Categories
شاعری

دُکھ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

دُکھ

[/vc_column_text][vc_column_text]

دکھ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر ہے
زندگی کے ٹریسنگ پیپر پر
دکھ کبھی سیدھی، کبھی آڑی ترچھی
لکیریں بناتا ہے
کبھی مخروطی، کبھی چوکور
کبھی اسپائرل
کبھی دائروں میں پھیلتا ہوا
اپنے ہی بےانت میں گم ہو جاتا ہے
کچھ لوگ سمجھتے ہیں
کہ محبت دکھ کو جنم دیتی ہے
لیکن محبت تو وہاں سے شروع ہوتی ہے
جہاں دکھ کی انتہا
پتا نہیں دکھ چھوٹا ہے یا محبت بڑی
میں تو اتنا جانتا ہوں
کتنا بےمایہ ہے وہ شخص
جس کے پاس ایک عورت کی محبت بھی نہ ہو
حالانکہ دکھ عورت ہے نہ محبت
دکھ تو ان دونوں کو
بیک سمَے ملاتا اور جدا کرتا ہے
جس طرح وقت ازل اور ابد کو
تو کیا دکھ ایک مثلث ہے
یا دو سطروں کے بیچ
بےراس دُوری کی ہمیشگی ۔۔۔۔۔۔۔ ؟

Image: Banksy
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ایک تاریخی واقعہ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ایک تاریخی واقعہ

[/vc_column_text][vc_column_text]

بہت لوگ نکلتے ہیں
پیالی میں بچا شوربہ چھوڑ کر
ہاتھ کا نوالہ رکھ کر
یا پیٹ پہ رکھا پتھر اٹھا کر
نعروں، خوابوں اور امید کے شور سے
پنڈال بھر جاتا ہے
پنڈال اغوا ہو جاتا ہے
سٹیج پہ کھڑا آدمی
ہائی جیکر نکلتا ہے
خواب دیکھنے والے
باسی شوربے کی پیالی میں گر جاتے ہیں
ایسا ہر چند برس بعد ہوتا ہے

Image: Paweł Kuczyński
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں نے شاعری کی انتہا دیکھ لی تھی!

[/vc_column_text][vc_column_text]

نانا جی کے ساتھ
کھیتوں میں کام کرتے ہوئے
برساتی ندی کے پار بیلے میں
بکریاں چَراتے ہوئے،
مکو کی جھاڑیوں کو چھیڑتے ہوئے
اور کیکر کی چھاؤں میں بیٹھ کر
اچار کے ساتھ روٹی کی سرشاری میں
نشیبی نالے سے پانی پیتے ہوئے
میں نے دیکھا شاعری کو
انتہا پر، اپنے اصلی روپ میں
ابتدا کا تو معلوم نہیں
تب پتا تھا نہ اب
لیکن انتہا کو پہلے دیکھ لینا
عینک کے بغیر
حقیقت کی بےلباسی میں، سر تا پا برہنہ
زنگی اور موت کے باہم آمیز نشے سے کم نہ تھا
نانا جی کی باتوں سے
میں نے خاموشی سیکھی
اور خدا کی نظمائی ہوئی فطرت سے
آسمانی گیتوں کی بازگشت
جو زمین کی سب سے نچلی تہوں سے پھوٹ رہی تھی
ابھی کسی ارسطو، کسی نیرودا کو میں نہیں جانتا تھا
اور کسی شاعر کا
میرے اندر ظہور نہیں ہوا تھا
فقط نانا جی تھے
اور میں تھا
اور اونچے نیچے کھیت تھے
اور ہوا تھی
اور بادل تھے
اور اچانک امنڈ آنے والی بارش تھی
اور ان سب کے درمیان
خواہ مخواہ پھیلی ہوئی
ایک اَن مَنی سی تنہائی تھی
جو تب سےاب تک
اُسی ایک پوز میں ٹھہری ہوئی ہے
جس پوز میں اسے کائناتی فریم کے اندر چپکایا گیا تھا
بس ہمارے منظر نامے بدل گئے ہیں
نانا جی ہمیشگی کی نیند سو چکے ہیں
اور میں ہموار ہوتی ہوئی آبائی قبروں سے دُور
اپنے نواسے کی انگلی پکڑ کر
قریبی پارک میں
اُسی کی طرح چھوٹے چھوٹے قدموں سے بھاگ رہا ہوں
اور شاعری کسی پلے لینڈ میں
کبھی نہ رکنے والاجھولا جھول رہی ہے !!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں

[/vc_column_text][vc_column_text]

میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں
جو وقت بے وقت
اپنی رانوں کو کھجلا سکتی ہو
جس کی ناک میں بال ہوں
جسے دھوپ میں پسینہ آئے
جس کے ہونٹ پیاس سے سوکھ کر
پپڑیوں کی شکل لے لیتے ہوں
جس کی بغل میں وہ خاکی لکیریں موجود ہوں
بالکل زندہ اور متحرک
جن پر کبھی کبھار کالک جم جاتی ہے
ایک ایسی لڑکی
جس کی کمر پر میری توقعات کا بھاری بوجھ نہ ہو
تھوڑی کے نیچے کسی تل کی گنجائش نہ ہو
ماتھا کشادہ نہ ہو
اور بال ناگن کی طرح ٹخنوں سے نہ ٹکراتے ہوں
مگر لگتا ہے
معاشرے میں ایسی لڑکیاں پیدا ہی نہیں ہوتیں
وہ چاند کے تھال میں جنم لیتی ہیں
دودھ کی ڈلیا میں مر جاتی ہیں
ان کی آنکھوں میں ہرنیوں کا سا قدرتی کاجل ہوتا ہے
کمر کسی جھولتی ہوئی نازک ڈالی جیسی
بال جنگل کی اداسی کی طرح بے انت
اور پتھروں پہ ڈالی گئی خراش کی طرح ان کی مانگ میں رہتا ہے سیندور
بلب کی طرح اگائی ہوئی ایک بندی
میں ایک ایسی لڑکی ڈھونڈ رہا ہوں
جس کا بدن محض خوشبو نہ ہو
جس کے پاس اپنے ہونے کی بھرپور بدبوئیں ہوں
اور وہ جعلی نہ ہو
میری طرح

Image: Pabelo Picasso
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

کہیں ایک رستہ مِلے گا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

کہیں ایک رستہ مِلے گا

[/vc_column_text][vc_column_text]

کہیں ایک رستہ مِلے گا
جہاں ہاتھ میں ہاتھ ڈالے ہوئے ہم
چلیں گے
طلسمی جہانوں کی جانب
ہوا سرسراتی ہوئی
پھول پتے اڑاتی ہوئی
گنگناتی ہوئی
ساتھ ہو گی
کبھی صبح ہو گی
کبھی رات ہو گی

 

کہیں ایک دریا خموشی سے بہتا مِلے گا
قدیمی درختوں سے کہتا مِلے گا
” مِرے سست رفتار پانیوں میں زمانوں کی تیزی ہے
میرے کناروں پہ آباد خوشحال شہروں کے نیچے
عجب آب و گِل کے جہاں ہیں
مِری تہ میں صدیوں کے دکھ ہیں
کوئی مجھ میں اترے تو جانے
مجھے پار کر کے تو دیکھے ۔۔۔۔۔۔۔ ”

 

مگر ہم چلیں گے
گھنے جنگلوں سے گزر کر
پہاڑوں کے اُس پار جائیں گے
درزوں، دراڑوں میں، غاروں میں جھانکیں گے
چلتے رہیں گے
جو شاداب سا راہ میں کھیت ہے
فصلِ تازہ سے لبریز ہے
اس کے نیچے
محبت کی کاریز ہے
جس کے دَم سے یہ ساری زمیں دل کی زرخیز ہے
تشنگی جسم کا بھید ہے، روح کا چھید ہے
فاصلہ ہے
یہاں سے وہاں تک بچھا ہے
خبر کیا کہاں تک بچھا ہے
کہیں ایک رستہ تِرے میرے قدموں کے نیچے چُھپا ہے
اسے طے کریں گے تو آگے بڑھیں گے ۔۔۔۔۔۔۔۔

 

کہیں ایک لمحہ ہے
عمروں کا حاصل ہے
بوسیدگی سے بھرا اک مکاں ہے
کسی یادِ کہنہ کا جالا ہے، مکڑی ہے
سانپوں کا بِل ہے
کہیں ایک صدیوں پرانی سی چکی ہے، ونڈ مِل ہے
جس کے گھماؤ میں
پانی ہے، پتھر کی سِل ہے
تِری سبز آنکھیں، مِرا سرخ دِل ہے !!

Image: Duy Huynh
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

ہمارے لوگ

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

ہمارے لوگ

[/vc_column_text][vc_column_text]

شاعرہ: Diane Burns
مترجم: نسیم سید

 

اب میری طرف دیکھو
اور بتاؤ
میرے مستقبل کے لئے
میرے پاس کیا ہے؟
ہم سب اپنے اپ سے جھوٹ بولتے ہیں
کہ ” ہم ٹھیک ہیں ”
لیکن ہماری روحوں کے کھلے ہوئے زخموں سے
لہو بہہ رہا ہے
ہم سب مل کے
اپنے اپنے زخموں کو سینے سے لگائے
چپ چاپ انہیں سہلا تے رہتے ہیں
لیس کورٹ اور ریلز کی برف پگھل رہی ہے
کینڈین گیز گھروں کی طرف لوٹ رہی ہیں
واشنگٹن سکوائر پارک میں
درختوں پر سبزہ پھوٹ رہا ہے
اور سبز جیکٹ والے فوجی
اپنی طاقت کا اشتہار بانٹ رہے ہیں
وہ ایک دوسرے سے سر گوشی کرتے ہیں
“جوڑ جوڑ ڈھیلے پڑچکے ہیں ”
” دیکھو۔۔۔۔۔۔ یہ جوڑ جوڑ سے ڈھیلے پڑ چکے ہیں ”
اور میں بنچ پر بیٹھی
سورج کے نکلنے کا انتظار کر رہی ہوں
مجھے اپنا گھر یاد آ رہا ہے
میں اپنے کھیتوں کی ہوا سو نگھ رہی ہوں
میری کلائی قید با مشقت جھیل رہی ہے
مگر میری انگلیاں بر چھی تراش رہی ہیں
قلم کی برچھی
مجھے اس برچھی سے
اپنے لوگوں کی جنگ لڑنی ہے

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی

[/vc_column_text][vc_column_text]

اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا
پوسٹ بکس پر گرا ہوا ڈھکن
میری چوری پکڑ لیتا ہے
شاید ناراض ہو جاتا ہے
میں کیوں کسی غیر مرد کو پکار رہی ہوں
نا جائز تعلقات کی سراسیمگی
مجھے کہیں بے دستور نا کردے
یہی تو شکایت ہے مجھے خود سے
اگر میری ڈاھڑی ہوتی تو
یہ پوسٹ بکس اتنا با دستور نا ہوتا
اور میں آزاد ہوتی

Image: Nick Bantock
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پَونیا

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پَونیا

[/vc_column_text][vc_column_text]

مجھے مت پہنو!
میں تمہاری مٹی جیسا شفّاف
اور تمہارے ریشم جیسا نرم نہیں
تمہاری محبت کا سینہ سڈول ہے
اور ٹانگیں لمبی
اور بازو پھیلے ہوئے
مَیں، چھانٹی کا مال،
تمہارے بدن پر پورا نہیں آؤں گا
کہیں نہ کہیں سے چھوٹا پڑ جاؤں گا!!

