Categories
نقطۂ نظر

کوئٹہ حملہ، داعش اور پاکستانی طالبان

[blockquote style=”3″]

کنور خلدون شاہد کا یہ مضمون اس سے قبل دی ڈپلومیٹ پر بھی شائع ہو چکا ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے ترجمہ کر کے پیش کیا جا رہا ہے۔

[/blockquote]

پیر کے روز کوئٹہ سول ہسپتال پر ہونے والے حملے میں ستر کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔ کوئٹہ پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کا دارالخلافہ ہے۔ بلوچستان ایک علیحدگی پسند تحریک، ایک فوجی آپریشن اور ایک فعال جہادی نیٹ ورک کی آماجگاہ ہے۔ مئی میں طالبان کا سابق امیر ملا اختر منصور بھی بلوچستان میں ہی ایک امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہوا تھا۔

 

جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔
دولت اسلامیہ (آئی ایس آئی ایس) اور جماعت الاحرار دونوں کی جانب سے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی ہے۔ اس حملے میں بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر بلال انور کاسی کے قتل پر احتجاج کے لیے مقامی ہسپتال میں جمع ہونے ولے مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ آئی ایس آئی ایس اور کسی طالبان دھڑے نے کسی حملے کی بیک وقت ذمہ داری قبول کی ہو، گزشتہ برس مئی میں سانحہ صفورا کراچی میں اسماعیلی برادری پر حملے کی ذمہ داری بھی جنداللہ اور آئی ایس آئی ایس دونوں نے قبول کی تھی۔ اس حملے میں 43 اسماعیلی افراد ہلاک ہوئے تھے۔

 

جماعت الاحرار اور آئی ایس آئی ایس کا تعلق نیا نہیں ہے۔ درحقیقت یہ مشرق وسطیٰ میں ابھرنے والی دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس کا عروج ہی تھا جس نے طالبان کمانڈر عبدالولی المعروف عمر خالد خراسانی کو القاعدہ سے بیعت یافتہ پاکستانی طالبان سے علیحدگی اور اپنے نئے دھڑے کے قیام کی تحریک دی۔ تب سے اب تک دو برس میں جماعت الاحرار واہگہ بارڈر، یوحنا آباد، چارسدہ اور گلشن اقبال پارک پر حملوں سمیت پاکستان میں متعدد بڑے حملے کر چکی ہے۔

 

جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا جائزہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ دہشت گرد تنظیم پاکستان کے چاروں صوبوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنا چکی ہے۔ طالبان سے علیحدہ ہونے والے اس دھڑے نے پنجاب کے دارالخلافہ اور حکمران جماعت مسلم لیگ نواز کے گڑھ لاہور کو خاص طور پر نشانہ بنایا ہے۔ جنداللہ دیگر طالبان دھڑوں کی طرح آسان اہداف جیسے پارکوں، ہسپتالوں، پولیو مراکز اور سکولوں کو نشانہ بناتی ہے۔ دیگر طالبان دھڑوں کی طرح جماعت الاحرار کی کارروائیوں کا ہدف بھی عموماً مذہبی اقلیتوں یا پیشہ ور افراد جیسےچارسدہ اور کوئٹہ کے وکلاء سمیت ایسے طبقات ہیں جو دہشت گردی کی اس جنگ میں پہلے ہی عسکریت پسندوں کے نشانے پر ہیں۔

 

پاکستانی طالبان خصوصاً جماعت الاحرار عوامی مقامات جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں ، کیوں کہ ایسے حملے اس جنگ کے نفسیاتی محاذ پر زیادہ گہرے چرکے لگاتے ہیں۔
گزشتہ ماہ عمر خراسانی افغانستان کے علاقے ننگر ہار میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔ عمر خراسانی 2014 میں آرمی پبلک سکول پشاور پر حملے کا ماسٹر مائنڈ بھی تھا، اس حملے نے عسکری اور سیاسی قیادت کو جہادی تنظیموں کے خلاف جنگ میں متحد کر دیا تھا۔ حملے کے بعد سیاسی اور عسکری قیادت نے انسدادِ دہشت گردی کا لائحہ عمل (نیشنل ایکشن پلان) مرتب کیا۔ عمر خراسانی کی ہلاکت کے بعد بھی جماعت الاحرار کااپنی کارروائیاں جاری رکھنا ان کی نیت اور اپنے بانی کی موثر حکمت عملی کا اظہار ہے۔

 

پاکستانی طالبان خصوصاً جماعت الاحرار عوامی مقامات جیسے آسان اہداف کو نشانہ بنا رہے ہیں، کیوں کہ ایسے حملے اس جنگ کے نفسیاتی محاذ پر زیادہ گہرے چرکے لگاتے ہیں۔ ایک جانب جہاں ایسے حملوں کو کمزور پڑتے جہادی گروہوں کے مایوسی کے عالم میں کیے گئے حملے قرار دے کر ان کی شدت کم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے وہیں اس حکمت عملی کی کامیابی ان حملوں کو ایک موثر جنگی حکمت عملی ثابت کرتی ہے۔ اور اس حکمت عملی کا تاحال پاکستانی سیکیورٹی اداروں کے پاس کوئی توڑ نہیں۔

 

طالبان حملوں میں پچھلے سال کی نسبت اس برس اچانک تیزی آئی ہے۔ سال 2015 پچھلی ایک دہائی کا پرامن ترین سال تھا جس کے دوران شمال مغربی قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کی کامیابیوں کا ڈھنڈورا بڑے زوروشور سے پیٹا گیا۔ سکولوں، بچوں کے پارکوں، ہسپتالوں اور مختلف پیشوں سے وابستہ افراد پر حالیہ حملوں کے ذریعے طالبان قوم کے جذبے کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔

 

کوئٹہ، کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں ہونے والے حملوں پر آئی ایس آئی ایس کا ٹھپہ مقامی طالبان دھڑوں کے لیے خود کو عالمی جہادی خطرے کا حصہ ثابت کرنے کا ایک ذریعہ ہے۔ خاص کر جب حکومت اور فوج دونوں طالبان کی کمر توڑنے کا دعوی کر رہے ہوں، مقامی جہادی تنظیموں کے لیے ان دعووں کو جھٹلانے کا اس سے بہتر طریقہ کیا ہو گا کہ دنیا کی بدنام ترین جہادی تنظیم پاکستان کی پیٹھ پر وار کرے؟

 

“اچھے اور برے طالبان” کی حکمت عملی ترک کرنے کے دعوے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اپنا دوغلا طرزِعمل جاری رکھنا طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔
اگرچہ جنوبی ایشیا میں آئی ایس آئی ایس اس بڑے پیمانے پر موجود نہیں کہ ایسی کارروائیاں کر سکے۔ (جماعت الاحرار جیسی تنظیموں سے) یہ جہادی گٹھ جوڑ جہاں ایک جانب داعش کو اپنی دسترس اور رسائی سے متعلق مبالغہ آمیز دعووں کا جواز فراہم کرتا ہے، وہیں یہ اشتراک طالبان دھڑوں کو (جو طالبان اور القاعدہ سے علیحدہ ہو چکے ہیں) دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام کے حوصلے پست کرنے اور مزید بھرتیوں کے لیے تشہیر کے مواقع مہیا کرتا ہے۔ اس نفسیاتی جنگ میں جہادیوں نے اپنا لائحہ عمل اپنے دشمنوں کی نسبت کہیں بہتر انداز میں ترتیب دیا ہے۔

 

“اچھے اور برے طالبان” کی حکمت عملی ترک کرنے کے دعوے کے باوجود پاکستان کی جانب سے اپنا دوغلا طرزِعمل جاری رکھنا طالبان کے ہاتھ مزید مضبوط کر رہا ہے۔ مشرقی سرحد کے لیے تیار کردہ جہادیوں کو نہ صرف لائن آف کنٹروں کے دونوں جانب حریت پسندوں کے روپ میں کھل کر جلسے جلوسوں کی اجازت دے دی گئی ہے بلکہ ہماری قیادت دو مختلف جہادی تنظیموں کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کیے جانے کے باوجود ہندوستان پر الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

 

ایسے حملوں کے بعد پاکستانی سیکیورٹی اہلکاروں اور اداروں کی جانب سے “را کی کارستانیوں” کے مقابلے میں اپنی نااہلی کے اعتراف کو ترجیح دینا، ‘بھارت ازلی دشمن ہے، اسے منہ توڑ جواب دیں گے’ کی ریاستی گردان کی نفی معلوم ہوتا ہے۔ اس گمراہ کن حکمت عملی کا واحد مقصد جہادپسندی کی دوغلی پالیسی کے لیے جواز تراشنا ہے۔ طالبان کی جانب سے کھلم کھلا اجتماعی قومی مورال کو متزلزل کرنے کے باعث ریاست عوام کی توجہ بٹانے کے لیے ہندوستان پر الزام دھرتی ہے۔ مگر بدقسمتی سے آ بیل مجھے مار کے نتائج کی حامل انسداد دہشت گردی کی یہ حکمت عملی طالبان کو تقویت پہنچانے کا باعث بن رہی ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار

چھ ستمبرکوشہدائے پاکستان کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے جی ایچ کیو راولپنڈی میں خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے کہا کہ آج پاکستان پہلے سے زیادہ مضبوط، قوم پہلے سے زیادہ پرعزم ہے، دہشت گردوں کو شکست اور ریاست کی بالادستی قائم ہوگئی ہے، دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ دو ستمبر کووزیراعظم نوازشریف نے آزادکشمیر باغ میں اپنے خطاب میں دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ فوج اور عوام طے کرچکے دہشت گردی کو ہر قیمت پر ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کریں گے، دہشت گردوں کا خاتمہ کرکے عالمی برادری کو مستقل امن کا تحفہ دیناچاہتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کےلیے نہیں بنا، دہشت گردوں کی حمایت کرنے والوں کو بھی معاف نہیں کیا جائے گا۔
آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔
آٹھ جون 2014ء اتوارکی درمیانی شب کو کراچی کےجناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پہ حکومت کے ناقص سیکیورٹی انتظام کی وجہ سےطالبان دہشت گردوں کی جانب سے ائیرپورٹ پر حملہ ہواتو دہشت گردی سے متعلق کئی سنجیدہ سوال سامنے آئے۔ ان میں سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ نواز شریف حکومت اور طالبانی دہشت گردوں کا مذاکرات کا ڈرامہ جو ایک سال سے چل رہا تھا کب ختم ہوگا۔ گزشتہ سال جون 2014ء تک دہشت گردی کے واقعات میں دس سال کے عرصے میں 52ہزار409 افراد شہید ہوئے، سیکیورٹی فورسز کے 5ہزار775 اہلکار شہید ہوئے، 396 خود کش حملے ہوئے جس میں 6ہزار21 افراد جاں بحق اور 12ہزار558 افراد ذخمی ہوئے، اور 4ہزار932 بم دھماکے ہوئے۔
مسلم لیگ (ن) نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک سال تک مذاکرات مذاکرات کا کھیل رچایا، اور اس کھیل میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ جماعت اسلامی اورطالبان کے نام نہاد باپ مولانا سمیع الحق شامل بھی تھے۔ عمران خان اور مولانا فضل الرحمان بھی طالبان کو فوجی کارروائی سے بچانے میں پیش پیش تھے۔ یہ سب جماعتیں آپریشن کی مخالفت میں آگے آگے تھیں۔ مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور موجودہ وزیراعظم تو مجبور تھے ورنہ وہ کافی عرصہ پہلے طالبان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے امیر المومنین بن چکے ہوتے۔ کراچی ایئرپورٹ پر طالبان دہشت گردوں کے حملے کے بعداتوار 15 جون 2014ء کو افواج پاکستان نے طالبان دہشت گردوں کے خلاف ایک بھرپور آپریشن کا آغاز کیا۔ پاک فوج نے آپریشن کا نام “ضرب عضب” رکھا جس کا مطلب “ضرب کاری” یعنی دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ۔ اس کے ساتھ ہی نواز شریف حکومت اور دہشت گردوں کے مذاکرات ختم ہوگئے۔
سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔
آپریشن ضرب عضب میں اب تک مختلف کارروائیوں کےدوران 2763 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیاگیا، جبکہ آپریشن میں سیکیورٹی فورسز کے347 افسر اور جوان بھی شہید ہوئے۔ فوجی ترجمان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے شہری علاقوں میں خفیہ اطلاعات پر کی گئی 9000 کارروائیاں کیں جن میں 218 دہشت گرد ہلاک ہوئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائیوں کے دوران مختلف نوعیت کے 18087 ہتھیار اور 253 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا ہے۔پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف گزشتہ ایک سال سے جاری فوجی کارروائی کے دوران ضرب عضب اور متاثرہ علاقوں سے مقامی افراد کی نقل مکانی اور اُن کی بحالی پر اب تک تقریباً دو ارب ڈالر خرچ ہوئے ہیں اور یہ رقم امریکہ کی جانب سے اتحادی سپورٹ فنڈ کے بجائے سرکاری خزانے سے استعمال کی گئی ہے۔2001ء سے اب تک افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کا اتحادی ہونے کے باعث پاکستان کواتحادی سپورٹ فنڈ کے تحت 13 ارب ڈالر مل چکے ہیں۔تاہم امریکہ نے کہا ہے کہ 2015ء کے بعد سے پاکستان کو اس فنڈ کے تحت رقوم جاری نہیں کی جائیں گی۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ دہشت گردی ہمارے ملک میں لانے کی ذمہ داری ہمارے عسکری اداروں کے ساتھ ساتھ امریکہ اور اُسکے حواریوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔
دہشت گردی کی تحریک آدھی سے زیادہ دنیا میں پھیل چکی ہے اوراس کا بڑا نشانہ پاکستان ہے۔1965ءکی پاک بھارت جنگ میں 3800پاکستانیوں کی جانیں گئی تھیں، 1971ءمیں 9 ہزار پاکستانی جاں بحق ہوئے تھے جبکہ 2001ءسے 2015ءکے دوران 56ہزار سے زیادہ پاکستانیوں نے جام شہادت نوش کیا گویا طالبان دہشت گرد بھارت سے بھی زیادہ خطرناک دشمن ہیں جو پاکستان کے خلاف برسر پیکار ہیں۔ دوسری طرف سول عدالتوں نے 15 ہزار کے قریب دہشت گردوں کو بری الزمہ قرار دیا اور 10 ہزار پانچ سو سے زیادہ دہشت گردوں کی ضمانتوں پر رہائی کا حکم جاری کیا۔ حکومتی نااہلی کھل کر سامنے آچکی ہے ورنہ فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔ آپریشن ضرب عضب ملک بھر میں جاری ہے، ایسا لگتا ہے ملک کے کونے کونے میں دہشت گردوں کا جال پھیلا ہوا ہے۔ اُن کی پناہ گاہیں کون سی ہیں ان کے مددگار اور سہولت کار کون ہیں؟ ملک کی 33خفیہ ایجنسیوں کو اتنی معلومات تو ضرور ہوں گی۔ حکومت پاکستان نے جن دہشت گرد تنظیموں کو کالعدم قرار دے رکھا ہے وہ حکومتی فائلوں میں مرچکی ہیں لیکن عملاً بقید حیات ہیں۔ حکومت جانتی ہے کہ یہ دہشت گرد کالعدم تنظیمیں نئے ناموں کے ساتھ سرگرم عمل ہیں ان کے ذرائع آمدن کی پائپ لائن بدستور پیسے اگل رہی ہے۔ حکومت کو ان مدرسوں کے نام بھی سامنے لانے چاہیں جو عسکریت پسندی کے رحجان کو فروغ دے رہے ہیں۔ اُن رفاعی تنظیموں کو بھی بے نقاب کرنا ضروری ہے جو بیرونی فنڈر لیتی اور آگے منتقل کرتی ہیں۔ اب تو صورتحال یہ ہے کہ دہشت گردوں کے حامیوں کے پیٹ میں اس وقت مروڑ اٹھتا ہے جب لوگ اپنے پیاروں کی یاد میں موم بتیاں جلاتے ہیں یا خاموشی اختیار کرتے ہیں۔ دہشت گردوں کے حامی قومی روزناموں میں کالم لکھ لکھ کر جہادی ذہن تیار کررہے ہیں ۔
جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا
وزیراعظم نواز شریف اورآرمی چیف جنرل راحیل شریف دونوں کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کیلئے نہیں بنا، ہم دہشت گردوں کے مددگاروں اور سہولت کاروں کو کیفر کردار تک پہنچاکر دم لیں گے۔ طالبان کے لفظی معنی کچھ بھی ہوں مگر ہمارے ملک میں طالبان تحریک ایک دہشت گرد تحریک ہے۔ طالبان کے 45سے زائد گروہ ہیں اور ہر گروہ قتل و غارت گری اور پاکستان پر حملوں میں شریک ہے۔ یہ گروہ برسرعام اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ ان گروہوں میں سے کوئی عام انسانوں کا قتل عام کررہا ہے تو کوئی فرقہ وارانہ قتل و غارت گری میں مصروف ہے، یہ اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ، منشیات کی اسمگلنگ، ڈکیتیوں اور دوسرے جرائم میں بھی مصروف ہیں۔ یہ صرف نام کے انسان ہیں ورنہ ان کے سب خصائل درندوں جیسے ہیں، لہٰذا ان میں یہ احمقانہ تمیز کرنا کہ اچھے کون ہیں اور برے کون ہیں بجائے خود ایک سنگین غلطی ہے۔ لیکن پاکستان میں طالبان کی دو قسمیں ضرور موجود ہیں ایک وہ ہیں جو قتل و غارت گری اور دوسرئے جرائم کرتے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں۔
طالبان کی کسی بھی قتل و غارت گری کے بعد سراج الحق، مولانا فضل الرحمان، مولانا عبدالعزیز اور مولانا سمیع الحق کی جانب سے مرنے والوں کے ساتھ ہمدردی کے باوجود یہ حضرات اور ان کے پیروکار طالبان کی صفائیاں دینے لگتے ہیں، اُن کے ساتھ ہی کچھ صحافی جن میں خاص کرانصار عباسی اور اوریا مقبول جان صحافت کی آڑ میں طالبان کی ہمدردی میں پیش پیش رہتے ہیں۔ عمران خان بھی طالبان کے ہمدرد ہیں، طالبان کی کسی بھی دہشت گردی پر افسوس ضرور کرتے ہیں لیکن اُس کے بعدقوم کوڈرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ خان صاحب کی سنگدلی کا یہ عالم ہے کہ وہ حادثہ کی جگہ پر ہی کہہ دیتے تھے کہ آپریشن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، نو سال سے آپریشن ہورہا ہے ہم نے کیا کرلیا۔ فوجی آپریشن کے بعد البتہ انہوں نے یو ٹرن لیا اورآپریشن کی حمایت کرنی شروع کردی مگر کافی عرصہ تک مذاکرات کا راگ الاپنا نہیں بھولے۔ مولانا فضل الرحمان کا تو سب کو پتہ ہے کہ جس طرف فائدہ نظر آئے مولانا اُسی طرف ہوتے ہیں۔ جماعت اسلامی کو تو اب بھی دہشت گردوں کےخلاف ہونے والے آپریشن پر اعتراض ہے۔ جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن دہشت گرد طالبان کو اپنا بھائی کہتے ہیں۔ منور حسن صاحب طالبان دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والےباون ہزار سے زائد پاکستانیوں کو جن میں عام آدمی، پولیس کے سپاہی، رینجرز کے اہلکار اور پاکستانی فوجی شامل ہیں اُنہیں شہید ماننے سے انکار کرتے ہیں لیکن ہزاروں انسانوں کے قاتل دہشت گردحکیم اللہ محسود کو شہید کہتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے موجودہ امیر سراج الحق نےتو منور حسن سے بھی زیادہ منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپریشن ضربِ عضب کو نہ صرف ڈرامہ کہا بلکہ اس آپریشن کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کرڈالا۔ دہشت گردی پاکستان کی وہ بیماری ہے جس کا علاج نام نہاد “مذاکرات” سے کیا جارہا تھا لیکن یہ مرض اس قدر بڑھ چکا تھا کہ آپریشن کے علاوہ شاید کوئی چارہ نہیں تھا۔ اب حکومت کو چاہیئے کہ دونوں قسم کے طالبان کاتدارک کرے، اُن کا بھی جو دہشت گردی میں براہ راست ملوث ہیں اوراُن کا بھی جو سیاسی اور مذہبی جماعتوں یا پھرصحافت کی آڑمیں دہشت گردوں کے مددگار اور سہولت کار ہیں، ایسا کرنے کے بعد ہی ہم پاکستان سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

