیر کے اس اختتام پر ہمدردی کا اظہار کیا لیکن اُسے اس سے کیا فرق پڑ سکتا تھا۔ سب لیفٹیننٹ شہلا حسن چھُٹی پر تھی اور اُس کی طرف سے باوجود شدید انتظار کے تسلّی و تشفی کا کوئی فون تک نہ آیا۔ الوداعی پارٹی بھی آفیسرز میس کے لان میں ہوئی لیکن ازحد بے رنگ اور اداس کردینے والی۔

 

ادھر پیٹی افسر خان زمان کے لئے چیف آف نیول اسٹاف کی تعریفی سند، پیٹی افسر سلیم اللہ مروت کے لئے تمغہء بسالت اور گلفام مسیح کے نام سے یونٹ سے شاہراہِ فیصل تک جانے والی سڑک کا نام منسوب کرنے کی سفارشات بھی مرتب ہو گئیں۔
“اوٹومین، بچے یہ مُلّا لوگ اپنے نظریات اور موقف میں بہت واضح اور کلیئر ہیں، میں غلطی پر تھا، یہ لوگ کنفیوز نہیں ہیں” اس تقریب میں اس موضوع پر لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل کے اس بالواسطہ تبصرے کے علاوہ کسی نے اس حوالے سے کوئی بات نہ کی۔۔۔

 

اتوار کا دن تھا۔ آفیسرز میس کے سامنے ایئر فورس کی گہری نیلے رنگ کی ڈبل کیبن گاڑی کھڑی تھی جس میں ایک سیلر نے عثمان کے کپڑوں کا بیگ اور بریف کیس رکھے جبکہ احسان نے اُس کی تمام کتابیں بھی کیبن سے پیچھے ڈال دی تھیں۔ گاڑی کے گرد کھڑے چند لفٹینوں نے الوداعیہ اشارے میں ہاتھ ہلائے اور عثمان، جو سفید شلوار قمیص اور سیاہ پشاوری کھیڑی پہنے شائد آخری بار اپنے باوردی ساتھیوں کو دیکھ رہا تھا، اندر سے اس اشارے سے چھلنی سا ہو گیا لیکن اس نے مسکرا کر ان کے سلام کا جواب دیا اور گاڑی چل پڑی۔ سب لیفٹیننٹ اسد اورلیفٹیننٹ سروش اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے تھے۔ احسان،جو ہمیشہ کی طرح اس کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اُس کے ساتھ ہنس ہنس کے باتیں کر رہا

 

تھا، اس لمحے اپنے جذبات پر قابو نہ پا سکا تو اس کی آنکھیں بھیگ گئیں۔ اُس نے فوراً دوسری طرف مُنہ پھیر لیا۔ گاڑی گارڈ روم پہ آ رُکی جہاں سے ائر فورس کے گن مین نے آبیٹھنا تھا۔ عثمان نے آخری بار مُڑ کر اپنے یونٹ کی طرف دیکھا۔ مسجد سے سیلرز اور چیف پیٹی افسرز میس کی طرف جانے والے فُٹ پاتھ پر چند لوگ ظہر کی نماز پڑھ کر آپس میں باتیں کرتے چلے جا رہے تھے۔ ایک دوسیلرز نے مُڑ کر اس کی طرف دیکھا بھی۔ حافظ ناصر اور چیف خطیب صبور بھی مسجد سے نکل کر فُٹ پاتھ پر آئے تو نجانے کیوں عثمان کی نظر ان کے پَیروں میں پہنی قینچی چپلوں کی طرف گئی۔۔۔

 

“بھیّا، اس قوم کو ایک دن جوتے پڑیں گے وقت کے ہاتھوں۔۔۔”اس نے احسان کو کہنی چبھوتے ہوئے کہا “جوتے پڑیں گے اور وہ بھی قینچی چپل۔۔۔” عثمان نے آنکھوں سے اُن کی طرف اشارہ کرکے کہا تو احسان، خُدا جانے مصنوعی یا حقیقی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا اور اُس کی گرد کے گرد اپنا دایاں بازو حمائل کر لیا۔

 

“اوٹومین۔۔۔ یار بس، ختم کر اس قوم کے جھنجھٹ۔۔۔ چل تُجھے گُل بائی سے ایسا کمال دودھ سوڈا پلاوں کہ تو سب کچھ بھوُل جائے گا۔۔۔” اور ساتھ ہی احسان کے اشارے پر ائر فورس کی نیلی گاڑی چل پڑی۔
Categories
فکشن

قینچی چپل-چوتھی قسط

گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
“یار ایک چیف کی جرات ہے کہ افسروں کو یوں بلیک میل کرے؟؟ یہ ایڈمرل سعیداللہ اور اپنے بابا جی جیسے ‘پاوے’ ہیں۔ یار یہ جرنیل لوگ ان مولویوں کے بہت ذیادہ چُوت چونچلے برداشت کرتے ہیں، پھر سونے پہ سہاگا یہ انٹیلی جنس والے ہیں۔ یار یہ انٹیلی جنس والے ہی تھے جنہوں نے دُشمن کے خلاف لڑنے کے لئے کرائے کے مجاہد بھرتی کر کر کے ہمارے پروفیشنلزم کو تباہ کیا اور ریگولر فوجوں کو لڑنے کا ڈھنگ ہی بُھلا کے رکھ دیا۔۔۔” غازی صاحب نے اپنے ‘بھاشن’ کا آغاز کیا جو قریب قریب ہر فوجی کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے، موقع ملا نہیں اور جیونیئر کی سماعتوں کی شامت آئی نہیں۔

 

یار یہ انٹیلی جنس والے ہی تھے جنہوں نے دُشمن کے خلاف لڑنے کے لئے کرائے کے مجاہد بھرتی کر کر کے ہمارے پروفیشنلزم کو تباہ کیا اور ریگولر فوجوں کو لڑنے کا ڈھنگ ہی بُھلا کے رکھ دیا
“میں تھوڑا ڈرا دھمکا کر حافظ کو ٹھنڈا تو کردوں گا، کوئی مذاق نہیں ہے افسر کے خلاف بلاسفیمی کا کیس آگے لے آنا۔ تُم شُکر کرو کہ ان کے ذہن میں یہ نہیں آئی کہ وہ کمانڈنگ آفیسر کی واپسی کا انتظار کر لیں۔ لیکن یار تُم بھی خیال رکھا کرو۔ ہو سکے تو حافظ کو اکیلے میں بُلا کر منافقانہ سی معذرت کر لو اور یہ پنگا ختم کرو۔ تُم اچھے خاصے خوش عقیدہ مسلمان ہو، کیوں اپنی شہرت خراب کرنا چاہتے ہو؟ میں نے سُنا ہے کہ تُم پیر مہر علی شاہ صاحب آف گولڑہ کے بھی بڑے مرید ہو، پھر تو تُمہیں چاہیئے کہ درویشوں کی طرح مُلّا سے بے نیاز رہ کر اپنے کام سے کام رکھو۔ یار آج کل مسلمان جتنی کنفیوز قوم ہیں ناں، مذہب کے معاملے میں ان کے جذبات اُتنے ہی inflammable ہیں ۔ مذہبی سوچ بنیادی طور پر سپہ گری کے لئے مضر نہیں ہے لیکن جتنا volatile مسلمانوں کا مذہبی مزاج ہو گیا ہے، یہ کسی بھی ادارے کے لئے خطرناک ہو گا، خواہ وہ جوڈیشری ہو، سیاست ہو یا صحافت۔

 

مُجھے اندازہ ہے کہ اس کمزوری نے خود ہمارے پروفیشنلزم پر بھی منفی اثر ڈالا ہے لیکن جہاں مُلک کی آبادی کی ایک واضح اکثریت مذہبی طور پر بُنیاد پرست ہو وہاں فوج کو سیکولر اقدار میں نہیں ڈھالا جا سکتا۔ میں جانتا ہوں کہ تبلیغی اجتماعات اور جلسوں میں جانے والے کتنے افسر اور سپاہی، ہمارے حالیہ جنگ کے دُشمن کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہیں ‘اپنے لوگ’ تک کہنے سے باز نہیں آتے۔ یار مذہبی سامراج نے ہمارے فوجی کو پروفیشنل کے بجائے دوغلا بنایا ہے جو دُنیا کے سامنے تو دہشت گردی کی جنگ میں امریکا کی حمایت کے دعوے بھی کرتا ہے اور دوسری طرف نیٹو کے کینٹینر لوٹنے والے پٹھانوں سے امریکی فوج کے بوٹ، وردیاں اور جیکٹ سستے داموں لے کر بصد فخر اسے مالِ غنیمت جان کر پہنتا پھرتا ہے۔ لیکن تُم، مسٹر عثمان، پریڈ گراونڈ اور مَیس کے محاذ پر ان اندر کے خطرات سے لڑ کر تُم غازی کہلاو گے ناں ہی شہید۔ اب تو یہ ایک معمولی سا مسئلہ ہے، آئندہ کے لئے محتاط رہو۔ یہ درخواست اوپر نہیں جائے گی، تُم یقین رکھو”لیفٹیننٹ کمانڈرغازی نے اپنی بات مکمل کرتے ہی اپنی پی کیپ پہنی جو اس محفل کے برخاست ہونے کا اعلان تھا۔ ساتھ ہی وہ اپنا چرمی ہینڈ بیگ اٹھا کر دفتر سے باہر نکل گئے ۔ عثمان بھی ان کے پیچھے پیچھے ہو لیا۔

 

جمعے کا روز تھا، کمانڈنگ آفیسر، کمانڈر حنیف واہلہ چھُٹی کے بعد آج پہلی بار دفتر آئے تھے ۔ لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی اُن کے پاس بیٹھے خود پہ جبر کر کے کمانڈر صاحب کی ‘دین کی باتیں’ سُن سُن کر تائید میں سر ہلائے جا رہے تھے ۔ ساتھ ساتھ ہی کمانڈر صاحب اپنے حالیہ سہ روزے کی برکات پر بھی روشنی ڈالے جا رہے تھے ۔ دونوں، فوجی کرٹسی یا مروّت میں ایک دوسرے کو سر کہہ کر مخاطب کر رہے تھے کیونکہ حنیف واہلہ اگرچہ عہدے میں اور کمانڈنگ افسر ہونے کی وجہ سے سینیئر تھے لیکن عدیل غازی سروس میں ان سے سینیئر تھے۔
اسی دوران فون کی گھنٹی بجی تو غازی صاحب نے سکون کا سانس لیا کہ شائد کچھ دیر کے لئے تو درسِ دین سے “تفریح” کا وقفہ نکل آیا۔

 

“السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکاتہ،” کمانڈر صاحب نے فون اُٹھاتے ہی خلافِ معمول دوسری طرف پر سلام داغ دیا۔
“الحمدللہ، بہت شکر ہے ربِ ذوالجلال کا۔۔۔”غازی صاحب صرف اُن کی باتیں ہی سُن سکتے تھے لیکن چند جملوں کے بعد انہیں اندازہ ہو گیا کہ یہ فون کال نیول انٹیلی جنس کے مقامی انچارج لیفٹیننٹ کمانڈر خان بیگ کی طرف سے تھی اور وہ حافظ ناصر کی درخواست کے بارے میں استفسار کر رہے تھے۔

 

“بلاسفیمی؟؟؟ یار مُجھے تو کُچھ پتہ نہیں ہے۔۔۔ ” کمانڈر حنیف نے فون پر کہتے ہوئے بھنویں تن کر غازی صاحب کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور اُن کا دوسرا ہاتھ اُن کی لمبی، چمکدار، سیاہ و سفید ڈاڑھی کی طرف بڑھ گیا۔غازی صاحب کا ماتھا ٹھنکا کہ اب ضابطے کے مطابق کارروائی ہونے کا مطلب تھا کہ عثمان کی پتلون کھینچنا ضروری ہو جانا تھا۔

 