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
شاعری

پرندے کے پیر پر

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”2/3″][vc_column_text]

پرندے کے پیر پر

[/vc_column_text][vc_column_text]

اک اندیشہ چپکا ہوا ہے
پلکوں کو یوں جکڑے ہوئے ہے
جیسے آنکھوں میں سوزش ہو
کوئی علامت ہو آشوب کی
وہ سیّال ہو جس کے شر سے
آنکھیں مَلناٗ کھولنا مشکل تر ہو جائے۔۔۔
بس پلکوں کی درزوں سے کچھ روشنی باہر کی آتی ہے
ناکافی ہے۔۔۔
پھر بھی ناکافی منظر نے
دل کو تھپکی دے رکھی ہے
“سب اچھا ہے
اس کو اچھا ہی رہنے دو
باہر کی چبھتی کرنوں کو
آنا ہو تو آ جائیں گی
اندیشے کا مادّہ آنکھیں کھولنے سے جو روک رہا ہے
روکے رکھو
خواب سہیٗ پر خواب نہ توڑو
جب تک یہ ناکافی منظر دیکھ سکو
بس دیکھتے جاؤ”

 

اندیشہ لیکن آنکھوں میں گھس کر دہرائے جاتا ہے
“منظر بدلا تو کیا ہو گا
خواب ہوا تو
ٹوٹ کے اور بھی کرچیں آنکھوں میں بھر دے گا
خواب نہیں تو
دھو لینے پر شاید سوزش بڑھ جائے گی”

 

اندیشہ اب تک چپکا ہے
آنکھیں اب بھی بند نہیں ہیں
منظر اب بھی ناکافی ہے
خواب حقیقت جانے کیا ہے
سوزش تو بڑھتی جاتی ہے
اندیشہٗ آشوب کا چیلا
دھیرے دھیرے آنکھوں کو بھرتا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔۔

Image: Outburst of fear by Paul Klee
[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/3″][vc_column_text]
[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row][vc_row][vc_column][vc_column_text]

[/vc_column_text][/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

اکیسویں صدی کی غزل کا انفرادی و اجتماعی منظرنامہ

قسط اول
اکیسویں صدی کی شاعری کا منظر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔ دیکھا جائے تو شاعری کی نئی کھیپ کسی مخصوص فکر۔ تحریک یا نظریے کی پابند نظر نہیں آتی ہے۔ وہ اپنے تمام تر نطری و فکری بیانیے میں مکمل آزادی کی ظرف پیش قدمی کرتی نظر آتی ہے اور یہی آزادی وہ اپنے صوتی و فکری آہنگ کو بھی دینے کی قائل نظر آتی ہے۔آج کے شاعر نے اپنے بدن سے روایتی، گھسی پٹی کلیشے زدہ معاشرتی ، سیسی، نظریاتی، اور فکری پابندیوں کی ردا اتار پھینکی ہے۔ وہ موجودہ عہد سے اپنی فظری بالیدگی کے ساتھ سنجیدگی سے مکالمہ آراءہے۔ یہ مکالمہ کہیں اسے نفسیاتی کشمکش میں مبتلا کرتا اور کہیں اسے بے معنویت اور تہذیبی مغائرت کی دیواروں سے سر ٹکرانے پر اکساتا ہے۔آج کا شاعر اپنے اندر دبی ہوئی ان تمام چیخوں کو آواز دینا چاہتا ہے جنہیں کبھی قومیت کے نام پر، کبھی مذاہب کے نام پر، کبھی نطریاتی فریم ورک کے نام پر اور کبھی مفادات اور مصلحت کے نام پر دبایا جاتا رہا ہے۔
اکیسویں صدی کی شاعری کا منطر نامہ اردو شاعری کے افق پر ایک ایسی تشکیل کے عمل سے گزر رہا ہے جس کی بنیادوں میں جہاں مابعد جدید عہد کا اجماعی لاشعور کار فرما ہے وہیں انفرادی انسانی جبلتوں کے نقوش بھی بدرجہ اتم دیکھے جا سکتے ہیں۔
آج کے شاعر کے پاس بہت سے سوالات ہیں ان سوالات کی کوکھ سے جنم لیتا اضطراب اور بے چینی ہے شکستگی کا اظہار ہے ۔سماجی، فکری اور جنسی تفاوت کی فضا میں تصادم آمیز اظہاریہ سے احتجاج کا شعلہ بر آمد ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔ اس شعلے سے آج کی غزل سے برآمد ہوتے ہوئے معنیاتی کینوس پر معروف معانی سے غیر معروف یا غیر مانوس معانی کی بر آمدگی اپنی جگہ پر ایک الگ اکتشافی عمل کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔
اپنے سے ما قبل بیانیے سے مختلف ہونااس کے لیے ایک ضروری عمل کے طور پر سامنے آیا ہے،یہ اور بات کہ اس انفرادیت کے حصول میں وہ کہیں اپنی جمالیات کا سودا کرنے پر تیار ہے اور کہیں وہ اسے اپنی تخلیقی بازیافت کے عمل کا لازمی جزو مانتے ہوئے اسے روایت کے شعور سے منطبق کر کے اپنی تخلیقی پیشکش کا قائل ہے۔
آج کی شاعری میں موضوعاتی ، فکری اور نظری سطح پر جتنا تنوع نظر آتا ہے اس کے تحقیقی پس منظر کی تلاش بذات خود ایک فکری کلامیہ کو جنم دیتا ہوا نظر آتا ہے ۔۔ابہام، سریت، پر اسراریت، فرد کا ملال، تنہائی ، وجودی مسائل، مقامی تہذیبی استعارے و علامات، انسان ، تہذیب ، مابعد الطبعیاتی انفعالیت جیسے مختلف رجحانات ہماری روایت میں اپنے اپنے عصری منطرنامے کے زیر سایہ ایک محدود کینوس پر شعری اظہاریے کا حصہ رہے ہیں مگر آج کی شاعری میں یہ تمام رجحانات اپنی بھرپور تخلیقی بالیدگی اور شدت احساس کے ساتھ ایسے اظہاریے کی تشکیل کرتے ہیں جو ہمارے مابعد جدید عہد کے اجتماعی لاشعور میں نمو پذیر ہوتے فکری کلامیے کی جہات کو متعین کرتا ہے اور ان پر اپنے تخلیقی رد عمل بھی ظاہر کرتا ہے۔
ایک اور سظح پر ایک پہلو جو اکثر ہمارے سنجید قارئین کے ذہن میں اٹھتا ہے جو بہت اہم اور قابل توجہ ہے کہ نئی غزل میں آپ کو احساس اور لہجہ کی سطح پر انسلاک نظر آتا ہے اوراحساس کی سطح پر اجتماعیت کا پہلو نکلتا نظر آتا ہے اور یہاں آ کر وہ جدیدیت کے انفرادیت کے پہلو سے احساس کی سطح پر بغاوت کرتی محسوس ہوتی ہے شاید یہی احساس کی انفرادی پیشکش کا غیاب ہمارے بعض نئے لکھنے والوں کے مصرعہ سازی پر اثر انداز ہوتا ہے اور ایک تاثر یہ برآمد ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ایک ہم اہنگ اسلوب میں جکڑے لگتے ہیں اور ان شاعروں کی غزلیات سے اگر نام ہٹا لیا جائے تو ہم شناخت نہیں کر پاتے کہ کس کی نمائندہ غزلیات ہیں مگر یہ تاثر بہت بڑے پیمانے پر اجاگر نہیں ہو پاتا۔
ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔
ہماری شاعری پر تنقید کو دیکھا جائے تو آج کی نسل کا تخلیقی مقدمہ لڑنے کو کوئی سقہ بند نقاد تیار نظر نہیں آتا۔مخصوص لابیاں ہیں جن میں صرف انہی لوگوں پر بات کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے جو ان کی دادا گیری اور سلطنت عیاراں میں توسیع کا باعث بن سکتے ہیں۔ادب کو ہمارے نام نہاد ادبی حلقوں، آرٹس کونسلوں اور ابی اکیڈمیوں میں صرف محدود اشرافیہ کے نوازے ہوئے باسی مضامین کی جگالی کرتے چار چار پانج پانچ دہائیوں سے غاصبانہ قابض صرف انہی لوگوں کی لونڈی بنا دیا گیا ہے جن کی عیارانہ زنبیل میں بیس بیس سالوںسے ایک دو غزلوں یا نظموں کے سوا کچھ نہیں نظر آتا۔ ہر کانفرنس ہر تقریب ہر مشاعرے میں صرف انہی چہروں کی تقریب رونمائی سو سو بار کرا کرا کر ان کے اصل چہروں کو اتنا مسخ کر دیا گیا ہے کہ اب ان کو دیکھ کر لفظوں کو بھی گھن آتی ہے۔ دو تین معیاری رسالہ جات کے علاوہ نمائندہ ادبی رسالے جن کو ان جغادری ادیبوں اور بین الاقوامی ادبی تقریبوں کے منتظمین کی آشیرباد حاصل ہے ان میں کوئی چیز چھاپنے سے پہلے بھلے وہ کس تخلیقی کرب اور محنت سے لکھی گئی ہو، یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس چیز کے لکھنے والے کو سلظنت عیاراں کے کس بڑے پادری کی سند حاصل ہے اور یہ لکھنے والا کس لابی سے تعلق رکھتا ہے۔اسے بعض دفعہ مسلک ،بعض دفعہ نظریاتی وابستگی اور بعض جگہ مولویانہ پن ( دونوں انتہاؤں کا) اور کبھی زاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ (جاری ہے)
Categories
شاعری

چند سستے احوال

[vc_row full_width=”” parallax=”” parallax_image=””][vc_column width=”1/4″]
[/vc_column][vc_column width=”1/2″][vc_column_text]

چند سستے احوال

 

میں نے شہر پر
زنا بالجبر کا مقدمہ دائر کر دیا ہے
مگر میرے بھائیو
تمہاری آنکھوں میں شہوت انگیز لال ڈوریوں کو دیکھ کر
مجھے نہیں لگتا میں یہ مقدمہ
جیت سکوں گا
اب قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے
میں نے اپنے کمرے کی دیوار کو
سنگسار کر دیا ہے

 

شب نوشی کی عادت کی ماری ہوئی
ہماری نسل رات پی پی کر
بھیانک ہوگئی ہے
اور ادھر کچھ رات کے خنجر گھنٹے
اپنی لوری دھار
وجود کی شہرگ پر دان کر گئے ہیں
اسکی کاٹ
دھمال ڈال رہی ہے
رات کو میرا دربار اچھا نہیں لگتا
اس میں لگی غموں کی اینٹیں
جھوٹی ہیں
جعلی ہیں
رات صاحبِ کردار ہے

 

ننگا کاغذ
لفظ اوڑھ کر
اور بھی ننگا ہوگیا ہے
شیرنیوں نے اب کی دفعہ
لومڑیوں کے بچے جنے ہیں
یہ بچے لفظ کو لباس نہیں بنا سکتے
ان کی سستی وحشت
ہمارے سیارے کی کنڈلی میں
لکھ رہی ہے
بیٹوں کے ہاتھوں موت

 

میں بہت سے لفظ دفنا چکا ہوں
ان کی ہڈیاں
ابھی تک اینٹھ رہی ہیں
ان کی کوکھ میں سے نکلتے معانی
میرے جاگتے گھنٹوں کی
آسیبیت میں شامل ہوکر
ہجومی بے معنیت کا شکار ہوگئے
اور تمہیں بس یہ شکایت ہے کہ میں نے
ان کے قل پر
بریانی کیوں نہیں بنوائی

 

خدا
خدا خدا کر کے
تھک گیا تھا
ابھی سو گیا ہے ہے کچھ دیر
اس کی خالی کرسی کو
آدمی
آدمی کر رہا ہے
یہ لالچ
خوابوں کی
مشت زنی ہے
کردار
اور صاحبِ کردار میں
گز بھر کا
سمندرانہ فاصلہ ہے

 

کچھ بھی نہیں ہے یار
یہ کائنات ایسے زور لگا رہی ہے کہ جیسے
بچہ جن رہی ہو
اور میں اور تم بس اسی زور سے تنگ آکر
ایک لمحہ آگے بڑھ جاتے ہیں

[/vc_column_text][/vc_column][vc_column width=”1/4″]
[/vc_column][/vc_row]