جنتی وصال

youth-yell-featured

لیفٹننٹ جنرل (بظاہر ریٹائرڈ) حمید گل سے شاید اپنے شاگرد مُلا محمد عمر مجاہد کی ناگہانی موت (کے انکشاف) کا صدمہ برداشت نہ ہوسکا اور انہیں اپنے ہم خیال دوستوں سے ملنے کے لیے اس دنیا سے کوچ کرنا پڑا۔ مرحوم کی وفات سے جہاں اُن کے دو بچے یتیم ہوئے، وہیں مولانا سمیع الحق (المعروف مولانا سینڈویچ)، مولانا فضل الرحمان( عرف مولانا ڈیزل)، مولانا منور حسن (قتال فی سبیل اللہ والے)، گلبدین حکمت یاراور سراج الحق کے ساتھ ساتھ ہزاروں معلوم اور نامعلوم مجاہدین، اچھے اور بُرے طالبان اور درجنوں خُودکُش حملہ آور یتیم ہوگئے ہیں ( اگرچہ حقیقت میں ان کے سرپرست اب بھی وطن عزیز میں موجود ہیں)۔ خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں “جنرل صاحب” کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی۔
خودکُش حملہ آوروں کی مرحوم سے عقیدت و احترام کا یہ عالم تھا کہ جس دن جناب نے رحلت فرمائی اسی روز نماز جنازہ سے پہلے تین خودکُش حملہ آوروں نے ضلع اٹک میں “جنرل صاحب” کو اکیس انسانی جانوں کی سلامی دی
حمید گل کی اس ‘خبرناک’ موت پر کچھ سیاست دانوں کو دلی صدمہ پہنچا اسی لیے تو جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق نے حمید گُل کے موت کو قومی سانحہ قرار دیا تھا۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمیں جناب عمران خان صاحب تو دکھ میں یہاں تک کہہ گئے کہ “حمید گل سب سے عظیم محب وطن تھے”۔ لیکن افغانستان اور پاکستان کے ‘نادان’ پشتونوں کے پاس اس ‘مرد مجاہد’ کے لیے نفرت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ حمید گل کی قدر اور اہمیت سے بے خبر کچھ نوجوان قندھار، کوئٹہ، کابل اور پشاور میں سڑکوں پر نکل آئے اور جنرل صاحب کی موت کی خوشی میں ڈھول کی تاپ پر اتن ا ور دیگر رقص کرتے رہے۔
روس کے خلاف امریکہ کی جنگ لڑنے والے جنرل حمید گل کا سفر آخرت بھی دیدنی تھا۔ قبر میں اترتے ہی منکر نکیرموصوف کو جنت کی طرف لے گئے جہاں کئی جواں سال حوریں اسی کی دہائی سے اپنے محبوب جرنیل کی منتظر تھیں۔ جنت کے دروازے پر کئی حوروں نے اُن پر پھول نچھاور کیے ۔ مرحبا مرحبا کہتے کئی غلمان ان کی خاطر داری کو لپکے اور اپنے نرم و ملائم ہونٹوں سے جنرل صاحب کی پیشانی مبارک اورجہادی گالوں پر بوسے ثبت کیے۔
اندر داخل ہوئے تو کیا دیکھتے ہیں یہاں تو وہی سماں تھا جس کا نقشہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز اپنے خطبات میں بیان کرتے رہے تھے۔ جنت میں شراب اور شہد کی نہروں کے آس پاس مسندوں پر مجاہدین جلوہ افروزتھے جن کے ارد گرد بھرپور جسموں والی حوریں ان کے لبوں سے شراب کے جام مس کرتی نظر آئیں۔ جنرل صاحب قدرے آگے بڑھےتو ایک شخص کو چندغلمان کے پیچھے بھاگتے دیکھا۔ اس شخص کا سانس پھولا ہوا تھا، سر اور داڑھی کے بال بکھرے ہوئے تھے، سینے سے بارودی جیکٹ بندھی تھی اور اللہ اکبر کے نعرے لگاتا اِدھر اُدھر دوڑ رہا تھا۔ اس بھاگ دوڑ میں جناب کی پگڑی کا ایک سرا گلے میں جبکہ دوسرا زمیں پر کھنچا جارہا تھا۔ جنرل صاحب کے استفسار پر فرشتوں نے بتایا کہ یہ کابل میں خودکُش حملہ کرنے والا طالب ہے جس نے حال ہی میں کابل میں خود کُش حملہ کرکے کئی افغانوں کو ‘جہنم واصل’ کیا تھا۔ اس لیے جنت میں آتے ہی یہ موج مستی میں مگن ہو گیا ہے۔
اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی
جناب ابھی اس منظر کو دیکھ ہی رہے تھے کہ جنت کے ایک کونے سے قہقوں کی آوازیں آنا شروع ہوگئیں۔ استفسار کرنے پر جنرل صاحب کو بتایا گیا کہ یہ اسامہ بن لادن ہیں جنہوں نے ایبٹ آباد کے قریب امریکیوں کے ہاتھوں زندگی کی قید سے آزادی حاصل کی تھی۔ جب سے آئے ہیں اپنی حوروں کے درمیان بیٹھے جام لنڈھاتے رہتے ہیں۔
جنت کی بالائی منزل سے بھی حوروں کے ہنسنے اور گنگنانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ جنرل حمید گل کو یہ منظر دیکھنے کا تجسس ہوا۔ جونہی جنرل صاحب نے ارادہ کیا فرشتے آپ کو اپنے نرم و نازک ہاتھوں میں اٹھا کر اوپر کی منزل پر لے گئے۔ سبحان اللہ! یہاں افغان جہاد کی سرخیل ہستیاں جنرل نصیر اللہ بابر، کرنل امام، بیت اللہ محسود اور کرنل امام اونچے اونچے تختوں پر بیٹھے اپنی اپنی حوروں کے ساتھ مگن نظر آئے۔ ان کے ارد گرد کچھ حوریں ناچ رہی تھیں کچھ شراب کی بڑی بڑی صراحیاں ہاتھوں میں لیے جام بھر بھر کے اپنے آقاوں اورعظیم جہادیوں کو پلارہی تھیں۔ کچھ حوریں کرنل امام اور بیت اللہ محسود کی گود میں بیٹھی ہوئی تھیں۔ اس پُرکیف ماحول کو دیکھ کر جنرل صاحب کو مولانا طاریق جمیل کی وہ تقاریر شدت سے یاد آئیں جن میں مولانا حوروں کے بدن کی شفافیت اور نزاکت کواپنے مخصوص انداز میں بیان کیا کرتے تھے اور سننے والوں کی شہوت زور پکڑتی تھی۔ مولانا کا بیان اس قدر پراثر تھا کہ سننے والےاس ماحول تک پہنچنے کےلیے خودکُش حملے سےبھی دریغ نہیں کرتے تھے۔
کچھ آگے بڑھے تو جنرل ضیا الحق اور جنرل اختر عبدالرحمان شراب کے ایک حوض کے کنارے نشے میں لت پت اوندھے منہ پڑے نظر آئے۔ فرشتوں نے بڑےادب کےساتھ جنرل ضیا کو گود میں پکڑ کر اٹھایا ۔ حمید گل کو اپنے سامنے پا کر اُن کے چہرے پر مایوسی اور غصے کے آثار نمودار ہوئے۔ وہ قاہرانہ انداز میں جنرل حمید گل سے مخاطب ہوئے،” مجھے پتہ تھا کہ تم آج آنے والے ہو”۔انہوں نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا،”میں نے جو ذمہ داریاں اپنے ‘فوجی اور سول شاگردوں’ کو سونپی تھیں اُن میں سے کوئی ایک کام بھی ڈھنگ سے نہیں ہوسکا۔ جب میں زندہ تھا تو پوری دنیا بشمول امریکہ اور اسرائیل میرے ساتھ تھی اور ہم نے نہ صرف روس کی اینٹ سے اینٹ بجاڈالی بلکہ افغانستان میں بھی اپنے پاوں گاڑ لیے تھے۔ ہم نے جہاد کی برآمد شروع کر ی تھی۔ لیکن تم اور میرے دوسرے شاگرد نکمے نکلے۔”
ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے
اسی اثنا میں امیر المومنین مُلا محمد عمر اپنی حوروں کی بانہوں میں بانہیں ڈالے سلام دعا کیے بغیروہاں سے گزرے۔ جنرل صاحب نے پیچھے سے آواز دی مگر مُلا نے مڑ کر دیکھنے کی بھی زحمت نہیں کی۔ اتنے میں جنرل ضیاالحق نے اپنے مصاحبین سے پوچھا،” کیا تمہیں معلوم ہے مُلا عمر نے تم سے سلام دعا کیوں نہیں کی؟ جنرل صاحب حیران رہ گئے اور سر انکار میں ہلا دیا۔ جس پر ضیا الحق نے اپنی مینڈک جیسی آنکھیں دکھاتے ہوئے کہا کہ مُلا عمر پاکستان سے سخت ناراض ہے۔ اُسے گلہ ہے کہ پاکستان اسلام کی بجائے مجاہدین کواسلام آباد کی خدمت کے لیے استعمال کررہا ہے۔ کچھ پاکستانی جرنیل طالبان کو اپنے اپنے مقاصد کےلیے استعمال کررہے ہیں۔ جنرل حمید گل نے جواب دینے کے لیے ابھی لب کھولے ہی تھے کہ جنرل صاحب نے مزید کہا ویسے بھی پاکستان میں میرے تمام جہادی شاگرد نالائق نکلے ہیں۔ نہ تو وہ افغانستان میں تزویراتی موجودگی برقرار رکھ سکے اور نہ ہی وہ پاکستان میں میرا جہادی کاروبار چلا سکے۔ اپنے مربی کی ناراضی اور مایوسی کو جان کر حمید گل صاحب کو نہایت افسوس ہوا۔ ادب سے اپنے آقا کے سامنے کھڑے رہے اور جب ضیا الحق نے اپنی بات ختم کی تو حمید گل اجازت مانگ کر کہنے لگے،”سر! شاید یہاں آنے کے بعد آپ کو ہمارے کارناموں کاعلم نہیں ہے”۔ پھر اُس نے جنرل ضیا کی موت کے بعد اپنے جہادی ساتھیوں کے اسلام آباد کی سر بلندی کےلیے اپنے اور اپنے شاگردوں کے کارناموں پر ایک لمبی چوڑی تقریر کی ۔ جنرل حمید گل نے کہا ہم نے تو مشرقی اور مغربی دونوں سرحدوں پر اپنے جہادی بھائیوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ جنرل صاحب آپ نے کہا ‘کابل کو جلنا ہوگا’ اور ہم نے یہ کر کے دکھایا۔ آپ نے کابل فتح کرنے کے بعد وہاں شکرانے کی نماز ادا کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی، یہ خواہش آپ کے سیاسی شاگرد وزیراعظم میاں نواز شریف نے اُس وقت پوری کی جب ڈاکٹر نجیب اللہ کو حکومت سے ہٹانے کے بعد مجاہدین کو کابل کی تخت پر بٹھایاگیا تھا۔ آپ کی جگہ نواز شریف نے کابل جاکر شکرانے کے دو رکعت نفل ادا کیے۔
افغانستان میں مجاہدین کی پہلی حکومت ہماری مرضی سے بنی اور جب مجاہدین نے ہیرا پھیری شروع کی تو ہم نے طالبان کے نام سے وہاں اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا اور ڈاکٹر نجیب کوکابل میں سرعام لٹکایا۔ آپ نے ماضی میں شعیہ سنی کی جس تقسیم کا بیج بویا تھا ہماری وجہ سے آج اس کی فصل جنوبی پنجاب سے لے کر کوئٹہ تک ملک کے کونے کونے میں پھیل گئی ہے۔
جنرل حمید گل کی کارگزاری سن کر جنرل ضیا الحق کی مینڈک جیسی انکھوں میں چمک آگئی اور حمید گل کو گلے لگا کر کہنے لگا،” مجھےتم پر فخر ہے،شاگرد ہو تو تم جیسا، آج میں اپنی حوروں کے درمیان سرخرو ہوکر بیٹھ سکوں گا۔ تم نے جو کیا وہ میری توقعات سے بڑھ کر ہے”۔ پھر اچانک ان کے چہرے پر غم اور مایوسی کے سائے لہرانے لگےوہ حمید گل سے کہنے لگے،” مگر اب تم وہاں نہیں ہو تو کہیں ہماری پچاس سالہ محنت ضائع نہ ہوجاے؟” اس پر حمید گل نے ایک معنی خیز قہقہہ لگاکر کہا،”جنرل صاحب ! رائیونڈ کی تبلیغی جماعت اور جماعت اسلامی کے ہوتے ہوئے آنے والی کئی نسلوں تک طالبان کی کمی محسوس نہیں ہو گی۔ ہزاروں کی تعداد میں کھولے گئے مدرسے جہاد کی نرسریاں ہیں۔ ہمارا بنایا ہوا نصاب اس قوم کو تاقیامت پسماندہ، جاہل اورشدت پسند بنائے رکھے گی۔ اور ان میں کبھی بھی امان اللہ خان، باچا خان اور عبدالصمد خان اچکزئی جیسے قوم پرست رہنما پیدا نہیں ہوسکیں گے۔ ان مدرسوں کے طالب علم ہمارے دست راست اور اثاثہ ہیں۔ اب چاہے ہم انہیں امریکہ کے لیے یا امریکہ کے خلاف استعمال کریں ،یا پھر ہمسایہ ممالک اور پوری دنیا کو ان کے ذریعے ڈراتے رہیں کوئی ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔
( دونوں کے زوردار قہقہوں شے جنت کی فضاگونج اٹھی۔ خوشی مناتے ہوئےانہوں نے جام ٹکرائے اور لبوں سے لگا لیے)۔
Categories
نقطۂ نظر