میں جانتا ہوں کہ تبلیغی اجتماعات اور جلسوں میں جانے والے کتنے افسر اور سپاہی، ہمارے حالیہ جنگ کے دُشمن کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں اور انہیں ‘اپنے لوگ’ تک کہنے سے باز نہیں آتے۔
“یہ کیا قصہ ہے سر؟؟” کال ختم ہوتے ہی کمانڈر صاحب نے سوال داغ دیا۔

 

“سر قصہ تو معمولی سا ہے۔۔۔ پتہ نہیں این آئی والے کس چکر میں ہیں۔ عثمان نے میس ڈسپلن توڑنے پر ایک سیلر کو تھوڑی بُل شِٹ ماری جس پہ وہ سروس افیئر کی درخواست لے کر آگیا ۔۔۔” غازی صاحب نے عامیانہ سے لہجے میں کہا کہ بات گول ہو جائے۔

 

“آپ وہ درخواست لے کر میرے پاس آئیں۔ اور عثمان کو بھی بُلائیں” کمانڈر صاحب نے آہستہ سے کہا اور ایک فائل پر جُھک کر کچھ پڑھنے لگے۔ ساتھ ہی گفتگو کا موضوع بدل گیا۔

 

Ottoman! Save your ass!! غازی صاحب نے عثمان کو فون کیا تو بغیر سلام سلیک کئے ہی نعرہ لگانے کے انداز میں بولے۔”سی او صاحب بُلاتے ہیں۔۔ “عثمان نے مریل سی آواز میں “روجر سر” کہا اور فون رکھ دیا۔

 

اُس نے اُٹھ کر اپنے دفتر کے آئینے میں اپنے بال درست کئے، شانوں پر اپنے عہدے کے اپالٹ آگے کی طرف ڈھلکائے اور سی او صاحب کے دفتر کی طرف چل پڑا۔ سی او صاحب کے دفتر کے باہر ہی اُن سے سامنا ہو گیا۔ لیفٹیننٹ کمانڈر غازی بھی سی او کے ہمراہ تھے۔

 

“عثمان” سی او صاحب نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھا یا تو اُس نے سلیوٹ ادھورا چھوڑ کر ہی لپک کر انہیں مصافحہ کیا اور چہرے پر مصنوعی مسکراہٹ سجائے ‘السلام علیکم سر’ کہا۔

 

“تُم یہاں انتظار کرو، میں کچھ دیر کو آتا ہوں۔ تم سے کچھ بات کرنی ہے” کمانڈر حنیف واہلہ کا اُردو بولنے کا لہجہ ہی بتا رہا تھا کہ پنجابی کی کون سی بولی اُن کی مادری زبان تھی۔ اُنہوں نے تحکمانہ انداز میں عثمان کو حکم سُنایا اور برآمدے کی طرف نکل گئے جس کے باہر ان کی جیپ انکی منتظر تھی۔ عثمان کو شدید کوفت ہوئی کہ اُسے انتظار کرنا سخت ناپسند تھا۔ سی اوصاحب کے جانے کے بعد عثمان جاکر لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی کے دفتر میں جا بیٹھا جہاں سب لیفٹیننٹ شہلا، جو ان دنوں سی او سیکرٹری بھی تھی،کے سوا کوئی موجود نہیں تھا۔

 

سر قصہ تو معمولی سا ہے۔۔۔ پتہ نہیں این آئی والے کس چکر میں ہیں۔ عثمان نے میس ڈسپلن توڑنے پر ایک سیلر کو تھوڑی بُل شِٹ ماری جس پہ وہ سروس افیئر کی درخواست لے کر آگیا
“شہلا کچھ پتہ ہے کہ سی او صاحب کب تک آئیں گے؟” اس نے صوفے پر بیٹھ کر شہلا کی طرف دیکھے بغیر ہی پوچھا۔

 

“سر وہ نیول ہاوسنگ سوسائٹی تک گئے ہیں” شہلا نے اپنی گود میں رکھے چھوٹے سے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹاتے ہوئے بتایا۔ اُس کے پلکیں جھپکنے کے دلنواز انداز نے ایک لمحے کے لئے تو عثمان کے جسم میں بجلی سی لپکا دی۔
“کہاں گئے ہیں؟”عثمان نے دوبارہ پوچھا۔ شہلا نے مسکراتے ہوئے اپنا جملہ دہرایاتو عثمان بھی مسکراہٹ پہ ضبط نہ کر سکا۔

 

“Bullshit”اُس نے اسی طرح مسکراتے ہوئے زیر لب کہا اور اٹھ کر دفتر سے نکل آیا۔ اُسے معلوم تھا کہ اگلے ماہ ایڈمرل سعیداللہ کی بیٹی کی شادی متوقع تھی جس کے لئے ایڈمرل صاحب نے جہیز کے طور پر نیول ہاوسنگ سوسائٹی میں ایک بنگلہ صاحبزادی کو تحفہ کرنا تھا اور سی او صاحب ان دنوں بنگلے کی تیاری کےکام کو بھی دیکھنے جاتے تھے کہ یہ ان کی اضافی ذمہ داری تھی جس کا اضافی صلہ ملنا بھی عین ممکن تھا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ کافی دیر سے آنے والے تھے۔ عثمان باہر پریڈ گراونڈ کی جانب نکل آیا جہاں گنری انسٹرکٹر راو اکبر نوجوان سیلرز کو “Rules of engagement”یا مشکوک افرادکو للکارنے، روکنے، تلاشی لینے یا گولی مارنے کے ضوابط سکھا رہا تھا۔ پسینے میں شرابور انسٹرکٹر دھوپ میں مزید کالا پڑ گیا تھا لیکن پوری تندہی سے بآوازِ بلند بلکہ چلّا چلّا کر ہدایات دے رہا تھا۔ اس کا شمار گنری یا بحری توپخانے کے بہترین انسٹرکٹروں میں ہوتا تھا۔ عثمان پریڈ گراونڈ کے کنارے کھڑا خالی ذہن سے یہ نظارہ دیکھتا رہا۔ اس دوران صرف ایک ہی خیال اُس کے ذہن میں آیا اور اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی، اور وہ تھا علامہ اقبال کا وہ شعر جو راءو اکبر جوانوں کو اکثر سُناتا تھا:

 

فٹنس (Fitness) ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دَو میں
پہناتی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا

 

یہاں سے اُکتا کر وہ واپس دفتر آیا اور اور گارڈ روم پہ فون کر کے ہدایت کر دی کہ جونہی سی او صاحب واپس یونٹ میں آئیں، اُسے فون کر کے مطلع کردیا جائے۔ دفتری اوقات کا باقی وقت اُس نے لائبریری میں گُزارا تا آنکہ لائبریرین نے اعلان کیا کہ نمازِ جُمعہ کے لئے لائبریری بند کی جارہی ہے۔ وہ تیز قدموں سے نکلا تاکہ جلدی سے جامع مسجد فُرقان پہنچے جو گرد و نواح کے چند یونٹوں کی مشترکہ فوجی مسجد تھی۔”آج نمازِ جمعہ پھر وردی میں پڑھنا پڑے گی” اُس نے مسجد پہنچ کر وضو کرتے ہوئے سوچا۔ نماز کے بعد وہ مسجد کی سیڑھیوں پر بیٹھا بوٹ پہن رہا تھا تو اپنے دائیں جانب سی او صاحب کو بیٹھا دیکھ کر اُس کے ہونٹوں پہ بے ساختہ “لاحول ولا قوۃ”کا کلمہ آگیا۔”عثمان، میرے ساتھ چلو”سی او صاحب نے بھی سے دیکھ لیا تھا لہٰذا حُکم داغ دیا۔ قہرِ درویش بر جانِ درویش، وہ خاموشی سے سی او کے قریب، جو کہ ہنوز اپنے سفید بوٹ کے تسمے باندھ رہے تھے، جا کھڑا ہوا۔ چند لمحوں میں وہ سی او صاحب کے ہمراہ جیپ کی پچھلی سیٹ پر خاموشی سے بیٹھا تھا۔

 

پسینے میں شرابور انسٹرکٹر دھوپ میں مزید کالا پڑ گیا تھا لیکن پوری تندہی سے بآوازِ بلند بلکہ چلّا چلّا کر ہدایات دے رہا تھا۔ اس کا شمار گنری یا بحری توپخانے کے بہترین انسٹرکٹروں میں ہوتا تھا۔
“سر آپ میرے پاس آجائیں، حافظ۔۔۔، کیا نام بتایا ہے لڑکے کا، اُس کی درخواست کے ساتھ” سی او صاحب نے اپنی سیٹ پہ بیٹھتے ہی لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی کو فون کیا اور عثمان کو بیٹھنے کا حُکم نہ دیا تو عثمان کو محسوس ہوا کہ انگریزی محاورے کے مصداق اُس کے دل کی ایک دھڑکن قضا ہو گئی ہے۔

 

وہ سی او صاحب کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر خود ہی نیم ہوشیار سی پوزیشن میں ہو گیا۔ اگلے چند منٹ وہ خاموش کھڑا رہا۔ سی او صاحب نے اُسے یکسر نظر انداز کر کے اپنی میز کی دراز سے کوئی فائل نکالی اور سامنے رکھ لی۔ اسی دوران سب لیفٹیننٹ شہلا بھی خموشی سے آکر سی او صاحب کے سامنے کوئی فائل بچھانے لگ گئی۔ اسی اثناء میں لیفٹیننٹ کمانڈر عدیل غازی دفتر میں وارد ہوئے اور ان کے ہاتھ میں ایک سفید کاغذ تھا جو یقیناً حافظ ناصر کی درخواست تھی۔ غازی صاحب نے وہ کاغذ سی او صاحب کے سامنے رکھا اور کرسی کھینچ کے بیٹھ گئے۔ عثمان اس دوران بُت بن کر کھڑا رہا۔ اپنی چھے سالہ فوجی زندگی اور چارسالہ کمیشنڈ سروس میں اُس کے ساتھ تیسری دفعہ ایسا ہو رہا تھا کہ اسے ایک رنگروٹ کی طرح اپنے افسرِ بالا کے سامنے مجرم بن کر کھڑا ہونا پڑ رہا تھا۔ سی او صاحب درخواست پڑھ چکے تو اُنہوں نے چُٹکی سے اُسے ایک کونے سے پکڑکر ہوا میں لہرایا

 

“Did you pronounce these words?”اُنہوں نے سپاٹ لہجے میں پوچھا اور درخواست عُثمان کے ہاتھ تھما دی۔ اُس نے اسے سرسری نظر میں پڑھ کر ڈرتے ہوئے واپس میز پر رکھ دیا۔

 

“یس سر” عثمان منمنایا۔

 

“کیوں؟؟؟ تُم خود کوئی مفتیء اعظم ہو؟ یا خود کو کوئی بڑا جرنیل وغیرہ سمجھ رہے ہو؟؟؟”سی او صاحب نے باقاعدہ ڈانٹنے کے انداز میں کہا تو وہ بھانپ گیا کہ فوجی طور طریقوں کے مطابق اب “سر سر” کی گردان الاپنا ہی دافعِ بلیات نُسخہ ہو گا۔

 

“تُمہیں بات کرتے کوئی عقل نہیں ہوتی یا خود کو عقلِ کُل ہی سمجھنے لگ گئے ہو؟ تُم اسلامی شعائر کی توہین کرکے کیا سمجھتے ہو کہ تُم کوئی اینگلو انڈین برانڈ کے کلاسک فوجی افسر ہو، چوتیے؟؟؟؟” کمانڈر صاحب نے بلند آواز میں ڈانٹا تو دفتر میں گھمبیر خاموشی چھا گئی۔

 