Categories
نان فکشن

شبلی نعمانی شاعری اور شعریت: ایک جائزہ

شبلی کا ڈکشن جو اپنے عہد سے قدرے قدیم ہے اس کو شبلی نے اس طرح اپنی شاعری میں جذب کیا ہے کہ آج سو،ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس کا مطالعہ ہماری روانی کو متاثر نہیں کرتا
شبلی کے اردو کلیات کے حاصل مطالعہ کے طور پر یہ جملہ اتنا سٹیک ہے کہ اس ایک جملے میں کئی مضامین سما سکتے ہیں۔ میری بھی یہ ہی کیفیت تھی، شبلی کی اردو شاعری جس میں زور بیان اور ایک مختلف نوع کا تسلسل بڑے دلچسپ انداز میں یکجا ہوئے ہیں اس کو پڑھتے ہوئے حقیقتاً شاعری کے مطالعہ کا احساس ہوتا ہے۔ میں بعض دفعہ حیران بھی ہو اکہ شبلی کا ڈکشن جو اپنے عہد سے قدرے قدیم ہے اس کو شبلی نے اس طرح اپنی شاعری میں جذب کیا ہے کہ آج سو،ڈیڑھ سو سال بعد بھی اس کا مطالعہ ہماری روانی کو متاثر نہیں کرتا مثلاً صعب، زشت، حنظل، ناصبور، مسخر، خذف اور پرخچے جیسے الفاظ، فرق آسماں، خزینۃ البضاعت، خوں نابہ فشاں، کاسہ دریوزہ اور لطمہ خور زمانہ جیسی تراکیب کو اگر ہم اس زمانے میں بھی لطف اندوز ہو کر پڑھ رہے ہیں تو یہ بھی شاعری کا ہی کمال ہے۔ شبلی نے اور بھی کئی لفظ ایسے استعمال کئے ہیں جس میں سبھا، تھیٹر ، ایکٹر ، امیج ،ممبر ،منیجنگ کمیٹی وغیرہ کو شاعرانہ رنگا رنگی عطا کر دی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کسی ایسے شاعر جس کی شاعرانہ حیثیت مسلم ہو اس کے یہاں ان باتوں پر نظر کرنا اہم نہ ہو لیکن شبلی کے شعری مزاج کا جائزہ لیتے ہوئے ان باتوں کی طرف نگاہ کرنا بھی ضروری ہے۔ اس کی بنیاد ی وجہ یہ ہے کہ شبلی کی شعری صلاحیتوں کے اعتراف کے ساتھ اس کے عدم اعتراف کے جواز بھی بڑی حد تک موجود ہیں۔
شبلی نعمانی کی اردو شاعری پر ان کے انتقال یعنی ۱۹۱۴ ؁ء کے بعد سے اب تک بہت سے مضامین لکھے گئے ۔ ان کی شخصیت پر بھی جتنے لوگوں نے کام کیا ہے انہوں نے کہیں اجمالاً اور کہیں تفصیلی انداز میں ان کی شاعری کا بھی جائزہ پیش کیا ہے ۔ ایسی کئی شخصیات ہیں جن ہیں مولانا ابو الکلام آزاد، سید سلیمان ندوی ، سید صباح الدین عبدالرحمن ، جمیل جالبی، ظفر احمد ، مرزا محمد بشیر اور شمس بدایونی وغیرہ کا شمار ہوتا ہے، جنہوں نے مولانا کی شاعری پر اپنی اپنی رائے دی ہے ، اس کے علاوہ بھی نہ جانے کتنے ایسے مضامین اور موضوعات ہیں جن پر بحث کرتے ہوئے شبلی نعمانی کی شاعری پر اظہار خیال کیا گیا ۔ مثلاً ’کلیم الدین احمد ‘نے ’اردوشاعری پر ایک نظر‘ میں شبلی کی اردو شاعری پر بات کی ہے۔ اسی طرح جدید اردو نظم : نظر یہ و عمل میں پروفیسر عقیل احمد صدیقی نے حالی اور آزاد کے ضمن میں شبلی کی اردو شاعری کا تذکرہ کیا ہے۔ مورخین کا کیا ذکر کہ رام بابو سکسینہ جیسے کئی مورخین کو شبلی کی شاعری کے تعلق سے ایک رائے دینا ضروری معلوم ہوا، لیکن جمیل جالبی نے اس سلسلے میں اہم اور دلچسپ گوشہ اپنی تاریخ ادب اردو جلد چہارم ، حصہ دوم میں تحریر کیا ہے۔اسی سلسلے کی ایک کڑی منظر اعظمی کی کتاب ’اردو ادب کے ارتقا میں ادبی تحریکوں اور رجحانوں کا حصہ‘ بھی ہے جس میں شبلی کی شخصیت اور شاعری پر منظر اعظمی صاحب نے چند صفحات رقم کیے ہیں۔
میں نہ شاعر ہوں نہ میں نے کسی شاعر سے اصلاح لی ہے ، یہ جو کبھی کبھی موزوں کر لیتا ہوں، شاعری نہیں تفریح طبع ہے۔
بہر حال میں نے شبلی کی اردو شاعری اور اس پر ان کے ان چند ناقدین کی آرا کا مطالعہ کیا جو وقتا فوقتا ضبط تحریر میں آتی رہی ہیں، تو مجھے محسوس ہوا کہ ان کے تمام ناقدین ان اس امر میں مجبور محض ہیں کہ ’ شبلی کی شاعری پر صرف تاریخی ، مذہبی اور سیاسی انداز کی گفتگو کی جائے ‘۔ جس کے تحت شبلی اور ان کے دور کے تمام حالات کا جائزہ لیا جائے اور اسی تناظر میں ان کی اردو شاعری کے معیار اور مرتبے کو اجاگر کیا جائے۔وہ ناقدین حق بجانب بھی ہیں کہ شبلی کی شعری بساط کچھ ہے بھی ایسی کہ ان کی شاعری پر اس طرح کی گفتگو کے علاوہ کسی قسم کی بات کرنا مہمل تصور کیا جائے گا۔ بعض ناقدین نے شبلی کی اردو شاعری سے بحث کرتے ہوئے خود شبلی کی اپنی رائے جو انھوں نے اپنی شاعری کے متعلق تحریر کی تھی، اسے سامنے رکھ کر ان کی شاعری کا تجزیہ کیا ہے۔ شبلی کی اپنی رائے خود ان کی شاعری کے بارے میں کہاں تک درست ہے؟ اس سوال سے اگر الجھا جائے تو شبلی کو غیر شاعر قرار دینے میں کچھ دیر نہ لگے گی ۔ کیوں کہ اگر کوئی شخص اپنی شاعری کے تعلق سے یہ رائے رکھتا ہو کہ :
‘میں نہ شاعر ہوں نہ میں نے کسی شاعر سے اصلاح لی ہے ، یہ جو کبھی کبھی موزوں کر لیتا ہوں، شاعری نہیں تفریح طبع ہے۔’
شاعری تفریخ طبع نہیں، بلکہ مافوق الفطری کائنات کا رمز ہے اور اس عالم بالا سے اس فن شاعری کا اشتقاق سے جہاں سے خیال عدم وجود سے وجود میں آتا ہے۔
(صفحہ نمبر :۳۴۱ ، جلد نمبر :۱ ، مکاتیب شبلی ، بحوالہ مضمون :شمس بدایونی)
تو اس تفریح طبع کو کیوں کو شاعری تسلیم کیا جائے۔ جب کہ ہم نے اپنے متقدمین کے منہ سے ‘شاعری جزواست از پیغمبری ‘اور ‘شعر انتہا العلوم کا نام ہے’ جیسے مقولے سنے ہیں ۔ ہم تو شاعری کو بصورت ساحری گردانتے ہیں اور وہ بھی ایسا سحر جس کے آگے بنگال کا جادو بھی ہیچ ہے ۔ متقدمین کی تو خیر جانے دیجیے ہمارے تو متاخرین میں بھی ایسے کئی ادیب ہیں جو شاعری کو زندگی اور لفظ کے باطنی معاملا سے نبرد آزما قرار دیتے ہیں ۔’ انیس ناگی ‘ کی کتاب ’ شعری لسانیات‘میں ایسے مباحث مل جائیں گے۔ جو لوگ غالب ؔ کے تفریح طبع والے جملے کو شبلی ؔ کے تفریح طبع والے جملے سے ملاتے ہیں جس میں ایک مثال شمس بدایونی صاحب کی بھی ہے تو ان کو یہ خیال کرنا چاہئے کہ غالب ؔ نے اپنے اردو کلام کی سنجیدگی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ یہ غالبؔ ہی کا شعر ہے کہ :

 

جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں ہو نہ رشک فارسی
گفتہ غالبؔ ایک بار پڑھ کر اسے سنا کہ یوں

 

غالب ؔ کی مثال ایسے معالات میں کیا دی جائے کہ اردو ہو یا فارسی غالبؔ ہر دو لحاظ سے غیر معمولی ہیں ۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ شاعری تفریخ طبع نہیں، بلکہ مافوق الفطری کائنات کا رمز ہے اور اس عالم بالا سے اس فن شاعری کا اشتقاق سے جہاں سے خیال عدم وجود سے وجود میں آتا ہے۔ ایسے مباحث کا یہ مقام نہیں لیکن متن کے وسیع تناظر پر بات کی جائے تو کسی بھی شعر کو تفریح طبع نہیں کہا جا سکتا ۔اس ضمن میں شبلی اور شبلی کے ناقدین سے بالکل ایک جیسا صحو ہوا ہے۔جس طرح شبلی نے اپنی شاعری کو تفریح طبع جانا اسی طرح ان کے ناقدین نے بھی ان کی شاعری کو ایک خاص طبعی احاطہ تک محیط رکھا ۔ اس کے پس پردہ ہمارے ناقدین کا وہ سلجھا ہوا رویہ بھی کار فرما ہے جو کسی بھی قسم کے الجھاو میں پڑ کر متن کی عجیب و غریب تو جیہات تک پہنچنے کو بیکار محض سمجھتا ہے۔
علی گڑھ تحریک نے زبان و ادب کو جس طرح نئے تناظر میں دیکھنے کی بنا ڈالی اس سے اردو کے کلاسیکی شعری رویہ سے اختلاف تو کیا گیا لیکن سر سید نے جس پر اعتماد طریقے سے شعر و ادب کا جدید لائحہ عمل ترتیب دیا اس سے قدیم شعری روایت سے انحراف کرتے ہی بنا ۔
خیر اب میں اپنے موضوع پرآتے ہوئے شبلی کی اردو شاعری میں شعریت کے پر چند باتیں عرض کئے دیتا ہوں، لیکن کلام شبلی کی شعریت سے کسی نوع کی بحث کا آغاز کرنے سے قبل شعریت کے مفہوم کی وضاحت پیش کر دینا بہتر ہے۔
‘ شعریت سے مراد کلام منظوم کی وہ خصوصیت ہے جو اسے شعر کا درجہ دیتی ہے ۔ جذبے کا گداز ، فکر و احساس کی لطافت اورپیرایہ بیان کی خوبی شعریت کے بنیادی عنصر ہیں ۔ شعری روایت بھی اس سلسلے میں موثر کردار ادا کرتی ہے۔ یوسف حسین خاں لکھتے ہیں: ’ شعریت تخلیقی فکر اور جذبے کی ہم آمیزی کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ دونوں جزو مل کر حسن ادا کی صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں جس کا انحصار بڑی حد تک تجربے کی صداقت اور اصلیت پر ہوتا ہے۔
(صفحہ نمبر : ۱۱۰، کشاف تنقیدی اصطلاحات، ابو الاعجاز حفیظ صدیقی ، مقتدرہ، پاکستان)
شعریت کے اس مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ شعری روایت بھی شعریت کے باب سے ہی تعلق رکھتی ہے۔اب اس شعری روایت سے شارح کی کیا مراد ہے اس سے قطع نظر ہم شبلی کو جس شعری روایت کا امین قرار دیتے ہیں وہ اپنے عہد کا جدید ترین شعری رویہ تھا ۔ علی گڑھ تحریک نے زبان و ادب کو جس طرح نئے تناظر میں دیکھنے کی بنا ڈالی اس سے اردو کے کلاسیکی شعری رویہ سے اختلاف تو کیا گیا لیکن سر سید نے جس پر اعتماد طریقے سے شعر و ادب کا جدید لائحہ عمل ترتیب دیا اس سے قدیم شعری روایت سے انحراف کرتے ہی بنا ۔ شبلی جن شعری روایات کو آگے بڑھانے میں عمر بھر کو شاں رہے اس کا آغاز پنجاب میں انجمن پنجاب کے اس مشاعرہ سے ہوتا ہے جسے ۱۸۷۴ ؁ میں کرنل ہالرائیڈ کی ایما پر مولانا محمد حسین آزاد نے منعقد کیا تھا۔ آزاد اور حالی اس روایت کی اولین کڑیاں ہیں ۔ ان دونوں شعرا نے اپنے فورا بعد آنے والی نسل کو بڑی حد تک متاثر کیا ۔ اس میں ایک شبلی ہی نہیں ان کے علاوہ بھی کئی نام شمار کئے جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پروفیسر عقیل احمد صدیقی لکھتے ہیں کہ :
شبلی نے صرف اپنے اشعار ہی نہیں بلکہ ان مقالات اور ان کتب و رسائل میں بھی اپنے جذبات کی گدازی کو روا رکھا ہے جو نظم کے مقابلے نثر میں تب تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کسی کو اپنے محرک سے شدید قلبی وابستگی نہ ہو ۔
‘آزاد اور حالی نے نظم جدید کا جو بھی تصور پیش کیا اس نے انیسویں صدی کے اختتام تک ہی نہیں بعد تک کے نظم نگاروں کو بھی متاثر کیا ۔ ان کے معاصر نظم نگار شعرا کے علاوہ وہ شعرا بھی جو بیسویں صدی کے اوائل میں سامنے آئے ، حالی اور آزاد کے شعری اصولوں کی پیروی کرتے رہے ۔ اسمعیل میرٹھی ، شبلی ، شوق قدو ائی ،وحید الدین سلیم ، نظم طبا طبا ئی ، سرور جہاں آبادی ، نادر کاکوروی ، چکبست اور اکبر وغیرہ اہم ہیں ۔ ان شاعروں نے زیادہ تر ایسے موضوعات پر نظمیں لکھنا پسند کیا جن سے اخلاقی اصلاح ہو سکے یا جو عام لوگوں میں قومی جذبہ بیدا ر کر سکے یا پھر ایسی نظمیں جن میں مناظر فطرت کی عکاسی کی گئی ہو ۔ یہ پورا دور بنیادی طور پر ’’ موضوعاتی شاعری ‘‘ کا دور تھا ۔’
(صفحہ نمبر : ۳۱ ، جدید اردو نظم : نظریہ و عمل ، مصنف : عقیل احمد صدیقی )