مجلس احرار سے مولوی عبدالعزیز تک

مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ پاکستان میں سیاست دانوں کے عوامی بیانات و تقاریر پر بہت زیادہ حساسیت پائی جاتی ہے ؟ان کے ایک ایک لفظ کو حب الوطنی کی چھلنی میں سے انتہائی باریک بینی سے گزارا جاتا ہے جب کہ دوسری طر ف نام نہاد دین فروشوں کے بدترین اور متنازعہ ترین بیانات بھی عوامی احتجاج کو اکسانے میں ناکام رہتے ہیں۔ کانگریس کا روپیہ حلا ل کرنے کی خاطر مجلس احرار اسلام کے صدر مولانا مظہر علی اظہر نے بھرے مجمعے میں قائد اعظم کو “کافرا عظم “کہا تھا اس پر اُس وقت بھی کسی کو ایسے بدزبانوں کا احتساب کرنے کی جرات نہیں ہوئی حالانکہ یہ بات بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ محمد علی جناح ؒ کے سیاسی ہم عصر اور حریف گاندھی جی بھی قائد اعظم ؒ کو اد ب اور احترام کی وجہ سے قائد اعظم ہی کہتے اور لکھتے تھے۔
جسٹس منیر انکوائری رپورٹ 1953ء کے مطابق ابواعلیٰ مودودی صاحب سے فاضل جج نے جب یہ سوال کیا کہ اگر ہندوستان سرکار مسلمانوں پر منوشاستر کی شریعت نافذ کرنے کی کوشش کرے تو ان کو اس کا حق ہو گا یانہیں ؟ تو مولوی صاحب نے تاریخی جواب دیا کہ” یقیناًمجھے اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگاکہ حکومت کے اس نظام میں مسلمانوں سے ملیچھوں اور شودروں کا سا سلوک کیا جائے ۔ان پر منو شاستر کے قوانین کا اطلاق کیا جائے اور انہیں حکومت میں حصہ اور شہریت کے حقوق قطعاً نہ دیے جائیں ۔”(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 245)۔پھر فاضل جج احراری مولویوں کا وطیرہ بیان کرتے ہیں ۔” مولوی محمد علی جالندھری نے 15فروری 1953ءکو لاہور میں تقریر کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ مجلس احرار پاکستان کے قیام کی مخالف تھی، اس جماعت کے رہنما تقسیم سے پہلے اور تقسیم کے بعد بھی پاکستان کے لیے پلیدستان کالفظ استعمال کرتے رہے۔ سّید عطاء اللہ شاہ بخاری نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جسے احرارنے مجبوراً قبول کیا ہے ۔”(رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 274)۔کیا آج تک ان دین فروشوں، ملاؤں اور مولویوں نے اپنے ملک دشمن اور نفرت آمیز بیانات پر معافی مانگی ہے ؟
گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا “خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔
تاریخ کے اوراق اور آج کا عہد گواہ ہے کہ ان دین فروشوں کی بدزبانیوں کا سلسلہ آج بھی جاری ہے لیکن ان حضرات کی زبان درازیوں پرکسی کو ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی یا سزا دینے کی جرأ ت کبھی نہیں ہو ئی۔ آج بھی شرپسند مذہبی جنونی سرعام اپنے مخالف فریق کے خلاف بد زبانی اور الزام تراشی کرتے ہیں ،مخالف فریق کی ہربات، کامیابی یا سبقت کویہودی و قادیانی سازش قرار دیتے ہیں ، بغیر کسی ثبوت اور دلیل کے جلسے جلوسوں میں جھوٹ بولتے ہیں لیکن حدیث کے مطابق الزام تراشی اور بہتان تراشی کرنے والوں پرلعنت بھیجنے کی بجائے عوام انہیں سر آنکھوں پر بٹھا تے ہیں اور ان کے دعووں کے ثبوت مانگنے کی بجائے ان کی پرستش کرتے ہیں ۔
کافر اعظم کہنے والوں کی باقیات میں سے ایک ادنی ٰ خطیب منور حسن ببانگِ دہل فرماتے ہیں کہ”طالبان سے لڑ کر مرنے والے پاکستانی فوجی شہید نہیں ہیں”۔اسی پر بس نہیں سابق امیر جماعت اسلامی مینار پاکستان کے سائے میں کھڑے ہوکر ہرزہ سرائی فرماتے ہیں کہ “ڈنکے کی چوٹ پر ، بلا خوف و تردید یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں جہاد فی سبیل اللہ اور قتال فی سبیل اللہ کے کلچر کواگر عام نہ کیا گیا تو محض انتخابی سیاست اور جمہوری سیاست کے ذریعے موجودہ حالات پر قابوپایا نہیں جاسکتا۔” شہادت کے رتبے کو پامال کرنے والے مولوی فضل الرحمن نے کہا کہ” اگر ڈرون حملے میں کتا بھی مرجائے تو وہ بھی شہید ہے” ۔افسوس یہ یاوہ گوئی بھی کسی غیرت مند دینی و سیاسی اور انتظامی جماعت کو جگا نہیں سکی ۔ گئے وقتوں میں انہی مولوی فضل الرحمن کے والد محترم مولانا مفتی محمود کا ایک بیان اخبارات کی زینت بنا جس میں انہوں نے فرمایا “خدا کا شکر ہے کہ وہ پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے ۔” یہ تو ابھی کل ہی کی بات ہے کہ جب پشاور واقعہ پر مولوی عبدالعزیز (لال مسجد کی سیاہ برقعہ پوش خواتین کو جہاد کی ترغیب دینے والے) نے علی الاعلان بغیر کسی تردید کے متعد بار ہرزہ سرائی کی کہ “میں پشاور میں معصوم بچوں کے قتل عام کی مذمت نہیں کرتا”۔
طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔
تبدیلی کی داعی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے پر جوش قائد جناب عمران خان کے تہلکہ خیز بیانات کے آج بھی پاکستانی اخبارات گواہ ہیں جن میں وہ پچاس ہزار پاکستانیوں کی لاشوں کامنہ چڑاتے ہوئے تسلی دیتے رہےکہ” طالبان کے نظریات سے پاکستان کو کوئی خطرہ نہیں “۔حیرت ہے کہ ان ملک دشمن بیانات و تقاریرپر کسی کی حرمت پر حرف نہیں آیا۔ موجودہ حکم ران مسلم لیگ نواز کے شریف برادران بھی ایک زمانے میں طالبان سے پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے ہیں۔ وہ جنہوں نے پاکستانی عوام کو گاجر مولی کی طرح کاٹا اس کے جواب میں ان دشمنانِ پاکستان کو نیست و نابود کرنے کی بجائے اچھے اور برے طالبان کی رٹ لگائی گئی ۔
8سال تک خون کی ہولی کھیلنے والوں نے اپنے قول اور عمل سے ثابت کیا کہ وہ نہ صرف ملک دشمن ہیں بلکہ اپنی خود ساختہ شریعت کے نفاذ میں کوئی بھی رکاوٹ قبول نہیں کریں گے۔ طالبان علاالعلان پاکستانی چینلوں پر یہ کہتے رہے کہ وہ پاکستانی ریاست اور آئین کو قبول نہیں کرتے لیکن دہشت گردوں کے ترجمانوں کی تقاریر پر ٹویٹ کرنے اور پابندیاں لگانے کی بجائے ان کی ناز برداریاں کی گئیں ۔بے گناہ عوام کو ان بد بختوں کے حوالے کر دیا گیا جو تقریباً 10سال تک ان کا قتل و عام کرتے رہے بلکہ نہایت افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ آج بھی ان ظالمان کے حامیوں کو سر آنکھوں پر بٹھایا جاتاہے اوران کے حمایتیوں اور ہمدردوں کو جلسے جلوس اور اجتماعات کرنے کے اجازت نامے جاری کئے جاتے ہیں۔
انہی انتہا پسند ملاؤں اور مذہبی جنونیوں کے بیانات و تقاریر و خطبات نے کئی واقعات میں پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کی پوری کی پوری بستیاں جلاڈالیں ،حتی ٰ کہ مخالف فرقے کی مساجد ، امام بارگاہیں ، خانقاہیں اور دربار تک ان شدت پسندوں نے جلا کر بھسم کر ڈالے لیکن مجال ہے کسی کی عزت اور شان میں فرق آیا ہو ۔فرقہ وارانہ بیانات کے زہر آلود اثرات آج ہر سماجی شعبے میں دکھائی دیتے ہیں۔سکولوں، مسجدوں ، مدرسوں ، بازاروں ، ہسپتالوں ، تعلیمی اداروں اور عدالتوں میں مسلکی و مذہبی تفریق اور طالبان کے لیے نرم دلی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ طالبان اور مذہبی دہشت گردوں کے خلاف فیصلے دینے والے ججوںکو بھی جان بچانے کے لیے بیرون ملک فرار ہونا پڑتا ہے ۔قانون نافذ کرنے والے ریاستی اہلکاروں اور اداروں کی نفسیات تک مسجدوں ، مدرسوں کے منبر و محراب سے بلند ہونے والے بیانات و خطبات سے متعصب اور آلود ہ ہو چکی ہے ۔ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟کیا ایسے بیانات ملک دشمنی نہیں جن کی وجہ سے ریاست کے ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس کا اپنا محافظ کسی خبیث مولوی کی تقریر سن کر محض الزام کی بنیادپر موت کے گھاٹ اتار دیتاہے لیکن کسی ریاستی ادارے کی حرمت پر فرق نہیں آتا۔
ایسےاشتعال انگیزبیانات اور وعظ جنہیں سُن کر سیکورٹی گارڈ ممتاز قادری نے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو سر عام قتل کر دیا، کیا یہ بیانات دین فروشی اور قانون شکنی کے زمرے میں نہیں آتے؟
اگرچہ یہ جبہ و ستار پوش ہمارے معاشرے میں بہت معزز ہیں ہر کوئی ان کی تشریف آوری پربصد احترام کھڑا ہو جاتاہےلیکن محرم الحرام کے مقدس مہینے میں انہی زبان درازوں کی زبان بندی ہوجاتی ہے جس سے یہ ثابت ہوتا کہ یہ علماء جن کی زبان سے نکلنے والے اشتعال انگیز بیانات سے دوسرے مسلمان محفوظ نہیں وہ قابل تعزیر ہیں مگر پھت بھی ان زہریلی زبانوں سے نکلنے والے بیانات پر ریاست کی عزت پر آنچ نہیں آتی۔
کیا مذہبی انتہاپسندی ناسورنہیں بن چکی ؟ انتہا پسندوں کے نظریات اور خیالات ہر بڑے اخبارمیں شہ سرخیوں کی صورت میں چھپتے ہیں۔ یہی وہ نظریات ہیں جو اسی کی دہائی میں بوئے گئے اور آج ہم انہی کی فصل کاٹ رہے ہیں ۔آج ملک کے طول وعرض میں قائم مسجدوں کے منبر،محراب اور داخلی دروازوں پر مختلف فرقوں کے نام جلی حروف میں لکھے دکھائی دیتے ہیں۔خطرہ توآستین کے ان باریش سانپوں سے ہے جو بربریت کو سیاسی و اخلاقی جواز فراہم کرتے ہیں، جن کے فرقہ وارانہ بیانات اور تقریریں سن کر ایک فرقہ دوسرے فرقے کے خون کا پیاسہ ہوکردوسرے کو “جہنم واصل” کر رہاہے لیکن تین دہائیوں سے زائد عرصے سے جاری اس خون ریزی پر نہ کسی ملکی ادارے کا وقار مجروح ہوا ہے اورنہ ہی غیرت جاگی ہے۔ شاید اس ملک کو مذہب کے نام پر پلیدستان کہنے اور قائد اعظم کو کافراعظم کہنے کی کوئی سزا موجود نہیں۔

