Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 23: امرت ورشا (ترجمہ: فروا شفقت)

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔
…………………..
“مدھرا وٹیا بڑی سہانی، گھنگھرالے بال لگے سیانی، آنکھیں موٹی ناک سے نکٹی، دیکھ دیکھ کر ہے مسکانی۔۔۔”

دو سال کی گھنگھرالے بالوں والی گول مٹول مدھُرا کو گود میں لے کر بےسری آواز میں میری شاعری چالو تھی۔ موٹر تیزی سے جنگل کا راستہ کاٹتی دوڑتی جا رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل نے کندھے سے مجھے ہلاتے ہوئے کہا، “اجی —”

میں نے اس کی طرف دیکھا، اس کی آنکھوں میں خوف و فکر دکھائی دی۔ اس کے اس طرح ‘اجی’ کہہ کر شاعری کی غنودگی سے مجھے جگانے کا معنی میری سمجھ میں فوراً آ گیا۔ میں اپنی ہنسی روک نہ سکا۔ وِمل سے کہا، “تم کیا سمجھ رہی ہو، میں پاگل واگل ہو گیا ہوں؟ بالکل نہیں۔ میں تو ایک دم مزے میں ہوں، مست ہوں۔ اس سفر میں پورا آرام کرنے والا ہوں، ساری جھنجھٹوں کو بُھلا بسرا کر، سمجھی؟”

وِمل نے صرف سر ہلایا اور وہ بھی میرے ساتھ ہنسنے لگی۔ کار کی کھڑکی سے آس پاس کی ہریالی کو جی بھر کر دیکھتے ہوئے، مدھُرا کے گھنگھریالے بالوں پر ہاتھ پھیرتے پھیرتے شاعری پھر زوروشور سے شروع ہو گئی۔

ڈاکٹر بھڑکمکر نے میرے روگ کی جو تشخیص کی تھی، اسے سُن کر سبھی لوگ گھبرا گئے تھے۔ وِمل نے جیون میں پہلی بار ضد کی تھی کہ کسی شانت جگہ پر آرام کے لیے جایا جائے۔ اسی لیے ہم سب لوگ یعنی وِمل، پربھات کمار، سروج اور دو سال کی مدھُرا اور میں، گرسپپا کا بھدبھدا (آبشار) دیکھنے کے لیے کار سے جا رہے تھے۔

شام ہو رہی تھی۔ ڈرائیور نے اچانک کار روک دی۔ میں نے کارن جاننا چاہا۔ اس نے سامنے کی طرف اشارہ کیا: ایک لمبا پیلے رنگ کا ناگ رپٹیلی چال سے چلا جا رہا تھا۔ غروب کے سمے کی سورج کی کرنوں سے اس کی چکنی کایا چمک رہی تھی۔ اس نے راستہ پار کر لیا اور ہمارے ڈرائیور نے کار پھر چالو کی۔ دھیرے دھیرے اندھیرا چھانے لگا۔ کچھ ہی سمے بعد گاڑی رکی۔ سامنے ہی ایک ڈاک بنگلہ تھا۔ برآمدے میں رکھی ایک آرام کرسی پر میں بیٹھ گیا۔ گِرسپپا کے بھدبھدا کی گہری گمبھیر آواز سنائی پڑ رہی تھی۔

سویرے اٹھتے ہی دھیرے دھیرے جا کر وہاں سے سامنے ہی واقع بھدبھدا میں نے دیکھا۔ اس پرچنڈ جلودھ (جھرنے) کو دیکھ کر میرے من کی ساری تھکان جاتی رہی۔ میں جذباتی ہو گیا۔ بھدبھدا! اس کے چاروں جانب چھائی ہریالی بھری جنگلی املاک کا حسن ایک بےصبر پیاسے کی طرح میں جی بھر کر پینے لگا۔ من میں شدت کا اشتعال دھیرے دھیرے کم ہوتا جا رہا تھا۔ سُدھ بدھ کھو کر میں وہاں پتہ نہیں کتنی دیر بیٹھا رہا!

دوچار دن میں ہی میرے وہاں آرام کے لیے آنے کی خبر پاس پڑوس میں پھیل گئی۔ کچھ چاہنے والوں نے میرے لیے ایک خاص پروگرام کا انعقاد کیا۔ پونم آ رہی تھی۔ کچھ لوگ پہاڑی پر چڑھ گئے اور وہاں سے انھوں نے بڑی بڑی لکڑیاں سُلگا کر بھدبھدے کے پانی میں چھوڑیں۔ وہ جلتے ہوئے کندے (بلاک) خوفناک رفتار سے بھدبھدے کے ساتھ نیچے کودتے اور پانی میں ڈوبتے ابھرتے آگے چلے جاتے۔ آگ اور پانی کا ایسا حسین اور ناقابل بیان ملن میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ وہ غیرمعمولی حُسن من میں سنجوتے جی نہیں اکتاتا تھا۔

پُونا واپس آیا تو تن من میں نیا جوش اور امنگ آ گئی تھی۔ گِرسپپا کے آس پاس کی گھنی ہری ہری جنگلی املاک کے کارن میری صحت بہت جلدی ٹھیک ہو گئی۔ سٹوڈیو میں قدم رکھا ہی تھا کہ ‘پربھات’ کے مینیجر پتروں کا ڈھیر لے کر میرے آفس میں آ گئے۔ ان کے چہرے پر خوشیاں ناچ رہی تھیں۔ اس ڈھیر کو میری میز پر رکھتے ہوئے انھوں نے کہا، ”یہ لیجیے ’’آدمی‘‘ اور ‘مانوس’ کے لیے حاصل بدھائیوں کی چٹھیاں!”

اب میں ان سبھی پتروں کو جوش سے دیکھنے لگا۔ ہر ڈائریکٹر کی اپنی اپنی رائے تھی۔ کسی نے ‘آدمی’ جیسی فلم بنا کر ‘دیوداس’ میں موجود مایوسی کا کرارا جواب دینے پر دلی بدھائیاں دی تھیں، تو کسی دوسرے لیکھک نے لکھا تھا: “آپ کے کاروباری بھائی بندوں کی بنائی فلم کی اس طرح کھِلّی اڑانا آپ کے لیے زیب نہیں دیتا!”

کسی کو فلم کا اختتام پسند نہیں آیا تھا۔ ایک مہاشے نے تو ہم سے صاف صاف جاننا چاہا تھا کہ آخر میں آپ ہیرو اور ہیروئین کا بیاہ رچا دیتے، تو آپ کا کیا جاتا؟ لہٰذا ہم لوگوں کو دو دن تک بھوجن بھی راس نہیں آیا! اب کوئی اس پتر لیکھک کو جواب دے بھی تو کیا دے؟

ایک جذباتی ناظر نےلکھا تھا:

اب کبھی بمبئی کے فارس روڈ سے جانے کا سین آ بھی جائے تو، آپ کی ‘آدمی’ دیکھی ہونے کے کارن ہم لوگوں کو چِقوں کے پیچھے کھڑی ویشیاؤں کو دیکھ کر پہلے جیسی نفرت نہیں ہو گی بلکہ یہ محسوس ہو گا کہ ہر چِق کے پیچھے ایک گہرا دردِ دل چھپا ہے!”

اس فلم کے بارے میں ابھی حال کا ایک تجربہ تو بہت ہی انوکھا ہے: میں پہلی بار بیلگاؤں گیا تھا۔ وہاں کے لوگوں نے فطری ڈھنگ سے، بڑے پیار سے میرا سمان کرنے کا انتظام کیا۔ بیلگاؤں کے پاس پڑوس کے دس بارہ ضلعوں کے محکمہ جاتی کمشنر رام چندرن اس انتظام کے صدر تھے۔ سبھی مقررین کے بھاشن ہو چکنے کے بعد رام چندرن بولنے کے لیے کھڑے ہوئے۔ سبھا کا انتظام چونکہ میرے اعزاز میں کیا گیا تھا، میں سوچ ہی رہا تھا کہ اب یہ مہاشے بھی میری تعریف کے پُل باندھیں گے۔ اسی لیے ان کی تقریر کی طرف میرا کوئی خاص دھیان نہیں تھا۔ لیکن رام چندرن نے ‘آدمی’ کے بارے میں ایک بہت ہی دل چھو لینے والی یاد دلائی:

“آج آپ مجھے یہاں زندہ اور چلتا پھرتا دیکھ رہے ہیں، اس کا سارا کریڈٹ اس فلم کو جاتا ہے۔ پینتیس برس پہلے کی بات ہے۔ اس سمے میری عمر اٹھارہ برس کی ہو گی۔ کئی خاندانی مصیبتیں میرے سامنے منھ کھولے کھڑی تھیں۔ انھیں سلجھانے کا کوئی راستہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ روز بہ روز میں مایوسی کے گہرے گڑھے میں دھنستا جا رہا تھا۔ خودکشی کا وچار بھی من میں اٹھنے لگا تھا۔ لگتا تھا کہ خودکشی کر کے ان سبھی الجھنوں سے ہمیشہ کے لیے آزادی پا جاؤں۔ سوچ وچار کر کہیے یا بغیر سوچے سے، خود کشی کا ارادہ آہستہ آہستہ پکا ہونے لگا۔ لگ بھگ انہی دنوں میرے گاؤں میں وی شانتارام کی ‘آدمی’ فلم ریلیز ہوئی۔ شانتارام جی کی فلمیں مجھے ہمیشہ بہت ہی راس آتی تھیں۔ من کی اس ڈولتی حالت میں ہی میں ‘آدمی’ دیکھنے گیا۔ فلم دیکھ کر باہر آیا تو خود کشی کا وچار رفوچکر ہو چکا تھا۔ جیون جینے کا ایک نیا نظریہ مجھے مل گیا تھا۔ مشکلوں اور مصیبتوں سے جوجھتے جوجھتے جینے کا ہی نام جیون ہے۔ جیون جینے کے لیے ہوتا ہے۔ ‘لائف از فار لِونگ’ کا اصول ہی جیسے وی شانتارام کی اس فلم نے میرے کانوں میں پھونک دیا!

“اس کے بعد مصیبتوں کے پہاڑ سامنے آئے، پھر بھی میں ہارا نہیں، ٹوٹا نہیں۔ بلکہ ان کے ‘آدمی’ کے ہیرو کی طرح جیون کی راہ دھیرج سے طے کرتا ہوا آج میں ڈویژنل کمشنر بن گیا ہوں، اور یہ سب آپ کے سامنے قبول کرنے میں فخر محسوس کر رہا ہوں!”

اُن مہاشے کی آپ بیتی سن کر میں واقعی میں جذباتی ہو گیا۔ اس لمحے تو ضرور ہی لگا کہ میری تخلیق کامیاب ہو گئی ہے۔ لیکن عام طور پر دیکھا جائے، تو ‘آدمی’ پربھات کی دیگر فلموں کے مقابلے میں کم ہی چلی۔ بارہ ہفتے بعد ہی اسے بمبئی کے سینٹرل سینما سے ہٹانا پڑا۔ شاید چندرموہن نے ٹھیک ہی کہا تھا کہ، ”یہ فلم بیس برس آگے کی ہے!”

بیسویں صدی کی چوتھی دہائی ختم ہونے کو تھی۔ دیش میں ہر جگہ بولتی فلموں کی مقبولیت کافی بڑھ چکی تھی۔ وہ اب ایک انڈسٹری کا روپ لینے لگی تھی۔ پربھات کی فلموں کے کاروباری معاملات کی دیکھ بھال کا کام میرے ہی ذمے تھا۔ جیسے جیسے یہ کاروبار بڑھتا گیا، اس پر نگرانی رکھنے کے لیے میں نے ‘پربھات سینٹرل ایکسچینج’ نامی ایک نیا ڈیپارٹمنٹ شروع کیا، ایک ٹیلنٹڈ مینیجر کو مقرر کیا۔ پربھات کی فلمیں سارے دیس میں بہت ہی مقبول تھیں۔ لہٰذا سینما گھروں کے مالکوں میں ان فلموں کو اپنے یہاں ریلیز کرنے کی ایک طرح سے ہُڑک سی لگی رہتی تھی۔ ہمارے ڈسٹری بیوٹرز کی رکھی گئی سبھی شرطوں کو وہ بِنا کسی جھجھک کے قبول کرتے اور پربھات کی فلم اپنے سنیما گھر میں ریلیز کرنے کو مل گئی، اسی میں اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے تھے۔

اس سینٹرل ایکسچینج ڈپارٹمنٹ کی طرف سے ہر ماہ میرے پاس پوری تفصیل آتی تھی۔ اس کا باریکی سے مطالعہ کرنے پر میں نے دیکھا کہ ہمارے صوبائی ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار کیا جائے تو آمدنی اور بھی بڑھ سکتی ہے۔ اس نظر سے میں نے سوچا کہ سبھی ڈسٹری بیوٹرز کا ایک سمپوزیم بلایا جائے اور انھیں آپس میں کاروبار کے مختلف سسٹمز اور کٹھنائیوں وغیرہ پر کھل کر تبادلہ خیال کرنے کا موقع دیا جائے تو ڈسٹریبیوشن سسٹم میں سدھار بھی ہو گا اور اسے نئی سمت بھی حاصل ہو گی۔ فوراً ہی میں نے ہندوستان کے ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز کی ایک کانفرنس پُونا میں مدعو کی اور سبھی کو دعوت نامہ بھجوا دیا۔

اس کانفرنس میں سبھی ڈسٹری بیوٹرز کے سامنے میں نے پربھات کی آئندہ فلموں کے بنانے کا پروگرام اور اس پر آنے والے متوقع خرچ کا خاکہ پیش کیا۔ فلم میکنگ کے لیے یہ ضروری رقم ڈسٹریبیوشن کے ذریعے تکمیل کے لیے اخلاقی امداد ڈسٹری بیوٹر برادران دیں، ایسی مانگ بھی میں نے کی۔ اسے میں نے قانونی امداد نہ کہہ کر اخلاقی امداد کہا۔ اس کا کارن یہ تھا کہ قانونی بندھن آنے پر آدمی گھبرا جاتا ہے اور آسانی سے اسے قبول نہیں کرتا۔ پھر اخلاقی امداد کے کارن اپنی فلم میکنگ کا پروگرام سمے پر پورا کرنا ہمارے لیے بھی ممکن ہو جائے گا۔ نتیجتاً پربھات کی آمدنی تو بڑھے گی ہی، آپ سب لوگوں کو بھی زیادہ کمیشن حاصل ہو گا۔ میری دلیل سبھی نے قبول کی۔ مکمل پروگرام کے جائزہ لینے کے لیے آئندہ سال بھی اسی طرح کی بیٹھک منعقد کرنا متفقہ طور پر طے کیا گیا۔

اس کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ہمارے سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے آئندہ سال میں اخلاقی امداد کی رقم پوری کر دی۔ لیکن اس کو پورا کے لیے انھوں نے ہر سنیما مالک سے اس کے گاؤں کے چھوٹے بڑے ہونے کے حساب سے، تھوڑی زیادہ ہی امدادی رقم لے کر ہماری فلمیں ریلیز کیں۔ یہ بات دوسری ہے کہ ہماری فلموں کی مقبولیت پوری طرح روشن ہونے کے کارن ریلیز کرنے والوں کو اس میں کوئی نقصان نہیں اٹھانا پڑا، لیکن دیگر پروڈیوسرز نے بھی ہماری دیکھادیکھی اسی طرح سے امدادی رقم مانگنا شروع کی۔ اس میں کچھ کو تو اچھی آمدنی ہوئی، لیکن زیادہ تر فلم ریلیز کرنے والوں کو گھاٹا اٹھانا پڑا۔ کئی ریلیز کرنے والوں نے اس بات کی شکایت مجھے پتر لکھ کر کی۔ وہ بیچارے ایک دم مایوس ہو گئے تھے۔