 

شبلی نے جس شعری روایت کو اپنا یا اس کے حسن و قبح سے ہمیں بحث نہیں ، بحث اس بات سے ہے کہ شبلی نے اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے شعریت کے بنیادی اصولوں یعنی جذبے کا گداز ، فکر و احساس کی لطافت اور پیرایہ بیان کی خوبی وغیرہ کو کس حد تک تھامے رکھا ہے؟ شبلی موضوعاتی شاعری کریں یا غیر موضوعاتی، علی گڑھ تحریک کے لئے شعر کہیں یا جامعہ عثمانیہ تحریک کے لئے شعر میں شعریت کتنی ہے یہ دیکھنا ہر اس قاری کو مقصود ہے جو شبلی کے اردو کلیات کا مطالعہ کرتا ہے۔ شبلی نے صرف اپنے اشعار ہی نہیں بلکہ ان مقالات اور ان کتب و رسائل میں بھی اپنے جذبات کی گدازی کو روا رکھا ہے جو نظم کے مقابلے نثر میں تب تک پیدا نہیں ہو سکتی جب تک کسی کو اپنے محرک سے شدید قلبی وابستگی نہ ہو ۔ شبلی کے اردو کلیات میں جس طرح کا کلام بھرا پڑا ہے اس سے اس امر کا ثبوت بہر طور فراہم ہوتا ہے ۔ رہی فکر و احساس کی لطافت تو اس کا انحصار شبلی کے ہرا س قاری کے لئے جدا جدا ہے جو شبلی کی شاعری کو اپنے فکر و احساس کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ ہمیں یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ لطافت سے مراد کثافت کی ضد نہیں بلکہ یہاں اس عمدگی اور خوبی کی بات ہو رہی ہے جس سے شعر کے فکری اور حسی نظام میں بلاغت پیدا ہوتی ہے۔ شعر جب اپنے شعوری یا غیر شعوری محر کات سے جنم لیتا ہے تو سب سے پہلے قاری اور سامع کا تاثر اسی لطافت سے پیدا ہوتا ہے، کسی بھی شعر میں جب تک فکر و احساس کی لطافت پر غور نہ کیا جائے تب تک شعر میں تاثر کی کمی کا احساس کار گر رہتا ہے۔ غور سے مراد بھی یہ ہی ہے کہ غیر شعوری عمل کے بجائے شعر میں الفاظ کی نشست و برخاست اور لفظ کے حذف و اضافے کو شعوری کوششوں سے بہتر بنایا جائے کہ شعر کو بہتر سے بہتر شکل مل سکے ۔ شبلی ان معاملات میں مجھے ذاتی طور پر کچھ کاہل نظر آتے ہیں، انہوں نے یک گنا تساہلی کا مظاہرہ نہ کیا ہوتا تو ان کا شعری منظر نامہ قدر بہتر ہو سکتا تھا۔ اس معاملے میں شبلی سے کیوں چوک ہوئی اس کے تعلق سے تو کچھ نہیں جا سکتا ،لیکن کہاں چوک ہوئی اس پر بات ہوسکتی ہے۔ شبلی کے اشعار کا جائزہ لیا جائے تو بہت سے ایسے شعر نظر آتے ہیں جن میں شبلی نے اس فکر و احساس کو بلندی عطا کی ہے ۔ لیکن ان اشعار کی تعداد اتنی کم ہے کہ ان کو شعریت کی موجودگی کی دلیل بنانا مشکل ہے ۔ اگر چہ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ کسی شاعر کے ایک شعر میں بھی اپنے قاری کو متاثر کرنے بھر کی شعریت موجود ہو تو اس کے کلام میں شعریت کے عنصر سے انحراف نہیں کیا جاسکتا پھر بھی میں شبلی کے کل اردو کلام کا جائزہ لیتے ہوئے اس نتیجے پر نہیں پہنچتا کہ ان کے کلام میں شعریت ان اعلی اوصاف کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے جس کو شعریت کی موجودگی کے لئے کافی سمجھا جائے ۔ شمس بدایونی نے بھی شبلی پر اپنے مضمون میں اس لطافت کا ذکرکیا ہے جس کو شعریت کا ایک جزو قرار دیا جاتا ہے پروہ ذکر اتنا ناقص ہے کہ اس پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی۔ فرماتے ہیں :
شبلی نعمانی کے اشعار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ شبلی جو بنیادی طور پر ایک متکلم اور مورخ تھے انہوں نے اپنے اشعار میں اسی پیرایہ بیان کو روا رکھنے کی کوشش کی ہے جوان کے موضوعات نے ان کے ذہن پر ترتیب دیئے تھے
شبلی کے اردو کلام کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ۱۸۸۳ ؁ سے پہلے کا دور جس میں صرف چند اشعار دستیاب ہیں جو کلیات میں شامل نہیں اور مابعد ۱۸۸۳ ؁ ء تا ۱۹۱۴ ؁ء ۔ یہ تمام کلام کلیات کی صورت میں موجود ہے۔ ۱۸۸۳ ؁ ء اور ۱۸۸۴ ؁ء میں کہی جانے والی غزلوں میں وہ تمام لوازم ملحوظ رکھے گئے ہیں جو اس دور کی غزل یا بہ الفاظ دیگر حسن و عشق کی روایتی شاعری کے لئے مخصوص ہیں ۔ خیال بندی ، معاملہ بندی، شوخی اور خود سپردگی کا اظہار جا بجا ملتا ہے ۔ تغزل کا رچا ہوا روایتی اسلوب ان غزلو ں میں نمایاں ہے۔ کہیں کہیں فارسی لطافت کی بھی جلوہ گری ہے۔
(صفحہ نمبر ۲۰۹ ، شبلی بحیثیت اردو شاعری ، ڈاکٹر شمس بدایونی )
اس کے علاوہ شمس صاحب نے اپنے پورے مضمون میں شبلی کے اشعار میں لطافت کے موضوع پر کہیں بحث نہیں کی ہے ۔ فارسی لطافت سے ان کی مراد کیا ہے اس کو جاننے کے لیے شبلی کے فارسی کلام کا جائزہ لینا ہوگا ۔ پھر اس جملے کے تعلق سے کوئی رائے دی جا سکتی ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی کرتا چلوں کہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شبلی نے فارسی میں اردو سے بہت زیادہ شعر کہے ہیں۔ اردو میں ان کے اشعار کی کل تعداد حد سے حد، سات سو ہوگی جبکہ فارسی اشعار کی تعداد اس سے دو گنا سے بھی بہت زیادہ ہے اس سلسلے میں ظفر احمد صدیقی فرماتے ہیں :
شعر کہنا شبلی کو آتا ہے پر شعریت کے لازمی اجزا کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ان کے کلام کو اس نہج پر کلام نہیں کہا جاسکتا جن بنیادوں پر میر ،غالب ، انیس ، اقبال اور فیض وغیرہ کے کلام کو کلام کہا جاتا ہے۔
‘ایک محتاط انداز ے کے مطابق شبلی نے کم و بیش پانچ ہزار شعر کہے ہیں اور تقریبا تمام اصناف سخن میں طبع آزمائی کی ہے، چنانچہ ان کے یہاں غزلیات، قصائد، مثنوی، مراثی، مسدس، ترکیب بند، قطعات اور جدید منظومات سبھی کے نمونے ہیں۔ انہیں یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اردو کے علاوہ فارسی میں بھی انہوں نے قابل قدر شعری آثار یاد گار چھوڑے ہیں۔
(صفحہ نمبر : ۷۵،۷۶ ، شبلی ، ظفر احمد صدیقی )
بہر کیف فکر و احساس کی لطافت کے بعد جو چیز بچ رہتی ہے وہ ’پیرایہ بیان ‘ ہے۔ یہ اتنا پیچیدہ معاملہ ہے کہ اس کے اثبات اور انکار دونوں کے تعلق سے کوئی فیصلہ دینا بہت مشکل امر ہے۔پیرایہ بیان کے انکار کا جواز اس لئے ممکن نہیں کہ ہر تخلیق اور تحریر کا اپنا ایک پیرایہ بیان ہوتا ہے جس کے وجود کے بغیر تحریر کی موجودگی کو تسلیم ہی نہیں کیا جا سکتا ۔ اسلوب کا تعین تو پھر ممکن ہے کہ اس کو دس میں سے ایک کی تقسیم میں بانٹا جا سکتا ہے جبکہ پیرایہ بیان کو اس طرح بانٹنے کاکام اس لیے نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ ہر تحریر میں لفظ اور انشا کو برتنے کے طریقوں سے پیرایہ بیان کے ترتیب پانے کا عمل وجود میں آتا ہے ۔ جس طرح دس تحریریں ایک تحریر نہیں ہو سکتیں اسی طرح دس پیرا یہ بیان کو ایک پیرایہ قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ اس بنیاد پر گمان گزرتا ہے کہ شبلی کی شاعری میں پیرایہ بیان کی موجودگی کا اثبات کرتے ہی بنتا ہے، لیکن معا ملا اتنا سلجھا ہوا نہیں در اصل پیرایہ کے لفظی معنی سے یہ ابہام پیدا ہوتا ہے کہ ہر لفظ جس کی اپنی ایک پو شاک ہے اپنا ایک آرائشی نظام ہے اس لباس، زینت اور زیور چا ہے جو کہہ لیا جائے اس کے وجود سے انکار مشکل ہے۔
پیرایہ کہ ایک معنی ڈھنگ بھی ہیں جسے طرز اور روش بھی کہا جا سکتا ہے اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ بیان کے طرز اور اس کے ڈھنگ کو جب تک شعر یا تحریر میں اس طرح استعمال میں نہ لایا جائے کہ اس طرز کو ایک جدا گانہ روش یا الگ ڈھنگ کی تحریر کہا جا سکے تب تک کسی بھی شعر یا تحریر میں پیرایہ بیان کا اثبات ممکن نہیں ۔ وہ ڈھنگ کیا بلا ہے اس کی مثال خود شبلی کے کلام سے ملتی ہے۔ شبلی نعمانی کے اشعار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح طور پر سمجھ میں آتی ہے کہ شبلی جو بنیادی طور پر ایک متکلم اور مورخ تھے انہوں نے اپنے اشعار میں اسی پیرایہ بیان کو روا رکھنے کی کوشش کی ہے جو ان کے موضوعات نے ان کے ذہن پر ترتیب دیئے تھے ۔ ان کے اردو کلیات کا مطالعہ کرتے وقت کئی بار میرے ذہن میں اس خیال نے سر اٹھا یا کہ شبلی نعمانی جن اسلامی تاریخی واقعات کو پڑھتے ہیں، ان سے اس حد متاثر ہوتے ہیں کہ وہ واقعات ان کے جذبات و احساسات کا حصہ بن جاتے ہیں پھر وہ انھیں من و عن نثر سے اردو نظم کے قالب میں ڈھال دیتے ہیں ۔ جس کے لئے شائد انھیں اتنی محنت بھی نہ کرنی پڑتی ہو جتنی کہ حفیظ کو شاہنامہ اسلام لکھنے میں کرنی پڑی ہوگی ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ ان واقعات کو اپنے ذہن اور دل پر طاری کئے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ جس کی وجہ سے انہیں جذبہ کا گداز تو حاصل ہوتا ہے پر پیرایہ بیان نہیں مل پاتا ۔ شبلی اپنا پیرایہ بیان خلق کرنے میں علی گڑھ تحریک اور حالی و آزاد کے تتبع کی وجہ سے بھی ناکام رہے ۔’صبح امید‘ جو ان کی کل اردو شاعری میں کچھ اس درجے کی نظر آتی ہے کہ اس سے متاثر ہوئے بغیر رہنا مشکل تھا ، یہاں بھی اس تتبع نے ان کا’ پیرایہ بیان‘ان سے چھین لیا۔ ’قصیدہ اردو ‘ میں اس پیرایہ بیان کی جھلکیاں نہ کے برابر ہیں ۔کہیں کہیں کسی شعر سے ایسا لگتا ہے کہ شبلی ایک نئے قسم کا پیرایہ بیان خلق کرنے میں کامیاب ہو جاتے اگر ان کے یہاں اقبال جیسی شعری صلاحیت پائی جاتی۔ اقبال بھلے ہی بقول عقیل احمد صدیقی ’حالی کے نظریہ شعر اور بعد کے رد عمل کا کامل امتزاج ہوں‘ لیکن ان کے کلام میں شعریت کے لازمی جزو ’ پیرایہ بیان ‘ کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس پیرایہ بیان نے شبلی کی شعری عدم شناخت کو عام کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ حالاں کہ شعر کہنا شبلی کو آتا ہے پر شعریت کے لازمی اجزا کی عدم موجودگی کی بنیاد پر ان کے کلام کو اس نہج پر کلام نہیں کہا جاسکتا جن بنیادوں پر میر ،غالب ، انیس ، اقبال اور فیض وغیرہ کے کلام کو کلام کہا جاتا ہے۔
Categories
تبصرہ