[spacer color=”B2B2B2″ icon=”Select a Icon” style=”1″]
Cartoon by: Sabir Nazar

Categories
نقطۂ نظر

تجھ کو غیر کی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

کافی عرصہ سے میڈیا کے “مخصوص حصے” اس خیال کو زور شور سے پروان چڑھا رہے ہیں کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ہندوستان کا ہاتھ ہے اور ہندوستان ان تمام دہشت گردوں کی مالی معاونت کر رہا ہے جو “پاکستان” میں دہشت گردی کر رہے ہیں۔ یہ الزامات تو سالوں سے لگ رہے تھے مگر چونکہ قومی بیانیہ میں ابھی پچھلے سال تک تحریک طالبان پاکستان والے “پاکستان کے بھٹکے بھائی” “امریکی سامراج کے خلاف لڑنے والے” اور “ناراض قبائلی” ہی تھے (قبائلی بھی اس لیے کہ بقول شہباز شریف پنجابی طالبان جیسی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی) اسی لیے بھارتی ایجنٹ والی بات کچھ “پھبتی” نہیں تھی۔
اب چونکہ طالبان ملک کے اصلی اور خالص حکمرانوں کی ایماء پر ملک کے دشمن قرار دے دیے گئے ہیں پس اب ان لوگوں کی آوازوں کو لاؤڈ سپیکر مل گیا ہے جو ملک میں ہر ہونے والے حادثے کو “ہندوستان نے کروایا” والی عینک سے دیکھتے ہیں۔
ایک عرصہ تک امریکی و ہندوستانی ایجنٹ بھی شناخت کے بحران کا شکار رہے۔میڈیا کے چند جانے پہچانے چہرے طالبان کو ایجنٹ قرار دیتے تھے تو تحریک انصاف کے متوالے انصافینز ان “ایجنٹ طالبان” کو دفتر کھولنے سے لے کر وزارتیں دینے تک پر پر راضی نظر آتے تھے۔ اس زمانے میں طالبان سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والے اور فوجی کارروائی کا مطالبہ کرنے والے بھی ایجنٹ قرار دیے گئے۔ایجنٹ سازی کا یہ عمل یہاں تک پہنچ گیا کہ ہر کوئی کسی نہ کسی کا ایجنٹ معلوم ہونے لگا۔ مگر بقول شاعر بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے کے مصداق اب چونکہ طالبان ملک کے اصلی اور خالص حکمرانوں کی ایماء پر ملک کے دشمن قرار دےدیے گئے ہیں پس اب ان لوگوں کی آوازوں کو لاؤڈ سپیکر مل گیا ہے جو ملک میں ہر ہونے والے حادثے کو “ہندوستان نے کروایا” والی عینک سے دیکھتے ہیں۔ اور تو اور کل تک طالبان کو اپنا بھائی کہنے والے بھی اب طالبان کو پکے اور خالص انڈین ایجنٹ قرار دینے کی مہمات چلا رہے ہیں اور اس دیوانگی پر اگر کوئی سوال اٹھائے تو وہ بھی ایجنٹ، بلا دلیل ایجنٹ۔ پاکستان کے مقتدر حلقوں اور اداروں نے دراصل ایک بار پھر اپنی حماقتوں اور غلطیوں کا اعتراف کرنے کی بنسبت ان کا بوجھ ہندوستان پر ڈالناچاہا ہے۔ یہ وہی سوچ ہے جس کے تحت عسکری ادارے ملک کی سلامتی جیسے سنجیدہ مسائل پر بغیر کسی قومی مشاورت کے فیصلے کرتے رہے ہیں اور ایسی پالیسیاں بناتے رہے ہیں جن کا اثر قوم عشروں سے بگھت رہی ہے، لیکن اس سوچ کے جڑ سے خاتمے کی بجائے ہمیں پھر سے ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔
یہ اصرار کہ ہندوستان پاکستان میں در اندازی کر رہا ہے اور تمام بوجھ اپنے سر سے اتار کر ہمسایوں پر ڈال دینا مسئلہ کی کوئی حقیقی توجیہہ نہیں ہے جب کہ ان تمام حملوں میں ہمارے سابقہ تنخواہ دار مجاہدین نہ صرف ملوث نظر آتے ہیں بلکہ ببانگ دہل ان حملوں کا اعتراف بھی کرتے ہیں۔ ان مجاہدین کی تربیت اور ان کی کارروایوں کی حمایت کرنے والے اب کس منہ سے ان سے لاتعلقی کا اظہار کرسکتے ہیں ؟
ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ گلی محلے میں انتہاپسندی پھیلانے کی جو مہم جاری ہے، مدارس اور جامعات میں نفرت کا جس طرح پرچار کیا جارہا ہے اور ذہنوں میں جس قسم کا زہریلا تکفیری مواد انڈیلا جا رہا ہے کیا اس کا کوئی علاج کیا گیا؟ کیا جیو ٹی وی پر ہندوستان نے شیعہ کافر کا نعرہ بلند کیا؟ کیا یہ تکفیری اور متشدد فرقہ وارانہ جماعتیں ہندوستان کی ایماء پر وجود میں آئیں؟ کیا علماء اور مدارس کے تکفیری فتاوٰی بیرونی اشاروں پر دیے گئے (لکھے تو بیرونی اشاروں پر ہی گئے مگر یہ بیرون جنوب مغرب کی جانب ہے مشرق کی جانب نہیں)۔ محترمہ بے نظیر کے قاتل اکوڑہ خٹک میں “مشرقی” طاقتوں نے تیار کیے تھے یا مغربی طاقتوں نے ؟
اب یہ تماشا اس قدر لمبا اور بیزار کن ہوچکا ہے کہ اس میں کچھ چونکا دینے والی بات نہیں رہی، یوں محسوس ہوتا ہے کہ روز کی دہرائی ہوئی مشق پھر کی جارہی ہے۔ ابھی چند روز پہلے یہ رپورٹ آئی کہ یوم پاکستان پے فوجی پریڈ کے دوران وفاقی دارلحکومت اسلام آباد کے اکتالیس مدارس کو بند کر دیا جائے گا۔ اگر یہ مدارس سیکیورٹی رسک ہیں تو آخر یہ مدارس عام دنوں میں کیوں کام کرتے ہیں، کیا عوام کی زندگیاں فوجی پریڈ سے کم اہم ہیں؟؟؟ ہم پڑھتے ہیں کہ ہر محرم پر ہزاروں علماء کی بین الاضلاع نقل و حرکت پر پابندی لگائی جاتی ہے، آخر ایسے لوگوں کو عام دنوں میں امامت کا حق کس نے دیا، گیارہ مہینے بیس دن ان پھیلائی گئی نفرت دس دنوں میں خون خرابے کے لیے کافی ہوتی ہے ۔ دراصل ہم ملک کوطویل عرصے سے ڈھکوسلوں پر چلا رہے ہیں۔ ڈیڑھ دوسو بچے شہید ہوئے تو دہشت گردوں کی پھانسی لگی تصاویر جاری کر دو، کہیں کوئی حملہ ہوجائے تو پولیس کے ناکے بڑے شہروں میں لگا دو جہاں “دہشت گردوں کے خلاف ہائی الرٹ” تین سو سے پانچ سو میں باآسانی بک جاتا ہے۔ کیا ریاستوں کا ملکی سلامتی پر سنجیدہ اور خطرناک حملوں پر ایسا ہی رد عمل ہوتا ہے؟
ان حملوں کا اعتراف کرنے والوں، حملہ آوروں سیاسی “تحفظ” دینے والوں اور ان حملوں پر شادیانے بجانے والوں سے سبھی واقف ہیں سوائے مقتدر حلقوں کہ جو یوں لا علم بنتے ہیں “جیسے جانتے نہیں”۔
کالعدم تنظیموں کی تعداد اور بیرونی قرضے کی طرح بڑھتی جا رہی ہے، ہر حکومت اپنی میراث میں نئے انڈے بچے اور مزید قرضے چھوڑ جاتی ہے اور کوئی نہیں کہ اس موذی مرض کا مستقل حل نکالے۔ رواں برس اب تک شیعہ حضرات کی امام بارگاہوں پر چار بڑے حملے ہو چکے ہیں۔ ان حملوں کا اعتراف کرنے والوں، حملہ آوروں سیاسی “تحفظ” دینے والوں اور ان حملوں پر شادیانے بجانے والوں سے سبھی واقف ہیں سوائے مقتدر حلقوں کہ جو یوں لا علم بنتے ہیں “جیسے جانتے نہیں”۔ ہر خونریزی کے بعد ہمیں یاد آجاتا ہے کہ ساری غلطی تو مشرق میں بیٹھے ہمسائے اور مغرب میں موجودطفیلی ریاست (ہمارے زعم میں) کی ہے۔ ایک سابق فوجی سربراہ اور حکمران کے اس اعتراف کے باوجود کہ افغانستان میں طالبان ہم نے قائم رکھے تا کہ ہندوستان کا اثر زائل ہوسکے ہم ڈھٹائی سے سارا ملبہ ہندوستان پر ڈال دیتے ہیں۔ ایک طرف ہمارے سابق حکم ران افغانستان کو اقتدار میں طالبان کو حصہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں تو دوسری طرف ہمارے مشیر خارجہ کہہ رہے ہوں کہ پاکستانی طالبان کو ہندوستانی سرپرستی حاصل ہے۔ سوچیے اگرکل کلاں من موہن سنگھ یہ کہیں کہ “ہم نے پاکستانی طالبان بنائے تا کہ افغانستان سے پاکستان کا اثر کم ہوجائے اور پاکستان کو انہیں اقتدار میں حصہ دینا چاہیے” تو اس پر ہمارا میڈیا کیسے زمین آسمان ایک کر دے گا۔
شاید ہم نے اپنے حالات سے سبق نہ سیکھنے کی قسم کھا لی ہے جبھی یہ دہشت گرد تنظیمیں روز جلسے کرتی ہیں، اپنی رٹ دکھاتی ہیں، سرحد پار کارروائیوں میں مصروف ہیں، ٹی وی پر آکر بڑھکیں لگاتی ہیں اور ریاست کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، بات دراصل یہ ہے کہ ہمارے ریاستی ادارے سر پر چپت لگنے تک سوئے رہنے کی پالیسی پر کاربند ہیں۔ ابھی تک ہم نے مشرقی سرحدوں کے دہشت گردوں کا فیصلہ نہیں کیا، ہم نے مغربی سرحدوں پر رہنے والوں کی زندگیاں برباد کر دی ہیں، انہیں زندہ درگور کر دیا ہے اب کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ لاہور، قصور، گوجرانولہ سے لے کر راولپنڈی تک یہی شورش برپا ہوجائے؟
Categories
نقطۂ نظر

غیروں سے سبق سیکھیں

جنوری کے پہلے ہفتے میں یورپ کے دل اور فرانس کے تاریخی شہر پیرس میں ایک ہفت روزہ اخبار کے دفتر میں دو دہشتگردوں کی فائرنگ سے پولیس اہلکار اور اخبار کے عملے سمیت سترہ افراد ہلاک ہوئے۔ اس حملے کے فوراََبعد فرانسیسی حکومت حرکت میں آئی ،کابینہ کا اجلاس طلب کیا اورحملے کو بربریت قرار دے کر اسکی بھر پور مذمت کی ۔ اس واقعے کے بعد سے عوام ،حکومت اور سول سوسائٹی سراپا احتجاج ہے ، گیارہ جنوری کو پورے ملک میں اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے ساتھ اظہارِ یک جہتی کے لئے ریلیوں کا انعقاد ہواجس میں فرانسیسی حکمرانوں سمیت دنیا بھر کے سربراہاں مملکت بھی شامل ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق اس ریلی میں بیس لاکھ سے زائدافراد شریک ہوئے۔ اگرچہ ان ریلیوں سے مرنے والے کبھی واپس نہیں آئیں گے لیکن ان احتجاجی مظاہروں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ لواحقین سمیت عوام کو احساس ہوا کہ مشکل کی اس گھڑی میں حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے۔
پشاور سانحے کے بعد اگرچہ ذرائع ابلاغ پرتبصروں اور تجزیوں میں اس واقعے کی مذمت تو کی گئی لیکن دہشت گردی کے خلاف جو جذبہ فرانس میں دیکھنے کو ملا وہ پشاور سانحے کے بعد ملک میں کہیں نظر نہیں آیا۔
11دسمبر2014ء کو خیبر پختونخواہ کے صوبائی دارلحکومت پشاو رکے آرمی پبلک سکول پر طالبان دہشتگردوں نے حملہ کر کے ڈیڑھ سو کے قریب طلبہ اور اساتذہ کو شہید کر دیا۔ طالبان کے اس تباہ کن حملے نے ہلاکوخان کی ہلاکت خیزی اور غزنوی کی تباہ کاری کی یاد تازہ کر دی۔پاکستان میں بھی اس تباہ کن حادثے کے شہداءکے خاندانوں سے اظہارِ یک جہتی اور طالبان کے خلاف احتجاج ہوا لیکن احتجاج کرنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ پشاور سانحے کے بعد اگرچہ ذرائع ابلاغ پرتبصروں اور تجزیوں میں اس واقعے کی مذمت تو کی گئی لیکن دہشت گردی کے خلاف جو جذبہ فرانس میں دیکھنے کو ملا وہ پشاور سانحے کے بعد ملک میں کہیں نظر نہیں آیا۔ اس حملے کے بعد بھی اسلام آبادکی سرکاری مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز نے ایک نجی ٹی وی پر آکر اس حملے کی مذمت کے بجائے نپے تلے الفاظ میں اس کی حمایت کر دی ۔ سول سوسائٹی کے ارکان نےلال مسجد میں اے پی ایس کے شہدا کے لئے غائبانہ نماز جنازہ اداکرنے کی کوشش کی تو نہ صرف انہیں روکا گیا بلکہ خطرناک نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ سول سوسائٹی کا احتجا ج کم ہوتے ہوتے آخر کار ختم ہوگیا اور یوں کسی اگلےناخوش گوار واقعے کی انتظار میں ہر طرف خاموشی چھا گئی۔ حکومت کی جانب سے آل پارٹی کانفرنس کا ڈھونگ رچایا گیا جو طویل بحث مباحثے کے بعد بالآخر دہشتگردوں سے نمٹنے کے لیے فوجی عدالتوں کے قیام کی منظوری پر اختتام پزیر ہوئی۔ حکمرانوں کی قابلیت کا معیار یہ ہے کہ برسوں کے اس ناسور کا علاج فوجی عدالتوں میں ڈھونڈا گیاہے۔ واقعے کے بعد زندگی پہلے ہی کی طرح رواں دواں ہے ،بیس روزہ تعطیلات کے بعد تعلیمی ادارے دوبارہ کھل چکے ہیں جبکہ وزیرستان اور خیبر( ون) آپریشن سے متعلق افسانوی داستانیں تراش کر عوام کے دل بہلانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔
پیرس حملے کے بعد نہ توفرانسیسی حکومت، حزب اختلاف اور دانشور کسی تذبذ ب میں مبتلا نظر آئے اور نہ ہی انہوں نے دہشتگردی کے اس واقعے کے لیے یہ جواز پیش کیاکہ چونکہ اخبارنے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺکے نازیبا کارٹون شائع کرکے مسلمانوں کی دل آزاری کی تھی لہذا حملہ جائز ہے۔ پاکستان میں طالبان اور دہشت گرد مذہبی تنظیموں کے ہمدردوں کے برعکس فرانس کے عوام اور حکومت نے یک زبان ہو کر اس حملے کو دہشت گردی قرار دیا ،سب ایک ہی صفحے پر نظر آئے ،حملے کو فرانس کے خلاف اعلان جنگ قراردے کر دہشتگردوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ دوسری طرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کے حکمران ،نام نہاد دانشور اور عوام 60 ہزار انسانوں کے قتل کے بعد بھی اس مغالطے کا شکار ہیں کہ دہشت گردی کے خلا ف جنگ ہماری نہیں بلکہ ہم امریکہ کی جنگ لڑرہے ہیں۔ نہ کسی کو کھل کرطالبان کی مذمت کی توفیق ہوئی اور نہ اس ناسور سے نمٹنے کے لئے کوئی واضح حکومتی حکمت عملی سامنے آئی ہے۔حکومت کی ترجیحا ت کا مرکز میٹروبس یا پھر انڈر پاسز کی تعمیر ہے، موجودہ حکومت کے لیے چین سے گوادر تک برق رفتار ٹرین سروس شروع کرنا ہی اصل ترقی اور حکمرانوں کی دانشمندی کا آخری معیار ہے۔ آج بھی ہمارے حکمران اس مخمصے کا شکار ہیں کہ اچھے طالبان کون ہیں برے کون۔ ایک جانب مغربی ممالک ہیں جو دہشت گردی کے لئے کسی قسم کی جواز پیش کرنے کی بجائے دوٹوک الفاظ میں دہشتگردوں سے نمٹنے کا عزم کئے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب ہم اور ہمارے حکمران ہیں جو سازشی مفروضوں کے ذریعے خودکو مغالطے میں ڈالے رکھنا چاہتے ہیں۔
سانحہ پشاور کی خونریزی کے بعد سے اب تک طالبان اور مذہبی دہشت گردوں کے ہاتھوں کراچی ،لاہور، راولپنڈی اور اورکزئی ایجنسی میں درجنوں بے گناہ شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، نہ ان کی صد ا میڈیا میں کہیں سنائی دی اور نہ کسی کو احتجاج کرنے کی توفیق ہوئی۔ حکومت کی جانب سے ا ن حملوں کی روک تھام کے لیے موثراقدامات نظر نہیں آرہے ۔پیرس حملے کے بعد جس قسم کا ردعمل فرانسیسی حکومت اور عوام نے ظاہر کیا اس سے کہیں زیادہ شدید ردعمل پشاور کے خونریز سانحے کے بعد پاکستانی حکومت اور عوام کو دکھانے کی ضرورت تھی لیکن افسوس کامقام یہ ہے کہ اندھیروں میں بھٹکنے والے لوگوں کا معیار اورترجیحات کچھ اور ہوتے ہیں۔ عوامی سطح پر دہشت گردوں کی مزہبی فکر کی حمایت ختم کیے بغیر اس ناسور کو ختم کرنا ممکن نہیں۔
ایک جانب مغربی ممالک ہیں جو دہشت گردی کے لئے کسی قسم کی جواز پیش کرنے کی بجائے دوٹوک الفاظ میں دہشتگردوں سے نمٹنے کا عزم کئے ہوئے ہیں جبکہ دوسری جانب ہم اور ہمارے حکمران ہیں جو سازشی مفروضوں کے ذریعے خودکو مغالطے میں ڈالے رکھنا چاہتے ہیں۔
9ستمبر 2001ء کو واشنگٹن اور نیویارک پرہونے والے حملوں کے بعدامریکی عوام اور حکومت نے اپنے دشمن کو پہچان لیا اور ان سے بدلہ لیا جس کے بعد سے امریکہ میں دہشت گردی کاکوئی دوسرا بڑا واقعہ رونمانہیں ہوا ۔7 جولائی 2005 کو لندن کی زیر زمین ریلوے سہولت کو دھماکوں سے اڑایا گیا ،برطانوی حکومت نے اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کی ،کمزوریوں کو دور کیا اور اب تک اس قسم کاکوئی دوسرا حملہ نہیں ہوا۔چند سال پہلے تک سری لنکا جل رہا تھا، تامل ٹائیگرز طالبان سے زیادہ طاقتور اور زیادہ خونریز حملے کر رہے تھے سری لنکن حکومت دہشت گردی کے خلاف ہر محاذ پر لڑی اور چوبیس سالوں کی خون ریزی کے بعد اب وہان امن کا قیام ممکن ہوا ہے۔پڑوسی ملک بھارت میں غربت کی شرح پاکستان سے بھی زیادہ ہے ،2008 میں بھارت کے تاریخی شہر ممبئی کے تاج محل ہوٹل پر خوفنا ک حملے کے بعد بھارت نے اپنی ناکامیوں پر غور کیا اور دہشت گردی کا مقابلہ کیا۔ اجمل قصاب کے لئے بھارت میں کہیں بھی جواز پیش نہیں کیا گیا ،اسے سولی چڑھا یا گیا جس کے بعد سے اب تک وہاں ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا یہی زندہ قوموں کا معیار ہوتا ہے قوموں سے خطائیں ہوتی ہیں لیکن ان خطاؤں کو دہرانے کے بجائے ان سے سبق سیکھ کر آئندہ کے لیے ان کی روک تھا م ہی قوموں کو دنیا میں ممتا ز مقام دلاتی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم آج بھی اپنی ترجیحات کا تعین کرنے میں بری طرح ناکام ہیں جسکا خمیازہ خونریزی و بربادی کی صورت میں ہمیں بھگتنا پڑرہاہے ۔اگر ہم دہشت گردوں کے خلاف مخمصے کے عالم سے باہر نہ نکلے تو پھر شائد مکمل تباہی ہی ہمارا مقدر ٹھہرے گی ۔
Categories
نقطۂ نظر