اگلے برس کی ڈسٹری بیوٹرز کانفرنس میں میں نے ایک تجویز رکھی: “میری رائے ہے کہ آپ لوگ ہماری فلم کے لیے ریلیز کرنے والوں سے جو امدادی رقم لیتے ہیں، اسے نہ لیں۔ آپ کو اس سے زیادہ رقم فیصدی میں ملتی ہے۔ ہماری فلم پر اس طرح امدادی رقم لینے کی شرط آپ لوگوں نے واپس لے لی، تو ریلیز کرنے والے دیگر ڈسٹری بیوٹرز سے بھی ہمت کر یہ کہہ سکیں گے کہ ‘پربھات’ جیسی جانی مانی کمپنی بھی ہم سے امدادی رقم نہیں لیتی، لہٰذا آپ کو بھی اسے نہیں مانگنا چاہیے۔ نتیجتاً انھیں ممکنہ گھاٹا نہیں ہو گا۔”

سبھی لوگ ایک دم چپ بیٹھے تھے میری تجویز کا کیا جواب دیں، کسی کو سمجھ میں شاید نہیں آ رہا تھا۔ وہ لوگ آپس میں کھل کر باتیں کر سکیں، اس لیے ہم سبھی حصہ دار کچھ دیر کے لیے بیٹھک سے باہر آ گئے۔ پھر ہم لوگ بیٹھک میں پہنچے تو بابوراؤ پینڈھارکر نے کہا، “آپ کے اس سجھاؤ پر اچھی طرح سے سوچ وچار کر کے ہم لوگ اپنا فیصلہ آپ کو کل بتائیں گے۔” دوسرے دن صبح دس بجے ہم لوگ پھر اکٹھے ہوئے۔ اتر پردیش، پنجاب اور کشمیر کے ڈسٹری بیوٹر دل سکھ پانچولی نے کہا، “آپ کا فیصلہ اگر ایسا ہے کہ ہم لوگ آپ کی فلموں پر ریلیز کرنے والوں سے گارنٹی نہ لیں، تو آپ بھی ہم سے اخلاقی امداد کے روپ میں پیشگی رقم لینا بند کریں۔ اس ذمہ داری سے آپ ہمیں آزاد کرتے ہیں، تو ہم بھی ریلیز کرنے والوں پر امدادی رقم کی شرط نہیں تھوپیں گے۔”

اب چپ رہنے کی باری میری تھی۔ ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے ہی الجھن میں ڈالا تھا۔ سب کا دھیان میری طرف تھا۔ دیکھنا چاہتے تھے وہ کہ میں اپنے لفظ واپس لیتا ہوں یا نہیں۔ ریلیز کرنے والوں کی میرے پاس بھیجی گئی شکایت ایک دم صحیح تھی اور مناسب بھی۔ ان پر امدادی رقم جمع کرنے کا دباؤ ہٹا لیا، تو ڈسٹری بیوٹرز کی دی گئی ترپ چال کے مطابق ہمیں اپنی آئندہ فلموں کے لیے ضروری رقم کھڑی کرنے میں دقت آنے والی تھی۔ لیکن ریلیز کرنے والوں کا یہ جو استحصال ہو رہا تھا، اسے تو کسی بھی حالت میں روکنا ضروری ہو گیا تھا۔ کل اگر سارے سنیماگھر بند ہو جائیں، تو ہم لوگ اپنی فلموں کو کہاں ریلیز کر پائیں گے؟ ریلیز کرنے والا ختم ہو گیا، تو پوری فلم انڈسٹری دم توڑ دے گی۔ اپنی معاشی کٹھنائیوں کے لیے کم از کم امدادی رقم لینے کا یہ رواج مقامی شکل میں مقبول کر دیا، تو فلم انڈسٹری کی سرحدیں روز بہ روز سکڑتی جائیں گی۔ میں نے فیصلہ کر لیا: “میں آپ سب کو اخلاقی امدادی رقم کی ذمہ داری سے آزاد کرتا ہوں۔”

اس پر بنگال، بہار، آسام اور اڑیسہ کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر کپور چند نے کہا، “یہ تو ٹھیک ہی ہے، لیکن آگے چل کر آپ کو فلم بنانےکے لیے پیسے کم پڑ جائیں، تو اس کے ذمہ دارہم نہیں ہوں گے۔”

“میں نہیں سوچتا کہ ویسی نوبت آئے گی۔ انسان کے بھلے مانس ہونے پر مجھے بھروسہ ہے۔ ساتھ ہی یہ اعتماد بھی ہے کہ امدادی رقم بھرنے سے راحت ملنے پر ریلیز کرنے والے ہماری فلم کے لیے پہلے جیسی ہی، حقیقت میں اس سے تھوڑی زیادہ ہی آمدنی ہو اس لیے اشتہار وغیرہ پر تھوڑا زیادہ خرچ خود کریں گے۔ آپ لوگ نئی فلموں کے کانٹریکٹ کرتے سمے ریلیز کرنے والوں سے درخواست کریں کہ ‘پربھات’ کی فلموں کو ریلیز کرتے سمے ان کی بے فکری کے نتیجے میں آمدنی کم ہو گئی، تو ہم لوگ امدادی رقم لینے کے رواج کو پھر پہلے جیسا چالو کریں گے۔”

اس کے بعد ایک سال بیت گیا۔ ڈسٹری بیوٹرز کی کانفرنس کے شروع میں ہی سبھی ڈسٹری بیوٹرز نے مجھے دل سے سراہا۔ کہنے لگے: “شانتارام بابو، مان گئے ہم آپ کو۔ بیتے برس آپ نے جو باہمت فیصلہ کیا اس کے لیے پھر آپ کو دلی مبارک باد۔ پچھلے سال ہماری اوسط آمدنی میں لگ بھگ بیس فی صد کی بڑھوتری ہوئی۔” میں نے حیرانی جتاتے ہوئے پوچھا، “لیکن یہ کیسے ممکن ہو سکا؟” ہمارے جنوبی صوبوں کے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکُر نے جواب دیا، “کیسے ممکن ہو سکا، یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟ امدادی رقم کا رواج بند کرنے کے کارن ریلیز کرنے والے بہت ہی خوش ہو گئے۔ یہ رواج پھر چالو کرنے کی بات آپ کے من میں بھی نہ آئے، اس لیے انھوں نے ہر فلم کو اچھی طرح چلانے کی پوری کوشش کی۔ ہولڈ اوور فگر (یعنی فلم کی کم از کم ہفتہ وار آمدنی کا ہندسہ، جس کے نیچے آمدنی چلی جائے تو فلم ہٹا لی جاتی ہے) سے کم آمدنی ہونے لگی پھر بھی انھوں نے دو دو، تین تین ہفتے فلم کو زیادہ چلایا۔ اسی سب کے نتیجے میں آمدنی میں یہ بیس فیصد کی بڑھوتری ہو سکی ہے۔ واقعی میں آپ نہ صرف ڈائریکشن میں، بلکہ بزنس میں بھی ماہر ہیں۔”

“میں؟ اور کاروبار میں بھی ماہر!” اتنا کہہ کر میں چُپ ہو گیا۔ بندھی مٹھی لاکھ کی!

اس کے بعد میرے من میں وچار آیا کہ کیوں نہ ہماری ‘پربھات’ کی اپنی ایک ڈسٹریبیوشن آرگنائزیشن ہو؟ صوبے صوبے میں اس کی شاخیں ہوں۔ وہ ہماری فلموں کے ساتھ ہی دیگر اچھے پروڈیوسرز کی فلمیں بھی ڈسٹری بیوشن کے لیے قبول کرے۔ اس طرح ایک مکمل بھارتی ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن بنانے کا اہم خیال میرے من میں شکل لینے لگا۔ لیکن اپنے کام کے گورکھ دھندھے سے سمے نکال کر یہ نیا کام بھی دیکھوں، اس کے لیے میرے پاس سمے نہیں تھا۔ میں کسی ماہر ڈسٹری بیوٹر کے بارے میں سوچنے لگا۔ بمبئی کے ہمارے ڈسٹری بیوٹر بابوراؤ پینڈھارکر کا نام سامنے آیا۔ لیکن سوال یہ تھا کہ کیا بابوراؤ ان کی اپنی ‘فیمس پکچرز’ آرگنائزیشن بند کر ‘اکھل بھارتی ڈسٹرییوسن آرگنائزیشن’ کا کاروبار سنبھالنے کو راضی ہو جائیں گے؟ اس میں انھیں کیا فائدہ ہو گا؟ اس پر وچار آیا کہ کیوں نہ انھیں بِنا کوئی رقم لیے ‘پربھات’ کا پانچواں حصہ دار بنا لیا جائے اور ان کی ‘فیمس پکچرز’ کو پربھات کی نیشنل ڈسٹری بیوشن آرگنائزیشن کے روپ میں بدل دیا جائے۔ شاید بابوراؤ اس کے لیے ضرور ہی تیار ہو جائیں گے۔ ‘پربھات’ کی بالکل پہلی فلم سے وہ ہمارے ساتھ جو تھے! لیکن بابوراؤ پینڈھارکر کے بارے میں داملے، فتےلال کی رائے خاص اچھی نہیں تھی۔ ان کی رائے تھی کہ بابوراؤ مہا حکمتی آدمی ہے، اپنا فائدہ ہر حالت میں ممکن کر کے ہی رہے گا! لہٰذا انھوں نے میرے سجھاؤ کی مخالفت کی۔ لیکن ان دونوں کو میں نے یقین دلایا کہ میں خود بابوراؤ پینڈھارکر کی ہرحرکت پر کڑی نظر رکھوں گا۔ ‘پربھات’ کو گڑھے میں ڈالنے والا کوئی کام وہ نہیں کریں گے، اس کی احتیاط برتوں گا۔ تب جا کر کہیں میرے حصے داروں نے میرا سجھاؤ مان لیا۔ بابوراؤ پینڈھارکر کیشوراؤ دھایبر کی جگہ پر پربھات کے پانچویں حصےدار بن کر آ گئے۔

اس کے کچھ دن بعد کمپنی میں ایک الگ ہی بات چل پڑی۔ کہا جانے لگا کہ ‘گوپال کرشن’، ‘تُکارام’ فلم کے مقابلے میں ‘آدمی’ اور ‘مانوس’ آمدنی کے خیال سے کم پُراثر ثابت ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے علاوہ کمپنی کے دیگر مالکوں نے ایک وچار رکھنا شروع کر دیا کہ “اس طرح کم آمدنی دینے والی فلمیں ‘پربھات’ جیسی کمپنی آخر بنائے ہی کس لیے؟ فلم میکنگ بھی آخر اپنے آپ میں ایک دھندا ہے۔ لہٰذا دھندے کا تقاضا تو یہی ہونا چاہیے کہ ایسی ہی فلمیں بنائی جائیں جن سے زیادہ آمدنی ہو”۔ اپنی بنائی ‘گوپال کرشن’ اور’تکارام’ کی آمدنی کے ہندسوں کا مقابلہ’ آدمی’ اور ‘دنیا نہ مانے’ کی آمدنی سے کرتے رہنا، داملے، فتے لال جی کا ایک نٹھلا شوق بن گیا۔ ان کے پاس نٹھلےپن کے لیے سمے بھی کافی رہتا تھا! لیکن ان دونوں نے اس بات کو آرام سے بھُلا دیا تھا کہ ‘گوپال کرشن’ اور ‘تکارام’ دونوں فلموں کے بننے میں میرا کردار کتنا رہا تھا!

میں نے جان بوجھ کر ان کے اس وچار کی طرف کوئی دھیان نہیں دیا اور داملے جی، فتے لال جی کے لیے ایک نئی فلم کی تیاریاں شروع کر دیں۔ سکرین پلے کے لیے ایک سیدھا سادہ، سب لوگوں کو راس آنے والا موضوع چُنا: ‘سنت گیانیشور’! ان یتیم بھائیوں کی کہانی سب کے دلوں کو چُھو جانے والی، گہری بیٹھ جانے والی کہانی تھی۔ میں نے ‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کے سکرین پلے تیار کرنے والے لیکھک شِورام واشیکر کو اس فلم کی کہانی لکھنے کو کہہ دیا۔ میں نے خود بھی گیانیشور کی آپ بیتی پڑھ ڈالی۔ گیانیشوری کا بھی تھوڑا بہت مطالعہ کیا۔ سکرین پلے کے موضوع کو لے کر وشیکرن جی میرے ساتھ چرچا کرنے لگے۔ بیچ بیچ میں داملے جی فتےلال جی بھی اس میں حصہ لیتے اور اپنی رائے ظاہر کرتے تھے۔ سکرین پلے تیار ہو گیا۔ فلم کی شوٹنگ کا انتظام بھی ہو گیا۔ ہم سب لوگ نئے جوش خروش سے کام میں جٹ گئے۔ کہنا نہ ہوگا کہ اس فلم کی ڈائریکشن کی ذمہ داری داملے جی اور فتے لال جی پر تھی۔

‘سنت گیانیشور’ کے لیے سنگیت دینے کا کام کیشوراؤ بھولے کو سونپا تھا۔ ‘پربھات’ میں شروع میں بطور ایکٹر کام کر چکے وسنت دیسائی کو میوزک ڈیپارٹمنٹ میں ان کے زیر کام کرنے کے لیے کہا۔ اسے ہدایات دی تھیں کہ جو بھی کام کرنا پڑے، کرے اور خالی سمے میں مختلف آلات کو بجانا بھی سیکھ لے۔ اسے جب چاہے آلات بجانے کی ریہرسل کرنے کی چُھوٹ دے دی تھی۔ ‘سنت گیانیشور’ میں ایک گاڑی بان کا گانا اس نے گایا اور گاڑی بان کا کام بھی اسی نے کیا۔ اس فلم کے بیک گراونڈ میوزک کا کام جاری تھا، تب وسنت دیسائی خود آگے آ کر بھولے کی مدد کرتا تھا، لیکن اس بھلے آدمی نے تعریف میں کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا، نہ ہی اس کا حوصلہ بڑھایا اور نہ ہی کبھی ایسا کام کیا جس سے وسنت دیسائی کی کوشش ہمارے بھی دھیان میں لائی جاتی۔ نتیجتاً ویسنت دیسائی کئی بار ناامید ہو جاتا تھا۔ یہ بات میری نظر سے بچ نہ سکی۔ میں نے اسے سمجھایا بجھایا، “دیکھو وسنت، تم تو اسی میں اطمینان مانو کہ تمھیں آخر کام کرنے کا موقع تو مل رہا ہے۔ خوب ڈٹ کر کام کرو، محنت کرو، مطالعہ کرو، میرا پورا دھیان تمھاری طرف ہے۔” دیسائی ویسے ہی بہت محنتی تھا۔ اسے میری باتوں سے جوش ملا اور وہ اور بھی زیادہ جوش سے من لگا کر کام کرنے لگا۔

اس بیچ ‘سنت گیانیشور’ کی شوٹنگ کے سمے داملے جی اور فتے لال جی میں ڈائریکشن کے کئی پہلوؤں پر ٹکراؤ ہونے لگے۔ کئی بار فتے لال جی کی ہدایات اعلیٰ فنکارانہ ہوتی تھیں، لیکن داملے جی اور ان کا معاون راجہ نے نے ان کے اچھے اچھے سجھاؤوں کو بھی نامنظور کر دیتے۔ پھر فتے لال جی اپنا خیال مجھے آ کر بتاتے اور پھر میں انھیں جا کر داملے جی کے گلے اتارتا تھا۔

‘تکارام’ اور ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کرنے کے بعد بھی ان دونوں نے فلم میں کس شاٹ کی لمبائی کتنی ہو اور اس کے لیے کتنی فلم خرچ کی جانی چاہیے، اس کا کوئی مطالعہ نہیں کیا تھا۔ ایڈیٹنگ شروع کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جو سین فلم میں مشکل سے پچاس ہی فیٹ رہنے والا ہے، اس کی شوٹنگ کے لیے ہزار دو ہزار فیٹ فلم ضائع کر دی گئی ہے۔ ایک ایک سین کی اتنی لمبی شوٹنگ حیرانی کی بات تھی۔ اس معاملے میں زیادہ احتیاط برتی جائے، اس احساس سے میں نے ان دونوں کو ایڈیٹنگ روم میں بلوا لیا اور براہ راست شوٹنگ کے نمونے دکھا کر بات کو سمجھاتے ہوئے کہا، “دیکھیے، ان ہزاروں فیٹ فلموں میں مناسب شاٹ کھوج نکالتے نکالتے میری تو ناک میں دم آ گیا! ‘تکارام’، ‘گوپال کرشن’ کی ڈائریکشن کر چکنے کے بعد بھی شوٹنگ کا ایک موٹا اندازہ بھی آپ نہیں لگا پائے، اس کی واقعی مجھے بہت ہی حیرانی ہوتی ہے!”