اردو غزل کی نئی کتاب

اچھی کتاب پڑھنے سے بہتر مجھے کوئی کام نہیں لگتا، خاص طور پر تخلیقی کتاب۔اس میں سب سے بہتر بات یہ ہوتی ہے کہ آپ نئے خیالات سے واقف ہوتے ہیں۔ ہر ذہن کی ایک الگ تخلیقی بناوٹ ہوتی ہے، اس کا کچھ کرنے، بنانے یا کہنے کا طریقہ دوسروں سے الگ ہوتا ہے، ایک یہی میدان ہے جہاں نقل پر اصل کو ترجیح دی جاتی ہے۔علم پھیلتا ہے، نئے جہان تلاش کرتا ہے، مطالعہ نئی باتیں یا ایسی پرانی باتیں جو ہمارے لیے نئی ہوں، ہمارے سامنے لایا کرتا ہے۔مگر شاعری ان باتوں کو ایک شکل دیتی ہے، ایک بالکل نئی شکل۔اس کے لیے کچھ شرطیں ہوتی ہیں، یہ ہر کسی کے بس کا کام نہیں، جو لوگ شاعر ہیں، وہ جانتے ہیں کہ شعر کی تخلیق کے بارے میں پیدا کیے جانے والے مفروضات کتنے بھونڈے ہیں، کوئی کہا کرتا ہے کہ شعر پیدا کرنا بچہ پیدا کرنے جیسا عمل ہے، کوئی کہتا ہے کہ ہم نے اس میں خون جگر کھپایا ہے، کوئی کہتا ہے کہ فلانا، کوئی کہتا ہے ڈھمکا۔مگر شعر تکلیف سے نہیں بنتا۔غالب نے اپنے شعروں کو اپنی معنوی اولاد کہا تھا، مگر اس کی بات غلط تھی، شعر ویر کوئی معنوی اولاد نہیں ہوتے، اگر ہوا کرتے تو غالب اپنے دیوان کا انتخاب کبھی نہ کرپاتا۔شعر ایک نتیجہ ہے، ہماری صلاحیت اور ہماری فکر کے ملاپ کا۔ہمارے مستقل سوچتے رہنے ، اسے بناتے رہنے کے عمل کا۔شاعری بغیر ارادے کے ممکن نہیں، جس طرح زندگی بغیر ارادے کے ممکن نہیں۔اور یہ مزے کی کیفیت ہے، بالکل جنسی عمل والے مزے کی، جس کا بیان ممکن نہیں، جس کی مٹھاس اور کھٹاس دونوں کو لیکھ میں نہیں ڈھالا جاسکتا۔اچھا شعر کہنے کے بعد ہنسنے کا جی چاہتا ہے، ایک کامیابی سی محسوس ہوتی ہے، محسوس ہوتا ہے کہ ابھی ہم ناکارہ نہیں ہوئے۔اس لیے تخلیقی کتاب پڑھنے میں بھی ویسا ہی مزہ آتا ہے، جیسا کسی وصل کا نظارہ کرتے وقت آیا کرتا ہے، روح سیراب ہوتی ہے، اس پورے نظارے سے بدن کا روم روم کہیں کسی نئے پن کی جستجو اور مہم جوئی سے متاثر ہوتا رہتا ہے، نئے خیال کی دھمک سے چونکتا ہے، پرانے اور باسی عمل کی ترکیبوں سے اوبنے یا اکتانے لگتا ہے۔ہمارے عہد میں شاعری کی زیادہ تر کتابیں اس دوسرے زمرے میں ہی آتی ہیں۔
شاعری بغیر ارادے کے ممکن نہیں، جس طرح زندگی بغیر ارادے کے ممکن نہیں۔اور یہ مزے کی کیفیت ہے، بالکل جنسی عمل والے مزے کی، جس کا بیان ممکن نہیں، جس کی مٹھاس اور کھٹاس دونوں کو لیکھ میں نہیں ڈھالا جاسکتا۔
مگرابھی کچھ عرصہ پہلے میل کے ذریعے مجھے ایک کتاب ملی۔ذوالفقار عادل کی کتاب۔شرق میرے شمال میں۔اس کتاب کا عنوان نیا تھا، اس کی شاعری بھی نئی ہونی چاہیے تھی۔میں نے کتاب کو کچھ دنوں بعد پڑھنا شروع کیا، مجموعہ پہلی بار ختم کیا، دوسری بارپڑھنے کا دل چاہنے لگا۔اس شاعری میں زندگی کی کچھ ایسی الجھنوں کو نظم کیا گیا تھا، جن کو عام طور پر بیان کرنا تھوڑا مشکل ہوتا ہے، کیونکہ یہ ایک احساس کے تجربے کو نظم کرنے والی بات ہوتی ہے، اور احساس کو نظم کرنا آسان بات نہیں ہے۔وجہ یہ ہے کہ ہم جب لکھنے بیٹھتے ہیں تو شاعری کو عام طور پر رومانی باتوں سے جوڑ دیتے ہیں، یا پھر روایت کے وہ فرسودہ مضامین جس میں عاشق و معشوق کے درمیان کی پوری کہانی ہمیں پہلے سے معلوم ہوتی ہے، ایسی شاعری سے متلی آتی ہے، مجھے جہاں ایسی شاعری سننی پڑتی ہے، میں وہاں سے جلد دامن بچا کر نکلنا چاہتا ہوں، اس لیے غزل کے مجموعے پڑھتے وقت پہلی دس بارہ غزلیں پڑھنے سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ کتاب پڑھنی چاہیے یا نہیں۔بھلا ہو فیس بک کا کہ اب اس کی مدد سے وہ دس بارہ غزلیں بھی پڑھنے کی ضرورت نہیں رہ جاتی۔خیر، پاکستان میں لکھی جارہی اردو غزل میں اب دو نام میرے سامنے ایسے ہیں، جو ایک دوسرے سے شعر گوئی میں قدرے مختلف اور نئی غزل کے نمائندہ شاعر کہے جانے کے لائق ہیں۔اول ادریس بابر اور دوم ذوالفقار عادل۔
ذوالفقار عادل کی غزل بظاہر آپ کو نئے لفظوں، نئے تجربوں میں لپٹی ہوئی نظر نہیں آئے گی، مگر وہ اندرون سے بدلی ہوئی ہے، اس کا نیا پن ، اس کا فکری رویہ ہے۔عادل کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ جیسا شعر وہ بنانا چاہتے ہیں، بنادیتے ہیں اس کوزہ گری کے ہنر میں ان کی مشاقی کمال کی ہے۔
ادریس بابر کی غزل اب ایک نیا لغت تراش رہی ہے۔وہ شعر بنانے کے سلیقے کو بدلنے پر آمادہ ہے، نئی شعریات کو وضع کرنے اور اس کی ڈھنگ سے ترتیب دینے میں ادریس بابر کا ہاتھ ہے۔کوئی انہیں کچھ کہے، ان کی اس تازہ کاری پر ہنسے، قہقہے لگائے یا پھر ظفر اقبال کی نئی غزل کی نامقبولیت کا انہیں سو بار طعنہ دے مگر میں اسے جدیدیت کے ایکسٹنشن(extension) سے تعبیر کرتا ہوں۔ادریس بابر کی نئی غزل اب جو لہجہ بنارہی ہے، اس کا اثر میں ہندوستانی غزل پر بھی پڑتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ یہاں لوگ انہیں پسند کرتے ہیں،ان کی غزلیں پڑھنا چاہتے ہیں۔ میں نے اردو زبان سے ناواقف لوگوں کے منہ سے ان کی تعریف سنی تو پوچھا کہ آپ نے ادریس بابر کی غزل کب اور کہاں پڑھی تو ان کا جواب تھا کہ کئی لوگوں سے ان کے شعر سنے ہیں۔یعنی اب یہ غزل خود کو تسلیم کروارہی ہے۔ذوالفقار عادل ان سے لہجے میں بہت مختلف ہیں۔ذوالفقار عادل کی غزل بظاہر آپ کو نئے لفظوں، نئے تجربوں میں لپٹی ہوئی نظر نہیں آئے گی، مگر وہ اندرون سے بدلی ہوئی ہے، اس کا نیا پن ، اس کا فکری رویہ ہے۔عادل کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ جیسا شعر وہ بنانا چاہتے ہیں، بنادیتے ہیں اس کوزہ گری کے ہنر میں ان کی مشاقی کمال کی ہے۔کبھی کبھی ان کے یہاں زندگی کے ایسے تجربے تصویر کیے ہوئے نظر آتے ہیں، جن کی طرف ہمارے روایتی شاعر کا دھیان ہیں جاتا، ایسے کچھ شعر سنیے:

 