پاکستانی طالبان کون ہیں؟

لفظ طالب یا طالبان سنی مسلک سے وابستہ ان جنگجووں کے لیے استعمال ہوتاہے جنہوں نے ملا محمد عمر کی قیادت میں 2001تک افغانستان پر حکومت کی۔ نو گیارہ کے بعد جب نیٹو اور امریکی افواج نے افغانستان پہ حملہ کیا تو بہت سارے افغان طالبان اور القاعدہ رہنما پاکستانی وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے میں پناہ گزیں ہو ئے، ان جنگجووں میں افغان طالبان کے ساتھ ساتھ القاعدہ سےوابستہ بہت سے عرب،ازبک اور چیچن جہادی بھی شامل تھے۔
پاکستان کا افغانستان سے منسلک یہ قبائلی علاقہ سات ایجنسیوں پر مشتمل ہے جہاںساٹھ کے قریب قبائل رہائش پذیر ہیں ، ان قبائل کی اکثریت سنی وہابی مسلک سے وابستہ پختونوں کی ہے ۔ان کے علاوہ یہاں ایک قلیل تعداد شیعہ پختونوں اور سکھوں کی بھی ہے۔
تحریک طالبان پاکستان فاٹا میں سب سے مضبوط اور طاقتور نیٹ ورک رکھنے والی تنظیم بن کر سامنے آئی ہے، ایک اندازے کے مطابق اس تنظیم میں 30 تیس سے زائد چھوٹے بڑےجہادی گروہ شامل ہیں۔
افغان طالبان اور قبائلیوں کے مابین نہ صرف مسلکی ہم آہنگی ہے بلکہ پختون ولی یا روایتی پختون ضابطہ حیات کی قدر بھی مشترک ہے۔ فاٹا اور افغان پختون قبائل کے قریبی و تاریخی روابط اور اسی کی دہائی میں اس علاقہ کو جہادیوں اور پناہ گزینوں کے بیس کیمپ کی حیثیت سے استعمال کرنے کی وجہ سے فاٹا کے بعض قبائل افغان طالبان اور القاعدہ کے ہمدرد رہے ہیں۔ ان جنگجووں اور پاکستانی قبائل کے مابین مسلکی مماثلت اور شادی بیاہ کے علاوہ مقامی افراد کے معاشی مفادات بھی ان جنگجووں کے ساتھ وابستہ رہے ہیں جس کی وجہ سے افغان طالبان کو فاٹا میں پناہ ملنا ایک فطری عمل تھا۔ اس امر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستانی عسکری اداروں نے بھی نو گیارہ کے بعدطالبان اور القاعدہ کےجنگجووں کو ان علاقوں میں پناہ دینے میں اہم کردار اد ا کیا۔ بین الاقوامی دباو کے باوجود پاکستانی افواج نے افغان طالبان کی پشت پناہی جاری رکھی اورمحض ان جنگجووں کے خلاف کارروائی کی جو پاکستانی افواج پر حملہ کر نے میں ملوث تھے۔
قبائلی علاقوں سمیت ملک بھر میں طالبان کے لیے پائی جانے والی ہمدردی اور شریعت کے نفاذ جیسے نعروں کے باعث پاکستان میں طالبان کی حمایت میں نو گیارہ کے بعد بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے۔”برے طالبان” کے خلاف کارروائی اور مشرف دور میں جہادی تنظیموں کو کالعدم قرار دیے جانے کے ردعمل کے طور پر پاکستانی افواج ، ریاستی اداروں اور عام لوگوں پر طالبان حملوں میں اضافہ ہوا۔ ڈرون حملوں میں ہونے والے جانی نقصان کے باعث بھی پاکستانی فوج کے خلاف مقامی شدت پسندوں میں پاکستان مخالف جذبات بڑھے۔اپنی جہادی کارروائیوں کا دائرہ پاکستان تک بڑھانے کے حامی طالبان کے منحرف ارکان نے دسمبر 2007 میں ایک مضبوط ایگزیکٹو کونسل بنائی جس نے آج تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی ) کی صورت اختیار کر لی ہے، رفتہ رفتہ اس تنظیم میں لشکر طیبہ، لشکر جھنگوی اور دیگر جہادی اور فرقہ وارانہ تنظیموں کے ارکان نے بھی شمولیت اختیار کرلی ۔ تحریک طالبان پاکستان فاٹا میں سب سے مضبوط اور طاقتور نیٹ ورک رکھنے والی تنظیم بن کر سامنے آئی ہے، ایک اندازے کے مطابق اس تنظیم میں 30 تیس سے زائد چھوٹے بڑے جہادی گروہ شامل ہیں۔اس تنظیم کا پہلا امیر بیت للہ محسو د اور نائب حافظ گل بہادر کو بنایاگیا۔
تحریک طالبان پاکستان کا مقصد پاکستان میں افغان طالبان کی سخت گیر شریعت کا نفاذاور پاکستان اور افغانستان میں موجود “کافروں “کے خلاف جہاد فی سبیل اللہ ہے۔تحریک طالبان پاکستان میں سابق افغان طالبان کے ساتھ پنجاب میں فعال کالعدم فرقہ وارانہ تنظیموں کی شمولیت کے باعث اس تنظیم کی کارروائیوں کا دائرہ شیعہ ٹارگٹ کلنگ سمیت بریلوی مزارات پر حملوں تک پھیل گیا ہے۔ٹی ٹی پی کی تشکیل میں اہم کردار شمالی اورجنوبی و زیرستان کے دو اہم قبائل محسود اور وزیر قبائل نے ادا کیا۔ اگست 2009 میں امریکی ڈرون حملے میں بیت اللہ محسودکی ہلاکت کے بعد حکیم اللہ محسود کو ٹی ٹی پی
کا نیا امیر بنایا گیا،اس موقع پر قیادت کے حصول پر اختلافات کے باعث وزیر قبائل سے تعلق رکھنے والے دو اہم کمانڈر حافظ گل بہاد ر اور مولوی نذیر نے تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کر لی۔بعض ماہرین کے نزدیک تحریک طالبان پاکستان کی تقسیم پاکستانی اداروں کی کارستانی تھی کیونکہ ملا نذیر گروپ اور حا فظ گل بہادر پاکستان سے بات کرنے کے حامی تھے۔بعد ازاں علیحدہ ہونے والے گروہوں نے پاکستان کے خلاف کارروائیاں بھی بند کردیں لیکن تحریک طالبان پاکستان نے نے اپنی کارروائیاں جاری رکھیں۔
تحریک طالبان پاکستان کی قبائلی علاقوں میں مقبولیت کی بڑی وجہ پاکستانی حکومت کی طرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دوہرا کردار اور ڈرون حملے رہے ہیں ۔ سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مقامی لشکروں کے ذریعے کارروائی کے بعد ان امن لشکروں کو تنہا چھوڑ دینے کی حکمت عملی نے بہت سے قبائل کو پاکستان حکومت کی بجائے طالبان کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا۔تحریک طالبان پاکستان نے متاثرہ علاقوں میں سولہ سے تیس ہزار ماہوار تنخواہ پر مقامی افراد کو اپنے لشکروں میں بھرتی کرنا شروع کردیا جس کے باعث فاٹا، سوات ، خیبرپختونخواہ اور جنوبی پنجاب کے علاقے جو قبل ازیں افغان جہاد کے لیے بھرتی کے علاقے رہے ہیں ، سے مذہب کی طرف رحجان رکھنے والے نوجوانوں نے اس تنظیم میں شمولیت اختیار کی۔ حکومت پاکستان کی جانب سے پسماندہ علاقوں کی ترقی اور قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے افراد کی بحالی میں ناکامی کے باعث بھی اس تنظیم کے اثرورسوخ میں اضافہ ہوا ہے۔ تحریک طالبان پاکستان نے پاکستانی افواج کے خلاف کاروایوں کے ساتھ ساتھ کرم ایجنسی کے شیعہ پختونوں کو بھی نشانہ بنایا ہے۔بعض ماہرین ٹی ٹی پی کے اس عمل کو کرم ایجنسی پر اپنے قبضے اور کابل تک آسان رسائی کے ذریعے اپنی کارروائیوں کو وسعت دینے کی حکمت عملی کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مقامی لشکروں کے ذریعے کارروائی کے بعد ان امن لشکروں کو تنہا چھوڑ دینے کی حکمت عملی نے بہت سے قبائل کو پاکستان حکومت کی بجائے طالبان کی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا۔
تحریک طالبان پاکستان اگرچہ خود کو افغان طالبان کا حصہ قرار دیتی ہے اور ملا محمد عمر کو اپنا امیر المومنین بھی مانتی ہے لیکن اس کے باوجود اس تنظیم اور اس میں شامل جنگجو گروہوں کا ایجنڈاافغان طالبان سے قدرے مختلف ہے۔افغان طالبان اور حقانی گروپ اپنی جنگ افغانستان تک محدود رکھتے ہوئے غیر ملکی افواج کے انخلاء اور افغانستان پر قبضے تک رکھنا چاہتے ہیں جب کہ ٹی ٹی پی نیٹو اور امریکی افواج کے ساتھ ساتھ پاکستان کے خلاف بھی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے تاہم شریعت کے نفاذ کے حوالے سے دونوں طالبان دھڑوں کا ایک ہی موقف ہے۔ٹی ٹی پی پاکستان میں سخت گیر شریعت رائج کرنا چاہتی ہے جس کے لیے اس تنظیم نے فاٹا کے کچھ علاقوں میں موسیقی ، وڈیو سی ڈیز کی دکانوں،داڑھی منڈوانے اور عورتوں کے گھروں سے نکلنے پر پابندی عائد کی تھی ۔ایسی شریعت کے نفاذ کی پہلی کوشش ٹی ٹی پی کے موجودہ امیر ملا فضل اللہ کی تنظیم تحریک نفاذ شریعت محمدی نے سوات میں کی تھی اور وہاں سخت گیر شرعی قوانین نافذ کیے تھے۔
ستمبر 2010 کو امریکہ نےتحریک طالبان پاکستان کو Foreign Terrorist Organization F.T.O قرار دے کر اس کے خلاف کارروائیاں تیز کردی تھیں، نومبر2013 میں ٹی ٹی پی کے امیر حکیم اللہ محسود ڈرون حملے میں مارے گئے جس کے بعد ملا فضل اللہ کو امیر بنایا گیا جواس تنظیم کا پہلا ایسا امیر تھا جس کا تعلق فا ٹا سے نہیں تھا۔ملافضل اللہ کے محسود نہ ہونے اور ان کی افغانستان میں موجودگی کی وجہ سے تحریک طالبان پاکستان میں شدید اختلافات سامنے آئے۔ فروری 2014 میں مولانا عمر قاسمی کی قیادت میں علیحدگی اختیار کرنے والے جنگجووں نے الحرا رالہند کے نام سے علیحدہ جماعت بنائی جو پاکستان کے ساتھ بات چیت کی سخت مخالف تنظیم سمجھی جاتی ہے ۔ محسود قبائل سے تعلق رکھنے والے بعض جہادیوں نے بھی ٹی ٹی پی سےعلیحدگی اختیار کرکے تحریک طالبان ساؤتھ وزیرستان کے نام سےاپنا علیحدہ دھڑا بنایا ہے جس کا امیر خالد محسود کو بنایا گیاہے۔ اگست 2014 میں عمر خالد خراسانی کی قیادت میں ایک اور گروپ نے علیحدگی اختیار کرلی اور اپنا نام جماعت الحرار رکھ دیا۔اسی دوران تحریک طالبان پاکستان کی سابق اتحادی تنظیم تحریک طالبان پنجاب یا پنجابی طالبان کے امیر عصمت اللہ معاویہ نے بھی پاکستان کے خلاف کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے ۔اختلافات کے باوجودپاکستانی طالبان نے ملا فضل اللہ کی قیادت میں پاکستان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گرد کارروائیوں کے باوجود دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوجی کارروائی کی مخالفت کے باعث ٹی ٹی پی کے خلاف موثر کارروائی کا عمل تاخیر کا شکار رہا ہے۔
تحریک طالبان پاکستان کی دہشت گرد کارروائیوں کے باوجود دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے فوجی کارروائی کی مخالفت کے باعث ٹی ٹی پی کے خلاف موثر کارروائی کا عمل تاخیر کا شکار رہا ہے۔تاہم 8 جون2014 کو جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ کراچی پر تحریک طالبان پاکستان اوراسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے حملے بعد پاکستانی فوج نے شمالی وزیرستان میں پہلا بھرپور فوجی آپریشن شروع کر دیا۔ پاکستان میں طالبان کے خلاف رائے عامہ صحیح معنوں میں پہلی مرتبہ فوجی آپریشن کے شروع ہونے کے تین ماہ بعد 16 دسمبر 2014 کو آرمی پبلک سکول پشاور پر تحریک طالبان کے وحشتناک حملے کے بعد ہوئی ہے۔ اس حملے کے بعد آپریشن کا دائرہ کار پورے ملک میں پھیلا دیا گیا ہے، تاہم اس وقت اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے ساتھ ساتھ طالبان اور مذہبی دہشت گردی کو شکست دینے کے لیے شدت پسند مذہبی فکر کی ترویج روکنے کی بھی کوشش کی جائے گا یا نہیں۔ تحریک طالبان پاکستان سے علیحدگی اختیار کرنے والے طالبان اور جہادی گروہوں کی جانب سے ابو بکر البغدادی اور داعش سے وفاداری اور بیعت کا اعلان ایک ایسا خدشہ ہے جسے تحریک طالبان کی جانب سے اپنا مستقبل محفوظ بنانے اور ایک وسیع عالم گیر جہاد کے آغاز کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتاہے تاہم ٹی ٹی پی کا مستقبل بہت حد تک آپریشن ضرب عضب کے نتائج اور پاکستان میں طالبان ہمدرد مدارس کے خلاف کارروائی سے مشروط ہے۔
Categories
نقطۂ نظر