لیکن میں نے دیکھا کہ ان دونوں کو میری یہ بات پسند نہیں آئی۔ ایڈیٹنگ کرتے سمے فلم کے سکرین پلے میں رہ گئی ایک خرابی میرے دھیان میں آ گئی: گیانیشور جب بچہ تھا، ایک ننھی سی بچی اس سے محبت کرتی ہے۔ گیانیشور برہمچاری! لہٰذا اس بچی کا وہ کردار ایک دم اَدھر میں لٹکتا سا معلوم ہوتا تھا۔ اس اچھی بچی کے ناسمجھ پیار کو کہیں نہ کہیں یقین دلانا نہایت ضروری تھا۔ میں نے ایڈیٹنگ روک دی۔

سوچتے سوچتے ایک بہت ہی کومل اور اعلیٰ خیال من میں آیا۔ میں داملے جی، فتے لال جی کو ڈھونڈنے شوٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں گیا۔ وہاں وہ دونوں پنت دھرم ادھکاری ساتھ نہ جانے کیا باتیں کر رہے تھے، مجھے آیا دیکھ کر چپ ہو گئے۔ میں نے انھیں ایڈیٹنگ کرتے سمے پیدا ہوا خدشہ بتایا اور کیا کرنا چاہیئے، بڑی اپنائیت سے میں بتانے لگا۔

ان دونوں نے میری بات سکون سے سن لی۔ اس کے بعد میرے اس نئے خیال پر داملے جی نے گھڑا بھر پانی ڈال دیا۔ انھوں نے کہا، “دیکھیے، سکرین پلے کے نقطۂ نظر سے مجھے نہیں لگتا کہ آپ جس بےکار کے سین کا ذکر کیے جا رہے ہیں، اس کی کوئی ضرورت ہے!”
بات کا بتنگڑ نہ ہو، اس لیے میں نے بھی ان کی ‘ہاں’ میں ‘ہاں’ ملا دی۔

اس دن ایڈیٹنگ وہیں ادھوری چھوڑ کر میں پہلی منزل پر اپنے آفس کے باہر چھجے پر کہنیاں ٹیکے کھڑا آج کے واقعے پر غور کر رہا تھا۔ شام ہو رہی تھی۔ تبھی نیچے سے کسی کے بولنے کی آواز سنائی دی، “آج شانتارام بابو کو کیسی کھری کھری سنا دی!”

میں نے جھک کر دیکھا۔ داملے جی، فتے لال جی گپیں لڑاتے لڑاتے کمپنی کے احاطے میں بنے جلترن تالاب کی طرف چہل قدمی کرنےکے لیے جا رہے تھے۔ دونوں اپنی ہی باتوں میں ڈوبے ہونے کے کارن اوپر کی طرف ان کا قطعی دھیان نہیں تھا۔ داملےجی کہہ رہے تھے، “کیا ہی لاجواب کر دیا میں نے انھیں!” فتے لال جی بولے “ٹھیک ہی تو ہے! ورنہ اپنے ضدی سوبھاؤ کے کارن وہ اس سین کو اپنی خواہش کے مطابق پھر فلمانے پر اُتر ہی آتے!”

“اور بعد میں اسے بھی قینچی لگانی ہی پڑتی۔ تب کیا فلم ضائع نہ ہوتی؟ شانتارام بابو کا سوچنے کا ڈھنگ ہی کچھ ایسا ہے کہ وہ جو کریں گے یا کہیں گے وہ ایک دم درست اور صحیح اور باقی لوگ ہمیشہ غلط! عقل بٹتے سمے وہ اکیلے ہی جیسے بھگوان کے سامنے حاضر تھے!”

باتیں کرتے کرتے وہ دونوں آگے نکل گئے لیکن مجھے ان کی باتیں سن کر ایسا لگا جیسے کسی نے ابلتا ہوا ٹنکچر میرے کانوں میں ڈال دیا ہے۔ میں نے جو سین انھیں سمجھایا تھا اس کی کلپنا کا صحیح صحیح اندازہ دونوں نہیں کر پائے تھے۔ شاید ان کی ویسی اوقات بھی نہیں تھی۔ لیکن ان کے من میں میرے لیے جو زہریلے وچار تھے، انھیں سن کر میرا ماتھا بےحد ٹھنکا۔ سُن سا میں وہیں پتہ نہیں کب تک کھڑا رہا۔

وِمل نے مجھے ہلا کر اس غنودگی سے جگایا۔ چاروں طرف گھنا اندھیرا چھا چکا تھا۔ وِمل میرے پاس کھڑی تھی۔ آفس میں بتی جل رہی تھی۔ وِمل نے کہا، “پتہ ہے، آپ سوچ میں ڈوبے رہنے پر کتنے بھلے لگتے ہیں؟ لیکن دو نوالے بھوجن کرنے کے بعد سوچنے بیٹھیں گے نا، تو اور بھی اچھے دِکھیں گے!” ومل اس طرح مجھے کبھی چھیڑا نہیں کرتی تھی۔ لیکن اس لمحے تو اس کی ٹھٹھولی سن کر میری طبیعت کافی ہلکی ہو گئی۔ من کا غبار اتر گیا۔ ہم دونوں گھر کی طرف چل پڑے۔

دوسرے دن سویرے میں کمپنی میں ایک نیا فیصلہ کر کے ہی آیا۔ میرا سُجھایا گیا وہ سین فلم کی نظر سے فضول نہیں بلکہ نہایت ضروری ہے، یہ بات میں انھیں بتا دینا چاہتا تھا۔ میں ان دونوں کے کمرے میں گیا۔ وہ سین فلما کر فلم میں شامل کرنے کی درخواست کرنے لگا۔ تھوڑی سی ضد بھی کی۔ آخرکار مجبور ہو کر ہی وہ راضی ہو گئے۔ لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ، “آپ جس سین کی بات کر رہے ہیں اسے کیسے فلمایا جائے، ہماری تو سمجھ میں قطعی نہیں آیا ہے۔ لہٰذا اس کی شوٹنگ بھی آپ ہی کریں۔”

ایکٹنگ ڈیپارٹمنٹ میں حال ہی کام پر آئی مُتی گپتے کو میں نے فوراً ہی اس نوجوان لڑکی کا کام کرنے کے لیے تیار ہو آنے کے لیے کہا۔ ہمیشہ کے برعکس اس بار تو اس سین کا سنیریو بھی میں تیار کر کے نہیں لایا تھا۔ بس من میں جو سوچ اور خیالات آئے تھے انھیں کے مطابق میں دھڑلے کے ساتھ لگاتار شاٹس لیتا گیا اور وہ سین ایک ہی دن میں فلما کر پورا کر لیا۔

‘سنت گیانیشور’ تیار ہو گئی۔ بمبئی کے سینٹرل سنیما میں اسے ریلیزکیا گیا۔ فلم میں اچھا خاصا رنگ بھرتا جا رہا تھا۔ میں نے ضد کر کے فلم میں جو سین شامل کیا تھا، وہ پردے پر دکھائی دینے لگا۔ داملے جی، فتے لال جی میں کچھ کھسرپھسر شروع ہو گئی۔ لیکن میرا دھیان ان کی باتوں پر قطعی نہیں تھا۔ ناظرین کے اس سین کے بارے کیا تاثرات ہوتے ہیں، یہ جاننے کے لیے میں بےحد بےچین ہو اٹھا تھا۔

بچے گیانیشور سے دل ہی دل میں محبت کرنے والی وہ بچی اب جوان ہو گئی ہے۔ ندی کے گھاٹ پر ایک مندر کی اوٹ سے ندی میں نہا رہے پھرتیلے نوجوان گیانیشور کو وہ بڑی جذباتی عقیدت سے دیکھ رہی ہے۔۔۔ جوانی کی سرزمین میں ابھی ابھی قدم رکھ چکی وہ خوبصورت لڑکی کچھ زیادہ جھک کر گیانیشور کو نہارنے لگی ہے۔ اس کے من کی بےصبری اس کی نظر سے صاف ظاہر ہو رہی ہے۔ گیانیشور کا غسل ہو گیا ہے۔ وہ بھیگی کفنی سے ہی گھاٹ کی سیڑھیاں چڑھ جاتا ہے، مندر کی طرف چلا جاتا ہے۔ گھاٹ کی سیڑھیوں پر اس کے بھیگے نقشِ پا ابھر آتے ہیں۔ وہ لڑکی مندر کی اوٹ سے باہر آتی ہے۔ جلدی جلدی سامنے آ کر ان بھیگے نقشِ پا پر پھول چڑھاتی ہے اور بھکتی کے جذبے سے انھیں پرنام کرتی ہے۔

ناظرین نے اس پر تالیوں کی گڑگڑاہٹ کی۔ پاس ہی بیٹھے داملے جی، فتے لال جی کی طرف میں نے فاتحانہ انداز سے دیکھا۔ بےکار ہی لگا کہ شاید وہ بھی داد دیں گے۔ لیکن انھوں نے ویسا کچھ بھی نہیں کیا۔ لاتعلق انداز سے وہ فلم دیکھتے رہے!

پہلا شو ختم ہوا۔ کافی ناظرین اور ناقدین نے داملے جی فتے، لال جی کو دلی مبارکباد دی۔ دو ایک نقاد اس بھیڑ میں بھی مجھے کھوج کر ایک طرف لے گئے اور صاف صاف پوچھ ہی بیٹھے، “اس نوجوان لڑکی کا گیانیشور کے لیے بھکتی کے احساس سے بھری محبت اتنے علامتی انداز کے ساتھ فلمانے کرنے کا تخیل آپ کا ہی تو ہے نا؟ اس سین کو اتنی نزاکت کے ساتھ پیش کرنے کی مہارت آپ کے سوائے اور کون دکھا سکتا ہے!” من ہی من میں نے ان ناقدین کی تیز نظر کی داد دی۔ ان کی چالاکی کا لوہا مان لیا۔ لیکن اوپر سے ویسا کچھ بھی نہ جتاتے ہوئے فوراً کہا، “یہ تخیل شِورام واشیکر جی کا ہی ہے اور اس سین کو داملے، فتے لال جی نے فلمایا ہے۔” ان دونوں ناقدین نے سطحی طور پر میری بات مان لی اور ایک اچھی خوبیوں سے بھرپور فلم کے لیے مجھے بھی مبارکباد دے کر وہ چلے گئے۔

یہ مکالمہ چل رہا تھا تب پتہ نہیں کب واشیکر جی میرے پیچھے آ کر کھڑے ہو گئے، مجھے تو پتہ ہی نہ چلا۔ لیکن انھوں نے ہماری باتیں سن لی تھیں۔ جذباتی ہو کر میرا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں کس کر تھام کر وہ خاموش کھڑے رہے۔ ان کی آنکھوں میں جذباتیت چھلکنے لگی تھی۔ میں نے حیرانی سے پوچھا، “واشیکر جی، کیا بات ہے؟” رندھی آواز میں انہوں نے کہا، “فلم میں بھیگے نقش پا پر پھول چڑھانے والی اس لڑکی کا ایک خاموش سین— ویسا ہی اِسے بھی ایک اور خاموش سین جانیے!”

‘سنت گیانیشور’ کی ریلیز کے بعد پُونا واپس آنے پر ایک لیکھک وشرام بیڑیکر مجھ سے ملنے کے لیے تشریف لائے، ولایت جا کر وہ فلمنگ کی تربیت لے کر حال ہی وطن لوٹے تھے۔ ان کا لکھا ایک ناول ‘رنانگن’ میں اس سے پہلے ہی پڑھ چکا تھا اور تبھی سے ان کے ٹیلنٹ کا قائل ہو گیا تھا۔

اُن دنوں مہاتما گاندھی کی قیادت میں پورے بھارت میں آزادی کی جدوجہد کافی شدت کے ساتھ چل رہی تھی۔ انگریزی حکومت نے ‘پھوٹ ڈالو اور راج کرو’ والی کامیاب سیاست کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی منافرت ابھار کر بھارت پر اپنی طاقت کا شکنجہ کس لیا تھا۔ سبھی اخباروں میں ہندو مسلمانوں کے دنگوں کی خبریں سرخیوں کے ساتھ چھپتی تھیں۔ ان خبروں کو پڑھ کر میں بہت بےچین ہو اٹھتا تھا۔ سارے ملک میں آتش فشاں کی طرح سلگ رہے اس سوال پر آئندہ فلم بنانے کی ہمت کرنا میں نے طے کیا۔ وشرام بیڑیکر جیسا نئی سوچ کا باصلاحیت، ہنرمند لیکھک میرے خیالات کو لفظ دینے کے لیے تیار تھا۔

اس فلم کے لیے مجھے ایک نئی ہیروئین کی تلاش تھی۔ شانتا آپٹے ‘پربھات’ چھوڑ کر کبھی کی جا چکی تھی۔ ‘آدمی’ میں ہیروئن کا کام کر چکی شانتا ہُبلیکر اب کچھ اَدھیڑ سی ہو چلی تھی۔ ‘پربھات’ چھوڑ کر جانے کی اس کی منشا میرے کان پر آئی تھی۔ چونکہ آئندہ فلم کے لیے اس کا خاص استعمال ہونے والا نہیں تھا، ہم نے اسے کانٹریکٹ سے آزاد کر دیا۔

ایک دن سویرے ہی ممبئی کی نشنل گراموفون کمپنی کے ساؤنڈ ریکارڈنگ ہیڈ بابوراؤ مالپیکر ایک اچھی خوبصورت نوجوان لڑکی کو میرے آفس میں لے آئے اور اسے سیدھے میرے سامنے کھڑا کیا۔ میں نے اسے کیمرے کی نظر سے غور سے دیکھا۔ اس کا ناک نقشہ، ہونٹ، دیکھنے کی ادا، ٹھوڑی، بہت سڈول تو نہیں تھے، لیکن اس کی موٹی موٹی، کجراری، کچھ کچھ کٹاری سی آنکھیں بہت ہی متجسس، چمک دار اور نہایت پر کشش تھیں۔ نین بڑے چنچل تھے۔ میں نے اس سے اس کا نام پوچھا۔ اس نے کچھ جھجک کر بتایا، “ج۔۔۔ جےشری کامُلکر”۔ اس کی آواز مدھر تھی۔ سہج بھاؤ سے میں نے پوچھا کہ گانا وانا جانتی ہو؟ جواب بابوراؤ مالپیکر نے دیا، “اسے کلاسیکی موسیقی کی خاص جانکاری نہیں ہے، لیکن لائٹ میوزک، سینٹیمنٹل اور فلمی گیت اچھی طرح گا لیتی ہے۔ اس نے اس سے پہلے جن فلموں میں کام کیا، ان میں اپنے گیت خود گائے ہیں۔” میں نے ماسٹر کرشن راؤ کو بلا کر اس کا گانا سننے کے لیے کہا۔ سن کر انھوں نے اس کی آواز کے بارے میں اپنی پسند ظاہر کی۔ میں نے مینیجر کو بلوا کر اسے تین سال کے لیے کانٹریکٹ دینے کو کہا۔

دوسرے دن ‘پربھات’ کے منیجر جےشری کے کانٹریکٹ کا کچا چٹھا لےکر میرے پاس آئے۔ میں اسے پڑھ رہا تھا تو بولے، “انا، یہ جےشری کہتے ہیں کہ منحوس ہے۔”
“منحوس؟ کیا مطلب؟”

“اس نے جس کسی فلم کمپنی میں کام کیا ہے، وہ بند ہو گئی۔ اس کا دِوالا پٹ گیا۔ ساؤنڈ سٹوڈیو، کیشوراؤ دھایبر کی کمپنی، سرسوتی سنےٹون، کتنے نام گناؤں؟ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ یہ سبھی فلم کمپنیاں بند ہو چکی ہیں!”