اپنے آپ کو گالی دے کر گھور رہا ہوں تالے کو
الماری میں بھول گیا ہوں پھر چابی الماری کیوہیل چیئر پر بیٹھ کر، چڑھتا ہے کون سیڑھیاں
آکے مجھے ملے جسے شک ہو مرے کمال میں

نام کسی کا رٹتے رٹتے ایک گرہ سی پڑ جاتی ہے
جن کا کوئی نام نہیں، وہ لوگ زباں پر آجاتے ہیں

بیٹھے بیٹھے پھینک دیا ہے آتش دان میں کیا کیا کچھ
موسم اتنا سرد نہیں تھا جتنی آگ جلالی ہے

ہر منظر کو مجمع میں سے، یوں اٹھ اٹھ کر دیکھتے ہیں
ہوسکتا ہے شہرت پالیں ہم اپنی دلچسپی سے

وہ رنج تھا کہ رنج نہ کرنا محال تھا
آخر میں ایک شام، بہت رو کے خوش ہوا

ظاہر ہے کہ ان تصورات کو نظم کرنے کے لیے روایت سے آگے نکلنا ضروری ہے، اور روایت سے آگے نکلنے کے لیے اس کا علم ہونا ضروری ہے۔یہ شعر بتاتے ہیں کہ عادل نے میر سے لے کر ظفر اقبال تک اردو شاعری کی پھیلی ہوئی طویل روایت سے کیسے فائدہ اٹھایا ہے۔یہ باتیں کتنی ہی سچ ہوں، مگر جھوٹ کی طرح ہماری آنکھوں سے تب تک اوجھل رہتی ہیں، جب تک ہم نہیں جان پاتے کہ کیا ایسا ہے جو نہیں کہا گیا، یا کیا ایسا ہے، جسے کہہ دینا چاہیے۔’خواب’ عادل کی شاعری کا ایک استعارہ ہے، مگر یہ غیر ضروری طور پر اتنا استعمال نہیں ہوا، جتنا شہریا رکے یہاں ہوچکا ہے بلکہ انہوں نے اسے جہاں اور جتنی بار استعمال کیا ہے وہ ہر بار ایک نئے پہلو کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں وہ خواب کو حقیقت کا ہی ایک درجہ سمجھتے ہیں، جس میں اتنی شوریدہ سری دکھائی دیتی ہے، جتنی عام طور پر حقیقت میں ہی ممکن ہے، غفلت میں نہیں۔

 

باغ اپنی طرف کھینچتا ہے مجھے خواب اپنی طرف
بنچ پر سورہا ہوں میں دونوں کا جھگڑا چکاتا ہوانکلا ہوں شہر خواب سے، ایسے عجیب حال میں
غرب، میرے جنوب میں، شرق، میرے شمال میں

مجھے ذوالفقار عادل کے یہاں ایک بڑی بات نظر آئی، حالانکہ مجھے ان سے شکایت بھی ہے کہ ان کو اپنے مجموعے میں اتنے مضامین جمع کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔وہ ایک اچھے شاعر ہیں، ان کی کتاب آنے کے بعد کوئی ان کو برا کہے یا بھلا، یہ اس کا حق ہے، مگر کتاب کے ساتھ ، کسی بھی قسم کے تنقیدی یا تعارفی مضامین اسے بوجھل بنادیتے ہیں۔ آج کاقاری بالغ نظرہے۔وہ اچھے برے مال کی پرکھ رکھتا ہے۔آپ یا ہم اسے نہیں سمجھائیں گے کہ بھئی اس میں کیا خامیاں ہیں اور کیا خوبیاں ، اور پھر یہ باتیں کتاب آنے کے بعد زیادہ مناسب معلوم ہوتی ہیں نہ کہ کتاب کے ساتھ۔۔۔ بہرحال یہ شاعر کا فیصلہ ہے اور اسی کو طے کرنا ہوتا ہے کہ اس میں محبتوں کا قرض بھی چکادینا کس حد تک درست ہے اور کہاں تک غیر ضروری۔خیر، میں بڑی بات کا ذکر کررہا تھا، یہ بری بات کہاں سے درمیان میں آگئی۔اس مجموعے میں ایک شعر ہے:

 

روانی میں نظر آتا ہے جو بھی
اسے تسلیم کرلیتے ہیں پانی
ہم لوگ احمد مشتاق کے ایک شعر کو بہت پسند کرتے آئے ہیں۔
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے
اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں
یہ شعر بہت اچھا ہے، اس میں جس طرح ’پانی‘ کو وقت کا استعارہ بنایا گیا ہے، اس کی گہرائی اور اس کی خاموشی اور انسان کی نفسیاتی الجھنیں اس شعر کا مرکزی خیال ہیں، مگر ذوالفقار عادل کا شعر اس شعر سے زیادہ اچھا ہے، اس شعر کے دو پہلو ہیں، اول تو یہ کہ پانی یہاں لامتناہی وقت (Infinite Time)کا استعارہ ہے، ایک کبھی نہ ختم ہونے والی ابدیت جو ہر اس شے کو قبول کرتی ہے جو رواں ہو، حتٰی کہ منجمد اشیا کو بھی روانی بخشنے کا ہنر جانتی ہے۔ اسی طرح اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم زندگی جیسے گہرے عمل کو صرف روانی سے کیسے تعبیر کرسکتے ہیں، اس کی مزید شرطیں ہونی چاہیئں۔اسے اور طرح بھی پرکھ کر دیکھنا چاہیے۔
ذوالفقار عادل کی کتاب ‘اردو غزل کی ایک نئی کتاب’ ہے۔اس شاعری کے قاری بھی نئے ہیں۔اسے پڑھنے اور اس کا استقبال کرنے کا مناسب وقت یہی ہے کہ یہ شاعری جدیدیت کا بالکل تازہ چہرہ ہے
ذوالفقار عادل کی کتاب ‘اردو غزل کی ایک نئی کتاب’ ہے۔اس شاعری کے قاری بھی نئے ہیں۔اسے پڑھنے اور اس کا استقبال کرنے کا مناسب وقت یہی ہے کہ یہ شاعری جدیدیت کا بالکل تازہ چہرہ ہے۔ہم تخلیقیت میں جس مشقت، جس محنت اور جس انفرادیت کے قائل ہیں، نئے وسائل اور نئے مسائل سے بھری ہوئی اس شاعری کا اندازاپنے ہم عصروں کو ان کی حیثیت کا اندازہ کروانے کے لیے کافی ہے۔یہ شاعری نئے پن کی کامیابی ہے، اور غزل جیسی صنف میں، جہاں خیال کو سانچے میں ڈھالنے کی آزادی بہت کم ہے، ایسی تازہ کاری مشکل ہی سے دیکھنے کو ملتی ہے۔یہ مجموعہ اتنا اہم مجموعہ ہے کہ ہر نئے لکھنے پڑھنے والے کو اس پر توجہ دینی چاہیے۔ذوالفقار عادل جانتے ہیں کہ شاعری میں غزل کے لیے اداسی اور بکھراؤ کی کتنی اہمیت ہے، اس لیے ان کی شاعری میں ان عناصر سے بہت اچھی طرح کام لیا گیا ہے۔وہ اپنے اندرون یا بیرون دونوں اطراف کی جنگ اور خاموشی سے فائدہ اٹھانا جانتے ہیں۔اس شاعری پر بات ہونی چاہیے، اچھے لوگوں، اچھے پڑھنے والوں کو اس کے حق میں یا اس کے خلاف بولنا چاہیے۔خیر، اب یہ ذوالفقار عادل کے کچھ اشعار میری پسند کے، میں آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں؛

 

اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا
لیکن اک ایسے شہر میں کیا کررہے ہیں ہمپوچھتا پھر رہا ہوں میں، دل میں جو ایک بات ہے
کوئی جواب دے نہ دے، دخل نہ دے سوال میں

پاؤں رکھتا ہوں اک منجمد جھیل میں چاند کے عکس پر
ایک تنہائی سے، ایک گہرائی سے خوف کھاتا ہوا