غیرمسلح طالبان کو کون روکے گا؟

طالبان کی جانب سے بچوں کی جان لینے جیسے دردناک عمل کی مذمت کرنے والوں سے یہ سوال بھی پوچھا جانا چاہیے کہ کیا وہ طالبان اور اس واقعہ کے لیے جواز فراہم کرنے والی کی شدت پسند مذہبی فکرکی مذمت کرنے کو بھی تیار ہیں یا نہیں؟آج یہ سوچنا بے حد اہم ہے کہ کیا طالبان کے مارے جانے، ہتھیار ڈالنے یا وقتی طور پر ہمارے علاقوں سے چلے جانے کے بعد ہم ایک سخت گیر سیاسی اسلام سےمحفوظ رہ سکیں گے؟ اس بات کا احساس کیا جاناضروری ہے کہ شریعت کے نفاذ یا خلافت کے قیام کی مسلح تحریکوں کی جگہ پرامن سیاسی اور مذہبی تنظیموں کو کس حیثیت سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔
سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ ہزاروں مدارس اورسینکڑوں تبلیغی تنظیموں کی جانب سےمعاشرے میں جن شدت پسند مذہبی افکارکے نفاذ کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ان تنظیموں کے پرامن ہونے کے باوجود ان کی نظریاتی اساس طالبان کی فکر جیسی ہی بےلچک، غیر انسانی، قدامت پسند اور سخت گیر ہے۔
جماعت اسلامی ، جمعیت علمائے اسلام اورایسی ہی دیگرسیاسی اورمذہبی جماعتیں جوعرصہ درازسے پاکستان میں اسلام کے نفاذ اورعالمگیراسلامی حکومت (خلافت )کے قیام کے لیے کوشش کررہی ہیں ان کی جانب سےانتخابی سیاست کے ذریعےغلبہ اسلام کی کوشش کو سمجھنا موجودہ حالات کے تناظر میں کہیں زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔ ان سیاسی و مذہبی جماعتوں کے علاوہ ہزاروں مدارس اورسینکڑوں تبلیغی تنظیموں کی جانب سےمعاشرے میں جن شدت پسند مذہبی افکارکے نفاذ کی کوششیں کی جا رہی ہیں، ان تنظیموں کے پرامن ہونے کے باوجود ان کی نظریاتی اساس طالبان کی فکر جیسی ہی بےلچک، غیر انسانی، قدامت پسند اور سخت گیر ہے۔
مذہبی سیاسی جماعتیں ، نظریاتی تبلیغی گروہ اورمدارس طالبان کے طریق کار سے اختلاف کرتے ہیں مگر مطالبات اور نظریات کے حامی اور ہمدرد ہیں۔ ان علماء اور ان کے پیروکار مسلمانوں کی اکثریت پوری شدت سے نفاذ اسلام ، قیام خلافت اور نظام شریعت کی حامی ہے۔ ان غیرمسلح طالبان سےعلمی اختلاف کرنے، مذہب اور سیاست کی علیحدگی کی بات کرنے اور انسانی آزادی اورحقوق کی ترقی پسند فکر کی ترویج کی سکڑتی ہوئی گنجائش کے پیش نظر کیا یہ ممکن ہو گا کہ آنے والے برسوں میں شدت پسند مذہبی سیاسی نظام کے قیام کی مخالفت کی جاسکے یا اس کا مقابلہ کیا جاسکے۔
پاکستان سمیت بیشتر مسلم ممالک میں مذہبی قوانین یا شریعت کے نفاذ کی حمایت میں ہونے والا اضافہ تشویش ناک ہے۔ ایک طرف یہ موجودہ نظام انصاف پرعدم اعتماد کی وجہ سے ہے اور دوسری طرف اس کی ایک اہم وجہ معاشرتی سطح پر قدامت پسند مذہبی نظریات کی کھلی ترویج ہے ۔ قدامت پسنداور فرسودہ مذہبی تشریحات کی تعلیم صرف مدارس تک محدود نہیں بلکہ یہ افکار تبلیغی تنظیموں اور مذہبی پروگراموں کے ذریعے ہرگھر تک پہنچ چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی مسلم آبادی کی اکثریت پھانسی، ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے جیسی سزاوں، پردہ، کم عمری کی شادی، مردانہ برتری، مذہبی جبراورشدت پسند جہادی فکرکی حمایت کرتی ہے۔
اگرچہ مذہب پرعمل کرنا اوراس کی ترویج کی کوشش کرنا ہر فرد کا بنیاد ی حق ہے لیکن کیا مذہب کے نفاذ کو ریاست کی ذمہ داری قرار دے کر دیگرمذاہب اورفرقوں کی آزادی کو سلب کرنے یا ایک مخصوص گروہ یا مسلک کےتصور اسلام کو بزورطاقت مسلط کرنے کی آزادی کسی کو نہیں دی جا سکتی۔ مسلمانوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ انہیں اپنے عقیدے کے مطابق اپنی ذاتی زندگی گزارنے کا حق ضرور حاصل ہے لیکن انہیں اپنےمذہبی افکارکوسیاسی نعرہ بنا کر دوسرے مذاہب کے افراد یا اپنے ہی ہم مذہبوں پر نفاذ کا خدائی فوجدار بننے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
قدامت پسنداور فرسودہ مذہبی تشریحات کی تعلیم صرف مدارس تک محدود نہیں بلکہ یہ افکار تبلیغی تنظیموں اور مذہبی پروگراموں کے ذریعے ہرگھر تک پہنچ چکے ہیں۔
پاکستان میں مذہب کوریاست کی ذمہ داری قراردےکراس کے نفاذ کو آئینی فریضہ قراردیاگیا ہے، جس کے باعث سخت گیر اسلامی افکارکے نفاذ اورمذہبی جبر کا جواز پیدا ہو چکا ہے۔ ریاست اورسیاست میں مذہب کی شمولیت کے باعث ہرپاکستانی کے خیال میں اسلام پسند قوتوں کی حمایت کرتے ہوئے عام لوگ طالبان اورمولانا عبدلعزیز جیسے افراد سے نہ صرف ہمدردی رکھتے ہیں بلکہ ان کی کامیابی کے خواہاں بھی ہیں۔ فکری طالبان کا راستہ روکنے کے لیے ریاست اورمذہب کی علیحدگی وہ پہلا ضروری قدم ہے جو اٹھانا ہو گا وگرنہ غیرمسلح طالبان اپنے ہتھیاروں کی بجائے اپنے حامیوں کی مدد سے ریاست پر قبضہ کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

میری ارض پاک پر یہ کیسے عذاب اتر رہے ہیں

بچپن میں بڑوں سے جنات کے واقعات سناکرتے تھے کہ جن آتشی مخلوق ہے جو دماغ سے کام نہیں لیتی بس ذرا سی بات پہ چراغ پا ہو کر اپنے غضب کے شعلوں سے لوگوں کو بھسم کر دیا کرتی ہے۔ نہ یہ مخلوق انسانی آنکھ کو نظر آتی ہے نہ اس کا گھر اورنہ ہی کوئی کنبہ۔ جب کسی انسان کا ایسی کسی جگہ سے گزر ہو جہاں یہ مخلوق آباد ہو تو کچھ دکھائی نہ دینے کے سبب وہ انسان اگر اس مخلوق کی زندگی میں دخل اندازی کا سبب بن جائے تو غصے میں آکر یہ پوری انسانی بستی اجاڑ دیتی ہے۔ بے گناہ لوگوں کو بلا تفریق زن و بچہ یہ مخلوق بس انتقام انتقام کا نعرہ بلند کرتی ہوئی کشت و خون میں جت جاتی ہے۔
یہ خون آشام مخلوق جس کو انسانی لہو کی چاٹ تو کب کی لگی ہوئی تھی لیکن اب اس کی طلب اور وحشت اس حد تک آگئی ہےکہ اس نے ہر حد پار کر لی ہے۔
آج جب بظاہر انسانوں کی مانند دکھنے والی ایک مخلوق کو انسانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑتے دیکھ رہی ہوں تو وہی بچپن کے جنوں بھوتوں اور آسیب کی کہانیاں ہی ذہن میں پھر رہی ہیں۔ یہ انسان نما مخلوق جو اپنے جبر اور سرپھرے خیالات کے ساتھ انسانوں کے خون کی پیاسی ہوئی ہے یہ نہ تو انسان کہی جانے کی مستحق ہے نہ جانور۔ یہ تو شاید ان جنوں بھوتوں کی کہانیوں کے کرداروں سے بھی بھیانک ہے جو بے قصوروں کو صرف اس لیے مار رہی ہے کہ وہ اس مخلوق جیسے کیوں نہیں ہوجاتے۔ اس اسفل مخلوق کا کسی نے کچھ بگاڑا ہے یا نہیں لیکن تاوان بھگتنے والی یہ ننھی معصوم جانیں یقیناً قصور وار نہیں تھیں۔
یہ خون آشام مخلوق جس کو انسانی لہو کی چاٹ تو کب کی لگی ہوئی تھی لیکن اب اس کی طلب اور وحشت اس حد تک آگئی ہےکہ اس نے ہر حد پار کر لی ہے۔ یقیناً شیطانوں کے کوئی اصول نہیں ہوا کرتے لیکن کل ہونے والے اس لرزہ خیز واقعے نے تو شیطانیت کو بھی شرما دیا ہے۔ انسانی جون میں نظر آنے والی یہ مخلوق بے شک بےشک ابلیس کو بھی کوسوں پیچھے چھوڑ چکی ہے۔
ان معصوم جانوں کی تکلیف ان پر توڑے گئے ظلم کا بیان اور داستان اشک بار تو سب ہی جان چکے ہیں۔ سبھی کو علم ہے کہ کیسے یہ معصوم کلیاں بےدردی سے نوچ کر شاخ زندگی سے جدا کر دی گئیں۔ تفصیل میں یوں بھی نہیں جاؤں گی کہ ان کے درد کی داستان زبان زد عام ہے اور میرے قلم میں نہ اتنی ہمت ہے اورنہ میرے ضبط میں اس قدر یارا کہ میں ان تمام مظالم اور ان کے نتیجے میں خود پر بیتی کیفیت کو لفظوں کا جامہ پہنا سکوں۔ الفاظ تکلیف کے اظہار کا اہم ذریعہ سہی لیکن ہر جذبہ الفاظ کا سہارا نہیں لے سکتا۔ محض آنسو ہی ہیں جو اس سانحہ عظیم کےبعد خود پر گزرنے دلی کیفیت کو آشکار کر سکیں تو آنسو آج ہر پاکستانی کی آنکھ میں ہیں۔ ہر دل دکھی ہے ہر آنکھ اشکبار ہے۔ یہ گھاؤ اس قدر گہرا ہے کہ وقت شاید آسانی سے اسے بھر بھی نہ سکے۔ ظالموں نے اس بار بہت کاری وار کیا ہے۔ صرف یہ ۱۳۰ خاندان ہی نہیں پورا پاکستان اس دن اور اس تکلیف کو کبھی نہیں بھول پائے گا۔
لیکن کیا ہمارے ارباب اختیار، بااثر عمائدین حکومت اور سیاستدان اس داستان خون چکاں کو یاد رکھیں گے؟ کیا وہ اب بھی اپنے دلوں پہ طاری اس جمود کو نہ توڑیں گے؟
لیکن کیا ہمارے ارباب اختیار، بااثر عمائدین حکومت اور سیاستدان اس داستان خون چکاں کو یاد رکھیں گے؟ کیا وہ اب بھی اپنے دلوں پہ طاری اس جمود کو نہ توڑیں گے؟مفادات کی سیاست، مفاہمت کی سودے بازیاں بہت ہو گئیں، کمیٹیاں بھی اب تک بہت بنائی گئیں، کمیشن بھی بہت بٹھائے گئے، لیکن نتیجہ کچھ نہ نکل سکا۔ کیا اب بھی ایسا ہی ہوگا؟ کیا اب بھی جھوٹے وعدوں اور طفل تسلیوں سے اس بات کا انتظار کیا جائے گا کہ کچھ وقت مزید گزر جائے اور لوگوں کے ذہن سے یہ واقعہ فراموشی کی نذر ہوجائے؟ اب مزید ایسے واقعات کا انتظارکیوں کیا جائے؟
ملالہ اور اس کی ساتھیوں پر جس وقت حملہ کیا گیا بہت سے لوگوں نے اس پر قیاس آرائیاں کیں۔ وہ پاکستانی بچی جس طرح اپنی جان پہ کھیل گئی، ان درندوں کو اس پر ترس نہیں آیا تب ہی سمجھ لینا چاہیے تھا کہ یہ ظالم لوگ محض اپنے مفادات اور خیالات کے زبردستی پھیلاؤ کے لیے ہر حد سے گزر سکتے ہیں۔ مجرم ہمارے سامنے موجود ہیں جو بڑے فخر سے اس جرم کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں ۔ ہماری صفوں میں موجود کالی بھیڑیں اب بھی ان کے اس عمل کی تائید یا توجیہات پیش کرتی نظر آتی ہیں اور ہم ابھی تک خاموش تماشائی ہیں۔ ان مجرموں کے ہمدردوں کی باتیں اور دلائل سننے میں مگن ہیں۔ کیوں نہیں ہم ان ہی ہمدردوں کے گرد دائرہ تنگ کرتے۔ مجھے یقین ہے کہ خنجر ان ہی کے پس آ ستین ضرور نکلیں گے۔
اپنے معصوم چھوٹے چھوٹے بچوں کے بے گناہ لاشے اٹھانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ ہم نے یہ لاشے اٹھائے ہیں اور ان کی قبریں صرف زمین پر ہی نہیں ہمارے دلوں میں بن چکی ہیں۔
ان زمینی خداؤں کے لیے ہمارا یہ پیغام ہے کہ ہم اب مزید ایسے کسی واقعے کے متحمل نہیں ہوسکتے، ہمارے سینے دکھ سے چھلنی ہوچکے ہیں۔ اپنے معصوم چھوٹے چھوٹے بچوں کے بے گناہ لاشے اٹھانا اتنا آسان کام نہیں ہے۔ ہم نے یہ لاشے اٹھائے ہیں اور ان کی قبریں صرف زمین پر ہی نہیں ہمارے دلوں میں بن چکی ہیں۔ ہم سب پاکستانی بطور ایک قوم اس سنگین حرکت کی مذمت ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے مجرمین کو کیفر کدار تک پہنچانے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔ اب ہم اس سانحے کو کسی دوسرے کی تکلیف جان کر نظرانداز کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں کیوں کہ یہ درد ہم سب کا مشترکہ ہے۔ ہم بلاتفریق رنگ، نسل، عقائد، زبان، اور مذہب کے اس سانحے کو اپنا ذاتی نقصان قرار دیتے ہیں۔ میری اور یقیناً میرے ساتھ ہم آواز تمام پاکستانیوں کا مطالبہ ہے کہ ہمیں طالبان اور دیگر انتہا پسندوں کا اپنے ملک سے کلی طور پر انخلا چاہیے اور ہم ان ظالموں کے لیے عبرت ناک سزا تجویز کرتے ہیں۔
Categories
نقطۂ نظر