”دیکھیے، منحوس، جیوتش، ان سب باتوں کو میں قطعی نہیں مانتا۔ فلم خراب بناؤ تو کمپنی ضرور بند ہو گی۔ اس میں جےشری کا کیا قصور ہے؟ ‘پربھات’ ایسی منحوس وغیرہ بری باتوں کو پچا کر آگے ہی بڑھتی جائے گی! جائیے، آج ہی اس کانٹریکٹ کو پکا کیجیے اور اس پر جےشری کے دستخط کروا لیجیے!”

کمپنی کے رولز کے مطابق جےشری ہر دن سویرے نو بجے کام پر آ جاتی تھی۔ اپنی مدھر اور اچھی اچھی باتوں کے کارن وہ بہت ہی تھوڑے سمے میں سب کے ساتھ ہِل مل گئی۔ چھوٹے بڑے سب کو اس نے اپنا بنا لیا۔

بیڑیکرجی نے کہانی کا موٹا خاکہ بنا لیا۔ نئی فلم کے لیے میرا سُجھایا گیا موضوع ویسے کسی بھی لیکھک کے لیے ذرا مشکل ہی تھا۔ پھر انگریزوں کے سنسر کی قینچی کا بھی ڈر تھا، فلم میں دو بنیادی کردار، دونوں بوڑھے اور پڑوسی متر۔ ایک ہندو دوسرا مسلمان۔ انگریز حاکموں کے خیالات کی نمائندگی کرنے والا ایک ولن بھی بنایا۔ یہ سرمایہ دار ہوتا ہے، اپنے فائدے کے لیے وہ ندی پر ایک باندھ بنوانے کا پروگرام بناتا ہے۔ باندھ کے کارن کافی غریب کسانوں کی زمین پانی میں ڈوبنے والی ہوتی ہے۔ اس سرمایہ دار کو اس کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ وہ ان سب کی زمینیں خرید لینے کی ٹھان لیتا ہے۔ پہلے تو کوئی زمین بیچنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ پھر انگریزوں کی Distinction policy کا سہارا لے کر وہ سرمایہ دار گاؤں والوں میں پھوٹ ڈالتا ہے، اختلافات پیدا کرتا ہے اور اپنا الو سیدھا کر لیتا ہے۔ اسی چکر میں ان دو بوڑھے متروں میں بھی اختلافات پیدا ہو جاتے ہیں اور دونوں کے خاندان دھیرے دھیرے تنہا سا محسوس کرنے لگتے ہیں۔ ایک دوسرے سے دور ہونے لگتے ہیں۔

— موٹے طور پر کہانی کا فارمولا یہی رکھنے کا فیصلہ کیا۔ سماجیت اور سیاست کا توازن برابر سنبھالنا تار پر کسرت کرنے کے جیسا تھا، لیکن ویسا کرنا ضروری بھی تھا۔ سنسر کی تیز نظر سے فلم کو پاس جو کرانا تھا!

دو بوڑھوں کے کرداروں پر مبنی یہ کہانی لوگوں کو بےجان اور روکھی معلوم ہوتی، لہٰذا لوگوں کی دلچسپی کے لیے ایک محبت کرنے والا نوجوان جوڑا بھی سکرین پلے میں شامل کیا۔ دو بنیادی بوڑھوں میں سے ایک ہندو بوڑھے کا نوجوان لڑکے اور اس سرمایہ دار کی لڑکی کے کچھ لَو سین کا فلمانا اس فلم میں جان بوجھ کر شامل کیا۔ حقیقت میں یہ لَو سین اس صاف ستھری کہانی میں تھگلی لگانے کے برابر ہی تھے۔ میں نے اپنے آدرشی اور فنکارانہ من کو سمجھایا اور فلم میں ان کرداروں اور منظروں کا وجود مجبوراً قبول کیا۔ اس فیصلے کے پیچھے صرف یہی احساس تھا کہ ہماری آدرشی فلم زیادہ سے زیادہ لوگ دیکھیں۔ لیکن جب جب میں اس فلم کو دیکھتا، ہر بار جی کرتا کہ ان سارے لَو سینز کو کاٹ کر الگ کر دوں۔ نئی فلم کا نام ہندی میں ‘پڑوسی’ اور مراٹھی میں ‘شیجاری’ رکھا۔

میں نہیں چاہتا تھا کہ اس فلم کے کارن ہندو یا مسلمان کسی کے من کو ٹھیس لگے اور ان میں بےکار ہی پرائےپن کا احساس پیدا ہو۔ لہٰذا میں نے کافی سوچ وچار کے بعد ایک فیصلہ کیا ‘پڑوسی’ میں بوڑھے مسلمان متر کا کردار گجانن جاگیردار نامی ہندو اداکار اور ہندو متر کا کردار مظہر خان نامی مسلمان اداکار کرے۔ مراٹھی ورژن میں بوڑھے ہندو متر کی اداکاری کیشوراؤ داتے کرے۔ مکمل ریہرسلز شروع ہو گئیں۔ گجانن جاگیردار اور مظہر خان جیسے ماہر اداکار بھی میری بتائی اداکاری کی باریکیوں کو خوب من لگا کر دیکھتے اور پورا مطامعہ کر ان کو ٹھیک ٹھیک اپنی اداکاری میں اتارتے۔

وہ گرمیوں کے دن تھے۔ کمپنی کی ایک طرف ہم لوگوں نے جنگل کے سین کو فلمانے کے لیے کچھ پیڑ پودے منصوبے سے لگائے تھے۔ اس جھنکاڑ کے پار تیراکی کے لیے ایک تالاب بھی بنایا تھا۔ میں کئی بار گھر کے لوگوں کے ساتھ شام کو وہاں تیرنے جایا کرتا تھا۔ ایک اتوار کو جےشری کو پتہ چل گیا کہ میں تیرنے جانے والا ہوں۔ اس نے بھی تیرنے کے لیے آنے کی اجازت چاہی۔ دوسرے دن ہم سب لوگ تالاب میں کافی ڈوبتے ابھرتے رہے تھے۔ کمار اور سروج بھی تھوڑا تھوڑا تیرنا سیکھ چکے تھے۔ وِمل تو بس صرف چند ہاتھ پاؤں پانی میں آزما لیتی تھی۔ میں نے اس کے پیٹ کے نیچے سہارا دے کر اسے کچھ تیرنا سکھایا۔ مدھو کو پیٹھ پر بٹھا کر تالاب کا ایک چکر میں نے پورا کیا۔ جےشری اچھا تیر رہی تھی۔ کچھ دیر بعد وِمل اور بچوں کو کم گہرے پانی میں ہی ڈوبنے ابھرنے کی ہدایت دے کر میں تیزی کے ساتھ پانی کاٹتا ہوا جلترن کا مزہ لینے لگا۔ تالاب کے دو تین چکر لگا لیے پھر میں پانی کی سطح کے نیچے غوطے لگانے لگا۔ میرا ہاتھ کسی کی پنڈلی سے لگا! پانی کی سطح پر آ کر دیکھا وہ جےشری تھی! میرا دم بھر گیا تھا! میں وہیں پاس کا چھجا پکڑ کر سانس لینے کے لیے رکا۔ اسی سمے میری پیٹھ پر کسی کے ہاتھ کا احساس لگا! میں نے مڑ کر دیکھا، جےشری میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی!

میں نے پھرتی سے پانی کے اندر غوطہ لگایا اور سطح کے نیچے سے ہی تیرتا ہوا اس سے کافی دور نکل گیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک میں اتنا تیرا کہ تھکنے تک تیرتا ہی رہا۔ تبھی وِمل کی آواز سنائی دی، “اجی، اب بس بھی کریے۔ کب تک ڈوبتے ابھرتے رہیں گے؟”

تھوڑی دیر بعد ہم سبھی گھر لوٹنے کے لیے نکلے۔ جےشری بھی ہمارے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ کمپنی کے پھاٹک کے پاس پہنچنے پر اس نے اپنا جلوہ مجھ پر گرا کر پوچھا، “اب میں جاؤں؟”
میں نے کچھ روکھے پن سے کہہ دیا، “جاؤ۔”

ہماری فلم کے مدراس میں ڈسٹری بیوٹر نے مدراس میں ‘پربھات’ نامی سنیماگھر بنوایا۔ اس کا افتتاح میرے ہاتھوں ہونا تھا۔ چار پانچ دن بعد میں اور وِمل اس تقریب کے لیے جانے کے لیے مدراس میل میں بیٹھے۔ اس یاترا کی خبر دینے کے لیے دو تین اخباروں کے انٹرویو لینے والے بھی ہمارے ساتھ تھے۔ حقیقت میں مَیں تھا لوگوں کی تفریح کرنے والا فلم ڈائریکٹر، کوئی سیاست دان تو نہیں تھا۔ پرچار، پبلسٹی، انٹرویوئرز کا اس طرح ساتھ ہونا، یہ باتیں مجھے ایک دم پاکھنڈ سی لگتی تھیں۔

پُونا سے میل چل پڑی۔ رات بیت گئی۔ جنوبی بھارت کی طرف میل تیزرفتار سے دوڑی جا رہی تھی۔ بیچ میں کسی سٹیشن پر گاڑی رکی۔ مدراس میل اس سٹیشن پر رکتی نہیں تھی۔ عوام کے خاص اصرار پر گاڑی وہاں روکی گئی تھی۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی بھیڑ میرے ڈبے میں پھول مالائیں لے کر گھسی۔ انھوں نے ہار مجھے پہنا دیے۔ پھولوں کے گلدستے ہاتھوں میں تھما دیے۔ پل بھر تو میں بھونچکا رہ گیا۔ ماجرا آخر ہے کیا، کچھ سمجھ میں نہیں آیا۔ لگا کہ ہو نہ ہو، ان سب کو شاید کچھ غلط فہمی ہو گئی ہے۔ وہ مجھے کوئی لیڈر سمجھ بیٹھے ہیں۔ لیکن ان کی جنوبی بھاشا میں بھی میں اپنا نام اور اپنی فلموں کا ذکر صاف سن رہا تھا، سمجھ بھی پا رہا تھا۔

میرے ساتھ آئے انٹرویوئرز میں ایک تمل بھاشی تھا۔ میں نے اس سے جاننا چاہا کہ آخر یہ لوگ اس طرح میری اتنی آؤبھگت کس لیے کر رہے ہیں۔ اس نے کہا، “یہ لوگ آپ کے قائل ہیں، کہہ رہے ہیں کہ وی شانتارام صرف رنگین فلم ہی نہیں بناتے، سماجی حالات کے لیے بیدار رہ کر فلم بنانے والا آج یہی واحد ڈائریکٹر ہے، اور اسی لیے وہ ہمارے لیے پوجنے لائق ہے!”

“لیکن ان سب کو یہ کیسے معلوم ہو گیا کہ میں اسی گاڑی سے جا رہا ہوں؟” میرے اس بچگانے سوال پر وہ انٹرویو لینے والا قہقہے لگا کر کہنے لگا، “لو، یہ تو آپ نے کمال کر دیا! اجی، آپ کے اس سفر کی خبر اخباروں میں جو چھپ چکی ہے، اسی لیے تو آپ کا یہ پُرجوش استقبال ہو رہا ہے۔” اس کے بعد مدراس پہنچنے تک ہر سٹیشن پر اسی طرح کی استقبالیہ تقریب کم وبیش ہوتی رہی۔

آخر گاڑی مدراس پہنچی۔ سٹیشن پر بھاری بھیڑ جمع ہو گئی تھی۔ جیسے ہی میں اپنے ڈبے کے دروازے پر آیا، لوگوں نے جوش سے ہاتھ ہلا کر میری جے جےکار کی۔ سٹیشن تو دکھائی ہی نہیں دے رہا تھا۔ جدھر دیکھو، آدمی ہی آدمی نظر آ رہے تھے۔ جیسے اتھاہ انسانی ساگر ہی وہاں ٹھاٹھیں مار رہا تھا۔ لگ بھگ ایک گھنٹے تک میرے گلے میں پھولوں کے ہار پڑتے رہے۔ انھیں نکال نکال کر میں پیچھے کھڑی وِمل کو دیتا گیا۔ وِمل ان مالاؤں کو ہم دونوں کے بیچ رکھتی گئی۔ بیچ ہی میں میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، وِمل کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ تبھی اسی کی آواز سنائی دی، “اجی۔۔۔۔” شاید وہ پھول مالاؤں کے ڈھیر سے ڈھک گئی تھی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے اس ڈھیر کے آگے لانگھ کر آنے میں مدد کی۔ سٹیشن پر اتنے لوگ اکٹھے ہو گئے تھے کہ بھیڑ میں سے راہ نکالنا ٹیڑھی کھیر بن گیا تھا۔ آخر ہمارے ڈبے کے پیچھے کی طرف سے ایک پولیس دستہ آ پہنچا اور اس نے ہمیں دوسری طرف سے باہر جانے میں مدد کی۔ دوسرے راستے سے وہ ہمیں باہر لے گئے۔ باہر سٹیشن کے کورٹ یارڈ میں بھی بھاری بھیڑ جمع تھی۔ ان میں کچھ جوشیلے نوجوان مجھے میرے نام سے پکار پکار کر ہاتھ ہلا رہے تھے۔ میں ان سبھی محبت کرنے والوں کو کبھی ہاتھ جوڑ کر، کبھی ہاتھ ہلا کر سلام کر رہا تھا۔ راستے کی دونوں طرف لوگ صرف مجھے دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ آخر مدراس میں ہمارے میزبان کے گھر کے پاس ہم لوگ آ پہنچے۔ گھر کے پاس بھی بھاری بھیڑجمع تھی۔ کچھ پیار کرنے تو گھر کی چھت پر چڑھ کر وہیں سے مجھے زور زور سے آواز دے رہے تھے۔ میں نے وِمل کا ہاتھ مضبوطی سے تھاما اور پریم کی اس پھُنکارتی باڑھ سے راستہ نکالتے ہوئے جیسے تیسے میزبان کے گھر میں داخل ہو گیا۔

مدراس میں ہمارے میزبان تھے ہمارے ڈسٹری بیوٹر جینتی لال ٹھاکر۔ حال ہی میں وہ ایک جان لیوا حادثے سے بال بال بچ گئے تھے۔ ان کے گھر میں، پتہ نہیں کیسے، آگ لگ گئی تھی۔ اس میں وہ کافی جھلس گئے تھے۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بستر سے اٹھے اور مجھے گلے لگا لیا۔ جذباتی ہو کر بولے، “میں بچ گیا، زندہ رہ گیا! لیکن سٹیشن پر نہ آسکا۔ آپ کا گرینڈ استقبال دیکھنا میری قسمت میں نہیں تھا! لیکن سارا حال مجھے یہاں بستر پر پڑے پڑے معلوم ہو گیا!” اتنا کہہ کر وہ ادھیڑ عمر کا آدمی پاگل جیسا رونے لگا۔ میں نے انھیں سمجھایا بُجھایا اور تسلی دی۔ اس آدمی کا میرے لیے اور ہماری ‘پربھات’ کے لیے دلی پیار تھا!

مدراس کے اپنے دورے میں نے ‘پربھات تھئیٹر’ کا افتتاح کیا۔ وہاں کی سماجی اور فلم انڈسٹری سے جڑی انجمنوں کی طرف سے ہمارے احترام میں کئی استقبالیہ تقریریں منعقد کی گئیں۔ ان تقریبوں میں مختلف لوگوں سے میل ملاقاتیں ہوئیں، ان لوگوں میں تمل، تیلگو، ملیالم، کنڑ بھاشا بھاشی سبھی فنکار، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر شامل تھے۔ ان میں سے کئیوں نے تو میرے چرن چھو کر مجھے پرنام کیا۔ ایسی حرکتیں میں پسند نہیں کرتا تھا۔ مخالفت کرتا، تو چرن چھونے والا بڑے ہی ادب سے کہتا، “آپ ہمارے گرو ہیں!”