بیٹھے بیٹھے اسی غبار کے ساتھ
اب تو اڑنا بھی آگیا ہے مجھے

کوئی اتنے قریب سے گزرا
دور تک دیکھنا پڑا ہے مجھے

یہ نقش بن نہیں سکتا تو کیا ضروری ہے
خراب و خستہ و خوار و خجل بنایا جائے

ہمیں دونوں کنارے دیکھنے ہیں
توجہ چاہتی ہے یہ روانی

Categories
نقطۂ نظر

آخر اردو کیوں نہیں؟

ہمارے ہاں کسی بھی موضوع پر بات کرنا بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے برابر ہے۔ اور بات کرنا بھی شاید فضول ہے کیونکہ ہم بحیثیت قوم کائنات کی سب حقیقتوں کو پہلے سے ہی جانتے ہیں اور ہم سے زیادہ ذہین قوم آج تک روئے زمین نے نہیں دیکھی ۔ اپنی اسی عقل ودانش کی وجہ سے ہم کسی کی بھی جاہلانہ رائے برداشت نہیں کرسکتے اور فوراً ہی اس پر کوئی نہ کوئی ٹیگ لگاکر اسے دنیا سے رخصت کرنے کا بندوبست کرتے ہیں۔ میں کچھ بھی لکھوں اور چاہے کتنے ہی خلوص اور علمی دیانت سے لکھوں، کوئی نہ کوئی پاکستانی دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر آدھا پڑھے گا اور اس سے بھی آدھا سمجھے گا لیکن ایک مکمل نتیجہ نکال لے گا اور پھر مجھ پرغدار، لبرل اورایجنٹ ہونے کا ٹیگ لگا دے گا۔ میری تحریر پر مجھے ہرعوامی فورم پر گالیاں دے کر ملک و قوم کی خدمت کرے گا۔ کیونکہ ہمارے ہاں ہر چیز ہی مقدس ہے اس لیے اس پر بات کرنا ممنوع ہے لیکن کیا کیجئے کہ جون ایلیا کی بات یاد آجاتی ہے
پھر جی میں ہے بے حرمتی کی خواہش
ہم سبھی کو یہاں محترم دیکھتے ہیں
اب اردو کے نفاذ کا معاملہ ہی لے لیجئے۔ ہمارے عوام ہمیشہ کی طرح وقتی جذباتی ہوگئے ہیں اور انہوں نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اب عوامی زبان کو اشراف میں قبولیت مل جائے گی۔ اردو انگریزی کی بحث اب (پاکستان میں ہر چیز کی طرح) علمی سے زیادہ سیاسی ہوچکی ہےاس لیے کوئی علمی دلیل کسی کے دل میں نہیں اترے گی لیکن پھر بھی اپنی ناقص رائے کا اظہار کردینا چاہتا ہوں۔
میں کچھ بھی لکھوں اور چاہے کتنے ہی خلوص اور علمی دیانت سے لکھوں، کوئی نہ کوئی پاکستانی دنیا کے کسی کونے میں بیٹھ کر آدھا پڑھے گا اور اس سے بھی آدھا سمجھے گا لیکن ایک مکمل نتیجہ نکال لے گا اور پھر مجھ پرغدار، لبرل اورایجنٹ ہونے کا ٹیگ لگا دے گا
برصغیر کی عوام کا خمیر احساس کمتری اور مرعوبیت سے اٹھا ہے، یونانی، چینی، عرب، ترک، افغان اور انگریز ایک کے بعد ایک ان پر حکومت کرتے رہے ۔ اس لیے ان پر ہر چیز باہر سے مسلط کی جاتی رہی ہے۔ اگرچہ اقبال اللہ کے آزاد بندوں کی تعریف کرتے رہے لیکن برصغیر میں آزاد بندہ کہاں سے ملے۔ ہماری مرعوبیت زندگی کے ہر پہلو پر محیط رہی ہے۔ ہر نئے آقا سے ڈرنا ، احساس کمتری کا شکار ہونا اور پھر اس کے رنگ میں رنگنا ہماری عادت رہی ہے۔ہم نے ہر نئے آقا کا لباس، زبان، اور عقائد اپنائے ہیں۔ آپ ہماری مرعوبیت کا اس بات سے اندازہ لگائیں کہ دنیا کی بہت سی قوموں نے اسلام قبول کیا مثلا ًعرب، مصری اور ایرانی لیکن کسی قوم نے ہماری طرح اپنے ناموں کو نہیں بدلا بلکہ اپنی تہذیب اور روایات کو برقرار رکھا اور اسلام کے ذریعے اس میں مزید خوبصورتی پیدا کی۔ ایران آج بھی اپنی تاریخ کو سات ہزار سال تک لے کر جاتا ہے، مصری اپنی تاریخ کو فراعنہ تک لے کر جاتے ہیں، عرب اپنی تاریخ کو حضرت ابراہیم سے شروع کرتے ہیں اور خود کو تما م مذاہب کا وارث سمجھتے ہیں۔ ان تمام قوموں کی اپنی زبان، تہذیب ،روایات، لوک کہانیاں، ہیرو، موسیقی، آرٹ اور فنون لطیفہ ہیں،اور وہ فتوی لگا کر انہیں اپنی تاریخ سے باہر نہیں نکالتے۔لیکن برصغیر کے مسلمانوں نے سب سے پہلے اپنے پرانے نام تبدیل کیے،کیونکہ ان کے خیال میں نام بھی اسلامی اور غیر اسلامی ہوتے ہیں( شاید انہیں دین کا فہم دنیا بھر کے مسلمانوں سے زیادہ تھا)۔صرف نام ہی نہیں پھر انہو ں نے ہر چیز اپنے آقاؤں کی اپنائی۔ لیکن ان آقاؤں نے کبھی بھی ان وفادار غلاموں کو اپنا نہیں سمجھا چاہے وہ ان کی زبان، لباس اور مذہب کو ہی کیوں نہ اپنا لیں۔ اردو کے ایک شاعر رفیق سندھیلوی کبھی ہمیں اردو پڑھاتے تھے تو ایک دن کہنے لگے کوئی شخص آپ کے گھر پر قبضہ کرلے اور آپ کو گھر میں ملازم رکھ لے ۔ کچھ سال بعد آپ اسے دل سے آقا تسلیم کرلو اور اس کے رنگ میں رنگ جاو تو بھی تمہاری عقیدت کے باوجود وہ شخص ڈاکو ہی رہے گا۔ برصغیر کے مسلمانوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا ہے ان کے قاتل ہی ان کے دلدار بن گئے۔
حکمرانوں کی زبان نہ آنے کی وجہ سے حکومت اور مذہب دونوں ہی عوام کی پہنچ سے دور رہے اور یہی حال شاعری کا تھا کہ ہمارے تمام شعراء فارسی میں شعر کہنا پسند کرتے تھے تاکہ اشراف میں مقبولیت حاصل کرسکیں
مشہور مورخ ڈاکٹر مبارک علی اپنی کتاب “مسلم برصغیر کا المیہ” میں مسلم نفسیات کو بہت تفصیل سے بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق” حکمران طبقہ اور اشراف ہمیشہ عوام سے خود کو جدا سمجھتے تھے اور ہر کام عوام سے جدا کرتے تھے، عربوں کی حکومت میں اشراف کی زبان عربی تھی اور تمام حکومتی امور اور علمی کام عربی میں کیا گیا۔ ایرانیوں اور ترکوں کی حکومت میں سرکاری اور اشراف کی زبان فارسی تھی ، تمام مذہبی اور سیاسی کام اس زبان میں ہوتا تھا، عوام کی اکثریت کو یہ زبان نہ سمجھ آتی تھی اور نہ ہی یہ رابطے کی زبان تھی۔ جو لوگ اسلام قبول کرتے تھے انہیں کبھی بھی حکمران طبقے نے اپنے برابر نہیں سمجھا۔ عوام ہمیشہ عوامی زبان کو رابطے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ اسی طرح مذہبی کام بھی مقامی زبان میں نہیں ہوتا تھا ہمارے برصغیر کے علماء بھی عرب اور ایران کے علماء سے متاثر تھے اور ا ن کی کتابوں کی تشریحات لکھتے رہتے تھے۔ عربی و فارسی نہ آنے کی وجہ سے عوام مذہب کو بھی نہیں سمجھ سکتے تھے۔ حکمرانوں کی زبان نہ آنے کی وجہ سے حکومت اور مذہب دونوں ہی عوام کی پہنچ سے دور رہے اور یہی حال شاعری کا تھا کہ ہمارے تمام شعراء فارسی میں شعر کہنا پسند کرتے تھے تاکہ اشراف میں مقبولیت حاصل کرسکیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہمارے علماء کے مذہبی کام اور ہمارے شعراء کے فارسی کلام کو اہل زبان عربوں اور ایرانیوں نے کبھی پذیرائی نہیں بخشی۔”
اردو کو نظرانداز کرنے کی سرکاری روش کا یہ عالم ہے کہ مبارک علی جیسے تارخ دان یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا ہے کہ یہ ایک مردہ زبان بن چکی ہے جس میں کسی جدید خیال کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے اب یہ فقط رابطے کی زبان ہے
انگریز کے آنے کے بعد بھی ہم نے ایسا ہی کیا اور اشراف نے انگریزی کو فوراً اپنا لیااور اس حد تک اپنا لیا کہ وہ انگریزوں سے زیادہ انگریز بن گئے۔ انہی دیسی انگریزوں کو جاگیریں بھی عطا کی گئیں، یہی سیاست، فوج، عدلیہ اور افسرشاہی کا حصہ بنے اور ان کے بقول پاکستان بنانے والے بھی یہی تھے۔ اس لیے جب پاکستان بن گیا تو پاکستان کو چلانے والے بھی یہی لوگ تھے۔ پہلے دن سے حکومت کے تمام اداروں کی زبان انگریزی ہی تھی اور یہ سلسلہ آج تک اسی جذبہ سے جاری ہے۔ یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ عدالت کے ایک حکم کے بعد ان تمام اداروں میں اردو دفتری زبان کے طور پر کس طرح رائج ہوجائے گی۔ ہماری اشرافیہ ایسا کبھی نہیں ہونے دے گی کیوں کہ اس اشرافیہ کا مفاد انگریزی سے وابستہ ہے۔ سرسید جیسے مخلص شخص کی کوششوں کا مرکز بھی یہی اشرافیہ تھی ۔ اسی اشرافیہ نے انگریز سے مراعات بھی لیں اور انہی کی مدد سے انگریزوں نے عوام کو دبا کر رکھا۔ پاکستان بننے کے بعد یہ اشرافیہ ہمیں ورثے میں ملی۔ تاریخ کا ہم پر یہ جبر ہے کہ ہندوستان میں گزشتہ ایک ہزار برس میں حکومت کی زبان کبھی بھی عوامی نہیں رہی ، پہلے یہ عربی اورفارسی تھی اور اب انگریزی ہے۔ وادی سندھ کی مقتدر اشرافیہ کبھی بھی خود کو عوام کی سطح تک نہیں لائی اور زبان کی بنیاد پر اس اشرافیہ نے ہمیشہ خود کو ممتاز رکھا ہے۔
اردو اپنی موجودہ صورت میں تین کام کررہی ہے ایک تو یہ رابطے کی زبان ہے، دوسرا سو سال سے مذہبی کام اس میں ہورہا ہے اور تمام اہم مذہبی کتب اردو میں موجود ہیں اگرچہ یہ اردو بھی عوام کے لیے اتنی اجنبی ہے کہ عام پڑھا لکھا شخص بھی اسے نہیں سمجھ سکتا، تیسرا ہماری شاعری اور نثر کا ذخیرہ اس میں ہے۔ لیکن اردو کا دامن سائنس، ٹیکنالوجی، اور تمام موجودہ علوم سے خالی ہے ۔ سب سے بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ ہماری اشرافیہ نے اردو کی ترقی اور اسے آسان بنانے کے لیے نہ کوئی کام کیا اور نہ ہی ہونے دیا۔ بازار میں کوئی ایسی مستند سرکاری لغت دستیاب نہیں جو دورحاضر کے تقاضوں کے مطابق مرتب کی گئی ہو۔ تراجم کرانے کا کوئی نظام وضع نہیں کیا گیا۔ اردو کو بس نام کی قومی زبان بنایا گیا ہے، اس کے نام پر سیاست کی گئی ہے اور سرکاری یا غیرسرکاری سطح پر اسے عربی اور فارسی کی چھاپ سے نکالنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ ہمیں ان سات دہائیوں میں اردو میں مقامی زبانوں کے الفاظ و اصطلاحات کا رنگ نظر نہیں آتاہاں انگریزی کی چھاپ بہت واضح ہے۔
اردو کو نظرانداز کرنے کی سرکاری روش کا یہ عالم ہے کہ مبارک علی جیسے تارخ دان یہ کہہ رہے ہیں کہ اردو کو اس مقام تک پہنچا دیا گیا ہے کہ یہ ایک مردہ زبان بن چکی ہے جس میں کسی جدید خیال کو سمجھنے اور سمجھانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے اب یہ فقط رابطے کی زبان ہے ۔اس صورتحال میں ہماری اشرافیہ کے لیے یہ ثابت کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے کہ اردو عدلیہ، فوج، بیوروکریسی ، بینکاری، تعلیمی اداروں اور تمام دوسرے اداروں میں ایک دفتری زبان کے طور پر رائج ہونے کے لیے موزوں نہیں ہے۔ایسی صورتحال میں آئیں مل کر کسی معجزے کا انتظار کریں۔
Categories
خصوصی

چھوٹی سی دنیا، ادبی دنیا ڈاٹ کام

[blockquote style=”3″]

ادارتی نوٹ: تصنیف حیدر ادبی دنیا کے نام سے ایک بلاگ کے ذ ریعے اردو ادب کے نوادر عام قاری تک پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اردو ادب کی ترویج کے لیے قائم معروف ویب سائٹ ریختہ سے تین برس تک وابستہ رہنے کے بعد آپ نے ادبی دنیا کے نام سے اپنی ویب سائٹ کا آغاز کیا۔ ان کا شعری مجموعہ “نئے تماشوں کا شہر” کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ ذیل میں ادبی دنیا اور تصنیف حیدر کی ذات پر ان کا اپنا تحریر کردہ ایک تعارفی مضمون قارئین کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

[/blockquote]