یہ کہنا غلط ہے کہ پنجابی طالبان، پاکستان فرینڈلی طالبان ہو گئے ہیں

[blockquote style=”3″]

مجاہد حسین برسلز میں مقیم ایک پاکستانی صحافی اور مصنف ہیں۔ ان کی کتاب ‘پنجابی طالبان’ پنجاب سے جنم لینے والے فرقہ وارانہ شدت پسند گروہوں کی جملہ حرکیات کا احاطہ کرتی ہے۔ سنجیدہ حلقوں میں پزیرائی حاصل کرنے والی یہ کتاب حکومتی حلقوں میں مورد عتاب ٹھہری۔ لالٹین کے ساتھ اس نشست میں انہوں نے پنجابی طالبان کے بارے میں کچھ مزید چشم کشا انکشافات کیے ۔

[/blockquote]

punjabi-taliban

لالٹین: پنجابی طالبان کون ہیں؟ بہت سے لوگ تو ان کے وجود سے ہی انکاری ہیں؟
مجاہد:
پنجابی طالبان بنیادی طور پر پاکستان کی فرقہ وارانہ جماعتوں کا مجموعہ ہے جس میں لشکر جھنگوی، سپاہ صحابہ، جیش محمد، حرکت الانصار جو پہلے حرکت المجاہدین کہلاتی تھی اور آجکل انصارالامہ کہلاتی ہے، جیسے گروہ شامل ہیں۔ پنجابی طالبان ان تنظیموں کے ملے جلے لوگ ہیں جو بنیادی طور پر القاعدہ کے ساتھ منسلک ہوئے اور طالبان کے ساتھ ان کا تعلق تو پہلے سے ہی موجود تھا۔ افغانستان میں پنجابی طالبان کا ایک خاص کردار رہا ہے۔ افغان جہاد میں یہ پنجابی مجاہدین کے نام سے جانے جاتے تھے۔ طالبنائزیشن کے دور کے بعد انہیں پنجابی طالبان کہا گیا۔
ہمارے ہاں بہت سے لوگ جیسا کہ سابقہ پنجاب حکومت کے وزیر قانون اور وزیر اعلیٰ نے پنجابی طالبان کی اصطلاح کی مذمت کی اور پنجابی طالبان کے وجود کا بھی انکار کیا لیکن وہ تو ایک ناقابل تردید حقیقت کی طرح موجود ہیں۔ وہ خود کو پنجابی طالبان کہلواتے ہیں اور دوسرے علاقوں کے شدت پسند بھی ان کو یہی نام دیتے ہیں۔
پاکستان میں جہاں جہاں فرقہ وارانہ قتل و غارت کی ضرورت پڑتی ہے، یہ اپنی کارروائیاں کرتے ہیں جس میں ان کا الحاق جنداللہ اور لشکر جھنگوی العالمی جیسے گروہوں کے ساتھ بھی ہے۔ ان گروہوں کے کیڈرز پاکستان اور افغانستان میں پھیلے ہوئے ہیں اور پہلے سے زیادہ مضبوط ہیں۔

 

لالٹین: پہلے سے زیادہ مضبوط کیسے ہوئے ہیں حالانکہ بظاہر ریاست ان کے خلاف ایکشن بھی لے رہی ہے۔ چند سال قبل آپ کی تحقیق کے مطابق پنجابی طالبان کی تعداد تقریبا ڈیڑھ لاکھ تھی۔ اب کیا صورت حال ہے؟
مجاہد:
اب تو ان کی تعداد بڑھ چکی ہے۔ ایک وجہ تو فرقہ وارانہ جماعتوں کا طالبان کے ساتھ الحاق کرنا ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان کے بندوبستی علاقوں میں ان کی تربیت آج بھی جاری ہے۔ اُگی کیمپ اور مانسہرہ کے گردونواح میں واقع کیمپ اس کی مثالیں ہیں۔ کوئٹہ میں بھی ان کے تربیتی کیمپ ہیں۔ اور جہاں تک ہماری ریاست کا تعلق ہے، وہ کبھی بھی خود کو ان سے علیحدہ نہیں کر سکی۔ اگر ہماری ایجنسیوں کو ان کے تربیتی کیمپوں کا پتہ ہے اور وہ کوئی کارروائی نہیں کررہیں تو بات صاف ظاہر ہے۔ محض آئی ایس پی آر کے بیانات تو کافی نہیں۔ کچھ عرصہ قبل طالبان نے حکومت کو دھمکی آمیز خط لکھ کر اپنے ساتھیوں کی پھانسیاں رکوائی ہیں۔ یہ ریاست پاکستان کی طرف سے ایک طرح کا تعاون تھا۔ اس کے بدلے میں انہوں نے کہا کہ وہ پاکستان میں حملے نہیں کریں گے، لیکن حملے انہوں نے پھر بھی کیے۔

 

لالٹین: اسی سال ستمبر میں پنجابی طالبان کے عصمت اللہ معاویہ گروپ نے بھی پاکستانی ریاست کے خلاف کارروائیاں روکنے جبکہ افغانستان میں انہیں جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس کے محرکات کیا ہیں اور کیا یہ کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے؟
مجاہد:
میرے خیال میں پاکستان میں بڑے پیمانے پر حملے نہ کر پانا پنجابی طالبان کا کوئی شعوری فیصلہ نہیں، بنیادی طور پر حالات کا تقاضہ تھا۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ افغانستان میں مصروف ہیں، اور دوسری یہ کہ ان کے تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ تعلقات بھی کچھ بہت اچھے نہیں رہے۔ تعلقات کی کشیدگی کی وجہ یہ ہے کہ ٹی ٹی پی یہ سمجھتی ہے کہ پنجابی طالبان پاکستانی ریاست کے ساتھ گٹھ جوڑ میں ہیں۔ تو یہ بنیادی طور پر پنجابی طالبان کے کچھ اندرونی مسائل ہیں جن کی وجہ سے وہ اس طرح کھل کے حملے اور بات نہیں کر سکتے جس طرح ٹی ٹی پی کرتی ہے۔ مزید یہ کہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال میں افغان طالبان کے ساتھ تعلق قائم رکھنا بھی ان کی ایک ضرورت ہے۔

 

لالٹین: فرقہ واریت کے علاوہ پنجابی طالبان کے دیگر نظریاتی مقاصد اور لائحہ عمل کیا ہیں؟
پنجابی طالبان کا اقلیتوں پر حملہ محض اقلیتوں پر حملہ نہیں، ریاست پاکستان پر بھی حملہ ہے۔

 

مجاہد: پنجابی طالبان کی مسلکی بنیاد دیوبندی نقطہ نظر ہے۔ ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ پنجابی طالبان القاعدہ کی طرح کوئی نظریاتی گروپ نہیں ہے۔ یہ بنیادی طور پر موقع پرست جنگجو گروہوں کا اکٹھ ہے۔ جہاں ان کے مفادات کو زک پہنچتی ہو، یہ حملہ کر دیتے ہیں۔ اور جہاں سے انہیں کسی فائدہ کی توقع ہو تو یہ صرف نظر بھی کر دیتے ہیں۔ یہ کہنا بالکل یک طرفہ بات ہو گی کہ یہ ریاست کی مرضی سے حملے کرتے اور روکتے ہیں۔ ان کے مقاصد میں اپنی تنظیم اور اس کے مفادات ہی سر فہرست ہوتے ہیں۔ اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ پنجابی طالبان کوئی پاکستان فرینڈلی طالبان ہو گئے ہیں۔
تاہم یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ پنجابی طالبان کا اقلیتوں پر حملہ محض اقلیتوں پر حملہ نہیں، ریاست پاکستان پر بھی حملہ ہے۔ جیسا کہ پچھلے سال چلاس والے حملے میں ضلعی انتظامیہ کے بہت سے لوگ جن میں ایک ڈپٹی کمشنر اور ایس ایس پی بھی شامل ہیں، مارے گئے۔
یہ بہت سی کارروائیاں القاعدہ کے ساتھ مل کر کرتے ہیں جیسا کہ سری لنکن ٹیم پر حملہ اور سلمان تاثیر کے بیٹے کا اغوا۔ دوسری تنظیموں کے ساتھ مل کر کرنے والی کارروائیوں میں یہ اس حد تک منظّم ہیں کہ ان کا اپنا اپنا میدان طے ہوتا ہے کہ مثال کے طور پر کس نے معلومات دینی ہیں، کس نے ریکی کرنی ہے، کس نے اغوا کرنا ہے، کس نے آگے بیچنا دینا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ یہ صورت حال ہمارے تفتیش کرنے والے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے کافی پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

 

لالٹین: پنجابی طالبان کا نچلی سطح تک نیٹ ورک کیسے چلتا ہے اور ان کو نئے ریکروٹ کہاں سے ملتے ہیں؟
مجاہد:
ان کا بنیادی مآخذ تو مدارس ہیں۔ اور پاکستان میں سب سے مربوط اور منظم مدارس کا سلسلہ تو دیوبند کا ہی ہے۔ صرف کراچی میں چار بڑے مدارس، جن میں جامعہ بنوری ٹاون، جامعہ اسلامیہ نیو ٹاون، جامعہ فاروقیہ، اور جامعہ رشیدیہ شامل ہیں، کے صرف ہوسٹلوں میں رہنے والے طلبہ کی تعداد پچاس سے ساٹھ ہزار ہے۔ پاکستان بھر میں ایسے ہزاروں مدارس ہیں۔ وہ کھلے عام طریقے سے تو ریکروٹمنٹ نہیں کر سکتے لہٰذا ایسے مدارس پر ہی بنیادی طور پر انحصار کرتے ہیں۔ مدارس سے فارغ التحصیل طلبہ کی ایک بہت بڑی تعداد تربیت لیتی ہے اور جہاد پر بھی جاتی ہے۔ بعض مدارس جہادی تربیت کے مراکز کے ساتھ براہ راست منسلک ہیں اور جہاد جیسے مسائل پر ان کا نقطہ نظر بھی ہمارے سامنے آتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر دارالعلوم حقانیہ جیسے مدرسے کو ہم طالبان اور افغانستان کی پوری شورش سے الگ کرنا بھی چاہیں تو نہیں کر سکتے۔

 

لالٹین: کالعدم تنظیموں کی نشرواشاعت کا سلسلہ کس حد تک جاری وساری ہے؟
حکومت کی طرف سے ان کی نشرواشاعت پر کوئی خاص قدغن نہیں ہے۔ جیش محمد ایک کالعدم تنظیم ہے لیکن اس کی تمام پبلیکیشنز موجود ہیں۔

 

مجاہد: سب کے میگزین بلا روک ٹوک نکل رہے ہیں۔ مثال کے طور پر سپاہ صحابہ کے ‘حق چار یار’ اور ‘خلافت راشدہ’ پوری آب و تاب سے نکل رہے ہیں۔ اور ان کے مواد میں بھی کوئی بدلاو نہیں ہے۔ اس میں فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی بدستور موجود ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمارے انتظامی افسران ان کو پڑھتے نہیں ہیں اور ان کو علم نہیں ہے کہ مواد کیا ہے اور اس کے کیا اثرات ہو سکتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ان کی نشرواشاعت پر کوئی خاص قدغن نہیں ہے۔ جیش محمد ایک کالعدم تنظیم ہے لیکن اس کی تمام پبلیکیشنز موجود ہیں۔ ان کی ویب سائٹ ‘صدائے مجاہد’ اب بھی چل رہی ہے، ایک ہفت روزہ ‘القلم’ بھی چھپ رہا ہے، عورتوں اور بچوں کے بارے میں چھپنے والے ماہانہ میگزینز بھی چھپ رہے ہیں۔
اور یہ صرف مدارس تک محدود نہیں ہے۔ مثلا جامعہ رشیدیہ اور پھر الرشید ٹرسٹ کا شدت پسندی کے حوالے سے کردار آپ جانتے ہی ہیں، ان کا ایک ہفت روزہ ضرب مومن بہت اعلی طباعت اور ایک بڑی سرکولیشن کے ساتھ پوری آب و تاب سے چھپ رہا ہے۔ ہمارے کئی نامی گرامی صحافی اور قومی ہیرو بھی نام بدل بدل کر اس میں لکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ الرشید ٹرسٹ کا ایک اخبار بھی ہے، روزنامہ اسلام کے نام سے جس کی سرکولیشن بہت سارے روزناموں سے بہتر ہے۔ طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھنے والی چیزیں تو ہمیں قومی سطح کے ذرائع ابلاغ میں بھی نظر آتی ہیں۔ ان کی ویب سائٹس چل رہی ہیں۔ وہ فیس بک استعمال کرتے ہیں۔ اور ان کے پاس اپنے افکار اور نظریات کی ترویج کرنے کی پہلے سے زیادہ آزادی ہے۔

 

لالٹین: پنجابی طالبان کے مسئلے پر حکومت اور ریاستی اداروں کی کارکردگی میں آپ بہتری کی امید دیکھتے ہیں؟
مجاہد:
میں نہیں سمجھتا ایسی کوئی قوی امید ہے۔ ہم تنزلی کی طرف جا رہے ہیں۔ قومی سطح پر ہمارے اندر تذبذب پایا جاتا ہے اور ہمارا قومی بیانیہ مزید پیچیدہ ہوا ہے۔ اگر ہمارے ہاں ایسی تنظیموں پر قابو پا لیا گیا ہوتا تو آج داعش کے حمایت میں وال چاکنگ نہ ہو رہی ہوتی۔
اگر ہماری سول انتظامیہ مضبوط ہو تو اس سے ریاست بھی مضبوط ہو گی ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے سیاسی اثرورسوخ اور طاقتور ادارے شدت پسندوں کو تحفظ دے رہے ہیں جس کی وجہ سے پولیس کا سارا کام ناکام جاتا ہے۔ تاہم اسے سیاسی جدوجہد کے ذریعے ایک حد تک روکا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں یہ تہیہ کر لیں کہ انہوں نے شدت پسندی اور فرقہ واریت کو ختم کرنا ہے۔ یہ طے کر لیں کہ وہ کالعدم تنظیموں کو اپنے سیاسی مفادات کے لیے استعمال نہیں کریں گی۔
Categories
نقطۂ نظر