“میں آپ کا گرو؟ وہ کیسے؟” میں پوچھتا۔

تو سامنےوالا جذباتی جواب دیتا، “آپ کی فلموں کو باربار دیکھ کر ہی تو ہم نے فلم کلا کی کئی باریکیاں اکٹھی کی ہیں۔ آپ کا چرن چھونا ہماری خوش قسمتی ہے۔ اس کارن ہمیں اپنے کام میں بڑی طاقت حاصل ہو گی!”

اپنے لیے اتنی عقیدت، اتنا احترام، اتنا پیار آج تک میں نے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔ ایسے موقع پر بولتا بھی، تو کیا؟ کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ میں جہاں بھی جاتا، وِمل بھی میرے ساتھ ہوتی۔ اس سماج کی عورتیں اس کا استقبال بھی پورے جذبے سے کرتیں۔ اپنے لیے اتنا پیار دیکھ کر وِمل من ہی من میاں مٹھو بن رہی تھی۔ فلم کلا کے شعبے میں وِمل کو کوئی خاص علم تو نہیں تھا، نہ ہی اس سے اس کی امید کرنا مناسب تھا۔ لیکن میرے سکھ میں ہی اپنا سکھ، اور میرے دکھ میں ہی اپنا بھی دکھ مانتی آئی سادی، بھولی وِمل پتی کے اتنے شاندار استقبال اور تعریف سے سیر ہو گئی تھی۔ وہ سیری اس کی آنکھوں میں صاف جھلکتی تھی۔ اس بات پر ہو رہا سکون اس نے میرے پاس کبھی ظاہر نہیں کیا۔ لیکن آج بھی مجھے اس بات کا دلی اطمینان ہے کہ میرے افتحار کی بڑھوتری میں وِمل بھی برابری کی حصےدار تھی۔

مدراس میں ہم لوگ دس دن رہے۔ وہ دس دن پتہ نہیں کب بیت گئے۔ بچوں کے لیے کچھ سِلے سِلائے کپڑے اور وِمل کے لیے جنوبی ڈھنگ کی کچھ ساڑھیاں خریدنے کے ارادے سے ہم کپڑے کی ایک دکان پر گئے۔ وِمل نے کچھ ساڑھیاں پسند کیں۔ میں نے اسے ایک اور ساڑھی خریدنے کے لیے کہا۔ اس نے سہج بھاؤ سے پوچھا، “کس کے لیے؟” میں نے زیادہ کچھ بھی نہ بتاتے ہوئے اتنا ہی کہا، “کمپنی میں وہ جےشری آئی ہے نا، اس کے لیے!”

وِمل جےشری کے لیے ساڑھی پسند کرنے لگی۔ وچار کرتے کرتے میرا ارادہ بدل گیا۔ ساڑھی مت خریدنا، کہنے کے لیے میں وِمل کی طرف مڑا ہی تھا کہ اس نے اپنی پسند کی ایک ساڑھی میرے سامنے رکھی۔ میں نے صرف سر ہلا دیا۔

مدراس سے پُونا واپس آنے کے لیے ہم نکلے۔ سٹیشن پر پھر بےحد بھیڑ امڈ پڑی تھی۔ سب سے وداع لیتے ہوئے میں اور وِمل ڈبے کے دروازے پر کھڑے تھے۔ گاڑی چلی۔ میرا من سحرزدہ ہو گیا تھا۔عوام کا یہ بےپناہ پیار دیکھ کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ گاڑی نے رفتار پکڑی۔ ڈبے کے ایک کونے میں مَیں چپ چاپ بیٹھا رہا۔ کسی سے باتیں کرنے کو جی ہی نہیں کر رہا تھا۔ میرے چاہنے والوں نے جو عقیدت ظاہر کی، جو پیار مجھے دیا، یہ سب اسی لیے کہ میں نے سماجی فلمیں بنائی ہیں۔ لہٰذا آگے چل کر بھی ہر حالت میں مجھے سستی مقبولیت کے چکر میں نہ پڑتے ہوئے سماج میں ظاہر مسائل کو آواز دینے والے ایک سے ایک بڑھ کر درجے فلم بناتے رہنا چاہیے، یہی وچار میرے من میں دوبارہ پختہ ہوتا گیا۔ واپسی یاترا میں بھی وہی حال رہا، جو مدراس جاتے سمے رہا تھا۔ ہر سٹیشن پر ہار اور گلدستہ لیے لوگ دلی وداعی دیتے تھے۔ ایک بار تو آدھی رات کسی سٹیشن پر لوگوں نے ریل کی پٹریوں پر کھڑے ہو کر ہماری گاڑی کو زبردستی رکوا لیا۔ ہمارے ڈبے کی کھڑکیوں اور دروازے پر زور سے دستکیں دے دے کر ہمیں جگایا اور ہم سے وداع لی۔

مقبولیت کی اس بےمثال امرت ورشا (رس کی برسات) میں بھیگتے نہاتے ہم دونوں واپس پونا آ گئے۔

Categories
نان فکشن

شانتا راما – باب 1: ہتھیلی بھر دہی (ترجمہ: فروا شفقت)

[blockquote style=”3″]

’’شانتاراما‘‘ برصغیر کی فلم انڈسٹری کے بانیوں میں شامل وی شانتا رام کی آپ بیتی ہے جو انھوں نے اپنی آخری عمر میں مراٹھی میں بول کر لکھوائی اور چھپوائی تھی۔ بعد میں اس کا ہندی روپ شائع ہوا۔ شانتارام جن کا پورا نام شانتارام راجارام وانکودرے تھا، 18 نومبر 1901 کو پیدا ہوے اور کو پیدا ہوے اور 30 اکتوبر 1990 کو وفات پائی۔ مہاراشٹر کے شہر کولھاپور میں، جو برٹش راج کے دور میں ایک رجواڑے یا نوابی ریاست کا صدرمقام تھا، انھوں نے خاموش فلمیں بنانے سے آغاز کیا اور بعد میں پونا اور بمبئی میں مراٹھی اور ہندی کی بےشمار فلمیں بنائیں۔ اس طرح شانتارام کی لمبی پیشہ ورانہ زندگی کی دلچسپ داستان اس خطےکی فلمی دنیا کی تاریخ بھی ہے۔ اس تاریخ کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے کرداروں میں مختلف علاقوں، ذاتوں، زبانوں، طبقوں اور پیشوں کے لوگ شامل ہیں جنھوں نے مل کر ایک رنگارنگ منظرنامہ تیار کیا جس کی جھلکیاں اردو میں سعادت حسن منٹو کی ان تحریروں میں ملتی ہیں جن کا پس منظر 1940 کی دہائی کا بمبئی شہر اور وہاں کی فلمی دنیا ہے۔ ’’شانتاراما‘‘ میں اس دنیا کے رفتہ رفتہ بننے اور پھیلنے کی کہانی بڑے بےتکلف اور دلچسپ اسلوب میں بیان کی گئی ہے۔ شانتارام کی معروف ہندی فلموں میں سے چند کے نام یہ ہیں: ’’ڈاکٹر کوٹنِس کی امر کہانی‘‘ (1946)، ’’امر بھوپالی‘‘ (1951)، ’’جھنک جھنک پایل باجے‘‘ (1955)، ’’دو آنکھیں بارہ ہاتھ‘‘ (1957)۔ ’’شانتاراما‘‘ کا اردو روپ ہندی متن کی بنیاد پر فروا شفقت نے تیار کیا ہے جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں پی ایچ ڈی سکالر ہیں۔

[/blockquote]
میں چار یا پانچ سال کا بچہ تھا، شاید تب کی بات ہے۔ ہم لوگ کولھاپور سے کہیں دور گاؤں میں رہتے تھے۔ میں، دادا (مجھ سے بڑا بھائی)، ماں اور باپو، ڈیڑھ سال کا چھوٹا بھائی کیشو۔ میں اور دادا گھر کی دہلیز پر بیٹھے آنگن میں جو کچھ ہو رہا تھا، دیکھ رہے تھے۔

آنگن میں ایک اجنبی بابا آئے تھے۔ انھوں نے ایک بڑی سی ٹکٹھی (سٹینڈ) پر ایک بھورے رنگ کی لکڑی کی ایک پیٹی جمائی تھی۔ ٹکٹھی بھی لکڑی کی، پیٹی بھی لکڑی کی۔ پیٹی پر سے ہوتا ہوا ایک کالا پردہ ڈالا تھا۔ پہلے باپو گھر سے باہر آئے۔ انھوں نے سر پر رومال باندھا ہوا تھا، کندھے پر اَپرنا (انگوچھا) لیے ہوئے تھے۔ آنگن میں آتے ہی انھوں نے ماں کو پکارا۔ ماں بھی جلدی جلدی باہر آگئیں۔ ماں نے بہت اچھے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔ ماں اور باپو اس چوکھٹی پیٹی کے سامنے کھڑے ہو گئے۔

ماجرا کیا ہے؟کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس پیٹی کی طرف انگلی دِکھا کر میں نے ماں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا، ’’آئی (ماں)، وہ کیا چیز ہے؟آپ لوگ کیا کر رہے ہیں؟‘‘
جواب باپو نے دیا، ’’یہ فوٹو اتارنے کی مشین ہے، کیا سمجھے؟‘‘
میں گھبرایا سا دیکھ رہا تھا۔ پھر پوچھ بیٹھا، ’’تو آپ یہاں کھڑے کیوں ہیں؟‘‘
’’ارے، یہ بابا ہیں نا، یہ ہماری فوٹو اتار رہے ہیں۔ چلو ہٹو، ایک طرف ہو جاؤ۔ ‘‘
فوٹو کا نام لیتے ہی میں اور دادا دونوں ضد کر بیٹھے۔ ہم بھی فوٹو میں آئیں گے!
کاشی ناتھ دادا اس وقت چھ سات سال کا ہو گا۔ آئی اور باپو نے باربار ہمیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن ہم بھلا کہاں ماننے والے تھے۔ بس گلا پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔ ایسا ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ پوچھیے نہیں! مٹی میں لیٹ کر ہاتھ پاؤں پٹکنے لگے۔ آنگن میں لوٹ پوٹ ہونے لگے۔

آخرکار اس فوٹو والے بابا نے کہا، ’’راجارام باپو، ان دونوں بچوں کو اپنے اغل بغل میں کھڑا ہونے دیجیے۔ کیا فرق پڑنے والا ہے!‘‘ ہم دونوں کی باچھیں کھِل گئیں۔ کودتے پھاندتے اندر گئے، ٹوپی پہنی، تلک لگایا اور روتی شکل کو ہنس مکھ بنا کر باہر آئے۔

فوٹو والے بابا اس کالے پردے کے اندر گھسے، باہر آئے اور بولے، ’’دیکھیے، ہم ایک… دو… تین… کہیں گے۔ ہلنا ڈولنا نہیں۔ ایک دم بت جیسے کھڑے رہنا۔‘‘
ہم سب لوگ سانس روکے کھڑے رہے۔ بابا نے اس بھوری پیٹی کے سامنے لگا ایک گول ڈھکنا اٹھایا اور زور سے بولے، ’’ایک…دو… اور یہ تین! ‘‘ وہ گول ڈھکنا اس نے پھر سے اس پیٹی پر لگا دیا۔ بس اتر آئی فوٹو۔

اس کے دو تین دن بعد میں نے آئی اور باپو کو فوٹو دیکھتے ہوئے دیکھا۔ میں تو کھیلنے کی دھن میں فوٹو والی بات ہی بھول گیا تھا۔ بیتاب، میں بھی پیچھے سے جھانک کر دیکھنے لگا۔ فوٹو تو صرف آئی اور باپو کی ہی نکلی تھی، اور وہ بھی صرف کمر تک ہی۔ ہم دونوں بھائیوں کا فوٹو میں نام و نشان بھی نہیں تھا۔ پھر رونا پیٹنا ہوا۔

آخر باپو نے سمجھایا، ’’ ارے بابا، بات یہ ہے کہ ابھی تم لوگ چھوٹے سے ہو، اسی لیے فوٹو میں نہیں آئے ہو۔ آپ لوگ ہمارے جیسے اونچے ہو جاؤ گے تو آپ کی بھی فوٹو برابر نکلے گی۔ ‘‘

باپو کی بات ہماری سمجھ میں آ گئی۔ ان کی اس بات پر پورا بھروسا رکھ کر میں بیتابی سے اونچا ہونے کا انتظار کرنے لگا۔

میری بچپن کی یادیں فوٹو نکالنے کے اس زمانے کے بھی سیدھے سادے طریقے کے جیسی ہی ہیں! وقت کے ساتھ کچھ دھندلی ہو گئی ہیں، گھٹاؤں سے گھر گئی ہیں، تو کچھ ایک دم دھنک جیسی ست رنگی ہیں۔ کچھ تو بس صرف نیگیٹو جیسی ہیں، جس کی چھاپ کچھ وقت بعد ہی یادداشت پر اٹھتی ہے، اور کچھ یادیں تو پتا نہیں کہاں کھو گئی ہیں، بکھر گئی ہیں۔ ٹھیک اس فوٹو کی طرح جو اس فوٹوگرافر نے مجھے اور دادا کو چھوڑ کر نکالی تھی۔

لگاتار بہتی ہی جانے والی ندی کی دھارا کی مانند میرا جیون طوفانی رفتار سے آگے بڑھتا چلا گیا۔ ندی کی فطرت کی طرح ہی پورے جوش کے ساتھ کِل کِل کرتے آگے بڑھتے وقت کے ساتھ کہیں حسین ٹاپو بن گئے، کہیں خوفناک بھنور، تو کہیں بیچ دھارا میں اتھاہ ڈباؤ۔ جیون دھارا نے کبھی بڑے درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ دیا، کبھی کائی اور گھاس جھکتے گئے۔ کبھی کبھی تو جیون اچانک ایسے ایسے موڑ سے گزرا کہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے، آخر ان سب کا راستہ دکھانے والا کون ہے، کنٹرولر کون ہے؟اس جل دھارا کی اپنی تیز رفتار یا قسمت؟

فوٹو نکلنے کا یہ واقعہ تب پیش آیا جب ہم اس بڑے گھر کے ایک بڑے کمرے میں رہتے تھے۔ اب کچھ دھندلا سا یاد ہے، وہاں رہنے والے لوگ گاؤں گاؤں جا کر ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ میرے باپ راجارام باپو باباجی ونکوٹے کو وہ سب لوگ ’منیجر‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ میرے باپو ان لوگوں کے خیال میں بہت اہم شخص تھے۔ یہ لوگ ’شاردا‘ نامی ایک ناٹک کھیلا کرتے تھے۔ ناٹک میں میرا دادا شاردا کے چھوٹے بھائی کا کردار ادا کرتا تھا۔ ناٹک کا ایک سین آج بھی مجھے اچھی طرح یاد آتا ہے۔

شاردا کو شادی کے لیے پسند کرنے کے لیے کچھ لوگ آتے ہیں۔ وہ سوال کرتے ہیں، ’’بیٹا، تم کہاں تک پڑھی ہو ؟‘‘شاردا اس سوال کا ٹھیک ڈھنگ سے جواب دیتی ہے۔ پھر وہ لوگ اس کے چھوٹے بھائی سے بھی یہی سوال کرتے ہیں۔ تب دادا پیر کا انگوٹھا پکڑ، اسے ان لوگوں کے سامنے ترچھا ہلاتے ہوئے کہتا، ’’مجھے کُو…چھ بھی نہیں آتا۔ ‘‘ دادا کے اس پردرشن (مظاہرے) پر اور ’’کو…چھ (کچھ) بھی نہیں‘‘ کہنے کی ادا پر ناظرین ٹھہاکا مار کر ہنس پڑتے تھے۔ دادا کی جو پذیرائی ہوتی تھی اسے دیکھ کر میرے بھی من میں ناچار کچھ ویسا ہی کرنے کی خواہش جاگتی تھی۔