“جوانوں میں ڈسپلن اس طرح کی حرکتوں سے پروان چڑھانا چاہتے ہو؟؟ تمہیں خود تو مہینے میں ایک دفعہ نماز پڑھنے کی توفیق ہوتی ہے، رمضان میں آدھا مہینہ تمہاری سِک رپورٹ ہوتی ہے، تُم کون ہوتے ہو پابندِ شرع قسم کے لوگوں پہ اُنگلیاں اُٹھانے والے؟؟”سی او صاحب نے اپنی ڈانٹ جاری رکھی اور اب تو غصے میں تھوک کا ایک بلبلہ ان کے ہونٹوں کے درمیان سے نکل کر ان کی ڈاڑھی میں اٹک کر ایک سیکنڈ بعد پھٹ گیا۔

 

“تمہارے بزرگوں کا۔۔۔ انٹیلی جنس والوں کا فون آیا تھا آج۔۔۔ رپورٹ ہو گئی ہے تمہاری اس حرکت کی بیٹا جی۔۔۔ اور میں تمہاری سائیڈ نہیں لینے والا، ڈنڈا دے سکتا ہوں حسبِ توفیق۔۔۔۔” کمانڈر واہلہ اس طرح کی زبان کم ہی استعمال کرتے تھے لیکن آج شائد ان کا غصہ بے مہار تھا اگرچہ اس معاملے میں سزا کا کُلی اختیار اُنہیں حاصل نہ تھا۔

 

“عثمان میاں، خطیب صاحب نے بذاتِ خود آج نمازِ جمعہ سے پہلے تمہارے رویے کی شکایت کی ہے۔ یہی کرٹسی ہوتی ہے افسروں میں؟؟؟ پتہ نہیں کس پُھدوُ نے تمہیں آئی ایس ایس بی میں افسر بننے کے لئے منتخب کیا تھا۔۔۔” اب ان کی آواز تو ویسی بلند نہ تھی البتہ غصہ شائد ویسا ہی تھا اور اس بات پہ عام حالات میں تو عثمان شائد ہنس بھی دیتا کیونکہ آئی ایس ایس بی میں واہلہ صاحب نے خود اسے “Strongly Recommend”کیا تھا۔ کچھ دیر خموشی رہی اور پھر حافظ ناصر کا ڈویژنل افسر لیفٹیننٹ تنولی، ہمراہ حافظ کے، دفتر میں آدھمکاتو عثمان کو بیٹھنے کا حُکم ملا۔

 

جوانوں میں ڈسپلن اس طرح کی حرکتوں سے پروان چڑھانا چاہتے ہو؟؟ تمہیں خود تو مہینے میں ایک دفعہ نماز پڑھنے کی توفیق ہوتی ہے، رمضان میں آدھا مہینہ تمہاری سِک رپورٹ ہوتی ہے، تُم کون ہوتے ہو پابندِ شرع قسم کے لوگوں پہ اُنگلیاں اُٹھانے والے؟
“حافظ، بچے اب کے میں نے عثمان صاحب کو زبانی وارننگ دے دی ہے، آئندہ ایسی بات نہیں ہوگی اور تم بھی ڈسپلن کا خیال رکھا کرو” سی او صاحب آواز میں نرمی لاکر حافظ سے مخاطب ہوئے۔ ساتھ ہی اُنہوں نے درخواست پر کچھ لکھ کر اسے ڈویژنل افسر کے حوالے کیا اور حافظ کو جانے کا اشارہ کر دیا۔ اُس کے جانے کے بعد سی او صاحب نے روئے سُخن عثمان کی طرف کیا۔

 

“Off!” اُنہوں نے ناگوار سے لہجے میں کہا اور عثمان بجلی کی پھرتی سے اٹھا اور سلیوٹ کر کے باہر نکل گیا۔
شام تک افسران اور سیلرز میں اس تمام کارروائی کی روداد کافی مرچ مصالے کے ساتھ پھیل چکی تھی جس کا سبب عثمان خود تھا۔

 

“ہم لوگ افسر نہیں ہیں، بھی نچود تھرڈ کلاس چپڑاسی ہیں جنہیں جس طرح جی چاہے ذلیل کر دو، خوار کردو۔۔۔ چیف خطیب اور اُس لونڈے کی شکایت پر آج بابے نے میری کُتے جیسی کی ہے۔۔۔”عثمان چلّا چلّا کر لیفٹیننٹ اسد کے سامنے اپنے دل کا غبار نکال رہا تھا تو کھڑکی کے باہر چند سیلر کھڑے سُن رہے تھے۔

 

“سر بائے دا وے سر عثمان ٹھیک کہتے ہیں، یہ مُلّا ٹائپ کے لوگ سروس ڈسپلن اور ٹریڈیشن کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔ ۔۔” سب لیفٹیننٹ شہلا نے اگلی صبح غازی صاحب سے گفتگو کا آغاز ہی ایک غیر متوقع جملے سے کیا تو وہ چونکے۔ شہلا کافی دیر سے دفتر پہنچی تھی آج۔

 

“ہاں۔۔۔لیکن اُس کا اظہار کرنے کا انداز ایسا ہے جیسے کوئی پیپلز پارٹی کا جیالا ہوتا ہے، جہاں مُنہ میں آئی، بَک دی۔ یہ فوج ہے شہلا بی بی۔۔۔”غازی صاحب نے مصنوعی ناگواری سے جواب دیا۔

 

“سر دراصل آج مجھے بھی ایک ایسی ہی سچویشن سے واسطہ پڑا ہے، آتے ہوئے۔۔۔”شہلا نے کہا۔

 

“کیا؟؟۔۔” غازی صاحب نے چونک کر پوچھا۔ ہوا یوں تھا کہ ایک سیلر کو شہلا نے راہ چلتے ہوئے سلیوٹ نہ کرنے پر چیک کر لیا تھا۔ اب جب اُسے ضابطے کے مطابق کچھ سُننی پڑیں تو وہ غُصے میں آ کے بولا “میڈم، مجھے کوئی مسئلہ نہیں، آپ میرے خلاف ڈسپلن کا چارج بنائیں، جب اللہ اور اُس کے رسول نے عورت کی اطاعت کا حکم نہیں دیا تو میں کسی کا زر خرید غلام ہوں کہ ایک عورت کو سلیوٹ کروں؟؟؟” غازی صاحب نے جو یہ سُنا تو ان کا رنگ غصے سے لال پڑ گیا۔
“کہاں ہے وہ مُفتی کی اولاد جو یہ فتوے دیتا پھرتا ہے؟؟؟”اُنہوں نے پوچھا۔

 

ہم لوگ افسر نہیں ہیں، بھین چود تھرڈ کلاس چپڑاسی ہیں جنہیں جس طرح جی چاہے ذلیل کر دو، خوار کردو۔۔۔ چیف خطیب اور اُس لونڈے کی شکایت پر آج بابے نے میری کُتے جیسی کی ہے
“سر میں نے اُس کے خلاف چارج بنوا دیا ہے، خان زمان کے پاس ہے” شہلا نے بتایا لیکن اُس کے چہرے کے تاثرات یہ سب کچھ بتاتے ہوئے اس قدر ناگواری کے تھے کہ کسی لمحے رو پڑے گی۔

 

“خان، اُس لڑکے کو ابھی میرے پاس لے کر آو” غازی صاحب نے فوراً فون اُٹھا کر کان سے لگایا اور خان زمان کا نمبر ملا کر مذکورہ جوان کے بارے حُکم داغ دیا۔

 

“کیا نام ہے مولوی تمہارا؟؟”سیلر کو جونہی دفتر میں پیش کیا گیا، غازی صاحب نے سخت ناگواری سے سوال کیا۔ یہ بھی باریش سیلر تھا جسے لیفٹیننٹ کمانڈر غازی بخوبی جانتے تھے۔ یہ سیلر سروس میں حافظ ناصر سے جیونئیر تھا اور یونٹ کی والی بال ٹیم کا بہت اچھا کھلاڑی تھا۔ چند ماہ قبل مہینے کے بہترین سیلر کاانعام بھی پا چکا تھا اور چیف صبور کے حلقہء ارادت میں تھا۔ “عبدالحمید، رائٹر ” سیلر نے اعتماد سے اپنا نام بتایا۔

 

“مولوی، تُمہارےشاندار سروس ریکارڈ کا کوئی فائدہ نہیں ۔۔۔ جو تُم نے بدتمیزی میڈم کے ساتھ کی ہے، فوج میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ بتاو تُم نے یہ بکواس کیوں کی کہ میں عورت کو سلیوٹ نہیں کروں گا؟؟” غازی صاحب نے اپنے غصے پہ ضبط کرتے ہوئے پوچھا۔

 

بحریہ کی روایات میں خواتین کے احترام کے حوالے سے یہاں تک بھی رواج ہے کہ بحری جہاز پر آنے والی کسی بھی عہدے یا حیثیت کی فوجی یا سویلین خاتون کو، عرشے پر کھڑا افسر سلیوٹ کرتا ہے خواہ وہ جہاز کا سینئر ترین افسر ہی کیوں نہ ہو اور وہ عورت ایک عام سویلین مہمان ہی ہو۔

 

“سر، میڈم کو سلیوٹ نہ کرسکنے کی وجہ یہ تھی کہ میری توجہ ان کی طرف نہیں تھی۔ پھر انہوں نے مجھے بُلایا تو میری غلطی ہے کہ میں نے سلیوٹ نہیں کیا۔ پھر انہوں نے میری بے عزتی کی اور مجھے کہا کہ اگر افسران کی عزت کرنے میں توہین محسوس کرتے ہو تو کوئی اور پیشہ اپنا لو۔۔۔اور اس طرح کی باتیں” اُس سیلر نے پورے اعتماد سے کہا تو ایک لمحے کے لئے شہلا کا رنگ فق ہو گیا۔

 

“سر، یہ ہماری افسرِ بالا ہیں، سر آنکھوں پہ، لیکن میرا جُرم یہ ہے کہ میں نے قرآن حدیث کی بات کی ہے کہ عورت اسفل ہے، اس کی حکمرانی کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے، عورت کی آبرو اس میں نہیں کہ وہ بے راہرو اور بے پردہ ہو کر۔۔۔” اُس سیلر نے خلافِ توقع جرح شروع کی تو غازی صاحب کا پارہ چڑھ گیا۔

 

“شٹ اپ۔۔۔ بکواس بند رکھو اپنی۔۔۔ ” غازی صاحب اُٹھ کر اُس کے قریب آکھڑے ہوئے۔

 

بحریہ کی روایات میں خواتین کے احترام کے حوالے سے یہاں تک بھی رواج ہے کہ بحری جہاز پر آنے والی کسی بھی عہدے یا حیثیت کی فوجی یا سویلین خاتون کو ، عرشے پر کھڑا افسر سلیوٹ کرتا ہے
“مولوی۔۔۔ تُجھے عورت کو سلیوٹ کرنا بُرا لگتا ہے ناں؟؟ ماں کے پاوں چھونا اور بہن کے سر پہ ہاتھ رکھنا بھی چھوڑ دے پھر۔۔۔”اُنہوں نے بہت ہی دھیمی آواز میں کہا۔

 

“اور میں تمہاری یہ مدد کر سکتا ہوں کہ تمہیں کسی ایسے علاقے میں بھیج دوں جہاں لیڈی افسر کا ہونا تو دور کی بعد ہے، تمہیں تشریف دھونے کے لئے پانی بھی نہیں ملے گا، بلوچستان کی ساحلی ریت سے استنجے کر کر کے تمہاری یہ حالت ہو جائے گی کہ ہگنے بیٹھو گے تو مٹی کے کھلونے بن بن کے نکلیں گے۔۔۔ سمجھے؟؟؟”غازی صاحب نے سخت غصے میں آکر کہا تو سیلر سہم سا گیا اور اُس نے سر جھکا لیا۔ شہلا بھی قدرے ڈر سی گئی۔

 

“Now get lost, bloody rascal!!”اُنہوں نے بہت بلند آواز میں ڈانٹ کر اُسے نکل جانے کا حُکم دیا ۔ سیلر نے ایک لمحے کے لئے شدید قہرآلود نگاہوں سے اُنہیں دیکھا لیکن پھر باہر چلا گیا۔ اس کے فوراً بعد اُنہوں نے اپنے کورس میٹ، کمانڈر ڈی۔اے کو فون کر کے اُس سیلر کا تبادلہ بلوچستان کے کسی کٹھن علاقے میں کروا دیا۔

