Laaltain

دُکھ

نصیر احمد ناصر: دکھ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر ہے
زندگی کے ٹریسنگ پیپر پر
دکھ کبھی سیدھی، کبھی آڑی ترچھی
لکیریں بناتا ہے

ایک تاریخی واقعہ

حسین عابد: نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

نصیر احمد ناصر: نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں

کہیں ایک رستہ مِلے گا

نصیر احمد ناصر:کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!

ہمارے لوگ

میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے

پَونیا

نصیر احمد ناصر: مجھے مت پہنو!
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں

پرندے کے پیر پر

اندیشہ لیکن آنکھوں میں گھس کر دہرائے جاتا ہے
“منظر بدلا تو کیا ہو گا
خواب ہوا تو
ٹوٹ کے اور بھی کرچیں آنکھوں میں بھر دے گا
خواب نہیں تو
دھو لینے پر شاید سوزش بڑھ جائے گی

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظرنامہ

اکیسویں صدی کی شاعری کا منطر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔

چند سستے احوال

میں نے شہر پر 
زنا بالجبر کا مقدمہ دائر کر دیا ہے 
مگر میرے بھائیو 

اردو غزل کی نئی کتاب

اچھی کتاب پڑھنے سےبہتر مجھے کوئی کام نہیں لگتا، خاص طور پر تخلیقی کتاب۔اس میں سب سے بہتر بات یہ ہوتی ہے کہ آپ نئے خیالات سے واقف ہوتے ہیں۔

آخر اردو کیوں نہیں؟

ہمارے ہاں کسی بھی موضوع پر بات کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔

چھوٹی سی دنیا، ادبی دنیا ڈاٹ کام

اس وقت رات کے سوا گیارہ بجے ہیں، میں اس کوشش میں ہوں کہ کوئی اچھی تحریر، کسی تخلیق کار کا ناول، شعری مجموعہ یا پھر کوئی افسانہ ادبی دنیا پر چڑھا سکوں، یا پھر کوئی کارآمدتنقیدی و تحقیقی مضمون۔