اس کے بعد، پتا نہیں کب، ہم لوگ کولھاپور آ گئے۔ آگے چل کر اس ناٹک کمپنی کا کیا بنا اور ہمارے باپو نے اسے کیوں چھوڑ دیا، میں نہیں جانتا۔ کولھاپور میں جوشی راؤ کا گنپتی کا ایک مندر ہے۔ اس کے پیچھے والی ایک تنگ سی گلی میں ہم لوگ رہا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں ہماری ایک موسی (خالہ) کا ہمیشہ آناجانا رہتا تھا۔ ہم لوگ اسے’’مائی‘‘ کہا کرتے تھے۔ آئی اور مائی سگی بہنیں تھیں۔ ویسے مائی کا نام رادھا تھا لیکن چونکہ وہ آئی سے بڑی تھی، آئی اسے ’’اکاّ‘‘ کہہ کر پکارا کرتی تھی، میری ماں کا نام کملا تھا۔ مائی کے سارے بچے پیار میں لاڈ سے میری ماں کو ’’ننو‘‘ کہہ کر پکارا کرتے تھے۔

میرے نانا کولھاپور میں وکالت کرتے تھے۔ ہم لوگ انھیں بابا کہا کرتے تھے۔ ہر روز کچہری سے لوٹتے وقت وہ سبزی منڈی سے ساگ سبزی لے آیا کرتے۔ میں کبھی کبھی ان کے ساتھ جایا کرتا تھا۔ سبزی بیچنے والیوں کے ساتھ وہ بہت زیادہ بھاؤتاؤ کرتے۔ کئی بار تو خود ہی تھوڑی سی زیادہ سبزی ان سے چھین کر اپنے جھولے میں رکھ لیتے۔ نتیجہ یہ رہا کہ بابا کو بازار میں آتا دیکھتے ہی سبزی والیاں منھ پھیر لیتیں اور آپس میں ایک دوسری کو ہوشیار کر دیتیں:’’وکیل آیا ری، وکیل آیا!‘‘ بابا ہم بچوں سے بہت پیار کرتے۔ ہر روز شام کے کھانے کے بعد وہ ہمیں اچھی اچھی کہانیاں سناتے اور تھپک کر سلاتے۔ ان کا اصرار رہتا کہ بچوں کو رات آٹھ بجے سے پہلے ضرور ہی سو جانا چاہیے۔

کسی کے یہاں سے بابا کو کھانے کا دعوت نامہ آتا تو ہم شرارتی بچے ان کے واپس آنے کا بڑی بیتابی سے انتظار کیا کرتے۔ ان دنوں رواج تھا کہ کسی کے یہاں دعوت پر کھانے کے لیے جانا ہو تو پینے کا پانی بھر لوٹا اور پیالہ ساتھ میں لے جانا چاہیے۔ لیکن بابا کے لوٹے میں کبھی پانی نہیں ہوا کرتا تھا۔ لوٹا بھی اچھا خاصا بڑا ہوتا تھا۔ اس خالی لوٹے میں بابا مٹھائی، جیسے لڈو، جلیبی وغیرہ، ہمارے لیے چھپا کر لے آتے۔ گھر لوٹتے ہی وہ ساری مٹھائی ہمیں بانٹ دیا کرتے۔ ہم لوگ بہت ہی آنند کے ساتھ ان چیزوں کا مزہ لیتے تھے۔

نانی کی شاید ایک ہی بات یاد ہے۔ یوں تو ایسا موقع یاد ہی نہیں آتا کہ انھوں نے کبھی لاڈپیار سے مجھے بیٹھایا ہو، کبھی دُلار سے سہلایا ہو۔ ہم لوگ نانی سے بہت ڈرا کرتے تھے۔ اس کی واحد یاد من میں بیٹھ گئی۔ وجہ اس کی کچھ نرالی ہی تھی۔ ہمارے باپو بیڑی پیتے تھے۔ جہاں تک ہو سکے وہ ہم بچوں کے سامنے بیڑی پینا ٹال دیتے تھے، پھر بھی ہم لوگ انھیں بیڑی پیتے دیکھ ہی لیتے۔ ان کی ناک سے بیڑی کا دھواں نکلتا۔ کم سے کم مجھے تو اس دھویں کے لیے بڑی کشش محسوس ہوتی تھی۔ باربار میں اپنے آپ سے پوچھتا، ’’کیا مزہ آتا ہو گا بیڑی کا کش لگانے میں؟‘‘ دوپہر کا وقت تھا۔ گھر میں سناٹا تھا۔ باپو کی پی کر پھینکی گئی بیڑی کا ایک ٹکڑا مجھے مل گیا۔ چولھے سے میں نے انگارہ نکالا اور وہ بیڑی سلگائی۔ طبیعت سے ایک زوردار کش لگایا ہی تھا کہ زبردست کھانسی آ گئی اور اس کے ساتھ ہی ایک کس کے جھانپڑ پڑا۔ پیچھے مڑ کر دیکھا۔ نانی یاد آ گئی۔ خود نانی جی غصے سے لال پیلی کھڑی تھیں۔ مجھے تو جیسے سانپ سونگھ گیا۔

’’بیڑی پینے لگا گدھے کے بچے! پیے گا پھر سے؟ لگائے گا ہاتھ بیڑی کو؟ بول!‘‘ کہتے ہوئے انھوں نے مار مار کر میرا حلیہ ٹائٹ کر دیا۔ ’’میں پھر بیڑی نہیں پیوں گا…نہیں پیوں گا بیڑی…‘‘ روتے روتے میں گڑگڑا کر بولا۔

بس، نانی کی یہی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ میں اسے کبھی بھلا نہیں پایا۔ تب سے آج تک اتنے سال بیت گئے، بیڑی یا سگریٹ پینے کا لالچ مجھے کبھی نہیں ہوا۔
معصوم بچپن میں کئی واقعات ایسے بھی ہو جاتے ہیں جو یادداشت پر پہیلی کی طرح نقش ہو جاتے ہیں۔ ان پہیلیوں کو بچہ بوجھ نہیں پاتا۔ اسی طرح کی ایک عجیب و غریب یاد ہے۔

باپو دوپہر دکان بند کر کھانا کھانے کے لیے گھر آتے تھے۔ وہ خود اپنے ہاتھوں سے کھچڑی پکاتے تھے، اس پر گھی، اچار، پاپڑ، چٹنی ڈال کر کھاتے۔ آئی اپنی بہت ہی مزےدار رسوئی اور نئی طرح کے کھانے بناتی تھیں۔ لیکن باپو ان کی بنائی رسوئی کبھی نہیں کھاتے تھے۔ ایسا کیوں، یہ بات کچھ بڑا ہو جانے کے بعد مجھے معلوم ہوئی۔

بات یہ تھی کہ باپو جین تھے اور اماں ہندو۔ دونوں کا بین المذہبی بیاہ ہوا تھا 1896 میں۔ کہنے کی بات نہیں، ان دنوں مذہب، مصلحت وغیرہ باتوں کا سماج، دل، ذہن پر زبردست اثر تھا۔ معمولی سے معمولی مذہبی یا سماجی بات کو لوگ بڑی باریکیوں سے دیکھتے پرکھتے تھے۔ ذرا سی لکیر سے ہٹ کر کسی نے کوئی بات کی اور سماج نے اس کے ساتھ روٹی پانی کا برتاؤ بند کیا۔ اس کا بائیکاٹ کر دیا۔

یہ سمجھو دستور ہی بن گیا تھا۔ ایسے زمانے میں بین المذہب بیاہ کرنا کتنے حوصلے کی بات رہی ہو گی۔ کولھاپور میں تو ایسی شادی ناممکن ہی تھی، اس لیے کولھاپور سے تیس میل دور شری دتّاتریہ کے پوتر مقام نرسوبا کی باڑی میں جا کر باپو نے یہ بیاہ کیا۔ صرف سماج کے لحاظ کی خاطر باپو اپنا کھانا الگ سے پکا کر کھاتے تھے۔

باپو اپنے دیوی دیوتاؤں کو مانتے، جین مذہب کے سب اصولوں کا پالن کرتے۔ آئی ہندو مذہب کے سبھی تیج تہوار مناتیں، اپنے سب دیوتاؤں کی پوجاپاٹھ کرتی کراتی، اپنے اصولوں کے مطابق برت وغیرہ رکھتی تھیں۔ لیکن اس بات کو لے کر باپو اور آئی کے بیچ کبھی کوئی ان بن نہیں ہوئی۔ ہمارے گھر کے اندر جو ایک پوجاگھر بنا تھااس میں آئی اور باپو دونوں کے دیوی دیوتا سُکھ سے رہتے تھے۔

صرف سماج کے خیال سے اپنایا ہوا وہ الگ کھانا پکانے کا اصول بھی وقت کے ساتھ باپو نے تیاگ دیا اور وہ ہم سب کے ساتھ آئی کے ہاتھوں کا بنا کھانا بڑے پیار اور سواد سے کھانے لگے۔ رسم و رواج کی زنجیر میں قید سماج میں رہتے ہوئے بھی باپو نے جس بےباکی کے ساتھ اس بین المذہبی شادی کو کامیابی سے نبھایا، وہ آج بھی دنگ کر دینے والی بات ہے۔ باپو کی یہ بےباکی آج صرف قابلِ تعریف ہی نہیں لگتی بلکہ آج بھی مجھے ان کی اس ترقی پسند روش پر فخر محسوس ہوتا ہے۔

کولھاپور میں مہادوار کے پاس ہی باپو نے ایک چھوٹی سی دکان لگائی۔ سہاگ سیندور، گھٹّی کا سامان، کھلونے وغیرہ چیزیں اس میں بیچنے کے لیے رکھی جاتی تھیں۔ تب میں پانچ برس کا ہو چکا تھا آئی نے مجھے پیار سے گلے لگا کر کہا، ’’دیکھو، شانتیا، کل سے تمھیں بھی اپنے بڑے بھیا کاشی ناتھ کے ساتھ سکول جانا چاہیے۔ ‘‘

میں نے پوچھا’’آخر کیوں؟‘‘
’’ میرے بیٹے، لکھنا پڑھنا سیکھنے کے لیے، ‘‘ آئی نے کہا۔
’’ میں نہیں جاؤں گا سکول!‘‘
’’وہ خود ہی تمھیں کل سکول میں داخلہ دلوا دیں گے!‘‘آئی نے سختی سے کہا۔ میں کافی بھنبھناتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

دوسرے دن سکول جانے سے پہلے رو رو کر میں نے سارا گھر سر پر اٹھا لیا۔ کافی اُدھم مچایا۔ لیکن ہم سب بھائیوں پر باپو کی دھاک جمی ہوئی تھی۔ انھوں نے دھمکاتے ہوئے کہا، ’’سنو شانتا رام، آج سے سکول جانا ہی پڑے گا۔ رونے دھونے سے کوئی فائدہ نہیں۔ سمجھے؟‘‘
باپو نے میرا بازو پکڑا اور ہم روتے میاں آنکھیں ملتے ملتے سکول پہنچا دیے گئے۔

ان دنوں سکول جوشی راؤ کے گنپتی مندر کے پاس ہی کسی سردار کے باڑے میں لگا کرتا تھا۔ سکول کا نام، ’ہری ہر سکول‘۔ مجھے کچی جماعت میں بٹھایا گیا۔ مجھے سکول میں چھوڑ کر باپو چلے گئے۔ اپنی حالت تو بس دیکھتے ہی بنتی تھی۔ بڑی قابلِ رحم حالت تھی۔ پاس ہی بیٹھے ایک لڑکے سے میں نے روتے روتے پوچھا:

’’یہاں کب تک بیٹھنا پڑتا ہے؟‘‘
’’ کوئی گیارہ بجے تک، ‘‘اس نے کہا۔
میں نے بہت ہی گڑگڑا کر پوچھا، ’’ گیارہ یعنی کتنے؟‘‘

اس لڑکے نے جھلا کر کہا، ’’ دیکھو سامنے گھنٹی رکھی ہے نا، وہ جب بجائی جاتی ہےتب گیارہ بجتے ہیں۔ سکول کی چھٹی ہو جاتی ہے۔‘‘
میں نے پاگل کی طرح سر ہلایا اور سکول کی زمین ناخن سے کریدتا بیٹھا رہا۔

گھنٹی بجی۔ سکول کی چھٹی ہو ئی۔ بھاگتے بھاگتے گھر ایسے پہنچا جیسے کانجی ہاؤس سے رہائی ملی ہو، اور ماں کی گود میں منھ چھپا کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ باپو دوپہر کو دکان بند کرکھانے کے لیے گھر آیا کرتے تھے۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام کیا کرتے تھے۔ میں نے آئی کے پاس ایک ہی رَٹ لگا رکھی تھی: ’’ میں پھر سے سکول ہرگز نہیں جاؤں گا۔‘‘

باہر سے باپو نے آواز دی: ’’ شانتارام، ذرا ادھر آؤ تو!‘‘

میں گھبرا گیا۔ سوچا، شامت آ گئی۔ ضرور دو چار چانٹے پڑنے والے ہیں۔ اسی گھبرائی کیفیت میں باہر دالان میں گیا۔ میرا خیال غلط نہیں نکلا۔ پر باپو نے مجھے مارا نہیں بلکہ پاس بیٹھا کر کمر سہلاتے ہوئے بولے:
’’دیکھو بیٹے! ہر شُکروار کو بھنے چنے کھانے کے لیے ہم تمھیں ایک پیسہ دیا کریں گے۔ لیکن تمھیں سکول ہر روز بنا روئے جانا ہو گا۔‘‘
کولھاپور میں آج بھی شُکروار (جمعے)کو مہالکشمی کو پرساد کے روپ میں بھنا چنا ہی چڑھایا جاتا ہے۔ باپو کہہ رہے تھے:
’’بیٹے، سکول جا کر لکھناپڑھنا سیکھنے پر آدمی بڑا بنتا ہے، سیانا بنتا ہے…تو کیا خیال ہے تمھارا؟ جاؤ گے نا سکول؟ اور دیکھو! چپ چاپ سیدھی طرح نہ گئے تو یہ دیکھا…؟‘‘

دیکھا، باپو نے چانٹا مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا تھا۔ میں ڈر گیا۔ باپو کا چانٹا کتنا سخت اور کرارا ہوتا ہے، میں جانتا تھا۔ ان کا چانٹا کھانے کے بجائے ہر جمعے کو بھنا چنا کھانے میں ہی خیر تھی۔ دوسرے ہی دن سے میں بنا کسی طرح روئے دھوئے سکول جانے لگا۔

ہر جمعے کو بھنے چنے کی خوراک شروع ہو گئی تھی۔ پھربھی کبھی کبھار سکول سے تڑی (چھٹی) مار جانے کی سنک مجھ پر سوار ہو ہی جاتی۔ پھر کبھی تو میرا سر اچانک درد کرنے لگتا۔ اس سر درد سے ایک پنتھ دو کاج ہو جاتے تھے، سکول جانے سے چھٹی مل جاتی تھی اور ماں کے ماہر ہاتھوں سے بنا میرا من چاہا گرم گرم نرم نرم حلوہ کھانے کو مل جاتا تھا۔ سر درد کا ظالم علاج ہونے کی وجہ یہ حلوہ آئی خالص گھی میں بناتی تھیں۔ بڑا میٹھا ہوتا تھا یہ حلوہ۔ گھر میں تو حالات ایسے تھے کہ ایسا حلوہ تیج تہواروں پر ہی بن پاتا تھا۔ لہٰذا حلوہ کھا کر کافی دن ہو چکنے پر میرا سر ضرور ہی درد کرنے لگتا۔ بخار، زکام کا سوانگ رچنا مشکل ہے، لیکن سردرد ہے یا نہیں، کون جان سکتا ہے؟ بہت دیر تک میں کراہتا رہتا۔ بیچاری آئی ہمدردی سے پوچھتیں:

’’شانتا، تھوڑا سا کچھ کھاؤ گے؟‘‘
’’اوو…نہہ!‘‘
پھر آئی اور بھی منتیں کرتیں۔ ’’تھوڑی سی کھیر لے لو نا ساگودانے کی!‘‘
ساگودانے کی کھیر کا نام لیتے ہی مجھے متلی آنے لگتی: با…ک ! گئے مارے!
اس کھیر کا نام سن کر آج بھی میرا ماتھا ٹھنکتا ہے۔ میں بسک کر کہتا، ’’وہ تو قطعی نہیں لوں گا۔‘‘
میرا کراہنا پھر دُگنے زور سے شروع ہو جاتا۔ آئی گھبرا کر کہتیں، ’’ارے کچھ تو کھا لو، ورنہ پِت (صفرا) کا قہر بڑھے گا۔‘‘
یہاں تھا کس کو پِت کا قہر، جو بڑھتا! لیکن سردرد کا اپنا ناٹک رنگ لاتا دیکھ کر میں اور بھی کراہتا ہوا بے چین آواز میں کہتا:
’’ بہت ہی زور دے رہی ہو ماں تو تھوڑا سا حلوہ ہی بنا دو۔ کھا لوں گا جیسے تیسے…‘‘
آئی فوراً ہی حلوہ بنانے کی تیاریوں میں جٹ جاتیں۔ گرم گرم حلوہ بھری کٹوری سامنے آتے ہی میرا آدھا سردرد جاتا رہتا اور کھا چکنے کے بعد پورا غائب ہو کر میں ایک دم چنگا پھرتیلا بن جاتا۔

لیکن کچھ ہی دنوں میں یہ سردرد اور وہ فرمائش کچھ زیادہ ہی بار ہونے لگی تو ماں کو شبہ ہو گیا کہ ہو نہ ہو، ضرور دال میں کچھ کالا ہے! اور میرا پول کھل گیا۔
حلوہ کھانے کے لیے للچایا وہ سردرد جب ایک دن پھر سے پیدا ہو گیا تو درد کے مارے میرے سر کی نسوں کے بجائے آئی کے ماتھے کی نسیں تن گئیں۔ تب تو انھوں نے میری وہ پٹائی کی، وہ پٹائی کی کہ حلوے کے بجائے اپنا حلیہ ہی ٹائٹ ہو گیا!