عدنان رشید تو پکڑا گیا مگر۔۔۔۔

پاکستان کے مغربی محاذ سے ایک اچھی خبر آئی ہے۔ ضربِ عضب کے زمینی آپریشن شروع ہونے کے بعد اب تک آنے والی سب سے بڑی خبر کے مطابق طالبان کے مرکزی رہنما عدنان رشید کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ عدنان کو زخمی حالت میں بھاگتے ہوئے جنوبی وزیرستان کی ایک وادی سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ سٹریٹیجک منصوبہ بندی اور پروپیگنڈا میں خاص شہرت رکھنے والے اس کمانڈر کی گرفتاری آپریشن میں سنجیدگی اور پاکستانی فوج کی پیشہ وارانہ قاببلیت کی دلیل بھی ہے۔ ہماری عدلیہ اور جیلیں اسے کب تک قید رکھ پائیں گی، ایک علیحدہ بحث ہے۔
یقیناً پاکستانیوں کی اکثریت نے عدنان کا خط نہیں پڑھا ہو گا مگر دہائیوں سے صیہونی سازشوں کے جواب میں غزوہ ہند کی للکار دینے والے اردو لکھاریوں نے کیا خوب انصاری نبھائی ہے۔
پرویز مشرف کے اقدام قتل میں سزائے موت پانے کے بعد عدنان اپریل 2012 میں بنوں جیل سے فرار ہوا۔ یہاں پر یہ زکر کرنا ضروری ہے کہ دوران جیل اس دہشت گرد رہنما کو موبائل فون جیسی کئی بنیادی سہولتیں فراہم کی گئی تھیں جس سے وہ باقاعدگی سے صحافیوں سے رابطے میں رہتا تھا۔ پچھلے سال اس نے ڈیرہ اسماعیل خان جیل پر حملہ کر کے اپنے دو سو پچاس ساتھیوں کو بھگانے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ اس کامیاب آپریشن کی پروپیگنڈا ویڈیو انٹرنیٹ پر خاصی مقبول ہوئی۔ تاہم جس کارنامے نے عدنان کو عالمی شہرت سے نوازا، وہ ملالہ یوسف زئی کو لکھا جانے والا ایک کھلا خط ہے جس میں ملالہ پر حملے کی وجوہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ملالہ کے نقطہ نظر کو بھی چیلنج کیا گیا ہے۔
یہ خط محض ایک طالب کی طرف سے ملالہ کو دیا جانے والا جواب ہی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے میں بنیاد پرست بیانیے کی ایک اہم دستاویز بھی ہے۔ خط کو پڑھتے ہوئے اگر ایک لمحے کے لیے یہ نظر انداز کر دیا جائے کہ اسے لکھا کس نے ہے، تو یہی گمان ہو گا کہ یہ پاکستانی میڈیا کے مرکزی دھارے میں ملالہ کے خلاف لکھے جانے والے درجنوں کالموں میں سے ایک ہے۔ عدنان کے اسلوب اور دلائل کی چھاپ بعد میں آنے والے بہت سارے اردو کالموں میں نظر آتی رہی ہے۔ ایک اور زاویے سے دیکھیں تو عدنان وہی کچھ کہہ رہا ہے جو ہمارے کئی معتبر اور باریش کالم نگار کئی سالوں سے کہتے آئے ہیں۔ سمجھے اور سمجھائے بغیر نیو ورلڈ آرڈر اور تہذیبوں کے جنگی تصادم کی تکرار ہم آئے روز کہاں سے سنتے ہیں۔ میکالے اور برٹرینڈ رسل جیسے مغربی مفکرین کے سیاق و سباق سے کٹے ہوئے ہوئے حوالوں کی کترنیں عدنان کے ذہن میں کہاں سے آئیں۔ ‘انگریز کے آنے سے پہلے برصغیر کا ہر باشندہ پڑھا لکھا تھا’، یہ سفید جھوٹ عدنان نے کون سے نصابوں سے پڑھا۔ پورے عالمی نظام کو ظلم پر مبنی قرار دے کر بزور شمشیر اسے نیست و نابود کرنے کے نعرے صرف طالبان کی طرف سے تو نہیں آتے۔ ڈرون حملوں، عافیہ صدیقی اور امریکہ کی غلامی کی دہائی دے کر پاکستانی ریاست کے نظام کو بدلنے کی بات کوئی نئی تو نہیں۔ آخر پاکستان کی ائیر فورس، جس میں عدنان چھ سال تک ملازم رہا، میں طالبان کا وہ زہریلا پروپیگنڈا کہاں سے آ گیا کہ جس سے متاثر ہو کر اس نے پرویز مشرف کے قتل کا منصوبہ سوچا۔ ان سب کا جواب تلاش کرنا کچھ زیادہ مشکل نہیں۔
عدنان رشید تو پکڑا گیا، مگر ہر دوسرے پاکستانی کے ذہن میں بیٹھے عدنان رشید کو کون پکڑے گا۔
دانشوری کے جس معیار تک پہنچنے میں عدنان نے عمر کا ایک حصہ بِتایا ہو گا، ہمارے ہم وطنوں کی عقل سلیم میں وہی معیار سکہ بند ہے۔ یقیناً پاکستانیوں کی اکثریت نے عدنان کا خط نہیں پڑھا ہو گا مگر دہائیوں سے صیہونی سازشوں کے جواب میں غزوہ ہند کی للکار دینے والے اردو لکھاریوں نے کیا خوب انصاری نبھائی ہے۔ طالبان کو ان بزرگوں گا شکر گزار ہونا چاہیے کہ جن کی بدولت طالبان کے بیانیے کی وکالت ہمیں ناصرف اخبار، ٹی وی بلکہ ہر گلی کوچے میں نظر آتی ہے۔ اور ہاں، طالبان کے خلاف اب تک ہونے والے سب سے اہم آپریشن ضرب عضب کے بعد بھی سب کچھ پہلے جیسا ہی ہے۔
سالوں سے ان ‘اپنے لوگوں’ کے ساتھ مذاکرات کی دہائیاں دینے والے ٹھیک ہی تو کہتے ہیں کہ طالبان کو محض عسکری بنیادوں پر ہرانا ناممکن ہے۔ جواب عدنان نے خود ہی اپنے اس خط میں دیا ہے کہ ‘جنگوں میں ہتھیار سے کہیں زیادہ تباہ کن زبان ہوتی ہے’۔ ہماری تعلیم کے لیے عدنان نے مزید یہ اشارہ بھی دیا تھا کہ ‘استاد، قلم اور کتاب دنیا میں تبدیلی تو لا سکتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کس قسم کا استاد، کس قسم کا قلم، اور کس قسم کی کتاب۔’
چاہے مزاکرات ہوں یا جنگ، ہمارے درمیان بیٹھے طالبان کے پانچویں کالم کی شناخت اور تدارک ضروری ہے۔ عدنان رشید تو پکڑا گیا، مگر ہر دوسرے پاکستانی کے ذہن میں بیٹھے عدنان رشید کو کون پکڑے گا۔
Categories
نقطۂ نظر

روم جل رہا تھا اور نیرو بانسری بجا رہا تھا

حکومت پاکستان اور طالبا ن کے درمیان جاری مذاکرات پہلے دن سے ہی متنازعہ ہیں۔ حکومت طالبان کو یقین دلانے کی کوشش کرتی ہے کہ وہ خلوص دل کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے جبکہ طالبان کو ہمیشہ ہی حکومت کی نیت پر شک رہتاہے۔کبھی مذاکراتی کمیٹیاں بہت گرم جوشی دکھاتی نظر آتی ہیں تو کبھی انتہائی سست روی کا شکار نظر آتی ہیں ۔کبھی جنگ بندی ہو جاتی ہے تو کبھی جنگ شروع ہو جاتی ہے۔ اس پوری کہانی میں جو غالب فریق ہے وہ طالبان گروہ ہی ہیں جب ان کا دل کرتا ہے مذاکرات کی کامیابی کے گن گانا شروع کر دیتے ہیں اور جب دل کرتا ہے حکومتی بد نیتی کا ڈھول پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہماری جمہوری حکومت کھسیانی بلی کی طرح منت سماجت کرنا شروع کر دیتی ہے کہ ہم امن چاہتے ہیں ، ہماری نیت پے شک نا کیا جائے ، ہم آپ کوخدا کا واسطہ دیتے ہیں، جو حکم صادر فرمائیں ہم بجا لائیں گےجبکہ طالبان اس مقدس جمہوری حکومت کو دھمکی پے دھمکی دیتے نظر آتے ہیں۔ طالبان سے مذاکرات کی لایعنیت پر اگر کوئی پاکستانی شہری انگشت نمائی کرے تو فوراً ہی طالبان کمیٹی کے نمائندئے حرکت میں آ جاتے ہیں کہ مذاکرات کے دوران نوک جھونک ایک معمول کی بات ہے ، ابھی یہ الفاظ ان کے منہ سے نکلے ہی ہوتے ہیں کہ وزیر اعظم صاحب بانفس نفیس مخاطب ہوتے ہیں کہ طالبان کے بیانات میں تلخی و نرمی کا آنا جانا کوئی پریشانی کی بات نہیں ہے اور اس سے مذاکراتی عمل پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
مذاکراتی عمل کے بے نتیجہ ہونے کی ایک بڑی وحہ حکومتی اور عوامی سطح پر طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں جنگ کے لئے قوت ارادی کی کمی اورطالبان حملوں کا خوف ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں مذاکرات کے ذریعے انہونی ٹالنا چاہتی ہیں اور طالبان کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کو تیار ہیں تاہم طالبان کی جانب سے خود کو مضبوط اور صف آرا کرنے کا عمل جاری ہے۔
طالبان کی جانب سے جنگ بندی کے باوجود اسلام آباد کی فروٹ منڈی میں دھماکہ ہو جاتا ہے ، کراچی میں طالبان مخالف پولیس انسپکٹر شفیق تنولی سمیت چار لوگوں کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے ، پشاور اور مردان میں پولیس موبائل پر حملہ کر کے متعدد پولیس اہلکاروں کو بے دردی کے ساتھ شہید کر دیا جاتا ہے مگر حکومت کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور “سب اچھا ہے” کی گردان دہرائی جاتی ہے۔شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے جواب میں جب آرمی حرکت میں آتی ہے اور خیبر ایجنسی میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں پر حملہ کرتی ہے تو طالبان کے حامی پاکستان آرمی کو امن کے راہ میں بڑی روکاٹ شمار کرتے نظر آتے ہیں اور اس بات پر اصرارکرتے ہیں کہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان آرمی باقاعدہ مذاکراتی عمل میں شامل ہو ۔
مذاکراتی عمل کے بے نتیجہ ہونے کی ایک بڑی وحہ حکومتی اور عوامی سطح پر طالبان سے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں جنگ کے لئے قوت ارادی کی کمی اورطالبان حملوں کا خوف ہے۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں مذاکرات کے ذریعے انہونی ٹالنا چاہتی ہیں اور طالبان کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے کو تیار ہیں تاہم طالبان کی جانب سے خود کو مضبوط اور صف آرا کرنے کا عمل جاری ہے۔ مذاکرات میں طالبان دلچسپی صرف زیادہ سے زیادہ وقت حاصل کرنا ہے تاکہ وہ امریکی انخلاء کے بعد پاک افغان بارڈر پر موجود زیادہ سے زیادہ علاقہ اپنی امارت اسلامیہ میں شامل کر سکیں ۔
مذاکراتی عمل سے متعلق ابہام بھی مذاکرات سے متعلق کسی حتمی فیصلے پر پہنچنے میں ناکامی کی وجہ ہے۔ مذاکرات کس سے، کب تک اور کن شرائط کی بنیاد پر ہوں گے اس بارے میں ہر فریق مختلف رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین جناب عمران خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور ملک میں امن آ گیا ہے، تاہم خیبر پختون خواہ کی حکومت میں عمران خان کے اتحادی جماعت اسلامی کے رکن اور کالعدم شدت پسندتنظیم تحریک طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور رابطہ کار پروفیسر ابراہیم نے بی بی سی اردو سروس سے انٹرویو میں کہا کہ اصل مذاکرات ابھی شروع بھی نہیں ہوئے ہیں۔ حکومت وقت طالبان قیدیوں کو رہا کرنا شروع کر رکھا ہے جس پر فوج کے اندرونی حلقوں اور پاکستان کے عام شہریوں میں گہری تشوش پائی جا رہی ہے۔ جبکہ جہادی لشکروں اور مذہبی سیاسی جماعتوں کے رہنماء یہ بیانات دے کر حکومت کو خوفزدہ کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر حکومت نے مذاکرات میں سنجیدگی کا مظاہرہ نا کیا تو ملک تباہی کے کنارے پر پہنچ سکتا ہے ۔حتی کہ یہاں تک بھی کہتے ہیں کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کرنے والے ملک اور قوم کے دشمن ہیں۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے کہ ملک و قوم کے دشمن کون ہیں تو معلوم یہ ہوتا ہے کہ ان مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں میں شیعہ، سنی، ہندو، احمدی ، اور عیسائی نظر آتے ہیں جن کے گھروں میں کٹے ، جلے اور مسخ شدہ لاشے ہیں جو طالبان کی کھلی جارحیت کا نشانہ بنے اور وہ پاکستانی فورسز پولیس، فوج اور ایف سی کے شہداء کے خاندان ہیں جو اپنے عزیزوں کے لہو کا خراج مانگتے ہیں۔ عجیب منطق ہے کہ ہزاروں شہداء کے لواحقین تو ملک دشمن ہیں اور جو طالبان کے ہمنوا ہیں ، سیاسی پیشواء ہیں اور ان کے نام نہاد ایجنڈے کی تکمیل کرنے والے ہیں وہ محب وطن ہیں جو طالبان کی طرف سے ریاست کے اندر ریاست کے ایجنڈے کے حامی ہیں۔
مذاکرات کس سے، کب تک اور کن شرائط کی بنیاد پر ہوں گے اس بارے میں ہر فریق مختلف رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کامیاب ہو گئے ہیں اور ملک میں امن آ گیا ہے، تاہم خیبر پختون خواہ کی حکومت میں عمران خان کے اتحادی جماعت اسلامی کے رکن اور کالعدم شدت پسندتنظیم تحریک طالبان کی مذاکراتی کمیٹی کے رکن اور رابطہ کار پروفیسر ابراہیم نے کہا کہ اصل مذاکرات ابھی شروع بھی نہیں ہوئے ہیں۔
شدت پسند گروہوں سے سیاسی جماعتوں کی وابستگی اور بین الاقوامی دباو پر طالبان سے متعلق فیصلے کئے جانا بھی ایک تشویش ناک امر ہے۔ معروف کالم نگار نذیر ناجی نے اپنے ایک کالم میں اس بات کاتذکرہ کیا ہے کہ حکومت طالبان مذاکرات کی آڑ میں سعودی بادشاہوں سے کیے ہوئے اپنے وعدے کی تکمیل کر رہی ہے جس کے بدلے میں ڈیڑھ ارب ڈالر وصول کیے ہیں ۔ نذیر ناجی صاحب نے یہ بھی کہا ہے کہ اب تک آٹھ ہزار طالبان افغانستان، ایران، اور عراق کے راستے شام پہنچ چکے ہیں اور وہاں بشارالاسد حکومت کے خلاف لڑنے والے باغیوں کی افرادی قوت میں اضافہ کر رہے اور جو کہ پاکستان کی حکومت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ تحریک منہاج القران کے سر پرست ڈاکڑ طاہرالقادری نے ایک نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان در حقیقت مسلم لیگ نواز کی نجی ملیشیاء ہے اورحکومت کبھی بھی ان کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھا سکتی جبکہ ایسا ہی الزام پنجاب حکومت پر اکثر لگایا جاتا ہے کہ وہ صوبے میں دہشتگردگروہوں کی حمایت کر رہی ہے ۔ اس وجہ سے ملکی سطح پر اداروں کے اندر ایک واضح خلیج نظر آ رہی ہے۔ مصحف علی میر ائیر بیس پر منعقدہ ایک تقریب جس میں اردن سے خریدے گئے 5 ایف سولہ طیاروں کی ٖفضائیہ کے بیڑے میں شمولیت کے موقع پر پاک فضائیہ کےسر براہ چیف مارشل طاہر رفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاک فضائیہ طالبان کیخلاف کارروئی کیلئے پوری طرح تیار ہیں ، حکومت جو بھی ٹاسک دے گی پاک فضائیہ کامیابی کے ساتھ اسے پورا کرے گی۔ اسی نوعیت کے بیانات پاک آرمی بھی دے چکی ہے کیونکہ ان کو معلو م ہے کہ مسلح طالبان کے ساتھ مذاکرات ریاست پاکستان کے مفاد کے برعکس ہیں اور یہی سوچ ہر ایک روشن فکر اور معتدل پاکستانی کی ہے کہ طالبان اسلحے کے زور پر حکومت کو مجبور کر کے اپنے انتہاء پسند ایجنڈے کی تکمیل چاہتے ہیں جبکہ حکومت سب اچھا ہے کا گیت گا رہی ہے اور اس گیت کو سن کو یوں لگتا ہے جیسے ایک اور روم جل رہا ہے اور نیرو بانسری بجا رہا ہے۔۔۔