 

“سر لڑکے کو کچھ زیادہ سخت سزا نہیں دے دی آپ نے؟” شہلا نے کہا۔

 

“جس طرح یونٹ کا ڈسپلن تباہ ہو رہا ہے، کچھ بھی زیادہ نہیں ہے یہ۔۔۔” غازی صاحب نے اُٹھ کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے سگریٹ سلگایا اور آہستہ سے جواب دیا۔
Categories
فکشن

قینچی چپل-دوسری قسط

گزشتہ اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
قسط نمبر-2
“بکواس بند کرو، یہ طریقہ ہے افسروں سے بات کرنے کا؟ تُم مولوی لوگ یہاں ڈسپلن کے ساتھ زنا کرتے رہو اور ہم اسلام سمجھ کے نظر انداز کر دیں تو چل نکلا فوج کا کام تو۔۔۔ دفع ہو جاو یہاں سے اور وردی پہن کے مُجھے رپورٹ کرو۔۔۔”عثمان چلّایا تو احسان نے آگے بڑھ کر اس کے شانے پر ہاتھ رکھا۔

 

“Ottoman please” احسان نے عثمان کا شانہ دبایا۔

 

“جوان تُم جاو اور صاحب جو کہتے ہیں، کرو” احسان نے آہستہ سے سیلر کو حُکم دیا اور عثمان کا ہاتھ پکڑ کر آفیسرز میس کی طرف چل دیا۔ آفیسرز میس تک وہ دونوں خاموش چلتے رہے۔ عثمان کے کمرے میں جاتے ہوئے عثمان پہلے سیڑھیوں پر چڑھا۔

 

“عثمان یار عقل سے کام لیا کرو، تُم پہلے بھی اس حوالے سے کچھ اچھی شہرت نہیں رکھتے ہو پھر دوبارہ مولویوں کے ساتھ پنگا لینے کی کوشش؟؟؟ کہاں کی دانائی ہے یہ؟ یہ اکیڈمی نہیں ہے جہاں تمہاری ہر طرح کی بارکنگ سُنی جاتی تھی، اور بالخصوص ایسے نازک معاملے پر۔۔۔” احسان نے کمرے میں آتے ہی کتابوں کی الماری کے سامنے کھڑے ہو کر عثمان کو ‘لتاڑنا’ شروع کر دیا۔

 

سول کپڑے پہن کر چھاونی میں ایسے گھوم رہے ہوتے ہیں جیسے منڈی میں آئے ہیں اور میس جیسی مقدس جگہ۔۔۔ اُف خُدایا، اپنے گُل محمد ڈرائیور ہوٹل سا ماحول بنا دیا ہے
“بھائی آپ کو نہیں اندازہ، نئی نسل کے سولجر میں پہلے سی فوجی آداب کی پاسداری کس طرح ختم ہو چکی ہے۔ سول کپڑے پہن کر چھاونی میں ایسے گھوم رہے ہوتے ہیں جیسے منڈی میں آئے ہیں اور میس جیسی مقدس جگہ۔۔۔ اُف خُدایا، اپنے گُل محمد ڈرائیور ہوٹل سا ماحول بنا دیا ہے” عثمان نے تولیے سے اپنا چہرہ رگڑ کر پونچھتے ہوئے کہا۔

 

“تو عثمان میاں، یہ تُم افسروں کی کمزوری ہے، لیکن معاملہ یہ نہیں۔۔۔ سروس کے بدلتے ہوئے ماحول کو دیکھو۔۔۔ اب میں تمہیں بتاتا ہوں کہ کیا ہو گا۔۔۔ وہ ہم لوگ ائر فورس میں جسے جنرل ایپلی کیشن کہتے ہیں۔۔۔ وہ کیا ہوتی ہے جب ایک سپاہی اپنے افسر کے رویّے کی شکایت کرتا ہے کمانڈ سے۔۔۔” احسان نے بات کرتے ہوئے حافظے پر زور دیتے ہوئے اپنی کنپٹی کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا۔

 

“جی، وہ سروس افیئر کی درخواست” عثمان نے لقمہ دیا۔

 

“ہاں، وہ سروس افیئر۔۔۔ تو یہ حافظ صاحب تمہارے خلاف سروس افیئر کی درخواست لکھ مارے گا۔۔۔ اور پھر بُھگتنا۔۔۔” احسان نے حتمی انداز میں کہا اور کچھ دیر تک دونوں خاموش کھڑے رہے۔

 

“یار عثمان تمہارا نظریہ بالکل درست ہے کہ سروس کو اپنے کلاسیکل ڈسپلن اور روایات برقرار رکھنے چاہئیں لیکن اس کا اظہار تم غلط انداز میں کر رہے ہو۔ اب اس معاملے میں مذہبی آ پڑے ہیں تو دیکھو کہ اب تمہارے آس پاس واسکو ڈی گاما کی تقلید میں نیول فیشن والی کوئی ڈاڑھی نہیں ملے گی بلکہ ساری سچی سُچی اسلامی ڈاڑھیاں ملیں گی۔ عثمان میاں نیوی میں یہ ڈاڑھیاں تینوں مسلح افواج سے زیادہ ہیں” احسان نے صبح کی پچکی پانی کی بوتل سے ایک گھونٹ پی کر کرسی پہ بیٹھتے ہوئے کہا۔

 

“بھائی صورتحال اتنی گھمبیر نہیں ہے جتنی آپ بنا رہے ہیں” عثمان نے بیڈ پہ نیم دراز ہوتے ہوئے اور اپنی سفید وردی اور سفید بیلٹ کو ڈھیلا کرتے ہوئے کہا۔

 

“نہیں میرے بھائی، ایسا ہی ہے۔ سروس میں نظامت تعلیمات اسلامی کے شعبے کے لوگ نظریاتی طور پر پہلے سے زیادہ بااختیار ہو گئے ہیں۔ دیکھ یار، ابھی چند سال پہلے تک نئے جہازوں کی افتتاحی تقریب میں جہاں کنواری لڑکی عرشے پر شراب کی بوتل توڑ کر جہاز کا افتتاح کرتی تھی، اب وہاں ایک چیف خطیب صاحب قرآن خوانی سے افتتاح کر رہے ہوتے ہیں اور جہاز کا پہلا کروز جدّے کا ہوتا ہے جو کہ کوئی بُری بات نہیں لیکن تمہارے سمجھنے کا نکتہ یہ ہے کہ وہ سینکڑوں سال پُرانی روایات ڈاکیارڈ کے ایک خطیب صاحب کی مداخلت پر ختم ہو گئی ہے تو کچھ بھی ہو سکتا ہے ان مُلّاوں کے کہنے پر۔۔۔ عثمان بچے، ہم ایک مسلمان نیوی یا فضائیہ کی حیثیت سے اپنی جو شناخت بنا رہے ہیں، وہاں اب ہمیں بہت سی نئی چیزوں کو برداشت کر کے سروس کے آداب کے کلاسیک برٹش مفہوم بھلانے پڑیں گے اور مولوی طبقے کے ساتھ بنا کر رکھنی پڑے گی، خواہ وہ ہمیں پیک کیپ کی جگہ عربوں والے عقل چوس ہی کیوں ناں پہنا دیں” احسان نے عرب رکاف کے لئے وضع کردہ اصطلاح کی وضاحت کے لئے ساتھ ساتھ ہاتھوں سے اپنے سر پر ایک خیالی رکاف بناتے ہوئے اپنی تقریر جاری رکھی۔ عثمان ایک بچے کی طرح سر ہلانے لگا۔

 

“لہٰذا” احسان پھر سے گویا ہوا۔

 

ابھی چند سال پہلے تک نئے جہازوں کی افتتاحی تقریب میں جہاں کنواری لڑکی عرشے پر شراب کی بوتل توڑ کر جہاز کا افتتاح کرتی تھی، اب وہاں ایک چیف خطیب صاحب قرآن خوانی سے افتتاح کر رہے ہوتے ہیں
“اگرچہ مجھے پتہ ہے کہ مذہبی ذہن ہمیں ملٹری ٹریڈیشن اور روایات کا کوئی ماڈرن متبادل نہیں دے سکتا۔ خیر، سرِ دست کام کی بات یہ ہی کہ تُم حافظ کو واجبی سی سزا ضرور دو تاکہ سروس ڈسپلن کا تقاضہ پورا ہو جائے لیکن کوئی ایسی ویسی بات ناں کہہ دینا جیسی پہلے بک دی ہیں تم نے، بونگے کہیں کے۔۔۔” احسان نے مُربّیانہ انداز میں کہا تو دونوں ہنس دیئے۔ عثمان کو اندازہ تھا کہ احسان کا اس کے پاس اتنا آنا جانا ضرور تھا کہ وہ نیول مزاج کو سمجھنے لگ پڑا تھا اور وہ اس سے قطع نظر مسلح افواج کے دیگر ماحول کو بھی گہرائی میں سمجھتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دونوں کمرے سے نکلے اور دفتر کی طرف چلے جہاں عثمان کو بطور آفیسر آف دی ڈے بیٹھنا تھا۔

 

دفتر کے سامنے چھوٹا پریڈ گراونڈ تھا جس کے ایک کونے میں حافظ ناصر وردی پہنے ہُشیار باش کی حالت میں کھڑا پیٹی افسر خان زمان کے سوالات کے جوابات دیئے جارہا تھا۔ عثمان ان دونوں کے سلیوٹ نظرانداز کرکے دفتر میں آ بیٹھا۔ احسان صوفے پر نیم دراز ہو کر کچھ گنگنانے لگا۔

 

“دو کولڈ ڈرنک۔۔۔ لیمونیڈ۔۔۔ یہاں بھیج دو” عُثمان نے کچن کا فون ملا کر کہا اور بائیں ہاتھ کی انگلیوں سے میز بجانے لگ گیا۔ وہ احسان کی طرف دیکھ کر کچھ یاد کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن احسان کی توجہ اس طرف نہ تھی۔ “سر، حافظ ناصر اسٹور اسسٹنٹ باہر موجود ہے۔۔۔ کیا حُکم ہے اس کے بارے میں؟”پیٹی افسر خان زمان نے دروازے میں آ کر سلیوٹ داغتے ہوئے کہا۔

 

“چیف صاحب، آپ کو معاملہ بھگتانے کی جلدی ہے یا یونہی سپاہیوں کے حق میں مدرٹریسا بنے پھرتے ہیں؟؟” عثمان نے مصنوعی ناگواری سے کہا تو خان بغلیں جھانکنے لگا۔

 

“اس کی چارج شیٹ بنا کر لے آئیں میرے پاس، میس میں ناموزوں لباس پہننے اور افسرِ بالا سے بدتمیزی کے الزامات میں” عثمان نے سگریٹ سُلگاتے ہوئے کہا تو خان زمان سلیوٹ کر کے پیچھے مُڑا۔

 

“چیف صاحب” عثمان نے اچانک کچھ یاد آنے پر اس دوبارہ آواز دی تو وہ ایک بار پھر مُڑا ۔

 

“سر” خان اُس کی طرف جھُکا ۔

 

” اُسے باہر دھوپ میں کھڑا رکھیں، تاحُکمِ ثانی۔۔۔” عثمان نے حُکم دیا اور اٹھ کر غسل خانے چلا گیا۔ کولڈڈرنک آچکے تو احسان ایک بار پھر اپنے صبح والے موضوع کی طرف آیا۔

 

“اوٹومین، تو ذرا وہ کتاب پڑھ میرے بھائی۔۔۔” وہ عثمان کو اکثر اوٹومین ہی کہہ کر پکارتا تھا۔

 