ویسے سکول میں ہونہار شاگردوں میں میری گنتی کبھی نہیں ہوئی۔ شاید زبان میں میری حالت اچھی رہی ہو گی۔ لگتا ہے خاص کر کتابوں میں دیے سبق کا پاٹھ میں زوردار آواز میں اچھی طرح کرتا تھا۔ گروجی ہمیشہ مجھے ہی کھڑے ہو کر سبق پڑھنے کے لیے کہتے تھے، اور شاگردوں سے کہا کرتے تھے، ’’ذرا دھیان سے سنو، سُسرو! سبق اس طرح پڑھا جاتا ہے!‘‘

گروجی کی طرف سے کی گئی تعریف سے میں پھولا نہ سماتا اور بڑی اکڑ کے ساتھ سبق پورا کر نیچے بیٹھتا۔ لیکن میں اچھا پڑھتا ہوں یعنی کیا کرتا ہوں، یہ بات یقینی طور سے اپنی تو سمجھ میں کبھی نہیں آئی۔

کچھ دنوں بعد باپو نے سہاگ سیندور کی وہ چھوٹی سی دکان بند کر دی اور مہالکشمی روڈ پر پنساری کی ایک بڑی سی دکان لگوائی۔ کرانے کا سامان بھی اس میں رکھا تھا۔ دکان پہلی دکان سے کافی بڑی تھی لیکن تب تک ہمارا کنبہ بھی بڑھ گیا تھا۔ میرے دو اور بھائی بھی ہو گئے تھے: رام کرشن اور اودھوت۔ ہماری اس نئی دکان میں اناج، گڑ، مونگ پھلی، مسالے، چائے اور چینی وغیرہ کئی چیزیں بیچی جاتی تھیں۔ کبھی کبھی چیجی (چیز) کے روپ میں ہم بچوں کو گڑ، پھلی دانے اور گال(کھوپڑے) کے ٹکڑے ملتے تھے۔میرا خیال ہے کہ شاید انہی دنوں میں میں نے ہری ہر سکول کی چوتھی جماعت پاس کی تھی۔ جیسا ان دنوں رواج تھا، چوتھی کے بعد انگریزی سکول میں داخلہ لینا پڑتا تھا۔ ہماری دکان سے ایک پرائیویٹ انگریزی ہائی سکول کے طالب علم کبھی کبھی سامان لے جایا کرتے تھے۔ ان کی پہچان سے مجھے انگریزی سکول میں داخلہ مل گیا۔ دادا بھی اسی سکول میں جاتا تھا۔
کچھ دن تو ٹھیک سے گزر گئے۔ فیس بھرنے کا دن آیا۔ باپو نے فوراً ہی فیس کے پیسے مجھے دے دیے۔ میں نے کوٹ کی جیب میں رکھ لیے۔ سکول شروع ہوا۔ کلاس ٹیچر تشریف لائے۔ ان کا نام تھا شری کھنڈے جی۔ ان کا سلوک ان کے نام جیسا ہی مدھر تھا۔ بہت ہی مامتا سے وہ باتیں کرتے تھے۔ سبھی لڑکے فیس بھرنے لگے۔ میں نے بھی اپنی فیس دے دی۔ میرے پیسے لیتے وقت شری کھنڈے جی نے کہا، ’’اچھا تم ہاف فری طالب علم ہو۔‘‘
میری سمجھ میں کچھ بھی نہیں آیا۔

دوپہرمیں لنچ بریک ہوئی۔ ہم لوگ ٹولی بنا کر کھڑے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ تبھی اچانک ہی ایک لڑکے نے پوچھا:
’’کیوں بھائی، بات کیا ہے؟ماسٹر جی نے تم سے فیس کے پیسے اتنے کم لیے؟‘‘
’’ مجھے کیا معلوم؟ پتاجی نے دیے، وہ سارے پیسے میں نے ماسٹر جی کو دے دیے۔‘‘
دوسرے لڑکے نے پہلے سے کہا، ’’تم بھی نرے بدھو ہو! ماسٹرجی نے کیا کہا تھا، تم نے سنا نہیں؟‘‘
’’کیا؟‘‘
’’کیا پوچھتے ہو؟ ارے وہ ہاف فری طالب علم ہے۔ اس کی آدھی فیس سکول نے معاف کر دی ہے۔‘‘
’’کیوں بھئی؟ سچ ہے؟‘‘ اس پہلے لڑکے نے پھر سوال کیا۔
میں چپ ہی رہا۔ وہ لڑکے آپس میں باتیں کر رہے تھے۔
’’ارے بھئی سکول ایسے بچوں کی آدھی فیس معاف کیا کرتا ہے جن کے ماں باپ غریب ہوتے ہیں۔‘‘

زندگی میں پہلی بار میں نے ’غریب‘ لفظ کا تجربہ کیا۔ آدھی فیس…غریب…غریبی ! یوں دیکھا جائے تو ہم لوگ دن میں دو بار سادہ ہی سہی، لیکن پیٹ بھر کر کھانا کھاتے تھے۔ ہمیں کبھی بھوکا سونا پڑا ہو، یاد نہیں۔ چھوٹاسا ہی سہی، ہمارا اپنا مکان تھا۔ کرائے کا بھلے ہی ہو، لیکن ہمارے سر پر چھت تھی، ایک آسرا تھا۔ پھر کیوں ہمیں غریب بتایا جا رہا تھا؟
ہاں، ایک بات آج بھی کچھ کچھ یاد آتی ہے۔ تھوڑا سا لگا ضرور تھا کہ ہو نہ ہو، ہمارے باپو کے پاس زیادہ پیسے نہیں تھے۔ اسی لیے شاید، دادا کے پرانے کپڑے یا اونچے ہو جانے اور تنگ ہو جانے والے کپڑے مجھے پہننے پڑتے تھے۔ ماں کے پاس میں اس بات کی شکایت بھی اکثر کیا کرتا تھا۔ ہمارے باپو بازار سے کپڑا بھی ایسا خرید کر لاتے تھے کہ وہ پھٹنے کا نام ہی نہ لیتا۔ میں بہت ہی ضد کر بیٹھتا تو پھر کسی تہوار پر مجھے نیا کپڑا مل جاتا تھا۔ یہی حال کتابوں کا تھا۔ دادا پاس ہو کر اوپر کی جماعت میں گیا کہ اس کی پرانی کتابیں مجھے دی جاتی تھیں۔ ہو سکتا ہے اسے ہی غریبی کہا جاتا ہو۔
لیکن غریبی کیا ہوتی ہے؟ اس کی جھلک مجھے مل گئی۔

کولھا پور میں مشہور کِرلوسکر ناٹک منڈلی آئی تھی۔ سبھی کلاکاروں کا قیام کولھاپور کے شِواجی تھیٹر میں تھا۔ ناٹک منڈلی میں فوٹوگرافر بھی تھے۔ باپو سے ان کی اچھی جان پہچان تھی۔ ایک بار باپو نے طے کیا کہ ہم بچوں کے ساتھ ایک فوٹو کھنچوایا جائے۔ فوٹو کے لیے ماں نے، اس کے پاس جو بھی ساڑھیاں تھیں، ان میں سے سب سے اچھی ساڑھی پہن لی۔ باپو کے کپڑے ٹھیک ہی تھے۔ جو بھی ہو، ہم سب لوگ بارات جیسی شان سے شواجی تھیٹر پہنچ گئے۔ ہمارے کپڑوں کا حال دیکھ کر ان فوٹوگرافر مہاشے نے ہم بچوں کو ناٹک میں راجکمار کا کام کرنے والے بچوں کے زری کا کام کیے مخمل کے کپڑے فوٹو کے لیے دلوائے۔ زری کی ٹوپیاں بھی دلوائیں۔ وہ کپڑے ہم لوگوں کو کچھ ٹھیک سے نہیں آ رہے تھے۔ بڑے اور کچھ ڈھیلے ہو رہے تھے۔ پھربھی انہی کپڑوں کو پہن کر ہم لوگ راجکماروں جیسے اکڑ کر فوٹو کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میرے من میں رہ رہ کر اُس پہلے فوٹو کی یاد آ رہی تھی۔ باپو نے تب کہا تھا، ’’ارے تم لوگ ہمارے جتنے اونچے نہیں ہو نا، اسی لیے فوٹو میں نہیں آ پائے ہو‘‘۔ لیکن آج بھی ہم میں سے ایک بھی بھائی باپو جتنا اونچا نہیں ہوا تھا، پھر بھلا ہماری فوٹو آج بھی کیسے آ سکتی ہے؟ میں نے آئی اور باپو کی طرف دیکھا۔ کرسیوں پر بیٹھ کر دونوں نے اپنی اونچائی ہمارے جتنی کر لی تھی، تاکہ ہم لوگ بھی برابر فوٹو میں آ سکیں۔

فوٹو کھنچوانے کے لیے ہمیں دیے گئے وہ سارے ملائم اور بھاری قیمت کے کپڑے ہم لوگوں نے بعد میں لوٹا دیے۔ صرف فوٹو کے لیے وہاں کے کپڑے پہن لینے میں ہم نے کوئی چھوٹاپن محسوس نہیں کیا۔ پھر سے اپنے ہمیشہ کے کپڑے میں نے پہن لیے۔ فوٹو کے لیے دیے گئے قیمتی کپڑے ہمیں کبھی نہیں ملتے۔ تو کیا اس کو غریبی کہتے ہیں؟…ہم لوگ غریب ہیں؟ سکول میں ملی وہ ہاف فیس… میرے من میں سوالوں کا انبار سا لگ گیا۔ ہمیشہ کی عادت کے مطابق ایسے سبھی سوالوں کا جواب دے سکنے والی ماں کے پاس جا کر میں نے پوچھا:

’’آئی، کیا ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’کیوں پوچھ رہے ہو یہ؟‘‘ ماں نے جواب میں سوال کیا۔

’’آئی، بتاؤ نا، سکول میں میری آدھی فیس معاف کس لیے کی گئی ہے؟ غریب لڑکوں کی ہی تو فیس معاف کی جاتی ہے نا؟ ہم لوگ غریب ہیں؟‘‘
’’ارے بابا، ہم لوگ غریب نہیں ہیں۔‘‘ آئی نے میرے سوال کا سیدھا جواب نہیں دیا۔
’’حال ہی میں باپو نے اتنی بڑی دکان جو کھولی ہے…‘‘ میری بحث جاری رہی۔

’’دیکھو، بات یہ تھی کہ پہلی دکان سے ہم لوگوں کا گزارہ نہیں ہوتا تھا، اس لیے اناج اور کرانے کی دکان لگائی ہے۔ اس کے لیے لوگوں سے کافی رقم ادھار لی ہے۔ تم ہی سوچو نا، تم ہو پانچ بھائی، سب کی کتابوں اور فیس کے لیے پیسہ کہاں سے لائیں؟‘‘

’’تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں ہمیشہ آدھی فیس میں ہی پڑھائی کرنی ہو گی؟ کلاس کے اور لڑکے پوری فیس دیتے ہیں۔ مجھے شرم آتی ہے اس آدھی فیس پر!‘‘
’’شرم آتی ہے نا؟ تب تو تم اچھی پڑھائی کر کے بہت بڑے آدمی بنو، تاکہ تمھیں اپنے بچوں کو آدھی فیس میں سکول میں داخل کرنے کے لیے مجبور نہ ہونا پڑے!‘‘

اتنا کہہ کر آئی گھر کے کام کاج میں جٹ گئیں۔ میری ماں ہمیشہ گھر کے کاموں میں لگی رہتی تھیں۔ چولھا چوکا، آٹا چکی، جھاڑنا پونچھنا، کپڑے دھونا، پانی بھرنا، سب کچھ وہ اکیلے ہی کرتی رہتیں۔ پوپھٹتے ہی ماں جب چکی پیسنے بیٹھتیں تو میری بھی نیند کھل جاتی اور میں بھی ہولے ہولے چکی چلانے میں ان کی مدد کرتا۔ وہ اوکھلی میں موسل چلاتیں تو میں بھی ان کا ہاتھ بٹاتا۔ برتن مانجھنے میں بھی میں ماں کی جو ہو سکے، بن سکے، اتنی مدد ضرور کرتا تھا۔

ہر مہینے ماہواری میں آئی چار دن ایک کونے میں بیٹھی رہتی تھیں۔ اُن دنوں وہ ہم میں سے کسی کو چھوتی نہیں تھیں۔ رسوئی بھی نہیں بناتی تھیں۔ ہمارے گھر میں اور کوئی عورت نہیں تھی۔ گھر کے سارے کام اور بھگوان کی پوجا کی پوری ذمےداری میرے اور دادا پر آ جاتی تھی۔ ہمیشہ کام میں لگی رہنے والی ماں اس طرح الگ کیوں بیٹھی رہتی ہیں، اس کا تجسس مجھے بہت تھا۔ ’’مجھے کوّا چھو گیا ہے، چار دن تک میرے پاس نہ آنا!‘‘

اس پر ایک دن آئی سے پوچھ ہی بیٹھا، ’’ہم لوگ جب کوّے کے پاس جاتے ہیں تو وہ اڑ جاتا ہے۔ تمھیں ہی وہ اس طرح بار بار کیسے چھو جاتا ہے؟‘‘
’’چپ بھی کرو اب! بیکار کے جھگڑے میں پڑے ہو۔ چلو جاؤ یہاں سے، جلدی جلدی چولھا جلاؤ اور لگ جاؤ کھانا بنانے میں۔‘‘

اس طرح ڈپٹ کر آئی مجھے دور بھگا دیتی تھیں۔ ضرورت پڑنے پر وہ دور سے ہی تیل، نمک، مرچ کتنی ڈالنی ہے، اس کا دھیان رکھتی تھیں۔ آگے چل کر کافی بڑا ہو جانے کے بعد معلوم ہوا کہ ماہواری کے دنوں میں پورا آرام دلانے کے لیے ہی عورتوں کو اس طرح اچھوتا بنا کر بیٹھانے کی روایت ہے۔

غرض کے مارے ہو یا عادت کی وجہ سے، آئی کو میں نے ہمیشہ کام میں لگا ہی دیکھا ہے۔ انھیں کبھی میں نے فرصت میں پایا ہی نہیں۔ درمیان میں تھوڑا وقت مل جاتا تو وہ سونے کے منکوں کو چھوٹے اوزار سے ٹھوک پیٹ کر گول بنانے کا کام کیا کرتی تھیں۔ اس کام میں میں بھی کبھی کبھی شامل ہو جاتا تھا۔ اس طرح سو منکے ایک جیسی شکل کے بنا کر سنار کو دینے پر کچھ پیسے مل جاتے تھے۔