تم نہ آئے تھے تو ہر چیز وہی تھی کہ جو ہے
آسماں حد نظر، شیشہء مے شیشہء مے
—فیض
اس وقت رات کے سوا گیارہ بجے ہیں، میں اس کوشش میں ہوں کہ کوئی اچھی تحریر، کسی تخلیق کار کا ناول، شعری مجموعہ یا پھر کوئی افسانہ ادبی دنیا پر چڑھا سکوں، یا پھر کوئی کارآمدتنقیدی و تحقیقی مضمون۔ میں اس کا ڈیش بورڈ دیکھتا ہوں، قریب دس سے پندرہ ہزار لوگ اس ماہ وزٹ کرچکے ہیں۔میں ایک گھومنے والی کرسی پر بیٹھا ہوا ہوں۔سامنے ڈیسک ٹاپ کا بسیط سناٹا ہے، اس سناٹے سے اوب کر میں نے جگجیت سنگھ کی گائی ہوئی غالب کی ایک غزل لگادی ہے۔میں علی اکبر ناطق کا ناول ‘نولکھی کوٹھی’ اپ لوڈ کرنے کی کوشش کرتا ہوں اور ناکام ہوتا ہوں کیونکہ ایک پوسٹ میں یہ سارا ناول سما نہیں سکتا، چنانچہ مجھے سید مکرم نیاز سے مشورہ کرنا پڑتا ہے۔ وہ ادبی دنیا کے ایڈمن بھی ہیں اور میری ہر ممکن مدد کرتے ہیں۔ ادبی دنیا کا ڈومین www.adbiduniya.com بھی انہوں نے ہی لیا تھا۔خیر میں چودھرمی محمد علی ردولوی کے افسانے، راشد الخیری کے مضمون، ظفر اقبال کی غزلوں، مجید امجد کی نظموں اور ناصر عباس نیر کے تنقیدی مضامین بکھیرے ہوئے بیٹھا ہوں۔پھر میرے ہاتھ آصف فرخی کی دو خوبصورت کہانیاں لگتی ہیں اور میں انہیں اپ لوڈ کردیتاہوں۔
ادبی دنیا کا مصرف کیا ہے، آخر آج کے صنعتی دور میں اس کی ضرورت کیوں ہے اور کیا اس سے کوئی ایسا ادبی انقلاب رونما ہوجائے گا کہ لوگوں کا مذاق ادب تبدیل ہوسکے، بن سکے یا نکھر سکے۔ایسا کچھ نہیں ہوگا، جو لوگ نصیر ترابی کی لکھی ہوئی رومانی غزل پڑھ کر اپنے عشق کو تھپکیاں دے رہے ہیں، جو جنگ، نفرت، مذہب اور نعرے بازی کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں، وہ لوگ میرے قاری نہیں ہیں۔میرا پہلا قاری میں خود ہوں، اور میں ظاہر ہے کہ بدلنا نہیں چاہتا ہوں، بس آگے بڑھنا چاہتا ہوں۔یہ میری تربیت کے لیے بھی ضروری ہے، جس طرح اور لوگ اس کلاس میں شریک ہوکر اپنی تربیت کرسکتے ہیں، جیسے میں میلان کنڈیرا کا ایک انٹرویو پڑھ کر یہ سوچنے کے قابل ہوا ہوں کہ واقعی ہم ادب میں اچھے برے کا فیصلہ وقت کے ہاتھ سونپنے کی بھول کیسے کرسکتے ہیں، کیا وقت کے کیے گئے سارے فیصلے بالکل صحیح ہیں؟ کیا وقت کا کیا گیا فیصلہ صرف کچھ خاص لوگوں کی تدبیر و تعبیر کا عکس نہیں ہوا کرتا ہے۔میں سوچ رہا ہوں، پڑھ رہا ہوں اور مستقل اسی سفر کو آگے بڑھائے رکھنا چاہتا ہوں، سو اس لیے مجروح سلطان پوری کے الفاظ میں جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے۔مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے۔جس کا یہ مسئلہ نہیں، وہ فیس بک پر لکھے ہوئے کسی گھسے پٹے شعر کو پڑھے اور دوسروں کی طرح داد دہی کے شور میں گم ہوجائے۔
مجھے کوئی غلط فہمی یا خوش فہمی نہیں ہے کہ ادبی دنیا کے ذریعے میں ادب کے لیے کوئی کام کررہا ہوں، ہم ادب اپنی ذات کے لیے پڑھتے ہیں، کیونکہ یہ ہمارے مزاج کا حصہ ہوا کرتا ہے، ہمارے جینوٹائپ میں موجود ، ہم میں گھلا ملا، رچا بسا ہوا کرتا ہے
ایسا نہیں کہ ادبی دنیا کو میں معاشی قسم کی سرگرمیوں سے جوڑنا نہیں چاہتا، بلکہ میرا بس چلے تو میں اسی ویب سائٹ کے ذریعے کماوں اور دن رات اس پر ایسی چیزیں اپ لوڈ کروں جو میں پڑھ سکوں، پڑھواسکوں۔نعمتوں کا صحیح استعمال، وقت کا صحیح استعمال ہے۔انٹرنیٹ وقت کی بربادی بھی ہے اور نہیں بھی، یہ تو بس اس بات پر منحصر ہے کہ اس سے کس قسم کا کام لیا جارہا ہے۔میں پڑھنے والوں کو معیاری ادب کا ایک ایسا پلیٹ فارم بناکر دینا چاہتا ہوں، جہاں ان کا وقت برباد نہ ہو۔ میرا مقصد ادبی دنیا کو کسی قسم کا آرکائیو بنانا نہیں ہے، بس میں پڑھنے والوں کو انٹرنیٹ پر بھی ایسی چیزیں فراہم کروانا چاہتا ہوں، جن سے انہیں لگے کہ اس ادب کے یونی کوڈ ٹیکسٹ کی شکل میں مل جانے کی وجہ سے وہ اسے کاپی کرکے اپنے فرصت کے لمحات میں ایسے کمپیوٹرز، موبائلزوغیرہ پر بھی پڑھ سکتے ہیں، جہاں انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہو۔وہ ان کا با آسانی پرنٹ لے سکتے ہیں، دوسروں کو اسے بھیج سکتے ہیں، اپنے پسندیدہ حصوں کو سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس پر شیئر کرسکتے ہیں، بلکہ انہیں آن لائن ٹرانسلٹریشن ٹولز (Transliteration Tools) کی مدد سے ہندی اور رومن میں بھی تبدیل کرکے پڑھ سکتے ہیں۔پھر اس ویب سائٹ کو اردو کے موقر و معتبر ادیبوں کا تعاون بھی حاصل ہوتا جارہا ہے، اور اس کی وجہ میری اور ان کی یہ فکری ہم آہنگی ہے کہ بات کو بنانے کے ساتھ ساتھ آج کے دور میں اسے پھیلانے کے بھی تمام وسائل موجود ہونے چاہیے۔ میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
میں ادب کی تبلیغ کا قائل نہیں اور نہ کسی ایسے جعلی فروغ کا تصور دماغ میں رکھتا ہوں،جس کی وجہ سے میر اور منٹو کو پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکے میرا ماننا تو بس یہ ہے کہ اگر کسی کونے میں کوئی ایسا شخص موجود ہے، جو میریا منٹو کے لکھے ہوئے ادب کو پڑھتا یا پسند کرتا ہو، اسے انٹرنیٹ پر مایوسی کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور گوگل سرچ اسے ادبی دنیا ویب سائٹ تک پہنچادے۔
ادبی دنیا ڈاٹ کام پر شاعری کے ساتھ ساتھ فکشن اور تنقید کی نمائندگی بھی بہت ضروری ہے، اس کے علاوہ ادیبوں کے ساتھ مستقل رابطے کی ایک صورت دس سوالات کی صورت میں پیدا کی گئی ہے، اس حوالے سے اب تک ہندوستان و پاکستان کے کئی ادیبوں کے انٹرویوز ادبی دنیاپر پیش کیے جاچکے ہیں، جن میں ظفر اقبال، شمیم حنفی، محمد حمید شاہد، اجمل کمال، ناصر عباس نیر، ذکیہ مشہدی، خالد جاوید، شارق کیفی، یاسمین حمید، علی اکبر ناطق، ظفر سید، سید کاشف رضا، زاہد امروز، ابھیشیک شکلا اور کئی دوسرے اہم لکھنے والوں کے نام شامل ہیں۔اچھی کہانیوں، ناول، شعری انتخابات اور تنقیدی و تحقیقی مضامین کے سسلسلے میں ادبی دنیا کو فعال رکھنا ایک اہم فریضہ سمجھا گیا ہے، اسی لیے ساقی فاروقی، احمد مشتاق، آشفتہ چنگیزی، زیب غوری اور بانی کی غزلوں کو وافر مقدار میں ادبی دنیا پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔ ادبی دنیا پر محمد حمید شاہد کی فکشن تنقید سے تعلق رکھنے والی اہم سیریز’فکشن میرے عہد کا‘ بہت پسند کی جارہی ہے، جس کے ذریعے افسانہ نگاروں اور ان کے یہاں موجود فنی باریکیوں کا جائزہ لیا جاتا ہے اور معاصر فکشن پر سیرحاصل گفتگو قارئین کو پڑھنے کے لیے ملتی ہے۔ اسی طرح اجمل کمال کے مضامین کی سیریز قارئین کو پسند آرہی ہے، جس میں اجمل کمال کے ادب اور سماجیات سے تعلق رکھنے والے اہم مضامین اور ان کا معروضی انداز لوگوں کو ادبی دنیا کی جانب متوجہ کررہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ ادبی دنیا پر جہاں ایک طرف ناصر عباس نیر،صلاح الدین درویش اور سید کاشف رضا جیسے معاصر ناقدین کی تنقیدات پڑھنے کو مل سکتی ہیں، وہیں دوسری جانب ادریس بابر، علی اکبر ناطق، انعام ندیم، زاہد امروز اور شہرام سرمدی جیسے اہم معاصر شاعروں کی تخلیقات کو بھی بہ آسانی پڑھا جاسکتا ہے۔
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں
ادبی دنیا نے بہت سے اہم لکھنے والوں کی کلیات کو یونی کوڈ میں فراہم کرانے کی بھی کوشش کو رواج دیا ہے، جس کے تحت ابھی تک سعادت حسن منٹو اور قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں اور عرفان صدیقی کی تمام غزلیں الگ الگ بلاگز کی صورت میں اپ لوڈ کردی گئی ہیں، جن کے رابطے یا لنکس ذیل میں فراہم کرائے جارہے ہیں۔تاکہ قارئین کوآسانی ہو اور وہ بغیر کسی پریشانی کے ان تمام اہم ادبی متون تک رسائی حاصل کرسکیں۔مستقبل قریب میں ایسے ہی بہت سے بلاگز بنانے کا ارادہ کا ہے، جن میں کلیات میر تقی میر، سعادت حسن منٹو کے تمام ڈرامے، خاکے اور مضامین، سجاد ظہیر کے تمام مضامین، زٹل نامہ اور بہت سی دوسری اہم ادبی و علمی تصانیف کو قارئین تک پہنچانا اہمیت کا حامل ہے۔ادبی دنیا پر جلد ہی کلاسیکی شاعروں کے انتخاب کاایک سلسلہ بھی شروع کیا جانے والا ہے، جس کے زیر اثر قائم چاند پوری، مرز ا محمد رفیع سودا، مصحفی، حاتم، تاباں اور اس دور کے دوسرے شاعروں کا کلام انٹرنیٹ پر اپلوڈ کیا جائے گا۔ادبی دنیا کے حوالے سے تازہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے آپ فیس بک پر موجود اس کے پیج کو بھی لائک کرسکتے ہیں،یا پھر مندر جہ ذیل لنکس میں سے کسی پر بھی کلک کرکے ان تک پہنچ سکتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو کی ساری کہانیاں:
http://mantostories.blogspot.in

قرۃ العین حیدر کی ساری کہانیاں:
http://qurratulainhyderstories.blogspot.in

عرفان صدیقی کی تمام غزلیں:
http://www.irfaansiddiqui.blogspot.in

ہم جلد ہی ادبی دنیا کو ایک ویب سائٹ کی شکل دینا چاہتے ہیں، اور اسے صرف ادب تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔اسے سماجیات، معاشیات، مذہبیات ، فلسفے اور سائنس جیسے اہم مضامین سے بھی جوڑا جائے گا، مگر رفتہ رفتہ، ابھی چونکہ یہ ایک بلاگ کی صورت میں ہے، اس لیے کوشش ہے کہ جلد سے جلد اسے ایک ویب سائٹ کی شکل دی جانی چاہیئے، ادبی دنیا کا ایک آڈیومیگزین، ایک یوٹیوب اور ڈیلی موشن چینل اور ‘جدیدترین’ نامی آن لائن اور آف لائن رسالے کے اجراء کا بھی ارادہ ہے،لیکن ظاہر ہے کہ سارا بھاڑ اکیلے چنے کو پھوڑنے کا شوق چرایا ہے، چنانچہ اس میں کچھ وقت لگے گا، اب مدد کے لیے کچھ ہاتھ بھی آگے بڑھ رہے ہیں، جو لوگ واقعی اردو سے محبت کرتے ہیں اور اسے خوبصورتی کے ساتھ اس جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ وہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بیٹھے ہوں، ادبی دنیا کے اپنے لوگ ہیں، اور آج کچھ لوگ چل کر اس جانب آئے ہیں، کل کو ممکن ہے ادبی دنیا ایک ایسا وسیلہ بن سکے، جس کے ذریعے اردو زبان ، ادب اور دیگر شعبوں کو دنیا تک پہنچانے، عام کرنے کے راستے اور چوڑے ہوسکیں اور دنیا میں کسی بھی جگہ اپنے پسندیدہ موضوع کو کم از کم اردو میں ڈھونڈتے وقت گوگل مایوسی بھرے دو جملے لے کر آپ کی ڈیسک پر نہ دھمک پڑے۔