“بریگیڈیر جیمز ہارگیسٹ کی آپ بیتی ہے۔ وہ دوسری جنگِ عظیم میں اطالوی قید سے فرار ہونے والے چند سینئر ترین افسروں میں سے تھے۔ وہ چند جرنیل تھے جو ایک ہی کیمپ میں رکھے گئے تھے۔۔کمال کہانی ہے یار۔۔۔” احسان نے سگریٹ مانگنے کے لئے دو انگلیوں کا وکٹری سائن بناکر بڑھایا جس میں عثمان نے سگریٹ ٹھونس دی۔

 

چیف صاحب، نیک لڑکا ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ سروس ڈسپلن کے ساتھ اغلام کرتا پھرے اور افسروں سے سینگ لڑائے؟ آپ یہ بات اُسے سمجھا دیجئے گا پلیز
“جیمز ہارگیسٹ؟ وہ کون تھا بھلا؟” عثمان نے دھواں ہوا میں چھوڑتے ہوئے پوچھا۔

 

“یار ایک پارلیمنٹ ممبر تھا، پہلی جنگ عظیم میں بھی لڑ چکا تھا، تمہاری عمر میں تو لیفٹیننٹ کرنل تھا وہ۔۔۔ اس کی کہانی میں کمال کی بات یہ ہے کہ قید میں انہوں نے جعلی دستاویزات خود کس طرح تیار کر لیں، دستیاب وسائل میں۔۔۔” احسان نے سگریٹ بجھا کر کولڈ ڈرنک کا پہلا گھونٹ لیتے ہوئے اتنا ہی کہا تھا کہ عثمان کے موبائل فون کی گھنٹی بج اُٹھی ۔

 

“ہیلو” عثمان نے اپنے مخصوص انداز میں کہا تو احسان مسکرا دیا۔ دوسری طرف سے سلام ہوا تو عثمان پہچان گیا ۔ یونٹ کے چیف خطیب قاری عبدالصبور صاحب تھے۔

 

“چیف صاحب، ارشاد ہو، کیسے یاد فرمایا” اگرچہ عثمان کسی حد تک بھانپ گیا تھا کہ صبور صاحب کس کام سے فون کر سکتے ہیں لیکن اس نے مصنوعی خوش اخلاقی سے کہا۔

 

“سر ہمارا عزیز ہے، حافظ ناصر۔۔۔ سُنا تھا آپ کو ناراضی ہوئی ہے اس سے۔ سر میں نے اسے کہہ رکھا ہے کہ میری غیر موجودگی میں نماز کی امامت کروا دیا کرے، سو اکثر مسجد میں ہوتا ہے، میں نے اس کی ڈیوٹی واچ بھی معاف کروا رکھی ہے۔ سر آپ بھی مہربانی کر کے جانے دیجئے، بڑا باعمل اور نمازی بچہ ہے”چیف صبور نے بڑے شیریں لہجے میں کہا۔ لاوڈ اسپیکر پہ احسان بھی سُن رہا تھا۔

 

“چیف صاحب، نیک لڑکا ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ وہ سروس ڈسپلن کے ساتھ اغلام کرتا پھرے اور افسروں سے سینگ لڑائے؟ آپ یہ بات اُسے سمجھا دیجئے گا پلیز”عثمان نے ناگواری سے کہا اور فون بند کر دیا۔

 

“یار اوٹومین، پھر وہی حماقت۔۔۔” احسان نے بھنویں تن کر کہا۔

 

“یہ جو خطیب صاحبان ہیں ناں، ان سے جرنیل بھی ذرا مہذب یعنی غیرفوجی زبان میں بات کرتے ہیں اور تُم ہو کہ۔۔۔ اچھا دفع کرو” احسان نے سر جھٹک کر اپنا گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔ عثمان اٹھ کر آئینے میں دیکھ کر اپنے بال درست کرنے لگا۔

 

“یہ جو چیف صبور ہے ناں، اس نے نیول ہیڈ کوارٹر میں سروس کے دوران ایک شیعہ کیپٹن کے بارے میں اُڑائی تھی کہ وہ قادیانی ہے، ایک بار تو سوشل لائف تباہ کر کے رکھ دی تھی اس بےچارے کی ۔۔۔لیکن یہ ایڈمرل سعید اللہ کا خاص تعلق دار ہونے کی وجہ سے محاسبے سے بچ گیا” احسان نے رزادارانہ انداز میں کہنا شروع کیا۔

 

“تمہیں تو یاد نہیں رہتا۔ ابّو ایک بار رائے ونڈ گئے تھے سہ روزہ لگانے۔۔۔ یہ چیف صبور اور ایڈمرل سعیداللہ بھی وہیں تھے۔ ابّو ان کے بارے میں خوب جانتے تھے۔ یہ مکتبِ فکر تعداد میں بے شک کم ہے لیکن فوج کی ‘ریلیجس برانچ’ یا جسے تم ۔۔۔ کیا کہتے ہو۔۔۔ نظامتِ تعلیماتِ اسلامی، اُس میں قریب قریب سارے افسر اور خطیب اسی پارٹی کے ہیں کاکا۔۔۔” احسان ہمیشہ عثمان کو ڈرانے کے لئے ایسی باتیں سمجھاتے ہوئے بڑا گھمبیر لہجہ طاری کر لیتا تھا تاکہ وہ ان کا اثر لے۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ان کے خاندان کا واحد کمیشنڈ افسر کسی احمقانہ حرکت کی وجہ سے کسی مصیبت میں پڑے۔

 

حافظ ناصر کو آفیسر آف دی ڈے کے دفتر کے سامنے باوردی دھوپ میں کھڑے ہوئے ایک گھنٹہ بیت چکا تھا ۔
“اچھا چھوڑیں بھی، آپ بتا رہے تھے، کسی ناول کے بارے میں۔۔۔”عثمان نے موضوع بدلنے کی کوشش کی۔

 

“جی ہاں، الوداع کیمپ نمبر بارہ۔۔۔ کمال کہانی ہے یار یہ”احسان نے چونک کر اس ناول کا ذکر دوبارہ چھیڑا جو پہلے چیف صبور صاحب کا فون آنے کی وجہ سے ادھورا رہ گیا تھا لیکن اسی لمحے دروازے ہی ہلکی سی دستک ہوئی اور ساتھ ہی پیٹی اافسر خان زمان نمودار ہو ا۔

 

“سر یہ رہی چارج شیٹ، حافظ ناصر باہر کھڑا ہے” خان زمان نے لمبے اوراق والی ایک کتاب سی کھول کر سامنے رکھ دی اور بال پین جیب سے نکال کر عثمان کو تھمایا۔

 

“ٹھیک ہے، اس لڑکے کو کہو کہ جب تک میری اجازت نہ ہو، یہیں کھڑا رہے، یہاں سے ہلا تو میں ایلیفنٹائز کر دوں گا۔۔۔ ایلیفنٹائز تو سمجھتے ہیں ناں چیف صاحب؟؟؟” عثمان نے چارج شیٹ پر دستخط کرتے ہوئے سختی سے کہا۔ خان زمان نے ہلکے سے مسکرا کر “یس سر” کہا اور سلیوٹ کر کے کتاب بغل میں ڈالے باہر چلا گیا۔ ہاتھی کے عضوِ مخصوص کا ذکر ڈسپلن کے نفاذ کی مد میں کئی فوجی ایک آلہ کار کے طور پر کرتے رہتے ہیں۔

 

“اوٹومین، یارا چلیں خٹک کی کینٹین پر ، سموسے کھاتے ہیں۔۔۔”احسان نے اچانک تجویز پیش کی۔

 

“یہیں ناں منگوا لیں؟”عثمان نے ناک چڑھا کر کہا۔

 

“نئیں یار۔۔ چل اُٹھ، وہیں چلیں” احسان نے حتمی لہجے میں کہا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔ عثمان بھی کندھے اچکا کر اٹھ کھڑا ہوا اور دونوں دفتر سے باہر نکل گئے۔

 

حافظ ناصر کو آفیسر آف دی ڈے کے دفتر کے سامنے باوردی دھوپ میں کھڑے ہوئے ایک گھنٹہ بیت چکا تھا۔ پسینے کے قطرے اس کی پیشانی، چہرے اور ڈاڑھی پر سے، جو ٹھوڑی اور رخساروں پر کہیں کہیں، بے ترتیبی سے اُگی تھی، اور ناک کے پھننگ سے ٹپک ٹپک کر وردی پہ گر رہے تھے۔وہ زیرِ لب کچھ بڑبڑائے جا رہا تھا۔

 

“حافظ، تُم یہاں کس چکر میں؟؟؟”عقب سے اسے ایک جانی پہچانی آواز آئی۔ یہ لیڈنگ اللہ نواز خان نیازی تھا جس کاتعلق نیول انٹیلی جنس سے تھا اور بوٹ کیمپ کے دنوں سے، جب ناصر کی مسیں پوری طرح نہیں بھیگی تھیں، اُس پر “کافی” مہربان تھا۔ وہ اکثر سول کپڑے پہنے گھومتا پھرتا اور ادھر اُدھر کے دیگر متعلقہ اور غیر متعلقہ معاملات کی خبریں لیتا اور چغلیاں کھاتا رہتا تھا۔

 

نیازی چونکا اور اس کے اندر کے جاسوس نے انگڑائی لی۔ اس کی معاش ہی انہی چھوٹی چھوٹی جاسوسیوں اور چغل خوریوں کے ساتھ وابستہ تھی اور اس میں اس کا چنداں قصور نہ تھاکہ اس کو اس کے ادارے کی طرف سے یہ عادت بصد فخر ڈالی گئی تھی
“سر جی، وہ انگریز بہن چود ہے ناں، اُس نے سزا دے رکھی ہے” حافظ ناصر نے سخت ناگواری سے کہا۔ نیازی کو خبر تھی کہ لیفٹیننٹ عثمان کو سیلر لوگ پیٹھ پیچھے انگریز کے نام سے ہی پکارتے تھے۔

 

“بھڑوا۔۔۔ اسلام کے ارکان کے بارے میں ایسی بکواسیں کر رہا تھا کہ کیا بتاوں آپ کو سرجی۔۔۔”حافظ نے نیازی کے ساتھ بے تکلفی کے مراسم سے شہ پاکر لیفٹیننٹ عثمان کی روح کو گالیاں ہدیہ کرتے ہوئے کہا۔

 

“اچھا؟؟؟” نیازی چونکا اور اس کے اندر کے جاسوس نے انگڑائی لی۔ اس کی معاش ہی انہی چھوٹی چھوٹی جاسوسیوں اور چغل خوریوں کے ساتھ وابستہ تھی اور اس میں اس کا چنداں قصور نہ تھاکہ اس کو اس کے ادارے کی طرف سے یہ عادت بصد فخر ڈالی گئی تھی، اس کی سوچ کو اتنا ہی پروان چڑھنے دیا گیا تھا۔ حافظ ناصر اپنے الفاظ میں کہانی سُنا چکا تھا، اسی اثناء میں نیازی نے اشاروں میں ہی خان زمان سے دعا سلام کرلی تھی اور حافظ سے بات کرنے کی اجازت بھی لے لی تھی۔

 

 

چوتیا انسان ناں ہو تو” نیازی نے نفرت کے ساتھ ایک اور گالی ہولے سے داغ دی۔
“حافظ، تم اس کے خلاف سروس افیئر کی درخواست لکھو، یقین کرو اس کی پھٹ کے گلے میں آجائے گی، تم لکھو کہ اس نے اسلامی شعائر اور سُنّت کے بارے میں گستاخانہ باتیں کی ہیں، پھر دیکھنا تماشہ”نیازی نے رازداری سے کہا ۔ ناصر کے چہرے پر ایک شریر سی فاتحانہ مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ نیازی نے حافظ کا شانہ تھپتھپایا اور چلتا بنا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“یہ کیا ہے۔۔ ۔سگنل ہے کوئی کمانڈر کراچی کے۔۔۔” عثمان اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے، میز پر پڑے فیکس کی طرف دیکھتا دیکھتا رُک گیا۔

 