آئی ہمارے لیے ہمیشہ ایک گانا گا کر سنایا کرتی تھیں۔ ’’چندر کانت راجہ کی کنیا سگون روپ کھنی… (چندر کانت راجہ کی بیٹی سگھڑ اور خوبصورت)‘‘ مجھے یہ گیت بہت پیارا تھا۔ کئی بار میں ان سے اسے سنانے کے لیے کہا کرتا تھا۔ ہماری ماں تھوڑی انگریزی بھی جانتی تھیں۔ میں انگریزی سکول میں جانے لگا، تو کبھی کبھی رسوئی بناتے بناتے بھی وہ مجھے میری ہی کتاب کے الفاظ معانی رٹوا دیتی تھیں:’’سی اے ٹی کیٹ یعنی بلی…آر اے ٹی ریٹ یعنی چوہا، ‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ ۔ لفظوں کے ہجے کرنے میں میری غلطی کو بھی سدھار دیتی تھیں۔

اب میں ہر روز سکول جانے لگا تھا۔ اس نئے سکول کی ایک یاد آج بھی تازہ ہے۔ ہمارے ساٹھے گروجی کی۔ وہ ہمیں مراٹھی پڑھایا کرتے تھے۔ ایک دن انھوں نے ایک نظم پڑھائی۔ انھوں نے اس نظم کو لے میں گا کر بھی سنایا اور اگلے دن اسے یاد کر کے آنے کا حکم دیا۔ ساٹھے گروجی نے اس نظم کو جس طرز اور لَے میں گایا تھا وہ کافی پرانی اور گھسی پٹی تھی۔ نظم کو یاد کرتے وقت اس طرز سے جی اکتا گیا۔ جی میں آیا، کیوں نہ ایک نئی طرز پر اسے گایا جائے؟

پتا نہیں کیسے، گنگناتے ہوئے اس نظم کے لیے ایک نئی طرز اچانک ہی میرے ہونٹوں پر آ گئی۔ گروجی کی طرف سے بنائی گئی طرز سے یہ طرز مجھے کافی اچھی لگی۔ بس پھر کیا تھا، میں نے من ہی من میں فیصلہ کر لیا۔ جماعت میں اس نظم کو نئی دھن دینے کی دھن دن بھر مجھ پر سوار رہی۔ میں کچھ نیا کر سکتا ہوں، اس خوشی میں جھومتا ہوا دوسرے دن سکول پہنچا۔ ایک طرح کے سپنے میں کھو گیا تھا کہ ساٹھے گروجی کے حکم پر میں نے اس نظم کو اپنی طرز پر گایا ہے، میرے دوستوں نے میری بہت بہت تعریف کی ہے، اور خود ساٹھے گروجی نے شاباشی دینے کے لیے میری کمر محبت سے تھپتھپائی ہے۔

مراٹھی کا سبق شروع ہوا۔ تین چار طالب علموں نے وہ نظم گا کر سنا دی۔ میری باری آئی۔ میں کھڑا ہو گیا اور اپنی بنائی نئی طرز پر اسے گانے لگا۔ کلاس کے سارے طالب علم مجھ پر ہنسنے لگے۔ میں نے ان کی طرف دیکھا۔ تبھی جانگھ پر ایک بینت سپک کر پڑی۔ میں ششدر رہ گیا۔ گروجی آگ بگولا ہوئے جا رہے تھے۔ آخر کیوں؟ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ ساٹھے گروجی چلّائے، ’’گدھے کے بچے ! ٹھیک سے سناؤ نظم!‘‘

سوچا، میری بنائی گئی طرز انھیں پسند نہیں آئی، اس لیے میں اپنی ہی ایک اور نرالی طرز پر نظم سنانے لگا۔ پھر لگاتار بینت پڑنے لگیں۔ دن میں تارے دکھائی دینے لگے۔ گروجی کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھتا دکھائی دیا۔ ان کی آواز بجلی کی طرح کڑکنے لگی۔ میں بھی ضد کر بیٹھا۔ میری بنائی گئی نئی طرز کو سراہنے کے بجائے گروجی مجھے پیٹتے جا رہے تھے۔ میں کھسیانا ہو گیا۔ اس نظم کو میں بار بار اور ہر بار ایک دم نئی طرز میں سنانے لگا۔ گروجی جھلاً اٹھے۔

’’مورکھ! میرا مذاق اڑاتے ہو؟ تمھاری یہ مجال؟‘‘
کہتے کہتے وہ دہاڑنے لگے اور ساتھ ہی مجھ پر بینتیں برساتے گئے۔ آخر ان کا ہاتھ رکا۔ شاید انھوں نے سوچا ہو گا کہ بہت پیٹ چکے اسے۔ پھر بھی ہاتھ میں بینت نچا کر انھوں نے پوچھا، ’’کیوں، اور چاہیے یا کافی ہو گیا؟‘‘
میں نے جبراً کہہ دیا، ’’کافی ہے۔‘‘ میں نے پٹائی سے ڈر کر ’’کافی ہے‘‘ نہیں کہا پر اس وقت مجھے چوتھی طرز نہیں سوجھی اس لیے میں چپ بیٹھ گیا۔ وہ بینتوں کی مار نا قابلِ برداشت ہو چکی تھی۔ میں کراہنے لگا۔
اس دن ساٹھے گروجی کے سامنے میں ہار گیا، لیکن آج جب اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو ضرور لگتا ہے کہ لکیر سے ہٹ کر کچھ نئی بَکُوات کر دکھانے کا نظریہ وہیں سےتو نہیں پھوٹا تھا؟
دن میں تارے دکھانے کی حدتک دھنائی پٹائی کرنے والے سخت مزاج ساٹھے گروجی کی طرح اَکّو گوالن کی یاد بھی من میں اتنی ہی تازہ ہو جاتی ہے۔ اَکّو گوالن بےسبب ہی میرے ساتھ ممتا بھرا سلوک کرتی تھی۔ اس کی ممتا بھری مورت آج بھی میری آنکھوں کے سامنے بیدار ہو جاتی ہے۔
ہماری کرانے کی دکان کا پہلا دن تھا۔ باپو نے پان سپاری کی چھوٹی سی تقریب کی تیاری کی تھی۔ ہم سب لوگ اس دن دکان پر گئے۔ تقریب ختم ہونے کے بعدمیں اکیلا ہی آرام سے ٹہلتا ہوا گھر لوٹ رہا تھا۔ تین چار مکان آگے جانے کے بعد میں نے دیکھا، چبوترا نما اونچی جگہ پر ایک چھوٹی سی دکان بنی ہے۔ اس میں ایک ادھیڑعمر عورت بیٹھی ہے۔ گول چہرہ، ماتھے پر روپے کی شکل سے بھی بڑے گول آکار کا خوبصوت سیندور، کالی سانولی، بھاری بھرکم جسم، سر پر پلاّ، یہ تھا اس ادھیڑعمر عورت کا روپ۔ اس کے سامنے ہی ایک مٹی کا بڑا سا برتن رکھا تھا۔ اس میں دہی تھا۔ کوئی گاہک آتا تو دہی بیچنے کے لیے اس گھڑے کا ڈھکنا کھولنے کی اس کی ایک خاص ادا تھی۔ وہ جھول کر ڈھکنا ہٹاتی، لکڑی کی کرچھی سے دہی نکالتی، گاہک کے برتن میں اسے ڈالتی، پیسے لیتی، چھنن کھنن آواز کرتی ہوئی اسے اپنے گلّے کے بکسے میں پھینکتی، اور پھر ڈھکنا گھڑے پر سِرکا دیتی۔ اسے دیکھ کر میں ریجھ گیا۔ بڑا مزہ آتا رہا۔ پتا نہیں کتنی دیر میں اس کی وہی ادا دیکھتا رہا۔ تھوڑی دیر بعد اس کا دھیان میری طرف ہوا۔ وہ ہنسی۔ سر ہلا کر اس نے مجھے پاس بلا لیا۔ پاس جاتے ہی اس نے پوچھا، ’’دے(دہی)کھاؤ گے؟‘‘

میں چپ ہی رہا۔ اس نے گھڑے میں سے کرچھی سے دہی نکالا اور بولی، ’’لیجو،بڑھاو ہاتھ۔ کاہے سرماتے ہو؟ لیجو بہوت بڑھیا دے (دہی) رہن ہمار۔‘‘(لو ہاتھ بڑھاو کیوں شرماتے ہو؟ لو بہت بڑھیا دہی ہے ہمارا۔)

شرماتے لجاتے میں نے ہاتھ آگے بڑھایا۔ اتنا گاڑھا دہی تھا جیسے پنیر کا ٹکڑا کاٹ کر ہتھیلی پر رکھ دیا ہو۔ میری پوری ہتھیلی بھر گئی۔ میں سارا دہی منٹوں میں چاٹ گیا۔ گھڑے کی کوری مٹی کی خستہ خوشبو سے دہی میں ایسا مزے دار ذائقہ آ گیا تھا کہ میں ہتھیلی چاٹتا ہی رہا۔ پھر اس کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں بڑی ممتا دکھائی دی۔ اس نے ہنس کر پھر سے پوچھا:

’’اچھا لگا؟‘‘
’’جی ہاں، بہت اچھا تھا۔‘‘
میں خوشی کے مارے اچھلتا کودتا پھاندتا گھر کی طرف دوڑا۔

دوسرے دن سکول جاتے وقت ہاتھ میں سلیٹ اور بستہ لیے میں اس کی دکان کے سامنے زبردستی کھڑا ہو گیا۔ اچھا ہو کہ اس کے اس گھڑے میں رکھا دہی پھر سے کھانے کو مل جائے۔ سامنے والا گاہک چلا گیا اور اس نے میری طرف دیکھا۔ اب تو میں بن بلائے ہی اس کے پاس گیا اور ہاتھ بھی پھیلا دیا۔ اس نے میری ہتھیلی پر دہی رکھا۔ میں نے دہی کھانا شروع کیا۔ ابھی ابھی جو گاہک چلا گیا تھا، اس کے منھ سے میں نے اس کا نام سن لیا تھا۔ لوگ اسے اَکّو گوالن کہا کرتے تھے۔ دہی کھا چکنے کے بعد قمیض کی آستین سے منھ پونچھتے ہوئے میں نے کہا:

’’آج تو دہی بہت ہی مزیدار تھا، اَکّو موسی!‘‘
موسی لفظ سنتے ہی اس نے فوراً مڑ کر میر طرف بڑے پیار سے دیکھا اور بولی:
’’کے نام ہے تمہارا، بچھوا؟‘‘ (تمہارا کیا نام ہے ،بچے ؟)
’’شانتارام۔‘‘
’’شانتارام، ہر روج یہاں آتے رہیو، بھلا؟‘‘ (شانتا رام ، روز یہاں آتے رہنا، ٹھیک ہے؟)

’’اچھا‘‘ کہتا ہوا میں سکول کی طرف بھاگ گیا۔ اس کے بعد ہر روز اَکّو موسی کے اس کالے گھڑے کا مزیدار دہی میں کھاتا۔ اب تو ہچکچاہٹ اور لحاظ بھی جاتا رہا۔ دکان پر کبھی بھیڑ ہو اور سکول جانے کے لیے مجھے دیر ہو رہی ہو تو میں ویسے ہی بغیر دہی کھائے بھاگتا۔ لیکن اَکّو موسی مجھے فوراً آواز دیتی اور اس جلدبازی میں بھی مجھے دہی کھلاتے بغیر چین نہ پاتی۔ آگے چل کر تو میں خود ہی اس کے سامنے ہتھیلی پھیلا کر دہی مانگتا جیسے وہ میرا حق ہو۔

ایک دن مجھے لگا، باقی سارے لوگ پیسے دے کر اَکّو موسی سے دہی لیتے ہیں، ایک میں ہی ایسا ہوں جو مفت میں دہی کھاتا ہوں۔ یہ غلط بات ہے۔ اس دن جمعہ تھا۔ باپو نے ہمیشہ کی طرح مجھے بھنا چنا کھانے کے لیے ایک پیسہ دے دیا تھا۔ اس دن بھنے چنے میں نے نہیں لیے۔ اَکّو ماسی کی دکان پر گیا اور ہتھیلی پر وہ ایک پیسہ رکھ کر اس کے سامنے کر دیا۔

’’ای کا کرت ہو بچھوا؟‘‘
’’اَکّو موسی، میں تم سے ہر روز دہی جو کھاتا ہوں، یہ لو پیسہ اس کا۔‘‘
وہ میری طرف نظریں گاڑ کر بولی، ’’تم ہم کا کس نام پکارت رہن؟‘‘ (تم ہمیں کس نام سے پکارتے ہو؟)
’’اَکّو موسی۔‘‘
’’تو اپنی موسی کے اِی ہاں کھانے پینے جاوت ہو نا؟ تب وا کو پیسہ دیہی ہو کا؟‘‘ (تو اپنی خالہ کے ہاں کھانے پینے جاتے ہو نا؟تب اس کو پیسے دیتے ہو کیا؟)
’’نہیں۔‘‘
’’تو ہمے کو پیسہ کاہے دیت ہو بچھوا؟ ہم کا بھی موسی کہت ہو نا؟‘‘ ( تو ہمیں پیسہ کیوں دیتے ہو، بچے ہمیں بھی تو خالہ کہتے ہو نا؟)
میں دیکھتا ہی رہا۔ وہ بولی:
’’چل بھاگ جا پگلے کہیں کو! موسی کو پیسہ دیوت ہے چھورو۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لئی جیا جاؤ، بھاگو۔ ‘‘ (چل بھاگ جا پاگل کہیں کا!خالہ کو پیسے دیتا ہے لڑکا۔ اسی پیسے کا بھونا چنا لو اور کھا جاؤ، بھاگو!)
میں بھنا چنا خریدنے کے لیے چلا گیا۔ واپس اس کے پاس جا کر میں نے کہا:
’’ہوں، یہ لو دیوی بھگوتی کا پرساد!‘‘

اور دونوں مٹھی بھر بھنے چنے اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اس نے صرف ایک ہی چنا اٹھا لیا اور ماتا بھگوتی کا نام لے کر اسے ماتھے پر لگا کر منھ میں ڈال لیا۔ اس کے بعد ہر جمعے کو میں اسے اپنے بھنے چنے میں سے کچھ چنے پرساد کہہ کر دیتا رہا۔

ایسی تھی وہ ممتا بھری اَکّو موسی! اس عورت نے مجھے پتا نہیں کیوں، بےسبب اتنا پیار دیا! وہ میری کون لگتی تھی؟ کیا لگتی تھی؟ رشتہ نہ ناتا، پھر بھی کتنی محبت بھری تھی اس کی ممتا۔ کتنی ممتا سے ہنستی تھی وہ۔ اس کا دیا وہ میٹھا، سفید پنیر جیسا گاڑھا دہی! اس کے دہی سے میری پوری ہتھیلی بھر جاتی تھی۔ کہتے ہیں سفر پر نکلے راہی کی ہتھیلی پر تھوڑا سا دہی دیتے ہیں، اس لیے کہ اس کی یاترا سپھل ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ جیون کے سفر کی شروعات کرتے وقت اَکّو موسی نے اتنے پیار اور ممتا سے میری ہتھیلی پر دہی رکھ کر میری لمبی جیون یاترا کا مبارک آرمبھ کر دیا تھا!

(جاری ہے)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لالٹین پر وی شانتا رام کی خود نوشت سوانح کا ترجمہ سہ ماہی “آج” کے بانی اور مدیر “اجمل کمال کے تعاون سے شائع کیا جا رہا ہے۔ اس سوانح کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔
[blockquote style=”3″]

انتساب: میں ترجمے کا یہ عمل دو ہستیوں کے نام کرتی ہوں، اپنے دادا ابو شوکت علی کہ انہوں نے اس ایلس کی راہ کے کانٹے چنے اور اپنی ہندی گرو مسز شبنم ریاض کہ جنہوں نے ایلس کو ایک نئی دنیا کا راستہ دیکھایا۔

[/blockquote]