بے سبب ہوا غالب دشمن آسماں اپنا

ستیہ پال آنند: بے تصنع، سادہ دل، وہ اگر سمجھتا ہے
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
آسمان دشمن تھا، تو اسے سمجھنے دو
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

ستیہ پال آنند: میں ایک نا خواندہ شخص
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے
تقدیر کے محرر سے پوچھتا ہوں
مرے گناہوں کی لمبی فہرست آپ کے سامنے رکھی ہے