“Horseshit!!!” اس نے وہ فیکس پڑھ کر ایک طرف رکھ دی۔

 

“بھائی، ایک تو میں وار آن ٹیرر والے ناٹک سے بہت تھک گیا ہوں۔ دُشمن ہمارے چاروں طرف ہے، موت سر پر منڈلا رہی ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم زمانہء امن میں ہیں اور آپریشن تو بس سرحد میں کہیں ہو رہا ہے۔۔ پھر اچانک موت آ پڑتی ہے کسی ایسی جانب سے کہ کسی کو گمان بھی نہیں گزرتا” عثمان نے فیکس پڑھ کر ایک نیا موضوع چھیڑ لیا۔
“کیا ہے اس میں؟” احسان نے میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا ۔

 

چار مارشل لاء، طالبان کا جنم، بدبودار قسم کا سیاسی کردار اور اس طرح کے داغ ہیں خاکی وردی پر، جنہیں فوجی نے تن تنہا خون سے دھونا ہے خواہ دُھلنے میں کئی سال لگیں۔
“وہی روز روز کی تنبیہ کہ ہمارے یونٹ اور گردو نواح کی ائر فورس کی تنصیبات پر دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ ہے، محتاط رہیں، یہی ہدایات وغیرہ۔۔۔” عثمان نے فیکس اُٹھا کر عثمان کی طرف اچھال دیا۔ وہ آئے روز اس طرح کی دھمکیا ں پڑھ پڑھ کے اُکتا گیا تھا اور حقیقی خطرے اور متوقع خطرے کے درمیان کی حدِ فاصل سے دُور نکل آیا تھا۔۔۔
“ہم وہ بد قسمت لوگ ہیں یار ۔۔۔ بے وقوف قوم کہوں تو بہتر رہے گا یار۔۔۔کہ ہمارا خون رائیگاں بہہ رہا ہے اور ہم ابھی تک دشمن کو دشمن ہی نہیں سمجھ رہے، اس جنگ کو اپنی جنگ تو کیا، محض ایک جنگ ہی تسلیم نہیں کر رہے تو لڑیں گے کیا؟”احسان نے چکنے سے کاغذکو گود میں لے لیا اور لمبی سانس لے کر بولا۔

 

“کس کا ذہن مانتا ہے کہ یہ اتنی بڑی جنگ ہمارے دشمن تخریب کار ، امریکا اور بھارت کی طرف سے لڑ رہے ہیں۔۔۔ بھارت ہماری اندرونی تباہی سے کوئی فائدہ اٹھانے سے تو یقیناً باز نہیں آئے گا لیکن یار وہ ہم سے اتنی بڑی انگلی نہیں لے سکتا” عثمان آہستہ سے بولا۔

 

“یارا، امریکا اور بھارت، کتنے ہی بد خواہ اور بد طینت ہوں، پاکستان کو اس حد تک تباہ حال کرنا بھی نہیں چاہتے جس حد تک یہ مادرچود طالبان اور دیگر شدت پسند ہمیں تباہ کرنے پہ تُلے ہیں۔ پھر یہ دشمن تو واضح طور پر وہی لوگ ہیں جن کی ایک بڑی تعداد خود ہمارے ہاتھوں کی پلی ہوئی ہے۔ اب تُم اور میں ایک جھنڈے کے نیچے لڑ رہے ہیں جبکہ یہ جنگجو فری لانس ہیں، جو کوئی ان سے پراکسی جنگ لڑوانا چاہے، انہیں ڈالر یا ریال دے اور لڑوا لے۔۔۔ لیکن کھیل اتنا سادہ بھی نہیں ہے۔ خیر، بے شک کوئی بھی لڑ رہا ہو، اگر ہمیں ان کی شناخت نہیں بھی ہو رہی تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان سے لڑنا ہمارا قومی فریضہ نہیں ہے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں ان سے نہ صرف لڑنا ہے اور بالخصوص ہم فوجیوں کو یہ بات ذہن نشین کرکے لڑنا ہے کہ ہمارے کارناموں کو کوئی سراہنے والا نہ ہو گا بلکہ ہمارا بہتا ہوا خون مکافاتِ عمل کی ستم ظریفی گردانا جائے گا کہ یہ طالبان کا بیج بھی تو پہلے کے جرنیلوں کا بویا ہوا ہے۔ عُثمان، ابھی دیکھنا ہم نے کتنے سر بھینٹ چڑھانے ہیں لیکن یہ بات بھی یارہے کہ اس جنگ سے کوئی عزیز بھٹی پیدا نہیں ہوگا۔۔۔ مطلب اُس سے بھی دلیر لوگ مریں گے لیکن یاد کسی کو نہیں رکھا جائے گا۔ ایسے میں یہ بھی بڑی بات ہے کہ ہم، فوجی لوگ، اگلے ایک دو سال تک لڑ لیں اور گھٹنے نہ ٹیکیں اور یہی امتحان ہوگا ہماری عظیم اور شہرہء آفاق سپاہ کا۔۔۔” احسان کو پتہ ہی نہ چلا کہ اُس کی آواز بلند ہو گئی۔

 

ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے اور جسے وہ ہمارے خلاف شدت سے استعمال بھی کر رہا ہے، ہم خود اس ہتھیار کی محبت میں مبتلا ہیں۔ وہ ہے مذہب۔
“لیکن گلوری اور عظمت کی خود فریبی کے بغیر ہم کس طرح لڑ سکتے ہیں جبکہ آپ کے خیال میں یہ سارے ویٹرن حرفِ غلط کی طرح مٹ جائیں گے؟”عثمان نے احسان کی طرف دیکھے بغیر کہا۔

 

“یہ ہونا ناگزیر ہے۔ چار مارشل لاء، طالبان کا جنم، بدبودار قسم کا سیاسی کردار اور اس طرح کے داغ ہیں خاکی وردی پر، جنہیں فوجی نے تن تنہا خون سے دھونا ہے خواہ دُھلنے میں کئی سال لگیں۔ ایسے میں ان قربانیوں کو قوم قبول نہ بھی کرے تو ہم کیا کہہ سکیں گے؟ ہمارا دوسرا بڑا سردرد یہ ہے کہ۔۔۔” احسان صوفے پر نیم دراز ہو کر بولا۔

 

“ہمارے دشمن کے پاس جو ہتھیار ہے اور جسے وہ ہمارے خلاف شدت سے استعمال بھی کررہا ہے، ہم خود اس ہتھیار کی محبت میں مبتلا ہیں۔ وہ ہے مذہب۔ چلو مجھ پر تو تم دہریت کا فتویٰ لگانے سے بھی باز نہیں آتے لیکن تم خود تو اسلام کے ساتھ لگاو رکھتے ہو، تاریخ اسلام اور فروعاتِ دین کے بھی قائل ہو، تُم خود انصاف سے دیکھو کہ اسلام کے نام پر ہمارے ساتھ کیسے کیسے دھوکے ہوئے ہیں۔ ایمان، تقویٰ، جہاد فی سبیل اللہ کا جو نعرہ ہم نے اپنے سپاہی اور مجاہدکو کمیونزم کے خلاف لڑنے کے لئے سکھایا تھا، آج ہمارے گلے میں ایسا پھنسا ہے کہ ہم سے یہ نعرے سیکھنے والے آج ہم سے ذیادہ متقی اور مجاہد بن کر اب ہم پر اپنا قانون اور حُکم لگانے کی سوچ رہے ہیں۔۔۔”اسی اثناء میں خان زمان ایک بار پھر نمودار ہوا۔

 

“سر وہ لڑکا نماز پڑھنے کے لئے جانا چاہتا ہے”خان زمان نے حافظ ناصر کے بارے میں حُکم طلب کیا۔

 

“سزا تو ناں ہوئی، کرکٹ میچ ہو گیا ناں” عثمان نے نے غصے سے کہا، پھر گھڑی پہ وقت دیکھا۔

 

“اس وقت کون سی نماز ہوتی ہے، اُسے کہو بکواس بند رکھے”عثمان سے حکم پا کر خان زمان باہر چلا گیا۔

 

تھوڑی دیر تک کمرے میں خاموشی رہی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوا تو وہ دونوں اُٹھ کر کمرے میں چلے گئے۔ واپس آئے تو خان زمان نے بتایا کہ حافظ ناصر بغیر اجازت کے ہی بیرک میں چلا گیا تھا اور اس نے عثمان کا کوئی مزید حُکم ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

 

“Bloody Bugger” عثمان نے سر جھٹک کر اپنی ناگواری کا اظہارکیا۔

 

(جاری ہے)
Categories
فکشن

قینچی چپل – پہلی قسط

قسط نمبر-1

 

کافی دیر ہو چکی تھی کہ کھڑکی سے سورج کی روشنی کمرے میں آکر لیفٹیننٹ عثمان کے چہرے پر پڑنی شروع ہوئی لیکن اُس کی آنکھیں پوری طرح تب ہی کھلیں جب روشنی تھوڑی تیز ہوئی اور سیدھی اُس کی آنکھوں میں، جو کہ کافی پہلے ہی پرندوں کے چہچہانے کی آوازوں سے نیم وا ہو رہی تھیں، پڑنے لگی۔ کراچی جیسے شہر میں وہ ان چند خوش قسمت لوگوں میں تھا، وہ سوچنے لگا، کہ جن کی صبحوں کا آغاز بھانت بھانت کے پرندوں کی چہکاروں سے ہوتا ہے۔ وارڈروم میس کے اس چھوٹے سے کمرے کی کھڑکی جس باغیچے کی طرف کھلتی تھی، اس میں آم، چیکو، ناریل اور کیکر کے بہت سے، گھنے پیڑ تھے جن کے تنوں اور پتوں پر صبحدم پرندوں کے غول اکٹھے ہو کر اپنی اپنی بولیوں میں ایسا شور مچاتے کہ کبھی کبھی عثمان کو اتنا ناگوار گزرتا تھا کہ وہ زیرِ لب ان پرندوں کو انگریزی میں گالیاں بکنے لگتا اور اسے حیرت ہوتی کہ کیا واقعی یہ خُدا کی حمدوثناء کررہے ہیں؟ لیکن آج یہ سب کچھ اسے بھلا لگ رہا تھا کیونکہ آج اتوار کا دن تھا اور صبح کی پریڈ، ڈیوٹی،کلاس اور دیگر سرگرمیاں آج اس کے آرام اور پسندیدہ مشاغل یعنی آوارہ گردی اور مطالعے میں مخل نہیں ہونے والی تھیں۔ وہ کافی دیر سے خالی ذہن سے بستر میں لیٹا کھڑکی کے باہر نظرآنے والے آم کے پیڑ کے پتوں اور ان کے درمیان پھُدکتے پرندوں کو دیکھنے کی کوشش کرتا رہا جو تیز روشنی کی وجہ سے صاف نظر نہیں آرہے تھے۔ اس نے کبھی ان کی اقسام پہ غور نہیں کیا تھا۔

 

اُس نے سوچا کہ اگر وہ فلم میں کیپٹن جیک لیمبرٹ کا کردار ادا کرے تو آخری منظر میں کیسے ایک بھُوکے جنگی قیدی کی طرح کھانا کھائے گا جبکہ نرس جولیا جونز اُسے دیکھ کر زاروقطار رو رہی ہو گی ۔
“چیف صاحب” اُس نے فون پہ میس کا نمبر ملایا تو پیٹی افسر خان زمان نے فون اُٹھایا ۔”کچن والے اسٹیوارڈ کو بتا دیں کہ میرا ناشتہ کمرے میں پہنچادے ،فوراً ” اور فون رکھ کے اس کے ذہن میں خیال آیا کہ خان زمان ہمیشہ کھانے کے پیچھے شکاریوں کی طرح ہی کیوں پڑا رہتا ہے حالانکہ آفیسرز میس میں اُس کا کیا کام؟ اس سے اس کو خیال آیا کہ وہ ان دنوں جو انگریزی ناول پڑھ رہا ہے، اس کی کہانی میں بھی جب ہیرو جرمنوں کے جنگی قیدی کیمپ سے بھاگ کر اپنی سپاہ کے ہسپتال میں پہنچتا ہے تو وہ کس بے صبری سے کھاتا ہے۔ اسے یہ ناول بہت پسند آیا تھا اور وہ اس کے ہیرو کیپٹن جیک لیمبرٹ کے کردار سے اپنا موازنہ کر رہا تھا اور اسے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ اگر اس ناول پہ فلم بنائی جائے تو اس کرّہء ارض پر وُہی واحد شخص ہے جو کہ کیپٹن جیک لیمبرٹ کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسی اثناء میں اسٹیوارڈ کمرے میں آیا اور اس کے اشارے پر ناشتے کی ٹرے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے رکھ کر چلا گیا۔

 

وہ پُھرتی سے اُٹھا اور آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا۔اُنگلی سے بالوں کو سیدھا کرکے اُس نے ڈریسنگ ٹیبل پہ دھری پانی کی بوتل اُٹھا کر اُس سے کُلی کی اور کھڑکی سے باہر ایک زوردار پھوار ماری جس سے کچھ ٹھنڈے بخارات ہوا کے ساتھ خود اس پر بھی آ گرے۔اُس نے سوچا کہ اگر وہ فلم میں کیپٹن جیک لیمبرٹ کا کردار ادا کرے تو آخری منظر میں کیسے ایک بھُوکے جنگی قیدی کی طرح کھانا کھائے گا جبکہ نرس جولیا جونز اُسے دیکھ کر زاروقطار رو رہی ہو گی۔ یہ سوچ کر اس نے ایک ہاتھ سے سینڈوچ اُٹھایا اور پورا مُنہ کھول کر اسے منہ میں ٹھونس لیا اور دوسرے ہاتھ سے پانی کی بوتل کو اس زور سے بھینچا کہ وہ پچک گئی اور ساتھ ہی آئینے میں دیکھا کہ یہ منظر بڑا حقیقی تھا۔ کیچپ کے دو موٹے موٹے قطرے اُس کی باچھوں سے ٹپک کر اس کی آستین اور ہاتھ پر لگ گئے۔ اسی لمحے سب لیفٹیننٹ اسد کمرے کے دروازے کو ہلکی سی دستک دینے کے بعد کھول چکا تھا اور ادھ کھلے دروازے سے حیران کھڑا یہ منظر دیکھ رہا تھا۔ عثمان کو اس کی آمد کا اندازہ نہ ہوا۔ “آئی ایم سوری سر۔۔۔” سب لیفٹیننٹ اسد نے ہلکا سا کھانس کر متذبذب لہجے میں کہا۔ لیفٹیننٹ عثمان نے مُڑ کر دیکھا تو بوکھلا سا گیا۔ اس نے تیزی سے سینڈوچ نگل کر باقی ٹرے میں رکھا اور تولیہ اُچک کر مُنہ پونچھنے لگا۔

 

“کیا حال ہیں اسد؟”

 

اُس نے شرمندگی چُھپائے بغیر، ہاتھ صاف کرتے ہوئے پوچھا اور اسد کی طرف مصافحے کا ہاتھ بڑھا دیا۔

 

I am sorry to bother you, sir

 

سب لیفٹیننٹ اسد نے ایک بار پھر معذرت کرتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا۔

 

“سر دراصل مُجھے آج اچانک شفاء جانا پڑ رہا ہے ، میرے فادر وہاں ایڈمٹ ہیں ۔۔۔تو ایکس او صاحب نے کہا ہے کہ اگر آج آپ میری جگہ آفیسر آف دی ڈے۔۔۔”

 

اسد نے ذرا معذرت خواہانہ انداز میں کہنا شروع کیا لیکن عثمان نے اسے ہاتھ کے اشارے سے ٹوک دیا:

 

“اوکے،اوکے، ڈیوٹی؟کردوں گا، جاءو، اور میری طرف سے بھی انکل کی عیادت کرنا”

 

اس نے تیزی سے کہا۔ سب لیفٹیننٹ اسد نے نیم فوجی سا سلیوٹ کیا اور شکریہ ادا کر کے کمرے سے نکل گیا۔ عثمان نے بڑھ کر اندر سے چٹخنی بند کرلی اور دروازے کو ہلکی سی ٹھوکر ماری۔ Bloody… اس نے زیر لب ایک انگریزی گالی نامکمل چھوڑ دی۔

 

باقی سینڈوچ کھانے کے بعد اس نے تیزی سے شیو کی اور وردی پہن کر کتابوں کی الماری کے سامنے کھڑا سلیقے سے رکھی کتابوں کو گھورنے لگا۔Damn it!!! اس نے کتابوں کی الماری کو لات مار کر کسی ناول یا کتاب کا انتخاب کرنے کا ارادہ ترک کردیا کیونکہ ایک کتاب ہی کو دیکھ کر اسے خیال آیا تھا کہ آج احسان بھیا نے بھی اسے ملنے آنا تھا۔ “چلو آج بھائی کے ساتھ گپ شپ میں ہی وقت گذاریں گے”اس نے خود کلامی کے انداز میں کہا اور الماری بند کردی۔ وارنٹ آفیسر احسان، عمر میں اس سے دوسال بڑا تھا اور گریجوایشن کے بعد فضائیہ میں انگریزی کا انسٹرکٹر بھرتی ہو گیا تھا لیکن عمر میں بڑا اور عہدے میں چھوٹا ہونے کا احساس ان دونوں کی دیرینہ دوستی اور بے تکلفی میں کبھی حائل نہیں ہوا تھا۔ تمام خاندان اور اساتذہ کی نظروں میں احسان ایک بہت ذہین اور لطیف مزاج کا لڑکا تھا جسے کم از کم فوج میں نہیں آنا چاہیئے تھا البتہ عثمان اپنے فوجی باپ کے ورثے کا سچا وارث تھا۔ دونوں بھائی کتابوں کے رسیا تھے لیکن احسان وسیع مطالعے کا، اور عثمان کے برعکس دوراندیش اور بہت دھیمے مزاج کا آدمی تھا۔

 

لیفٹیننٹ عثمان چونکہ خود فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ وارنٹ آفیسر کا بیٹا تھا لہٰذا عمر بھر سپاہی کے طور پر محنت کرکے نان کمیشنڈ افسر بننے والے طبقے کے ساتھ مہربانی اور خوش اخلاقی سے پیش آتا تھا۔
“چیف صاحب” دفتر میں بیٹھتے ہی عثمان نے ڈیوٹی پیٹی افسر خان زمان کو آواز دی جو گارڈ روم کے سامنے کھڑا سگریٹ پی رہا تھا۔ خان زمان سگریٹ پھینک کر تیز قدموں سے اپنی توند کو سمیٹتا ہوا اور مونچھوں کا زاویہ فرمانبردارانہ سطح تک جھُکاتا ہوا دفتر میں وارد ہوا۔ “السلام علیکم سر” اس نے دفتر میں آتے ہی سلیوٹ کیا اور باچھیں پھیلا کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔

 

“آج تو صبح صبح آفیسرز میس میں پائے جاتے تھے جناب” عثمان نے عمر رسیدہ پٹھان پیٹی افسر سے چہل کرتے ہوئے خوش مذاقی سے کہا۔

 

“سر، بس وہ ڈیوٹی شیف سے کام تھا تو میں چائے پینے بیٹھ گیا وہاں۔۔۔ اب سر میں سیلرز میس جا رہا ہوں، ذرا ناشتے کا میعار چیک کر لوں وہاں” خان زمان نے کھسیانا سا ہو کر، خوشامدانہ سے انداز میں قریب قریب رکوع کی حالت میں آ کر ایک سلیوٹ کیا اور ساتھ باچھیں کانوں تک پھیلا دیں۔

 

لیفٹیننٹ عثمان چونکہ خود فضائیہ کے ایک ریٹائرڈ وارنٹ آفیسر کا بیٹا تھا لہٰذہ عمر بھر سپاہی کے طور پر محنت کر کے نان کمیشنڈ افسر بننے والے طبقے کے ساتھ مہربانی اور خوش اخلاقی سے پیش آتا تھا۔

 

“چیف صاحب، آپ ذرا آرام کریں، کیوں ناں آج میں ہی سیلرز میس کا معائنہ کر آوں، دیکھوں سپاہیوں کو کیسا کھانا دے رہے ہیں آپ لوگ۔۔۔”عثمان نے سگریٹ سلگاتے ہوئے کہا اور اٹھ کھڑا ہوا۔

 

“سر آپ کہیں تو میں بھی ساتھ۔۔۔” خان زمان نے ساتھ چلنے کا ارادہ ظاہر کیا لیکن عثمان نے سگریٹ ہونٹوں میں دبائے ہوئے ہاتھ کے اشارے سے اس کی بات کاٹ دی اور دفتر سے نکلنے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا۔

 

پاکستان نیوی کے زمینی یونٹوں میں چھاونیوں اور بحری جہازوں کے ماحول کا امتزاج ہوتا ہے جس میں جہازوں کی طرح ہر افسر ہر جوان سے بہت قریبی پیشہ ورانہ تعلق کی ڈوری میں بندھا ہوتا ہے جبکہ چھاونیوں کے ماحول کی طرح فوجی ڈسپلن اور ضابطوں کی بندشیں بھی اپنی جگہ قائم ہوتی ہیں لہٰذا بے تکلفی اور باہمی احترام کا ایک تناسب قائم رہتا ہے۔ لیفٹیننٹ عثمان کے لئے نیوی کا ماحول پھر بھی شروع شروع میں قدرے اجنبی تھا کیونکہ وہ فضائیہ کے گہوارے میں پلا ایک سپاہی ذادہ تھا۔

 

وہ ٹہلتا ٹہلتا سیلرز میس کی طرف جانے والی سڑک پہ پہنچا جس کے دونوں جانب ناریلوں کے پیڑ چونے اور گیرو سے ملبوس، ستونوں کی طرح ایستادہ کھڑے تھے۔ وردی کی پتلون کی دائیں جیب میں اس نے موبائل فون کا ارتعاش محسوس کرکے فون باہر نکالا، احسان کا فون تھا۔Ottoman!!!! اُس نے جونہی کال سُنی تو دوسری طرف احسان اپنے روائتی انداز میں بولا۔ “بھائی آگئے آپ؟”عثمان اسی قدم پہ رُک گیا۔اس نے ایڑی پر گھوم کر بائیں طرف دیکھا تو دور ،گارڈ روم سے احسان سادہ کپڑوں میں ملبوس ایک ہاتھ سے موبائل فون کان سے چپکائے اور دوسرا ہاتھ لہراتا ہوا اُسی جانب آ رہا تھا۔ “آج تو سیاہ کپڑوں پر واسکٹ بھی ہے بھیّا، مُفتی تو نہیں ہو گئے؟”عثمان نے احسان سے گلے ملتے ہوئے کہا۔ “نہیں، مسرور بیس کے حلقے سے ایم این اے بن گیا ہوں” احسان نے اسی طرح مذاقاً کہا تو دونوں قہقہہ لگا کر ہنس پڑے۔ احسان لمبے قد اور گوری رنگت کا ایک صحت مند اور ہٹا کٹا جوان تھا جس کی مردانہ وجاہت میں بڑا ہاتھ اسکی گھنی سیاہ مونچھ کا بھی تھا جبکہ عثمان دھان پان جسامت کا ایک گورا چٹا لیکن ڈاڑھی مونچھ صاف رکھنے والا لڑکا تھا۔ دونوں بھائی رسمی احوال پرسی کرتے ہوئے سیلرز میس کی جانب چلے۔ احسان کو معلوم نہیں تھا کہ عثمان اس کا ہاتھ تھامے کہاں لئے جا رہا تھا۔

 

“یار عثمان ایک کتاب پڑھی ہے اس ہفتے میں، لیکن کیا کہنے یار، ایکدم تمہارے ذوق کا سٹف ہے “احسان بولا۔

 

“ارے بھائی ، آپ چھوڑیں سب باتیں، جو ناول میں نے پڑھا ہے ناں، قسم سے آپ کو یقین نہیں آئے گا ، میں تین دن سے اس کے نشے میں ہوں” عثمان نے ایک دم اچھل کر احسان کے شانے پر ہاتھ مارتے ہوئے جوش سے کہا۔

 

“تمہارا کیا ہے، کوئی بھی ناول پڑھ لو، تمہاری یہی حالت ہوتی ہے،نشئی۔۔۔” احسان مصنوعی ناگواری سے بولا تو دونوں ہنس دِیئے۔

 

اسی اثناء میں وہ سیلرز میس کے سامنے پہنچ چکے تھے ۔ یہ یونٹ کی سب سے پرانی ، ایک ہال نما عمارت تھی جس پر ہلکا سُرمئی روغن کیا گیا تھا اور داخلی دروازے کے اوپر لکڑی کے ایک بورڈ پر Dining Hall لکھا گیا تھا جس کے ہجے ایک عرصے سے غلط لکھے تھے لیکن کسی نے اسکی طرف توجہ نہیں دی تھی۔

 

“آئیے بھائی، آپ نے کئی دفعہ مجھے ائر مین میس دکھائی تھی، آج میں آپ کو اپنے سپاہیوں کی میس دکھاتا ہوں”عثمان نے کندھے اچکاتے ہوئے میس کے دروازے کی طرف اشارہ کیا جہاں ناشتے کیلئے آنے والے سیلر اندر جاتے ہوئے انہیں مُڑ مُڑ کر دیکھ رہے تھے۔ یقیناً میس افسر نے بھی ایک عرصے سے ناشے کے وقت میں میس کا معائنہ نہیں کیا تھا۔

 

لیفٹیننٹ عثمان کو کھانے کے ہال میں دیکھ کر ہال میں بیٹھے تمام سیلرز پر خموشی چھا گئی، کاونٹر کے پیچھے کھڑے شیف نے جلدی سے اپنی شرٹ کے گریبان کے سامنے والے بٹن بند کئے جبکہ میس سیکرٹری، جو کونے میں کھڑا ویٹروں کو ہدایات دے رہا تھا، تیزی سے اپنے سر سے ٹوپی اتار کر عثمان کی طرف بڑھا۔
“شائد یہ ائرمین میس کے میعار کی نہ ہو لیکن ہم اپنے جوانوں کو راشن آپ سے ذیادہ ہی کھلاتے ہیں”عثمان نے شوخی سے کہا۔

 

” جی ہاں، تمہاری صحت سے بھی لگ رہا ہے کہ تمہارے ہاں افسروں کے حصے کا راشن بھی جوان کھا رہے ہیں” احسان نے اس کے پیٹ میں انگلی چبھوتے ہوئے کہا تو دونوں ایک بار پھر ہنس دیئے۔

 

لیفٹیننٹ عثمان کو کھانے کے ہال میں دیکھ کر ہال میں بیٹھے تمام سیلرز پر خموشی چھا گئی، کاونٹر کے پیچھے کھڑے شیف نے جلدی سے اپنی شرٹ کے گریبان کے سامنے والے بٹن بند کئے جبکہ میس سیکرٹری ، جو کونے میں کھڑا ویٹروں کو ہدایات دے رہا تھا، تیزی سے اپنے سر سے ٹوپی اتار کر عثمان کی طرف بڑھا۔

 

“السلام علیکم سر” سیکرٹری نے بغیر ٹوپی کے ہی سلیوٹ کے انداز میں سلام کیا۔ عثمان نے سر ہلا کر ‘وعلیکم السلام’ کہا۔

 

“لیڈنگ صاحب، ناشتے کا مینو کیا ہے؟” عثمان نے معمول سے ذیادہ رعب اپنی آواز میں پیدا کرنے کی کوشش کی اور سوال کیا۔احسان اس تصنع کو بھانپ کر زیرِ لب مسکرایا۔

 

“سر، سویّاں اور چنے کا چاٹ ہے، ساتھ چائے بھی ہے سر”میس سیکرٹری نے ادب سے مینو بتاتے ہوئے عثمان اور احسان سے باری باری مصافحہ کیا۔

 

“اور؟ باقی سب اچھا ہے؟ جوانوں کو کوئی مسئلہ؟”عثمان نے اسی لہجے میں پوچھتے ہوئے ادھر ادھر نظریں دوڑائیں۔ سیلر خموشی سے کھانا کھا رہے تھے ۔ کچھ جوان مکھیوں کی طرح بھنبھنا کر سرگوشیاں کر رہے تھے۔کٹلری اور پلیٹوں کے بجنے کی آواز احسان کے کانوں کو کچھ اجنبی تو لگی لیکن ناگوار نہیں۔ وہ فضائیہ اور بحریہ کی زندگی میں فرق اور اس کے پیچھے برسوں اور صدیوں کی روایات اور معاشرت کو خوب سمجھتا تھا۔

 

“سب اچھا ہے سر” میس سیکرٹری نے اب کی بار ایک چست سا سلیوٹ کیا اور عثمان اس کا جواب دیئے بغیر اپنے سفید بوٹ کی ایڑی پر گھوم گیا۔ہال سے نکلتے ہوئے احسان اس کے پیچھے تھا۔

 

“مولوی” ہال سے نکلتے ہی عثمان نے ایک سیلر کی طرف اُنگلی سے اشارہ کر کے اسے کرخت آواز میں پکارا۔ایک نوجوان سا سیلر جو کہ شلوار قمیص میں ملبوس تھا اور سر پر نماز کی ٹوپی پہنے تھا، عثمان کے قریب سے گذر کر باہر نکلا تھا، چونک کر مُڑا۔

 

“ہاں، تمہی کو بلایا ہے” عثمان سے آہستہ سے انگلی کے اشارے سے اسے بلاتے ہوئے کہا۔میس کے باہر برگد کے ایک پیڑ کے نیچے آکر عثمان پیچھے مڑا تو وہ سیلر خاموشی سے اس کے پیچھے آرہا تھا۔جبکہ احسان بھی خاموشی سے صورتحال سے بظاہر لطف اندوز ہو رہا تھا۔چھوٹی چھوٹی ڈاڑھی والے سیلر کی آنکھوں میں سُرمے کی دھاری کے ساتھ ساتھ ہلکی سی تشویش بھی تھی۔

 

“مولوی۔۔۔” عثمان دوبارہ اس سیلر سے گویا ہوا۔ فوج میں ہر ڈاڑھی والے کو عموماً مولوی ہی کہہ کر پکارے جانے کا رواج ہے۔

 

“سر۔۔۔” سیلر قریب قریب منمنایا۔

 

“کیا نام ہے؟” عثمان نے اس کے دونوں پَیروں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔سیلر نے شلوار ٹخنوں تک اوپر اڑس رکھی تھی اور پا٫وں میں سلیپر جسے عام طور پر قینچی چپل یا نیوی کے روز مرّہ میں باتھ روم چپل کہتے ہیں، پہن رکھی تھی۔ یہ چپل پہن کر میس میں آنا فوجی آداب میں ایسا سمجھا جاتا ہے جیسے جوتے سمیت مسجد میں آ گھسنا۔

 

“حافظ ناصر ،اسٹور اسسٹنٹ” سیلر نے اپنا نام بتایا اور سوالیہ نظروں سے عثمان اور احسان کی آنکھوں میں باری باری دیکھا۔

 

احسان بظاہر پاس کھڑا اس سے لاتعلق، پاس سے گزرتے ہوئے سیلرز کو دیکھ رہا تھا لیکن عثمان کو اندازہ تھا کہ وہ ڈسپلن سے ذیادہ آداب اور Manners کو اہمیت دیتا اور ایسی باتوں کا بہت بُرا تاثر لیتا تھا۔ لیکن دراصل اُسے عثمان کی یہ حرکت واہیات لگ رہی تھی۔

 

” حافظ صاحب، آپ میس میں کھانا کھانے گئے تھے یا شبینہ پڑھنے؟؟؟” عثمان نے مصنوعی غصے اور حقیقی ناگواری سے پوچھا۔

 

“سر ناشتہ کرنے” سیلر نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا۔

 

“کیا آپ کو پتہ ہے حافظ صاحب، کہ یہ جو ٹوپی آپ نے سر پر پہن رکھی ہے، یہ میس کے آداب کے سخت خلاف ہے؟؟”عثمان نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے اس سیلر کے سر سے اس کی نماز والی ٹوپی اُتار کر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔
“کیا آپ کو پتہ ہے حافظ صاحب، کہ یہ جو ٹوپی آپ نے سر پر پہن رکھی ہے، یہ میس کے آداب کے سخت خلاف ہے؟؟”عثمان نے دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں سے اس سیلر کے سر سے اس کی نماز والی ٹوپی اُتار کر اس کے ہاتھ میں تھما دی۔
“سر ابھی مسجد سے آرہا ہوں، تلاوت کرکے”سیلر نے کہا لیکن عثمان نے سُنی ان سُنی کر دی۔

 

“اور حافظ صاحب، یہ جو چپل تُم نے پاوں میں پہن رکھی ہے، آرمی میں اسے گانڈو چپل کہا جاتا ہے اور یہ بھی میس میں پہننا گناہِ کبیرہ ہے جس کا تُمہیں بھی اچھی طرح پتہ ہے” عثمان نے دانت پیستے ہوئے اس سیلر کے پاوں پر اپنا پاوں رکھا اور قریب قریب اس کا پاوں اپنے بوٹ کی نوک سے مسل دیا جس سے اس سیلر کے چہرے پر ناگواری کے آثار واضح ہو گئے۔

 

احسان فوراً بھانپ گیا کہ صورتحال کس طرف جا رہی ہے۔

 

”Ottoman, skip it!!” احسان نے سرگوشی میں کہا لیکن عثمان نے یہ بھی سُنی ان سُنی کر دی۔ اب اسے غصہ آ چکا تھا کہ پاس سے دو تین اور سیلر بھی اسی حُلیے میں میس سے نکل کر گذر گئے تھے۔

 

“تُم نے میس کے آداب کو مذاق سمجھ رکھا ہے؟؟؟ “عُثمان قریب قریب گرجا تو وہ سیلر ایک قدم آگے بڑھا

 

“سر۔۔۔” سیلر، جس کا نام حافظ ناصر تھا، پورے اعتماد سے گویا ہوا

 

“میں کھانا کھاتے ہوئے سر پہ ہمیشہ نماز والی ٹوپی پہنتا ہوں کیونکہ یہ میرے پیارے نبی ْ کی سُنّت ہے اور چپل میں اس لئے پہنتا ہوں کہ میں کھانا کھاتے ہوئے اپنے پاوں سے جوتا اُتار سکوں کہ یہ بھی میرے پیارے نبیْ کا طور طریقہ ہے” حافظ ناصر نے پورے اعتماد سے اپنے موقف کی وضاحت کی۔

 

“شَٹ اپ۔۔۔ مُجھے سُنّت پڑھانے کی کوشش مت کرو، میں جانتا ہوں۔ یہ میس کے آداب کے خلاف ہے، تُم فوراً وردی پہن کر مجھے رپورٹ کرو” عثمان اس تُرکی بہ تُرکی جواب پر برہم ہو کر غصے سے بولا تو ساتھ گزرتے ایک دو سیلرز نے بھی مُڑ کر توجہ کی لیکن پھر تیز قدموں سے چلتے بنے۔

 

احسان نے ایک بار پھر عثمان کو خاموش کرنے کی کوشش کی لیکن اب کی بار سیلر بھی عثمان کی بات کا بُرا مان چکا تھا۔

 

“سر، میں آپ کے انگریز کے بنائے قانون کو نہیں مانتا، آپ جو قانونی کارروائی چاہیں، کر لیں”حافظ نے پہلے سے بلند اور اٹل لہجے میں کہا تو عثمان کا پارہ چڑھ گیا۔

 

(جاری ہے)